عقل ِبیدار Aqal-e-Baydar
قسط نمبر 2 مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری
جان لو کہ مرشد پر فرضِ عین ہے کہ طالب کو تمام خزائنِ الٰہی پر تصرف بخش دے تاکہ شدید فقر و فاقہ کے باعث پیدا ہونے والی حرص و طمع اور حسد و رنج طالب کے وجود سے نکل جائیں۔ بعد ازاں طالب عیش و عشرت کی زندگی گزارتا ہے اور بادشاہ کی طرف سے مدد اور روزی لینے کو فراموش کر دیتا ہے کیونکہ اسے بغیر کسی مشقت کے لذیذ کھانا مل جاتا ہے۔ مرشد کو چاہیے کہ یہ تمام خزانے اسے پانچ دنوں یا ایک ہفتہ میں عطا کر دے۔ ان پانچ خزانوں سے پچاس ہزار تصرفات حاصل ہوتے ہیں جن کے خزانے شمار میں نہیں آتے۔ یہ تمام مراتب عطا کرنا مرشد کامل کے لیے ذرّہ برابر مشکل نہیں بلکہ نہایت آسان کام ہے۔ پیر و مرشد پر فرضِ عین ہے کہ اوّل یہ تحقیق کرے کہ پیری کا مرتبہ کیا ہے اور مرشدی کسے کہتے ہیں۔ مرید و طالب کے لیے بھی مراتب ہیں۔ مرید کے مراتب کونسے ہوتے ہیں اور اور طالب کا منصب کیا ہوتا ہے؟ مراتب ِپیر یہ ہیں کہ وہ حضوری میں آتا جاتا رہتا ہے اور مرید کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس سے پیغام پہنچاتا ہے اور مراتب ِمرید یہ ہیں کہ وہ راہِ پیر میں اپنی جان و مال اور جو کچھ بھی اس کے پاس ہوتا ہے، خرچ کر دیتا ہے۔ یہ حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا اور حضرت سلطان بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کی مثل لایرید مرید کے مراتب ہیں۔ مرشد کے مراتب یہ ہیں کہ وہ اسمِاللہ ذات کی تلقین کرتا ہے اور طالب کے مراتب یہ ہیں کہ وہ اسمِاللہ ذات پر یقین رکھتا ہے اور یقین اپنی آنکھوں سے حضوری کا مشاہدہ کرنے کو کہتے ہیں۔ جس کی ان مراتب تک رسائی نہیں وہ پیری و مرشدی سے آگاہ نہیں۔ اگر مرید کو پیر پر اعتقاد نہ ہو تو پیر کو چاہیے کہ مرید کو لوحِ محفوظ کا مشاہدہ کرائے تاکہ قیامت تک اس کا اعتبار درست ہو جائے۔ اگر پھر بھی طالب کو مرشد پر اعتبار نہ ہو تو مرشد باطنی توجہ سے اسے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں لے جائے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تلقین دلائے تاکہ طالب تاقیامت صاحبِ یقین ہو جائے۔ حجام کی مثل پیر و مرشد بہت سے ہیں اور خام طالب و مرید بھی بیشمار ہیں۔ وہ کونسا علم اور وہ کونسی حکمت ہے جس کی بدولت کل و جز، ظاہر و باطن اور خاص و عام (تمام مراتب) ایک ہی ساعت میں طالب کے عمل میں آ جائیں اور وہ مرتبہ فقر پر پہنچ کر حاکم و امیر بن جائے؟ یہ مالک الملکی فقیر کے مراتب ہیں جو اسے اس آیت کی برکت سے حاصل ہوتے ہیں:
اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (سورۃ البقرہ۔20)
ترجمہ: بیشک اللہ ہر شے پر قادر ہے۔
یہ صاحبِ بصیرت عارف کے مراتب ہیں۔ اہلِ ذات کے ان درجات کو کولہو کے بیل اور گدھے کی مثل لوگ کیا جانیں! تمام علوم اور علمِ کیمیا کے خزانوں سے آگاہی اور باطن میں حیّ و قیوم ذات کا کامل قرب و حضوری تصور اسمِاللہ ذات کے نور کی توفیق اور اولیا اللہ کی قبور پر سوار ہو کر دعوت پڑھنے کے عمل کی تحقیق سے حاصل ہوتے ہیں۔ مرشد کامل اپنی نگاہ سے طالب کے وجود کو زمین و آسمان کے چودہ طبقات سے بھی زیادہ وسیع کر دیتا ہے لیکن کم حوصلہ طالب کے لیے اپنے وجود پر ایسی نگاہ برداشت کرنا بہت ہی مشکل اور دشوار کام ہے کیونکہ حضوری کی تلقین کے دوران قربِ وحدانیتِ الٰہی سے دیدارِ پروردگار کے انوار کی ایسی تجلیات پڑتی ہیں جو اس کم حوصلہ طالب کے وجود کو خام برتن کی مثل پارہ پارہ کر دیتی ہیں۔ اسمِاللہ ذات ربانی کے اس بارِ گرانی کو صرف وہی جانتا ہے جس نے اسے برداشت کیا ہو۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْھَا وَ حَمَلَھَا الْاِ نْسَانُ ط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلًا۔ (سورۃ الاحزاب۔72)
ترجمہ:ہم نے بارِ امانت آسمانوں پر، زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا اور سب نے اسے اُٹھانے سے عاجزی ظاہر کی لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا۔ بیشک وہ ظالم اور نادان ہے۔
مرشد کامل اور پیر مکمل کو کس علم کے ذریعے پہچانا جا سکتا ہے؟ اگر مرشد کامل کسی جاہل کو تلقین کرے تو وہ عالم فاضل ہو جاتا ہے کیونکہ تمام علما اور علوم اس کے قبضہ اور تصرف میں ہوتے ہیں۔ یہ علم عارفوں اور عاشقوں کو نصیب ہوتا ہے جو تاقیامت ایک دوسرے کے قائم مقام ہوتے رہیں گے اور ایک ہی ساعت میں تمام علوم سینہ باسینہ، توجہ باتوجہ، حضوری باحضوری، قرب باقرب، تصرف باتصرف، قلب باقلب، روح باروح، سرّ باسرّ اور زبان بازبان منتقل کرتے رہیں گے۔ اس علم کا مطالعہ کرنے والا خوش بخت ہاتھ کی ہتھیلی پر دونوں جہان کا عیاں نظارہ کرتا ہے اور جو علم لوحِ محفوظ پر تحریر ہے، اسے حاصل کر کے زبان سے بیان کرتا ہے۔ جو علم اس نے ظاہری طور پر نہیں پڑھا ہوتا وہ بھی پڑھ لیتا ہے اور جو معلوم نہیں ہوتا وہ بھی جان لیتا ہے۔ یہ مراتب طالبِ مولیٰ کے لیے ابتدائی سبق ہیں۔ اگر مرشد کامل کسی عالم فاضل صاحبِ علم کو تلقین کرے تو اس کا قلب توحید و معرفتِ الٰہی کے علم کی تصدیق کے لیے گویائی حاصل کر لیتا ہے جبکہ زبان علمِ ظاہر کو بیان کرنے سے رک جاتی ہے۔ اگر مرشد کامل ظلِ اللہ بادشاہ کو تلقین کرے تو ملکِ سلیمانؑ اور سکندر بادشاہ جیسی حکومت قاف سے قاف تک اس کے قبضہ و تصرف میں آجاتی ہے۔ کل و جز کی ہر شے اور سب خاص و عام لوگ اس کے فرمانبردار بن جاتے ہیں۔ مرشد کامل کی نشانی یہ ہے کہ وہ لایحتاج ہوتا ہے۔ وہ مرشد ہی نہیں جو محتاج ہیں اور تکبر، عجب اور خواہشاتِ نفس میں گرفتار ہو کر کشف و کرامات کے ذریعے خود فروشی کرتے ہیں کیونکہ جس کی رسائی گناہ تک نہیں ہوتی وہ مکاری سے پارسائی کا ڈھونگ کرتا ہے۔ ان کا فقر اضطراری ہوتا ہے۔ انہی کے متعلق فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ طاَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔ (سورۃ البقرہ۔44)
ترجمہ: کیا تم دوسرے لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم (اللہ کی) کتاب (بھی) پڑھتے ہو تو کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
عاقل وہ ہے جو علمِ مدعوتِ قبور اور علمِ دعوتِ نورحضورمیں کامل اور اللہ کی نظر میں منظور ہو۔ دعوت پڑھنے کے لائق وہی طالب ہوتا ہے جس کا وجود مغفور ہو۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَمنْبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ (سورۃ الفتح۔2)
ترجمہ: تاکہ آپ کی خاطر اللہ تعالیٰ آپ کی اگلی اور پچھلی تمام خطائیں معاف فرما دے۔
جب کامل صاحبِ دعوت یا اس کا عامل طالب قرآنِ مجید سے دعوت پڑھنا شروع کرتا ہے تو تمام انبیا، اصفیا، مرسلین، اولیا اللہ، غوث، قطب، مومن و مسلمان اور اہلِ منصب خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ، کی ارواح اس سے مصافحہ کرتی اور ہمکلام ہوتی ہیں اور وہ ہر ایک سے آشنا ہوتا ہے۔ ایسا شخص قبر پر سوار ہو کر دعوت پڑھنے سے بھی خوفزدہ نہیں ہوتا۔ یہ مراتب دعوت پڑھنے والے کو روزِ اوّل حاصل ہو جاتے ہیں۔ علمِ دعوت کے دو منصب ہیں: کامل پہلے ہی روز اس سے خزانے حاصل کرتا ہے جبکہ ناقص رجعت خوردہ ہو کر تکلیف سے مر جاتا ہے۔
شرح دعوت
دعوت تیغِ برہنہ کی مثل کفار کو قتل کرنے والی ہے جو تمام عالم کو ایک دم میں قتل کر سکتی ہے۔ اس بات پر حیران مت ہو۔ قرآنِ مجید جو کہ کلامِ الٰہی ہے، اس پر اعتبار کرنا چاہیے۔ پس کامل شخص دعوت کی اس تیغِ برہنہ کو ذوالفقار کی مثل ہاتھ میں لے کر موذیات اور کفار کو قتل کر دیتا ہے جبکہ ناقص شخص دعوت کی اس تیغِ برہنہ کو ہوا میں ہی لہراتا رہتا ہے۔ پھر وہ جو کچھ بھی دعوت میں دیکھتا اور جس طرف بھی رُخ کرتا ہے اس سے رجعت کھا کر خود ہی اپنا خانہ خراب کرتا ہے۔ عاقل وہ ہے جو کامل و ناقص کو ان کے عمل اور علم کے ذریعے جان لے۔ کامل اور اس کا طالب (دعوت کا عمل مکمل کرنے کے لیے) جانوروں کا گوشت کھانا ترک نہیں کرتے نہ ہی (اس مقصد کے لیے) انہیں زکوٰۃ دینے، حصار باندھنے، سعد و نحس وقت جاننے، اعداد اور برجوں کو شمار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ ناقص ہمیشہ رجعت خوردہ اور خوار ہوتا ہے اور حلال حیوانات کا گوشت کھانا بھی ترک کر دیتا ہے جو کہ اہلِ جہنم اور لعین کفار کی رسم ہے۔ کامل صاحبِ دعوت جو چاہتا ہے کھاتا ہے کیونکہ اس کا کھانا نور اور اس کی نیند مشاہدۂ حضوری ہے، اس کی زبان ذکرِاللہ میں مشغول رہتی ہے، اس کا قلب بیت المعمور ہوتا ہے اور اس کی روح اللہ کے قرب اور شوق میں مسرور رہتی ہے۔
بیت:
سیل بی راہبر بدریا می رساند خویش را
شوق چون رہبر شود رہبری درکار نیست
ترجمہ: موج بغیر کسی راہبر کے خود کو دریا تک پہنچا لیتی ہے۔ جب شوق راہبر بن جائے تب کسی اور راہبر کی ضرورت نہیں رہتی۔
کامل صاحبِ دعوت کو علمِ دعوت اللہ کے قرب اور حضوری میں لے جاتا ہے جہاں وہ قربِ پروردگار سے الہام کے ذریعے باصواب جواب پاتا ہے۔ اسے پیغام حاصل کرنے کے لیے فرشتہ و مؤکل سے التجا کرنے کی کیا ضرورت؟ سن! بعض لوگ علمِ دعوت پڑھنے میں ناقص ہوتے ہیں کیونکہ انہیں اس کی اجازت کسی ناقص سے حاصل ہوئی ہوتی ہے۔ بعض علمِ دعوت کی اجازت کسی کامل سے حاصل کر لیتے ہیں لیکن دعوت پڑھنے میں ناقص ہی رہتے ہیں۔ بعض دعوت پڑھنے میں تو کامل ہوتے ہیں لیکن اس کی اجازت انہوں نے کسی ناقص سے حاصل کی ہوتی ہے جبکہ بعض دعوت پڑھنے میں بھی کامل ہوتے ہیں اور اس کی اجازت بھی انہوں نے کسی کامل سے حاصل کی ہوتی ہے۔ انتہائے فقر کیا ہے؟ توجہ کی توفیق اور تصور کی تحقیق سے فنا فی اللہ ہو کر حق کی رفاقت حاصل کرنا۔ سن! علمِ دعوت پڑھنے، سونا و چاندی کے ہزاروں خزانوں کو تصرف میں لانے، کثیر لشکر حاصل کرنے، ذکر، فکر اور مراقبہ کرنے اور بیشمار حکمت پانے سے فقیرِکامل کی ایک بار کی توجہ بہتر ہے کیونکہ اس توجہ کو اللہ کے قرب اور حضوری سے ایسی توفیق حاصل ہوتی ہے جو طالب کو روز بروز ترقی عطا کرتی ہے اور اس کی تاثیر تاقیامت نہیں رکتی۔ یہ صاحبِ عیاں فقیر کے مراتب ہیں۔ وہ انجانے علم کو عیاں پڑھنے والا، نہ جاننے والے غیب کو جاننے والا اور نہ سنی باتوں کو بیان کرنے والا ہوتا ہے۔
علمِ غیب خاصۂ خدا ہے اور وہی اسے جانتا اور خاص لوگوں کو خود یہ علم سکھاتا ہے جیسا کہ علمِ لدنیّ، جس سے دل میں دلیل پیدا ہو کر راہِ حق سے آگاہی بخشتی ہے۔ بعض کو قدرتِ الٰہی کے قرب سے بذریعہ الہام پیغام حاصل ہوتے ہیں۔ یہ راہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام عطا کرتے ہیں۔ جو اس راہ کا انکار کرے وہ مردود اور اس کا دل مردہ و سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ مردار دنیا اور عزوجاہ کا طلبگار بن جاتا ہے۔
شرح یقین
یقین نورِ ایمان ہے جو تلقین کی قید و تصرف میں ہے۔ اسے عطائے ازلی کہتے ہیں۔ اسمِ اللہ ذات کی تلقین جب آفتاب کی مثل (طالب کے) وجود میں طلوع ہوتی ہے تو وہ اللہ کو بے حجاب دیکھتا ہے۔ اگر کسی سے پوچھا جائے ’کیا توُ نے خدا کو دیکھا ہے‘ اور وہ کہے کہ ’ہاں میں نے دیکھا ہے‘ تو اس نے نہیں دیکھا ہوتا۔ اس مخلوق (یعنی ظاہری) آنکھ سے دیدار نہیں ہوتا۔ پھر دیدار کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے جس کی بدولت اس کے وجود کے ہفت اندام نور بن جاتے ہیں اور وہ لامکان تک رسائی پا لیتا ہے۔ لامکان غیر مخلوق ہے۔ جسے بھی وہاں تک رسائی نصیب ہوتی ہے اسمِ اللہ ذات کے ذریعے ہی ہوتی ہے کیونکہ اسمِ اللہ ذات ہی اللہ تک لے جا سکتا ہے۔ اسمِ اللہ ذات کے تصور سے جو دیدار حاصل ہوتا ہے اس کی مثال نہیں دی جا سکتی۔ جو اس طریقے سے بے مثال دیدار کر لیتا ہے اس کا مرتبہ وہم و خیال سے بالاتر اور اس کے احوال مخلوق کے احوال سے بعید ہوتے ہیں۔ جو ان مراتب تک پہنچ جائے اسے اسمِ اللہ ذات کی تلقین اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رفاقت سے یقین حاصل ہو جاتا ہے اور اس کے لیے حیات و موت برابر ہو جاتے ہیں۔ اسی کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا
ترجمہ: مرنے سے قبل مر جاؤ۔
اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا یَمُوْتُوْنَ
ترجمہ: خبردار! بیشک اولیا اللہ مرتے نہیں ہیں۔
جسے مرتبہ یقین حاصل ہو جائے وہ اسی وقت واصل ہو جاتا ہے جبکہ بے یقین کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یقین دو قسم کا ہے: اوّل یقین فراری جو بت پرستوں، کافروں اور اہلِ زنار دوزخیوں کا ہوتا ہے۔ دوم یقین اقراری جو کلمہ طیب لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کا اقرار کرنے والوں کا ہوتا ہے۔ یقین اعتباری صاحبِ تصدیق باتوفیق کا ہوتا ہے جو اسے تلقین سے حاصل ہوتا ہے۔ ایسا یقین پہاڑ کی مثل ہے جو ہلتا ہے نہ لرزتا ہے اور نہ ہی لڑھکتا ہے۔ یقین فقر کی ایک صفت اور صورت ہے جو عاجزوں کی دستگیر ہوتی ہے۔ اسے سلطان الفقر کہتے ہیں۔ جس کے وجود میں خاص یقین پیدا ہو جائے وہ بے دینی سے نجات پا لیتا ہے۔
علما اور فقرا کے درمیان کیا فرق ہے؟ علما میں علم کے نشہ کے باعث انا و مستی پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنی ہستی (کے غرور) میں مبتلا ہو جاتے ہیں جبکہ فقرا غلبۂ شوق و مستی کی بدولت اپنی ہستی سے ہی آزاد ہو جاتے ہیں اور تمام خواہشات اور مطالب کو ترک کر کے اللہ کے ساتھ مشغول رہتے ہیں۔ یہ مراتب بھی یقین کی تلقین سے حاصل ہوتے ہیں۔ جو کوئی اس کتاب کو مکمل طور پر پڑھے تو اگر وہ یہود و نصاریٰ کی مثل کافر ہوگا تو یقینا مسلمان ہو جائے گا، اگر مردہ دل ہوگا تو حیاتِ دل پا کر حضوری میں پہنچ جائے گا اور شرک، کفر اور کینہ سے نجات حاصل کر کے صاحبِ بصیرت ہو جائے گا۔
یقین کی مزید شرح یہ ہے کہ جان لو یقین ایک علم کا نام ہے یا پھر یہ کہ یقین سے علم حاصل ہوتا ہے۔ یقین کی بدولت جو علم حاصل ہو وہ دماغ کو بیدار کرتا ہے اور تمام حجابات کو ہٹا کر اللہ کی معرفت و توحید تک رسائی کا وسیلہ بنتا ہے۔ یقین نور اور حضوری ہے۔ یقین اللہ کے دیدار اور مشاہدہ کا نام ہے، یقین غنایت کا نام ہے اور یقین اللہ کے قرب کا نام ہے جہاں سے الہام ہوتا ہے۔ نام کو چھوڑو اور یکتا ہو جائو تاکہ اللہ کی معرفت حاصل کر کے وصال پا لو اور حق الیقین میں فنا ہو جائو یعنی جو حق تک پہنچ جائے وہ حق بولتا ہے، حقیقتِ حق سمجھتا ہے، حق پہچانتا ہے اور حق پڑھتا ہے۔ جو حق تک پہنچ جائے اس کے وجود سے باطل اور خطراتِ شیطانی مکمل طور پر نکل جاتے ہیں۔ یہ حق الیقین کا مرتبہ ہے کہ اپنا منصب پہچانا جائے اور اپنے نفس کا محاسبہ کیا جائے۔ یہ عارفین کے مراتب ہیں۔ باھوؒ کا نام باھوؒ اسی لیے ہے کہ وہ توحید میں غرق ہو کر ھو کے روبرو رہتا ہے۔ علمِ یقین کا منصب الگ ہے جبکہ علمِ تلقین اور ولایت کے مراتب علیحدہ ہیں۔ یقین افضل ہے تلقین سے یا تلقین افضل ہے یقین سے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں سالک عارف کے بال و پر ہیں جس طرح آنکھ کی بینائی اور نظر۔ علمِ یقین سے کیا حاصل ہوتا ہے اور علمِ تلقین سے کیا عطا ہوتا ہے؟ علمِ تلقین نور کے تصور اور توجہ کی توفیق بخشتا ہے اور علمِ یقین اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کر کے یقینی طور پر لایحتاج بنا دیتا ہے۔ اسمِاللہ ذات کی تلقین کا علم معراج تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ دونوں یعنی یقین اور تلقین کے علوم توحید کی کلید ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اسم یَافَتَّاحُ سے حاصل ہوتے ہیں۔ طریقہ قادری میں ہر قفل کا مشکل کشا اور عین نما مرشد کامل قادری ہے جو اپنے صادق طالب کو پہلے ہی روز یہ دونوں علم عطا کر دیتا ہے۔ پھر وہ جو کچھ حاصل کرتا ہے، جس چیز کے لیے کمربستہ رہتا ہے، جو کچھ کانوں سے سنتا ہے، جو کچھ آنکھوں سے دیکھتا ہے اور جو کچھ زبان سے مطالعہ کرتا ہے وہ یہ سب علمِ یقین کی بدولت ہی کرتا ہے۔ یقین ایمان کا لباس ہے اور ایمان یقین کی جان ہے۔ جو علمِ یقین پڑھتا اور جانتا ہے اسے عمر بھر ریاضت اور چلہ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ ابیات:
اصل یقین است یقین یار کن
محرم اسرار شوی کنہ کن
ترجمہ: اصل چیز یقین ہے اس سے دوستی کر لو، اس کی بدولت تم کنہ کن کے اسرار کے محرم ہو جائو گے۔
اصل یقین است یقین کن طلب
محرم اسرار شوی رازِ ربّ
ترجمہ: اصل چیز یقین ہے اس لیے یقین ہی طلب کرو جس کی بدولت تم اللہ تعالیٰ کے اسرار کے محرم ہو جائو گے۔
اصل یقین است یقین با نظر
نظر یقین بہ بود از سیم و زر
ترجمہ: اصل یقین وہ ہے جو (مرشد کامل کی) نظر سے حاصل ہو۔ ایسا یقین سونا اور چاندی سے بہتر ہے۔
علم یقین یافتش ذات نور
شد ز یقین صورت رہبر حضور
ترجمہ: علمِ یقین سے نورِ ذات حاصل ہوتا ہے کیونکہ یہ یقین راہبر کی صورت میں حضوری تک پہنچاتا ہے۔
این نہ یقین است کہ تو یافتی
کہ پیش بتان سر نگون ساختی
ترجمہ: یہ یقین نہیں جو تجھے حاصل ہے جس کے باعث تو بتوں کے سامنے سرجھکاتا ہے۔
اصل یقین است طلب کن خدا
اصل یقین است طلب مصطفیؐ
ترجمہ: اصل یقین وہ ہے جو اللہ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طلب پیدا کرے۔
باھوؒ! ہر کہ طلب غیر کند بالیقین
تابع شیطان بود آن لعین
ترجمہ: اے باھوؒ! جو یقین ہونے کے باوجود غیر اللہ کی طلب کرے وہ شیطان کا تابع اور ملعون ہے۔
یقین زبان سے اقرار کرنے، کتب میں درج علم بیان کرنے یا اجر و ثواب سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق علم کے بغیر محض تصدیق سے ہے جو تب تک حاصل نہیں ہوتی جب تک مطالعۂ علمِ سرّ حاصل نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کا بے حجاب دیدار کر کے واصل نہ ہوا جائے۔ چار چیزیں چھوڑ دو جو کہ نفس کی چار حالتوں، چار مراتب اور چار عناصر مٹی، ہوا، آگ اور پانی سے تعلق رکھتی ہیں اور نفس کی خواہشات اور لذات سے بیزار ہو جاؤ۔ جو فقیر ان چاروں کو چھوڑ دیتا ہے وہ مرتبہ نور پر پہنچ جاتا ہے۔