بیماری اور صبر Bemari aur Sabr
تحریر: مسز انیلا یٰسین سروری قادری
لغوی اعتبار سے بیماری ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان آرام و سکون کی حالت سے محروم ہو جائے۔
عربی میں مرض کے معنی کسی چیز کے خلافِ معمول ہو جانا کے ہیں اور عام طور پر اس سے مراد وہ تکلیف یا درد ہے جو جسمانی یا روحانی طور پر انسان کو محسوس ہوتا ہے۔
جبکہ فارسی زبان میں مریض کے لیے لفظ ’’بیمار‘‘ استعمال ہوتا ہے۔
اردو زبان میں یہی لفظ ’’بیماری‘‘ کی صورت میں مستعمل ہے، جس کا مطلب ہے بے آرامی یا تندرستی کے خلاف کیفیت۔
فقر و تصوف کی تعلیمات میں بیماری کو محض ایک جسمانی عارضہ نہیں بلکہ اسے نفس کی پاکیزگی، روحانی و باطنی ترقی اور معرفت و قربِ الٰہی کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
فعلیاتی خلل (Physiological Dysfunction):
جدید طب کے مطابق بیماری جسم کے کسی عضو یا نظام کا معمول کے مطابق کام نہ کرنا ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں جسمانی یا ذہنی افعال میں خلل واقع ہو جاتا ہے۔
دینِ اسلام محض ایک دین نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس میں بیماری کے متعلق بھی مدلل تعلیمات موجود ہیں۔ ان تعلیمات کی روشنی میں بیماری سے مراد محض ایک جسمانی عارضہ یا خلل نہیں بلکہ اسے انسان کے لیے باعث ِرحمت، کفارۃ الذنوب (گناہوں کا کفارہ) اور رجوع اِلی اللہ کا ذریعہ بھی قرار دیا گیا ہے۔
اللہ پاک اپنے بندوں کو مختلف مصائب اور آزمائشوں سے گزارتا ہے تاکہ اپنے بندوں کی جانچ کر سکے اور انہیں مقام و مرتبہ سے نوازے۔ان آزمائشوںمیں سے اہم ترین آزمائش بیماری ہے۔
میرے مرشد کریم سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
مصائب سے اللہ پاک بندے کا امتحان لیتا ہے اور اس سے باطن میں نئی منزلیں عطا کرتا ہے۔قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی ط لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔ (سورۃ الحجرات۔3)
ترجمہ: وہ لوگ جن کے قلوب تقویٰ (قربِ الٰہی) کے لیے امتحان (مصائب و بیماری) میں مبتلا ہیں۔ بڑی بخشش اور اجر کے مستحق ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’مسلمان جب بھی کسی پریشانی، بیماری، رنج و ملال، تکلیف اور غم میں مبتلا ہوتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری۔5642)
عقلِ بیدار میں درج ہے ،حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللّٰہَ یَجْرِبُ الْمُؤْمِنِیْنَ بِالْبَلَآئِ کَمَا یَجْرِبُ الذَّہْبَ فِی النَّارِ
ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ مومنین کی پرکھ بلاؤں کے ذریعے کرتا ہے جس طرح سونے کی پرکھ آگ سے کی جاتی ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھورحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
دنیا آزمائش گاہ ہے اور یہی بندے اور پروردگار کے درمیان حجاب ہے۔ (عقلِ بیدار)
انسان گناہوں کا پتلا ہے جو کہ نفس کی آلودگی کے باعث اس سے سرزد ہوتے رہتے ہیں اور یہی گناہ انسان کی روح کو بھی آلودہ کر دیتے ہیں۔ انسانی جسم پر بیماری کے آنے کا ایک سبب نفس کا تزکیہ کرنا بھی ہے تاکہ جسم اور روح پاک ہو کر مقربِ الٰہی بن سکیں۔ کیونکہ بیماری ہی ایک ایسی حالت ہے جو انسان کے باطن میں تبدیلی کے سفر کا آغاز بنتی ہے۔ اس لیے بیماری کو wake up call یا ارتقا کی طرف پیش رفت بھی کہا جاتا ہے۔
امام الوقت،مرشد کامل اکمل سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
اگر تکلیفیں اور پریشانیاں نہ ہوں تو انسان جیسا متکبر کوئی نہ ہو۔ فرعون کو ساری زندگی کوئی اور بیماری تو دور کبھی سر میں درد تک نہیں ہوا تھا اسی لیے اس نے خدائی کا دعویٰ کر دیا۔ (تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین)
حضرت ضحاکؒ فرماتے ہیں: جو شخص ہر چالیس رات میں ایک بار بھی آفت میں مبتلا نہ ہو یا فکر و پریشانی میں نہ پڑے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے لیے کچھ بھلائی نہیں۔ (مکاشفتہ القلوب)
حالتِ بیماری میں مومن اور دنیا دار کا طرزِ عمل
کائنات میں وقوع پذیر ہونے والے تمام تر معاملات امرِربی ہیں۔ لہٰذا بیماری کا آنا بھی اللہ پاک کے حکم سے ہی ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ط وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ ۔ (سورۃ البقرہ۔ 155)
ترجمہ:اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیبؐ!) آپ (ان) صبرکرنے والوں کو خوشخبری سنادیں۔
ہر انسان کو چاہے وہ مومن ہو یا دنیادار، بیماری کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ لیکن حالتِ بیماری میں ہی ان کی اصل سوچ اور طرزِ عمل کا اظہار ہوتا ہے۔ مومن بندے کی نشانی یہ ہے کہ وہ حالتِ بیماری کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے آزمائش سمجھتا ہے اور اس آزمائش کے سرخرو ہونے کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے ،اللہ کو ہی اپنا مسبب الاسباب مانتا ہے یعنی سنتِ نبویؐ کی پیروی کرتے ہوئے علاج تو کرواتا ہے لیکن دل میں یہی خیال پختہ رکھتا ہے کہ اللہ نے ہی ہر بیماری کی دوا بنائی ہے اور وہی شفا دینے والا ہے۔ یوں حالتِ بیماری میں مومن بندے کا اللہ پر توکل مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔
اس زمرے میں میرے مہربان مرشد کریم امامِ زمانہ سلطان الفقر ہفتم سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
جب اللہ کے بندے پر بیماری آتی ہے تو اس کا یہ یقین ہوتا ہے کہ شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جب وہ یہ یقین کامل رکھتا ہے اور تندرست ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نئی منزلیں عطا کرتا ہے۔ اور دنیادار تو صرف ڈاکٹروں پر یقین رکھتا ہے اور اس طرح وہ توحید سے گِر جاتا ہے۔ (تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین)
دنیادار بیماری یا تکلیف کو محض آفت، بلا اور قدرتی غضب سمجھتا ہے۔ نتیجتاً ہر وقت اللہ سے شکوہ و شکایت کرتا رہتا ہے۔ وہ صرف دوائیوں اور ڈاکٹروں پر بھروسہ کرتا ہے۔ یہی اس کے اِلٰہ (معبود) بن جاتے ہیں اور اگر علاج سے شفا نہ ملے تو اس کی مایوسی اور بے چینی مزید بڑھ جاتی ہے اور یوں وہ اللہ سے دور ہو جاتا ہے۔ جس سے وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: جس شخص پر کوئی مصیبت آئے وہ میری بجائے مخلوق سے پناہ طلب کرے تو میں اس پر رحمت کے دروازے بند کر دیتا ہوں۔ (مکاشفتہ القلوب)
بیماری کا علاج
بیماری اور مصائب میں کامیابی کا واحد علاج توکل علی اللہ اور صبر ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے جنہوں نے سخت بیماری میں صبر کیا اور اللہ ہی سے دعا مانگی۔ قرآن میں ارشاد ِربانی ہے:
وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰی رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۔ (سورۃ الانبیائ۔83)
ترجمہ: اور ایوبؑ کو یاد کرو جب اس نے اپنے ربّ کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
خاتم النبیین رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک شب بیماری پر صبر کیا،اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہا تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو گیا جیسے کہ آج ہی اپنی ماں کی گود میں آیا۔ (مکاشفتہ القلوب)
بے شک وہ اللہ ہی ہے جو عزت و کبریائی کا مالک ہے، جو اپنے بندے کو مختلف آزمائشوں اور تکالیف سے گزار کر ان کے قلوب کا تزکیہ فرماتا ہے تاکہ انہیں اپنا قرب عطا کرے۔ اگر غور کیا جائے تو ہمیشہ اللہ کے قریب ترین وہی رہا جو مصائب و بیماریوں میں شکر وصبر سے کام لیتا رہا اور آہ و زاری اور نافرمانی کے امور سے بچا رہا۔
خاتم النبیین رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: صبر نصف ایمان ہے۔ (مکاشفتہ القلوب)
صبر کو نصف ایمان قرار دینے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ صبر انسان کے کردار کو نکھارتاہے، اس میں توازن پیدا کرتا ہے اور ایمان کو کردار سے منسلک کیا جائے تو بیماری، رنج و غم اور مصائب میں مومن کا کردار سراسر صبر بن جاتا ہے۔ صبر کے ساتھ ساتھ بیماری و آفت سے نجات کا ایک اہم ذریعہ توبہ بھی ہے۔
ایک صاحبِ علم کا کہنا ہے کہ صبر سے اعلیٰ و افضل کون سی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں نوے (90) سے زیادہ مقامات پر صبر کا ذکر کیا ہے۔ اس شرف کے باوجود توبہ کا مقام صبر سے افضل ہے۔ (عوارف المعارف)
ارشادِباری تعالیٰ ہے:
وَ تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُوْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (سورۃ النور۔31)
ترجمہ:اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو، اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ۔
پس انسان بیماری پر حقیقی صبر اسی وقت کر سکتا ہے جب اس کے نفس کا تزکیہ ہوا ہو اور تزکیہ ٔنفس کے حصول کے لیے مرشد کامل اکمل کی صحبت اور نگاہِ فیض ازحد ضروری ہے۔ کیونکہ صحبتِ انسانِ کامل سے ہی نیت کا اخلاص، اطاعتِ الٰہی کی طرف رجوع اور حقیقی توبہ کے مقصود حاصل ہوتے ہیں۔ صحبتِ مرشد کامل اور حقیقی توبہ سے ہی نفس کی سرکشی جاتی رہتی ہے نتیجتاً رضائے الٰہی ہمہ وقت شاملِ حال رہتی ہے اور انسان قضا و قدر کے فیصلوں پر شاکر و مطمئن رہتا ہے۔
ایک حدیث مبارکہ ہے: بہترین چیز جو انسان کو عطا کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے نصیب پر راضی رہے۔ (عوارف المعارف)
اللہ پاک اپنے بندوں کے ساتھ تنگی ہرگز نہیں کرنا چاہتا، وہ تو ہمیشہ آسانی ہی فرماتا ہے۔انسان نقصان اسی وقت اٹھاتا ہے جب اس کی منشا و رضا میں اپنی مرضی اور بیوجہ عمل کو داخل کرنے لگتا ہے۔ یہاں یہ کہنا ہرگز مراد نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کربیٹھ جائے کہ جو تقدیر میں ہے مل ہی جانا ہے یا ہو ہی جانا ہے۔ بلکہ زندگی گزارنے کے اصول دینِ اسلام نے سکھائے ہیں انہیں اپنائیں اور ساتھ ساتھ درست غوروفکر اور تفکر کی روش بھی اختیار کریں۔ پھر ہی ہر کام اور سوچ اللہ پاک کے لیے خالص اور درست ہوتی ہے۔ پھر ہی اللہ پاک ہر مشکل، تکلیف اور بیماری سے نکلنے کے راستے کھولتا ہے۔ وگرنہ انسان تو خسارے میں ہی رہتا ہے۔
پس یہ جاننا اور ماننا ضروری ہے کہ دکھ، درد، تکلیف اگر اللہ کی ناراضی ہوتی تو وہ انبیا کو کیونکر ملتی۔ یہ نعمت ہے جو اللہ کا راستہ دکھاتی ہے اور اللہ سے جوڑ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حالتِ بلا اور آزمائش میں صبر و استقامت اور حالتِ انعام میں شکر بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے اور سرکش و نافرمان لوگوں میں سے نہ بنائے۔ آمین!
استفادہ کتب:
۱۔تعلیمات و فرمودات سلطان العاشقین :ترتیب و تدوین مسز عنبرین مغیث سروری قادری
۲۔عقلِ بیدار: تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ
۳۔مکاشفتہ القلوب: تصنیف امام غزالیؒ
۴۔عوارف المعارف: تصنیف شہاب الدین سہر وردیؒ