قرب ِ الٰہی کی جستجو Qurb e ilahi ki justuju

2.1/5 - (16 votes)

قرب ِ الٰہی کی جستجو-Qurb e ilahi ki Justuju

تحریر:  محترمہ مقدس یونس سروری قادری۔ رائیونڈ

طالبِ مولیٰ کا اللہ کی طرف سفر کرنا اور اللہ تعالیٰ کی معرفت و پہچان حاصل کرناقربِ الٰہی Qurb e ilahi کے لیے جستجو ہے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔حدیثِ قدسی ہے:
کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ خَلْقً 
ترجمہ: ’’میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں  اس لیے میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔‘‘

اس حدیثِ قدسی سے واضح ہے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت حاصل کرنا ہے۔سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس انسان کی تخلیق کے بارے میں فرماتے ہیں:
انسان کی تخلیق دو چیزوں سے عمل میں لائی گئی ہے، ایک چیز تو ظاہری وجود ہے جسے جسم یا تن بھی کہتے ہیں جسے آنکھ سے دیکھا اور ہاتھ سے چھوا بھی جاسکتا ہے۔ دوسری چیز باطن ہے جسے روح، باطن یا دل کہتے ہیں۔ اسے نہ تو ظاہری آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے نہ ظاہری ہاتھوں سے چھوا جاسکتا ہے۔ اسے صرف باطن ہی کی آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کا تعلق اس ظاہری جہان سے ہرگز نہیں بلکہ اس کا تعلق عالمِ غیب سے ہے۔ اس سے یہ ظاہری جسم چھن بھی جائے تو اس کو قائم رہنا ہے کہ اسے فنا نہیں ہے۔ 

معرفتِ الٰہی اور جمالِ خداوندی کا مشاہدہ اس کی خاص صفت ہے۔ عبادت کا حکم بھی اسی کو ہے، ثواب و عذاب اسی کے لیے ہے، سعادت و شقاوت اسی کا مقدر ہے اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہی معرفتِ الٰہی کی چابی ہے اور یہی دین کی حقیقت ہے۔(فقراقبال)

اللہ کی طرف سفر صرف ظاہری طورپر نمازیں پڑھنااوررمضان کے روزے رکھنا نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان کے لیے دینی فرائض کا درست فہم اور ادراکِ قلبی بھی ضروری ہے۔ مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ دین کے ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطن کو بھی سنوارے۔ آج یہی ہماری گمراہی کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے ’’باطن‘‘ کو فراموش کردیاہے اور صرف ظاہر کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
دنیا میں تین قسم کے انسان یا انسانوں کے گروہ پائے جاتے ہیں:
1۔ طالبانِ دنیا: جو انسان اپنے علوم وفنون، کمالات اور کوشش و کاوش دنیا کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اُسے ہی اپنی زندگی کا مقصد قرار دیتے ہیں، حتیٰ کہ ان کا ذکر فکر، عبادت وریاضت، چلہ کشی، ورد و وظائف کا مقصد بھی دنیاوی مال ومتاع کا حصول یا اس میں اضافہ ہے۔ وہ دنیاوی آسائش کے حصول اور دنیاوی ترقی و عزّوجاہ کو ہی کامیابی گر دانتے ہیں۔ 

2۔ طالبانِ عقبیٰ: جن کا مقصود آخرت کی زندگی کو خوشگوار بنانا ہے۔ ان کے نزدیک نارِ جہنم سے بچنا اور بہشت، حورو قصور اور نعمت ہائے بہشت کا حصول زندگی کی کامیابی ہے۔اس لیے یہ عبادت، ریاضت، زہد و تقویٰ، صوم و صلوٰۃ، حج، زکوٰۃ، نوافل، ذکر اذکار اور تسبیحات سے آخرت میں خوشگوار زندگی کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہی زندگی کا مقصد اور کامیابی ہے۔

 3۔ طالبانِ مولیٰ: جن کی عبادات اور جدو جہد کا مقصود دیدارِ حق تعالیٰ اور اُس کا قرب و وصال ہے۔ یہ نہ تو دنیا کے طالب ہوتے ہیں اور نہ بہشت، حورو قصور اور نعمت ہائے بہشت کے۔ ان کا مقصد ذاتِ حق تعالیٰ ہوتاہے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے طالب اور عاشق ہوتے ہیں۔ اس طلب کے لیے یہ دونوں جہانوں کو قربان کر دیتے ہیں اور دنیاوعقبیٰ کو ٹھکرا کر ذاتِ حق کے دیدار کے متمنّی رہتے ہیں۔عارفین ہمیشہ طالبِ مولیٰ بننے کی تلقین کرتے ہیں۔(شمس الفقرا)

انسان کے ہر عمل کے پیچھے ا سکی نیت کارفرما ہوتی ہے۔ جیسی نیت ہو گی ویسا ہی عمل ہو گا۔جیسا کہ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں بیان فرمایا گیا ہے:
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ (بخاری)
ترجمہ: بیشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

اس حدیثِ نبویؐ میں بھی باطن کی طرف اشارہ ہے۔نیت دل میں کی جاتی ہے اور دل کو باطن بھی کہا جاتا ہے۔اس لیے عبادات میں ظاہر باطن کا شاملِ حال ہونا ضروری ہے کیونکہ ظاہر اور باطن سب کو قیامت کے دن حساب کتاب میں شامل کیا جائے گا۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ اِنَّ السَّّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُولًا (سورۃ بنی اسرائیل – 36)
ترجمہ:جس بات کی تمہیں خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت  پڑو کیونکہ کان،آنکھ اور دل سب سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

اتنی گہرائی والا یہ فہم مسلمان کو اپنے دل کی اصلاح کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک کوئی شخص کثرتِ صوم اور کثرتِ نماز کی بدولت جنت میں داخل نہ ہوگا جب تک اس میں یہ چار خصوصیات نہ ہوں: اول ہاتھ کی سخاوت، دوم اصلاحِ قلب، سوم امورِ الٰہی کی تعظیم،چہارم مخلوقِ الٰہی پر شفقت۔

اس حدیثِ مبارکہ میں بھی اصلاحِ قلب(باطن کی اصلاح)کا ذکر ہے۔ اس کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوگی۔حضرت بلھے شاہؒؒؒ کے مطابق جس نے رازِ حق پایاہے ،راہِ باطن تلاش کر کے ہی پایا ہے۔

جس پایا بھید قلندر دا
راہ کھوجیا اپنے اندر دا 

قرآنِ مجید میں بھی بار بار انسان کے باطن کی طرف توجہ دلائی گئی ہے:
وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (سورۃ الذاریت۔21)
ترجمہ: اور میں تمہارے اندر ہوں کیا تم غور سے نہیں دیکھتے۔
 اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ (سورۃ الروم۔8)
ترجمہ: کیا وہ اپنے اندر فکر نہیں کرتے۔
وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (سورۃ ق۔16)
ترجمہ: اور ہم تو اسکی شہ رگ سے بھی نزدیک ہیں۔

شیطان لعین بھی اسی باطن میں وسوسے ڈالتا ہے۔ 

الّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ(سورۃالناس۔5)
 ترجمہ:جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔

شیطان مسلمانوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ ان کے دل میں دنیا کی محبت، عیش و عشرت اور ہر اُس چیز کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اللہ اور بندے کے درمیان رکاوٹ بن سکے۔ اس کی وضاحت قرآن پاک میں یوں کی گئی ہے:
ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمْ مِّنْ بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ وَ مِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ اَیْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَآئِلِہِمْ-وَلَا تَجِدُاَکْثَرَہُمْ شٰکِرِیْنَ   (سورۃاعراف۔17)
ترجمہ: پھر ضرور میں ان کے آگے اور ان کے پیچھے او ر ان کے دائیں اور ان کے بائیں سے ان کے پاس آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔

شیطان نفس کو استعمال کر کے برائیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ اس ضمن میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
نفس کا تزکیہ ہوسکتا ہے شیطان کا نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اسی انسان کو کامیاب قرار دیا ہے جو تزکیہ نفس کرکے اس کے امراض سے نجات حاصل کرلیتا ہے اور اس کی عبادت ہی مقبولِ بارگاہِ الٰہی ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی (سورۃ اعلیٰ۔14)
ترجمہ: تحقیق وہ فلاح پاگیا جس(کے نفس) کا تزکیہ ہوگیا۔

حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
جو سب سے پہلے دل میں سے حبِ دنیا کو باہر نہیں نکالتا وہ ہرگز قرب نہیں پاسکتا نہ ہی حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی اس کے ہر بال و قلب و قالب سے ذکر جاری ہوتا ہے۔ معرفت و فقر خداجو کہ اصل کامیابی ہے، اس تک اور واحدانیت و وِصال تک ترکِ دنیا کے بغیر کوئی نہیں پہنچ سکتا اگرچہ تمام عمر اپنا سر پتھر سے ٹکراتا رہے اور تقویٰ و کثرتِ مجاہدہ سے اس کی کمر کبڑی ہوجائے اور وجود(سوکھ کر) بال کی مثل باریک ہوجائے وہ خدا سے جدا اور حجاب و دوری میں رہتا ہے۔ وہ دنیا کا دوست اور خدا کا دشمن ہوتا ہے۔(کلید التوحید کلاں)

اسی کے بارے میں علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں:  

جومیں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

جب تک انسان کا باطن تمام باطنی بیماریوں(خواہشات، شہوات،کینہ،حسد، زر پرستی،لالچ،طمع وغیرہ) سے پاک یعنی تزکیۂ نفس نہیں ہوجاتاتب تک وہ اللہ کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ جب انسان کا تزکیۂ نفس ہوجاتا ہے تو اس کا دل نورِ ایمان سے منور ہوجاتا ہے اور سیر الی اللہ کی طرف گامزن ہوجاتا ہے۔ 

حضرت سخی سلطان باھوؒ نفس کے بارے میں پنجابی بیت میں فرماتے ہیں:

صورت نفس امارہ دی، کوئی کتا گلر کالا ھو
کوکے نوکے لہو پیوے، منگے چرب نوالا ھو
کھبے پاسوں اندر بیٹھا، دِل دے نال سنبھالا ھو
ایہہ بدبخت ہے وڈا ظالم باھوؒ، اللہ کرسی ٹالا ھو

اب اس نفسانی دور میں مشکل یہ آن پڑی ہے کہ انسان کس طرح اپنا تزکیہ کرے اور اللہ کی راہ پر گامزن ہو کر اللہ کا قرب و دیدار حاصل کرے۔

جس طرح کسی بھی منزل کو پانے کے لیے اس کی رہنمائی ضروری ہوتی ہے جو پہلے اس منزل تک پہنچ چکا ہو۔اسی طرح اللہ کا قرب و دیدار حاصل کرنے کے لیے اس کی راہ پر چلنے کے لیے بھی کسی راہبر کی رہنمائی ضروری ہوتی ہے جو پہلے خود اللہ کو پا چکا ہو۔  

قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَابْتَغُوْٓا اِلَیہِ الْوَسِیلَۃَ وَجَاہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفلِحُوْنَ۔ (سورۃ المائدۃ۔35)
ترجمہ: اے ایمان والو!تقویٰ اختیار کرواور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑو۔ 

وسیلہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے کسی شے تک پہنچنے کا سبب اور ذریعہ ہے۔
انسان کی تخلیق کے بعد اللہ نے اپنے نبیوں کو متواتر انسانوں کی رہنمائی کیلئے بھیجنے کا عمل جاری رکھا۔ انبیا بندے اور ربّ کے درمیان ایک وسیلہ تھے۔ وسیلہ کو عام مفہوم میں یوں سمجھنا آسان ہو گا کہ اگر آپ پانی گرم کرنا چاہیں، آپ کے پاس پانی بھی ہو اور آگ بھی، تو پانی گرم کرنے کیلئے ایک برتن کی ضرورت ہو گی۔ آگ برتن کو گرم کرے گی اوربرتن پانی کو۔برتن وسیلہ ہے آگ اور پانی کے درمیان۔

 بعض لوگوں کے نزدیک وسیلے سے مراد نیک اعمال ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا خطاب ایمانداروں سے ہے کہ وہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کریں۔ اس کے ساتھ قرب الی اللہ کے لیے وسیلہ پکڑنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہاں وسیلہ سے مراد نہ علم ہے نہ ایمان اور نہ ہی نیکی اور تقویٰ بلکہ اس سے مراد مرشد کامل اور شیخِ طریقت ہے۔

اس بات کی وضاحت اس آیت سے ہوتی ہے:
وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ (سورۃلقمان۔ 15)
ترجمہ: اس کی اتباع کرو جس نے میری جانب رجوع کیا۔
اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ (سورۃ النسا۔59)
ترجمہ: اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اس کی جو تم میں سے اولی الامر ہو۔

اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ساتھ ساتھ ایک ’’انسان‘‘ کی اطاعت کا بھی حکم ہے۔ یہ اولی الامر انسان ایسا ولیٔ کامل ہی ہوسکتا ہے جس کا راستہ اللہ اور اس کے رسولؐ کا راستہ ہی ہو۔ بقول شاعر

اللہ اللہ کرنے سے اللہ نہیں ملتا
اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں 

حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے:
تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ صاحبِ راز (مرشدکامل اکمل) کے سینے میں ہے کیونکہ قدرتِ توحید و دریائے وحدتِ الٰہی مومن کے دل میں سمائے ہوئے ہیں اس لیے جو شخص حق تعالیٰ کوحاصل کرنا اور واصل باللہ ہوناچاہتا ہے اسے چاہیے کہ سب سے پہلے مرشد کامل اکمل کی طلب کرے اس لیے کہ مرشد کامل اکمل دل کے خزانوں کا مالک ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے دل کا محرم ہوجاتا ہے وہ دیدارِ الٰہی کی نعمت سے محروم نہیں رہتا۔(عین الفقر)

مرشدِ کامل ہی وہ واحد ہستی ہے جو اپنی نگاہِ کامل،صحبت اور اسمِ اللہ ذات سے طالب کا تزکیہ نفس کرکے اس کے باطن کو معرفتِ الی اللہ کے قابل بناتا ہے جس سے اس کے ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطنی رابطہ بھی اللہ سے قائم رہتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَاوَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ (سورۃ العنکبوت۔69)
ترجمہ: اور جنہوں نے ہمارے لیے کوشش کی ہم انہیں ضرور اپنی راہیں سجھا دیں گے، اور بے شک اللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
وصالِ حق تعالیٰ مرشد کامل اکمل کی رہنمائی کے بغیر ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کے قربِ وصال کی راہ چونکہ شریعت کے دروازہ سے ہو کر گزرتی ہے اس لیے شریعت کے دروازے کے دونوں طرف شیطان اپنے پورے لائولشکر سمیت طالبِ مولیٰ کی گھات لگا کر بیٹھا ہے۔ اول تو وہ کسی آدم زاد کو شریعت کے دروازے تک ہی نہیں آنے دیتا۔اگر کوئی باہمت آدمی شریعت (نماز،روزہ،زکوٰۃ،حج)کے دروازے تک پہنچ جاتاہے تو شیطانی گروہ اسے شریعت کی چوکھٹ پر روک کر رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے شریعت کی ظاہری زیب و زینت کے نظاروں میں محو رکھتاہے۔ شریعت کی روح تک کسی کو نہیں پہنچنے دیتا اورآج کے دور کاسب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ جو لوگ شریعت پر کاربند ہیں وہ اسکی روح تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ اگر کوئی خوش قسمت طالبِ مولیٰ ہمت کرکے آگے بڑھتاہے توشیطان پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ اسے روکنے یا گمراہ کرنے کے جتن کرتا ہے اور اس کی راہ مارنے کاہر حربہ استعمال کرتا ہے۔طالبِ مولیٰ جب شریعت کے دروازے سے گزر کر باطن کی نگری میں داخل ہوتاہے تو رجوعاتِ خلق (خلقت اپنی دنیاوی مشکلات کے خاتمہ کے لیے اس کی طرف رجوع کرتی ہے) کے نہایت وسیع و دشوار گزار جنگل سے گزرنا پڑتا ہے۔اس موقع پر طالبِ مولیٰ کو اگر کسی مرشد کامل اکمل کی رفاقت اور راہبری حاصل نہ ہوتو وہ رجوعاتِ خلق کے جنگل میں بھٹک کرباطنی طور پر ہلاک ہوجاتا ہے۔ جس طرح شریعت کا علم استاد کے بغیر ہاتھ نہیں آتا اُسی طرح باطنی علم کا حصول مرشد کامل کی رفاقت کے بغیر ناممکن ہے۔(شمس الفقرا)

باجھ حضوری نہیں منظوری، توڑے پڑھن بانگ صلاتاں ھوُ
روزے نفل نماز گزارن، توڑے جاگن ساریاں راتاں ھوُ
باجھوں  قلب  حضور  نہ  ہووے،  توڑے  کڈھن  سَے زکاتاں ھوُ
باجھ  فنا  ربّ  حاصل  ناہیں  بَاھُوؒ،   ناں   تاثیر   جماعتاں  ھوُ

 (ابیاتِ باھوُ کامل) 

نماز،روزہ، نوافل تمام دیگر عبادات جو حضورِ قلب کے بغیر ہوں ان سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ حضور قلب کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ حضورِ قلب مرشدِ کامل اکمل کی نگاہ،صحبت اور ذکر تصور اسمِ اللہ ذات (جو مرشد کامل عطا کرے) سے حاصل ہوتا ہے۔ 

حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
حضورِ قلب سے مراد ایسا قلب ہے جو ذکرِالٰہی اور انوارِ تجلیاتِ ذات سے پرُ رہتاہے اور خطراتِ شیطانی سے نجات حاصل کر چکا ہوتا ہے۔ ایسا صاحبِ قلب ہمیشہ باطن میںانبیا اور اولیا سے ملاقات کرتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

کوئی بھی شخص چاہے کتنا ہی پڑھا لکھا اور عالم فاضل کیوں نہ ہو، مرشد کامل کے بغیر سیرِالی اللہ کا سفر نہیں کرسکتا۔اگر کوئی انسان بغیر مرشد کے کوشش بھی کرے تو گمراہ ہوجاتا ہے۔

حضور اکرمؐ کا فرمان مبارک ہے:
اَلرَّفِیْقُ ثُمَّ الطَّرِیْقُ 
 ترجمہ: پہلے رفیق تلاش کرو پھر راستہ چلو۔
مَنْ لاشَیْخَ  یَتَّخِذُہُ الشَّیْطَان 
 ترجمہ: جس کامرشد نہیں شیطان اُسے گھیر لیتاہے۔

جب اصل رہنما کا ساتھ نہ ہوگا جو اللہ کو جانتا ہو تو شیطان کے لیے آسان ہو جائے گا کہ وہ راستے سے ناواقف انسان کو بھٹکا دے۔ مرشدِ کامل ہی اس راہ میں طالب کا طبیب بھی ہے جو اس کی باطنی بیماریوں(حسد،بہتان،غیبت،بغض،کینہ،بدگمانی،تکبر،عجب یعنی خود پسندی یا خودنمائی،ہوس،طمع لالچ،حرص وغیرہ)کا علاج کر کے اس کی روح کو پاک کرتا ہے تاکہ اس کے لیے یہ سفر طے کرنا مشکل نہ رہے۔

اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اگر کوئی شعیب آئے میسر
شبانی سے کلیمی دو قدم ہے

اللہ تعالیٰ خود بھی ایسے مرشد کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیتا ہے جو ذکر میں کامل ہو۔
فَسْئَلُوْٓاَہْلَ الذِّکْرِاِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ  (الانبیا۔7)
ترجمہ: پس اہلِ ذکر سے(اللہ کی راہ) پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔

تو آج اس دور میں امامِ زمانہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس بیعت کے پہلے روز ہی ذکرِ ھوُ،تصورِ اسمِ اللہ ذات اور مشقِ مرقومِ وجودیہ عطا کرتے ہیں۔ ذکرِ ھوُ پاس انفاس کا ذکر ہے۔ پاس انفاس کا ذکر سانسوں کے ساتھ کیے جانے والے ذکرکو پاس انفاس کہتے ہیں۔ اسے ذکرِ خفی بھی کہتے ہیں۔ جس سے طالب سوتے جاگتے چلتے پھرتے ہر وقت سانس کے ذکر میں مشغول رہتا ہے۔جیسا کہ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے:
وَاذْکُرْ رَّبَّکَ إِذَا نَسِیْتَ  (سورۃکہف۔24)
ترجمہ:اور اپنے رب کا ذکر (اس قدر محویت سے) کریں کہ خود کو بھی فراموش کردیں۔

آپ مدظلہ الاقدس ہر لمحہ اپنے مریدین کی خبر گیری کرتے ہیں اور طالبانِ مولیٰ کے لیے قربِ الٰہی کی جستجو میں آنے والی مشکلات کو آسان کر دیتے ہیں۔آپ مدظلہ الاقدس اپنے مریدین کی خامیوں کی پردہ پوشی فرماتے ہیں اور ان کی اصلاح باطنی طور پر کردیتے ہیں جس سے طالبانِ مولیٰ اللہ کی طرف سفرجاری رکھتے ہیں۔آپ مدظلہ الاقدس باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کو بھی سنوار دیتے ہیں جس سے طالب حضورِ قلب حاصل ہونے کے بعد فرائض دینی اور اس کی روح سے بخوبی واقف ہوجاتا ہے۔ 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 اورتم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور معرفتِ الٰہی کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔(سورۃآلِ عمران۔104)

اللہ پاک کے مندرجہ بالا حکم کے مطابق آپ مدظلہ الاقدس نے تحریک دعوتِ فقر کی بنیاد رکھی جس کے قیام کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو راہِ فقر کی دعوت دینا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کی روحانی تربیت فرما کر انہیں دینِ محمدی سے اس طرح منسلک کر دیتے ہیں کہ وہ اللہ کا قرب اور مجلسِ محمدیؐ کی حضوری حاصل کرسکیں۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒؒ فرماتے ہیں:

 مرشد وانگ سنارے ہووے، جیہڑا گھت کٹھالی گالے ھوُ
 پا کٹھالی باہر کڈھے،  بندے گھڑے  یا  وَالے   ھوُ

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں مرشد کامل اکمل کی صحبت سے مستفید ہونے، تصور اسمِ اللہ ذات کے فیوض و برکات حاصل کرنے اور راہِ فقر پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

استفادہ کتب:
کلید التوحید کلاں:  سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
عین الفقر:  ایضاً
  شمس الفقرا:  سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
ابیاتِ باھوؒ کامل:  ایضاً
فقرِ اقبال:  ایضاً

 
 

34 تبصرے “قرب ِ الٰہی کی جستجو Qurb e ilahi ki justuju

  1. مرشدِ کامل ہی وہ واحد ہستی ہے جو اپنی نگاہِ کامل،صحبت اور اسمِ اللہ ذات سے طالب کا تزکیہ نفس کرکے اس کے باطن کو معرفتِ الی اللہ کے قابل بناتا ہے جس سے اس کے ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطنی رابطہ بھی اللہ سے قائم رہتا ہے۔

  2. کوئی بھی شخص چاہے کتنا ہی پڑھا لکھا اور عالم فاضل کیوں نہ ہو، مرشد کامل کے بغیر سیرِالی اللہ کا سفر نہیں کرسکتا۔اگر کوئی انسان بغیر مرشد کے کوشش بھی کرے تو گمراہ ہوجاتا ہے

  3. سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس انسان کی تخلیق کے بارے میں فرماتے ہیں:
    انسان کی تخلیق دو چیزوں سے عمل میں لائی گئی ہے، ایک چیز تو ظاہری وجود ہے جسے جسم یا تن بھی کہتے ہیں جسے آنکھ سے دیکھا اور ہاتھ سے چھوا بھی جاسکتا ہے۔ دوسری چیز باطن ہے جسے روح، باطن یا دل کہتے ہیں۔ اسے نہ تو ظاہری آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے نہ ظاہری ہاتھوں سے چھوا جاسکتا ہے۔ اسے صرف باطن ہی کی آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کا تعلق اس ظاہری جہان سے ہرگز نہیں بلکہ اس کا تعلق عالمِ غیب سے ہے۔ اس سے یہ ظاہری جسم چھن بھی جائے تو اس کو قائم رہنا ہے کہ اسے فنا نہیں ہے۔

  4. معرفتِ الٰہی اور جمالِ خداوندی کا مشاہدہ اس کی خاص صفت ہے۔ عبادت کا حکم بھی اسی کو ہے، ثواب و عذاب اسی کے لیے ہے، سعادت و شقاوت اسی کا مقدر ہے اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہی معرفتِ الٰہی کی چابی ہے اور یہی دین کی حقیقت ہے۔(فقراقبال)

  5. مرشدِ کامل ہی وہ واحد ہستی ہے جو اپنی نگاہِ کامل،صحبت اور اسمِ اللہ ذات سے طالب کا تزکیہ نفس کرکے اس کے باطن کو معرفتِ الی اللہ کے قابل بناتا ہے جس سے اس کے ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطنی رابطہ بھی اللہ سے قائم رہتا ہے۔

  6. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
    وصالِ حق تعالیٰ مرشد کامل اکمل کی رہنمائی کے بغیر ناممکن ہے۔

  7. آج اس دور میں امامِ زمانہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس بیعت کے پہلے روز ہی ذکرِ ھوُ،تصورِ اسمِ اللہ ذات اور مشقِ مرقومِ وجودیہ عطا کرتے ہیں۔ ذکرِ ھوُ پاس انفاس کا ذکر ہے۔ پاس انفاس کا ذکر سانسوں کے ساتھ کیے جانے والے ذکرکو پاس انفاس کہتے ہیں۔ اسے ذکرِ خفی بھی کہتے ہیں۔ جس سے طالب سوتے جاگتے چلتے پھرتے ہر وقت سانس کے ذکر میں مشغول رہتا ہے

  8. حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
    جو سب سے پہلے دل میں سے حبِ دنیا کو باہر نہیں نکالتا وہ ہرگز قرب نہیں پاسکتا نہ ہی حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی اس کے ہر بال و قلب و قالب سے ذکر جاری ہوتا ہے۔ معرفت و فقر خداجو کہ اصل کامیابی ہے، اس تک اور واحدانیت و وِصال تک ترکِ دنیا کے بغیر کوئی نہیں پہنچ سکتا اگرچہ تمام عمر اپنا سر پتھر سے ٹکراتا رہے اور تقویٰ و کثرتِ مجاہدہ سے اس کی کمر کبڑی ہوجائے اور وجود(سوکھ کر) بال کی مثل باریک ہوجائے وہ خدا سے جدا اور حجاب و دوری میں رہتا ہے۔ وہ دنیا کا دوست اور خدا کا دشمن ہوتا ہے۔(کلید التوحید کلاں)

  9. ماشااللہ بہت ہی خوبصورت آرٹیکل ہے اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  10. جومیں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
    تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

  11. انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت حاصل کرنا ہے۔

  12. اللہ تعالیٰ صاحبِ راز (مرشدکامل اکمل) کے سینے میں ہے کیونکہ قدرتِ توحید و دریائے وحدتِ الٰہی مومن کے دل میں سمائے ہوئے ہیں اس لیے جو شخص حق تعالیٰ کوحاصل کرنا اور واصل باللہ ہوناچاہتا ہے اسے چاہیے کہ سب سے پہلے مرشد کامل اکمل کی طلب کرے اس لیے کہ مرشد کامل اکمل دل کے خزانوں کا مالک ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے دل کا محرم ہوجاتا ہے وہ دیدارِ الٰہی کی نعمت سے محروم نہیں رہتا۔(عین الفقر)

  13. مرشدِ کامل ہی وہ واحد ہستی ہے جو اپنی نگاہِ کامل،صحبت اور اسمِ اللہ ذات سے طالب کا تزکیہ نفس کرکے اس کے باطن کو معرفتِ الی اللہ کے قابل بناتا ہے جس سے اس کے ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطنی رابطہ بھی اللہ سے قائم رہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں