alif | الف

الف ۔حقیقت ِدین 

 دین کے معنی ہیں ’’جو ہر انسان‘‘ (روح) کی شناخت اور اس کی تکمیل‘‘ یعنی مرتبہ انسان کی پہچان اور اس کے حصول کا نام دین ہے۔ دوسرے الفاظ میں خود شناسی وخودبینی وخود بانی کا نام دین ہے اور خود شناسی یہ ہے کہ انسان کی تخلیق دو چیزوں سے عمل میں لائی گئی ہے ایک چیز تو ظاہری وجود ہے جسے جسم یا تن بھی کہتے ہیں اور جسے آنکھ سے دیکھا اور ہاتھوں سے چھوا جاسکتا ہے۔ اور دوسری چیز باطن ہے جسے روح‘ باطن یا دل کہتے ہیں اسے نہ تو ظاہری آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے او رنہ ہی ظاہری ہاتھوں سے چھوا جاسکتا ہے۔ اسے صرف باطن ہی کی آنکھ سے دیکھا بھالا جاسکتا ہے۔ عارفوں کی اصطلاح میں انسان کے اس باطنی اور اصلی وجود کو دل، قلب، من یا روح کہتے ہیں۔ اور اس کا تعلق اس ظاہری جہان سے ہرگز نہیں بلکہ اس کا تعلق عالم ِغیب سے ہے۔ اس سے یہ ظاہری جسم چھن بھی جائے تو اس کو قائم رہنا ہے کہ اسے فنا نہیں ہے۔ معرفت ِالٰہی اور جمالِ خداوندی کا مشاہدہ اس کی خاص صفت ہے۔ عبادت کا حکم اسی کو ہے‘ ثواب وعذاب اسی کے لئے ہے‘ سعادت وشقاوت اسی کا مقدر ہے اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہی معرفت ِ الٰہی کی چابی ہے اور یہی دین کی حقیقت ہے۔ 

موجودہ دور میں مشکل یہ آن پڑی ہے کہ جب علم ِباطن کا کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو ان قرآنی آیات کو جن میں علم ِباطن کے متعلق واضح اور روشن ہدایات موجود ہیں کچھ لوگ متشابہات کہہ کر آگے گزر جاتے ہیں۔ اور آج کل کے دور میں یہی ہماری گمراہی کی بڑی وجہ ہے۔ کہ ہم نے اپنے ’’باطن‘‘ کو فراموش کردیا ہے اور صرف ظاہر کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ اور یہی ہماری گمراہی کا سبب ہے کہ آج کا انسان آفاق میں گم ہے اور اگر وہ اپنی ہستی کو پہچان لے تو ’’آفاق‘‘ اس کو اپنے اندر دکھائی دے گا۔

تمام صوفیا نے بھی اپنے اندر جھانکنے اور غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ 

 واصف علی واصف فرماتے ہیں: ’’آپ کا اصل ساتھی اور آپ کا صحیح تشخص آپ کے اندر کا انسان ہے۔ اسی نے عبادت کرنی ہے اور اسی نے بغاوت۔ وہی دنیا والا بنتا ہے اور وہی آخرت والا اسی اندر کے انسان نے آپ کو جزا اور سزا کا مستحق بنانا ہے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے آپ کا باطن ہی آپ کا بہترین دوست ہے اور وہی بد ترین دشمن، آپ خود ہی اپنے لیے دشواری سفر ہو ا ور خود ہی شادابی منزل، باطن محفوظ ہو گیا تو ظاہر بھی محفوظ ہو گیا۔‘‘

اپنے اندر ذاتِ حقیقی کو کھوجنے اور اسے پہچاننے کے لیے مرشد کامل اکمل کی راہنمائی بے حد ضروری ہے۔ مرشد کامل اکمل کی نگاہ اور اسم اللہ ذات کا ذکر اور تصور انسان کو وہ بصیرت عطا کرتے ہیں جن کی بدولت انسان اپنی پہچان سے اللہ کی پہچان حاصل کرنے کے قابل ہو جاتا ہے اور اسے دین کا اصل فہم حاصل ہو جاتا ہے۔ مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے ملاقات اور ذکر و تصور اسم اللہ ذات حاصل کرنے کے لیے درج ذیل نمبروں پر رابطہ کریں:

042-35436600      0322-4722766       0321-4507000           0321-8084100

اپنا تبصرہ بھیجیں