Shahadat Imam Hussain

شہادت حضرت امام حسینؓ Shahadat Imam Hussain ra

شہادت حضرت امام حسینؓ Shahadat Imam Hussain

تحریر: محترمہ نورین سروری قادری ۔سیالکوٹ

Shahadat Imam Hussainحق و باطل کی لڑائی ازل سے جاری ہے اور تاقیامت جاری و ساری رہے گی۔کبھی یہ لڑائی خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے روپ میں غرور کے بتوں کو پاش پاش کر کے حق کا بول بالا کرتی ہے تو کبھی  کلیم اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صورت میں فرعون کے خدائی دعوے کو غرق کر دیتی ہے۔اسی حق و باطل کی لڑائی میں نواسۂ رسولؐ، جگر گوشۂ بتولؓ اور حیدر کرارؓ کے لختِ جگر حضرت امام حسینؓ اور ان کے 72 جانثاروں نے اپنے مقدس خون کی آبیاری سے دینِ اسلام کا بول بالا کرتے ہوئے باطل کو پاش پاش کردیا۔ حضرت امام حسینؓ حق کے علمبردار تھے۔ آپؓ نہ صرف امتِ مسلمہ کے محسن ہیں بلکہ تمام انسانیت اور دنیا آپؓ کی احسان مندہے۔آپؓ نے باطل کی رسوائی اور حق کی سربلندی کا عظیم فریضہ سرانجام دیتے ہوئے عشق و محبت اور وفا و قربانی کی ایک لازوال داستان رقم کی۔

حسین ابنِ علیؓ۔۔جنہوں نے میدانِ کربلا میں اپنا خاندان قربان کر کے اسلام کو نئی زندگی بخشی۔ حسینؓ ابنِ علی۔۔۔ حق پرستوں کے شہنشاہ اور راہِ حق میں جان دینے والوں کے امام ہیں اس لئے دین و ایمان کے راستے میں شہید ہونے کے باعث آج بھی زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

 

شہادت 

Shahadat Imam Hussain-شہادت سے مراد ہے امرِ حق پر مارا جانا ،بے قصور و بے خطا مارا جانا، راہِ حق میں جہاد کرتے ہوئے مارا جانا، راہِ حق میں جان قربان کر دینا اور شہید سے مراد خدا کی راہ میں قربان ہونے والا، گواہی میں امانت دار، مقتول فی سبیل اللہ، وہ جو ہر بات سے مطلع ہو، وہ شخص جو راہِ خدا میں قتل ہو۔

’شہید‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہشَھِدَ ہے اور اس کا لغوی معنی موجود ہونا،حاضر رہنا یا نظروں کے سامنے رہنایا رکھنا ہے۔شہادت اللہ پاک کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ جن کو شہادت نصیب ہوتی ہے ان انعام یافتہ بندوں کا ذکر اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں یوں بیان فرمایا ہے:

’’جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐؐ کی اطاعت کرتاہے پس وہی ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے انعام کیا ہے جو کہ انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین ہیں۔‘‘(سورۃ النساء ۔ 69)

شہادت ایک ایسی نعمت ہے جس کی آرزو نبی کریمؐ کو بھی تھی۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسولؐ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا:
’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مسلمانوں کے دل میں اس سے رنج نہ ہوتاکہ میں ان کو چھوڑ کر جہاد کے لئے نکل جاؤں اور میرے پاس اتنی سواریاں نہیں ہیں کہ سب کو ساتھ لے جاؤں تو میں ہر اس گروہ کے ساتھ نکلتا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے جاتا ہے۔‘‘

’’اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الجہاد)

مگر اللہ کا وعدہ وَاللّٰہُ یَعصِمْکَ مِنَ النَّاسِ  ترجمہ: اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا۔ (سورۃ المائدہ۔67) آپؐ کے اللہ کی راہ میں شہید ہونے سے مانع تھا اور یہ بھی ضروری تھا کہ نبی کی دعا قبول ہو چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی خواہش کو یوں پورا فرمایا کہ آپؐ کے نواسے حضرت امام حسینؓ، جنہیں آپؐ اپنا بیٹا کہہ کر پکارتے تھے، کو آپؐ کے جوہر شہادت کے ظہور تام کے لئے منتخب فرمایا۔ یوں شہادتِ امام حسینؓ سیرت النبیؐ کا باب بن گئی۔ 

شہادت کی صورتیں

ہر عمل کی دو صورتیں ہوتی ہیں:
۱۔اس عمل کا جوہر اور روح۔یہ اس عمل کی ہیئت اصلیہ ہے۔
۲۔اس عمل کی ظاہری شکل و صورت۔یہ اس عمل کی ہیئت کذائیہ ہے۔
اسی طرح شہادت بھی ایک عمل ہے اورشہادت کی بھی دو صورتیں ہیں۔

(1۔شہادت کی ہیئت اصلیہ

Shahadat Imam Hussain-شہادت کی روح خدا کے راستے میں جان قربان کرنے کی آرزو ہے اور موت واقع ہو جانا شہادت کی ظاہری شکل و صورت ہے۔اور یہ آرزو آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام میں بڑی شدت کے ساتھ موجود تھی۔

(2۔شہادت کی ہیئت کذائیہ

خدا کے راستے میں عملی طور پر موت کا واقع ہوجاناشہادت کی ہیئت کذائیہ ہے۔اس کی دو صورتیں ہیں:
۱۔شہادت ِسرّی:اسے شہادتِ مخفی یا چھوٹی شہادت کہتے ہیں۔جیسے کوئی پانی میں ڈوب کر یا کسی کے زہر کھلانے سے مر جائے۔
۲۔شہادتِ جہری:اسے شہادت ظاہری اور بڑی شہادت بھی کہتے ہیں جیسے کوئی مسلمان جنگ میں دشمن کے ہاتھوں مر جائے۔

 شہادت کی ہیئت کذائیہ کی دونوں صورتیں حضور نبی کریمؐ کی سیرت مبارکہ میں کس طرح موجود ہیں؟شہادت سرّی کا نقطہ آغاز حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں موجود ہے جس کا پتہ اس واقعہ سے چلتا ہے۔’’غزوۂ خیبر میں ایک یہودی عورت زینب بنت الحارث نے بکری کا بھنا ہوا زہر آلود گوشت آپؐ کی خدمت میں ہدیتہً پیش کیا۔ آپؐ نے اس میں سے کچھ کھا لیا تو اس گوشت نے آپؐ کو خبر دی کہ میں زہر آلود ہوں۔ آپؐ نے اسی وقت ہاتھ اٹھا لیا۔ آپؐ کے ساتھ ایک صحابی حضرت بشربن براؓ  نے بھی زہر آلود گوشت کھایا تھا جو اسی وقت زہر کے اثر سے شہید ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبؐ کی حفاظت کا ذمہ خود لے رکھا ہے۔ اسی لیے آقا پاکؐ زہر آلود گوشت کھانے سے شہید نہ ہوئے لیکن اس زہر کا اثر تادم وصال آپؐ کے رگ و پے میں موجود رہا۔

Shahadat Imam Hussain-شہادتِ جہری کا نقطہ آغاز آپؐ کی حیاتِ طیبہ میں اس طرح موجود ہے جب غزوۂ اُحد میں کفار نے حضور نبی اکرمؐ پر پتھروں اور تیروں سے حملہ کیا توآپؐ کے دندان مبارک میں ایک دانت کا کچھ حصہ پتھر لگنے سے شہید ہو گیا جس سے خون بہنے لگا۔

شہادتِ جہری کی چار شرائط ہیں:
۱۔میدانِ جنگ میں کافر کا کسی آلہ سے حملہ آور ہونا
۲۔ضرب لگنا
۳۔کسی عضو وغیرہ کے کٹنے سے خون بہنا
۴۔روح کا پرواز کر جانا

شہادتِ جہری کی پہلی تین شرائط آپؐ میں پائی گئیں لیکن چوتھی شرط کا پایا جانا ناممکن تھا کیونکہ آپؐ کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ پاک نے اٹھا رکھا ہے۔پس شہادت سری اور جہری دونوں کا نقطۂ آغاز آقا پاکؐ کی حیات مبارکہ میں موجود ہے لیکن انجام نہیں کیونکہ آپؐ کی وفات طبعی تھی۔(شہادت امام حسینؓ)

دونوں شہادتوں کا ظہور تام

Shahadat Imam Hussain-اللہ پاک نے حضور نبی اکرمؐ کی سیرتِ طیبہ میں شہادت کا باب مکمل کرنے کے لئے دو افراد کو منتخب فرمایا تاکہ ایک شہادت سری کا باعث بنے یعنی زہر دئیے جانے سے شہید ہو اور دوسرا شہادت جہری کا باعث بنے۔ یہ بھی ضروری تھا کہ وہ دو افراد بھی آپؐ کے اپنے ہوتے۔ ظاہری شکل و صورت اور باطنی طور پر بھی آپؐ کے مشابہ ہوتے۔ چنانچہ شہادتِ سرّی اور جہری کا وہ عمل جس کا آغاز آپؐ کی زندگی میں ہو چکا تھا ان دونوں شہادتوں کی تکمیل اور روح کے ظہور تام کے لئے اللہ پاک نے دو شہزادوں سیدّنا امام حسنؓ کو سرّی اور سیدّنا امام حسینؓ کو شہادتِ جہری کے لئے منتخب فرمایا۔

شہادتِ امام حسینؓ کی انفرادیت شہرت کے اعتبار سے انفرادیت

Shahadat Imam Hussain-حضرت امام حسینؓ کی شہادت سیرت النبیؐ کا ایک باب تھی اس لئے ضروری تھا کہ اس شہادت کو اتنا چرچا اور شہرت ملے کہ اس کے مقابلے میں کسی اور شہادت کو وہ مقام نہ حاصل ہو سکے۔یہی وجہ ہے کہ دوسروں کی شہادت کی شہرت ان کے شہید ہو جانے کے بعد ہوتی ہے مگر حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا چرچا ان کے شہید ہونے سے پہلے ہو چکا تھا۔

حضرت اُمِّ سلمہؓ کو مٹی عطا فرمانا

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت امام حسینؓ  کی شہادت کا تذکرہ اُن کے بچپن ہی میں کر دیا تھا۔ حضرت اُمِ فضل بنتِ حارثؓ جو کہ حضرت عباسؓ کی زوجہ اور آنحضرتؐ کی چچی تھیں،اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ اور اُم المومنین حضرت اُمِ سلمہؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا’’ میرے اس بیٹے (حضرت امام حسینؓ) کو میرے بعد زمینِ طف میں قتل (شہید) کر دیا جائے گا۔‘‘ جبرائیل امین علیہ السلام نے اس مقام کی مٹی دی، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مٹی کو اپنے سینہ مبارک سے لگایا، اشک بار ہوئے اور فرمایا ’’اُمِ سلمہؓ جب (جس دن) یہ مٹی خون میں تبدیل ہو جائے تو جان لینا کہ میرا یہ بیٹا قتل ہو گیا ہے۔‘‘ حضرت اُمِ سلمہؓ نے اس مٹی کو ایک بوتل میں ڈال لیا اور روزانہ اس کو دیکھتی تھیں۔ جس دن واقعۂ کربلا پیش آیا حضرت اُمِ سلمہؓ نے بوتل کو دیکھا تو مٹی خون میں تبدیل ہو گئی تھی۔ آپؓ نے جان لیا کہ آج حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کوشہید Shahadat Imam Hussain کر دیا گیا ہے۔ (سیدّ الشہدا حضرت امام حسینؓ اور یزیدیت )

مقامِ شہادت کی نشاندہی

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پہلے ہی اس مقام کی نشاندہی فرما دی جس مقام پر امام حسینؓ نے شہادت پانا تھی۔اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’مجھ کو جبرئیل امین نے خبر دی کہ میرا بیٹا حسینؓ میرے بعد زمینِ طف میں قتل کر دیا جائے گا اور جبرئیل میرے پاس (اس زمین کی) یہ مٹی لائے ہیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ یہی مٹی حسینؓ کا مدفن ہے۔‘‘ (سر الشہادتین۔24)(-1سیدّ الشہدا حضرت امام حسینؓ اور یزیدیت-2  ذکرِ شہادت امام حسینؓ احادیثِ نبوی کی روشنی میں  -3سوانح کربلا )

سنِ شہادت کی نشاندہی

محبوبِ خدا، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہ صرف اس جگہ کی نشاندہی فرما دی جہاں حضرت امام حسینؓ نے شہادت فرمانا تھی بلکہ اس سن و سال کی طرف بھی اشارہ فرما دیا جس سن میں امام حسینؓ کی شہادت Shahadat Imam Hussain ہونے والی تھی۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:
’’ساٹھ ہجری کے سال اور لڑکوں کی امارت (حکومت) سے اللہ کی پناہ مانگو۔‘‘(البدایہ و النہایہ ابنِ کثیر 132:8)

حضرت ابو عبیدہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:
’’ میری اُمت کا امر (حکومت) عدل کے ساتھ قائم رہے گا یہاں تک کہ پہلا شخص جو اسے تباہ کرے گا وہ بنی امیہ میں سے ہو گا جس کو یزید کہا جائے گا۔(البدایہ و النہایہ ابنِ کثیر 8:132)( ذکرِ شہادت امام حسینؓ احادیثِ نبوی کی روشنی میں)

تمام آزمائشیں شہادت امام حسینؓ میں مجتمع

قرآنِ پاک میں اللہ پاک نے اپنے بندوں کو آزمانے کی جو بھی صورتیں بیان کی ہیں مثلاً وطن سے نکال دیا جانا، پریشانیوں میں مبتلا کیا جانا اور اللہ کی راہ میں جان کا قربان کرنا وغیرہ یہ سب کی سب آزمائشیں شہادتِ امام حسینؓ اور معرکۂ کربلا میں مجتمع نظر آتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہادتِ امام حسینؓ جوہرشہادتِ نبویؐ کا ظہور تھا۔ اگر کوئی ایک آزمائش بھی باقی رہ جاتی تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جوہر ِشہادت کا ظہور نقطہ کمال پر نہ ہوتا۔ اسی لیے اللہ پاک نے شہادتِ امام حسینؓ میں تمام آزمائشوں کو جمع کر دیا۔

شہادتِ حسینؓ کا مشہود بالنبیؐ ہونا

Shahadat Imam Hussain-شہادت امام حسینؓ کو دیگر شہادتوں سے اس اعتبار سے بھی امتیاز حاصل ہے کہ دیگر شہادتیں مشہود بالملائکہ ہوتی ہیں جبکہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت مشہود بالنبیؐ ہے۔دیگر شہادتوں میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں لیکن حضرت امام حسینؓ وہ خوش قسمت شہید ہیں کہ جب آپؓ کی شہادت کا وقت آیا تو ملائکہ تو ملائکہ خود تاجدارِ کائناتؐ اپنے نواسے کی شہادت کے وقت موجود تھے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی موجودگی میں حضرت امام حسینؓ کے جسم مبارک سے روح کو قبض کیا گیا۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے ’’ایک دن دوپہر کے وقت میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس طرح دیکھا جیسے کوئی سونے والا کسی کو دیکھتاہے(یعنی خواب میں)کہ آپؐ کے بال بکھرے ہوئے اور گردآلود ہیں اور آپؐ کے ہاتھ میں ایک بوتل ہے جو خون سے بھری ہوئی ہے۔میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں، یہ کیاہے؟ آپؐ نے فرمایا:حسینؓ اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے جس کو میں آج سارا دن (صبح سے لے کر اب تک بوتل میں ) اکٹھا کرتا رہا ہوں۔ (حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں) میں نے اس وقت کو یاد رکھا جس وقت یہ خواب دیکھا تھا پس میں نے پایاکہ حضرت امام حسینؓ اسی وقت شہید کئے گئے تھے۔‘‘ (سیدّ الشہدا حضرت امام حسینؓ اور یزیدیت)

کٹے ہوئے سر کی گواہی

حضرت امام حسینؓ کے کٹے ہوئے سر کا نیزے پر بول پڑنا شہداکے زندہ ہونے کی واضح اور ناقابلِ تردید دلیل ہے۔حضرت منہال بن عمروؓ فرماتے ہیں ’’خدا کی قسم! جب حضرت امام حسینؓ کے سر کو نیزے کے اوپر چڑھائے گلیوں اوربازاروں میں پھرایا جا رہا تھا تو میں اس وقت دمشق میں تھا،میں نے بچشمِ خود دیکھا کہ سر مبارک کے سامنے ایک شخص سورۃ کہف پڑھ رہا تھا۔جب وہ اس آیت پر پہنچا ’ کیا تو نے نہیں جانا کہ بیشک اصحابِ کہف اور رقیم ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب عجوبہ تھے۔‘ (سورۃالکہف۔9) تو اللہ پاک نے سر مبارک کو قوت ِگویائی دی اور اس نے بزبانِ فصیح کہا:
’اصحابِ کہف کے واقعہ سے میرا قتل اور میرے سر کو لئے پھرنا زیادہ عجیب ہے‘۔‘‘(سر الشہادتین ، نور الابصار ، شرح الصدور)(ذکرِ شہادت امام حسینؓ احادیثِ نبوی کی روشنی میں)

قاتلانِ حسینؓ کا انجام اور عذابِ الٰہی

امام زہری روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت حسین بن علیؓ کو شہید کیا گیا تو بیت المقدس میں جو بھی پتھر اٹھاتا اس کے نیچے تازہ خون پایا جاتا۔ (امام طبرانی،ابن سعد،بیہقی)

حضرت اُمِّ حکیمؓ سے مروی ہے، آپؓ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت حسین بن علیؓ کو جب شہید کیا گیا تو میں چھوٹی بچی تھی،اس وقت آسمان کئی دن تک ایک جمے ہوئے خون کے لوتھڑے کی طرح سرخ رہا۔ (امام طبرانی۔بیہقی)

ابو قبیل سے مروی ہے کہ جب حضرت حسین بن علیؓ کو شہید کیا گیا تو سورج کو اس قدر گرہن لگا کہ دوپہر کے وقت تارے ظاہر ہو گئے، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ رات ہو گئی ہے۔(امام طبرانی)

زوید جعفی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب امام حسینؓ کو شہید کیا گیا تو ان کے لشکر سے اونٹوں کو لوٹا گیا اور جب ان اونٹوں کو (ذبح کر کے) پکایا گیا تو وہ خون میں بدل گئے۔سو انہوں نے ہانڈیوں کو الٹ دیا۔(امام طبرانی) (ذکرِ شہادت امام حسینؓ احادیثِ نبوی کی روشنی میں)

حضرت امام حسینؓ اور مقامِ رضا

حضرت سخی سلطان باھوؒ پنجابی ابیات میں سیدّنا حضرت امام حسینؓ کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

عاشق سوئی حقیقی جیہڑا، قتل معشوق دے منے ھوُ
عشق نہ چھوڑے مکھ نہ موڑے، توڑ ے سیَ تلواراں کھنے ھوُ
جت وَل ویکھے راز ماہی دے، لگے اوسے بنھے ھوُ
سچا عشق حسینؓ ابنِ علیؓ دا باھوؒ، سر دیوے راز نہ بھنے ھوُ

حضرت امام حسینؓ تسلیم و رضا کے عظیم ترین مقام پر فائز تھے۔ تسلیم و رضا کے مرتبہ کی جس انتہا پر حضرت امام حسینؓ فائز تھے اگر نگاہ اٹھاتے تو خدا جانے کیا سے کیا ہو جاتا۔ اگر آپؓ چاہتے توقافلۂ حسینؓ بچ جاتا،یزیدی لشکر تباہ ہو جاتا۔ مگر یہ سب مقامِ رضا کے منافی تھا۔ آپؓ نے فقرِ محمدیؐ پر قائم رہتے ہوئے رضائے الٰہی کے آگے سرجھکا کر رہتی دنیا تک کے آنے والے طالبانِ مولیٰ کو عشقِ حقیقی، صبر، وفا و قربانی اور تسلیم و رضا کا عظیم درس دیا۔ 

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ فرماتے ہیں :
عشق کی حقیقت حاصل کرنی ہو تو امامِ عالی مقام حضرت امام حسینؓ کے کربلا میں کردار سے حاصل کرو۔ اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایڑھیاں رگڑنے سے چشمہ جاری ہوسکتا ہے توآپؓ سے یہ بعید نہ تھا کہ آپؓ کے ایک اشارے سے کربلا میں چشمے جاری ہو جاتے اور فرات اپنا رخ بدل کر آپؓ کے قدموں میں آ جاتا اور یزیدی لشکر ریت میں دھنس جاتا لیکن آپؓ نے کسی لمحہ بھی اس انجام سے بچنے کی دعا نہ کی بلکہ صبر واستقلال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا اورسارا خاندان راہِ خدا میں قربان کر دیا۔ اسے کہتے ہیں’’سرِتسلیم خم ہے جو مزاجِ یارمیں آئے‘‘ عشق اور تسلیم ورضا کا ایسا اعلیٰ مرتبہ اولادِ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہی خاصہ ہے اور امامِ عالی مقامؓ نے اس امتحان میں پورا اتر کر اس کو عملی طور پر ثابت بھی کیا۔ طالبِ مولیٰ جب بھی عشق کے میدان میں آزمائشوں اور تکالیف کی وجہ سے ڈگمگانے لگے تو ذرا سا کربلا کے میدان میں آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کردار کو دیکھ لے تو یہی اس کے لئے مشعلِ راہ ہوگا۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)

امام عالی مقام سیدّنا امام حسینؓ بچپن سے جانتے تھے کہ میری شہادت کربلا میں لکھی جا چکی ہے۔اگر آپؓ چاہتے تو یزید کے ہاتھ پر بیعت کر کے اپنی قضاسے چھٹکارا پا لیتے،اللہ پاک کی بارگاہ میں التجا کر کے قضا سے نجات کا راستہ اختیار کر لیتے لیکن آپؓ نے ایسا نہیں کیا کیونکہ آپؓ سچے عاشقِ مولیٰ تھے۔ کربلا کے میدان میں ربِّ ذوالجلال کا بے حجاب نظارہ کرنے کے لیے آپؓ نے کئی برس ہجر وفراق کی کٹھن منزلوں میں گزار دئیے۔

 اگر آپؓ نے حق کی خاطر اس قدر بڑی قربانی نہ دی ہوتی اور باطل کے خلاف اس طرح ڈٹ کر مقابلہ نہ کیا ہوتا توآج کوئی بھی طالبِ مولیٰ راہِ حق پر ہمت و استقامت سے نہ چل سکتا۔ 

حضرت اما م حسینؓ اللہ کی رضا پر سرِ تسلیم خم کرنے والے، وصالِ یار اوردیدار کے مشتاق طالبِ مولیٰ تھے۔ جان کی بازی لگانے والے، عشق و وفا نبھانے والے ، محبوب کی رضا پر راضی رہنے والے، عہدِوفا کا پاس رکھنے والے طالبِ مولیٰ ہی ہوتے ہیں۔

اس نواسے پر محمد مصطفیؐ کو ناز ہے
اس کی ہمت پر علیؓ شیرِ خدا کو ناز ہے
سجدے اوروں نے کیے اس کا نیا انداز ہے
اس نے وہ سجدہ کیا جس پر خدا کو ناز ہے

Shahadat Imam Hussain- حضرت امام حسینؓ نے کربلا میں عشق و وفا کی جو عظیم داستان رقم کی  اس پر موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے حقائقِ واقعۂ کربلا پر مبنی کتاب ’’سیدّ الشہداحضرت امام حسینؓ اور یزیدیت‘‘ تصنیف فرمائی ہے جو طالبانِ مولیٰ کے لیے عظیم راہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ واقعۂ کربلا کی حقانیت سے آگاہی کے لئے اس کتاب کا مطالعہ ضرور فرمائیں۔

حوالہ کتب:

۱۔سیدّ الشہدا حضرت امام حسینؓ اور یزیدیت: تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۲۔مجتبیٰ آخر زمانی:  ایضاً
۳۔ابیاتِ باھوؒ کامل تحقیق، شرح و ترتیب:  ایضاً
۴۔ذکرِ شہادت امام حسینؓ احادیثِ نبویؐ کی روشنی میں: ڈاکٹر محمد طاہر القادری
۵۔ شہادت امام حسینؓ:  ڈاکٹر محمد طاہر القادری
۶۔شہادت امام حسینؓ:  علامہ سیدّ شاہ ترُاب الحق قا دری
۷۔شہیدِ کربلا:  علامہ مہر محمد خاں ہمدم
۸۔سوانحِ کربلا:  مفتی سیدّ محمد نعیم الدّین مراد آبادی 

 

اپنا تبصرہ بھیجیں