اورا (Aura) اور انسانی سوچ | Aura or Insani Soch

اورا (Aura) اور انسانی سوچ

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری۔ لاہور

انسانی وجود دو چیزوں کا مرکب ہے روح اور جسم۔ طویل عرصہ سائنس صرف انہی چیزوں کا اقرار کرتی رہی جن کی تحقیق ظاہری لحاظ سے ممکن تھی۔ ان کے مطابق صرف وہی چیزیں موجود ہیں جن کا مشاہدہ آنکھ کے ذریعہ ممکن ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی ترقی کرتی گئی اور سائنس اس نقطے پر پہنچی کہ انسان مادی وجود رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک روحانی اور باطنی وجود بھی رکھتا ہے جس کا اثر اس کے ظاہری وجود پر بھی ہوتا ہے۔ سائنس آج یہ دریافت کر چکی ہے کہ نہ صرف انسان بلکہ تمام اشیا میں سے ایک خاص قسم کی روشنی نکلتی ہے جسے اورا (Aura) کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں نے اورا کے لیے مختلف ناموں کو استعمال کیا ہے مثلاً جسمِ مثالی، جسمِ نورانی، روح ہوائی وغیرہ۔ ہندی زبان میں اس کے لیے پرانا ’’prana‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ دیگر زبانوں یا مذاہب میں اس کے لیے جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں: mana , animal magnetism etheric, force وغیرہ۔ ریچن بیخ کے نزدیک تمام انسانوں بالخصوص حساس لوگوں میں ایک خاص ’’یونیورسل انرجی‘‘ پائی جاتی ہے جسے ”  ـ”Odـ یا  “Odid force” کا نام دیا گیا۔ اس کے نزدیک یہ خاص فورس میگنٹس، کرسٹل اور انسانوں میں پیدا ہوتی ہے۔ 

اورا کی ابتدائی تحقیق میں ’’سر آئزک نیوٹن ‘‘ کا نام سرِفہرست آتا ہے۔ 1966ء میں فلسفی کے طور پر انہوں نے یہ نظریہ پیش کیاکہ ہر انسان کے گرد ایک ’’فورس فیلڈ‘‘ یا قوت کی لہریں موجود ہوتی ہیں۔ نیوٹن کے یہ نظریات اورا کی تحقیق میں معاون ثابت ہوئے۔ اس کے بعد ایک اہم نام ـ”Baron Karl von Reichenbach” کا ہے۔ بیرون کارل کے نظریات کو جب عام سطح پر قبول نہ کیا گیا تو اس نے اپنے نظریات کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے “Series of Letters on Od and Magnetism” کو شائع کیا۔ 

بالآخر1930 ء کی دہائی میں روس میں کرلین Karlain  نامی الیکڑیشن نے اتفاقی طور پر ایک ایسا کیمرہ ایجاد کر لیا جس سے انسان کے باطنی وجود ’’AURA‘‘ کی تصویر کشی کی گئی۔ اسے پہلی دفعہ اس کا مشاہدہ تب ہوا جب ایک مریض کو ’’شاک ٹریٹمنٹ‘‘یعنی بجلی کے جھٹکے دئیے جا رہے تھے۔ مریض کی جلد اور الیکٹروڈ کے درمیان اسے روشنی کی ایک لہر دکھائی دی۔ 

اورا کیا ہے؟ اورا مختلف رنگوں پر مشتمل لہروں کا ہالہ، ایک ہیولے کی طرح ایک لطیف جسم ہے جو انسان کے مادی جسم سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ ذہنی و جسمانی کیفیات کے مطابق مختلف رنگ و ارتعاش منعکس کرتا ہے۔ یہ لطیف جسم  AURA  انسانی جسم سے چند انچ اوپر مادی جسم سے متصل ہوتا ہے۔ جس طرح ہر انسان ایک علیحدہ وجود رکھتا ہے اسی طرح ہر انسان کے اندر سے مختلف لہریں نکلتی ہیں جو اس کے نظریات و کیفیات کی عکاسی کرتی ہیں۔ منفی سوچ رکھنے والوں میں سے منفی لہریں منعکس ہوتی ہیں اور مثبت سوچ رکھنے والوں میں مثبت۔ اس لیے کہا جاتا ہے انسانی سوچ کا انسانی شخصیت پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ انسان کی سوچ جیسی ہو گی اس کی شخصیت بھی اسی کے مطابق ڈھلتی جائے گی۔ انسانی سوچ کے علاوہ ہمارے ادا کیے گئے الفاظ بھی منفی و مثبت اثرات رکھتے ہیں۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والی شاعرہ امیلی ڈکنسن کا کہنا ہے ’’اس جہان میں کچھ ایسا نہیں جو لفظوں سے زیادہ طاقتور ہو۔ بعض اوقات میں ایک لفظ لکھتی ہوں اور اسے تکتی رہتی ہوں یہاں تک کہ وہ چمکنے لگتا ہے۔ لفظوں کی طاقت اور ان کا اثر ایک حقیقت ہے، لفظوں میں زندگی ہوتی ہے، ان کا ایک مزاج ہوتا ہے اور یہ جس کے کانوں سے ٹکرائیں، نظروں سے گزریں اپنا اثر چھوڑے بنا نہیں رہتے۔‘‘

الفاظ کے مثبت اور منفی اثرات کے لیے پانی پر بھی تحقیق کی گئی۔ پانی کے دو نمونے لیے گئے۔ ایک پر thank you, love, faimly لکھا گیا اور دوسرے پر You made me sick کا جملہ لکھا گیا۔ کچھ دیر بعد دونوں کو جما دیا گیا۔ جب یہ پانی مکمل جم گیا تو جدید خوردبین کے ذریعے اس برف کے ذرّات کی تصویر لی گئی اور نتیجہ یہ دیکھا گیا جس پانی پر مثبت جملے لکھے گئے تھے اس کے کرسٹلز نہایت خوبصورت، متوازن اور دلکش تھے جبکہ جس پانی پر منفی جملے لکھے گئے تھے اس کے کرسٹلز نہایت گندے اور بد صورت تھے۔ پانی کی اس شاندار قوت کے متعلق نظریات کا اظہار جاپان کے مصنف ماسارو ایموتو نے1999 ء میں شائع ہونے والی کتاب ’’ دی میسج فرام واٹر‘‘ میں بھی کیا ہے۔ 

سادہ اور آسان الفاظ میں بات کی جائے تو یہ قدرت کا عمل ہے۔ انسان جیسا سوچتا ہے اس کا اظہار اپنے عمل اور الفاظ سے کرتا ہے۔ اور اسی کے مطابق اس کا ’’اورا‘‘ تشکیل پاتا ہے۔
انسانی سوچ اور عمل کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دین ِ اسلام میں بھی نیت یعنی سوچ کو فوقیت دی گئی۔ جتنا نیت میں اخلاص ہو گا اتنا ہی وہ عمل اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہو گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔‘‘
سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخ ِکامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
انسان کی سوچ ہی اصل ہے۔ سوچ کو مثبت بنا لینا فقر میں کمال ہے۔ (سلطان العاشقین)
یعنی اپنی سوچ کو مثبت رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔
انسان کا باطن یا Aura کس طرح مضبوط ہو سکتا ہے؟

حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں :
روح کے جسم پر حاوی آنے کا نام دین ہے، جب بندے کی ہر سوچ اور ہر عمل اللہ سے جڑ جائے تو یہ روح کے جسم پر حاوی آنے کی علامت ہے۔ (سلطان العاشقین)
 جب طالب کی ہر فکر، تفکر، سوچ، مراقبہ اور تصور مرشدِ کامل سے جڑ جاتا ہے تو مرشد کامل اپنی نگاہِ کامل سے زنگ آلود باطن کو دینِ حق کی روشنی سے منور فرما دیتا ہے۔ اس کی سوچ کا ہر رخ اور زاویہ دنیا کی جانب نہیں بلکہ اللہ کی جانب مبذول کر دیتا ہے۔ 

باطن (اورا) کو مثبت بنانے کے لیے صحبت کا بہت بڑا اور اہم کردار ہے کیونکہ ہم جن کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، جن کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں ان کی سوچ کا ہماری شخصیت پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ انسان کا ’’اورا‘‘ سات لہروں یا تہوں پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ انسان جتنا پرامید، مطمئن اور مثبت ہو گا اتنا ہی اس کے اورا کا پھیلاؤ زیادہ ہو گا۔ اس کا مطلب ہے ایک شخص کا ’’اورا‘‘ اپنے ارد گرد موجود بندے پر اثر چھوڑ سکتا ہے۔ مثبت کردار یا مثبت سوچ رکھنے والے شخص کا ’’اورا‘‘ دوسرے شخص کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے بالکل اسی طرح جیسے ایک بڑا میگنٹ چھوٹے میگنٹ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس لیے اس چیز میں احتیاط برتنی چاہیے کہ انسا ن کس کے ساتھ اٹھ بیٹھ رہا ہے کیونکہ شعوری یا لاشعوری طور پر صحبت کا اثر لہروں rays, vibration, aura)) کی صورت  پر ہماری شخصیت پر ہوتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے :

صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالح ترا طالح کند

ترجمہ: نیک لوگوں کی صحبت تجھے نیک بنا دے گی اور بدکار کی صحبت تجھے بدکار بنا دے گی۔
سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین عبد القادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
مرشدانِ کامل کی مجلس کو اختیار کر کیونکہ ان کی مجلس اختیار کرنے سے ایمان کی حلاوت اور مٹھاس حاصل ہوتی ہے اور ان کی نورانی صحبت اور مجلس میں انسانوں کے قلوب کے اندر اللہ تعالیٰ کی خالص محبت کے چشمے جاری کیے جاتے ہیں جس کی قدر و قیمت صرف وہی جانتے ہیں جن کو ذکرِ اللہ (ذکرِ اسمِ اللہ ذات) کی توفیق حاصل ہو چکی ہو۔ (غنیۃ الطالبین )
ہمیں زندگی میں بھی اس بات کا مشاہدہ بارہا ہو چکا ہوگا کہ اکثر کچھ لوگوں کے ساتھ ہمارا تعلق روحانی طور پر جڑ جاتا ہے یا کچھ لوگوں کی شخصیت کا اثر ہماری شخصیت پر گہرے نقوش چھوڑ جاتا ہے یا کبھی کسی کی موجودگی ہمارے لیے انتہائی فرحت بخش اور خوشگوار ہوتی ہے۔ ان کی موجودگی سکون کا باعث ہوتی ہے چاہے ہماری ان سے وابستگی ہو یا نہیں۔ تاہم کچھ لوگوں کی موجودگی ایسی ہوتی ہے جن سے دل کھنچتا ہے۔ ان کی محفل میں موجود ہونا فرحت اور ذہنی سکون کا باعث نہیں ہوتا۔ یہ سب اس لیے کہ ان کی سوچ اور ہماری سوچ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ جن کی سوچ آپس میں ملتی ہے تو دونوں کے اورا بھی ایک دوسرے کے لیے کشش رکھتے ہیں۔ انگریزی میں کہاوت مشہور ہے:
Birds of  a feather flock together

ہم جنس با ہم جنس کند پرواز

اس مضمون کو تحریر کرنے کے دو مقاصد ہیں: اوّل اپنی سوچ میں محتاط رہنا ہے۔ اپنی سوچ کو منفی رکھنے کے بجائے مثبت رکھنے کی کوشش کرنا کیونکہ اسی سے ہماری ظاہری و باطنی شخصیت (اورا) کی بہترین نشوونما ہو سکتی ہے۔
دوم ہمیں لگتا ہے ہم جو سوچ رہے ہیں وہ کوئی نہیں دیکھ سکتا، یہ سوچ غلط ہے۔ ہم جو سوچ رہے ہوتے ہیں وہ لہروں کی صورت میں ہر وقت ہمارے ساتھ ہے۔ اس کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ اس کی تصویر کشی بھی ممکن ہے۔ ہمارا باطن (اورا) ایک کمپوٹرکی طرح ہر چیز کو اپنے اندرلکھ لیتا ہے اورا سی کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔ نہ صرف اس دنیا میں ہماری ہر سوچ لکھی جا رہی ہے بلکہ اللہ ہماری ہر سوچ و نیت کو دیکھ رہا ہے اور بروزِ قیامت اسی کے مطابق ہر فیصلہ سنایا جائے گا۔ ہماری کوئی بھی نیت اللہ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اس دنیا میں بھی اس کا ثبوت ہر وقت ہمارے ساتھ اورا کی شکل میں موجود ہے اور روزِ قیامت ہر نیت اور ہر عمل سے پردہ اٹھا دیا جائے گا۔ حق و باطل میں فرق کر دیا جائے گا۔ہر عمل کی حقیقت سامنے آجائے گی۔ کوئی اپنا گریبان چھڑا کر فرار حاصل نہیں کر سکے گا۔  

موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کی اسمِ اللہ ذات اور اپنی نگاہِ کامل سے ظاہری و باطنی تربیت فرماتے ہیں۔ مرشد کامل تو ہوتا ہی وہ ہے جو طالب کو ’’تربیتِ نفس‘‘ کے مرحلہ سے گزار کر حقیقی کامیابی سے متعارف کروا دے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس  فرماتے ہیں:
دنیا کا سب سے مشکل کام انسان کو انسان بنانا ہے۔
انسان کو انسان بنانے سے مراد اس کی سوچ اور اس کا ہر عمل اللہ کے لیے خاص بنا دینا ہے۔ دنیا میں رہتے ہوئے اللہ کی یاد میں ہمہ وقت مشغول رہنا ہے۔ تصورِ اسمِ اللہ ذات کی برکت سے معرفت اور دیدارِ الٰہی کی لازوال نعمت حاصل کرنا ہے۔ یہی حقیقی کامیابی، پاکیزہ نفس اورمثبت سوچ کہلاتی ہے 

استفادہ کتب :
سلطان العاشقین  ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
اورا ریڈنگ فور بگینرز (AURA READING FOR BEGINNERS
BY RICHARD WEBSTER)

 

39 تبصرے “اورا (Aura) اور انسانی سوچ | Aura or Insani Soch

  1. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
    دنیا کا سب سے مشکل کام انسان کو انسان بنانا ہے۔

    1. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
      انسان کی سوچ ہی اصل ہے۔ سوچ کو مثبت بنا لینا فقر میں کمال ہے۔ (سلطان العاشقین)

      بہترین مضمون!

  2. صحبت صالح ترا صالح کند
    صحبت طالح ترا طالح کند
    ترجمہ: نیک لوگوں کی صحبت تجھے نیک بنا دے گی اور بدکار کی صحبت تجھے بدکار بنا دے گی

  3. موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کی اسمِ اللہ ذات اور اپنی نگاہِ کامل سے ظاہری و باطنی تربیت فرماتے ہیں۔

    1. نیک لوگوں کی صحبت تجھے نیک بنا دے گی اور بدکار کی صحبت تجھے بدکار بنا دے گی۔

  4. تصورِ اسمِ اللہ ذات کی برکت سے معرفت اور دیدارِ الٰہی کی لازوال نعمت حاصل کرنا ہے۔ یہی حقیقی کامیابی، پاکیزہ نفس اورمثبت سوچ کہلاتی ہے

  5. انسانی سوچ اور عمل کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دین ِ اسلام میں بھی نیت یعنی سوچ کو فوقیت دی گئی۔ جتنا نیت میں اخلاص ہو گا اتنا ہی وہ عمل اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہو گا۔

    1. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
      دنیا کا سب سے مشکل کام انسان کو انسان بنانا ہے۔

  6. رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔‘‘

  7. ہماری سوچ کس قدر ہمارے اردگرد رہنے والوں پر اثر انداز ہوتی ہے اس مضمون کے مطالعہ سے معلوم ہو… بہت شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں