قرآن حضور نبی اکرمؐ کا معجزۂ عظیم | Quran Hazoor Nabi kareem saww ka Mojza e Azeem

قرآن حضور نبی اکرمؐ کا معجزۂ عظیم 

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری ۔ لاہور

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Eid Milad un Nabi) کی آمد آمد ہے۔ چار سوُ عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  (Ishq-e-Mustafa saww)کی خوشبو پھیلی ہے۔ لبوں پر درود، دلوں میں سرور، آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مہینہ خوشیاں لٹانے آیا ہے۔ 

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام 

 ہر نبی اپنی امت کا پیشوا اور راہنما ہوتا ہے۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر اس کی ترغیب ہوتی ہے۔ اپنی امت کو زمانۂ جاہلیت سے نکالنے اور دینِ حق کی روشنی سے ان کے دلوں کو منور کرنے کے لیے اللہ نے اپنے ہر نبی کو مختلف معجزات سے نوازا تاکہ اس کی امت پر حق و باطل کا فرق واضح ہو جائے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ طیبہ بھی ایسے ہی دل افروز معجزات اور واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ یہ کہنا بجا ہو گا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہر قول و فعل ظاہری و باطنی ہر لحاظ سے عالم ِ اسلام کے لیے معجزے سے بڑھ کر نعمت ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رحمت اللعالمین ہیں۔ قرآن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا معجزۂ عظیم ہے۔ 

معجزہ کیا ہے؟

معجزہ ہرگز معجزہ (Mojza) بعینہٖ نہیں ہو سکتا، اس لیے معجزہ (Mojza) اسی وجہ سے معجزہ  ہوتا ہے کہ اس کی شرط میں دعویٰٔ نبوت لازمی ہے۔ معجزہ (Mojza) انبیا کرام کے لیے مخصوص ہے اور کرامت اولیا کرام کے لیے۔ (کشف المحجوب)
مصنف محمد الیاس عادل اپنی تصنیف ’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معجزات (Mojzaat) ‘‘ میں بیان کرتے ہیں:
معجزے کے معنی ہیں جو بات خلافِ عادت ہو اور نبی سے ظاہر ہو اور جس کے کرنے سے مخلوق عاجز ہو۔ (رسولِ کریمؐ کے معجزات ) 
قرآن جو کہ معجزۂ عظیم (Mojza-e-Azeem)ے ایک مومن کے لیے نعمتِ عظیم تب ہی ہو سکتا ہے جب اس پر قرآنِ کریم کے حقیقی اسرار و رموز منکشف ہو جائیں اور وہ حقیقی فیض ِفقر سے مستفید ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا لا وَّ یَھْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا ط وَمَا یُضِلُّ بِہٖٓ اِلاَّ الْفٰسِقِیْنَ (سورۃ البقرہ۔ 26)
ترجمہ: اس (قرآن) کے ذریعہ وہ بیشتر کو گمراہ کرتا ہے اور بیشتر کو راہِ راست پر لاتا ہے۔ اور گمراہ تو صرف فاسقوں کو ہی کرتا ہے۔
قرآنِ کریم ہدایت سے بہرہ مند کرنے کا وسیلہ بھی ہے اور فاسقوں کے گمراہ ہونے کا بھی۔ یہی اس کے معجزۂ عظیم (Mojza-e-Azeem) ہونے کی نمایاں صفت ہے۔ ہر شے کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔ قرآنِ کریم وہ روشن کتاب ہے کہ کسی شخص کا باطن جس قدر منور ہو گا اسی قدر اس پر قرآن کے حقیقی معنی اور پہلو روشن ہوں گے۔ مختصراً جس کی جتنی باطنی استطاعت ہو گی وہ اسی حساب سے قرآنِ مجید سے ظاہری و باطنی معانی اخذ کر کے مستفید ہوگا۔ قرآنِ کریم ہدایت کا منبع ہے جو اپنے اندر شریعت، طریقت، معرفت اور حقیقت کے تمام اسرار سمیٹے ہوئے ہے۔ ’تصوفِ اسلام‘ کتاب جس میں تصوف کی نو اہم کتابوں کا اجمالی مطالعہ شامل ہے، میں تحریر ہے:
دنیا میں ہر موجود کا ایک ظاہری پہلو ہے اور ایک باطنی، چنانچہ قرآن کا بھی ایک ظاہر ہے ایک باطن۔ حدیث کا بھی ایک ظاہر ہے ایک باطن، کتاب اللہ و سنت ِ رسول کے باطنی پہلو کا نام طریقت ہے۔ طریقت کتابِ اللہ اور سنتِ رسول سے الگ کوئی شے نہیں بلکہ انہی کے مغز و باطن کا نام ہے۔ (تصوفِ اسلام)

الغرض قرآنِ کریم اور سنتِ نبویؐ کے باطنی پہلوؤں پر غور وفکر کرنا راہِ طریقت کے اسرارِ قدیم سے واقف ہونا ہے۔ الہامی علوم کا تمام سرچشمہ قرآنِ پاک ہے۔ بلاشبہ قرآن مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ انسانیت کو راہِ ہدایت سے ہمکنار کرنے کا راستہ اور وسیلہ قرآنِ کریم ہی ہے کیونکہ اس کے بعد نہ ہی کوئی نبی بھیجا جائے گا اور نہ کوئی آسمانی کتاب نازل کی جائے گی۔ 

قرآنِ کریم کی حفاظت کا ذمہ 

نزولِ قرآن کے بعد سابقہ تمام آسمانی کتب و صحائف منسوخ ہو گئے۔ اس کے برعکس قرآنِ کریم کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ بغیر کسی ردّ و بدل کے اپنی ابتدائی آیات و الفاظ کے ساتھ موجود ہے اور قیامت تک ایسے ہی محفوظ رہے گا۔ قرآن نہ صرف اوراق پر بلکہ لاتعداد لوگوں کے دلوں میں بھی محفوظ ہے اور اس کے باطنی اسرار و معانی اور فیوض و برکات سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہے ہیں۔ قرآنِ کریم کا کوئی نظر ثانی شدہ  revised)) ایڈیشن موجود نہیں اور نہ کبھی ہو گا۔ دنیا کی کوئی اور الہامی کتاب اپنی حفاظت کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ قرآن کے لفظی معنی کا مطلب ہی وہ کتاب ہے جسے بار بار پڑھا جائے۔ 

ابو محمد مخدوم زادہ اپنی تصنیف ’’قرآن ایک معجزۂ عظیم (Mojza-e-Azeem) ‘‘ میں بیان فرماتے ہیں:
صفاتِ کمالیہ میں دو صفتیں امتیازی شان رکھتی ہیں۔ ایک صفت علم اور دوسری صفت قدرت۔ خداوندِعالم نے ایک جانب اپنی وحی سے سرفراز فرما کر ایسی صفتِ علم ان (انبیا) کو عطا فرمائی کہ اس علم تک کسی کے فہم و ادراک کی رسائی نہ ہو سکے تو دوسری طرف معجزات عطا کر کے ایسی قدرت کا کرشمہ اپنے پیغمبروں کے ہاتھوں پر ظاہر فرمایا کہ تمام عالم کی قوت و طاقت سے بالا و برتر ثابت ہوتے ہیں تاکہ عالم پر حضرات انبیا کی صفتِ علم و صفتِ قدرت کا کمال اور برتری ظاہر ہو اور یہی معجزات دشمنوں کی مغلوبی کا ذریعہ بنیں تو حق تعالیٰ شانہٗ نے آنحضرت ؐ پر قرآنِ کریم نازل فرما کر اپنی صفتِ علم سے وہ کمال عطا فرمایا کہ دنیا کے عقلا و حکما اس کے علوم کے سامنے درماندہ و عاجز رہے۔ علاوہ دیگر معجزات سے تائید کے خود اپنے اس کلام کو آپ کے ثبوت کی دلیلِ محکم اور برہانِ قاطع بنا دیا۔ علما متکلمین نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عطا کیے ہوئے معجزات میں قرآنِ کریم ایک عظیم الشان معجزہ (Mojza) ہے۔ ( قرآن ایک معجزۂ عظیم)   

قرآن کریم کا اندازِ بیان 

قرآن کریم کا اندازِ بیان انتہائی لاجواب اور شاندار ہے۔ یہ کتاب اس زبان اور خطہ میں اتاری گئی جو خود پوری دنیا میں اپنی فصاحت و بلاغت کے لیے مشہور و معروف تھے۔ قرآنِ کریم کا اندازِ بیان دیکھ کر اہلِ عرب دنگ رہ گئے اور عش عش کر اٹھے۔ قرآنِ کریم اپنے الفاظ اور معانی اور فصاحت و بلاغت کی جہت سے ایک معجزہ ہے۔ وہ لوگ جو قرآن کے متعلق کہتے تھے کہ یہ انسانی تخلیق ہے ان کے لیے قرآن میں جابجا چیلنج موجود ہے کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کی لکھی ہوئی ہے تو اس جیسی کوئی دوسری کتاب لے آئیں، اگر کتاب نہیں لا سکتے تو اس کی دس سورتوں جیسی سورتیں بنا کر پیش کر دیں اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو کوئی ایک سورۃ لے آئیں۔ اگر اکیلے یہ کام نہیں کر سکتے تو انہیں یہ ازنِ عام ہے کہ اپنے ساتھ تمام حمایتوں کو اکٹھا کر لیں۔ سورۃ ھود میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
کیا کفار کہتے ہیں کہ اس نے قرآن خود گھڑ لیا ہے، آپ فرمائیے کہ اگر ایسا ہے تو تم بھی لے آؤ دس سورتیں اس جیسی گھڑی ہوئی اور بلا لو اپنی مددکے لیے جس کو بلا سکتے ہو اللہ تعالیٰ کے سوا، اگر تم اس الزام تراشی میں سچے ہو۔ ( سورۃ ھود ۔ 13)
سورۃ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے:
اور اگر تمہیں شک ہو اس میں جو ہم نے نازل کیا ہے اپنے برگزیدہ بندے پر، تو لے آؤ اپنی طرف سے ایک سورۃ اس جیسی اور بلا لو اپنے حمایتوں کو اللہ کے سوا، اگر تم سچے ہو۔ (سورۃ البقرہ۔23)
اللہ واحد و یکتا ہے۔ نہ اس کی ذات میں کوئی اس کا ہمسر ہے نہ صفات اور کلام میں۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کے کلام سے بہتر فصیح و بلیغ کلام کسی انسان کا ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اگر (قرآن) اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی۔ (سورۃ النسا۔86)
کتاب ’قرآنی معلومات‘ میں قرآن کی فصاحت و بلاغت کے حوالہ سے لکھا گیا ہے:
قرآنِ پاک کی زبان فصیح ترین عربی (عربی مبین) ہے۔ نہ تو یہ شاعری ہے اور نہ روایتی نثر ہے لیکن اس کے باوجود اس کا طرزِ بیان اعلیٰ ترین ہے۔ صوت و الفاظ کی ہم آہنگی میں اس کتاب کا کوئی ثانی نہیں ہے جبکہ فصاحت و بلاغت اور روانی اس کی انفرادیت ہے۔ عظمت اور وقار کے لحاظ سے بھی اس کا کوئی ثانی پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے اظہارئیے مختصر اور براہِ راست ہیں (گھما پھرا کر اور پیچیدہ ادائیگی اس کا خاصہ نہیں ہے)۔ اس کے جملے (آیات) عقل و دانش، حسن و خوبصورتی اور غور و فکر سے بھرپور ہوتے ہیں، دل و دماغ پر جن کے اثرات مبہوت کر دینے والے ہوتے ہیں۔ اس کے پیغامات دل کی گہرائیوں تک پہنچ کر رہتے ہیں۔ (قرآنی معلومات) 

قرآن اور 19کا ہندسہ

قرآنِ کریم کا مقام و رتبہ صرف لغت میں جامعیت اور انفرادیت کے اعتبار سے بلند و ارفع نہیں ہے بلکہ قرآن ایک حسابی و معجزاتی کتاب بھی ہے۔
’قرآن ایک معجزہ عظیم‘ کتاب میں اس نقطہ کو یوں بیان کیا گیاہے:
جون 1976ء میں ڈاکٹر راشد خلیفہ نے کمپوٹر سے قرآن کا شماریاتی تجزیہ کر کے قرآن کی حقانیت کو سائنس کے حتمی ثبوت پیش کرنے کی زبان ریاضی سے ثابت کر دیا۔ ڈاکٹر راشد نے انکشاف کیا کہ 19 کا ہندسہ پورے قرآن پر اس طرح محیط ہے کہ تمام الفاظ، حروف، آیات اور سورتوں کی تعداد 19 کا ہی حاصل ضرب ہیں۔ (قرآن ایک معجزہ عظیم)

قرآنِ مجید میں 19 کا ہندسہ صرف سورۃ مدثر میں آیا ہے جہاں اللہ نے فرمایا ’’دوزخ پر ہم نے انیس محافظ فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے۔‘‘ اس میں کیا حکمت ہے، یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن اتنا اندازہ ضرور ہو جاتا ہے کہ 19 کے عدد کا تعلق اللہ کے کسی حفاظتی انتظام سے ہے۔ پھر ہر سورۃ کے آغاز میں قرآنِ مجید کی پہلی آیت بسم اللہ کو رکھا گیا ہے گویا کہ اس کا تعلق بھی قرآن کی حفاظت سے ہے کیونکہ بسم اللہ کے کل حروف بھی 19 ہی ہیں۔ یہ دیکھ کر بھی حیرت میں مزید اضافہ ہوتا ہے کہ بسم اللہ میں ترتیب کے ساتھ چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور جب ان کے بارے میں ریسرچ کی گئی تو ثابت ہوا کہ لفظ ’اسم‘پورے قرآن میں 19 مرتبہ آیا ہے، لفظ ’الرحمن‘ 57 مرتبہ آیا ہے جو 19×3 کا حاصل ہے اور لفظ ’الرحیم‘ 114 مرتبہ آیا ہے جو 19×6 کا حاصل ہے اور لفظ ’اللہ‘ پورے قرآن میں 2,699 مرتبہ آیا ہے جو 19×142 کا حاصل ہے لیکن یہاں بقیہ ایک رہتا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ اللہ کی ذات پاک کسی حساب کے تابع نہیں ہے، وہ یکتا ہے۔ قرآنِ مجید کی سورتوں کی تعداد بھی 114 ہے جو 19×6 کا حاصل ہے۔ سورۃ توبہ کے آغاز میں ’بسم اللہ‘ نازل نہیں ہے لیکن سورۃ نمل کی آیت نمبر 30 میں اللہ تعالیٰ نے مکمل بسم اللہ نازل کرکے 19 کے فارمولا کی تصدیق کردی اگر ایسا نہ ہوتا تو حسابی قاعدہ فیل ہوجاتا۔

حضور علیہ السلام پر اترنے والی پہلی وحی کے متعلق غور کریں۔ یہ سورۃ العلق کی پہلی 5 آیات ہیں اور یہیں سے 19 کے اس حسابی فارمولا کا آغاز ہوتا ہے۔ ان 5 آیات کے کل 19 الفاظ ہیں اور ان 19 الفاظ کے کل حروف 76 ہیں جو ٹھیک 19×4 کا حاصل ہیں لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہے۔ جب سورۃ العلق کے کل حروف کی گنتی کی گئی تو عقل غریقِ حیرت ہوگئی کہ اس کے کل حروف 304 ہیں جو 19x4x4 کا حاصل ہیں اور قارئین کرام! عقل یہ دیکھ کر حیرت کی اَتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتی ہے کہ قرآنِ پاک کی موجودہ ترتیب کے مطابق سورۃالعلق قرآنِ پاک کی 96 نمبر سورۃ ہے۔ اب اگر قرآن کی آخری سورۃ الناس کی طرف سے گنتی کریں تو اخیر کی طرف سے سورۃ العلق کا نمبر 19 بنتا ہے اور اگر قرآن کی ابتدا سے دیکھیں تو اس 96 نمبر سورۃ سے پہلے 95 سورتیں ہیں جو ٹھیک 19×5 کا حاصل ضرب ہیں جس سے یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ سورتوں کے آگے پیچھے کی ترتیب بھی انسانی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حسابی نظام کا ہی ایک حصہ ہے۔ 

قرآن پاک کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورۃ، سورۃ النصر ہے۔ یہ جان کر آپ پر خوشگوار حیرت طاری ہوگی کہ اللہ پاک نے یہاں بھی 19 کا نظام برقرار رکھا ہے۔ پہلی وحی کی طرح آخری وحی سورۃ النصر ٹھیک 19 الفاظ پر مشتمل ہے۔ یوں کلام اللہ کی پہلی اور آخری سورۃ ایک ہی حسابی قاعدہ سے نازل ہوئیں۔
 یوں کہا جا سکتا ہے قرآن کی ترتیب و حفاظت کے لیے ’19‘ کا ہندسہ کوڈ کا نظام مہیا کرتاہے جس کی وجہ سے قرآن میں ردّ و بدل کی گنجائش نہیں ہے۔ کمپوٹر توزمانۂ حال کی ایجاد ہے لیکن قرآنِ کریم نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی اس حیرت انگیز کرشمہ کو ظاہر کر دیا ہے۔

قرآن اور وسعتِ علم

قرآنِ کریم کے وسعتِ علم کی حقیقت کو ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنی تصنیف ’’اسلام اور جدید سائنس‘‘ میں بیان کیا ہے:
تمام ظاہری و باطنی علوم و معارف کا جامع ہونا، تمام موجوداتِ عالم کے احوال کا جامع ہونا اور تمام آسمانی کتابوں کے ثمرات و مطالب کا جامع ہونا یہ وہ نمایاں خصوصیات تھیں جن کے باعث اس مقدس کتاب کا نام اللہ تعالیٰ نے ’القرآن‘ رکھا ہے۔ ( اسلام اور جدید سائنس)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور بیشک ہم ان کے پاس ایسی کتاب (قرآن) لائے جسے ہم نے (اپنے) علم (کی بنا) پر مفصل کیا۔وہ ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔  (سورۃ الاعراف۔52)
قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے کہ اسے جس بھی زمانہ میں پڑھا جائے ہمیشہ نئے سے نئے اسرار سے پردے اٹھاتی ہے۔ اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگراسے ایک مرتبہ پڑھ لیا ہے تو دوسری مرتبہ پڑھنے کی گنجائش نہیں بلکہ اسے جتنی مرتبہ بھی پڑھا جائے ہر بار نئے معانی اور رموز آشکار کرتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
اور ہم نے آپ پر وہ عظیم کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کا بڑا واضح بیان ہے۔ (سورۃ النحل ۔89)
اور (قرآن) ہر شے کی تفصیل ہے۔ (سورۃ یوسف ۔ 111)
ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی (جسے صراحتاً یا کنایۃً بیان نہ کر دیا ہو)۔ (سورۃ الانعام ۔38)
قرآنِ کریم میں ہر ذی روح کا علم چاہے مادی ہو یا غیر مادی، انسانی زندگی کی نجی، فکری، عملی ضرویات ہوں یا عالمی زندگی کے جملہ معاملات، مذہبی، روحانی، سیاسی، معاشی، ثقافتی، حکومتی، تعلیمی، اخلاقی، جسمانی، خاندانی مسائل کا ذکر ہو سب قرآن کے دامن میں موجود ہیں۔ 
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور نہ کوئی تر چیز ہے اور نہ کوئی خشک چیز مگر روشن کتاب میں (سب کچھ لکھ دیا گیا ہے)۔
قرآنِ مجید کے اسی اعجازِ جامعیت اور ابدی فیضان کا ذکر کرتے ہوئے امام جلال الدین سیوطیؒ شعر نقل کرتے ہیں جس کا ترجمہ یہاں پیش کیا جارہا ہے:
قرآن چودھویں رات کے چاند کی مانند ہے توُ اسے جس طرف سے بھی دیکھے وہ تیری آنکھوں کو چمکتا ہوا نور عطا کرے گا۔ یہ قرآن آفتاب کی طرح آسمان کے وسط میں ہے لیکن اس کی روشنی دنیا کے مشارق و مغارب سب کو ڈھانپ رہی ہے۔ (اسلام اور جدید سائنس)  

الغرض قرآنِ کریم اپنے ماننے والوں کو نہ صرف ذکر و عبادات اور روحانیت کا درس دیتا ہے بلکہ انہیں ہر قسم کی فنی، علمی، صنعتی اور سائنسی ترقی کی راہیں ہموار کرنے کی طرف بھی مائل کرتا ہے۔ یہ سب اس لیے کہ ملتِ اسلامیہ ایک مضبوط و متحد اور ترقی پسند قوم بن کر ابھرے اور دنیا کے نقشے میں عظیم مرتبہ و مقام حاصل کر کے دینِ حق کا پیغام کونے کونے تک پھیلا دے۔ قرآنِ کریم کی تعلیمات میں ظاہری و باطنی ، دنیاوی اور اخروی کامیابی کے راز پوشیدہ ہیں ۔ 

قرآن اور سائنس (Quran and Science)

قرآنِ کریم میں ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں جن کے متعلق آج سے کچھ صدیاں پہلے عقلی یا سائنسی دلائل موجود نہیں تھے اور ایمان کی روشنی سے خالی دل و دماغ انہیں ماننے اور تسلیم کرنے میں آر محسوس کرتے تھے۔ لیکن آج سائنسی ترقی کے رجحانات میں تیزی کے ساتھ عقل و دماغ اس بات کے شاہد ہیں کہ قرآنِ کریم میں جتنے بھی واقعات موجود ہیں سب کے مابین منطق اور سائنسی دلائل موجود ہیں جس پر دل و دماغ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ بلاشبہ قرآن ایک معجزہ عظیم ہے۔ قارئین کے لیے انہی انکشافات میں سے چند کو پیش کیا جارہا ہے                

واقعہ معراج  (Incident of Miraj)

واقعہ معراج کمالِ معجزاتِ مصطفیؐ ہے۔ یہ وہ عظیم خرقِ عادت واقعہ ہے جس نے تسخیر ِ کائنات کی بند راہوں کو کھول دیا اور انسانی سوچ اور عقل کو وسعت عطا کر کے حقائق کی تحقیق کے لیے نئے پیمانوں سے متعارف کروایا۔
سورۃ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
پاک ہے وہ ذات جو رات کے تھوڑے سے حصے میں اپنے (محبوب) بندے کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی۔ جس کے گردونواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں۔ یقینا وہ (یعنی اللہ) خوب سننے والا دیکھنے والا ہے۔

اللہ ربّ العزت نے رات کے مختصر سے وقفے میں حضور رحمت اللعالمینؐ کو مسجد ِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک بلکہ جملہ سماوی کائنات (Cosmos) کی سیر کروائی، انبیا کرام سے ملاقات کروائی، قابَ قوسین کے بلند و ارفع مقام کا شرف بخشا، اپنی رویت کی نعمت سے سر فراز فرمایا، نماز کا عظیم تحفہ عطا فرمایا اور پھر اسی رات کے حصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم زمین پر دوبارہ جلوہ افروز بھی ہوئے۔ عہد ِ حضورؐ، عہدِ صحابہ کرامؓ اور بعد میں آنے والے مسلمانوں کا ایمان قابلِ رشک اور قابلِ دید تھا کہ ظہورِ قدرتِ الٰہیہ کے ناقابلِ فہم و ادراک ہونے کے باوجود ان کا ایمان کبھی متزلزل نہیں ہوا اور نہ کبھی دل و دماغ پر شک و شبہات اور وسوسوں کی دھو ل پڑی۔ لیکن آج سائنسی ترقی اس قدر عروج پر پہنچ چکی ہے کہ ہر شخص عقلی اور سائنسی دلائل کی بنا پر چیزوں کو پرکھتا ہے اور حقائق طلب کرتا ہے۔ واقعہ معراج پر سائنسی تحقیق کی جا چکی ہے اور آج سائنس دورانِ معراج آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا آن کی آن میں ساتوں آسمانوں کی حدود سے گزر کر لامکاں تک جانا اور اسی ایک لمحے میں کھربوں نوری سال کی مسافت کو طے کر کے واپس سر زمین مکہ پر تشریف لانے کی ایک ممکنہ وضاحت کو پیش کرتی نظر آتی ہے۔ 

ابو مخدوم زادہ کی کتاب ’قرآن کریم کے سائنسی انکشافات‘ میں واقعہ معراج کے متعلق جو سائنسی تحقیق اور ریسرچ پیش کی گئی ہے اس کا ایک حصہ قارئین کی راہنمائی اور سہولت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے:
جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو براق پر سوار کیا۔ براق برق سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں بجلی، جس کی رفتار 186000 میل فی سیکنڈ ہے۔ اگر کوئی آدمی وقت کے گھوڑے پر سوار ہو جائے تو وقت اس کے لیے ٹھہر جاتا ہے یعنی اگر آپ 186000 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلیں تو وقت رک جاتا ہے کیونکہ وقت کی رفتار بھی یہی ہے۔ وقت گر جائے گا کیونکہ وقت اور فاصلہ مادے کی چوتھی جہت ہے اس لیے جو شخص اس چوتھی جہت پر قابو پا لیتا ہے کائنات اس کے لیے ایک نقطہ بن جاتی ہے۔ وقت رک جاتا ہے کیونکہ جس رفتار سے وقت چل رہا ہے وہ آدمی بھی اسی رفتار سے چل رہا ہے۔ حالانکہ وہ آدمی اپنے آپ کو چلتا ہوا محسوس کرے گا لیکن کائنات اس کے لیے وہیں تھم جاتی ہے جب اس نے وقت اور فاصلے کو اپنے قابو میں کر لیا ہو۔ اس لیے چاہے سینکڑوں برس اس حالت میں گزر جائیں لیکن وقت رکا رہے گا اور جوں ہی وہ وقت کے گھوڑے سے اترے گا وقت کی گھڑی پھر سے ٹک ٹک شروع کر دے گی، وہ آدمی چاہے پوری کائنات کی سیر کر کے آجائے، بستر گرم ہوگا، کنڈی ہل رہی ہو گی اور پانی چل رہا ہو گا۔ (قرآن کریم کے سائنسی انکشافات )

قرآن کے دیگر واقعات سائنس کی نظر میں 

جدید سائنس اپنے ارتقا کے ساتھ ساتھ قرآنِ مجید میں درج سائنسی حقائق کی توثیق کرتی چلی جا رہی ہے پھر چاہے وہ واقعہ تختِ سلیمان کی اڑان کا ہویا ابابیلوں کی کنکریوں کا یا چاہے براق کی سواری کا۔ تختِ سلیمان کی اڑان کو ہوائی جہاز کی اڑان کے ذریعہ سمجھنا آسان ہے، ابابیلوں کی کنکریوں کو رائفل کی گولی کی مثال کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ پروردگارِ عالم کی جانب سے ابابیل جب کنکریاں پھینکتے تھے تو وہ ہاتھیوں پر گولیاں بن کر برستی تھیں۔ براق کی تیز رفتاری کو برق کی وجہ سے سمجھنا آسان ہو گیاہے۔ اس کے علاوہ طی ٔ زمانی کا اشارہ واقعۂ معراج میں ہی نظر نہیں آتا ہے بلکہ دیگر قرآنی و اقعات  میں بھی اس کی نشاندہی موجود ہے جیسے کہ اصحابِ کہف کا واقعہ، جس میں وہ تین سو سال سے زائد عرصہ تک ایک غار میں سوئے رہے اور جب جاگے تو انہیں محسوس ہوا کہ وہ محض ایک دن یا دن کا کچھ حصہ سوئے رہے۔ اس کے علاوہ حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سو سال کا عرصہ گزر گیا مگر اس کے باوجود ان کے مادی جسم کو کوئی گزند نہ پہنچا۔ 

معجزات تو ہوتے ہی وہ ہیں جو خرقِ عادت ہوں۔ سائنس آج انہی واقعات کی حقانیت کے متعلق حقائق تلاش کرنے میں سرگردان ہے لیکن ایک مومن کے لیے قوتِ ایمانی کی بدولت ان واقعات پر سرِ تسلیم خم کرنا آسان ہے۔ اللہ وحدہٗ لاشریک ہے وہ جس کام کے لیے کُن فرماتا ہے وہ ہو جاتا ہے۔ تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ معجزہ اللہ کی قدرت کا اظہار ہے اور اس پر سائنسی تحقیقات محض ایک سعی اور جدوجہد کا نام ہے۔  بقول اقبالؒ:

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے 

 قرآنِ کریم پر غیر مسلم کا اظہارِ خیال

پروفیسر ڈاکٹر یوشی ہیڈی کوزائے (Professor Dr. Yoshihide Kozai)کو بعض ایسی آیات قرآنی بتائی گئیں جو آسمانوں کی تخلیق کی ابتدا اور زمین و آسمان کے معاملات کی توضیح کرتی ہیں۔ ان پر غور و فکر کرنے کے بعد انتہائی تحیر و تعجب کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا:

This quran describes the universe as seen from the highest point, everything seen is distinct and clear. He who said this, sees everything in existence. Seen from such point, there is nothing which can be unseen. 

ترجمہ: یہ قرآن انتہائی بلند مقام سے کائنات کی وضاحت کرتا ہے، ہر چیز واضح اور صاف ہے اس نے جو کچھ کہا وہ حقیقت میں موجود ہے۔ اُس نے ایسے مقام سے دیکھا ہے جہاں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ (قرآن ایک معجزۂ عظیم)

قرآنِ کریم ایک معجزاتی اور انسان کو حیرت میں مبتلا کر دینے والی کتاب ہے۔ اس عظیم کتاب کو بحیثیت معجزہ بیان کرنے کے لیے  جتنے بھی حقائق کو جمع کر لیا جائے گویا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ قرآنِ کریم کے اسی وسعتِ علم و جامعیت کے بارے میں اللہ خود فرماتا ہے :
اور زمین میں جتنے درخت ہیں سب قلم بن جائیں اور سمندر ان کی سیاہی، اس کے بعد سات سمندر اور ہوں تو بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے (یعنی کلامِ الٰہی کی وسعت و جامعیت کا احاطہ نہیں ہو سکے گا)، بیشک اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔ (سورۃ لقمان ۔27)
 آج جس موضوع کو زیرِ بحث لایا گیا ہے اس کا آغاز تو ہے لیکن کب اور کہاں اس کا اختتام کیا جائے معلوم نہیں۔ تحقیقات پر تحقیقات، انکشافات پر انکشافات ۔۔۔۔حیرت در حیرت ۔۔۔۔۔

قرآنِ کریم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قلب مبارک پر نازل کیا گیا اور قرآنِ کریم کے حقیقی معنی اور اسرار سے صرف صاحبِ قرآن ہی واقف ہو سکتا ہے۔ ایسا صاحبِ قرآن جس کا ذکر علامہ اقبالؒ اپنی شاعری میں فرماتے ہیں۔ 

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں، اللہ کی برہان
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن 

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآنِ کریم کے حقیقی معنی و رموز  سے روشناس کروائے اور صاحبِ قرآن (مرشد کامل اکمل) کے ساتھ وفا و قربانی کے عظیم جذبہ کے ذریعہ منسلک رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

استفادہ کتب :
کشف المحجوب؛ سید ابو الحسن علی بن عثمان الہجویریؓ
فلسفہ معراج النبی ؐ ؛ ڈاکٹر محمد طاہر القادری
اسلام اور جدید سائنس؛شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرا لقادری
قرآنی معلومات ؛ گروپ کیپٹن (ر) عبد الوحید خان
قرآن کریم کے سائنسی انکشافات ؛ ابو مخدوم زادہ
قرآن کریم ایک معجزہ عظیم ؛ تحقیق و ترتیب : ابو مخدوم زادہ
رسول کریمؐ کے معجزات ؛ محمد الیاس عادل
تصوفِ اسلام ؛ تالیف عبد الماجد دریا بادی 

  

37 تبصرے “قرآن حضور نبی اکرمؐ کا معجزۂ عظیم | Quran Hazoor Nabi kareem saww ka Mojza e Azeem

  1. جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
    اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
    بہترین ارٹیکل ہے♥️♥️♥️♥️

    1. قرآنِ کریم ہدایت کا منبع ہے جو اپنے اندر شریعت، طریقت، معرفت اور حقیقت کے تمام اسرار سمیٹے ہوئے ہے۔

    1. قرآنِ کریم ایک معجزاتی اور انسان کو حیرت میں مبتلا کر دینے والی کتاب ہے۔ اس عظیم کتاب کو بحیثیت معجزہ بیان کرنے کے لیے جتنے بھی حقائق کو جمع کر لیا جائے گویا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے

    1. جنﷺ کے آنے سے دونوں جہاں سج گیے
      اس نبیﷺ کی ولادت پر لاکھوں کروڑوں سلام

  2. قرآنِ کریم کا مقام و رتبہ صرف لغت میں جامعیت اور انفرادیت کے اعتبار سے بلند و ارفع نہیں ہے بلکہ قرآن ایک حسابی و معجزاتی کتاب بھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں