سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ ہاشمی قریشی | Sultan ul Sabreen Hazrat Sakhi Sultan Pir Mohammad Abdul Ghafoor Shah

سلطان الصابرین  حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ

تحریر: وقار احمد سروری قادری (لاہور)

سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ سلسلہ سروری قادری کے ستائیسویں (27) شیخ ِ کامل ہیں۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کے بعد امانت ِ فقر امانت ِ الٰہیہ سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیدمحمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانیؒ کو منتقل ہوئی اور انہوں نے یہ امانت ِ فقر سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒؒ کو منتقل فرمائی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 14ذوالحجہ 1242ھ بمطابق 9جولائی 1827ء کو چوٹی ضلع ڈیرہ غازی خان ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں سوموار کے روز ہوئی۔ 

حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہؒ کی عمر مبارک پچیس برس تھی جب فقر کے مختارِ کل، سرورِ کائنات، آقائے دو جہان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانیؓ نے خواب میں یہ خوشخبری سنائی کہ آپؒ کو امانت ِ فقر کے لئے منتخب کیا جا چکا ہے لہٰذا آپؒ احمد پور شرقیہ میں سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانیؒ کی بارگاہ میں تشریف لے جائیں۔ سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ ہاشمی قریشیؒؒ نے فوراً زادِ راہ لیا اور اپنے ازلی نصیبہ یعنی امانت ِ فقر کے حصول کے لیے احمد پور شرقیہ کی طرف روانہ ہو گئے اور سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ یہ 1851ء کا دور تھا۔

سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ ؒ بیعت کے بعد خالصتاً اپنے مرشد کی خدمت اور خوشنودی میں مصروف ہو گئے اور قریباً نو (۹) سال اپنے مرشدکی صحبت اور خدمت میں گزارے۔ آپؒ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عشق ِ مرشد سے سرشار ہے۔ آپؒ نے اپنے مرشد پاک سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒ سے عشق کے اظہار کے طورپر سرائیکی زبان میں منقبتیں بھی تحریر کیں۔ اپنے مرشد کے ساتھ ساتھ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اور سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ کی شانِ اقدس میں بھی منقبت لکھی۔ آپؒ کے کلام میں انتہائی خوبصورتی سے مرشد پاک کے حسن و جمال ، عادات و اطوار اور خلق ِ خدا پر اسم ِ اللہ ذات کے فیض کی مہربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

چشمہ کُھلیا نورِ حقانی
شاہ عبد اللہؒ فیض رسانی
احمد پور وچ نور برسدا
جتھے شاہ عبد اللہؒ وسدا
واقف لوح قلم تے مسدا
ہے وچ ملک بہاول خانی
شاہ عبد اللہؒ فیض رسانی
عَرف عجائب عارف باللہ
طالب ویکھ عجب سلسلہ
شکر پڑھن الحمد للہ
ویکھ جمال رسولؐ نشانی
شاہ عبد اللہؒ فیض رسانی

29رمضان المبارک 1276ھ بمطابق 20 اپریل 1860ء جمعہ کے روز سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ کے مرشد سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانیؒ کا وصال ہوگیا۔ سلطان التارکین اپنے وصال سے قبل سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے مزار مبارک پر امانت ِ فقر حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ کو منتقل کر چکے تھے۔ مرشد کے وصال کے قریباً ایک سال بعد1861ء میں پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ شور کوٹ تشریف لے گئے۔ یہاں پر آپؒ نے کم و بیش ایک سال قیام فرمایا ۔ اسی دوران شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ نے 2اگست 1861ء کو آپؒ کے دست ِ اقدس پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ 1862ء میں سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ مڈ رجبانہ گڑھ مہاراجہ ضلع جھنگ ہجرت فرما گئے اور پھر وہیں اپنا ڈیرہ جما لیا اور وصال تک وہیں مقیم رہے۔ اس دوران ہزارہا لوگوں کو اسم ِ اللہ ذات کے فیض سے مستفید فرمایا۔ شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ وہ خوش نصیب طالب ِ مولیٰ ہیں جن کو پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ نے اپنے وصال سے دو روز قبل 8 صفر 1328ھ بمطابق 19 فروری 1910ء کو سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی اجازت سے امانت ِ فقر منتقل فرمائی اور 10 صفر 1328ھ بمطابق21 فروری 1910ء بروز سوموار سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ اس دارِ فانی سے ظاہری پردہ فرما گئے۔ آپؒ کا مزار مبارک گڑھ مہاراجہ ضلع جھنگ سے مشرق کی جانب 13کلومیٹر کے فاصلے پر مڈشریف میں واقع ہے۔ آپؒ کا عرس ہر سال 9اور 10صفر کو منایا جاتا ہے۔

پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ نے اپنے مرشد پیر محمد عبدالغفور شاہؒ کی رفاقت میں انچاس برس گزارے اور انہوں نے اپنے محرم راز کو باطنی فیض سے خوب سیراب فرمایا جس کا اندازہ پیر سیّد محمد بہادرعلی شاہ کاظمی المشہدیؒ کے اپنے مرشد کی شان میں لکھے گئے عارفانہ کلام سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

عارف کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ کر اور پہچان کر اسکی عبادت کرنے والا۔ پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ نے کس کمال درجہ سے اپنے ربّ کی معرفت حاصل کی ہوگی کہ سیّدنا غوث الاعظمؓ نے آپؒ کو ـ ’شہبازِ عارفاں ‘یعنی عارفوں کے شہباز جیسے لقب سے نوازا۔ آپؒ کی شاعری محض ردیف و قافیہ اور الفاظ کا جوڑ توڑ نہیں بلکہ قرب وصالِ حق تعالیٰ کے ذاتی مشاہدات پر مبنی حقیقت ہے۔ آپؒ نے اپنے مرشد کی شانِ اقدس میں ’الف سے ی ‘ تک کُل تیس ابیات پر مشتمل سی حرفی لکھی جس کا ایک ایک حرف عشق ِ مرشد میں ڈوبا ہوا ہے۔ آپؒ کے نادر اور لازوال عارفانہ کلام کے چند ابیات کی شرح پیش کی جا رہی ہے۔

 اللہ دی خبر نہ بھلیاں نوں، بُھلے پیر توں ربّ نوں بُھل گئے
رفیق بناں طریق ناہیں، اوجھڑ جنگل دے وچ رُل گئے
ہویا علم حجاب کبیر اکبر، تولے نفس ہوا دے تُل گئے
سلطان بہادر شاہؒ جنہاں پیر پالیا، آہے جز تے ہو اوہ کُل گئے

شرح:اس بیت میں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ نے مرشد کامل اکمل کی اہمیت اور ضرورت کو بیان کیا ہے کہ جو لوگ مرشد کی اہمیت اور ضرورت سے ناواقف ہیں یا وسیلہ کے خلاف ہیں وہ اللہ کی معرفت سے انجان ہوتے ہیں۔ لیکن مرشد کامل اکمل ہی اللہ کی معرفت حاصل کرنے اور اس کا قرب و وِصال پانے کا واحد ذریعہ ہے۔ مرشد کامل اکمل کے بغیر اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا ناممکن ہے کیونکہ حق کا راستہ پُرخطر ہے جس میں بے شمار رکاوٹیں درپیش ہوتی ہیں اور مرشد کامل اکمل چونکہ پہلے ہی اللہ تعالیٰ کا قرب و وِصال پا چکا ہوتا ہے اس لیے اس راہ کے نشیب و فراز سے بخوبی واقف ہوتا ہے اس لیے نفس و شیطان کے چنگل سے بچاتے ہوئے اور تمام منازل و مقامات طے کرواتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور لے جاتا ہے اسی کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اَلرَّفِیْقُ ثُمَّ الطَّرِیْقُ 
ترجمہ: پہلے رفیق تلاش کرو پھر راہ چلو۔
جو لوگ یہ گمان رکھتے ہیں کہ محض کتابیں پڑھ لینے سے ہی اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو جائے گی یا یہ سوچ رکھتے ہیں کہ کتابوں میں ہر طرح کا علم اور راہنمائی موجود ہے اس لیے کسی مرشد کی ضرورت نہیں انہی کے متعلق پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ نے فرمایا کہ جو لوگ کتابوں کے مطالعہ علم حاصل کر کے اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ حقیقت سے آشنا ہو چکے ہیں دراصل ان کا علم ہی ان کے لیے حجاب کی مثل بن جاتا ہے جس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: 
اَلْعِلْمُ حِجَابُ الْاَکْبَرْ
ترجمہ: علم بہت بڑا حجاب ہے۔
یہ بات تو روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ کوئی بھی شخص اپنا تزکیہ اپنے تئیں نہیں کر سکتا۔ نفس کے تزکیہ کے لئے کسی ایسے صاحب ِ امر کی صحبت ضروری ہے جو نفس کی چالوں اوراس کو قابو کرنے جیسی پیچیدگیوں سے واقف ہو اور وہ ہستی محض مرشد کامل اکمل ہی ہے۔ پس مرشد کامل کے بغیر نفس کا تزکیہ نہیں ہوتا بلکہ علم حاصل ہونے کے بعد نفس کا غلبہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ ابلیس نے بھی اپنے علم کے تکبر میں حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور راندۂ درگاہ ہوا۔ اسی لیے علم پر مغرور ہونا اور یہ سمجھنا کہ ہر حقیقت سے آشنائی حاصل ہو گئی ہے‘ نفس کی بہت بڑی بیماری ہے جس سے مرشد کامل اکمل کی نگاہ ِ فیض سے ہی چھٹکارہ حاصل ہو سکتاہے۔ یہ بیماری اس درجہ خطرناک ہے کہ بڑے بڑے عالم فاضل بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں اور اپنے علم کو ہی اپنا خدا بنا لیتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ابلیس کی مثل ان کا علم انہیں گمراہ کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو عاجزی و انکساری کے ساتھ معرفت ِ الٰہی کی خواہش لے کر مرشد کامل اکمل کی بارگاہ میں آتے ہیں تو مرشد کامل اکمل اپنی نگاہِ فیض سے اُن کا تزکیۂ نفس کرتا ہے اور ان کے باطن کو تمام نفسانی بیماریوں سے پاک کر دیتا ہے۔ ان کی شخصیت میں چھپی خوبیوں کو اجاگر کرتا ہے اور انہیں دنیا و آخرت دونوں لحاظ سے کامیاب انسان بنا دیتا ہے۔ یہ لوگ اپنے سینے میں طلب ِ مولیٰ کی ایک چنگاری لے کر آتے ہیں لیکن مرشد کامل اکمل کی نگاہِ کرم، صحبت اور اسم ِ اللہ ذات کے ذکر و تصور سے وہ چنگاری پہلے عشق ِ مرشد اور پھر عشق ِ حقیقی کے شعلہ میں بدل جاتی ہے جو انہیں اللہ کے وصال تک پہنچ دیتی ہے۔ 

تار توار الست والی، سوہنے پیر دتی تعلیم مینوں 
آیا کلمہ بلیٰ دا یاد بھائی، تسلیم ہوئی تعظیم مینوں
صورت عبد آداب سکھا دِتّے، ہادی ہو کے ربّ کریم مینوں
سلطان بہادر شاہؒ ہوئے دکھ دور سارے، جد پیر کیتی تفہیم مینوں

شرح:  شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ فرماتے ہیں کہ میں تو وعدۂ الست کو بھولے ہوئے تھا لیکن میرے مرشد سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ نے میری روح کو اللہ تعالیٰ سے کیا گیا وعدہ یاد کروایا جسے سورۃ الاعراف میں بیان کیا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو تخلیق کیا تو تمام ارواح اللہ تعالیٰ کے حضور صف بہ صف کھڑی ہو گئیں اور اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے سوال کیا:
اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ (الاعراف۔172)
ترجمہ: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں۔
تمام ارواح نے بیک وقت جواب دیا:
قَالُوْا بَلٰی (الاعراف۔172)
ترجمہ: سب نے کہا ہاں کیوں نہیں (تو ہی ہمارا ربّ ہے)۔ 
اس وقت تمام ارواح اللہ تعالیٰ کو دیکھ کر اس کی ربوبیت کا اقرار کر رہی تھیں لیکن جب ان تمام ارواح کو ان کے وعدہ اور اقرار کی آزمائش کے لیے عالم ِناسوت میں بھیجا گیا تو اس دنیا میں آ کر وہ اس عہد و اقرار کو فراموش کر گئیں۔ 
پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ اسی کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ یہ میرے مرشد کامل اکمل سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت اور نظر کرم کا کمال ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد اور اقرار مجھے یاد کروایا اور اسم اللہ ذات کی تلقین کی جس کی بدولت نفس پر پڑے ہوئے تمام حجابات دور ہوگئے اور میں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی۔ تصور اسم ِ اللہ کی بدولت مجھ پر یہ حقیقت کھلی کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو میرے مرشد کی ذات میں جلوہ گر ہے کیونکہ میرے مرشد کریم حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہؒ صاحب ِ مسمّٰی مرشد کامل اکمل، انسانِ کامل اور فقیر کامل ہیں جو اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ(جب فقر مکمل ہوتا ہے پس وہی اللہ ہے) کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اللہ تعالیٰ خود انسانِ کامل کی صورت میں میری راہنمائی فرما رہا ہے۔ اس حقیقت کے آشکار ہوتے ہی میری ہر پریشانی اور ہر فکر دور ہو گئی کیونکہ جو اللہ تعالیٰ کی ذات کو پہچان لے اس کے لیے کیا غم و فکر۔

ثابت صدق یقین سہتی، جیہڑے پیر دے آ مرید ہوئے
انہاں نَحْنُ اَقْرَبُ  پہچان  لیا،  اوہ ماہر  حَبْلِ الْوَرِیْد ہوئے
فیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْن،  اوہ صاحب شان مزید ہوئے
سلطان بہادر شاہؒ قدیر ہے پیر بیلی، بے سمجھاں دے فکر بعید ہوئے

شرح: حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ اپنے مرشد سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ کے باطنی و روحانی تصرفات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو طالبانِ مولیٰ خلوصِ نیت سے آپؒ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوتے ہیں اور صدقِ دل سے آپؒ کو اپنا ہادی و راہنما تسلیم کرتے ہیں تو آپؒ کی نظر ِ کرم اور مہربانی کی بدولت ان کا اللہ تعالیٰ کی ذات پرایمان و اعتقاد پختہ اور کامل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ حق الیقین سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا دیدار کر لیتے ہیں اور شہ رگ سے بھی قریب حق تعالیٰ کا مشاہدہ کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: 
وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْد (سورۃ ق16)
ترجمہ: اور ہم تو اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔
نہ صرف یہ بلکہ راہِ حق پر ترقی کرتے ہوئے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو اپنے اندر دیکھ لیتے ہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

فیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْن،

 (الذاریات۔21)  
ترجمہ: اور میں تمہارے اندر ہوں کیا تم نہیں دیکھتے۔
اللہ تعالیٰ تو ہر انسان کے اندر موجود ہے لیکن نفس پر جمی میل اور حجابات کی بدولت ہم اس ذات کو دیکھ نہیں پاتے۔ بس روح اور اللہ کے درمیان حائل نفس کے حجابات کو ہٹانے کی ضرورت ہے جو کہ ایک مرشد کامل اکمل کی نگاہ اور ذکرو تصور اسم ِ اللہ ذات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جن خوش نصیب طالبانِ مولیٰ نے مرشد کامل اکمل کی صحبت میں اسم ِ اللہ ذات کے ذکر و تصور کے ذریعے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا اور اپنے اندر غور و فکر کر کے اپنے نفس کو پہچان لیا وہ کامیاب ہوگئے کیونکہ جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے ربّ کو پہچانا اور جن کے اندر اللہ ربّ العزت کا نورظاہر ہو گیا انہوں نے اپنا اصل مرتبہ انسانیت کو پا لیا جس کی بنا پر وہ اشرف المخلوقات ہیں اور انکی شان یہ ہے کہ وہ اللہ کا راز ہیں۔ یہ محض مرشد کامل اکمل کی نگاہِ فیض سے ممکن ہے کیونکہ مرشد کامل اکمل اللہ تعالیٰ کی صفت ِ قدیر سے متصف ہوتا ہے یعنی صاحب قدرت ہوتا ہے اس لئے اپنی نگاہ سے طالبانِ مولیٰ کا تزکیۂ نفس کر کے انہیں فنا فی اللہ بقا باللہ کے مرتبہ پر پہنچانے کی قدرت رکھتا ہے جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ رسالہ روحی شریف میں فرماتے ہیں:

 ’’عارف کامل قادری بہر قدرتے قادر و بہر مقام حاضر‘‘  

ترجمہ: ’’عارف کامل قادری ہر قدرت پر قادر اور ہر مقام پر حاضر ہوتا ہے۔‘‘ 
جو لوگ مرشد کی ضرورت و اہمیت اور اس کی شان اور تصرف کو سمجھنے سے قاصر ہیں وہ کبھی بھی اللہ کی معرفت حاصل نہیں کر سکتے بلکہ درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ سے دور ہیں۔ 

شک نہیں ہویا پک مینوں، پیر پوج خدا پوجار پیارے
پیر پرست خدا پرست ہوندے، ایہہ عارفاں دے نروار پیارے
پیر پرستی ہے فرض پہلا، پچھے واجب ہے ذکر اذکار پیارے
سلطان بہادر شاہؒ ہے علم گمان جنہاں، اس راہ کولوں بیزار پیارے 

شرح:  سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ ؒفنا فی اللہ بقا باللہ فقیر ِ کامل ہیں۔ شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں بلکہ حق الیقین حاصل ہو چکا ہے کہ مرشد کامل اکمل کے چہرے کا دیدار ہی اصل عبادت ہے کیونکہ صاحب ِ مسمّٰی مرشد کامل اکمل اللہ تعالیٰ کا مظہر ہوتا ہے۔ اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کے عطا کردہ اسم ِ اللہ ذات سے پہلے شیخ کا تصور حاصل ہوتا ہے۔ ایسے مرشد کامل اکمل کی اتباع حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور اللہ تعالیٰ کی اتباع ہے۔ طالبانِ مولیٰ کے نزدیک عشق ِ مرشد ہی سب سے افضل اور مکرم عبادت ہے کیونکہ عشق ِ مرشد میں کمال ہی عشق ِ حق تعالیٰ تک رسائی کا سبب ہے اس لیے طالبانِ مولیٰ ورد و ظائف میں مشغول نہیں ہوتے بلکہ مرشد کی طاعت اور خوشنودی میں مشغول رہتے ہیں۔ جو طالب فنا فی الشیخ کی منزل پا لے اس کے لیے فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ کے اعلیٰ ترین باطنی مقامات تک پہنچنا مشکل نہیں ہوتا کیونکہ مرشد کامل اکمل پہلے ہی فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ ہوتا ہے۔ جو لوگ یہ گمان کئے بیٹھے ہیں کہ انہیں قرب و وصالِ الٰہی کے لئے کسی مرشد کی ضرورت نہیں اور وہ اپنے علم کے بَل بوتے پر قرآن و حدیث کا مطالعہ کرکے اللہ تعالیٰ کا قرب پا لیں گے ، ایسے لوگ راہِ فقر سے نا واقف ہیں اور اپنے علم پر غرور کی نفسانی بیماری میں جکڑے ہوئے ہیں۔

مجرم نوں محرم پیر کرے، بخشے جاہل نوں علم عیان بیلی
کافر فاسق تے جیکر نظر کرے، ہووے کامل اہل ِعرفان بیلی
وسیلہ اہل ِایمان تے فرض ہویا، ثابت نال آیت قرآن بیلی
سلطان بہادر شاہؒ رموز تے راز کھلن، جد مرشد کرے دھیان بیلی 

شرح:  شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ نے اس بیت میں مرشد کامل اکمل کی خصوصیات بیان کی ہیں جو قرآن کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا طریقہ ٔ تربیت بھی تھا۔ ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
وہی اللہ ہے جس نے مبعوث فرمایاامیوں میں سے ایک رسولؐ جو پڑھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیاتِ قرآن پاک اور (اپنی نگاہِ کامل سے) ان کا تزکیہ ٔ نفس کرتا ہے اور انہیں کتاب کا علم اور حکمت (علم ِ لدّنی) سکھاتا ہے۔( سورۃ الجمعہ۔2)
سروری قادری مرشد کامل اکمل چونکہ قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہوتا ہے اس لیے وہ طالبانِ مولیٰ کا تزکیہ بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طریقہ کے مطابق کرتا ہے یعنی اپنی نگاہِ کامل اور پاکیزہ صحبت سے ان کے نفسوں کو پاک کرتا ہے اور جب نفس تمام تر خصائل ِ بد سے نجات حاصل کر لیتا ہے تو پھر قرآن کا علم اور حکمت (علم ِ لدّنی) ان کے سینے میں اتارتا ہے۔یہ مرشد کامل اکمل کا تصرف ہے کہ بدکار، سیاہ کار اور گناہوں میں ڈوبے انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت عطا کر دیتا ہے۔ یہ کمال صرف سروری قادری مرشدکامل اکمل کو ہی حاصل ہے جس کی نگاہِ کامل لوحِ محفوظ پر لکھی ازلی تقدیر کو بھی بدل سکتی ہے۔ یہ نگاہ ِ لطف و کرم اگر کسی شقی، کافر و فاسق پر پڑ جائے تو اس کے دل کی دنیا کو بھی بدل دیتی ہے اور وہ شقی سے سعید، بد نصیب سے خوش نصیب، مجرم سے محرمِ راز اور کافر و فاسق سے مومن بن کر اہل ِ عرفان کے گروہ میں شامل ہو جاتا ہے جیسا کہ علامہ اقبالؒ اس شعرمیں فرماتے ہیں:

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

ایسے کامل مرشد کا وسیلہ پکڑنا ہر مسلمان پر فرض ہے جو کہ قرآن کی درج ذیل آیت سے بھی ثابت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو اور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑو۔ (المائدہ35-)
صوفیا کرام اور علمائے حق کے مطابق وسیلہ سے مراد مرشد کامل اکمل ہے۔ جب طالب ِ مولیٰ کامل مرشد کی بارگاہ میں خلوصِ نیت سے حاضر ہوتا ہے تو پھر مرشد بھی طالب پر اللہ تعالیٰ کی معرفت کے راز عیاں کر دیتا ہے۔جب تک طالب مرشد کا منظورِ نظر نہیں بن جاتا‘ اللہ تعالیٰ اسے اپنی معرفت اورقرب و وصال سے نہیں نوازتا۔ اس لئے جب تک مرشد اپنی توجہ اور نگاہِ کاملہ طالب پر نہ کرے طالب راہِ فقر میں ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔
شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہ کے عارفانہ کلام کے ہر لفظ سے اپنے مرشد سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے بے پناہ عشق کا اظہار ہوتا ہے۔ ایک طالب ِ مولیٰ جب تک مرشد سے بے پناہ عشق نہ کرے تب تک وہ راہِ فقر پر ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کا قرب و وِصال پا سکتا ہے۔ پیر سیّد محمد بہادر علی شاہؒ نے اپنے کلام میں مرشد کی جن خصوصیات اور کمالات کا ذکر کیا ہے وہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس میں بدرجہ اتم موجود ہیں اس لیے جو مرد و خواتین اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر کے عشق ِحقیقی سے سرشار ہونا چاہتے ہیں ان سب کے لیے دعوتِ عام ہے کہ وہ مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے دامن سے وابستہ ہوں۔ اپنے نفوس کا تزکیہ اور قلوب کا تصفیہ کروائیں، اللہ کی معرفت حاصل کر کے اپنا مقصد ِ حیات حاصل کریں اور اللہ کے قرب و دیدار کی لذت سے بہرہ ور ہوں۔ 

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو دورِ حاضر کے مرشد کامل اکمل اور سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے بے حساب فیض ِفقر حاصل کرنے کی توفیق فرمائے۔ (آمین)

 
 

41 تبصرے “سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ ہاشمی قریشی | Sultan ul Sabreen Hazrat Sakhi Sultan Pir Mohammad Abdul Ghafoor Shah

  1. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #spirituality #sufism #islam #faqr #sultanulsabreen

  2. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #spirituality #sufism #islam #faqr #sultanulsabreen

  3. سبحان اللہ آپ کی شان
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #spirituality #sufism #islam #faqr #sultanulsabreen

  4. سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ سلسلہ سروری قادری کے ستائیسویں (27) شیخ ِ کامل ہیں۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کے بعد امانت ِ فقر امانت ِ الٰہیہ سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیدمحمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانیؒ کو منتقل ہوئی اور انہوں نے یہ امانت ِ فقر سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒؒ کو منتقل فرمائی

  5. ماشاُ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #spirituality #sufism #islam #faqr #sultanulsabreen

  6. سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ سلسلہ سروری قادری کے ستائیسویں (27) شیخ ِ کامل ہیں۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کے بعد امانت ِ فقر امانت ِ الٰہیہ سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیدمحمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانیؒ کو منتقل ہوئی اور انہوں نے یہ امانت ِ فقر سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒؒ کو منتقل فرمائی۔

  7. سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ نے اپنے مرشد پاک سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒ سے عشق کے اظہار کے طورپر سرائیکی زبان میں منقبتیں بھی تحریر کیں۔

    1. سبحان اللہ ❤
      اللہ پاک کی بارگاہ میں التجا ہے وہ ہمیں عشقِ مرشد عطا فرمائے آمین

    1. بلاشبہ سلطان الصابرین کی حیات مبارکہ اور آپ کا عشق مرشد راہ حق کے طالبوں کے لئے بہترین مثال ہے

  8. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس حضرت سخی سلطان باھوؒ کے حقیقی وروحانی وارث ہیں اورموجودہ دورکے مرشد کامل اکمل اور سلسلہ سروری قادری کے امام ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس بیعت کے فوراً بعد اسمِ اعظم کا آخری ذکرعطا فرماتےہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں