Andaz-e-Tarbiyat

عالم اور فقیر کا اندازِتربیت Alim Aur Faqeer ka Andaz-e-Tarbiyat

عالم اور فقیر کا اندازِتربیت 

تحریر: مسز عظمیٰ شکیل سروری قادری۔ اوکاڑہ

Andaz-e-Tarbiyat-ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 اپنے ربّ کے راستے کی طرف حکمت اور مواعظِ حسنہ سے دعوت دواور ان سے احسن طریقے سے بحث کرو۔ (سورۃ النحل۔ 125)

مندرجہ بالا آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے تین طریقوں سے دعوت دینے کا حکم ملتا ہے۔ حکمت، مواعظِ حسنہ اور بحث کا احسن طریقہ۔ تینوں طریقے درجہ کے اعتبار سے تین گروہوں کو حاصل ہیں۔ اوّل درجہ ’حکمت‘ طالبانِ مولیٰ یعنی فقرا کو، دوم درجہ ’مواعظِ حسنہ ‘علمائے دین کو اور سوم’ احسن طریقے سے بحث‘ کا فریضہ حاکم کے حصے میں آیا۔ـ

Andaz-e-Tarbiyat-سرّالاسرار میں سیدّناغوث الاعظم حضرت شیخ عبدلقادرجیلانیؓ فرماتے ہیں:
علمائے ظاہر اور علمائے باطن کا قول بنیادی طور پر تو ایک ہی ہے لیکن فروعات کے لحاظ سے مختلف ہے۔ یہ تینوں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات میں بھی جمع ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد کسی میں بھی اتنی طاقت نہیں کے ان تینوں کا (بیک وقت) متحمل ہو سکے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسے تین قسموں میں تقسیم فرمایا۔

Andaz-e-Tarbiyat-پہلی قسم (یعنی حکمت سے مراد )علمِ حال ہے جوان تینوں علوم کا مغز ہے اور یہ مردوں (طالبانِ مولیٰ) کو عطاہوتاہے جس سے مردوں (طالبانِ مولیٰ) کو ہمت حاصل ہوتی ہے جیساکہ خاتم النبیین حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’مردوں (طالبانِ مولیٰ) کی ہمت پہاڑوں کو (جڑسے) اکھاڑدیتی ہے۔‘‘ یہاں پہاڑ سے مراد سخت دلی ہے جو ان کی دعا اور عاجزی سے ختم ہو جاتی ہے جیساکہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
جسے حکمت عطاکی گی پس بلاشبہ اُسے خیر کثیر عطا ہوئی۔ (سورۃ البقرہ۔(269

دوسری قسم (علمِ ظاہر) مغز کا چھلکاہے جو اُن علمائے ظاہر کو عطا ہوتا ہے جو عمدہ وعظ و نصیحت سے معرفت کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں جیسا کہ خاتم النبیین حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’عالم علم اور ادب سے نصیحت کرتا ہے جبکہ جاہل مارپیٹ اور غصے سے نصیحت کرتا ہے۔‘‘

 تیسری قسم (مغز کے) چھلکے کا بھی چھلکا ہے اور اس سے مراد ظاہری عدل اور سیاست (کا علم) ہے۔ جو حکمرانوں کو دیا جاتا ہے جس کی طرف اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ فرمان اشارہ کرتا ہے:
’’اور ان سے احسن طریقے سے بحث کرو۔‘‘ (سورۃ النحل۔25 1)

Andaz-e-Tarbiyat-علما اور فقرا دوایسے گروہ ہیں جو دینِ اسلام کو فروغ دینے میں کوشاں ہیں۔ اس گروہ میں علما قرآن کے ظاہری علم کو فروغ دے رہے ہیں اور فقرا باطنی علم کو فروغ دے رہے ہیں جس کے ملنے پر ظاہریت خودبخود ہاتھ آجاتی ہے۔ یا اس بات کو یوں سمجھاجائے کہ علما شریعت جبکہ فقرا طریقت و حقیقت کی تعلیمات کو فروغ دیتے ہیں۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ عالم اور فقیر کے فرق کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
Andaz-e-Tarbiyat-ایک کلیم اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح علمِ ظاہر کا نمائندہ ہوتا ہے جو کلیم اللہ تو ہوتا ہے مگر اسکی نظر گناہ پر ہوتی ہے۔ دوسرا حضرت خضر علیہ السلام کی طرح علمِ باطن کا نمائندہ ہوتا ہے جس کی نگاہِ باطن صحیح راہ پر ہوتی ہے۔ جوآدمی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام جیسا علم نہیں رکھتا وہ معرفتِ لٰہی تک ہر گز نہیں پہنچ سکتا۔ (محک الفقر کلاں)

علمِ ظاہر کا حامل شخص ہر عمل ہمیشہ گناہ و ثواب میں الجھ کر جہنم کے ڈر اور بہشت کے حصول کے لیے کرتا ہے اور ایسے شخص کی صحبت میں رہنے والوں کو بھی علمِ ظاہر ہی عطا ہوتا ہے جبکہ فقرا کی صحبت جن کو باطنی علوم یا علم لدنیّ عطا ہوتا ہے اُن کی صحبت یا تربیت کے نتیجے میں طالب کو ہمیشہ معرفتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے۔

عالم کا اندازِ تربیت  Andaz-e-Tarbiyat

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
Andaz-e-Tarbiyat- جان لو کہ علما وہ ہیں جو (اپنے علم پر) عمل کرتے ہیں اور اللہ کا شکرادا کرتے ہیں۔ ایسے علما عامل کو ہر رات یا جمعرات یا ہر ماہ یا ہر سال حضرت محمدؐ کا دیدار پرُانوار ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض کو لوگ جانتے ہیں اور بعض کو نہیں۔ اس لیے علما اور حافظِ قرآن کا ادب کیا کرو۔ (شمس العارفین)

آپؒ علما کے مرتبے کو ظاہر فرماتے ہوئے ادب کرنے کی تلقین فرماتے ہیں مگر خالص اللہ کی طلب رکھنے والوں کے لیے جن کا تعلق عشق اور حقیقت سے ہے، ان کے لیے آپؒ فرماتے ہیں:
 علم اور عقل عشقِ الٰہی کی راہ کی بڑی کمزوری ہے۔ عشقِ الٰہی میں وہ لطف و سرور ہے کہ اگر کسی جید عالم کو اس کا زرا سا مزہ مل جائے تو وہ علمیت بھول کر عشقِ الٰہی میں گم ہو جائے۔

Andaz-e-Tarbiyat-مراد یہ کہ علمِ ظاہر اور عالم کی اہمیت اپنی جگہ مگر ان پر عشق کا جذبہ غالب ہو گا جو کہ باطنی کیفیت کا نام ہے اورساتھ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عالم کے پاس علمِ باطن نہیں ہوتا اگر زرا سابھی ہو تو وہ سب کچھ بھول کر طلبِ الٰہی میں لگ جائے جو کہ فقرا کو حاصل ہے۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ دین ایک ہی ہے اُسکے پہلو بھی ایک سے ہیں مگر اندازِ ادائیگی کے مختلف طریق ہیں؛ ایک ظاہر کی صورت میں علما اور دوسرا باطن کی صورت میں فقرا کے پاس ہوتا ہے جس سے وہ لوگوں کو وہی انداز سکھاتا ہے جس کا وہ متحمل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کلمہ توحید ایک ہی ہے مگر اس کو ادا کرنے کے طریقے مختلف ہیں۔ ظاہری زبان سے اقرار (علما کے زیر تربیت)، قلب سے تصدیق کرنے پر اقرار (فقرا کے زیرِ تربیت)۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا فرمان ہے:
کلمہ طیب پڑھنے کے تین درجے ہیں ؛مبتدی کا زبان سے کلمہ پرھنا،متوسط کا تصدیق دل سے کلمہ طیب کا اقرار اور منتہی کا فنافی اللہ بقاباللہ ہوجانا۔ (شمس الفقر ا)

Andaz-e-Tarbiyat-مبتدی کے زبان سے اقرار کرلینے سے وہ عالم کی زیرِتربیت مسلمان ہونے کا درجہ حاصل کر لیتا ہے مگر مومن ہونا یعنی باطن میں قلب کے ذریعے اقرار کرنا فقرا کی نگرانی کے بغیر ممکن نہیں ۔

ایک مرتبہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام صحابہ کرامؓ میں مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ کچھ اعرابی (دیہاتی) لوگ جونئے نئے مسلمان ہوئے تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ ہم بھی مومن ہیں ہم پر بھی عنایت فرمائیں جوآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دوسرے مومنین پر فرمارہے ہیں۔ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جواب دینے بھی نہ پائے تھے کہ وحی کانزول شروع ہوگیا:
’’ یہ دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ان سے فرمادیں کہ تم کہوہم اسلام لائے ہیں (یعنی زبانی کلمہ پڑھا ہے) اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا یعنی تصدیقِ قلب کے مر تبہ پر نہیں پہنچے۔ (سورۃ الحجرات۔14 )

Andaz-e-Tarbiyat-پس علمائے ظاہر ہر عبادت اورہر عمل کلمہ توحید، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، ورد وظائف، تسبیحات، ذکر اذکار الغرض کوئی بھی عبادت ہو، صرف ظاہری طور پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

علمِ ظاہر کے ذریعے ظاہری عبادت انسان کی منزل نہیں کیونکہ ظاہری عبادت فرشتوں سے بڑھ کر کوئی نہیں کرسکتا مگر اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرمایا۔ اب سوال یہ کہ آخر انسان اشرف کیوں؟ کیونکہ باطنی طاقت کسی اور مخلوق میں ظاہر نہیں ہوتی۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
’علمائے دین‘ دین کے چراغ کی مثل ہیں جبکہ’ فقرا‘ آفتاب کی مثل اور چراغ کو کیا قدرت کہ آفتاب کے سامنے روشنی بکھیرے۔ (نورالہدیٰ خورد)

Andaz-e-Tarbiyat-نورالہدیٰ کلاں میں فرمانِ باھوؒ درج ہے ’’علمِ ظاہر کی چودہ اقسام ہیں۔‘‘
چونکہ علم ظاہر چودہ اقسام پر مشتمل ہے اور اسکی حدود ابتداسے لے کر انتہا تک صرف مطالعہ تک رہتی ہیں۔ اس پر تجربہ کرکے اس میں پوشیدہ راز معلوم کریں گے توبھی مطالعہ اور اپنی عقلی استطاعت کی وجہ سے جو ہر شخص کی اپنی علمی و عقلی قابلیت کی بدولت مختلف ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے علما کرام میں آپس میں تضاد پایاجاتاہے اور اسی تضاد کی بنا پر ان کی تفا سیر میں بھی تضاد پایا جاتا ہے جس سے الجھاؤ  پیدا ہوتا ہے اور لوگ فرقوں میں بٹ جاتے ہیں۔ جس شخص کو جس عالم کی بات مناسب لگتی ہے اُسکے پیچھے دوڑنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس علم ِباطن جو کہ فقرا سے حاصل ہوتا ہے وہ ایک ہی ہے اس کی بدولت فقرا میں تضاد نہیں پایا جاتا اور راہِ حق سیدھا نظر آتا ہے۔

آپؒ مزید فرماتے ہیں:
مدرسہ میں زہد کرنے والے سے اسرارِ معرفت طلب نہ کر کیونکہ کیڑا اگر کتاب کھا لے تو نکتہ دان نہیں بن سکتا۔ (نورالہدیٰ خورد)

فقیہِ شہر بھی رہبانیت پہ ہے مجبور
کہ معرکے ہیں شریعت کے جنگ دست بدست
(ضربِ کلیم)

Andaz-e-Tarbiyat-شریعت کے علمبردار علما کے آپس میں اس قدر اختلافات ہیں کہ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے بھی لگا دیتے ہیں۔ یہ صورتحال دیکھ کر حقیقی فقہا نے خود کو ان سے کنارہ کش کر لیا ہے۔ علما اور فقرا جدا جدا حیثیت سے دین کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، علما کے آپس کے اختلافات کے باوجود ہم انہیں ماننے سے انکار نہیں کر سکتے، مرادیہ کہ ان کے وجود کی حیثیت کو جھٹلا نہیں سکتے کیونکہ یہ ابتدائی درجے کے لوگ یعنی مسلمانوں کی تربیت کے لیے اللہ نے مخصوص فرمائے ہیں تاکہ لوگ کم ازکم ظاہری عبادت کر کے اللہ کے احکام کی پابندی کر سکیں۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
نماز کو (حسبِ دستور) قائم کرو۔ بیشک نماز مومنوں پرمقررہ وقت کے حساب سے فرض ہے۔ (سورۃ النساء ۔103)

اب جو ظاہری نماز کی ادائیگی کرتے وقت اللہ کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے تو اگلے ہی مرحلے پرخاتم النبیین انسانِ کامل آقا پاک سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں:
لَاصَلٰوۃ اِلَّابِحَضُوْرالْقَلْب
ترجمہ: حضوریٔ قلب کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔

Andaz-e-Tarbiyat-مختصر یہ کہ بغیر حضوریٔ قلب یا باطن سے تصدیق کیے بغیر ہر عبادت نامکمل ہے کیونکہ یہاں معاملہ عبادت کا نہیں بلکہ اللہ کے ذکر سے اسکی پہچان کا ہے جو درحقیقت اللہ اپنے بندوں سے چاہتا ہے یعنی ہر وہ عبادت اللہ کے ہاں مقبول ہے جس میں صدقِ دل سے عبادت کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کا قرب اور دیدار ہو مگر یہ مرتبہ کسی عالم کو خود حاصل نہیں تو بھلا اُس کے زیر ِتربیت کو کیسے حاصل ہو؟

 ارشادِباری تعالیٰ ہے:
اپنے رَبّ کا ذکر اس قدر محویت سے کرو کہ خود کو بھی فراموش کردو۔ (سورۃ الکہف۔24)

 محو ہونا ایک باطنی صفت ہے جس کو مثال سے واضح کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ لیلیٰ کے عشق میں محو مجنوں چند نمازیوں کے سامنے سے گزر گیا جس پر نمازی اورملّاحضرات نے سخت خفگی کا اظہار کیا۔ ایسے میں مجنوں نے ایک تاریخی جملہ بولا ’’میں ایک لیلیٰ کے عشق میں تم سب کو نہ دیکھ پایا تو تم سب اللہ کی عبادت میں مجھے کیسے دیکھ گئے؟‘‘ جس پرملّا حضرات کو شرمساری اٹھانا پڑی۔ الغرض! عشقِ الٰہی وہ طاقت ہے جو فقرا کی بارگاہ سے حاصل ہوتی ہے جس کی بدولت وہ طالب کو اللہ کی یاد میں اللہ کے حکم کے مطابق محو فرمادیتے ہیں مگر اس کی طاقت علمائے ظاہر میں ہر گز نہیں ہوتی۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں :

جتھے رتی عشق وکاوے، اوتھے مناں ایمان دویوے ھوُ
کتب کتاباں ورد وظیفے، اوتر چا کچیوے ھوُ
باجھوں مرشد کچھ نہ حاصل، توڑے راتیں جاگ پڑھیوے ھوُ
مرئیے مرن تھیں اگے باھو،ؒ تاں ربّ حاصل تھیوے ھوُ

مفہوم:جہاں ایک رتی عشقِ حقیقی مل رہا ہو تو بدلے میں کئی من ایمان دے کر اُسے حاصل کر لو کیونکہ جہاں عشق پہنچاتا ہے ایمان اس سے لاعلم ہے۔ چاہے تمام زندگی شب بیداری، ورد وظائف اور مطالعہ کتب میں گزار دی جائے پھر بھی مرشد کامل کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یاد رکھ! مرنے سے پہلے مرے بغیر وصالِ الٰہی حاصل نہیں ہوتا۔

Andaz-e-Tarbiyat-کچھ علما کرام عشق کو یااس کی تعلیمات کو چھپاتے ہیں کیونکہ وہ خود ان سے محروم ہوتے ہیں اور اسی محرومی کی بنا پر اس راہ کو جھٹلاتے ہیں جس کے متعلق اللہ عزوجل قرآنِ حکیم میں فر ماتا ہے:
کیا تم قرآن کے بعض حصوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو۔ (سورۃالبقرہ ۔ 85)

علما اور فقرا میں کیا فرق ہے؟ علما صاحبِ ادب، صاحبِ شرع اور وارثِ انبیا ہیں اور فقرا تارک فارغ، صاحبِ ذکر فکر، صاحبِ معرفت، وارثِ فقر اور وارثِ خلقِ محمدی ؐ ہیں۔ وہ ہر وقت معیتِ حق تعالیٰ میں غرق رہتے ہیں۔ علما رات دن علمِ ظاہرکے مطالعہ، اُس کی تکرار اور قیل وقال میں مصروف رہتے ہیں اور فقرا اشتغالِ اللہ میں غرق ہو کر اللہ تعالیٰ کے دائمی وصال میں مسرور رہتے ہیں۔ علم وعالم کامرتبہ مبتدی (ابتدا) ہے۔ اس مرتبے کا حامل صاحبِ مذکو رہے۔ فقیر منتہی (اعلیٰ) مرتبے کا مالک ہوتا ہے وہ صاحب مع اللہ حضور ہوتا ہے۔  (شمس الفقرا) 

فقیر کا انداز تربیت 

 فقیر جسے تصوف میں مرشد کا مل کے نام سے جانا جاتا ہے اور ان کی زیر تربیت افراد کو طالب یا مرید کہا جاتا ہے۔ مرشد کا مل اکمل طالبِ مولیٰ (مرید) کی تربیت بالکل اسی طر یقے سے کرتا ہے جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرامؓ کی تربیت فرمائی تھی۔ قرآنِ کریم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اندازِ تربیت کو یوں بیان کیا گیا ہے:
 (میرا محبوبؐ) ان کو آیات پڑھ کر سناتا ہے اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے اور اُن کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ (سورۃالجمعہ۔2)

سورۃ الجمعہ کی مذکورہ بالا آیت میں حق تعالیٰ نے منصبِ نبوت میں ان امور کو شامل فرمایا ہے:
 1۔ آیات پڑھ کر سنانا یعنی دعوت دینا اور اللہ کے احکام پہنچانا
 2۔ تزکیۂ نفس کرنا
3۔احکامِ الٰہی کی تعلیم دینا
4۔حکمت (علم لدنیّ) عطا کرنا۔

Andaz-e-Tarbiyat-آج کل علمائے کرام بھی لوگوں کے سامنے آیات پڑھتے ہیں، لوگوں کو دین کی دعوت دیتے ہیں، مطالبِ قرآن بھی سمجھاتے ہیں اور احکامِ قرآن کی تلقین بھی کرتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہدایت سے تو لوگ جوق در جوق اسلام قبول کرتے تھے لیکن علمائے کرام کے سامنے کوئی آدمی بھی اسلام قبول نہیں کرتا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اندر زبردست روحانی قوت موجود تھی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محض زیارت، گفتگو اور صحبت سے صحابہ کرامؓ کے مراتب بلند ہو جاتے تھے۔ حضرت سلمان فارسیؓ اسلام لانے سے قبل یہودی، عیسائی اور آتش پرست اربابِ روحانیت سے ملاقات کرچکے تھے لیکن کسی سے متاثر نہیں ہوئے تھے لیکن جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو چہرہ مبارک دیکھتے ہی کلمہ پڑھ لیا۔ اسی طرح جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت عمرؓ سے فرمایا ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘ تو یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے عرض کیاکہ حضورؐ میں اپنے اندر یہ کیفیت محسوس نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’کیا تم محسوس نہیں کرتے؟‘‘ اس خطاب سے حضرت عمر ؓ کے مراتب بلند ہوگئے اور فوراًعرض کی’ اب محسوس کرتا ہوں‘۔ ‘‘

ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت معاذبن جبلؓ (یا کسی اور صحابی) کو یمن کا عامل مقرر کرکے بھیج رہے تھے انہوں نے عرض کیا ’’حضورؐ! میرے اندر عامل بننے کی صلاحیت نہیں ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے کندھے کو چھوا تو فوراً چلا اُٹھے ’’حضورؐ! اب وہ صلاحیت اپنے اندر محسوس کرتا ہوں۔‘‘ یہ ہے باطنی توجہ سے تزکیۂ نفس کرنا اور روحانی مراتب بلند کرنا۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد آپ کے خلفا بھی باطنی توجہ سے تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب اسی طرح کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں علما کی دھواں دھار تقریریں ناکام رہتی ہیں وہاں اولیا کرام کی ادنیٰ سی باطنی توجہ سے مریدین کا تزکیۂ نفس ہو جاتا ہے جس سے اُن کی روحوں میں قوتِ پرواز آجاتی ہے اور وہ مختلف منازل و مقامات طے کرتے ہوئے قربِ حق میں پہنچ جاتے ہیں۔ اقبالؒ بھی ایمانِ کامل کے لیے مسلمانوں کا علاج کسی کامل کی نظر بتاتے ہیں :

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

فقیر ہمیشہ اپنی روحانی قوتوں کے باعث طالب کی سوچ کو اپنے قبضہ قدرت میں لے لیتا ہے اور سوچ کو اللہ کی جانب گامزن کردیتا ہے، طالب پر مشاہدات کی راہ کھول دیتا ہے جس سے طالب علمِ باطن کا واقف ہو جاتا ہے۔
علمِ باطن معرفتِ توحید اور نورِذات کے مشاہدات کا علم ہے۔
 اللہ کی ذات میں غرق ہو کر نور حضور کا مشاہدہ کرنے والے اہلِ معرفت اور صاحبِ کرم اولیا اللہ فقیر وہ ہیں جو اسمِ اللہ ذات کی مشق کرتے ہیں اور ہمیشہ صحبتِ محمدیؐ میں رہتے ہیں۔ (شمس العارفین)

Andaz-e-Tarbiyat-مرشد کامل ہمیشہ طالب کو ظاہری ورد و وظائف اورمطالعہ کے بجائے اسمِ اللہ ذات کے تصور میں غرق ہونے کی تربیت و تعلیم عطا کرتا ہے جس کی بدولت طالب اللہ کی معرفت اور مجلسِ محمدی ؐسے مستفید ہوتا ہے جو کہ ظاہری عبادات کرنے والے علما کو ہرگز حاصل نہیں۔

علما کہتے ہیں کہ ہم موجِ سمندر ہیں، ہم خداہیں نہ خداسے جدا ہیں اور فقرا کہتے ہیں کہ ہم سمندر ہیں، ہم خدا نہیں مگر دائم بخدا ہیں، ہم خداسے جدا نہیں۔ پس علما اور فقرا دونوں برحق ہیں کہ فقیر کی ابتدا علما اور انتہا اولیا ہے۔ (عقلِ بیدار)

عالم اللہ کی جانب جانے والی راہ سے واقف ہوتا ہے جبکہ فقیر اللہ سے واقف ہوتا ہے۔ پس جس شخص نے جس کی صحبت اختیار کی اُس نے اسی کے عین حاصل کیا۔ فقیر کے اندازِ تربیت کا خاصہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ کے فرمان سے واضح ہے ’’فقیر سنت کو زندہ کرتا ہے اور بدعت کو ختم کرتا ہے۔ وہ قلب کو زندہ کرتاہے اور نفس کومارتا ہے۔‘‘ (نورالہدیٰ خورد)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
تحقیق وہ فلاح پا گیا جس (کے نفس) کا تزکیہ ہو گیا۔ (سورۃ اعلیٰ۔14)
وہ فلاح پاگیا جس نے (اپنے نفس کا) تزکیہ کر لیا۔ (سورۃ الشمس۔ 9)

Andaz-e-Tarbiyat-اکثرعلما بھی تزکیۂ نفس پر لمبی لمبی تقاریر کرتے ہیں جس سے لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ شاید علما کو بھی یہ باطنی قدرت حاصل ہے تو یاد رہے عالم کو صرف مطالعہ کے ذریعے علم ِ تزکیہ حاصل ہوتا ہے لیکن حالتِ تزکیہ نہیں۔ سوال یہ کہ حالتِ تزکیہ کے حامل فقیر کون ہیں؟ تو اسکی وضاحت کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا فرمان مبارک درج کرتے ہیں:
 صحابہ کرامؓ نے’ تزکیہ نفس‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہ، صحبت اور محفل پاک سے حاصل کیا اور فرمایا گیا کہ میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۔ اس طرح نورِ معرفتِ حق کا یہ خزانہ صحابہ کرامؓ کے بعد تابعین کو پھر تبع تابعین کو صحبت سے منتقل ہوا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رسالت تاقیامت قائم رہنے والی ہے۔ اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فقرا اور عارفین کو اپنا جانشین بنایا ہے اور انہیں لوگوں کا تزکیہ نفس کرنے کا علمِ نور عطا فرمایا ہے۔  (تزکیہ نفس کا نبویؐ طریق)

جب انسان کے نفس کا تزکیہ ہو جاتاہے تو تمام عبادتیں ظاہری صورت کے بجائے باطنی اور قلبی ادائیگی کی صورت اختیار کرجاتی ہیں اور ہر عبادت خالص اللہ کے لیے ہو جاتی ہے۔ طالب ایسی صورت حال میں زبان سے اقرار اور پھر دل سے تصدیق کرکے مسلمان سے مومن کے درجہ پر منتقل ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ بھی ہے:
 ’’اقرار زبان سے کرو اور تصدیق دل سے کرو۔‘‘

Andaz-e-Tarbiyat-جو قلب سے تصدیق کرتے ہیں یہ طالب خاص الخواص ہو تے ہیں اور ان کی تربیت فقرا فرماتے ہیں۔ ابتدا میں جیساکہ مبتدی کا عالم کی صحبت میں کلمہ کے زبانی اقرار سے مسلمان ہونے کی حیثیت کا حاصل ہونا بیان کیا گیا ہے اسی طرح یہ بات واضح رہے کہ فقیر، طالب کو اللہ کے اس فرمان پر اپنے فضل سے نواز تاہے جس میں طالب کو تقویٰ کا کلمہ نصیب ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور ان پر تقویٰ کا کلمہ لازم کیا۔‘‘(سورۃالفتح)

سرّالاسرارمیں سیدّناغوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
بشر طیکہ یہ کلمہ کسی ایسے قلب سے اخذ کیا جائے جو صاحبِ تقویٰ کا ہو جس میں ذاتِ الٰہی کے سوا کچھ موجود نہ ہو۔ اس سے مراد وہ کلمہ نہیں جو عوام کی زبانوں پر ہے۔ بیشک (کلمہ کے) الفاظ ایک ہی ہیں لیکن (باطنی) معانی میں فرق پایا جاتا ہے۔ جب توحید کا یہ بیج زندہ دل (مرشد کامل) سے اخذ کیا جائے تو وہ قلب کو زندہ کرتاہے۔ (سرّالاسرار)

 حاصل تحریر: 

عالم اور فقیر (مرشد کامل ) دونوں بر حق ہیں مگر معرفتِ الٰہی، مشاہدۂ حق تعالیٰ بغیر کامل اکمل مرشد کی تربیت کے حاصل نہیں ہوتا۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو امام غزالیٰؒ درس و تدرس کا سلسلہ چھوڑ کر حضرت فضل بن محمد فارمدیؒ کی صحبت اور غلامی میں نہ آتے تو آج ان کا شہرہ نہ ہوتا، مولانا رومؒ اگر شاہ شمس تبریزؒ کی غلامی اختیار نہ کرتے تو انہیں ہرگز یہ مقام نہ ملتا، علامہ اقبالؒ کو اگر مولانا روم ؒ سے روحانی فیض نہ ملتا تو وہ گل و بلبل کی شاعری میں ہی اُلجھ کر رہ جاتے۔ ایسی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ انہی مثالوں کی بدولت اور حقائق کی بنا پر لوگ علمائے ظاہر کو چھوڑ کر فقرا کی جانب دوڑتے دکھائی دینے لگے ہیں۔ راہِ حق کی جانب گامزن لوگوں کی آسانی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں درج کیے دیتے ہیں کہ صاحبِ کمال فقیرِ کامل جو حالتِ تزکیہ کا حامل ہوتا ہے وہ زمانہ کے اعتبار سے صرف ایک ہی موجود ہوتا ہے جس کا سلسلہ، سروری قادری ہوتا ہے۔ مراد یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا حقیقی وارث یعنی آپؐ کے وارثین کا حقیقی وارث زمانہ کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ آپ سے باطنی نسبت کو واضح کرتے ہوئے حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں ’’مجھے اور محمدعربیؐ کو ظاہری علم حاصل نہیں تھا لیکن وارداتِ غیبی کے سبب علمِ باطن کی فتوحات اس قدر تھیں کہ انہیں تحریر کرنے کے لیے دفاتر درکار ہیں۔‘‘ (عین الفقر)

Andaz-e-Tarbiyat-آپؒ مزید فرماتے ہیں’’ مجھے مصطفیؐ نے دستِ بیعت فرمایا، حضرت مجتبیٰؐ نے مجھے اپنا فرزند بنایا ہے۔ فقیرباھوؒ کو مصطفیؐ سے یہ اجازت ملی ہے کہ خلقتِ خداکو محض اللہ کی خاطر تلقین کروں۔ ‘‘ (ر سالہ روحی شریف)

 سلسلہ سروری قادری رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عنایتِ خاص کی بدولت حضرت علیٰ المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ اور آپؓ سے منتقل ہوتا ہوا سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ سے سلسلہ سروی قادری کے موجودہ امام اور اکتیسویں شیخِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس تک پہنچااور آپ مدظلہ لاقدس کی نگاہِ فیض کی بدولت ہزاروں طالبانِ مولیٰ کو معرفتِ الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ کی دائمی حضوری نصیب ہوئی۔ اختتام پر دعاگو ہوں کہ اللہ پاک ہمارے مرشد کریم کا سایہ ہم پر تا قیامت قائم رکھے۔ ( آمین )

استفادہ کتب:
۱۔ نورالہدیٰ خورد   سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
۲۔نورالہدی کلاں ایضاً
۳۔عقل بیدار ایضاً
۴۔محک الفقرکلاں ایضاً
۵۔شمس الفقرا   تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۶۔تزکیۂ نفس کا نبویؐ طریق   ایضاً
۷۔ حقائق عن التصوف، ترجمہ تصوف کے روشن حقائق 

’’عالم اور فقیر کا اندازِ تربیت‘‘  بلاگ انگلش میں پڑھنے کے لیے اس ⇐لنک⇒   پر کلک کریں

 
Click to rate this post!
[Total: 0 Average: 0]

46 تبصرے “عالم اور فقیر کا اندازِتربیت Alim Aur Faqeer ka Andaz-e-Tarbiyat

    1. سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
      ’علمائے دین‘ دین کے چراغ کی مثل ہیں جبکہ’ فقرا‘ آفتاب کی مثل اور چراغ کو کیا قدرت کہ آفتاب کے سامنے روشنی بکھیرے۔ (نورالہدیٰ خورد)

  1. جتھے رتی عشق وکاوے، اوتھے مناں ایمان دویوے ھوُ
    کتب کتاباں ورد وظیفے، اوتر چا کچیوے ھوُ
    باجھوں مرشد کچھ نہ حاصل، توڑے راتیں جاگ پڑھیوے ھوُ
    مرئیے مرن تھیں اگے باھو،ؒ تاں ربّ حاصل تھیوے ھوُ

  2. عشقِ الٰہی میں وہ لطف و سرور ہے کہ اگر کسی جید عالم کو اس کا زرا سا مزہ مل جائے تو وہ علمیت بھول کر عشقِ الٰہی میں گم ہو جائے۔

  3. سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
    ’علمائے دین‘ دین کے چراغ کی مثل ہیں جبکہ’ فقرا‘ آفتاب کی مثل اور چراغ کو کیا قدرت کہ آفتاب کے سامنے روشنی بکھیرے۔ (نورالہدیٰ خورد)

  4. سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
    ’علمائے دین‘ دین کے چراغ کی مثل ہیں جبکہ’ فقرا‘ آفتاب کی مثل اور چراغ کو کیا قدرت کہ آفتاب کے سامنے روشنی بکھیرے۔ (نورالہدیٰ خورد)

  5.  سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو فرماتے ہیں:
    مدرسہ میں زہد کرنے والے سے اسرارِ معرفت طلب نہ کر کیونکہ کیڑا اگر کتاب کھا لے تو نکتہ دان نہیں بن سکتا۔ (نورالہدیٰ خورد)

  6. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا فرمان ہے:
    کلمہ طیب پڑھنے کے تین درجے ہیں ؛مبتدی کا زبان سے کلمہ پرھنا،متوسط کا تصدیق دل سے کلمہ طیب کا اقرار اور منتہی کا فنافی اللہ بقاباللہ ہوجانا۔ (شمس الفقر ا)

  7. حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’عالم علم اور ادب سے نصیحت کرتا ہے جبکہ جاہل مارپیٹ اور غصے سے نصیحت کرتا ہے۔‘‘

  8. اللہ پاک سے دعا ہے کہ فقرا کاملین کی صحبت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی بے ادبی اور گستاخی سے محفوظ رکھے

  9. سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
    ’علمائے دین‘ دین کے چراغ کی مثل ہیں جبکہ’ فقرا‘ آفتاب کی مثل اور چراغ کو کیا قدرت کہ آفتاب کے سامنے روشنی بکھیرے۔ (نورالہدیٰ خورد)

  10. سلسلہ سروری قادری رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عنایتِ خاص کی بدولت حضرت علیٰ المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ اور آپؓ سے منتقل ہوتا ہوا سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ سے سلسلہ سروی قادری کے موجودہ امام اور اکتیسویں شیخِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس تک پہنچااور آپ مدظلہ لاقدس کی نگاہِ فیض کی بدولت ہزاروں طالبانِ مولیٰ کو معرفتِ الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ کی دائمی حضوری نصیب ہوئی۔ اختتام پر دعاگو ہوں کہ اللہ پاک ہمارے مرشد کریم کا سایہ ہم پر تا قیامت قائم رکھے۔ ( آمین )

  11. عالم اور فقیر (مرشد کامل ) دونوں بر حق ہیں مگر معرفتِ الٰہی، مشاہدۂ حق تعالیٰ بغیر کامل اکمل مرشد کی تربیت کے حاصل نہیں ہوتا

  12. علما ظاہری گفتگو سے علم بیان کرتے ہیں جبکہ فقرا قوتِ باطنی سے تزکیہ نفس کرتے ہیں

    1. فقرا کی صحبت کے نتیجے میں طالب کو ہمیشہ معرفتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے۔

  13. Andaz-e-Tarbiyat-ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    اپنے ربّ کے راستے کی طرف حکمت اور مواعظِ حسنہ سے دعوت دواور ان سے احسن طریقے سے بحث کرو۔ (سورۃ النحل۔ 125)

اپنا تبصرہ بھیجیں