مریدین کے آداب

4.2/5 - (319 votes)

مریدین کے آداب(Murideen  kay  Adab)

تحریر:  مسز انیلا یٰسین سروری قادری

اسلامی معاشرے میں ادب کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اسلامی معاشرہ جہاں اسلامی اقدار و احکامات کی بنیاد پر اہلِ مغرب سے منفرد ہے وہیں ادب و احترام بھی اسی معاشرے کے سنہری اصول ہیں جو اس معاشرے کو دیگر دنیا سے منفرد و ممتاز کرتے ہیں۔یوں تو اسلامی معاشرے میں رہنے والوں کے بہت سے حقوق و فرائض ہیں اور ان کی ادائیگی رضائے الٰہی کے مطابق صرف اور صرف احساسِ ذمہ داری اور ادب سے ممکن ہے۔ معاشرتی آداب کے علاوہ اسلام انسان کو انفرادی آداب بھی سکھاتا ہے جو اس کی روز مرّہ زندگی کو منشائے الٰہی کے مطابق ڈھالنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ اسلام میں تمام عبادات کی ادائیگی، کھانے پینے، پہننے اوڑھنے،غسل کرنے، سفر کرنے الغرض انسان کی انفرادی زندگی سے لیکر عائلی زندگی اور اس کی تمام تر ذمہ داریوں کی ادائیگی کے آداب موجود ہیں۔

Adab.ادب کیا ہے؟ادب قرب و دیدارِ الٰہی کے لیے ظاہر و باطن کو آرا ستہ کرنے اور تہذیبِ خلق کا نام ہے۔
کوئی انسان اس وقت تک اللہ تعالیٰ کا قرب نہیں پا سکتا جب تک وہ مکمل طور پر ادب کے اصولوں کو نہیں اپنا لیتا، اخلاقِ حسنہ ادب کے اصولوں سے ہی حاصل ہوتا ہے جو نفس کے حالتِ مطمئنہ حاصل کرنے کے لیے سیڑھی ہے۔ شیخ جلال بصری ؒ نے فرمایا:
 ایمان کے لیے توحید ضروری ہے جس میں تو حید نہیں اس میں ایمان نہیں، شریعت کے لیے ایمان ضروری ہے جہاں شریعت نہیں وہاں نہ ایمان ہے نہ توحید۔ شریعت کے لیے ادب ضروری ہے اس لیے کہ جہاں ادب نہیں وہاں نہ شریعت ہے نہ ایمان نہ توحید ہے۔‘‘

ایک بزرگ فرماتے ہیں: ’’ادب کو ظاہر اور باطن دونوں حالتوں میں اختیار کرو،اگر کسی نے ظاہری طور پر بے ادبی کی تو اسے ظاہری طور پر سزا ملے گی،اگر کسی نے باطنی طور پر بے ادبی کی تو اسے باطنی طور پر سزا ملے گی۔

طالبِ حق کے لیے ہر رشتے کا ادب اہم ہے چاہے اس کا تعلق والدین سے ہو، اساتذہ کرام سے ہویا مرشد سے ہو،چاہے عزیز رشتہ داروں سے ہو یا ہمسایوں سے۔ لیکن ان سب تعلقات میں سب سے زیادہ اہم تعلق مرشد اور مرید کا ہے اور اسی تعلق میں سب سے زیادہ ادب و احترام کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی ادب سے وہ عشق و قربت کی منازل طے کرتا ہے۔

ارشادِ ربانی ہے:
’’تم کو پیغمبرِخدا کی پیروی کرنی بہتر ہے یعنی اس شخص کو جسے خدا سے ملنے (دیدار الٰہی) اور روزِ قیامت کے آنے کی اُمید ہو اور وہ کثرت سے ذکرِاللہ (ذکر و تصور اسم اللہ ذات) کرتا ہو۔‘‘  (الاحزاب۔21)

یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں یہ رہنمائی فرما دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیروی کرنا یعنی سنتِ نبوی ؐ پر عمل پیرا ہونا بھی ادب کے زمرے میں آتا ہے۔ غرضیکہ جو اللہ تعالیٰ کا قرب و وصال پانا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں مشغول رہے اور اطاعت ادب سے خالی نہیں ہے۔ جس طرح روزمرّہ زندگی میں کسی بھی رشتہ میں بڑوں کا احترام بجا لاتے ہوئے ان کا ادب کر کے ان کے حکم کی تعمیل کی جاتی ہے بالکل ایسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ہونا ان کے عشق و محبت میں ادبِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مترادف ہے۔ تاہم یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک عاشق کے آداب کا اوّل قرینہ ہے۔ اب ظاہری اعتبار سے جو مرشد کامل اکمل قدمِ محمدیؐ پر ہے اور وہ زمانہ حاضر میں واحد ہے اور اس کے وسیلہ سے ہی ایک طالب مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچ سکتا ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’جس کا کوئی شیخ (مرشد) نہیں اس کا شیخ (مرشد) شیطان ہے۔‘‘ اس کی اطاعت بھی مرید کے لیے لازم ہے جو آدابِ مریدین میں اوّل ہے۔

بقول اقبالؒ:

دین سراپا سوختن اندر طلب
انتہایش عشق و آغازش ادب

دین کیا ہے؟ یہ اللہ کی طلب میں خود کو پر سوز اور پرُ درد بناناہے،اس کی انتہا عشق اور ابتدا ادب (مرشدکا) ہے۔

منقولہ مشہور ہے:
باادب  بانصیب بے ادب بے نصیب

یعنی جس شخص میں جس قدر زیادہ ادب ہو گا وہ اتنا ہی خوش نصیب ہو گا۔ یہاں خوش نصیبی سے مرادیہ ہر گز نہیں ہے کہ اسے دنیا کی ہر آسائش میسر ہو گی اور وہ اپنی من پسند زندگی بسر کرے گا بلکہ یہاں خوش نصیبی سے مراد یہ ہے کہ جو اپنے مرشد کا جتنا ادب کرے گا وہ اتنی ہی جلدی قرب و دیدار کی منازل طے کرے گا،بلاشبہ رضائے مرشد ہی رضائے الٰہی ہے اور ایک صادق طالبِ مولیٰ کی اصل خوش نصیبی بھی یہی ہے کہ اسے مرشد کی رضا و خوشنودی حاصل ہو جائے تاکہ وہ معرفتِ حق کی نعمت کو پا سکے۔ آدابِ مرشد کو(ہر تعلق کے ادب سے) زیادہ فضیلت اس لیے حاصل ہے کیونکہ مرشد کامل اکمل ہی وہ پاک ذات ہوتی ہے جو اپنی صحبت ونگاہِ فیض سے طالبِ دنیا کو طالبِ مولیٰ بنانے کی قدرت رکھتی ہے۔آداب دو طرح کے ہوتے ہیں:
۱۔ظاہری یا عملی آداب
۲۔باطنی یا روحانی آداب

۱۔ ظاہری یا عملی آداب

ظاہری آداب میں شیخِ کامل سے ملاقات کرنے، گفتگوکرنے اور کوئی بھی عملی کا م (جیسے کوئی ڈیوٹی یا مجاہدہ وغیرہ) سر انجام دینے کے آداب شامل ہوتے ہیں۔

آدابِ ملاقات

مرشد کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہونے کے دو آداب ہیں:
ایک یہ کہ مرشد کامل کی زیرِصدارت محافل میں خلوصِ نیت سے معرفت و دیدارِ الٰہی کی طلب کے ساتھ حاضری دی جائے اور دل کو دنیا کے خیالات سے ہر ممکن حد تک دور رکھا جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم یہ نیت ضرور ہوکہ اللہ تعالیٰ مرشد کامل اکمل کے وسیلہ سے دل کی سیاہی کو دور کر کے اپنے قرب کی راہ کو مزید آسان فرما دے۔

دوم یہ ہے کہ جب کوئی بہت ہی زیادہ اہم معاملہ درپیش ہو تو اجازت لے کر حاضر ہوا جائے اور کو شش کی جائے جتنی جلد ہو سکے اپنا معاملہ مختصر اور جامع الفاظ کے استعمال سے مرشد کریم کے گوش گزار کیا جائے اور مناسب حل ملتے ہی رخصت لی جائے۔محض اپنے نفس کی خوشی کے لیے بے وجہ مرشد کی بارگاہ میں بیٹھنا غلط ہے اور خدانخواستہ بعض اوقات اللہ کی ناراضی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ملاقات کے آداب سکھائے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

 مومنو! پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لیے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے۔لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی نہ لگا کر بیٹھ رہو۔ یہ بات پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو ایذا دیتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں (اور کہتے نہیں ہیں) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا۔ (سورہ احزاب۔53)

بالکل اسی طرح مرشد کامل اکمل جو عصرِ حاضرمیں نائبِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مقام پر فائز ہوتا ہے اور اسے وصالِ الٰہی حاصل ہوتا ہے تو مریدین پر بھی لازم ہے کہ وہ ملاقات کے وقت آدابِ بالا کا خاص خیال رکھیں۔ آدابِ ملاقات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ طالبِ مولیٰ کو اس بات کا کامل یقین ہونا چاہیے کہ مرشد کریم کی ذات ہی اسے دنیا، شیطان اور نفس سے بچا سکتی ہے اور اس کی اصلاح کر سکتی ہے اگر طالب مرشد کے ساتھ ساتھ کسی اور سے بھی اصلاح کا ارادہ رکھتا ہے تو پھر ایسا طالب مرشد کے فیض و کرم سے کبھی بھی سیراب نہیں ہو سکتاکیونکہ فیض کا حصول توصرف اسی صورت میں ممکن ہے جب طالبِ مولیٰ صدق، یقین اور اعتقاد کے ساتھ بلا چوں و چرا مرشد کے ہر حکم پر سر جھکادے اور اغیار کی طرف کبھی مائل نہ ہو۔

میاں محمد بخشؒ فرماتے ہیں:

مرشد دے دروازے اُتے محکم لائیے چوکاں
نویں نویں نہ یار بنائیے وانگ کمینیاں لوکاں

آپؒ مزید فرماتے ہیں:

جس دل اندر عشق سمانا فیر نئیں اُس جانا
سوہنے سوہنے ملن ہزاراں اساں نئیں یار وٹانا

 

آدابِ گفتگو

کسی سے کوئی بات کرنی ہو یا کسی کو اپنی بات سمجھانی ہو تو اس کے بھی کچھ طریقے اور آداب ہوتے ہیں جو بات کہنے والے کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں اور سامع کو بھی ناگزیر نہیں گزرتے۔ طالب صادق پر یہ فرضِ عین ہے کہ جب بھی وہ مرشد کی بارگاہِ اقدس میں کسی بھی دینی یا دنیاوی مسئلے کے حل کے لیے حاضر ہو تو اس وقت تک اپنی بات شروع نہ کرے جب تک مرشد پاک خود گفتگو کا آغاز نہ فرمائیں یا جب تک طالب کو حال بیان کرنے کے لیے نہ کہا جائے۔ اللہ تعالیٰ اصحاب پاکؓ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم ان الفاظ میں فرماتا ہے:
  یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰ مَنُوْا لاَ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (سورۃ الحجرات۔1)
ترجمہ: اے ایمان والو! (کسی بھی معاملے میں) اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سے نہ بڑھا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو (کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بے ادبی نہ ہوجائے)۔بے شک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ 

حضرت عبداللہ ابنِ عباسؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’اس ارشادِ باری سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بولنے سے پہلے مت بولا کرو۔‘‘ (عوارف المعارف)

یعنی جس طرح دورِ نبوت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرزِ عمل ہوتا تھا کہ وہ کبھی بھی کسی معاملے میں اس وقت تک اپنی رائے پیش نہیں فرماتے تھے جب تک کہ ان کے مرشد نبی آخرالزماں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود کچھ نہ فرماتے یاانہیں اپنی رائے پیش کرنے کی اجازت نہ عطا فرمادیتے۔اسی طرح حقیقی طالبِ مولیٰ کو بھی چاہیے مرشد کی اجازت کے بغیر اپنی رائے پیش کرنے سے گریز کرے اور کبھی بھی مرشد سے سبقت لے جانے کی کوشش نہ کرے۔ ایسا کرنا خارجِ ایمان کا باعث ہوتاہے۔اسی طرح گفتگو کے مزید آداب کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
 لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتِکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِّیِ (سورۃ الحجرات۔2)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبی (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)کی آوازسے بلند مت کیاکرو۔

اس لیے طالب کا یہ طرزِ عمل ہونا چاہیے کہ وہ مرشد کی محفل میں نہ تو بلند آواز میں بات کرے اور نہ بہت زیادہ ہنسے کیونکہ اونچی آواز میں بات کرنا وقار کے خلاف ہے۔البتہ جب ادب و وقار دل میں جاگزیں ہو جائے تو زبان بولنے سے باز رہتی ہے۔ شیخ ابنِ عطا مذکورہ بالا آیت کی تشریح ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
’’آواز بلند کرنے کی ممانعت معمولی غلطی پر ایک طرح کی تنبیہ تھی تاکہ کوئی حد سے نہ بڑھے اور عزت و احترام کرنا نہ چھوڑ دے۔‘‘

لہٰذا جب بھی طالبِ مولیٰ مرشد سے کوئی بات کرنا چاہے تو اپنی آواز  دھیمی رکھے، بلند آواز بے ادبی تصور کی جاتی ہے جو سراسر نقصان کا باعث ہے۔ طالبِ مولیٰ کو گفتگو کے وقت اس بات کو بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ اس کی گفتگو مختصر ہواور اس میں خواہشاتِ نفس کی آمیزش نہ ہو۔ بات چیت میں دو طرح سے نفسانی خواہشات شامل ہو سکتی ہیں:
  اوّل یہ کہ محض دل کی تسکین کے لیے بے مقصد گفتگو کی جائے۔
  دوم یہ کہ اپنے ساتھیوں سے سبقت لے جانے کی غرض سے مختصر بات کو بلا وجہ لمبی چوڑی تمہید کے ساتھ مرشد کی بارگاہ میں پیش کیا جائے۔

صادق طالبِ مولیٰ وہی ہوتا ہے جو مرشد کے ادب میں اپنا کوئی اختیار نہ رکھتا ہواور اپنی ذات و حال میں بھی مرشد کے حکم کے بغیر تصرف نہ کرے۔ نیز طالب کو مرشد کریم کے حسنِ اخلاق اور حلم و بردباری کو دیکھتے ہوئے گفتگومیں مرشد کی پسند و نا پسند کا خیال رکھنا چاہیے۔

 

۲۔ باطنی یاروحانی آداب

راہِ فقر باطن کی راہ ہے۔اگر طالبِ مولیٰ محض ظاہری آداب پر توجہ دے اور باطنی آداب سے بے بہرہ ہو تو یہ اسے کچھ فائدہ نہ دیںگے کیونکہ انسان کا باطن اصل ہے اور باطن کی بہتری ہی ظاہر کو صحیح معانی میں تبدیل کرتی ہے وگرنہ ظاہری ادب صرف ریا کا درجہ رکھتا ہے۔

سورۃ اعراف میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَاذکُرْ رَّ بَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّ دُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَ لاَ تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلیْنَ۔(سورۃالاعراف۔205)
ترجمہ: اور صبح و شام ذکر کرو اپنے ربّ کا دل میں، سانسوں کے ذریعے، بغیر آواز نکالے، خوف اور عاجزی کے ساتھ اور غافلین میں سے مت بنو۔

سروری قادری مرشد کامل اکمل طالبِ مولیٰ کو بیعت کے پہلے روز ہی ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات اور مشقِ مرقومِ وجودیہ کی نعمت سے نوازتا ہے جس سے طالب کا دل اور سانسیں خفیہ طور پر ہر دم اللہ کے ذکر میں مشغول ہو جاتی ہیں اور ظاہری جسم بھی پاک ہو جاتاہے۔پھر جب مرشد زنگ آلود قلب پر نگاہِ کرم فرماتا ہے تو اس قلب پر کشفِ الٰہی کا نزول ہوتارہتا ہے جس سے طالبِ مولیٰ کا اپنے مرشد سے روحانی رابطہ قائم ہو جاتاہے۔اس مقام پر بھی طالبِ مولیٰ کو باطنی ادب کو خاص طور پر ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔ باطنی ادب کا اصول یہ ہے کہ طالبِ حق اپنے تمام ترروحانی حالات و مکاشفات پر مکمل یقین رکھے اور ان حالات میں اپنے مرشدسے رجوع کرے کیونکہ مرشد کادل ارادتِ غیب کا خزانہ ہے اور اس کا حقیقی علم مرید سے کہیں زیادہ اور وسیع ہے اس لیے طالب پر جب کوئی کشف کا حال گزرے اور اس کے دل میں یہ خیال آئے کہ آیا یہ حال عطائے مرشد ہے یا نفسانی ارادہ تو ایسے میں وہ فوراً مرشد کی بارگاہ میں عاجزی سے رجوع کرے۔جب طالب عجزوانکسار سے مرشد کے حضور التجا پیش کرتا ہے تووہ مرشد سے اس بات کی تصدیق پا لیتا ہے کہ اس پر ظاہر ہونے والے کشف کاتعلق خالصتاً بارگاہِ الٰہی سے ہے یا اس میں نفسانی آمیزش ہے۔اگر مرید کے حال میں نفسانی ارادہ ہو تومرشد کامل اکمل اپنے اعلیٰ تصرف کی بدولت طالب کے باطن کو صاف کر دیتا ہے اور اسے پھر سے معرفتِ الٰہی کے راستے پر گامزن کر دیتا ہے۔یہ تمام معاملات صرف اُسی صورت میں ممکن ہیں جب طالب کی نیت صرف اور صرف اللہ کاقرب و دیدار پانے کی ہوگی اور وہ ہر حال میں اخلاصِ نیت و استقامت سے مرشد کی بارگاہ میں باادب غلام بن کر رہے گا۔ الغرض باطنی ادب میں انتہائی ادب کامقام یہ ہے کہ طالبِ مولیٰ کبھی بھی کسی حال میں اپنے آپ کو مرشد کی نگاہِ فیض سے دور نہ سمجھے۔ باطنی طور پر مرشد کے اعلیٰ مقام واعلیٰ تصرفات پریقینِ مستحکم رکھے اورمرشدکے عطاکردہ سبق(ذکرو تصور اسمِ اللہ ذات) سے غفلت نہ برتے۔

بارگاہِ مرشد میں بے ادبی کے نقصانات

بعض اربابِ صدق کا ارشاد ہے:
 تصوف تمام تر ادب ہے اور ہر مقام اور ہر حال کے لیے خاص ہے۔ جب کوئی ادب اختیار کرتا ہے وہ مردِ کامل کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور جو ادب سے محروم رہتا ہے وہ مقامِ قرب سے دور اور مقامِ قبولیت سے مردود ہو جاتا ہے۔ (عوارف المعارف)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ پنجابی ابیات میں بے ادب لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں:

بے ادباں ناں سار ادب دی، گئے ادباں توں وانجے ھوُ
جیہڑے ہون مٹی دے بھانڈے، کدی نہ ہوندے کانجے ھوُ
جیہڑے مڈھ قدیم دے کھیڑے، کدی نہ ہوندے رانجھے ھوُ
جیں دِل حضور نہ منگیا باھوؒ، گئے دوہیں جہانیں وانجے ھوُ

مفہوم: بے ادب لوگوں کو مقامِ ادب کی نہ کوئی خبر ہے نہ پہچان اور شعور ہے۔ یہ وہ بدنصیب ہیں جو اپنی بے ادبی اور شقاوت کی وجہ سے وہ مقام و مرتبہ کبھی حاصل نہیں کر سکتے جو باادب حاصل کر لیتے ہیں۔ ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات اور مرشد کامل اکمل کی راہبری اور راہنمائی کے بغیر ازلی فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ جو ازلی کھیڑے (شقی) ہیں وہ کبھی رانجھے(سعید)  نہیں بن سکتے اور مٹی کے برتنوں کو کبھی بھی کانچ کے برتن نہیں بنایا جا سکتا۔ بے ادب لوگ (خواہ وہ اللہ تعالیٰ کے بے ادب ہوں یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، صحابہ کرامؓ، اہلِ بیتؓ، اولیا کرام، فقرا یا مرشد کامل کے) دونوں جہانوں میں معرفتِ الٰہی سے محروم رہتے ہیں جیسا کہ مشہور ہے ’’باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب‘‘ اور جس نے حق تعالیٰ کی حضوری طلب نہ کی وہ دونوں جہانوں میں خالی ہاتھ ہو گیا۔ (ابیاتِ باھوُ کامل)
مزید فرمایا:

ہر کہ ظنِ بد می برد بر مومناں
آں مومن بدان از کافران

مفہوم: جو شخص مومنوں (اولیا کاملین) کے ساتھ برُا گمان رکھے اُسے مومن نہیں بلکہ کافر سمجھو۔

پس جس کا دِل دیدارِ الٰہی کا مشتاق ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ کی باادب غلامی اختیار کرے اور تا دمِ آخر اس غلامی سے منہ نہ موڑے،عاجز و نیاز مند بن کر اسی دَر پر پڑا رہے تاکہ اپنی مرادِ حق پا لے۔

بقول اقبالؒ:

کیمیا پیدا کن از مشت گلے
بوسہ زن بر آستانے کاملے

یعنی اے خاک سے بنے ہوئے انسان! تو اگر اپنی خاک کو سونا بنانا چاہتا ہے یعنی اس میں موجود روح کو پاکیزہ کرنا چاہتا ہے تو کسی کامل مرشد کے آستانہ پر بوسہ دے۔

جیسا کہ میرے مرشد کامل اکمل آفتابِ فقر شبیہ غوث الاعظم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطا ن محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہرہفتہ اور اتوار کومسجدِزہراؓوخانقاہ سلطان العاشقین گائوں رنگیل پور شریف براستہ سندر اڈہ ملتان روڈ لاہور میں نہ صرف تمام مریدین سے ملاقات فرماتے ہیں بلکہ اپنی نگاہِ کیمیا سے ان کے ظاہری و باطنی مسائل بھی دور فرماتے ہیں۔اس محفل ملاقات اور درس و تدریس میں بلا امتیازِ رنگ و نسل ہر خاص وعام کو شرکت کی دعوت ہوتی ہے تاکہ وہ آپ مد ظلہ الاقدس کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کرذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کے فیوض و برکات سے اپنے نفس و روح کو پاک کریں اور دیدار الٰہی سے مشرف ہوں۔مردوں کے علاوہ خواتین کی بھی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے جن کے لیے باپردہ انتظامات کیے جاتے ہیں۔تاہم ان محافل سے با ادب طالب ہی فیض پاتا ہے۔

اللہ پاک کی بارگاہ میں التجا ہے کہ ہمیں بھی باادب اور صادق طالبِ مولیٰ بنائے۔ آمین

 
 

28 تبصرے “مریدین کے آداب

  1. ادب قرب و دیدارِ الٰہی کے لیے ظاہر و باطن کو آرا ستہ کرنے اور تہذیبِ خلق کا نام ہے۔

  2. اللہ پاک جی ہمیں بھی با ادب بنائے اور ہمیں ہمارے کریم و شفیق مرشد پاک سے کبھی دور نہ ہونے دے آپ کے در کی خاک بنائے اور آپ کے در پر ہی گھوماتا رہے اُڑ کر کہیں اور جا گرنے کی نہ ہمت دے نہ اُڑاے حق مولا سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس

  3. مرشد دے دروازے اُتے محکم لائیے چوکاں
    نویں نویں نہ یار بنائیے وانگ کمینیاں لوکاں

  4. دین کیا ہے؟ یہ اللہ کی طلب میں خود کو پر سوز اور پرُ درد بناناہے،اس کی انتہا عشق اور ابتدا ادب (مرشدکا) ہے۔

  5. جس دل اندر عشق سمانا فیر نئیں اُس جانا
    سوہنے سوہنے ملن ہزاراں اساں نئیں یار وٹانا

  6. مرشد دے دروازے اُتے محکم لائیے چوکاں
    نویں نویں نہ یار بنائیے وانگ کمینیاں لوکاں

  7. ادب قرب و دیدارِ الٰہی کے لیے ظاہر و باطن کو آرا ستہ کرنے اور تہذیبِ خلق کا نام ہے۔

  8. اللہ پاک کی بارگاہ میں التجا ہے کہ ہمیں بھی باادب اور صادق طالبِ مولیٰ بنائے۔ آمین

  9. اللہ پاک کی بارگاہ میں التجا ہے کہ ہمیں بھی باادب اور صادق طالبِ مولیٰ بنائے۔ آمین

  10. بقول اقبالؒ:

    دین سراپا سوختن اندر طلب
    انتہایش عشق و آغازش ادب
    دین کیا ہے؟ یہ اللہ کی طلب میں خود کو پر سوز اور پرُ درد بناناہے،اس کی انتہا عشق اور ابتدا ادب (مرشدکا) ہے۔

  11. ایک بزرگ فرماتے ہیں: ’’ادب کو ظاہر اور باطن دونوں حالتوں میں اختیار کرو،اگر کسی نے ظاہری طور پر بے ادبی کی تو اسے ظاہری طور پر سزا ملے گی،اگر کسی نے باطنی طور پر بے ادبی کی تو اسے باطنی طور پر سزا ملے گی۔

  12. بہت اچھا مضمون ہے
    شیخ جلال بصری کا فرمان۔
    ایمان کے لیے توحید ضروری ہے جس میں تو حید نہیں اس میں ایمان نہیں، شریعت کے لیے ایمان ضروری ہے جہاں شریعت نہیں وہاں نہ ایمان ہے نہ توحید۔ شریعت کے لیے ادب ضروری ہے اس لیے کہ جہاں ادب نہیں وہاں نہ شریعت ہے نہ ایمان نہ توحید ہے۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں