martaba-fnna-fi-Shaikh-final-image

مرتبہ ٔ فنا فی الشیخ | Martaba Fana-Fi-Shaikh

مرتبہ ٔ فنا فی الشیخ

تحریر: مسز عنبرین مغیث سروری قادری

فنا فی الشیخ راہِ فقر کے عظیم الشان مقامات میں سے ہے۔ فنا فی الرسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہو کر رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو پا لینے اور فنا فی اللہ بقاباللہ ہو کر اللہ کی پاک ذات کو اپنی ذات میں حق الیقین سے پا لینے سے قبل فنا فی الشیخ کی منزل طے کرنا ناگزیر ہے۔ راہِ فقر کے طالبوں کے لیے فنا فی الشیخ کا مقام ہمیشہ سے بہت پُرکشش لیکن پُراسراریت کا حامل رہا ہے کیونکہ شیخ (مرشد) ان کو اپنے سامنے جیتے جاگتے گوشت پوست کے وجود کے ساتھ نظر آرہا ہوتا ہے۔ اس کے وجود میں فنا ہونے کا تصور طالب کے وہم و فہم سے بالاتر ہوتا ہے۔ لیکن طالب میں مرشد کے شدید عشق کا جذبہ اسے شیخ کی ذات میں فنا ہونے کے لیے دن رات بے چین و بے قرار بھی رکھتا ہے۔ فقر میں سب سے مشکل کام اور ہر جدوجہد کا حاصل فنا فی الشیخ ہی ہے۔ شیخ چونکہ پہلے ہی فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ کے مقام پر ہوتا ہے اس لیے فنا فی الشیخ کے مقام تک رسائی کے بعد فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ کے مقام تک پہنچنا کچھ خاص مشکل نہیں رہتا۔ اصل ہمت اور کوشش فنا فی الشیخ کے مقام تک پہنچنے کے لیے ہی کی جاتی ہے۔

فنا فی الشیخ حقیقتاً کیا ہے؟ 

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مرتبہ فنا فی الشیخ یہ ہے کہ طالب کا جسم شیخ کا جسم، طالب کی گفتگو شیخ کی گفتگو، طالب کے احوال شیخ کے احوال بن جاتے ہیں۔ عادات و خصائل میں، صورت میں، سیرت میں طالب اپنے شیخ جیسا ہو جاتا ہے اور سر سے لیکر قدموں تک طالب کا وجود شیخ کے وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

یہ مرتبہ مرشد کے شدید عشق، قرب، محبت اور جان توڑ اطاعت سے حاصل ہوتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
طالب ِ صادق کا مرشد کامل سے تعلق اس قول کے مطابق ہوتا ہے لَحْمُکَ لَحْمِیْ وَ دَمُکَ دَمِیْ ترجمہ: ’’میرا گوشت تیرا گوشت، میرا خون تیرا خون‘‘۔ وہ مرشد کامل کے عشق میں سوختہ رہتا ہے، اپنی جان کو مرشد پر قربان کر دیتا ہے، سوزشِ عشق سے اس کا دل چاک چاک ہو جاتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

جب تک مرشد سے اس قدر شدید عشق نہ ہوگا طالب کی اپنی ہستی فنا ہوگی اور نہ ہی اس میں مرشد کی ذات آئے گی۔ جس طالب کو مرشد سے ’’عشق‘‘ نہ ہوگا وہ مرشد پر اپنی ہستی لٹا دینے سے بھی دریغ کرے گا اور اطاعت میں بھی کمی و کوتاہی رہ جائے گی۔ پس فنا فی الشیخ کے اعلیٰ ترین مقام تک رسائی مشکل ہو جائے گی اور جو فنا فی الشیخ کی ابتدائی منزل تک نہ پہنچ پائے گا اس کا فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ کے مقام تک پہنچنا ناممکن ہے یعنی طالب کی اللہ کی ذات کو پانے کی آرزو کبھی تکمیل کو نہ پہنچ سکے گی۔

یہ حقیقت ہے کہ راہِ سلوک پر سفر کے آغاز میں طالب مرشد سے اتنا شدید عشق نہیں کر پاتا کیونکہ ابھی اس کے دل میں اس کے دنیاوی رشتوں ماں باپ، بہن بھائی اور اولاد وغیرہ کی محبت بھی موجود ہوتی ہے لیکن ذکر و تصور ِ اسم ِ اللہ ذات اور مرشد کی لگاتار صحبت سے آہستہ آہستہ اس کا دل فانی محبتوں سے آزاد ہوتا جاتا ہے اور مرشد کامل اکمل، جو مظہر ِ ذاتِ حق تعالیٰ ہے، کا حقیقی عشق اسے حاصل ہونے لگتا ہے بشرطیکہ اس کا مرشد کامل اکمل ہو اور طالب کو اس کا کامل یقین بھی ہو۔ مرشد کے شدید عشق کے حصول سے قبل طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ کم از کم ’توحید ِ مُطلب‘ تک ضرور بالضرور پہنچے۔

توحید ِ مُطلب

 حضرت شاہ سیّد محمد ذوقی رحمتہ اللہ علیہ توحید ِ مُطلب کی تعریف ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
 اپنے شیخ کی جانب یکسوئی، اس سے انتہا درجہ کی محبت اور جان و مال سے بھی زیادہ اسے عزیز رکھنا اور یہ سمجھنا کہ گو دنیا میں ہزاروں لاکھوں بزرگ ہوں مگر میرا مطلب میرے ہی شیخ سے حاصل ہوگا اور میرے فتح ٔباب کی کنجی میرے ہی شیخ کے ہاتھ میں ہے، توحید ِ مُطلب کے نام سے موسوم ہے۔ اخذ ِ فیضان کے لیے توحید ِ مُطلب کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ جب تک اپنے شیخ کے ساتھ اس نوع کی یکسوئی کا تعلق پیدا نہ ہوگا اخذ ِ فیضان نہ ہو سکے گا۔ 

دوئی بمذہب ِ عشاقِ معنوی کفر است
خدا یکے و پیمبر یکے و پیر یکے

ترجمہ: حقیقی عشاق کے مذہب میں دوئی کفر ہے۔ اللہ بھی ایک ہے، پیغمبر بھی ایک ہے اور پیر ِ کامل بھی ایک ہے۔ (سرّ ِ دلبراں)

توحید ِ مُطلب تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ طالب اپنے نفس اور شیطان سے جہاد کرے جن کا سب سے بڑا وار یہ ہے کہ وہ طالب کے دل میں مسلسل یہ وسوسے ڈالتے رہتے ہیں کہ ان کا پیر کامل نہیں ہے، یا یہ کہ وہ جس راستے پر چل رہے ہیں وہ غلط ہے، ان کا پیر انہیں گمراہ کر رہا ہے۔ یا کبھی والدین، شریک ِ حیات یا اولاد کی محبت کی طرف طالب کی توجہ مبذول کروا کر مرشد سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی مالی و معاشی مسائل میں الجھا کر حق سے دور رکھتے ہیں، ایسے میں طالب ِصادق پر جہاد بالنفس لازم اور واجب ہو جاتا ہے جسے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جہادِ اکبر قرار دیا ہے۔ طالب اگر اپنی پوری قوت اور ہمت سے ان وسوسوں سے لڑے اور اپنی توجہ کسی صورت بھی اپنے مرشد سے نہ ہٹنے دے اور نہ ہی اس کے خلاف کسی بد خیال کو اپنے دل میں جگہ دے تو جلد ہی کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔ وسوسوں کی حالت میں طالب کو کثرت سے ذکر ِ اسم ِ اللہ ذات کرنا چاہیے اور سورۃ الناس کے ورد کے طور پر اللہ سے مدد اور پناہ طلب کرنی چاہیے ان وسوسے ڈالنے والوں کے خلاف خواہ وہ جن شیطان ہوں یا انسان شیطان۔ کہا جاتا ہے کہ انسانی شیطان جن شیطان سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ وہ طالب کے پیارے رشتہ داروں کی صورت اختیار کر کے اس کو اللہ سے دور کرتا ہے۔ کبھی والدین کی صورت میں آکر کہتا ہے کہ تم کس راہ پر لگ گئے ہو، چھوڑو یہ کام اور نوکری اور گھربار پر توجہ دو، کبھی بیوی تو کبھی اولاد کی صورت میں آکر طالب کی توجہ اللہ سے ہٹا کر اپنی طرف پھیرنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی عام لوگوں کی صورت میں، جو بلاوجہ مرشدین ِ کاملین کے متعلق گستاخانہ گفتگو کر کے طالب کو ان سے بدظن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں طالب ِ صادق کو چاہیے کہ وہ ہوشیار رہے اور ان لوگوں میں چھپے شیطان کے وار کو پہچانے ورنہ کبھی منزل نہ پا سکے گا۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مرشد تو تمام صحابہ کرامؓ بھی رکھتے تھے پھر دوسرے کون ہوتے ہیں کہ مرشد سے روکیں۔ پس معلوم ہوا کہ مرشد سے وہ شخص روکتا ہے جس کے وجود میں اللہ تعالیٰ کی طلب و معرفت نہیں، جس کا دل مردہ ہے اور جس کے نفس نے اسے معرفت ِ الٰہی اور مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے روک رکھا ہے حالانکہ تعلیم و تلقین و دست ِ بیعت اور ہدایت و ولایت ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سلسلہ چار پیروں اور چودہ خانوادوں سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔

اگر گیتی سراسر باد گیرد
چراغِ مقبولاں ہرگز نمیرد
چراغی را کہ ایزد بر فروزد
ہر آنکس تف زند ریشش بسوزد

ترجمہ: اگر تمام جہان طوفان کی زد میں آ جائے تو بھی بارگاہِ الٰہی میں مقبول لوگوں کے چراغ نہیں بجھیں گے۔ جن چراغوں کو اللہ نے خود روشن کیا ہو اس پر جو بھی پھونک مارے گا وہ اپنی داڑھی خود جلائے گا۔

جو شخص صاحب ِ شریعت مرشد سے روکتا ہے وہ ہدایت ِ الٰہی سے محروم رہتا ہے کیونکہ مرشد طالب کو ذکر ِ اللہ کی راہ پر چلاتا ہے اور ذکر ِاللہ کے بغیر انسان حقیقی مسلمان نہیں ہوتا خواہ عمر بھر قرآن و تفسیر پڑھتا رہے یا نماز و علم ِ فقہ پڑھتا رہے کیونکہ ابتدا سے انتہا تک مسلمانی کی بنیاد ذکر ِ اللہ ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
اگر طالب میں اللہ کو پانے کی سچی لگن ہے تو اُسے چاہیے کہ ہر رکاوٹ اور شیطانی وسوسوں کے باوجود مرشد سے اپنا تعلق استوار رکھے، اس سے کسی صورت بدگمان ہو کر دور نہ ہو۔ ظاہری طور پر والدین، اولاد، گھربار کے تمام فرائض احسن طریقے سے پورے کرے اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے کبھی نہ چھوڑے۔ نہ کسی سے بحث و تکرار کرے، نہ الجھے اور نہ کسی کی باتوں میں آکر اپنا راہِ حق کا راستہ چھوڑے، خاموشی سے باطن میں اپنی توجہ اپنے مرشد اور ذکر ِ اسم ِاللہ  ذات کی طرف رکھے، دل میں آنے والے وسوسوں کو شدت سے رد کرے۔ خود کو یقین دلائے کہ میری طلب سچی ہے مجھے تو صرف اللہ کو پانے کی آرزو ہے، میرا اللہ خود میرا راہنما ہے، وہ مجھے کیسے گمراہ ہونے د ے سکتا ہے، اس نے ضرور مجھے کامل مرشد کے در تک پہنچایا ہوگا کیونکہ اس کا وعدہ ہے ترجمہ: ’’جو ہماری طرف آنے کی جدوجہد کرتے ہیں ہم خود انہیں اپنی راہیں سجھا دیتے ہیں‘‘ (العنکبوت۔69)۔ اپنی ہمت اور توکل اور فضل ِ الٰہی سے جب وہ ان وسوسوں سے رہائی پائے گا تو جلد توحید ِ مُطلب تک پہنچ جائے گا جس کے بعد اس کے فنا فی الشیخ کے سفر کا آغاز ہوجائے گا۔
توحید ِ مُطلب پر پہنچنے کے لیے ایک اور انتہائی ضروری بات خدمت اور اطاعت ِ مرشد ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے ترجمہ: ’’اطاعت کرو اللہ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی اور اس کی جو تم میں سے اولی الامر ہو‘‘ (سورہ النسائ۔59)۔
 اس آیت میں اولی الامر سے مراد وہ کامل اکمل مرشد ہے جو فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ کے مرتبہ پر فائز ہو، جس کا قدم قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہو اور جو حقیقتاً اللہ کا خلیفہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نائب ہو کیونکہ صرف اسی کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کے مطابق ہوگا۔ بعض لوگ اولی الامر سے مراد دنیاوی حکمران بھی لیتے ہیں حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیاوی حکمرانوں کے نہ اعمال اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے احکام کے مطابق ہوتے ہیں اور نہ ان کی طرف سے دئیے گئے احکام اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کے مطابق ہوتے ہیں۔ جس کا حکم اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کے متصادم ہو وہ ہرگز اولی الامر نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ مرشد کامل اکمل ہی وہ حقیقی اولی الامر ہے جس کی اطاعت کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دیا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
پس مرشد وہ ہے جو شروع میں ہی بلا رنج و ریاضت معیت ِ مولیٰ کا اعلیٰ خزانہ حاصل کر لے۔ ایسے مرشد کو اسم ِ اللہ کے مشاہدے میں غرق رہنے والا صاحب ِ حق الیقین مرشد کہتے ہیں۔ جب وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کے قال و اعمال و احوال حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قال و اعمال و احوال جیسے ہو جاتے ہیں اور قالِ محمدی کلامِ الٰہی قرآن اور حدیث ہے۔ اعمالِ محمدی نماز ہے اور حالِ محمدی خلق باخلق ہے۔ الغرض اس کے تمام احوال احوالِ محمدی کے مطابق ہو جاتے ہیں اور احوالِ محمدی استغراقِ نور ’’اللہ‘‘ ہے۔ (محک الفقر کلاں)

اس لحاظ سے مرشد کی خدمت اور اطاعت حقیقتاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت اور اطاعت ہوئی اور بلاشبہ اس سے حاصل ہونے والا فیض والدین، حکام، افسران یا دیگر لوگوں کی اطاعت سے ملنے والے ثواب سے کہیں بڑھ کر ہے۔ درحقیقت مرشد کا درجہ روحانی باپ کا ہے کیونکہ اس کی بدولت طالب کی روح کو حیات حاصل ہوتی ہے، وہی طالب کی روح کا رازق بھی ہوتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
فرمایا گیا ہے ’’شیخ قلب و روح و شریعت کو زندہ کرتا ہے ، نفس و شہوت و ہوا و طمع و حرص اور بدعت کو مار دیتا ہے۔‘‘ ظاہر و باطن میں طالب جس لمحے مرشد سے بد ظن ہوتا ہے  اسی لمحے مردود ہو جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسے فوراً استغفار کرنا چاہیے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

جن لوگوں کی نظر میں جسم کی اہمیت روح سے زیادہ ہے ان کے لیے ان کے جسمانی والدین کی اطاعت زیادہ اہم ہوگی لیکن جو لوگ جانتے ہیں کہ جسم فانی ہے اور ان کی اصل حقیقت ان کی روح ہے جس کو موت نہیں اور جسے سب جزا و سزا بھگتنا ہے، وہ اپنے روحانی والد یعنی مرشد کامل اکمل کی خدمت و اطاعت کو جسمانی والدین کی خدمت و اطاعت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ سورۃ عبس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخْیْہِ۔ وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیْہِ۔ وَ صَاحِبَتِہٖ وَ بَنِیْہِ۔ (سورہ عبس۔34-36)
ترجمہ: اس ( قیامت کے) دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا اور اپنی ماں اور باپ سے (بھی) اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے (بھی)۔
 کیونکہ ان لوگوں کی محبت اور اطاعت نے اسے اللہ سے محبت اور اس کی اطاعت سے روکے رکھا، ان جسمانی رشتوں کو نبھانے کی خاطر اس نے اپنے روحانی رشتے کی پرواہ نہ کی البتہ جس نے روح اور روحانی رشتے کو نبھانے کی فکر و پرواہ کی، اسے نبھانے کے لیے تگ و دو کی اس کی روح روزِ قیامت پریشان حال نہ ہوگی۔ اللہ کی اطاعت اور اللہ سے محبت کے لیے ضروری ہے کہ اولی الامر مرشد کامل کی اطاعت اور خدمت کی جائے جس کی اطاعت کا حکم اللہ نے اپنی اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کے ساتھ دیا ہے۔ 

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جان لو کہ طالب ِ مولیٰ پر پانچ حقوق ہیں؛ پہلا حق ماں باپ کا، دوسرا حق استاد کا، تیسرا حق پیر کا، چوتھا حق مرشد کا اور پنجم حق بیوی کا۔ اور مرشد کا حق ان تمام حقوق سے غالب اور فائق تر ہے کیونکہ مرشد سے معرفت ِ الٰہی کے مراتب حاصل ہوتے ہیں اور طالب حق پر نظر برقرار رکھتا ہے ۔ جیسے ہی طالب قربِ حق کے اس مرتبے پر پہنچتا ہے اس کی نگاہ کو روشن ضمیری حاصل ہو جاتی ہے اور وہ ظاہری طور پر علم ِ تفسیر کا باتاثیر عالم بن جاتا ہے اور دونوں جہان پر حکمران ہوتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ خدمت ِ مرشد، جو فنا فی الشیخ کی طرف پہلا قدم ہے، کے متعلق فرماتے ہیں:
یاد رکھ مرشد کامل کی گھڑی بھر کی خدمت عمر بھر کی اس عبادت سے افضل ہے جو بکثرت کی جائے۔ خدمت ِ مرشد سے انسان کے وجود میں سعادت پیدا ہوتی ہے، وہ سعادت کہ جو اس دائمی عبادت سے افضل ہے جس میں نفس کی مخالفت ہرگز نہ ہو۔ (محک الفقر کلاں)
طالب ِ اللہ پر فرضِ عین ہے کہ وہ دین و دنیا کا کوئی کام بھی مرشد کے حکم و اجازت کے بغیر ہرگز نہ کرے اور اپنا ہر اختیار مرشد کے حوالے کر کے خود بے اختیار ہو جائے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
شوق، لگن اور محنت سے جب طالب یکسوئی کے ساتھ اپنے مرشد کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس کی اطاعت و خدمت میں لگ جاتا ہے تو اُسے توحید ِ مُطلب حاصل ہو جاتی ہے اور فنا فی الشیخ کے مقام کی جانب اس کے سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ فنا فی الشیخ کے تین مراتب ہیں (۱)تصورِ شیخ کا حصول (۲)رابطہ ٔ شیخ (۳)فنا فی الشیخ

تصورِ شیخ

فنا فی الشیخ کے اس ابتدائی مقام پر طالب کو آیت ِ مبارکہفَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ (البقرہ۔115) ترجمہ: ’’تم جدھر دیکھو گے تمہیں اللہ کا چہرہ دکھائی دے گا‘‘ کے مصداق ہر طرف مظہر ِ الٰہی مرشد کامل اکمل کے مبارک چہرے کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اپنے قلب میں بھی آیت ِ مبارکہوَفِیْ اَنْفُسِکُمْ ترجمہ: ’’(اللہ) تمہارے اندر ہے‘‘ کے مطابق مرشد کامل کا چہرہ اور وجود دکھائی دیتا ہے۔ طالب کسی لمحے اور کسی پل بھی تصورِ شیخ سے خالی نہیں ہوتا۔ ہر وقت اسے اپنے مرشد کامل کا نورانی وجود اپنے اردگرد محسوس ہوتا ہے۔ یہ نورانی وجود نہ صرف ہر لمحے شیطان سے اس کی حفاظت کرتا ہے بلکہ اپنے وجود کے احساس کے ذریعے اسے ہر طرح کے ظاہری و باطنی گناہ سے روکے رکھتا ہے۔ سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:
عارف ہر گھڑی دو آنکھوں سے متردد رہتا ہے۔ (الفتح الربانی)

یہ دو آنکھیں مرشد کامل اکمل کی ہوتی ہیں جو ہر دَم اسے دیکھ رہی ہوتی ہیں اور اپنی موجودگی کا احساس دلا کر طالب کو گناہ سے روکتی ہیں کیونکہ انسان کی یہ فطرت ہے کہ اگر کوئی اسے دیکھ رہا ہو تو وہ گناہ سے اجتناب کرتا ہے۔ مرشد کی ہر لمحہ اس کے اندر اور اس کے اردگرد موجودگی کا احساس اُسے ظاہری گناہوں سے بھی روکتا ہے اور باطنی گمراہ کن خیالات سے بھی بچاتا ہے کیونکہ آہستہ آہستہ اسے یہ یقین بھی حاصل ہو جاتا ہے کہ مرشد اس کے تمام نیک و بد خیالات اور ارادوں سے بھی آگاہ ہے۔ پس اس طرح مرشد کامل اپنا تصور اور اپنے قرب کا احساس دے کر طالب کو ہر طرح کے ظاہری و باطنی گناہوں سے بچالیتا ہے۔ اس مرتبے کے متعلق حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جان لو کہ فنا فی الشیخ کے ابتدائی مراتب یہ ہیں کہ طالب صورتِ شیخ کو اپنے تصور میں لاتا ہے تو اگر شیخ کامل ہو تو طالب کے وجود میں قلب کو زندہ کر دیتا ہے اورنفس کو مار دیتا ہے اور طالب کے وجود سے تمام ہوا و ہوس نکل جاتی ہے۔ اور اگر شیخ ناقص ہو تو وہ طالب کے وجود میں نفس کو زندہ اور قلب کو مار دیتا ہے۔ جس سے طالب کے وجود میں مردار کی طلب پیدا ہو جاتی ہے اور وہ مردار کا طالب کتا بن جاتاہے۔ پس معلوم ہوا کہ شیخ ِ کامل کا طالب فنا فی الشیخ کے مراتب تک پہنچتا ہے۔ جسے شیخ ِ کامل نوازتا ہے اس طالب کا مرتبہ ایک ہی بار میں اپنے مرتبہ کے برابر بنا دیتا ہے۔ ایسے طالب کو فنا فی الشیخ کہتے ہیں۔ (کلید التوحید کلاں)

اگر کوئی صورتِ شیخ میں فنا ہو اور وہ گناہوں کی طرف رجوع کرے تو شیخ کی صورت مانع ہو جاتی ہے اور قوت کے ساتھ گناہ و شہوات کے غلبہ سے باز رکھتی ہے۔ جب صاحب ِ صورتِ فنا فی الشیخ سوتا ہے تو وہ صورت توفیق ِ الٰہی سے اس کی رفیق ہوتی ہے اور ہاتھ پکڑ کر توحید و معرفت ِ اِلَّا اللّٰہُ میں غرق کر دیتی ہے اور اگر صاحب ِ صورتِ فنا فی الشیخ مراقبہ میں ہو تو وہ صورت ہاتھ پکڑ کر اسے مجلس ِ محمدیؐ میں لے جاتی ہے اور منصب و مراتب دلاتی ہے۔ یہ باطن صفا فنا فی الشیخ طالب کے مراتب ہیں۔ 

وَ السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی (20:47)
ترجمہ: اور اس شخص پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ (کلید التوحید کلاں)
تصورِ شیخ کی اسی کیفیت کے متعلق حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

کی ہویا جے بت اوڈھر ہویا، دل ہرگز دور نہ تھیوے ھُو
سَے کوہاں تے میرا مرشد وسدا، مینوں وِچ حضور دِسیوے ھُو

یعنی اگرچہ میرے مرشد کامل کا جسم مجھ سے دور ہے لیکن میرے دل سے ہرگز دور نہیں ہے۔ میرا مرشد سینکڑوں میل دور رہتا ہے لیکن وہ تو ہمیں عین حضور دکھائی دیتا ہے۔ (ابیاتِ باھُوؒ کامل)

جب طالب فنا فی الشیخ کے اس ابتدائی درجہ میں ترقی کرتا ہے تو تصورِ شیخ اس پر اس قدر غالب آجاتا ہے کہ نماز اور رکوع و سجود میں بھی اس کی نظروں کے سامنے رہتا ہے۔ ایسے میں کچھ طالب گھبرا جاتے ہیں اور اسے شرک خیال کر کے رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اس مسئلے کو بڑے اچھے انداز میں حل فرمایا ہے۔ آپؒ کے ایک مرید نے آپؒ کو خط لکھا کہ اس کا تصورِ شیخ اس حد تک غالب آچکا ہے کہ وہ نماز میں بھی اپنے شیخ کے تصور کو اپنا مسجود دیکھتا اور جانتا ہے اور اگر فرضاً نفی کرے تو بھی حقیقتاً نفی نہیں ہوتا یعنی نظر کے سامنے سے نہیں ہٹتا۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اپنے اس مرید کو جواب میں لکھا ’’اے محبت کے اطوار والے! یہ دولت طالبانِ حق کی تمنا اور آرزو ہے اور ہزاروں میں سے شاید کسی ایک کو نصیب ہوتی ہے۔ اس کیفیت اور معاملے والا مرید صاحب ِ استعداد اور شیخ سے مکمل مناسبت رکھنے والا ہوتا ہے۔ احتمال ہے کہ شیخ کی تھوڑی سی صحبت سے وہ شیخ کے تمام کمالات کو جذب کر لے۔ تصورِ شیخ کی نفی کرنے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ وہ (شیخ) مسجود الیہ ہے مسجود لہٗ نہیں (یعنی جس کی طرف سجدہ کیا جائے نہ کہ وہ جس کو سجدہ کیا جائے)۔ محرابوں اور مسجدوں کی نفی کیوں نہیں کرتے (نماز کی حالت میں مسجد، مینار، محراب، دیواریں وغیرہ یا دیگر بہت سی چیزیں سامنے ہوں تو بھی نماز میں کسی قسم کی خرابی واقع نہیں ہوتی)۔ اس قسم کا ظہور سعادت مندوں کو ہی میسر آتا ہے تاکہ وہ تمام احوال میں مرشد کامل کو (اللہ تعالیٰ تک پہنچنے اور اسے پہچاننے کے لیے) اپنا وسیلہ جانیں اور اپنے تمام اوقات میں اس کی طرف متوجہ رہیں نہ کہ اس بدنصیب گروہ کی طرح جو اپنے آپ کو (اللہ تک پہنچنے کے لیے ہر قسم کے وسیلے سے) بے نیاز جانتا ہے اور اپنے قبلہ ٔ توجہ کو اپنے شیخ سے پھیر لیتا ہے اور اپنے معاملے کو خراب کر لیتا ہے۔‘‘ (مکتوب نمبر30۔ دفتر دوم، حصہ اوّل،صفحہ101)

آپؒ اپنے مکتوب نمبر 187 (صفحہ 425) میں فرماتے ہیں ’’تصورِ شیخ ذکر ِ الٰہی کرنے سے بھی زیادہ نفع بخش ہے، یعنی نفع کے اعتبار سے مرید کے لیے پیر کا ساتھ اور سایہ اس کے ذکر ِ حق کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہے۔‘‘
حضرت سیالویؒ فرماتے ہیں ’’ہر وقت تصورِ شیخ سے نفسانی خطرات اور شیطانی وسوسوں سے رہائی ملتی ہے یہ رابطہ گناہوں کے مقابلے میں ڈھال ہے۔ ذکر اور تصورِ شیخ سے مرید اپنی منزلِ مقصود تک جلد پہنچ جاتا ہے۔‘‘

رابطہ ٔ شیخ

اگر طالب تصورِ شیخ کے حصول کے بعد اس میں کسی قسم کا شک نہ کرے اور انتہائی محبت اور ذوق و شوق سے اس تصور میں محو رہے اور اس پر استقامت اختیار کرے تو جلد ہی باطن میں اس کا رابطہ اپنے شیخ سے استوار ہو جاتا ہے یعنی طالب و مطلوب، عاشق و معشوق، مرید و مراد میں گفتگو اور ہم کلامی کا ایک انتہائی پُرلطف اور سحر انگیز سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہاں طالب کی روح اپنے مرشد کی روح میں فنا ہونے کے سفر کا آغاز کرتی ہے یعنی روحانی طور پر یکتائی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ نور سے نور ملتا ہے اور بغیر آواز کے روحانی و نورانی گفتگو جاری ہو جاتی ہے۔ اس سلسلہ کو سیر ِ اوھام سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس کے لیے دلیل قرآن کی یہ آیت ہے:
وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ أَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَایِٔ حِجَابٍ أَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآئُ ط اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ  (الشوریٰ۔51) 
ترجمہ:اور ہر بشر کی مجال نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کلام کرے مگر یہ کہ وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے یا (اللہ) کسی فرشتے کو فرستادہ بنا کر بھیجے اور وہ اس کے اِذن سے جو اللہ تعالیٰ چاہے وحی کرے۔ بے شک وہ بلند مرتبہ حکمت والا ہے۔
وحی اور فرشتے کے ذریعے پیغام بھیجنے کا سلسلہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم ِ نبوت کے ساتھ ہی ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا لیکن مِنْ وَّرَایِٔ حِجَابٍ  یعنی پردے کے پیچھے سے کلام کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور یہاں حجاب سے مراد جسم کا حجاب ہے جس نے روح کو اپنے اندر چھپا رکھا ہے۔ چونکہ مرشد کامل اکمل مظہر ِ الٰہی سے گفتگو کا سلسلہ روحانی طور پر ہوتا ہے جس کی ظاہر میں کسی دوسرے انسان کو کوئی خبر نہیں ہوتی اور جسم کا حجاب اس روحانی رابطے کو راز رکھنے کے لیے پردے کا کام دیتا ہے اس لیے اسے مِنْ وَّرَایِٔ حِجَابٍ(پردے کے پیچھے سے کلام) سے موسوم کیا گیا ہے۔

مرشد کامل سے باطنی رابطہ استوار ہونے سے طالب کو مرشد کی باطنی صحبت میسر آجاتی ہے اسی باطنی رابطے کے دوران مرشد طالب کو وہ علم ِ لدنیّ عطا کرتا ہے جو فقہ و شریعت کی کسی کتاب میں نہیں لکھا۔ عرفان کی تمام منازل بھی اسی سیر ِ اوھام کے ذریعے طے کی جاتی ہیں کیونکہ یہاں پر مرید ِ صادق پر معرفت ِ الٰہی کا سِرّ (راز) عیاں کیا جاتا ہے جس کی نہ کسی عام انسان کو خبر ہے نہ فرشتے کو۔ اسی باطنی رابطے کے دوران طالب کی آزمائش بھی ہوتی ہے، سوال و جواب اور اس کے باطنی اعمال کے ذریعے اس کے عشق اور صدق کو بھی پرکھا جاتا ہے۔ راہِ فقر کی حقیقی تربیت اسی باطنی رابطے کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس دوران کبھی اس پر محبت و معرفت کی انتہا کر دی جاتی ہے اور اللہ کے کرم و لطف و رحمت کی تجلیات سے اس کے باطن کی پرورش کی جاتی ہے تو کبھی اس پر قہر و جبر کی تجلیات برسائی جاتی ہیں جس سے اس کا نفس فنا کی آخری منازل طے کرتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اسی روحانی ہم کلامی کے متعلق فرماتے ہیں:

مرشد ہادی سبق پڑھایا، بن پڑھیوں پیا پڑھیوے ھُو
انگلیاں وچ کنّاں دے دتیاں، بن سُنیوں پیا سنیوے ھُو
نین نیناں ولوں تُرتُر تکدے، بن ڈِٹھیوں پیا دِسیوے ھُو
باھُوؒ ہر خانے وچ جانی وسدا، کَن سر اوہ رکھیوے ھُو

یعنی مرشد ہادی نے اسم اللہ ذات کا ایسا سبق پڑھایا ہے کہ میرا دل ہر لمحہ اسے پڑھ رہا ہے۔ کانوں میں انگلیاں دے لوں تب بھی یہ ذکر مجھے سنائی دے رہا ہے اور اب تو حالت یہ ہے کہ آنکھیں متواتر دیدارِ محبوب میں مصروف رہتی ہیں۔ اگر ظاہری آنکھیں بند بھی کر لوں تو بھی محبوبِ حقیقی دکھائی دیتا ہے۔ اے باھُوؒ! اب تو محبوب جسم کے لوں لوں، کان اور سر یعنی پورے وجود میں جلوہ گر ہے۔ (ابیاتِ باھُوؒ کامل)

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اس روحانی رابطے کے متعلق مزید فرماتے ہیں:
جان لو کہ تصورِ شیخ بے حد کثرت سے کرنے سے وجود میں غیب الغیب سے ایک صورتِ نور پیدا ہوتی ہے جو کبھی لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھتے ہوئے ذکر ِ اللہ میں مشغول ہوتی ہے اور کبھی وہ صورت روز و شب تلاوتِ قرآن اور آیات حفظ کرنے میں مشغول ہوتی ہے اور کبھی وہ صورت علم ِ فضیلت بیان کرتی ہے اور نص و حدیث، تفسیر، مسائل ِ فقہ اور فرض، واجب، سنت، مستحب کے علم کے ذریعے سنت ِ محمدی کو بجا لانے اور ربّ کے حضور پیش ہونے کے فرض آداب سکھاتی ہے اور کبھی وہ صورت ذکر ِ اللہ میں غرق ہوتی ہے اور کبھی وہ صورت وجود کے اندر بلند آواز سے سِرِّھُوْ، سِرِّ ھُوْ، ھُوَ الْحَقُّ،  لَیْسَ فِی الدَّارَیْنِ اِلَّا ھُوْ   پکارتی ہے جو طالب کو سنائی دیتی ہے اور کبھی وہ صورت ماضی، حال اور مستقبل کے احوال ایک ساتھ بتاتی ہے اور اکثر وہ صورت رات دن نماز میں مشغول رہتی ہے اور طاعت و بندگی سے کبھی بھی فارغ نہیں رہتی۔ اور وہ صورت ہر لمحہ شریعت کی نگہداری کرتی ہے۔ اگر طالب سے کوئی خطا، غلطی یا غیر شرعی امر واقع ہو جائے یا پھر کفر، شرک، بدعت یا گناہ کا کوئی جملہ اس کے منہ سے ادا ہو جائے تو وہ صورت نفس کو ملامت کرتے ہوئے محاسبہ کے لیے مغلوب کرتی ہے اور نفس سے کہتی ہے کہ پڑھو لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں۔ حدیث:
مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ   مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ بِالْفَنَآئِ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ بِالْبَقَآئِ 
ترجمہ: جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا پس تحقیق اس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا۔ جس نے اپنے نفس کو فنا سے پہچانا پس تحقیق اس نے اپنے ربّ کو بقا سے پہچانا۔
نفس فنا فی الشیخ کے مراتب پر پہنچ کر ہی خدا کو پہچانتا ہے۔ یہ صورت جب وجود میں غائب ہو جاتی ہے تو وجود گناہوں سے تائب ہو جاتا ہے۔ یہ صورت صرف صفائے قلب سے حاصل ہوتی ہے جو تصور اسم ِاللہ ذات سے ہی ممکن ہے۔ اس صورت کی ابتدا اس وقت ہوئی جب اللہ پاک نے (ارواح سے) فرمایا: اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی ترجمہ: کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ (ارواح نے جواباً) کہا ہاں کیوں نہیں۔ یہ صورت نفس زیاں کار کو سرزنش کرتی ہے تاکہ وہ خطاؤں اور سرکشی سے باز آ کر راہِ راست پر آجائے۔ نفس کو پہچاننا اور شیخ کی طرف سے ہونے والے الہام و پیغام کے ذریعے اس پر اعتبار کرنا بچوں کے (یعنی ابتدائی) مراتب ہیں کہ اس پیغام سے معرفت اور فقر حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے (اے طالب) اس مرتبہ پر مغرور نہ ہو۔ اللہ کے قرب اور نورِ حضور کے مراتب اس سے بہت آگے ہیں جو شوق و سرور سے حاصل ہوتے ہیں اور باطن کو معمور کر کے بارگاہِ حق میں منظور کراتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اَوَّلَہٗ فَنَائٌ فِی الشَّیْخِ بَعْدَہٗ فَنَائٌ فِی اللّٰہِ 
ترجمہ: پہلا مرتبہ فنا فی الشیخ ہونا ہے اس کے بعد فنا فی اللہ کا مرتبہ ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
اسی باطنی رابطے کے ذریعے مرشد طالب کو اطاعت ِ الٰہی میں کامل بناتا ہے۔ باطن سے جو حکم ملتا ہے طالب کے لیے لازم ہے کہ اس کو پورا کرے خواہ ظاہر میں اس کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔ جس طالب کو یقین ہے کہ میرے باطن میں اللہ ہی کی ذات موجود ہے اور اس کے ہر حکم کی اطاعت مجھ پر واجب ہے اس کے لیے یہ باطنی رابطہ خیر ہی خیر اور باطنی ترقی کا موجب ہے۔ لیکن جس کو اپنے باطن پر شک ہے وہ کبھی حکم کی تعمیل کرے گا اور کبھی نافرمانی کرے گا اور اس باطنی حکم کی بجائے اپنے نفس کے احکام کی تعمیل کرے گا، پس وہ اللہ کے غضب کا شکار ہوگا اور باطن میں الجھ کر رہ جائے گا۔ جب تک اس کے نفس کا حکم اللہ کے حکم سے ٹکرائے گا اس کی روح بے چین رہے گی کیونکہ نفس اس کے اور اللہ کے درمیان حجاب بنا رہے گا اور روح کو یہ حجاب تنگ کرے گا۔ اس حجاب سے نجات کے لیے لازمی ہے کہ طالب اس باطنی رابطے کو مضبوط سے مضبوط تر کرے جس کا طریقہ یہ ہے کہ طالب اپنے ہر ظاہری و باطنی عمل کے لیے اس رابطے کے ذریعے اپنے شیخ سے احکام اور ہدایات موصول کرے اور پھر جیسا باطن میں اس کو حکم دیا جائے اس پر بلا چوں و چرا عمل کرے۔ جتنا طالب کا اس رابطے پر یقین کامل ہوگا اور اس کی اطاعت میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی اتنا ہی یہ رابطہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا۔ اس کے برعکس جتنا وہ اس رابطے پر شک کرے گا اور احکام ماننے سے گریز کرے گا اتنا ہی یہ رابطہ کمزور ہوتا چلا جائے گا اور نفس غالب آتا چلا جائے گا حتیٰ کہ طالب کے شک اور نافرمانیوں کی وجہ سے یہ رابطہ ٹوٹ جائے گا اور وہ طالب ِ حق کی بجائے نفس کا غلام بن کر رہ جائے گا۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جو طالب آوازِ روحانی کا محرم ہو جاتا ہے وہ قربِ ربانی سے الہام وصول کرتا ہے لیکن اگر اسے اسم ِاللہ ذات پر اعتبار نہ آئے اور نہ ہی وہ مرشد بزرگوار کے فرمان پر اعتبار کرے تو معلوم ہوا کہ وہ طالب خود پسند ہے جو ہوا و نفس کی قید میں ہے اور راہِ صفا نہیں پا رہا۔ ایسا طالب بے ادب و بے حیا بلکہ بے نصیب ہے جو معرفت ِ الٰہی سے محروم ہے۔ یہ مطالب توحید سے دور ہیں کیونکہ طالب اپنی طبیعت کے مطابق عمل کرتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر مرشد طالب کے ظاہر و باطن پر توجہ نہ کرے اور توفیق ِ الٰہی سے طالب کا رفیق نہ ہو تو طالب کسی بھی مقام و مطالب تک نہیں پہنچ سکتا اگرچہ تمام عمر اخلاص سے مرشد کی صحبت میں رہے اور خواہ ریاضت میں سالہا سال تک گرمی و سردی اور خوف و رجا کے احوال برداشت کرتا رہے۔ نیز یہ مراتب خوف و رجا اور عقل و ہوشیاری سے تعلق رکھتے ہیں اور خود طالب کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ (امیر الکونین)

پس ہوشیار، عقلمند اور صادق طالب کبھی اس باطنی رابطے پر شک نہیں کرتا بلکہ اسے غنیمت جان کر وہ تمام باتیں جو ظاہر میں مرشد سے پوچھ اور کہہ نہیں سکتا باطن میں پوچھ اورکہہ لیتا ہے۔ جس طالب کا یہ رابطہ جتنا مضبوط ہو گا اتنے ہی اچھے طریقے سے وہ جان پائے گا کہ کسی بھی معاملے میں اللہ کی رضا کیا ہے، اس کا مرشد کیا چاہتا ہے، وہ کسی عمل کو کس طریقے سے سرانجام دے گا تو اس کا اللہ اس سے راضی ہو جائے گا۔ پس یہ باطنی رابطہ اور وھم مرشد کامل اکمل کی طالب پر بہترین عطا ہے کہ جس کے ذریعے وہ ان کہی اور ان سنی باتیں بھی جان لیتا ہے، اللہ کی رضا کو بھی پہچان لیتا ہے، علم ِ معرفت بھی حاصل کر لیتا ہے، اپنے عقائد و اعمال کو بھی اللہ کی رضا کے عین مطابق سنوار لیتا ہے۔ جو طالب اس رابطے کے آغاز میں اسے اچھی طرح سمجھ نہیں پاتا تو مرشد اسے ظاہری طور پر بھی اسے سمجھنے میں مدد دیتا ہے مثلا کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ جو بات باطن میں کہی جاتی ہے وہ بات مرشد کامل زبان سے بھی فرما دیتا ہے تاکہ طالب کو اپنے باطن پر یقین آجائے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ طالب باطنی احکام پر عمل نہیں کر رہا ہوتا تو مرشد کامل اپنے رویے سے طالب کو سمجھا دیتا ہے کہ اسے باطنی احکام پر عمل کرنا چاہیے حتیٰ کہ ایک مقام آتا ہے کہ طالب مرشد کے کہے بغیر بھی جان لیتا ہے کہ مرشد اس سے کیا چاہتا ہے۔ طالب کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ اپنے مرشد کی ظاہری حیات میں ہی اس باطنی رابطے کو اطاعت ِ کامل کے ذریعے مضبوط ترین کر لے تاکہ مرشد کی ظاہری حیات کے مکمل ہونے کے بعد بھی اس کا تعلق اپنے شیخ سے اسی طرح قائم رہے جس طرح اس کی ظاہری حیات میں تھا تاکہ مرید ِ صادق تا زندگی اپنے ظاہری و باطنی اعمال کو اپنے مرشد کی ہدایات کے مطابق ادا کر سکے جس کی ہدایت اور حکم اولی الامر ہونے کے ناطے ہدایت اور حکم ِ الٰہی ہے۔ اس مضبوط رابطے کے باعث وہ ہمیشہ ظاہری و باطنی، دنیاوی و اُخروی حیات میں اپنے مرشد سے متصل (جڑا) رہے گا۔

اس باطنی رابطے کے دوران شیخ مرید میں اپنی صفات بھی منتقل فرماتا ہے اور حدیث ِ مبارکہ  تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ  ترجمہ:’’اخلاقِ الٰہیہ سے متخلق ہو جاؤ‘‘ کے مطابق اخلاق و صفاتِ الٰہیہ کی طالب میں نمود کرتا ہے۔ جس قدر مرید اور شیخ کا رابطہ مضبوط اور کامل ہوتا ہے اتنی ہی صفاتِ مرشد مرید میں منتقل ہوتی ہیں حتیٰ کہ مرید صفات و ذاتِ مرشد کا آئینہ بن جاتا ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’جو لوگ اپنے شیخ سے عقیدت رکھتے ہیں ان کو اپنے شیخ کے فیوض بھی پہنچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جو کمالات ان کے شیخ میں موجود ہوں مرید اپنی محبت اور لگاؤ کی وجہ سے اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ موافقت کے باعث دونوں میں اس قدر مماثلت ہو جاتی ہے کہ عوام کے لیے شیخ اور مرید میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتی ہے۔ محبت کی اس منزل میں ’’من تُو شدم، تُو من شدی‘‘ یعنی ’’میں تُو ہو گیا، تُو میں ہو گیا‘‘ کا مقام مرید کو اسی محبت کے باعث میسر ہو جاتا ہے جسے ’’ایک جان دو قالب‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔‘‘
ہر طالب اپنی اپنی استعداد، توفیق اور عشق ِ مرشد کے مطابق اس رابطہ ٔ شیخ کے ذریعے مرشد سے اخذ ِ فیضان کرتا ہے، اس کی صفات و کمالات سے متصف ہوتا ہے اور قرب و رضائے حق کی منازل پار کرتا ہے۔

فنا فی الشیخ

جب طالب کا باطن رضائے حق کے مطابق سنور جاتا ہے تو اس کے ظاہر کو سنوارا جاتا ہے۔ طالب باطنی طور پر مرشد کا آئینہ ہونے کے ساتھ ساتھ ظاہری جسم میں بھی مرشد کا عکس بن جاتا ہے۔ فنا فی الشیخ کی یہ کیفیت محسوس کرنے سے تعلق رکھتی ہے کہ طالب کو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اس کا چہرہ اس کا نہیں بلکہ اس کے مرشد کا ہے، اس کی آنکھیں حقیقتاً اس کے مرشد کی آنکھیں ہیں، اس کے ہاتھ پیر حتیٰ کہ پورا جسم اس کے مرشد کا ہے۔ اسی کیفیت کے متعلق اس حدیث ِ قدسی میں اشارہ کیا گیا ہے:

جب میرا بندہ زائد نوافل سے میرے قریب ہوتا ہے تو میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں وہ مجھ سے پکڑتا ہے، میں اس کے کان بن جاتا ہوں وہ مجھ سے سنتا ہے، میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں وہ مجھ سے دیکھتا ہے، میں اس کے پیر بن جاتا ہوں وہ مجھ سے چلتا ہے۔ (بخاری)

پس طالب کی روح کے ساتھ ساتھ اس کا جسم بھی مرشد کے جسم میں فنا ہو جاتا ہے اور مقامِ فنا فی الشیخ کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اس مقام کے متعلق فرماتے ہیں:
مرتبہ ٔفنا فی الشیخ یہ ہے کہ طالب کا جسم اور مرشد کا جسم ایک ہو جائیں۔ (نورالہدیٰ کلاں)
اُس طالب کی تمام مہمات توفیق ِ الٰہی سے تحقیق انجام پاتی ہیں جو مرشد سے اس طرح یکتا ہو جائے کہ طالب کا جسم، قلب، قالب، روح، نفس اور ساتوں اندام مرشد کے جسم، قلب، روح، نفس اور ساتوں اندام میں ڈھل جائیں۔ یہ مکمل فنا فی الشیخ کے مراتب ہیں کہ مرشد طالب کے مراتب کو اپنے مرتبہ عظیم اور قلب ِ سلیم سے تبدیل کر دیتا ہے۔ اس راہ کو اثباتِ قدم کہتے ہیں اور یہ راہ استقامت سے طے ہوتی ہے۔فرمانِ حق تعالیٰ ہے:فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ   (ھود۔112) ترجمہ: ’’پس استقامت اختیار کرو جیسا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔‘‘  وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ (الحجر۔99) ترجمہ: ’’اور اپنے ربّ کی عبادت کرتے رہو حتیٰ کے یقین تک پہنچ جاؤ۔‘‘ یہ مراتب اس عالم کے ہیں جو حق الیقین کے مراتب تک پہنچ گیا ہو۔ (امیر الکونین)

لفظ مرشد کے چار حروف ہیں م،ر،ش،د۔ حرف ’’م‘‘ سے مرشد مشاہدۂ حضورِ حق اور معرفت و معراج عطا کرتا ہے۔ حرف ’’ر‘‘ سے نورِ توحید میں غرق کر کے رازِ حق تک پہنچاتا ہے۔ حرف ’’ش‘‘ سے مرشد شہسوار عارف ہوتا ہے جو اہل ِ قبور کی ارواح کے احوال دیکھنے والا ہوتا ہے۔ حرف ’’د‘‘ سے طالب کو دائمی الہام عطا ہوتا ہے۔ لفظ طالب کے بھی چار حروف ہیں ط، ا، ل، ب۔ حرف ’’ط‘‘ سے طالب طاعت ِ مرشد میں مشغول رہتا ہے اور اس کی بندگی کا طوق اپنی گردن میں ڈالتا ہے اور حق تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں ہمیشہ مصروف رہتا ہے۔ حرف ’’ا‘‘ سے طالب کا ارادہ صادق ہوتا ہے اور وہ مرشد کا باادب ہوتا ہے۔ جو بھی آزمائش اس پر آئے وہ اف نہیں کرتا۔ حرف ’’ل‘‘ سے طالب لایحتاج اور لقائے الٰہی کے لائق ہوتا ہے جو کبھی بھی لاف زنی نہیں کرتا۔ حرف ’’ب‘‘ سے طالب بہرہ مند (خوش قسمت)، باوفا اور باحیا ہوتا ہے اور اس کا قلب پاکیزہ اور وہ تقدیر پر راضی رہنے والا ہوتا ہے۔ مرشد کے چاروں حروف طالب کے چاروں حروف سے اس طرح بدل جاتے ہیں کہ طالب مرشد کے وجود، جان، جسم، قلب اور قالب کے ساتھ یکتا ہو جاتا ہے۔ جو کچھ مرشد کی زبان پر ہوتا ہے طالب کی زبان سے بھی وہی ادا ہوتا ہے۔ طالب کی آنکھیں مرشد کی آنکھیں، طالب کے کان مرشد کے کان، طالب کا قلب مرشد کا قلب، طالب کی روح مرشد کی روح، طالب کے ہاتھ مرشد کے ہاتھ اور طالب کے پاؤں مرشد کے پاؤں بن جاتے ہیں۔ یہ فنا فی الشیخ کی حالت ہوتی ہے۔ وہ طالب مرتبہ ٔ مرشد کے لیے منتخب ہوتا ہے۔ طالب کا نفس مرشد کے نفس کی مثل مر جاتا ہے اور اس کا قلب مرشد کے قلب کی مثل حیات پا جاتا ہے اور اس کی روح فرحت پاتی ہے۔ فنا فی الشیخ کے اس مرتبہ پر مرشد و طالب کا نام، اطوار اور طریقے ایک جیسے ہو جاتے ہیں اور طالب کی صورت سے مرشد کی صورت نظر آتی ہے۔ مرشد کی رفاقت طالب کے لیے یقینا توفیق ِ حق کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ (امیر الکونین)

  معشوق عشق عاشق ہر سہ یکی است اینجا
چوں وصل در نہ گنجد ہجراں چہ کار آید

ترجمہ:اس مقام پر عشق، عاشق اور معشوق سب برابر ہیں۔ جب یہاں وصل نہیں تو ہجر کیسا؟ (عقل ِ بیدار)
اس مقام پر پہنچ کر طالب کا ہر عمل اور ہر حال اور قول مرشد کا عمل، حال اور قول بن جاتا ہے جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
جب کسی کے وجود میں پیر و مرشد کا نور بھر جاتا ہے تو اس کے منہ سے ہر بات پیر و مرشد کے نور سے نکلتی ہے۔ یہ فنا فی الشیخ کا مرتبہ ہے۔ (عقل ِ بیدار)

الف اللہ چنبے دی بوٹی، میرے من وچ مرشد لاندا ھُو
جس گت اُتے سوہنا راضی ہوندا، اوہو گت سکھاندا ھُو
ہر دم یاد رکھے، ہر ویلے آپ اُٹھاندا بہاندا ھُو
آپ سمجھ سمجھیندا باھُوؒ، آپے آپ بن جاندا ھُو

میرے مرشد نے میرے دل میں اسم ِاللہ ذات کا نقش جما دیا ہے اور اس کے تمام اسرار و رموز کو میرے اندر ظاہر کر دیا ہے اب میرے مرشد کامل کو میری جو حالت، عادات اور کیفیات پسند ہیں وہی مجھے سکھاتا ہے۔ وہ ہر آن ہر لمحہ مجھے یاد رکھتا ہے اور اس کی نظر ِ رحمت و شفقت کسی لمحہ بھی مجھ سے نہیں ہٹتی۔ میں مرشد کی ذات میں اس قدر فنا ہو گیا ہوں کہ میرے قول و فعل اور حرکات و سکنات تک اس کی رضا کے مطابق ہیں۔ وہ خود ہی مجھے راہِ حق کے اسرار و رموز سکھاتا ہے اور وہ میری ہستی کو فنا کر کے خود ہی بن جاتا ہے۔ میں‘ میں نہیں رہتا وہ تو وہ ہوتا ہے اور ا سطرح اپنے اور میرے درمیان میں اور تو کا فرق ختم کر دیتا ہے۔ (ابیاتِ باھُوؒ کامل)

حضرت شمس الدین سیالویؒ فرماتے ہیں’’جب مرید شیخ سے رابطہ قائم کرے تو وہ اپنے شیخ کی ذات میں اس طرح ڈوب جائے کہ اپنی کسی حرکت و سکون کو اپنا نہیں بلکہ شیخ کا سمجھے حتیٰ کہ پیر و مرید کی صورت ایک جیسی ہو جائے‘‘۔ فرماتے ہیں کہ شیخ بہاؤ الدین زکریاؒ اور شیخ شہاب الدینؒ جب ایک جگہ بیٹھ جاتے تو لوگ دونوں میں تمیز نہ کر سکتے تھے۔ ان کا درجہ ٔ اتحاد اس قدر بڑھ گیا تھا کہ دونوں کی شکل و صورت بھی ایک ہو گئی تھی۔ 

فنا فی الشیخ کے اس مقام میں کاملیت کے حصول کے بعد طالب جیسے ہی اپنے شیخ کی ذات میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تحقیقاً پا لیتا ہے تو فنا فی الرسول کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور جب اللہ کی ذات کو تحقیق کر لیتا ہے تو فنا فی اللہ ہو جاتا ہے۔ یعنی تمام جدوجہد کا مقصد فنا فی الشیخ ہونا ہے۔ مرتبہ فنا فی الشیخ کا مقام عالم ِ لاھُوت (واحدیت) ہے، فنا فی الرسول کا مقام عالم ِ یاھُوت (وحدت) ہے اور فنا فی اللہ کا مقام عالم ِ ھاھویت (احدیت) ہے۔ فنا فی اللہ کے مقام تک رسائی کے بعد بقا باللہ کا سفر شروع ہوتا ہے جو لامحدود ہے اور ساری زندگی بلکہ موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔

فنا فی الشیطان

واضح ہو کہ فنا فی الشیخ کی یہ تمام منازل ان طالبوں کے لیے ہیں جن کا مرشد کامل اکمل اور فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ بقا باللہ کے بلند مرتبہ پر فائز ہو۔ جو مرشد خود ناقص ہو، نفس کا غلام ہو اور فنا فی الرسول فنا فی اللہ بقا باللہ کی منزل سے کوسوں دور عالم ِ ناسوت میں ہی قید ہو اس کے مرید فنا فی الشیخ نہیں فنا فی الشیطان کے مرتبے پر فائز ہوتے ہیں خواہ وہ خود کو فنا فی الشیخ ہی سمجھتے رہیں۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ ناقص مرشد کے فنا فی الشیطان مریدوں کو خبردار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
شیخ ِ ناقص کا طالب جب ناقص شیخ کی صورت کو اپنے تصور میں لاتا ہے اسی وقت صورتِ شیطان شیخ ِ ناقص کی صورت کی مثل بن جاتی ہے اور طالب فنا فی الشیخ کے مراتب نہیں پاتا بلکہ فنا فی الشیطان کے مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے۔
عقلمند اور آگاہ ہو جا۔ جب مبتدی طالب اسم ِاللہ ذات کو اپنے تصور و تصرف میں لاتا ہے تو اسم ِاللہ ذات دل پر نقش ہو جاتا ہے اور طالب دل کی طرف متوجہ ہوتا ہے تب نور کی مثل ایک شعلہ ٔ نار دل کے گرد پیدا ہوتا ہے اور طالب اس نارِ شیطانی کو تجلی ٔ حضور سمجھتا ہے اور اس نارِ شیطانی سے شیطان آواز دیتا ہے کہ میں تیرا اور تو میرا یار ہے اس لیے ظاہر و باطن میں بندگی سے توبہ کر لے اور بس اس تجلی میں میرا دیدار کر۔ اس کے بعد وہ شیطانی تجلی ایک بچے کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور اس کے بعد جوان کا روپ دھار لیتی ہے اور پھر ایک بوڑھے کا روپ۔ اس کے بعد شیطان کہتا ہے کہ یہ فقیر کے مراتب کے اسرار ہیں۔ اس کے بعد وہ شیطانی صورت اس کو ہر چیز کے متعلق اس کے اندر سے جواب دیتی ہے اور ماضی، حال اور مستقبل کے حقائق تفصیلاً بتاتی ہے اور تمام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں فقیر صاحب ِ کشف ہے حالانکہ یہ استدراج کے مراتب ہیں جو اس کے اندر آوازِ شیطانی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اے عزیز! باخبر رہو۔ جب یہ شیطانی صورت تم سے ہم کلام ہو تو تُو باطنی توجہ سے کلمہ طیبلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ  اور  لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ  پڑھ تاکہ صورتِ شیطانی دفع ہو جائے۔ اس کے بعد حروفِ اسم ِاللہ ذات سے صورتِ تجلی ٔ نور ظاہر ہوتی ہے اور وہ صورتِ تجلی ٔ نور تجھے جو کچھ دکھائے وہ نص و حدیث کے عین مطابق برحق اور ہدایت ہے۔ ہم اس پر یقین لائے اور اس کی تصدیق کی۔ جو باطن ظاہر میں شریعت، قرآن اور اسم ِاللہ ذات کے موافق نہیں وہ باطل ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
کُلُّ بَاطِنٍ مُخَالِفٌ لِظَّاہِرِ فَھُوَ بَاطِلٌ 
ترجمہ: ہر وہ باطن جو ظاہر کا مخالف ہو‘ وہ باطل ہے۔
مراتب ِ فنا فی الشیخ اسم ِاللہ ذات، تجلیاتِ نور حضور کے مشاہدہ اور مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ مراتب ِ فنا فی الشیطان تمام وسوسہ، وہمات اور خطرات سے تعلق رکھتے ہیں۔ شیخ ِ ناقص کے فنا فی الشیطان طالب ِ دنیا مریدین کثیر ہیں جو نفس پرست، مغرور اور تکبر میں مست ہیں۔ جبکہ فنا فی الشیخ طالب کم ہیں جو روشن ضمیر اور معرفت ِ اِلَّا اللّٰہُ اور مجلس ِ محمدی کے لائق اور شریعت میں ہوشیارہوتے ہیں۔ (کلیدالتوحید کلاں)

طالب ِ حق کو کیسے معلوم ہو کہ اس کا مرشد ناقص ہے یا کامل؟ اس سلسلے میں حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ ایک نشانی بتاتے ہیں کہ مرشد کامل وہ ہے جو بیعت کے پہلے دن ہی طالب کو ذکر و تصور کے لیے اسم ِاللہ ذات عطا کرے اور اسے زیادہ ورد و وظائف اور عبادات میں نہ اُلجھائے۔ سلسلہ سروری قادری میں فنا فی الشیخ فنا فی اللہ بقا باللہ کے تمام مراتب ذکر و تصورِ اسم ِ اللہ ذات سے حاصل ہوتے ہیں جس میں کسی قسم کے دھوکے یا استدراج کی گنجائش نہیں کہ اسم ِاللہ سے جو چیز بھی حاصل ہوتی ہے وہ صرف اور صرف حق ہوتی ہے۔ میرے مرشد کامل اکمل حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
مراتب تین قسم کے ہیں فنا فی الشیخ، فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ۔ ان مراتب تک پہنچنے کے لیے مرشد سے عشق ضروری ہے۔ اسے فقر میں عشق ِمجازی کہا جاتا ہے اور عشق ِمجازی ہی عشق ِحقیقی تک راہنمائی کرتا ہے۔ عارفین یا فقرا کاملین کے نزدیک عشق ِ مجازی (عشق ِ مرشد) کے زینہ کے ذریعہ ہی ہم عشق ِ حقیقی (اللہ تعالیٰ کے عشق) تک پہنچ سکتے ہیں۔ عام طور پر عشق ِمجازی کسی عورت کے مرد اور مرد کے کسی عورت سے عشق کو سمجھا جاتا ہے جو بالکل لغو اور شیطانی کھیل ہے۔ شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ راہِ فقر میں عشق ِ مجازی سے مراد عشق ِمرشد ہے۔ عشق ِمجازی (عشق ِمرشد) کے لیے عام سلاسل میں یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ طالب (مرید) کو تصورِ مرشد کے لیے کہا جاتا ہے بلکہ آج کل تو کچھ سلاسل یا پیروں نے باقاعدہ اپنی تصاویر بھی دینا شروع کر دی ہیں۔ طالب (مرید) ہر وقت اپنے مرشد کے تصور اور خیالوں میں مگن رہتا ہے، اس طریقہ میں استدراج اور دھوکہ ہو سکتا ہے اور آج کے پُرفتن دور میں سو فیصد ہوتا بھی دھوکہ ہی ہے، پھر یہ شرک اور بت پرستی کے زمرے میں آتا ہے اور یہ تو انسانی جبِلّت ہے کہ وہ جس کے تصور میں ہر وقت محو اور جس کے خیالوں میں ہر وقت مگن رہتا ہے اُسے اس سے محبت ہو جاتی ہے۔ سلسلہ سروری قادری میں یہ طریقہ کبھی نہیں رہا حالانکہ سروری قادری سلسلہ درجات (عالم ِ ملکوت و جبروت اور سدرہ المنتہیٰ کی سیر) سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس کی ابتدا اورانتہا ہے ہی عشق، کیونکہ اس میں دیدارِ الٰہی ہے اور دیدار عشق کے بغیر حاصل نہیں ہوتا کیونکہ جو اللہ تعالیٰ سے نظر ہٹا کر عالم ِ ملکوت و جبروت کے نظاروں میں کھو گیا ہے اس کا دیدارِ الٰہی کا سفر ختم ہو گیا۔ عشق والے اللہ کے سوا کسی اور کی طلب نہیں کرتے اور کسی طرف دھیان نہیں کرتے۔ سلسلہ سروری قادری یا عشق ِالٰہی کے سفر میں عشق ِمجازی (عشق ِمرشد) تصورِ اسم ِ اللہ ذات سے حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ اسم ِ اللہ ذات کسی صاحب ِ مسمّٰی مرشد سے حاصل ہوا ہو۔ طالب (مرید) جب اسم ِ اللہ ذات کا تصور شروع کرتا ہے تو سب سے پہلے اسے اسم ِ اللہ ذات سے تصورِ مرشد حاصل ہوتا ہے۔ اس کے دو فوائد ہیں کہ ایک تو اس میں استدراج اور دھوکہ نہیں کیونکہ جس کا تصور کیا جائے اسی کا تصور پختہ ہوتا ہے یہاں تو ابتدائی منزل پر اسم ِ اللہ ذات کا تصور کیا جا رہا ہے لیکن حاصل مرشد کا تصور ہو رہا ہے جو کہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ اس سے طالب کو یقین ہو جاتا ہے کہ میرا مرشد کامل ہے اور پھر عشق ِمجازی (عشق ِمرشد) کا آغاز ہوتا ہے پھر عشق ِ مرشد سے یہ عشق آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عشق کی طرف اور اس کے بعد عشق ِحقیقی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور طالب دریائے وحدت میں غرق ہو جاتا ہے۔ مرشد خود ’’اسم ِاللہ ذات‘‘ کی صورت ہے اور طالب جب مرشد کی صورت یعنی فنا فی الشیخ ہو جاتا ہے تو اسے ازخود ہی وصال یا وحدت حاصل ہو جاتی ہے طالب کو کوئی کوشش یا کاوش نہیں کرنی پڑتی۔ راہِ فقر میں تمام کاوش و کوشش کا مقصد مرشد میں فنا ہونا ہے پھر وحدت تک رسائی اپنے آپ ہونے والا عمل ہے۔ اس عمل کو صوفیا فنا فی الشیخ کی کیفیت قرار دیتے ہیں۔ سب سے پہلے مرشد کی سطح پر وحدت حاصل ہوتی ہے جس میں مرید مرشد کی ہستی میں فنا ہو کر اپنی انفرادی ہستی ختم کر کے سیرت و کردار اور صورت میں مرشد کی مثل ہو جاتا ہے مرشد چونکہ پہلے ہی وحدت کی صورت ہوتا ہے اس لیے طالب کو وحدتِ حق تعالیٰ تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ (شمس الفقرا)

استفادہ کتب:
الفتح الربانی تصنیف لطیف سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ
نور الہدیٰ کلاں تصنیف لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ
کلید التوحید کلاں ایضاً
محک الفقر کلاں ایضاً
امیر الکونین ایضاً
عقل ِ بیدار ایضاً
شمس الفقرا تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
ابیاتِ باھُو کامل تحقیق، ترتیب و شرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس
مکتوبات حضرت مجدد الف ثانیؒ
سرّ دلبراں تصنیف شاہ محمد ذوقیؒ

 
 

33 تبصرے “مرتبہ ٔ فنا فی الشیخ | Martaba Fana-Fi-Shaikh

    1. MashaAllah
      فنا فی الشیخ راہِ فقر کے عظیم الشان مقامات میں سے ایک مقام ہے ۔

      1. سبحان اللہ
        #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #spirituality #sufism #islam #faqr #sultanulsabreen

  1. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #spirituality #sufism #islam #faqr #fana_fi_shaikh

      1. فنا فی الشیخ راہِ فقر کے عظیم الشان مقامات میں سے ہے۔ فنا فی الرسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہو کر رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو پا لینے اور فنا فی اللہ بقاباللہ ہو کر اللہ کی پاک ذات کو اپنی ذات میں حق الیقین سے پا لینے سے قبل فنا فی الشیخ کی منزل طے کرنا ناگزیر ہے۔

        1. ماشاﷲ
          فنا فی شیخ پر بہترین مضمون ہے
          #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #spirituality #sufism #islam #faqr #fana_fi_shaikh

  2. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #spirituality #sufism #islam #faqr #fana_fi_shaikh

  3. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #spirituality #sufism #islam #faqr #fana_fi_shaikh

  4. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #spirituality #sufism #islam #faqr #fana_fi_shaikh

اپنا تبصرہ بھیجیں