اسلام اور سوشل میڈیا Islam or Social Media

3.8/5 - (10 votes)

اسلام اور سوشل میڈیا- Islam or Social Media

تحریر:  محترمہ امامہ رشید سروری قادری

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدا یت اور راہنمائی کے لیے ہر دور میں انبیا و رسل کو مبعوث فرمایا۔خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر سلسلۂ نبوت ختم ہونے کے بعد اولیاکرام کے توسط سے پیغامِ حق انسانوں تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (سورۃ صف۔9)
ترجمہ: وہی ہے جس نے اپنے رسول ؐکو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجاہے تاکہ اسے سب ادیان پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ دینِ فطرت بھی ہے جو اُن تمام اَحوال و تغیرات پر نظر رکھتا ہے جن کا تعلق انسان اور کائنات کے باطنی اور خارجی وجود کے ظہور سے ہے۔اسلام ایک عالمی و آفاقی دین ہے جس میں زندگی کے نت نئے چیلنجز کوقبول کرنے کی بھر پور صلاحیت موجودہے۔ کائنات میں ہر لحظہ ارتقا کا عمل جاری ہے، ہر صبح جب طلوع ہوتی ہے تو اپنے جلوؤں میں ترقی کا ایک نیا پیغام لے کر آتی ہے اور ہر شب جب کائنات کی فضا پر چھاتی ہے توکسی نئی حقیقت سے پردہ اُٹھانے کا مژدہ سناتی ہے۔ ترقی کا یہ سفر جیسے زندگی کے دوسرے شعبوں میں جاری ہے اُسی طرح ذرائع ابلاغ (میڈیا) کے میدان میں بھی پوری قوت اور برق رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔انسانی احساسات و جذبات کی ترسیل، ابلاغ و تبلیغ اور پیغام رسانی کا کام زمانہ قدیم ہی سے ہوتاچلاآ رہا ہے۔جیسے جیسے انسان ترقی کی منازل طے کر رہا ہے ویسے ویسے ذرائع ابلاغ میں بھی آئے روز جدت رونما ہو رہی ہے۔ پتھروں پر علامات، نشانات اور تصاویر سے شروع ہونے والا سفر ریڈیواورٹیلی ویژن سے ہوتا ہوا کمپیوٹر اور موبائل کی دنیا میں داخل ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا یعنی سماجی رابطے کے ذرائع نے ہماری زندگیوں کو متاثر کن حد تک بدل کر رکھ دیا ہے۔ آن کی آن میں انسان نہ صرف دنیا بھر کے لوگوں سے رابطہ قائم کر سکتا ہے بلکہ اپنی سوچ اور خیالات کا اظہار بھی کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیامیں سب سے اہم فیس بک، ٹوئیٹر، انسٹاگرام اور سوشل بلاگز شامل ہیں جہاں دنیا بھر کے لوگ ہر لمحہ معلومات ِ عامہ کا تبادلہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اس جدت نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے بھی ایک نیا باب کھول دیا ہے اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حق بات کی تبلیغ کے متعلق فرمایا:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ؐنے فرمایا:  بلغوا عنی و لو آیۃ (بخاری۔ 3461) ترجمہ:میری طرف سے لوگوں کو (احکامِ الٰہی) پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔

آج کا جدید دور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ان وسائل و ذرائع سے لوگوں کو ایک ڈگر مل گئی ہے جس کی بدولت ہم اپنے دین اور اپنی قوم کے لئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔یہ ایک بہتا ہوا سمندر ہے، جس میں ہیرے اور موتی بھی ڈالے جاسکتے ہیں اور خس و خاشاک بھی۔ اس سے دینی، اخلاقی اور تعلیمی نقطۂ نظر سے مفید چیزیں بھی پہنچائی جاسکتی ہیں اور انسانی و اخلاقی اقدار کو تباہ کرنے والی چیزیں بھی۔اس کا اثر اتنا وسیع ہوچکاہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا نفوذ اس درجہ بڑھ چکاہے کہ اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور ہرگزرتے دن کے ساتھ اس کی اہمیت مزید بڑھتی جارہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہر طبقہ کے عوام کا سوشل میڈیا سے منسلک ہونا ہے۔ آج دنیا کا 97فیصد کاروباری طبقہ اپنی کامیابی کو سوشل میڈیا سے مشروط کرتا ہے اور ظاہری وسائل کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پرقدرے زیادہ توجہ دی جا رہی ہے ۔سیاسی ، سماجی اور فلاحی کارکنان اور نامور شخصیات بھی اپنے سوشل سرکل (Social Circle)کو بڑھانے کے لیے سر گرمِ عمل ہیں۔ ہر شخص زیادہ سے زیادہ فالورز حاصل کرنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ دنیابھر کے چھوٹے سے چھوٹے برینڈز (Brands)سے لیکر نامور برینڈز بھی آج سوشل میڈیا پر اپنے کاروبار کی تشہیر کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ سیاسی دنیا کے اتارچڑھاؤ اور عوام کے رجحانات بھی آجکل سوشل میڈیا کے ذریعے ہی طے پاتے ہیں۔

ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام کی ترویج و اشاعت میں سوشل میڈیا کے کردار سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا۔سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیشِ نظر اس ذریعۂ ابلاغ کو اسلام کی دعوت و تبلیغ کے لیے’ مناسب انداز‘ میں استعمال کرنا از حد ضروری ہو گیا ہے۔’ مناسب انداز ‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے متعلق بے تحاشا معلومات دستیاب ہیں لیکن اس میں سے صحیح اور غلط کی تحقیق کرنا بہر حال قاری کی ذمہ داری ہے۔سوشل میڈیا پر موجود ہر چیز بھروسے کے لائق اور قابل ِ عمل نہیں کیونکہ شر پسند عناصر اور شیطان فطرت لوگ ہر جگہ سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کے لیے گھات لگائے بیٹھے ہیں جن کا مقصد تعمیر و ترقی نہیں بلکہ فتنہ انگیزی، تفرقہ بازی اور معاشرے میں عدم استحکام کو پھیلانا ہے۔ اس لیے قارئین پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بلا تحقیق کسی بھی بات پر نہ تو بھروسا کیا جائے اور نہ ہی اسکی تشہیر کی جائے۔ بالخصوص نوجوان نسل جو ہر مسئلے کے حل کے لیے اساتذہ، علما اور اولیا اللہ سے مشاورت کے بجائے سوشل میڈیا کو ترجیح دیتی ہے اس لیے ہر سوشل فورم پر اسلام کی حقیقی تعلیمات کا میسر ہونا از حد ضروری ہو گیا ہے تاکہ نہ صرف ہماری نوجوان نسل بلکہ غیرمسلم بھی اسلام کی عالمگیریت اور آفاقیت سے متعارف ہوسکیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ جہاں ایک طرف سوشل میڈیا کی بدولت انسان دنیا بھر سے منسلک ہو گیا ہے اور تمام دنیا سمٹ کر اسکی مٹھی میں آگئی ہے وہیں دوسری جانب دینِ اسلام کی ایک باطنی کیفیت ’تقویٰ‘ کو اِسی سوشل میڈیا کی وجہ سے بہت ٹھیس پہنچی ہے۔ تقویٰ اللہ ربّ العزت سے تعلق کی باطنی کیفیت ہے جس کے تحت پرہیز گاری کا معیار محض باطن میں خلوص پر منحصر ہے۔ تاہم سوشل میڈیا کے ناسور کے باعث ہماری عبادات باطنی روح سے خالی محض ریاکاری اور دکھاوا بن کر رہ گئی ہیں۔ لوگ حج، عمرہ، زکوٰۃ، عطیات، صدقات غرض ہر عبادت کی تشہیر کو اب اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ہماری توجہ عبادت کی روح کے بجائے واٹس ایپ کے سٹیٹس، فیس بک اور انسٹا گرام کی سٹوری پر مرکوز ہوتی ہے۔ اُس پر مزید ظلم یہ کہ اس بات کا بھی انتظار رہتا ہے کہ ہمارا سٹیٹس اور سٹوری کس کس نے دیکھی۔ جس نے دیکھی ، اُس نے لائیک یا کمنٹ کیوں نہیں کیا۔ کمنٹ کرنے والے نے سرسری ریسپانس دیا ہے یا پھر بڑھ چڑھ کر ہماری تعریف کی ہے۔۔۔ مطلب یہ کہ ہماری عبادات کا مقصد اللہ پاک کی خوشنودی سے تبدیل ہو کر لوگوں کی توجہ اور تعریف بن چکا ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا کی افادیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے پہلے اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنا بہت ضروری ہے مبادا ہم جس عمل کو نیکی اور ثواب سمجھ رہے ہیں وہی عمل ہماری پکڑ اور اللہ کی ناراضی کا سبب بن جائے۔

اس مادیت پرستی کے دور میں ہر شخص اسلام کو اپنی عقل اورعلم کے مطابق سمجھتا ہے اور اس کو آگے متعارف کرا رہا ہے۔تاہم اکثریت اسلام کی حقیقی روح سے واقف نہیں ہوتے اور گمراہ ہو جاتے ہیں۔ اس گمراہی میں سادہ لوح عوام اسلام کی حقیقت سے دور رہ جاتے ہیں جس سے وہ اپنی منزل یعنی معرفت الٰہی تک پہنچ نہیں پاتے۔ اس پر فتن دور میں ایک ایسا کامل راہنما موجود ہے جو اپنی نگاہِ کامل سے عوام الناس کا تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب فرما رہاہے۔ وہ پر نور اور روحانی راہنما سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے امتِ مسلمہ کو اسلام کی حقیقی روح اور اصل عبادات کی طرف دعوت دینے کے لیے دن رات محنت کی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے’’ تحریک دعوتِ فقر‘‘ کے نام سے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی جو جدید عصری تقاضوں کے مطابق پوری دنیا میں فقرمحمدیؐ کے پیغام کو عام فرما رہا ہے۔آپ مدظلہ الاقدس کی کاوشیں صرف روایتی دعوت و تبلیغ تک محدود نہیں بلکہ آپ نے دورِ حاضر کے تمام ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے دینِ اسلام کی تبلیغ و ترویج میں انقلاب برپا کر دیا ہے ۔ اسی بنا پر آپ مدظلہ الاقدس کو ’مجددِ دین‘ کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے۔ 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے فقر محمدی ؐکی تعلیمات کا وہ خزانہ جوصدیوں سے یا تو صرف سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہا تھایا قلمی مسودات کی صورت میں تحریری طور پر موجود تھا، کو کتب کی محدود دنیا سے نکال کر الیکٹرانک کتب(e-books)، الیکٹرانک میگزین (e-magzines)، مشہور ویب سائٹس مثلاً وکی پیڈیا(Wikipedia) وغیرہ پر مضامین کی صورت میں ہر خاص و عام پر عیاں کر دیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ آپ مدظلہ الاقدس نے سوشل میڈیا یعنی سماجی رابطے کے ذرائع کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا۔ آج سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی بے پناہ کاوشوں اور دور اندیشی کے پیش ِ نظر تحریک دعوت فقر کا پیغام ہر سوشل فورم مثلاًفیس بک (Facebook)، انسٹا گرام (Instagram)، ٹوئیٹر (Twitter),لنکڈاِن (Linkedin)، پنٹریسٹ (Pinterest) اور ریڈاِٹ (Reddit) وغیرہ پر لاتعدادپیجز (pages) اور بلاگز(blogs) کے ذریعے لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔صرف فیس بک پر تحریک دعوتِ فقر کے تریسٹھ (63) آفیشل طرز کے پیجز روزانہ کی بنیاد پراردو اور انگریزی زبان میں فقر و تصوف کا پیغام دنیا بھر میں عام کر رہے ہیں۔ اسی طرح ٹوئیٹر، پن ٹرسٹ ، لنکڈ اِن اور انسٹا گرام پر بھی تحریک کے آفیشل پیجز موجود ہیں جن کے ذریعے لاکھوں لوگ دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے اپنے سینوں کو منور کر رہے ہیں۔ 

آپ مدظلہ الاقدس نے فقر کے فیض کو کسی ایک ذریعۂ ابلاغ تک محدود نہیں رکھابلکہ تعلیماتِ فقر کو دنیا بھر میں طالبانِ مولیٰ تک پہنچانے کے لیے ملٹی میڈیا ڈیزائن اینڈ ڈویلپمنٹ کا شعبہ قائم کیا ہے۔ اس شعبہ کے تحت انگلش اور اردو میں ویب سائٹس موجود ہیں اور انگلش ویب سائٹس پر ٹرانسلیٹر کے ذریعے دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ کی سہولت دی گئی ہے۔ ان ویب سائٹس پر موجود مشائخ سروری قادری کی تعلیماتِ فقراور آن لائن (Online) دستیاب کتب و رسائل پڑھ کر دنیا بھر سے طالبانِ مولیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔ خوش نصیب طالبانِ مولیٰ آن لائن بیعت کے ذریعے آپ مدظلہ الاقدس سے بیعت ہو کر اسمِ اللہ ذات اور فقرِمحمدیؐ کی نعمت سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔اس کے علاوہ تحریک دعوتِ فقر کی ویڈیو ویب سائٹس بھی موجود ہیں۔ ان ویب سائٹس پر تحریک سے منسلک تمام محافل، حمد ونعت، کلامِ باھوؒ، کلام مشائخ سروری قادری، کلامِ اقبال،منقبتیں،سالانہ عرس مبارک اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے تبلیغی دوروں کی تمام ویڈیوز دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ سلطان الفقر ٹی وی ویب سائٹ پر تمام عارفانہ کلام آڈیوزاور ویڈیوزکی صورت میں بھی دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ میگزین، اہم مضامین، تصاویر اور کتب وغیرہ بھی ان ویب سائٹس پربآسانی دستیاب ہیں۔

سوشل میڈیا کی اگلی کڑی شارٹ ویڈیوزپر مبنی ٹک ٹاک، سنیک ویڈیوز، سنیپ چیٹ اور لائکی جیسی موبائل ایپلیکیشنزکی ایجاد تھی۔ جہاں ایک طرف ان موبائل ایپلیکیشنز کو نوجوان نسل کے بگاڑ اور بے راہ روی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا تھا وہیں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اپنی بے پناہ بصیرت اور باطنی تصرف سے مریدین پر مشتمل ایسی ٹیمیں تشکیل دیں جو روزانہ کی بنیاد پر معرفتِ الٰہی اور فقرِ محمدی ؐ کے پیغام کو خوبصورت شارٹ ویڈیوز کی شکل میں عوام الناس تک پہنچا رہی ہیں۔ اگر شیطانی فتنہ ان ایپلیکیشنز کے ذریعے غیر اخلاقی اور بے دینی کی تعلیم عام کر رہا ہے تو وہیں تحریک دعوتِ فقر کا سوشل میڈیا اور شارٹ ویڈیوز کا شعبہ مرشد کامل اکمل کے دستِ اقدس پر بیعت ہو کر اسمِ اعظم جیسی نعمت حاصل کرنے کی دعوت دے رہا ہے تاکہ حجت تمام کی جا سکے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اِن ذرائع سے خیر کا راستہ چنتا ہے یا شر کا۔ غرض یہ کہ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے سوشل میڈیا کے ایک ایک فورم کاصحیح اور موزوں استعمال کر کے اسلام کے پیغام کو پوری دنیا میں عام فرمادیا ہے اور علمِ باطن کو کھول کر رکھ دیا ہے جس سے لوگ اسلام کی اصل روح سے روشناس ہو رہے ہیں۔

 قصہ مختصر یہ کہ فروغِ اسلام اور اس کی اشاعت میں سوشل نیٹ ورک سائٹس کا بہت بڑا کردارہے اور اچھے نتائج کے امکانات ان کے صحیح استعمال پرانحصار کرتے ہیں۔اگر معاشرے کا ہر فرد اسی فکر میں لگ جائے کہ ان وسائل کے ذریعے ہر دن اسلامی تعلیمات و پیغامات اغیار تک پہنچا ئیں گے تو پھر یہ کام مزید آسان ہوجائے گا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں موجودہ دور کے امام اور مجددِ دین سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے زیر سایہ پوری دنیا میں فقرِ محمدیؐ کے پیغام کو عام کرنے اور احسن عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

استفادہ کتب
سلطان العاشقین:  ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز

 

32 تبصرے “اسلام اور سوشل میڈیا Islam or Social Media

  1. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے سوشل میڈیا کے ایک ایک فورم کاصحیح اور موزوں استعمال کر کے اسلام کے پیغام کو پوری دنیا میں عام فرمادیا ہے اور علمِ باطن کو کھول کر رکھ دیا ہے جس سے لوگ اسلام کی اصل روح سے روشناس ہو رہے ہیں۔

  2. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سوشل میڈیا کے ذریئے اسلام کو پھیلانے کا کام کر کے بہترین کام سرانجام دے رہے ہیں۔

  3. اسلام ایک عالمی و آفاقی دین ہے جس میں زندگی کے نت نئے چیلنجز کوقبول کرنے کی بھر پور صلاحیت موجودہے۔

  4. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے سوشل میڈیا کے ایک ایک فورم کاصحیح اور موزوں استعمال کر کے اسلام کے پیغام کو پوری دنیا میں عام فرمادیا ہے اور علمِ باطن کو کھول کر رکھ دیا ہے جس سے لوگ اسلام کی اصل روح سے روشناس ہو رہے ہیں۔

  5. ماشااللہ سوشل میڈیا کی فوائد پر انتہائی اہم آرٹیکل ہے 💯❤

  6. موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فقرمحمدیؐ کے پیغام کو عام فرما رہا ہے۔آپ مدظلہ الاقدس کی کاوشیں صرف روایتی دعوت و تبلیغ تک محدود نہیں بلکہ آپ نے دورِ حاضر کے تمام ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے دینِ اسلام کی تبلیغ و ترویج میں انقلاب برپا کر دیا ہے ۔ اسی بنا پر آپ مدظلہ الاقدس کو ’مجددِ دین‘ کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے۔

  7. فروغِ اسلام اور اس کی اشاعت میں سوشل نیٹ ورک سائٹس کا بہت بڑا کردارہے اور اچھے نتائج کے امکانات ان کے صحیح استعمال پرانحصار کرتے ہیں۔

  8. سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے سوشل میڈیا کے ایک ایک فورم کاصحیح اور موزوں استعمال کر کے اسلام کے پیغام کو پوری دنیا میں عام فرمادیا ہے اور علمِ باطن کو کھول کر رکھ دیا ہے جس سے لوگ اسلام کی اصل روح سے روشناس ہو رہے ہیں۔

  9. تحریک دعوتِ فقر ، فقر کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا بہترین استعمال کر رہی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں