علم ِ لد نّی | Ilm-e-Ladunni

علمِ لدنّی

تحریر: روبینہ فاروق سروری قادری ۔ لاہور

علم سے مراد ہے آگاہی، واقفیت اور جاننا۔ یعنی کسی شے کے متعلق خبر یا اطلاع کا ملنا اس شے سے آگاہی اور واقفیت کا سبب ہے۔
علم دو طرح کے ہیں: علم ِ حصولی اور علم ِ حضوری یا علم ِ لدنیّ
علم ِحصولی سے مراد وہ علم ہے جو عقل کے دائرہ کار میں رہ کر حاصل کیا جاتا ہے اور ظاہری ذرائع سے حاصل ہوتا ہے مثلاً کسی مدرسہ، سکول،  کالج اور یونیورسٹی میں اساتذہ کے وسیلے سے یا کتب کے مطالعہ اور درس و تدریس سے۔ 

علم ِحضوری سے مراد وہ علم ہے جو بغیر کسی ظاہری وسیلہ اور ذریعہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتا ہے یعنی اس کے حصول میں خارجی یا بیرونی ذرائع کا عمل دخل نہ ہو بلکہ قلبی و روحانی طور پر منجانب اللہ انسان کے قلب پر القا کیا گیا ہو۔ علم ِحضوری بذریعہ وھم، الہام، کشف، دعوت، مراقبہ، تفکر وغیرہ سے حاصل ہوتا ہے۔ 

امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’علم لدنیّ وہ علم ہے جس کے حصول میں نفس اور حق تعالیٰ کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو۔ علم لدنیّ بمنزلہ روشنی کے ہے کہ سراجِ غیب سے قلب ِصاف و شفاف پر واقع ہوتی ہے۔‘‘
علم حصولی کا مآخذ عقل ہے جبکہ علم ِحضوری کا مآخذ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کو ہر علم عطا فرمایا جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:
عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا (البقرہ۔31)
ترجمہ: آدم کو تمام اسما کا علم سکھایا۔
عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا
لَمْ یَعْلَمْ
(العلق۔5)
ترجمہ: انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام انسانِ کامل ہیں اور آپؐ کائنات میں سب سے بڑھ کر علم والے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تمام علوم خارجی اور ظاہری ذرائع سے حاصل نہیں کیے بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو علم سکھایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
عَلَّمَہٗ شَدِیْدُ الْقُوٰی ( النجم ۔5) 
ترجمہ: اور انہیں بڑی قوتوں والے (ربّ) نے علم سکھا یا ۔ 
حضرت اما م حسینؓ کی تصنیف مبارکہ مرآۃالعارفین کی شرح میں تحریر ہے:
جب اللہ تعالیٰ انسانِ کامل پر تمام علم کھول دیتا ہے تو کائنات کی ہر شے کا علم اس کی اپنی ذات کے اندر سے اُسے حاصل ہو جاتا ہے اور کسی بھی شے کے متعلق جاننے کے لیے اسے اس شے کی طرف رجوع نہیں کرنا پڑتا۔ اب وہ خود کو جاننے سے تمام مخلوقاتِ عالم کو جان لیتا ہے اور خود کو جاننے سے ہی حق تعالیٰ کو جان لیتا ہے کیونکہ تمام حقائق ِالٰہیہ و کونیہ اسی کی ذات میں جمع ہیں جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’میں تمام کائنات کو اپنی ہتھیلی کی پشت پر دیکھتا ہوں‘‘ اور اولیا کاملین کے سامنے بھی تما م کائنات رائی کے دانے کے برابر حقیقت رکھتی ہے جس کا تماشہ وہ اپنی ہتھیلی پر دیکھتے ہیں۔ 
پس کسی بھی انسان کے علم ِ حق و خلق کو جاننے کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے نفس کے پردے کے پیچھے چھپی ہو ئی روحِ قدسی اور نورِ محمدی یعنی لوح و قلم پر موجود علم تک رسائی حاصل کرے۔ جس قدر اس کے نفس کا پردہ صاف و شفاف ہو گا اسی قدر علم ِ حق و خلق اس پر ظاہر ہو گا۔ حقیقت اور حق تک رسائی نفس تک رسائی کے بغیر ممکن نہیں۔ جب انسان اپنے نفس پر پڑی خواہشاتِ نفسانی و شیطانی کی گرد و سیاہی کو دُور کرکے اس کی اصل شفاف و لطیف حالت حاصل کر لیتا ہے تو ہی حقیقت اور حق کو پہچان پاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا ’’جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے ربّ کو بھی پہچان لیا اور تمام اشیا کی حقیقت کو جان لیا ۔‘‘ 
جب نفس آئینے کی مانند شفاف ہو جاتا ہے اور انسان اس کے توسط سے لوحِ قلب پر لکھی حقیقت پر نظر جماتا ہے تو آہستہ آہستہ انسان کی نظر سے نفس کا یہ آئینہ اوجھل ہونے لگتا ہے اور پھر اس کی نظر کے سامنے صرف حقیقت رہ جاتی ہے اور اپنے نفس سے وہ غائب ہو جاتا ہے یعنی نفس موجود ہو کر بھی نہیں رہتا اور یہ حالت صرف انسانِ کامل کے لطیف نفس کی ہے۔ نفس وہ شے ہے جو انسان اور ربّ کے درمیان حائل ہے لیکن انسانِ کامل کا نفس اپنی لطا فت کی بنا پر ہو کر بھی نہیں رہتا۔ چنانچہ انسانِ کامل میں صرف حق ر ہ جاتا ہے۔
 انسان کو اپنی اور اپنے ربّ کی پہچا ن سے اتنا ہی حصہ ملے گاجتنا وہ کوشش کرے گا کیونکہ
لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّامَا سَعٰی ( النجم ۔39)
  ترجمہ: انسان کے لیے اتنا ہی ہے جتنی وہ کوشش کرے گا ۔ (ترجمہ و شرح مرآۃ العارفین)
اسی طرح اولیا کرام اور فقرا کاملین کو بھی اللہ تعالیٰ بذریعہ وھم، الہام، مراقبہ، تفکر یا کشف کے ذریعے علوم عطا کرتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ خود اپنے متعلق فرماتے ہیں: 
مجھے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو ظاہری علم حاصل نہیں تھا لیکن وارداتِ غیبی کے سبب علم ِباطن کی فتوحات اس قدر تھیں کہ کئی دفتر درکار ہیں۔ (عین الفقر)
بلکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ہیچ تالیفے نہ در تصنیف ما
ہر سخن تصنیف ما را از خدا
علم از قرآن گرفتم و ز حدیث
ہر کہ منکر میشود اہل از خبیث

ترجمہ: میری تصنیف میں کوئی تالیف نہیں ہے اور میری تصنیف کا ہر حرف اللہ کی طرف سے ہے۔ اس میں بیان کردہ ہر علم قرآن و حدیث کے مطابق ہے جو کوئی ان کا منکر ہو وہ خبیث ہے۔
حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے مندرجہ بالا فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ آپؒ کی تمام تر تصانیف الہامی ہیں کیونکہ آپؒ نے کوئی بھی ظاہری علم حاصل نہیں کیا لیکن پھر بھی اللہ کی طرف سے عطا کردہ علم لدنی کی بنا پر آپؒ نے 140 کتب تصنیف فرمائیں۔
علم ِلدنی ازلی فیض فضل کی توفیق سے حاصل ہو تا ہے یہ حلال کھانے، سچ بولنے او ر مشاہدہ حضور یٔ ذات سے حاصل ہو تا ہے ۔ یہ مراتب ِ قرب وصال حضوری اور معرفت ِ خداوندی سے حاصل ہو تا ہے ۔ یہ قرآن او ر حدیث سے ہٹ کر ایسا علم ہے جو اللہ صرف اپنے خاص بندوں کو عطا کرتا ہے۔ اللہ اپنے دوستوں میں جسے چاہتا ہے اُسے یہ علم اپنی مرضی سے دیتا ہے اور جتنا چاہتا ہے اتنا عطا کرتا ہے یعنی اس کی کوئی حد نہیں۔ اس علم ِ لدنی ّکو علم ِ غیب بھی کہتے ہیں۔ 

سیّدنا غوث الاعظمؓ اپنی کتاب الفتح الربانی میں علم ِ لدنیّ کے بارے میں فرماتے ہیں:
 خدا تعالیٰ غیب کاجاننے والا ہے ۔ وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اس کے جسے پسند فرمائے۔ غیب خدا ہی کے پاس ہے اُس کے قریب آ تا کہ اُس کو اور اُس کے پاس کی چیز غیب کو بھی دیکھ سکے۔  (الفتح الربانی)

حضرت سخی سلطان باھُوؒ اس علم ِغیب کے متعلق فرماتے ہیں:
علم ِ غیب کو خاص طور پر صرف خدا جانتا ہے اور خدا اپنے خاص بندوں کو یہ خاص علم سکھا دیتا ہے جیسا کہ علم ِ لدّنی ہے۔ اس میں دل کے اندر سے دلیل او ر خیا ل پیدا ہو تا ہے اور وہ راہِ باطن سے آگاہ ہو جا تا ہے ۔ اور بعض کو قرب قدرتِ الٰہی سے الہا م اور پیغام ملتا ہے ۔ یہ راہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عطا کرد ہ ہوتی ہے جو اس سے انکا ر کرے ‘ وہ مردود ہے مردہ دل اور سیاہ باطن ہے جیفہ مردار دنیا اور دنیاوی عزو جاہ کا طالب ہے ۔  (عقل ِبیدار)

اللہ تعالیٰ کی ذات غیب میں ہے اور ظاہری آنکھوں سے پوشیدہ ہے اس ذات کو دیکھنا اور اس کی معرفت کا علم حاصل کرنا بھی علم ِلدّنی میں شامل ہے بلکہ ہر ظاہر و غیب شے کا حقیقی علم اگر اللہ تعالیٰ باطنی طور پر انسان کے قلب پروارد فرمائے تو وہ علم لدنیّ ہے۔

حضرت سخی سلطان باھُوؒ اپنی کتاب سلطا ن الوھم میں فرماتے ہیں:
اگر کو ئی غیب (باطن) میں اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے تو اسلام میں اللہ کے سامنے جانا جائز ہے۔ 
مزید فرماتے ہیں اے پروردگار! مجھے حضوری بخش دے کہ میرے میں اتنی طاقت نہیں کہ میں غیب (باطن) میں آسکوں۔ انسانِ کامل اور منتہٰی واصل عالم ِ غیب (اللہ تعالیٰ) سے کسی چیز کو خواہش کرتا ہے تو سب سے پہلے اس چیز کا علم حاصل کرتا ہے جس کو من لدنی کہتے ہیں۔ (سلطان الوھم)
قرآن پاک میں علم لدنیّ کے حوالے سے بیشمار مثالیں موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام یا وھم اپنے انبیا یا ان سے متعلقہ لوگوں سے کلام کیا جیسا کہ حضرت موسیٰ ؑکی والدہ کو الہام کے ذریعے یہ خبر اور آگاہی دی گئی کہ کس طرح موسیٰ ؑ کو صندوق میں بند کر کے پانی میں بہا دیں تاکہ ان کی جان بچ جائے جس وقت فرعون کی جانب سے ہر پیدا ہونے والے بچے کو قتل کر دینے کا حکم جاری ہو چکا تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور ہم نے موسیٰ ؑ کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم انہیں دودھ پلاتی رہو پھر جب تمہیں ان پر (قتل کر دئیے جانے کا) اندیشہ ہو جائے تو انہیں دریا میں ڈال دینا اور نہ تم (اس صورتحال سے) خوفزدہ ہونا اور نہ رنجیدہ ہونا۔ بیشک ہم انہیں تمہاری طرف لوٹانے والے ہیں اور انہیں رسولوں میں (شامل) کرنے والے ہیں۔ (قصص۔7)

کوئی بھی ماں اپنے بچے کو پانی میں بہانے کا تصور بھی نہیں کر سکتی لیکن صندوق میں بند کر کے پانی میں بہانے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے دل میں بات ڈالی اور وہ یقین کے ساتھ اس بات سے آگاہ ہو گئیں کہ بیشک اس عمل سے اللہ تعالیٰ ان کے بچے کی جان کو محفوظ رکھے گا۔ پس وہ صندوق پانی پر بہتا ہوا فرعون کی بیوی آسیہ کے ہاتھ لگا اور اس نے اس بچے کو اپنی حفاظت میں لے لیا اور جب آسیہ نے بچے کو دودھ پلانے کے لیے اپنے محل میں دائیاں بلوائیں تو حضرت موسیٰ ؑکی والدہ بھی تشریف لے گئیں اور اُن کو ہی حضرت موسیٰ ؑکو دودھ پلانے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس طرح اللہ پاک نے اُن کو حضرت موسیٰ ؑ سے دوبارہ ملوا کر اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ 

قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ظاہری شریعت کے نمائندے تھے جبکہ خضر علیہ السلام باطنی اور لدنیّ علم کے نمائندے تھے۔ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:
وَ عَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا(سورۃ الکہف۔65)
ترجمہ: اور ہم نے اسے اپنا علم لدنیّ سکھایا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی علم لدنیّ سیکھنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے حضرت خضر ؑ کی ہمنشینی کی درخواست کی لیکن حضرت خضر ؑ نے کہا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کر سکیں گے۔ لیکن حضرت موسیٰ ؑ نے انہیں یقین دلایا کہ وہ صبر کریں گے اور کسی بات کی خلاف ورزی نہ کریں گے۔ خضر ؑ نے بھی انہیں متنبہ کیا کہ میرے ساتھ ضرور رہیں لیکن مجھ سے کسی چیز کے متعلق سوال نہیں کریں جب تک وہ خود انہیں آگاہ نہ کریں۔ پس حضرت خضر ؑ نے کشتی میں سورخ کر دیا، ایک چھوٹے بچے کو قتل کر دیا اور ٹوٹی ہوئی دیوار کو دوبارہ سے تعمیر کر دیا۔ ہر موقعہ پر موسیٰ ؑ نے حیران ہو کر ان سے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا تو خضر ؑ نے جواب دیا کہ میں پہلے ہی کہتاتھا کہ آپ صبر نہ کر سکیں گے۔  ظاہری علوم کا تعلق چونکہ عقل و فہم سے ہے اور یہ ظاہری ذرائع و اسباب پر تکیہ کرتی ہے اس لیے سوال پیدا کرتی ہے اسی لیے حضرت خضر علیہ السلام کے وہ تمام امور جن کی حقیقت سے وہ بذریعہ علم ِلدنیّ آگاہ تھے‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام ان تمام امور کی حقیقت سے ناآشنائی کے باعث خود کو سوال اور اعتراض کرنے سے نہ روک سکے جس کے بعد خضر ؑ نے انہیں تمام امور کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے جدائی اختیار کی۔ اس واقعہ کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:

وہ جو کشتی تھی سو وہ چند غریب لوگوں کی تھی وہ دریا میں محنت مزدوری کیا کرتے تھے پس میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار کر دوں اور (اس کی وجہ یہ تھی کہ) ان کے آگے ایک (جابر) بادشاہ تھا جو ہر (بے عیب) کشتی کو زبردستی چھین رہا تھا۔ اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ صاحب ِ ایمان تھے پس ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ (اگر زندہ رہا تو کافر بنے گا اور) ان دونوں کو (بڑا ہو کر) سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا۔ پس ہم نے ارادہ کیا کہ ان کا ربّ انہیں (ایسا) بدل عطا فرمائے جو پاکیزگی میں اس (لڑکے) سے بہتر ہو اور شفقت و رحمدلی میں (اپنے والدین سے) قریب تر ہو۔ اور وہ جو دیوار تھی تو وہ شہر میں (رہنے والے) دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لیے ایک خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ صالح (شخص) تھا سو آپ کے ربّ نے ارادہ کیا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے ربّ کی رحمت سے وہ اپنا خزانہ (خود ہی) نکالیں اور میں نے (جو کچھ بھی کیا) کچھ بھی ازخود نہیں کیا۔ یہ ان (واقعات) کی حقیقت ہے جس پر آپ صبر نہ کر سکے۔ (سورۃ الکہف۔79-82)

قرآن پاک میں حضرت مریم علیہا السلام کا واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ حضرت مریم ؑ نیک اور پاکباز خاتون تھیں اور وہ حضرت زکریا علیہ السلام کی نورانی صحبت سے فیض یافتہ تھیں۔ ہمیشہ خلوت میں اللہ کی عبادت میں مصروف رہتیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بذریعہ فرشتہ ٔ وحی بیٹے کی بشارت دی جس کا قرآنِ پاک میں ان الفاظ کے ساتھ تذکرہ کیا گیا ہے:

اور (اے حبیب ِمکرّم!) آپ کتاب (قرآن مجید) میں مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیجئے جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (عبادت کے لئے خلوت اختیار کرتے ہوئے) مشرقی مکان میں آگئیں۔ پس انہوں نے ان (گھر والوں اور لوگوں) کی طرف سے حجاب اختیار کر لیا (تاکہ حسن ِمطلق اپنا حجاب اٹھا دے) تو ہم نے ان کی طرف اپنی روح (یعنی فرشتہ جبرائیل) کو بھیجا سو (جبرائیل) ان کے سامنے مکمل بشری صورت میں ظاہر ہوا۔ (مریم علیہا السلام نے) کہا: بیشک میں تجھ سے (خدائے) رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو (اللہ سے) ڈرنے والا ہے۔ (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: میں تو فقط تیرے ربّ کا بھیجا ہوا ہوں (اس لئے آیا ہوں) کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں۔ (مریم علیہا السلام نے) کہا: میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔ (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: (تعجب نہ کر) ایسے ہی ہوگا، تیرے ربّ نے فرمایا ہے۔ یہ (کام) مجھ پر آسان ہے اور (یہ اس لئے ہوگا) تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشانی اور اپنی جانب سے رحمت بنادیں اور یہ امر (پہلے سے) طے شدہ ہے۔ (سورۃ مریم 16-21)

اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ حاملہ ہو گئیں اور آبادی سے دور رہنے لگیں۔ وہ اسی پریشانی میں مبتلا تھیں کہ جب وہ اس بچے کو ساتھ لے کر بستی میں واپس جائیں گی تو کیا جواب دیں گی کہ بچہ کس کا ہے!  جب بچے کی ولادت کا وقت قریب آیا تو وہ ایک کھجور کے درخت کے ساتھ بیٹھ گئیں۔ بذریعہ الہام انہیں کھجور کے درخت کو ہلانے کا حکم ہوا تاکہ کھجور کے درخت کو ہلانے پر کھجوریں نیچے گریں اور وہ ان کھجوروں کو کھا کر فرحت محسوس کریں۔ الہام کے ذریعے ہی انہیں خاموش رہنے اور صبر کرنے کی تلقین کی گئی۔ اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

 پس مریم نے اسے پیٹ میں لے لیا اور (آبادی سے) الگ ہو کر دور ایک مقام پر جا بیٹھیں۔ پھر دردِ زہ انہیں ایک کھجور کے تنے کی طرف لے آیا، وہ (پریشانی کے عالم میں) کہنے لگیں: اے کاش! میں پہلے سے مرگئی ہوتی اور بالکل بھولی بسری یاد ہوچکی ہوتی۔ پھر ان کے نیچے کی جانب سے (جبرائیل نے یا خود عیسٰی علیہ السلام نے) انہیں آواز دی کہ تو رنجیدہ نہ ہو، بیشک تمہارے ربّ نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے (یا تمہارے نیچے ایک عظیم المرتبہ انسان کو پیدا کر کے لٹا دیا ہے)اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ وہ تم پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرا دے گا۔ سو تم کھاؤ اور پیو اور (اپنے حسین و جمیل فرزند کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ پھر اگر تم کسی بھی انسان کو دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے (خدائے) رحمن کے لیے (خاموشی کے) روزہ کی نذر مانی ہے سو میں آج کسی انسان سے قطعاً گفتگو نہیں کروں گی۔ (سورۃ مریم 22-26)

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم ؑ کے لیے الہام ہی علم لدنیّ کا واسطہ تھا جس کے ذریعے انہیں معلوم ہوا کہ جب دردِ زہ ہو تو وہ ایک کھجور کے تنے کی طرف چلی جائیں۔ اور کھجور کے درخت کو ہلانے، کھجوریں کھانے، بچے کو لے کر واپس اپنی بستی میں جانے اور خاموشی کا روزہ رکھنے کے متعلق تمام علم بذریعہ الہام ہی عطا کیا گیا۔ جس سے اُن کو یقین تھا کہ یہ اللہ پاک کا حکم ہے ورنہ اُن کے ذہن میں تو یہ آرہا تھا کہ کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاؤں اور بھولی بسری یاد ہو جاؤں۔ و ہ کہیں اور بھی جاسکتی تھیں۔ لیکن جب اُن کے دل میں خیال آیا کہ واپس جا کر جب میرے لوگ مجھ سے پوچھیں گے کہ بچہ کہاں سے آیا جبکہ تم تو کنواری تھی تو میں کیا جواب دوں گی۔ اللہ پاک نے اسی وقت الہامًا انہیں بتایا کہ تم اُن لوگو ں سے کہنا میرا روزہ ہے آپ لوگ اس بچے سے خود ہی پو چھ لیں۔ جب وہ اپنے لوگوں میں واپس گئیں تو بالکل ایسا ہی ہوا تو اُنہوں نے بچے کی طرف اشارہ کر دیا۔ بچہ بولا میں خدا کا بندہ ہو ں میرا نام عیسیٰ ہے اللہ نے مجھے آپ کی طرف نبی بنا کر بھیجا ہے اور مجھے کتاب بھی دی ہے۔ 

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ روایت فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپؓ نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا کہ میرے بعد میرے اہل و عیال میں تیرے سوا کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جس کو غنی دیکھنا مجھے زیادہ محبوب ہو اور تیرا تنگ دست ہونا بھی مجھ پرشاق ہے میں نے تمہیں عالیہ کی زمین سے بیس وسق کھجوریں عطا کی تھیں ۔ یہ وُرثا کا مال ہے اور تیرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ میں نے عرض کی میری تو ایک ہی بہن اسماء ؓ ہے آپ ؓ نے ارشاد فرمایا کہ خارجہ کی بیٹی (یعنی اُن کی اہلیہ) حاملہ ہے اور میرے دِل میں یہ خیال آیا ہے کہ یہ لڑکی ہے پس اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا‘‘۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے وصال کے بعد اُمِ کلثوم پیدا ہوئیں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کے دل میں پہلے ہی یہ خیال منجانب اللہ القا ہو چکا تھا کہ ان کے گھر بیٹی کی ولادت ہوگی۔ یہ واقعہ بھی علم ِلدنیّ پر دلیل ہے۔

حضرت عثمان غنی ؓ کے پاس ایک شخص آیا جس کاراستہ میں ایک عورت سے آمنا سامنا ہو گیا تھا اور اس کی نظر اس عورت پر پڑ گئی تھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اسے فرمایا کہ تم میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں کہ ان کی آنکھوں میں زنا کا اثر ہوتا ہے تو اس شخص نے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد بھی وحی نازل ہوتی ہے؟ تو آپؓ نے فرمایا’’ نہیں ۔ یہ تو مومن کی فراست ہے۔‘‘ 

حضرت عثمان غنی کا باطنی فراست سے اس عمل کو جان لینا علم ِلدنیّ پر دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس واقعہ سے آگاہ کیا۔

حضرت اصبغ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ تھے اور حضرت امام حسینؓ کے روضہ کی جگہ سے گزرے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ارشاد فرمایا ’’یہ اُن کی سواریوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور یہ اُن کے خیموں کی جگہ ہے اور یہ وہ جگہ ہے جہاں اُن کا خون بہایا جائے گا اور اس میدان میں آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نوجوان شہید کیے جائیں گے جن پر زمین و آسمان نوحہ کناں ہوں گے۔‘‘ حضرت علی ؓ نے اہل ِکوفہ سے مخاطب ہو کر فرمایا ’’تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہل ِ بیتؓ تشریف لائیں گے اور تم سے مدد طلب کریں گے لیکن تم ان کی مدد نہیں کرو گے۔‘‘

حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے واقعہ حتیٰ کہ سواریوں کے باندھنے کی جگہ اور شہادت کی جگہ سے آگاہ کر دینا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے علم لدنیّ کی بہترین مثال ہے جس سے وہ بذریعہ کشف آگاہ ہو چکے تھے۔

حضرت اویس قرنی ؓ کی ذات بھی دراصل علم ِ لدنیّ ( علم ِ باطن ) کے ساتھ ساتھ علم ِظاہر کی جامع تھی۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ تھاکہ اویس قرنی ؓ کو اصلاحِ نفس، تجلیہ روح اور مجاہدات و ریاضت سے اتنی فرصت نہ تھی کہ علم ِ ظاہر کو مشغلہ ٔحیات بناتے اور حجرۂ عبادت سے نکل کر مسند ِ علم پر بیٹھتے۔ دوسرا اُنہیں شہرت اور نمود سے اتنی نفرت تھی کہ قاضی، مفتی اور محدث کے لقب سے مشہور ہونا بھی پسند نہ کرتے تھے۔ اویس قرنیؓ نے ایک موقع پرفرمایا: 

مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی احادیث اسی طرح پہنچتی ہیں جس طرح تم کو پہنچتی ہیں لیکن میں اپنے اوپر ان کا دروازہ کھول کر محدث، قاضی اور مفتی بننا پسند نہیں کرتا۔ میں شہرت کو ناپسند اور خلوت کو پسند کرتا ہو ں ۔ ارکانِ اسلا م کی پابندی نے ان کے باطن کو روشن اور منور کرکے رکھ دیا تھا ۔ 

اسی طرح جو لوگ اللہ کی آیات اور اس کی نشانیوں میں غور و فکر کرتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ اپنے راز آشکار کرتا جاتا ہے اور انہیں ان اسرار پر مطلع فرماتا ہے جس سے عوام ناآشنا ہوتی ہے۔

اسی طرح جب ایک طالب ِ مولیٰ اللہ کی معرفت اور قرب کے حصول کے لیے ایک مرشد کامل اکمل کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے تو مرشد کامل اکمل اس طالب کے نفس کے تزکیہ کے ساتھ ساتھ اسے علم لدنیّ بھی عطا کرتا ہے جس کی بدولت طالب اللہ کی معرفت حاصل کر پاتا ہے۔ مرشد اپنے سینے سے علم ِ لدنیّ طالب کے سینہ میں منتقل کر کے اُس کو ایک عام طالب سے ایک سچا، مخلص اور وفادار عاشق بنا دیتا ہے اور یہ تب ممکن ہو تا ہے جب طالب اپنی وفا، خلوص اور یقین سے مرشد کو راضی کرتا ہے۔ انسان جس قدر اپنے نفس کو پہچان کر مطمئنہ کامقام حاصل کرے گا اسی قدر اسے علم لدنیّ حاصل ہوتا جائے گا۔ 

مادیت پرستی اور فتنہ پروری کے اس دور میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الا قدس اپنی نگاہ ِ کامل سے زنگ آلودہ قلوب کا تزکیہ کر کے اپنے علم ِ لدنیّ کے ذریعے طالبانِ مولیٰ بنا کر نورِ فقر سے مستفید فرمارہے ہیں۔ طا لبانِ صادق کے لیے دعوتِ عام ہے کہ وہ بھی سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الا قدس کی عظیم المرتبت اور بلندپایہ ہستی سے مستفید ہوں۔

 استفادہ کتب:
الفتح الربانی تصنیف سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ
عین الفقر تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ
عقل ِ بیدار ایضاً
سلطان الوھم ایضاً

 
 
 

35 تبصرے “علم ِ لد نّی | Ilm-e-Ladunni

    1. ماشااللہ
      علم دو طرح کے ہیں: علم ِ حصولی اور علم ِ حضوری یا علم ِ لدنیّ ۔

  1. ماشاﷲ۔ بہترین بلاگ ہے۔
    ﷲ ہمیں اپنا قرب اور اپنا علم عطا فرمائے۔ آمین
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #spirituality #sufism #islam #faqr #ilmeladunni

  2. علم سے مراد ہے آگاہی، واقفیت اور جاننا۔ یعنی کسی شے کے متعلق خبر یا اطلاع کا ملنا اس شے سے آگاہی اور واقفیت کا سبب ہے۔
    علم دو طرح کے ہیں: علم ِ حصولی اور علم ِ حضوری یا علم ِ لدنیّ

  3. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس حضرت سخی سلطان باھوؒ کے حقیقی وروحانی وارث ہیں اورموجودہ دورکے مرشد کامل اکمل اور سلسلہ سروری قادری کے امام ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس بیعت کے فوراً بعد اسمِ اعظم کا آخری ذکرعطا فرماتےہیں۔

  4. MashaAllah
    sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #spirituality #sufism #islam #faqr #ilmeladunni

اپنا تبصرہ بھیجیں