اطاعت ِ مرشد اطاعت ِ الٰہی | Attayat e Murshid Attayat e illahi

اطاعتِ مرشد اطاعتِ الٰہی

تحریر: احسن علی سروری قادری

اطاعت سے مراد ہے پیروی یا فرمانبرداری۔ انسان اپنے والدین کا فرمانبردار ہوتا ہے، اپنے اساتذہ کا فرمانبردار ہوتا ہے یا ہر اُس رشتے کو نبھاتا ہے جس سے اُسے محبت ہو یا قلبی تعلق ہو۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کی بات نہیں ٹالتا، اُن کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا ہے اور ہر دکھ سکھ میں اُن کا ساتھ دیتا ہے تو اسی طرح انسانی فطرت بھی یہی ہے کہ وہ جس سے پیار کرتا ہے اُس کو دکھ نہیں دینا چاہتا۔ اُس کی ہر خواہش کی دل و جان سے تکمیل چاہتا ہے، یہی فرمانبرداری اطاعت کے زمرے میں آتی ہے۔ لہٰذا اطاعتِ الٰہی سے مراد ہے اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا، اس کے احکامات کی تعمیل میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ گزارنا اور اُس کے رنگ میں خود کو اس قدر رنگ لینا کہ اپنی ہستی اور اپنی مرضی فنا ہو جائے۔

سوال یہ ہے کہ اطاعتِ الٰہی کیوں ضروری ہے؟ اطاعتِ الٰہی اس لیے ضروری ہے کہ یہی وہ واحد ذریعہ ہے جو انسان کو اس کی ظاہری و باطنی اور دنیوی و اخروی فلاح کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔ انسان کے سامنے ہر معاملے میں دو راستے ہوتے ہیں، ایک جو اسے خیر کی طرف لے کر جاتا ہے اور دوسرا شر کی طرف۔ بلاشبہ خیر کی طرف جانے والا راستہ اطاعتِ الٰہی سے ہی ملتا ہے جبکہ جو انسان اطاعتِ الٰہی نہیں کرتا وہ لامحالہ اطاعتِ شیطان کرتا ہے یا اطاعتِ نفس۔ یہ دونوں سراسر شر ہیں اور انسان کو خیر سے دور کر کے شر کی طرف لے جاتے ہیں۔ چنانچہ نہ صرف عقل و شعور کا تقاضا ہے کہ ہر معاملے میں اطاعتِ الٰہی کو اطاعتِ نفس و شیطان پر ترجیح دی جائے بلکہ عشق و محبتِ الٰہی کا بھی یہی تقاضا ہے۔ عشقِ حقیقی تو ہے ہی یہ کہ اپنی ہر خواہش اور خوشی کو اللہ کی رضا پر قربان کر دیا جائے۔ اس کی اطاعت کرتے وقت یہ نہ سوچا جائے کہ انسان کی اپنی مرضی اور خوشی کیا ہے اور کس چیز میں ہے۔ عقل و شعور اور عشق کے علاوہ بندے پر اللہ کے بے شمار احسانات کا بھی تقاضا ہے کہ اس کے ہر حکم پر بلاچوں و چرا سر جھکا دیا جائے۔ مزید برآں اللہ پر بندے کا توکل اور بھروسا بھی تب ہی ثابت ہوتا ہے جب وہ حکمِ الٰہی پر عمل کرتے ہوئے یہ نہ سوچے کہ اللہ نے یہ حکم کیوں دیا بلکہ اس یقین کے ساتھ عمل کرے کہ اللہ کا ہر حکم یقینا اپنے بندوں کی بھلائی اور فلاح کی خاطر ہے خواہ اس حکم کے پیچھے چھپی اصل حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ یعنی بندگی کے پیچھے جو جذبہ کارفرما ہوتا ہے وہ محبت، شکرگزاری اور بھروسے کا ہے جیسے کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ترجمہ: ’’جو لوگ ایمان لائے ان کی اللہ سے محبت شدید ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ۔165) یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ پر ایمان لاتے ہوئے زبانی کلمہ پڑھ لینا ہی کافی نہیں بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے اپنی محبت اور توکل میں شدت پیدا کرنا اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اس کے حوالے کرتے ہوئے اسے عشقِ حقیقی میں بدل لینا ہی کامل ایمان ہے کیونکہ جب تک ایمان کامل نہ ہوگا تب تک انسان بندگی کی طرف مائل نہ ہوگا اور نہ اطاعتِ الٰہی کی حقیقت کو سمجھ پائے گا۔ 

اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت ہی سب محبتوں کی اصل اور بنیاد ہے اور محبت کی آزمائش صرف دعویٰ کرنے سے نہیں ہوتی بلکہ اطاعت سے ہوتی ہے۔ محب محبت میں اپنے محبوب پر سب کچھ نچھاور کر دیتا ہے اور وہ یہ ایمان رکھتا ہے کہ اس کا اپنا تو کچھ ہے ہی نہیں بلکہ جو کچھ ہے وہ محبوب کا ہی ہے اس لیے اس کی اپنی کوئی خواہش اور مرضی باقی نہیں رہتی اور محب محبوب کی اطاعت میں ہی زندگی بسر کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ محبوبِ حقیقی ہونے کے ناطے یہ چاہتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے، اس کی معرفت حاصل کی جائے اور اُس کی رضا کو جاننے کے بعد اس کی تکمیل کی جائے۔ جن امور سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منع کیا ہے اُن سے باز رہا جائے اور جن امور پر عمل کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کی تعمیل کی جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے بتائے ہوئے احکامات کی تعمیل کرنا اطاعت ہے جبکہ جن امور سے اس نے منع کیا ہے اس سے رُک جانا کمالِ اطاعت ہے کیونکہ نیک کام کرنا نفس پر اتنا ناگوار نہیں گزرتا جتنا برائی سے رک جانا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے، ہماری ہر غلطی پر ہمیں بخشتا ہے، ناراض ہونے پر ہمیں عذاب میں مبتلا نہیں کرتا اور نہ ہی ہمارا رزق بند کرتا ہے، ہمیں سنبھلنے کے مواقع فراہم کرتا ہے تو کیا ہمیں نہیں چاہیے کہ ہم ہر رشتے سے زیادہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات کو محبوب رکھیں اور اس کی اطاعت میں زندگی بسر کریں۔ 

روئے زمین پر موجود ہر جاندار کی فطرت کا تقاضا محبت ہے۔ ہر جاندار محبت کا متلاشی اور چاہے جانے کا خواہشمند ہے۔ ہر جاندار کی فطرت میں محبت کا یہ تقاضا اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ ہے کیونکہ یہ کائنات اس کے چاہے جانے کی خواہش ہی کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس خواہش کی تکمیل کا فریضہ انسان کے ذمے ٹھہرا اسی لیے وہ اشرف المخلوقات کہلایا۔ اس لیے اللہ سے محبت اور اس میں شدت کا پیدا ہونا انسان کے لیے معرفتِ الٰہی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ 

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی رضا اپنی مخلوق تک پہنچانے کے لیے اپنے محبوب انبیا کو دنیا میں مبعوث فرمایا جو بذریعہ وحی اللہ تبارک و تعالیٰ سے رابطے میں ہوتے تھے اور انہی کے ذریعے امت کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے بارے میں معلوم ہوتا تھا جس کے نتیجے میں امتی اس رضاکی تکمیل کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس سلسلہ نبوت کے آخری نبی اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے محبوب ہیں جن سے محبت کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود سے محبت اور جن کی اطاعت کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی اطاعت قرار دیا۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔ (سورۃ النسا۔80)
(اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آپ فرما دیں اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو تب اللہ تم سے محبت کرے گا۔ (سورۃ آلِ عمران۔31)
یعنی اگر انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کی اتباع و اطاعت کرنا چاہتا ہے تو اس کا ذریعہ اور وسیلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات پاک کو قرار دیا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہر عمل کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا عمل قرار دیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظاہری طور پر پردہ فرما جانے کے بعد یہی اصول فقرا کاملین اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ورثا علمائے حق کے لیے قرار پایا جن کی اطاعت اللہ تبارک و تعالیٰ کی اتباع ٹھہری اور جن کی ناراضگی اللہ کی ناراضگی کا موجب بنی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی اور تم میں سے جو صاحبِ امر ہے۔ (سورۃ النسا۔59)

 صاحبِ امر وہ ہوتا ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی اتباع اور عشق میں اس حد تک گم ہو چکا ہو کہ اس کی بشری صفات اور ذات اللہ کی ذات میں فنا ہو چکی ہو اور اس کے وجود میں ذاتِ حق تعالیٰ کے سوا کچھ باقی نہ ہو۔ جس کا ہر عمل اللہ تبارک و تعالیٰ کا عمل ہو گویا اس کا دیکھنا اللہ کا دیکھنا، اس کا بولنا اللہ کا بولنا اور اس کا پکڑنا اللہ کا پکڑنا ہو، جس کی معرفت اللہ کی معرفت اور جس کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہو جیسے کہ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے: ’’مومن رحمن کا آئینہ ہے‘‘۔ 

جب طالبِ مولیٰ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات کو پانے اور اس کی اطاعت کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو لازماً اللہ اس کی رسائی اس صاحبِ امر (مرشد کامل اکمل) کی بارگاہ تک کر دیتا ہے جس کے وجود کو اس نے اپنا مظہر اور مسکن بنایا ہوتا ہے اور جو امام الوقت اور انسانِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے، جو نائبِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور خلیفۃ اللہ ہوتا ہے۔ پس جب طالبِ مولیٰ ادراکِ قلبی سے اس صاحبِ امر کی معرفت حاصل کرتے ہوئے اس کے وجود میں ذاتِ حق تعالیٰ تحقیق کر لیتا ہے تو اس کی اطاعت طالبِ حق پر واجب ہو جاتی ہے اور اس کی اطاعت ہی حقیقتاً اطاعتِ الٰہی بن جاتی ہے کیونکہ وہ صاحبِ امر تو اپنی ہستی کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہستی میں گم کر چکا ہوتا ہے اور بظاہر ایک انسان مگر حقیقتاً بندے اور اللہ کے درمیان ایک واسطہ، وسیلہ یا پُل ہوتا ہے۔ علامہ ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ہر زمانے میں ایک شخص قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر رہتا ہے جو اپنے زمانے کا عبداللہ ہوتا ہے اس کو قطب الاقطاب یا غوث کہتے ہیں۔ جو عبداللہ یا محمدی المشرب ہوتا ہے۔ وہ بالکل بے ارادہ تحتِ امر و قرب و فرائض میں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جو کچھ کرنا ہوتا ہے اسکے توسط سے کرتا ہے۔ (فصوص الحکم)
اسی صاحبِ امر کے ذریعے اللہ تبارک و تعالیٰ طالبِ حق کو اپنی کامل اتباع و اطاعت کی توفیق بخشتا ہے اور اسی کے ذریعے طالب کو اپنے احکامات، اپنی رضا اور چاہت سے مطلع فرماتا ہے۔ اسی کے وسیلے سے طالب کو اپنی حقیقی محبت اور عشق عطا کرتا ہے جو کہ ایمان کا خاصہ اور بنیاد ہے۔
سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:
ولیٔ کامل (مرشد کامل اکمل) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس ولایت کا حامل ہوتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوتِ باطن کا جزو ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے اس (مرشد کامل) کے پاس امانت ہوتی ہے۔ اس سے مراد وہ علما ہرگز نہیں جنہوں نے محض علمِ ظاہر حاصل کر رکھا ہے کیونکہ اگر وہ ورثائے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں داخل ہوں تو بھی ان کا رشتہ ذوی الارحام (وہ بہن بھائی جو ایک ماں اور مختلف باپوں سے پیدا ہوئے ہوں) کا سا ہے۔ پس وارثِ کامل وہ ہے جو حقیقی اولاد ہو کیونکہ باپ سے اس کا رشتہ تمام عصبی رشتہ داروں سے زیادہ قریب ہوتا ہے اس لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’علم کا ایک حصہ مخفی رکھا گیا ہے جسے علمائے ربانی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔‘‘ (سرّ الاسرار)

تمہارے درمیان صورتاً کوئی نبی موجود نہیں تاکہ تم اس کی اتباع کرو، پس جب تم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متبعین (مرشدانِ کامل) کی اتباع کرو گے جو کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حقیقی اتباع کرنے والے اور اتباع میں ثابت قدم تھے، تو گویا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع کی، جب تم ان کی زیارت کرو گے تو گویا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت کی۔ (الفتح الربانی۔مجلس14)
اگر توُ نجات چاہتا ہے تو ایسے شیخ ِ کامل کی صحبت اختیار کر جو اللہ تعالیٰ کے حکم اور علمِ خداوندی کو جاننے والا ہو اور وہ تجھے علم پڑھائے اور ادب سکھائے اور تجھے اللہ کے راستہ سے واقف کر دے۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 50)
تو ایسے مرشد کو تلاش کر جو کہ تیرے دین کے چہرہ کے لیے آئینہ ہو۔ تو اس میں ویسے ہی دیکھے گا جیسا کہ آئینہ میں دیکھتا ہے اور اپنا ظاہری چہرہ اور عمامہ اور بالوں کو درست کر لیتا ہے۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 61)

مرشدانِ کامل کی مجلس کو اختیار کر کیونکہ ان کی مجلس اختیار کرنے سے حلاوت اور مٹھاس حاصل ہوتی ہے اور ان کی نورانی صحبت اور مجلس میں انسان کے قلب کے اندر اللہ تعالیٰ کی خالص محبت کے چشمے جاری کیے جاتے ہیں جن کی قدروقیمت وہی جانتے ہیں جن کو ذکرِ اللہ  (اسمِ اللہ ذات) کی توفیق حاصل ہو چکی ہو۔ (غنیۃ الطالبین)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ صاحبِ راز (مرشد کامل اکمل) کے سینے میں ہے کیونکہ قدرتِ توحید و دریائے وحدتِ الٰہی مومن کے دل میں سمایا ہوا ہے۔ اسی لیے جو شخص حق حاصل کرنا چاہتا ہے اور واصل باللہ ہونا چاہتا ہے اس کو چاہیے سب سے پہلے مرشد کامل طلب کرے اس لیے کہ مرشد دل (باطن) کے خزانوں کا مالک ہوتا ہے۔ (عین الفقر)

جب طالب کو ادراکِ قلبی سے ایسے صاحبِ راز صاحبِ امر مرشد کامل اکمل کی معرفت حاصل ہو جائے اور وہ اس کی بارگاہ میں پہنچ جائے تو اس طالب کو مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
طالب کو چاہیے کہ مرشد کے کسی کام میں اعتراض نہ کرے اور مرشد کے جن امور کو وہ سمجھ نہ پا رہا ہو تو اس میں تردد نہ کرے۔ اگر دل میں اعتراض پیدا ہو رہے ہوں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے واقعہ کو مد ِ نظر رکھے(جو سورۃ کہف میں بیان ہوا ہے)۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ظاہری طور پر حضرت خضر علیہ السلام کے امور کی باطنی حکمت اور اسرار سے ناواقف تھے جس کی وجہ سے وہ خضر علیہ السلام پر اعتراض سے نہ بچ سکے۔

سیدّنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:
اگر تیرے لیے مقدر سازگار ہو اور تقدیر تجھے ایسے مرشد کامل کی بارگاہ میں لے جائے جو رموزِ حقیقت سے آشنا ہو تو اس کی خوشنودی میں مصروف ہو جا، اس کے حکم کی اتباع کر اور ان تمام امور کو ترک کر دے جن میں تو پہلے جلد بازی کرتا تھا اور مرشد کامل کے جن امور سے تُو ناواقف ہو ان پر اعتراض نہ کر کیونکہ اعتراض صرف لڑائی جھگڑے پیدا کرتا ہے۔ (غنیہ الطالبین) 

سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے اس فرمان کا مقصد ہی یہی ہے کہ جو طالب مرشد کی ذات پر اور احکامات پر (ظاہری و باطنی) اعتراض کرتے ہیں وہ اس امر سے پرہیز کریں کیونکہ مرشد پر اعتراض فقر، اخلاص، توکل اور توحید کی موت ہے۔ مرشد کی ذات اور اس کے افعال و اعمال پر اعتراض کرنے والے کا راہِ فقر پر سفر فوراً ختم ہو جاتا ہے اور وہ شدید رجعت کا شکار ہو کر اب تک جو کچھ روحانی طور پر اسے حاصل ہوا ہوتا ہے، سب کا سب کھو بیٹھتا ہے۔
طالب کو چاہیے کہ اپنے آپ کو ظاہری باطنی طور پر مرشد کے حوالے کر دے اور اس کے تمام اوامر و نصائح میں اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرے۔
طالب اپنے مرشد کے طریقۂ تربیت پر بھی کبھی اعتراض اور گلہ نہ کرے کیونکہ مرشد علم و مہارت اور تجربہ کی بنیاد پر اس میدان میں مجتہد کا درجہ رکھتا ہے۔
شیخ ابو العباس مرسی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ہم نے صوفیا کے احوال میں غوروفکر کیا ہے اور ہمارا مشاہدہ ہے کہ جس نے بھی صوفیا کرام پر زبانِ اعتراض دراز کی اس کی موت خیر پر نہ ہوئی۔‘‘
سیدّناغوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں ’’جو کسی ولی (صاحبِ امر) کی بے ادبی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل کو مردہ کر دیتا ہے‘‘۔
مرشد کی رضا اور خوشی میں ہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خوشی ہے اس لیے طالب کو چاہیے کہ مرشد کے آرام و سکون کا خیال رکھے اور ایسے افعال و اعمال سے پرہیز کرے جن سے مرشد کو ظاہری و باطنی طور پر ناخوشی (اور تکلیف) کا احساس ہو کیونکہ ایسی حالت میں طالب بھی سکون سے نہ رہ پائے گا۔
طالب کو اپنی ہر ظاہری و باطنی، دینی و دنیوی اور کلی و جزوی راہنمائی کے لیے صرف اور صرف اپنے مرشد کی طرف رجوع کرنا چاہیے کیونکہ کسی دوسری طرف نگاہ اور توجہ کر لینے سے وہ توحید پر قائم نہ رہ پائے گا۔
بعض اوقات مرشد طالب کو براہِ راست کوئی کام نہیں کہتا جس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ ہے کہ چونکہ مرشد کا حکم، حکمِ الٰہی کا درجہ رکھتا ہے اس لیے اگر طالب حکم کی تعمیل نہ کر پائے گا تو اس کی کوتاہی اللہ کو ناراض کرنے کا سبب بنے گی۔ لہٰذا مرشد باعثِ رحمت ہونے اور خلقِ محمدی سے متصف ہونے کے باعث کسی دوسرے طالب کے ذریعہ اسے پیغام پہنچاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مرشد کو طالب کی آزمائش مقصود ہوتی ہے کہ طالب کسی دوسرے وسیلے اور واسطے سے بھیجے گئے پیغام کو اہمیت دیتا ہے یا اُسے معمولی اور سرسری سمجھتا ہے۔ ایسے میں پیغام لانے والے طالب کو چاہیے کہ مرشد کا دیا گیا پیغام من و عن پہنچائے اور جس کے لیے پیغام ہے اُس طالب کو چاہیے کہ پیغام کو توجہ سے سنے، اس کی حکمت کو سمجھے اور اس پر عمل کی خلوصِ نیت سے کوشش کرے۔
طالب کوئی بھی کام مرشد کی اجازت کے بغیر نہ کرے۔
طالب کے جو افعال و اعمال مرشد کو ناپسند ہوں ان سے مرشد کی موجودگی میں بھی پرہیز کرے اور غیر موجودگی میں بھی اجتناب کرے، اس یقین کے ساتھ کہ مرشد ہر وقت اس کے احوال و افعال اور اعمال و خیالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ سروری قادری مرشد کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

عارف کامل قادری بہر قدرتے قادرو بہر مقام حاضر 

ترجمہ: عارف کامل قادری ہر قدرت پر قادر اور ہر مقام پر حاضر ہوتا ہے۔ (رسالہ روحی شریف)
طالب کو چاہیے کہ ہر لمحہ مرشد کو حاضر ناظر جانے اور ہر مشکل میں اُسی کی طرف نگاہ رکھے اور مدد کے لیے اسی کو پکارے۔
مرشد کی ایک ایک بات کو توجہ سے سنے اور اس پر تفکر کر کے اس کی حکمت کو سمجھنے کی کوشش کرے اور اس پر عمل کرے۔ مرشد کی بات کو معمولی اور ایک عام بندے کی بات نہ سمجھے۔ اگر وقتی طور پر مرشد کے فرمان کی حکمت اور اہمیت نہیں سمجھ پا رہا تو آئندہ وقت میں اس فرمان کی حکمت طالب پر واضح ہو جائے گی۔

طالب کو چاہیے کہ مرشد کی بارگاہ میں بغیر اجازت کلام نہ کرے اور بڑھ چڑھ کر مشورے دینے کی کوشش نہ کرے۔ ایسا کرنے سے اس میں تکبر پیدا ہو جائے گا کہ وہ مرشد کو مشورہ دے رہا ہے۔ طالب کے اس عمل سے مرشد کی بارگاہ میں اس کی کوئی اہمیت نہیں رہتی، چاہے وہ بارگاہ میں رہے یا بھاگ جائے کیونکہ مرشد کامل صاحبِ امر کبھی بھی طالب کی مرضی پر نہیں چلتا۔ اس کا ہر عمل صرف اللہ کے حکم کے تابع ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اسے طالب کی تربیت کس طرح اور کس نہج پر کرنی ہے۔ جو طالب اس ناقص سوچ کو اپنے ذہن میں جگہ دے گا کہ مرشد کو اس کے مشورے کے مطابق چلنا چاہیے تو اس کے برعکس ہی ہوتا رہے گا۔ جتنا اس سوچ میں الجھتا جائے گا اتنا ہی اس کے کام الٹ ہوتے جائیں گے، اتنا ہی وہ پھنستا جائے گا اور مرشد سے دور ہوتا جائے گا۔ 

مولانا فیض احمد اویسی اپنی کتاب آدابِ مرشد والمریدین میں بیان فرماتے ہیں:
طالب کو چاہیے کہ مرشد کے ساتھ بہت زیادہ کلام نہ کرے کیونکہ مرشد کے ساتھ زیادہ اور بلاوجہ کلام سے مرشد کا رعب اس کے دل میں کم ہو جائے گا اور فیض بھی بند ہو جائے گا۔
طالب کے لیے فرض ہے کہ اپنی جان و مال سے مرشد کی خدمت کرے اور اپنی جان اور مال کو قربان کرنے سے دریغ نہ کرے۔
مرشد کی ذات سے محبت کرے اور اپنی زندگی کو مرشد کی موافقت میں بسر کرنے کی کوشش کرے کیونکہ انسان جن سے محبت کرتا ہے اپنی زندگی کا ہر لمحہ ان کی موافقت میں گزارتا ہے۔
طالب کے لیے ضروری ہے کہ مرشد کے حوالے سے اپنا عقیدہ درست رکھے اور دل میں مرشد کے کامل ہونے اور اس کے تمام افعال و اعمال اور احکام کے درست ہونے پر یقین کو ذرا سا بھی متزلزل نہ ہونے دے کیونکہ راہِ معرفت میں یقین بہت بڑی دولت ہے۔
طالب مرشد کے سامنے بغیر ضرورت کے بات نہ کرے اور نہ ہی اس کے سامنے اپنے مناقب بیان کرے بلکہ ہمیشہ عاجزی اختیار کرے۔
مرشد کے سامنے کوئی مسئلہ بیان ہو رہا ہو تو طالب کو چاہیے خاموش رہے اگرچہ وہ اس کا علم رکھتا ہو اور جواب دے سکتا ہو۔ جو کچھ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مرشد کی زبان پر جاری فرمایا ہے اسے غنیمت جانے، قبول کرے اور اس پر عمل کرے۔
طالب پر واجب ہے کہ ظاہر میں مرشد کی مخالفت نہ کرے اور باطن میں اس پر اعتراض نہ کرے کیونکہ گناہ کرنے والا ظاہر میں ادب کا تارک ہوتا ہے اور دل سے اعتراض کرنے والا اپنی ہلاکت کے پیچھے پڑتا ہے۔ طالب کو چاہیے کہ مرشد کی حمایت میں ہمیشہ کے لیے نفس کا دشمن بن جائے اور مرشد کی ظاہری اور باطنی مخالفت سے اپنے آپ کو روکے۔
ان سب کے علاوہ طالب کو چاہیے کہ عاجزی اختیار کرے اور اللہ سے دعاگو رہے کہ مرشد کی بارگاہ میں بے ادبی اور گستاخی سے بچائے اور ان تمام امور سے بچائے جو مرشد کی ناراضگی کا باعث بنتے ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں مرشد کامل کی ذات کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

استفادہ:
غنیہ الطالبین از سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ
الفتح الربانی  ۔   ایضاً
سرّ الاسرار۔    ایضاً
عین الفقر۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
فصوص الحکم۔محی الدین ابنِ عربیؒ
آدابِ مرشد والمریدین ۔ مولانا فیض احمد اویسیؒ
اطاعتِ الٰہی۔  ڈاکٹر طاہر القادری

 
 

31 تبصرے “اطاعت ِ مرشد اطاعت ِ الٰہی | Attayat e Murshid Attayat e illahi

  1. مرشد کی رضا اور خوشی میں ہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خوشی ہے

  2. مرشد کی رضا اور خوشی میں ہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خوشی ہے

    Reply

    1. طالب کو اپنی ہر ظاہری و باطنی، دینی و دنیوی اور کلی و جزوی راہنمائی کے لیے صرف اور صرف اپنے مرشد کی طرف رجوع کرنا چاہیے کیونکہ کسی دوسری طرف نگاہ اور توجہ کر لینے سے وہ توحید پر قائم نہ رہ پائے گا۔

  3. اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت ہی سب محبتوں کی اصل اور بنیاد ہے اور محبت کی آزمائش صرف دعویٰ کرنے سے نہیں ہوتی بلکہ اطاعت سے ہوتی ہے۔

  4. مرشد کی رضا اور خوشی میں ہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خوشی ہے

  5. اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں مرشد کامل کی ذات کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

      1. اللہ رب العزت سے دعا ہے وہ مرشد کی بارگاہ میں بے ادبی اور گستاخی سے بچائے اور ان تمام امور سے بچائے جو مرشد کی ناراضگی کا باعث بنتے ہوں۔

  6. طالب مرشد کے سامنے بغیر ضرورت کے بات نہ کرے اور نہ ہی اس کے سامنے اپنے مناقب بیان کرے بلکہ ہمیشہ عاجزی اختیار کرے

  7. بےشک صراط مستقیم پر چلنے کے لیے مرشد کامل اکمل جامع نور الہدہ سروری قادری امام کی بیعت فرض عین ہے

  8. طالب پر واجب ہے کہ ظاہر میں مرشد کی مخالفت نہ کرے اور باطن میں اس پر اعتراض نہ کرے ۔

  9. سیدّناغوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں ’’جو کسی ولی (صاحبِ امر) کی بے ادبی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل کو مردہ کر دیتا ہے‘‘۔

    بے شک!

  10. اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں مرشد کامل کی ذات کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

  11. مرشد کی رضا اور خوشی میں ہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خوشی ہے

  12. طالب کو چاہیے کہ مرشد کی بارگاہ میں بغیر اجازت کلام نہ کرے اور بڑھ چڑھ کر مشورے دینے کی کوشش نہ کرے۔ ایسا کرنے سے اس میں تکبر پیدا ہو جائے گا کہ وہ مرشد کو مشورہ دے رہا ہے۔ طالب کے اس عمل سے مرشد کی بارگاہ میں اس کی کوئی اہمیت نہیں رہتی، چاہے وہ بارگاہ میں رہے یا بھاگ جائے کیونکہ مرشد کامل صاحبِ امر کبھی بھی طالب کی مرضی پر نہیں چلتا۔ اس کا ہر عمل صرف اللہ کے حکم کے تابع ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اسے طالب کی تربیت کس طرح اور کس نہج پر کرنی ہے۔ جو طالب اس ناقص سوچ کو اپنے ذہن میں جگہ دے گا کہ مرشد کو اس کے مشورے کے مطابق چلنا چاہیے تو اس کے برعکس ہی ہوتا رہے گا۔ جتنا اس سوچ میں الجھتا جائے گا اتنا ہی اس کے کام الٹ ہوتے جائیں گے، اتنا ہی وہ پھنستا جائے گا اور مرشد سے دور ہوتا جائے گا۔

  13. ہر زمانے میں ایک شخص قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر رہتا ہے جو اپنے زمانے کا عبداللہ ہوتا ہے اس کو قطب الاقطاب یا غوث کہتے ہیں۔ جو عبداللہ یا محمدی المشرب ہوتا ہے۔ وہ بالکل بے ارادہ تحتِ امر و قرب و فرائض میں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جو کچھ کرنا ہوتا ہے اسکے توسط سے کرتا ہے۔ (فصوص الحکم)

اپنا تبصرہ بھیجیں