شان سلطان العاشقین Shan Sultan-ul-Ashiqeen

4.3/5 - (610 votes)

شان سلطان العاشقین

قسط سوم                                                                                                                                                         تحریر: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری

مرکز فقر

عشق کی انتہا تک پہنچنا ناممکنات میں سے ہے۔ منتہائے عشق دراصل عشق کے سلطان کا مقام ہے۔ عارف باللہ کا مقام بقدر عشق ہے۔ عارف باللہ کی کامل صورت عشق کے سلطان کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے مرشد میرے ہادی حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے’’سلطان العاشقین‘‘ کے لقب سے ملقب ہوئے۔ عشق کی بدولت سالک بحر وحدت تک رسائی حاصل کرتا ہے جبکہ عاشقوں کا سلطان خود بحر وحدت ہے۔ میرے مرشد رحمتِ الٰہی کا دروازہ ہیں جو امامِ وقت کی صفت ہے، یہی ہر دور میں حق کا قلعہ ہوتا ہے جہاں باطل بے بس ہے۔ اسی قلعہ کے پناہ گزین کے بارے میں اللہ نے شیطان سے فرمایا کہ:
بے شک میرے(اخلاص یافتہ) بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔ (سورۃ الحجر۔ 42)
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا کہ شیطان نے نہ کسی پر تلوار کھینچی،نہ کسی پر کوڑے مارے بلکہ جھوٹے وعدوں اورباطل اْمیدوں سے اس نے اہلِ باطل کو گمراہ کردیا۔
صاحبِ قلعہ ہی صاحبِ پناہ ہے اور طالبانِ مولیٰ کے لیے بارگاہِ ایزدی میں حجت و دلیل ہے۔ صاحبِ قلعہ اپنے پناہ گزینوں کا اہتمام رضائے الٰہی کے مطابق کرتاہے کہ وہ اللہ کے حضور ان کا جواب دہ ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
وہ دن( یاد کریں) جب ہم لوگوں کے ہر طبقہ کو ان کے پیشوا (امام) کے ساتھ بلائیں گے۔ (سورۃ بنی اسرئیل۔71)

یہی حجت کتابِ مبین ہے جسکی صورت سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس ہیں جو مخلوقِ خدا کے حالوں پر تصرف فرما کر فخرِمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یعنی خزانۂ فقر عطا فرماتے ہیں۔ فقر کی عطا فقط مرکزِفقر  کے در کی وساطت سے ہے۔ کئی دلیلوں میں یہ بھی دو دلیلیں ہیں کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس مرکز فقر ہیں۔ 

صاحبِ فقر قرار پانا عمومی طور پر بعد از موت ہوتا ہے۔ چونکہ ظاہری لباس سے آزادی کے ساتھ ہی تصرف اولیا و فقرا کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ 

شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’ہمعات‘‘ میں لکھتے ہیں:
جب مشائخ، صوفیا اور فقرا کو انتقال فرمائے چارسو سال یا پانچ سو سال یا اس کے قریب گزر جاتے ہیں تو ان کے نفوس کی طبعی قوتیں جو زندگی میں ان کی ارواح کو خالص مجرد صورت میں ظاہر نہیں ہونے دیتی تھیں، اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد یہ طبعی قوتیں بے اثر ہو جاتی ہیں اور اس دوران ان کے نفوس نسمہ یعنی روح ہوائی کے اجزا منتشر ہو جاتے ہیں۔ اس حالت میں جب ان مشائخ کی قبور کی طرف توجہ کی جاتی ہے تو ان کی ارواح سے اس توجہ کرنے والے کی روح کو فیضان ہوتا ہے۔ (ہمعات)

کامل تصرف فرمانے والی ذات مرکز ِفقر قرارپاتی ہے۔ خاص الخاص اولیا جو ظاہری حیات میں کامل تصرف کی نعمت سے فیضیاب ہوتے ہیں وہ کاملین اسی حیات میں مرکز ِفقر کے مقام پر فائز ہو جاتے ہیں جیسے سیدّنا غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ، حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس۔ یہ نعمتِ عظمیٰ سروری قادری مرشد کامل اکمل کو ہی حاصل ہے کہ وہی قدم محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہوتا ہے کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
جو میری راہ چلا وہی میری آل ہے۔
چونکہ فقر دراصل وراثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے اس لیے یہ وراثت قدمِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر فائز سروری قادری مرشد کو عطا ہوتی ہے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کا فرمان مبارک ہے:
جس شان سے فنا فی الرسول سروری قادری ہوتا ہے اس طرح کسی اور سلسلہ میں نہیں ہوتا۔(سلطان العاشقین)

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:
کسی سلسلے کی انتہا سروری قادری کی ابتدا کو بھی نہیں پہنچ سکتی۔ (محک الفقر کلاں)

دنیا میں اگر کسی کو فقر عطا ہوتا ہے تو مرکزِفقر کے در سے ہی ہوتا ہے۔ اس لیے جو ذات مرکزِفقر ہو اس کی طلب و تلاش طالبِ فقر پر لازم ہے۔ مرکزِفقر کے دَر کے بغیر شاید کوئی روحانیت کی منازل تو طے کر لے لیکن فقر کی خوشبو تک کو نہیں پا سکتا جبکہ فقر کی طلب کے علاوہ ہر طلب ہوس ہے۔ اسی لیے صاحبِ ہوس کو مرکزِفقر کا در نصیب نہیں ہوتا۔ فقر بحرِوحدت ہے جو سراسر فیض ہے اور فیض کا منبع مرکزِفقر ہے جوسلطان العاشقین مدظلہ الاقدس ہیں، جس پر آپ مدظلہ الاقدس کی نگاہِ خاص پڑ جائے وہ سراپا فقر بن جاتا ہے۔ 

میرے عشق کی تپش شدید کر، میرے مردہ دل کو حیات دے
تیری اک نگاہ کی بات ہے، کوئی خاص چیز مجھے عام دے

مرکزِفقر ایک راز ہے جو صرف متلاشیانِ حق پر عیاں ہے۔ مرکزِفقر خزانہ فقر کے اصول و ضوابط کو اپنے دور کی نسلِ انسانیت کے مطابق ڈھالتا ہے۔ باطنی دنیا کی تنظیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد دو ادوار میں کی گئی ہے۔ ایک دورسیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کا ہے اور دوسرادور شبیہہ غوث الاعظم کاہے جو کہ میرے مرشدسلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ 

بحرِوحدت کا ایک جام مسلمان کو مومن کے مرتبے پر فائز کرتا ہے۔ اس بحرِبیکراں کے ساقی مرکزِفقر ہیں۔ بحرِوحدت کی نعمتِ عظمیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو معراج کی رات حاصل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے توسط سے آپؐ کی امت کے فقرا کو حاصل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دور میں آپؐ خود مرکزِفقر تھے، فقر اللہ کی ذات ہے اور مرکزِفقر صاحبِ ذات ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:

جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا۔ (بخاری۔6997)

امتِ محمدیہ کی زبوں حالی مرکز ِفقر سے دوری کا نتیجہ ہے، مرکزِفقر کی طرف رجوع عروج کا پیش خیمہ ہے۔ حقیقی معانی میں مرکزِفقر ہی دین ہے۔ اس امت کے اسی اصولِ عروج و زوال کے متعلق علامہ اقبال ؒفرماتے ہیں:

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوّتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی

اللہ تک راستہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذریعے ہی جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک رسائی مرکزِفقر کے ذریعے ممکن ہے۔ مرکزِفقر کی پہچان یہ بھی ہے کہ ہر دور کی یزیدیت اس کے خلاف برسرِپیکار ہوتی ہے۔ معرکۂ حق و باطل سے ہی حق کی پہچان ہوتی ہے۔ باطل کی حق سے ازلی دشمنی ہے۔ جب روحِ حق آدم کے اندر پھونک دی گئی تو شیطان دشمنی پر اتر آیا۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
پھر جب میں اس کی (ظاہری)تشکیل کو کامل طور پر درست حالت میں لا چکوں اور اس پیکر ِ(بشری کے باطن)میں اپنی (نورانی)روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ میں گرپڑنا۔ پس (اس پیکر ِبشری کے اندر نورِ ربانی کا چراغ جلتے ہی )سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیا۔ سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا۔(سورۃالحجر۔ 29-31)

تب سے معرکۂ حق و باطل آج بھی جاری ہے ،کبھی قربانی کی صورت میں اور کبھی ذبخ عظیم کی صورت میں۔

چڑھ چناں تے کر روشنائی

حضرت سخی سلطان باھو ؒاپنے پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں :

چڑھ چناں تے کر روشنائی، تیرا ذکر کریندے تارے ھوُ

یعنی آپ ؒکسی ولی کامل ،مجدد ِدین سے مخاطب ہیں کہ اے چاند! اب طلوع ہو جا اوردنیا بھر میں متلاشیانِ حق کو نورِفقرِ محمدیؐ سے منور فرما دے۔ دراصل آ پؒ ایک ولی کامل کی خبر دے رہے ہیں کہ جو مستقبل میں آئے گا اور فقرِمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دنیا بھر میں عام کر دے گا۔ 

اندھیری رات میں جب چودھویں کا چاند جوبن پرہوتاہے تونور سے ظلمت کو ختم کر ڈالتا ہے۔ ظلمت نور سے بدل جاتی ہے، شر سے خیر نکل آتی ہے۔ یہی نشانی اس چاند کی ہے جس کا ذکر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرما رہے ہیں۔ جس طرح اندھا چانددیکھنے سے محروم ہے اسی طرح مادرزاد اندھا نورالٰہی کی پہچان سے فارغ ہے، وہ فنافی الشیطان ہے کہ شیطان کو اپنے اندھے پن کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام میں اللہ کی روح نظر نہ آئی۔ اس کا اندھا پن اس کا تکبر تھا، یہی نفس کے پردوں کی حقیقت ہے کہ کس طرح وہ اللہ سے انسان کو اندھا رکھتے ہیں۔ 

حق تعالیٰ اپنے کچھ اولیا کرام کو شر سے خیر نکالنے کا تصرف عطافرماتا ہے جو کہ تصرف کی انتہا ہے۔حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ نے چاند کا استعارہ استعمال فرما کر اِسی صفت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جیسے چاند ظلمت کو روشنی سے بدل دیتا ہے۔ یہ تصرف اللہ تعالیٰ نے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کو عطا فرمایا ہے جس کے ثبوت کتاب’’سلطان العاشقین‘‘ کے باب ’’کرامات سلطان العاشقین‘‘ میں درج ہیں۔ ان میں سے ایک کرامت درج کی جارہی ہے جو کتاب کے صفحہ نمبر 439 (دوسرا ایڈیشن) پر موجود ہے:
اس کرامت کے گواہ سلطان محمد ناصر حمید صاحب ہیں۔ وہ بتاتے ہیں ایک صاحب جو سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے دست مبارک پر بیعت ہیں، ایک دن اپنے ایک دوست کو پریشانی کی حالت میں آپ مدظلہ الاقدس کے پاس لائے اور کہا کہ حضرت صاحب! اس کی بیوی پر آسیب یا جنات وغیرہ نے قبضہ کیا ہوا ہے اور اسکی بری حالت ہے، آپ مدظلہ الاقدس مہربانی فرمائیں۔  سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے فرمایا ’’ہم تو اللہ کی پہچان اور معرفت کے لیے اسمِ اللہ ذات عطا کرتے ہیں لیکن اگر آپ آگئے ہیں تو یہ تعویذلے جائیں اور حسبِ ہدایت استعمال کریں۔‘‘

وہ صاحب بیان کرتے ہیں جیسے ہی ہم تعویذلے کر گھر داخل ہوئے تو ان کے دوست کی والدہ نے پوچھا تم لوگ کہاں گئے تھے؟ انہوں نے پہلے چھپانے کی کوشش کی لیکن پھر بتا دیا کہ تعویذ لینے گئے ہوئے تھے۔ دوست کی والدہ نے بتایا کہ ان کی بہو کے اندر سے مردانہ آواز میں یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ دونوں مولوی ہمارے لیے تعویذ لینے گئے ہیں۔ وہ صاحب دوست کے ہمراہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے تو خاتون مردانہ آواز میں بولی تعویذلے آئے ہو۔ چلو پہلے تو ہمیں کلمہ پڑھاؤ تاکہ مسلمان ہو جائیں پھر لڑکے کے والد کو اذان دینے کے لیے کہا۔ اس کے بعد جیسے ہی تعویذات استعمال کرائے گئے وہ جنات چلے گئے اور خاتون بالکل ٹھیک ہو گئی۔ 

اس کرامت سے عیاں ہوتا ہے کہ کس طرح سالہاسال سے ایک جگہ شر کا ڈیرہ تھا اور صرف آپ مدظلہ الاقدس کے تصرف سے نہ صرف وہ جنات ہمیشہ کے لیے بھاگ گئے بلکہ کلمہ پڑھ کر مسلمان بھی ہوگئے۔ اس طرح آپ مدظلہ الاقدس نے شرکو خیر سے بدل دیا۔ 

چونکہ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ نے چاند کی خبر دی تھی اس لیے چاند کا طلوع ہی آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پاک پر ہوا اور سب سے پہلے آپؒ کا نام دنیا میں عام کرکے یہ ثابت کیا کہ یہ وہی چاند ہے جس کی آپ رحمتہ اللہ علیہ نے پیشن گوئی کی تھی۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ نے علمِ لدنی سے بھرپور 140 کتب تصنیف فرمائیں جن میں فقر و تصوف کے ہر مقام اور حال اور ہر راز و نیاز کو درج کیا۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کی تمام کتب کا نچوڑ اپنی ایک تصنیف مبارکہ ’’شمس الفقرا‘‘ میں ایک جگہ ابواب کی صورت میں جمع کر دیا۔دنیائے تصوف کا کوئی اصول و ضابطہ اس کتاب سے باہر نہیں اور کوئی ایسا مقام نہیں کہ جس سے کاملین و سالکین گزریں اور وہ اس کتاب میں درج نہ ہو۔ 

دوسری طرف بدر منیر کی مانند سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے دنیائے فقرو تصوف کو علم لدنی سے منور فرمایا۔
گویا ہدایت کا سفر بھی انسان کے باطن کا سفر ہے اور گمراہی کا تعلق بھی انسان کے اندر سے ہے۔ نور بھی انسان کے اندر ہے اور ظلمت بھی۔درحقیت نور کی عدم موجوگی ہی ظلمت ہے۔ جیسا کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا قول مبارک ہے:
 اللہ اپنی ظلمت کا خود ہی نور ہے۔ 

چونکہ باطنی دنیا ظاہری دنیا سے بڑی اور وسیع ہے اس لیے باطنی دنیا کے خطرات بھی بہت بڑے اور زیادہ ہیں۔ جس دور میں فتنے سرعت سے سر اُٹھا رہے ہوں، جہاں گناہ جائز ہونے سے بھی بڑھ کر اپنا حق سمجھا جائے، دین کے دعویدار جہلا ہوں، باطن کے دعویدار خود بے باطن ہوں، چہار سو شر کا دور دورہ ہو، گناہ کو نیکی اور نیکی کو گناہ سمجھا جانے لگے، دینِ محمدی صرف چند اہلِ نظر تک محدود ہو، دنیا کی کثرت ہو، ہر گھر میں شیطان کا ڈیرا ہو، خلوص دنیا سے اٹھ چکا ہو، جہاں عالم ہی جاہل ہو اور جاہل ہی عالم ہو، ایمان سینوں سے نا پید ہو چکا ہو، نفس فنا فی شیطان ہو چکا ہو، جو جتنا بڑا منافق ہو اتنا بڑا متقی سمجھا جائے، حق و باطل میں فرق مٹ چکا ہو، امتِ مسلمہ فرقوں میں بٹ چکی ہو اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر قرار دیتا ہو، اولیا کو عام انسانوں جیسا سمجھا جانے لگے تو ایسے دورِ ظلمت میں اصلاحِ امت کا بیڑہ اٹھانا عاشقوں کے سلطان کا ہی کام ہے اور صرف اُسی کو زیبا ہے۔ اِسی دور کے متعلق حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:

چڑھ چناں تے کر روشنائی

اس ظلمت میں روشنائی کوئی عاشقوں کا سلطان ہی کر سکتا ہے اور وہ روشن چاند جو ہر خاص و عام کو منزلِ مقصود تک پہنچنے کا راستہ دکھارہا ہے وہ میرے مرشد میرے ہادی میرے محسن سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ مختلف ادوار میں اولیا کرام مستقبل میں آنے والے اولیا کی خبر دیتے رہے اسی طرح حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنے پنجابی بیت میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے آنے کی خبر دی تھی۔ 

خیر کثیر ہے ان طالبانِ مولیٰ کے لیے کہ جن کے زمانے میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس تشریف لائے ہیں۔آپ مدظلہ الاقدس کی شان یہ ہے کہ جہاں آپ مدظلہ الاقدس کی نگاہ پڑتی ہے وہاں ظلمت کی جگہ نورلے لیتاہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی ایک نگاہ سے راہ ہدایت روشن ہو جاتی ہے اور سالک صاحبِ جمعیت بن کر منزل تک  رسائی پا لیتا ہے۔ آپ کے فیضِ ازلی سے کور چشم بینا ہو جاتے ہیں۔ جس خاک پر آپ توجہ فرما دیں وہ آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ جو راہ آپ مدظلہ الاقدس کے دم سے روشن ہے وہی عین ہدایت ہے بجز اس کے اپنے اصلی وطن(لاھوت) لوٹنے کا کوئی دَر وا نہیں۔ متکبر مادرزاد اندھاہے اس لیے راہِ فقر کی توفیق نہیں۔ متکبرین دشمنانِ ہدایت ہیں جبکہ ہدایت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات مبارکہ ہے۔ ہدایت کا راستہ صرف ایک ہے باقی سب گمراہی ہے۔ جیسا کہ حضرت سیدّنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہٗ بیان کرتے ہیں :

ایک دن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں سمجھانے کے لیے ایک لکیر کھینچی اور ارشاد فرمایا’’یہ اللہ عزوجل کا راستہ ہے، پھر اس لکیر کے دائیں بائیں متعدد لکیریں کھینچیں اور ارشاد فرمایا ’’یہ مختلف راستے ہیں، ان میں سے ہر ایک پر ایک شیطان ہے جو لوگوں کو اس پر چلنے کی دعوت دیتا ہے۔‘‘  پھر یہ آیت تلاوت فرمائی(وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُستَقِیمًافَاتَّبِعُوہُ وَلَاتَتَّبِعْواالسّْبْلَ ) (سورۃالانعام۔153) ترجمہ: اور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ تو اس پر چلو اور، اور راہیں نہ چلو۔

ہدایت کی راہ ان پر عیاں ہوتی ہے جو اس کی تمنا کرنے والے ہیں۔ جو ہدایت کی تمنا سے عاری ہے وہ ابلیس کے پیروکارہیں کیونکہ وہی ہدایت کا دشمن ہے۔ عزت اور ذلت کا مالک اللہ ہے اور ہدایت اسے نصیب ہوتی ہے جو اس کی خواہش کرتا ہے۔

 ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے کوشش کی ہوگی۔ (سورۃ النجم۔53)
ہدایت حسب نسب سے مبرا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہدایت ہیں اور ہدایت نور ِالٰہی ہے۔ یہ نور بیج کی طرح انسان کے اندر موجود ہے جس کی آبیاری عشق سے ہوتی ہے، یہاں تک کہ انسان کا باطن نور بن جاتا ہے۔ پھر باطن ظاہر پر حاوی ہو جاتا ہے تو ظاہر بھی نور میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ نور پر نور چڑھنے کی مثل ہے۔ موجودہ دور میں حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کا چاند جو راستہ روشن کر کے سالک کو اس منزلِ مقصود تک پہچاتاہے وہ میرے مرشد میرے ہادی سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اس شان سے دستگیری فرماتے ہیں کہ ایک نگاہ سے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور دیدارِ الٰہی عطا فردیتے ہیں بشرطیکہ طالب میں طلب اور ان مقامات کو جذب کرنے کی طاقت ہو۔ جن کی فقط نگاہِ کرم سے باطن ایمان کی حلاوت پاتا ہے، نفس مردہ اور دل زندہ ہوتا ہے۔مزیدبرآں شر کو خیر سے بدل دیتے ہیں۔ جو سالک آپ مدظلہ الاقدس کے دست مبارک پر بیعت ہوتاہے توفیقِ الٰہی صورتِ مرشد ہر لمحہ اس کی ہمنوا رہتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کا ارادہ رحمن کی تلوار ہے اورآپ اپنے طالب کی ہر حالت پر غالب ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کا اندازِ تربیت قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہونے کی دلیل ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی معرفت سے مجلسِ محمدیؐ نصیب ہوتی ہے۔ بادشاہ آپ مدظلہ الاقدس کے در کے بھکاری ہیں، طاقتور اپنے آپ کو آپ مدظلہ الاقدس کے سامنے کمزور پاتے ہیں،آپ ہر لمحہ اپنے ہر مرید کی دستگیری فرماتے ہیں، ہر وقت ہر مرید کی خبر رکھتے ہیں، چہ جائیکہ وہ سات سمندر دور ہو۔ مریدین آپ مدظلہ الاقدس کے مشکل کشا ہونے کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ ان کو مشکلات اور فتنوں سے بچاتے ہیں، موت کا آئینہ دکھا کر ہر لمحہ نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کے مرید کے دشمن پریشان حال رہتے ہیں جبکہ پریشان حال مریدین کو آسودہ حالی عطا فرماتے ہیں۔گہنگار کی پردہ پوشی آپ کا خاصہ ہے، دیوانگی سے مخفوظ رکھتے ہوئے تمام باطنی مقامات سے گزارتے ہیں۔ راہِ فقر توفیقِ الٰہی کی راہ ہے جو میرے مرشد سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے پاؤں کی خاک کو آنکھ کا سرمہ بنانے سے عطا ہوتی ہے۔

’’شانِ سلطان العاشقین‘‘ بلاگ انگلش میں پڑھنے کے لیے  کلک کریں

(جاری ہے)

 

35 تبصرے “شان سلطان العاشقین Shan Sultan-ul-Ashiqeen

    1. چڑھ چناں تے کر روشنائی
      اس ظلمت میں روشنائی کوئی عاشقوں کا سلطان ہی کر سکتا ہے اور وہ روشن چاند جو ہر خاص و عام کو منزلِ مقصود تک پہنچنے کا راستہ دکھارہا ہے وہ میرے مرشد میرے ہادی میرے محسن سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ مختلف ادوار میں اولیا کرام مستقبل میں آنے والے اولیا کی خبر دیتے رہے اسی طرح حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنے پنجابی بیت میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے آنے کی خبر دی تھی۔

  1. میرے عشق کی تپش شدید کر، میرے مردہ دل کو حیات دے
    تیری اک نگاہ کی بات ہے، کوئی خاص چیز مجھے عام دے

  2. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کا فرمان مبارک ہے:
    جس شان سے فنا فی الرسول سروری قادری ہوتا ہے اس طرح کسی اور سلسلہ میں نہیں ہوتا۔(سلطان العاشقین)

  3. حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:
    کسی سلسلے کی انتہا سروری قادری کی ابتدا کو بھی نہیں پہنچ سکتی۔ (محک الفقر کلاں)

  4. میرے عشق کی تپش شدید کر، میرے مردہ دل کو حیات دے
    تیری اک نگاہ کی بات ہے، کوئی خاص چیز مجھے عام دے

  5. حضرت سخی سطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اعلیٰ مرتبے سے مشرف ہیں

    1. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی شان کا ادراک صاحبانِ بصارت کا ہی خاصہ ہے ❣️

  6. میرے عشق کی تپش شدید کر، میرے مردہ دل کو حیات دے
    تیری اک نگاہ کی بات ہے، کوئی خاص چیز مجھے عام دے

  7. ہدایت کی راہ ان پر عیاں ہوتی ہے جو اس کی تمنا کرنے والے ہیں۔ جو ہدایت کی تمنا سے عاری ہے وہ ابلیس کے پیروکارہیں کیونکہ وہی ہدایت کا دشمن ہے۔ عزت اور ذلت کا مالک اللہ ہے اور ہدایت اسے نصیب ہوتی ہے جو اس کی خواہش کرتا ہے۔

  8. راہِ فقر توفیقِ الٰہی کی راہ ہے جو میرے مرشد سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے پاؤں کی خاک کو آنکھ کا سرمہ بنانے سے عطا ہوتی ہے۔

  9. راہِ فقر توفیقِ الٰہی کی راہ ہے جو میرے مرشد سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے پاؤں کی خاک کو آنکھ کا سرمہ بنانے سے عطا ہوتی ہے۔

  10. میرے عشق کی تپش شدید کر، میرے مردہ دل کو حیات دے
    تیری اک نگاہ کی بات ہے، کوئی خاص چیز مجھے عام دے
    بہترین

  11. ہر دور میں حق کا قلعہ ہوتا ہے جہاں باطل بے بس ہے۔ اسی قلعہ کے پناہ گزین کے بارے میں اللہ نے شیطان سے فرمایا کہ:
    بے شک میرے(اخلاص یافتہ) بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔ (سورۃ الحجر۔ 42)

  12. بہترین آرٹیکل ہے
    ہر دور میں حق کا قلعہ ہوتا ہے جہاں باطل بے بس ہے۔ اسی قلعہ کے پناہ گزین کے بارے میں اللہ نے شیطان سے فرمایا کہ:
    بے شک میرے(اخلاص یافتہ) بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔ (سورۃ الحجر۔ 42)

  13. میں اگر کسی کو فقر عطا ہوتا ہے تو مرکزِفقر کے در سے ہی ہوتا ہے۔ اس لیے جو ذات مرکزِفقر ہو اس کی طلب و تلاش طالبِ فقر پر لازم ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں