عشق ِ مصطفیؐ Ishq e Mustafa

عشقِ مصطفیٰؐ

Ishq-e-Mustafa (pbuh)

تحریر: فقیہہ صابر سروری قادری ۔لاہور

عشق (ishq) سے مراد محبت میں شدت کا پیدا ہونا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ایمان والے اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں۔ (سورۃ البقرہ۔ 165)
جب انسان کے قلب پر شدید محبت کا قبضہ ہو جاتا ہے تو اسے محبوب کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
مولانا رومؒ  (Molana Room)فرماتے ہیں:
عشق ایک ایسا شعلہ ہے جب یہ بھڑک اٹھتا ہے تو معشوق کے سوا تمام چیزوں کو جلا دیتا ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ عشق کا قرآن (Quran) اور ایمان  (iman)سے کوئی تعلق نہیں یہ صوفیا اور شعرا کی من گھڑت کہانیاں ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ عشق کا ایمان سے تعلق یہ ہے کہ جب ایمان کامل ہوتا ہے اپنے نقطۂ کمال کو پہنچتا ہے تو وہ عشق بن جاتا ہے۔ ایمان اور عشق دو مختلف چیزیں نہیں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایمان سے سفر شروع ہوتا ہے اور عشق پر سفر ختم ہوتا ہے، ایمان سیڑھی ہے اور عشق چھت ہے، ایمان ابتدا ہے اور عشق انجام ہے۔ ایمان پردے میں رہتا ہے اور عشق پردہ اٹھا دیتا ہے۔ عشق کے بغیر ایمان کی تکمیل ہو ہی نہیں سکتی۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) فرماتے ہیں:
 مومن کا سر مایہ حیاتِ ایمان ہے لیکن عاشق کی یہ ادنیٰ منزل ہے۔ عاشق کی اصل منزل وصالِ حق ہے جو صرف عشقِ حقیقی سے حاصل ہوتی ہے۔ (شمس الفقرا)

حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
مرد کو چاہیے کہ دریائے عشق میں غواصی کرے، اگر اس کی موجِ مہر اس کو ساحل تک پہنچا دے تو  فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا (سورۃ الاحزاب۔71۔ ترجمہ: وہ بڑی کامیابی سے سرفراز ہوا) اور اگر نہنگ قہر اس کو نگل جائے تو  فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہ    (سورۃ النسا۔100۔ ترجمہ: اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہو گیا)۔ (عشقِ رسول کریم نواز رومانی)

فیض احمد فیض کے بقول عشق کی بازی میں ہار جیت کا تصور کرنا ہی محال ہے یہاں ہار بھی جیت ہی ہے:

گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں

روح کی غذا عشق ہے، اسی سے معرفت نصیب ہوتی ہے۔ تمام انبیا اور اولیا کرام عاشق ہوئے ہیں کوئی بھی عشق سے خالی نہ تھا۔

ایک روایت ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام شوقِ الٰہی میں کثرت سے گریہ کناں رہتے تھے۔ آپ نے اس قدر گریہ کیا کہ آنکھوں کی بینائی زائل ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے دوبارہ بینائی عطا فرما دی۔ بعض محبین نے عرض کی ’’یا نبی اللہ ؑ! آپ اشک نہ بہائیں مبادا پھر بینائی زائل ہو جائے۔‘‘ لیکن سوزِ عشق نے آرام نہ لینے دیا۔ آپ عشق (Ishq) میں گریہ کناں رہے لہٰذا دوبارہ بینائی زائل ہو گئی لیکن اس بار بھی بینائی لوٹا دی گئی۔ تین بار ایسا ہی ہوا تو جبرائیل امین آپ کی بارگاہ میں وحی لے کر حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اے شعیبؑ! اگر دوزخ کے ڈر سے روتے ہو تو تم کو امن دیا اور اگر جنت کے لیے اشکبار ہو تو تم پر جنت کو واجب کر دیا۔‘‘ آپ نے عرض کی ’’یااللہ! مجھے جنت کی خوشی ہے نہ دوزخ کا ڈر۔ میں تو صرف تیری محبت، شوق اور تیری بارگاہ میں تیرے لیے رو رہا ہوں۔‘‘ اپنے نبی کی بات سن کر اللہ تعالیٰ نے دوبارہ وحی بھیجی ’’اے شعیب! عشق ایک مرض ہے۔ عشق کا نہ کوئی علاج ہے اور نہ کوئی دوا۔ غمِ عشق کی کوئی حد نہیں ہے اگر علاج ہے تو میرا دیدار ہے اور اس کی دوا میرا لقا ہے۔ اے شعیب! روتے رہو، روتے رہو اور روتے رہو۔ میری ذات کے سوا تیرے مرض کا علاج کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اے شعیب! میرے لقا کے سوا تیرے لیے کوئی راحت نہیں۔ لہٰذا تیری راحت و سکون عشق میں ہے اور میں اس کی حقیقت ہوں۔‘‘ (عشقِ رسول کریم نواز رومانی)
عشق کی برکت سے عاشق کو بے پناہ قوت حاصل ہوتی ہے وہ ابوالوقت اور ابوالحال بن جاتا ہے۔ نفس اور آفاق اس کے زیر نگین ہو جاتے ہیں۔
علامہ محمد اقبالؒ ’بالِ جبریل‘میں فرماتے ہیں:

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں 

’بالِ جبریل‘ میں ہی ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبرِ حسینؓ بھی ہے عشق
معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق

عشق وہ جوہر ہے جو اگر مٹی میں شامل ہو جائے تو اسے بھی تاریخ کا حصہ بنا دیتا ہے۔ عشق ہی راہِ فقر کی کلید ہے اور عشق ہی منزل تک پہنچاتا ہے۔ راہِ فقر عشق (Ishq) ہی ہے۔

علامہ محمد اقبالؒ اپنی نظم ’مسجد قرطبہ‘ میں لکھتے ہیں:

مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحبِ فروغ
عشق ہے اصل حیات، موت ہے اس پر حرام
تند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی رو
عشق خود اک سیل ہے، سیل کو لیتا ہے تھام
عشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام
عشق دم جبرئیل، عشق دل مصطفیؐ
عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام
عشق کی مستی سے ہے پیکرِ گل تابناک
عشق ہے صہبائے خام، عشق ہے کاس الکرام
عشق فقیہ حرم، عشق امیر جنود
عشق ہے ابن السبیل، اس کے ہزاروں مقام
 عشق کے مضراب سے نغمہء تار حیات
عشق سے نورِ حیات عشق سے نارِ حیات

(بالِ جبریل)

اللہ تعالیٰ کا اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عشق

پہلا عشق خود ذاتِ باری تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:
جب ربِ ودود نے اپنے محبوب کا نور پیدا کیا تو فرمایا اَنْتَ عشقی وَ اَنَا عشقک   یعنی اے میرے محبوبؐ، حسن ازلی کے مظہر اور میری قدرت کے شاہکار آپ میرا عشق ہیں اور میں آپ کا عشق ہوں۔ (عشقِ رسول کریم نواز رومانی)

 جب عشق (اللہ تعالیٰ) نے اپنا دربار سجایا تو سب سے پہلے اپنی ذات سے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  (Noor-e-Mohammadi) کو ظاہر کیا پھر آپؐ کے نور سے تمام مخلوق کی ارواح کو پیدا کیا گیا اور یہی حقیقت محمدیہ (Haqeeqat-e-Mohammadia) ہے جس کے ظہور کے لیے یہ کائنات پیدا کی گئی۔ خود حضور علیہ الصلوٰۃو السلام نے فرمایا:
اَنَا مِنْ نُّوْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَکُلُّ خَلَائِقِ مِنْ نُّوْرِیْ
ترجمہ: میں اللہ کے نور سے ہوں اور تمام مخلوق میرے نور سے ہے۔
یعنی تخلیق میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اوّل ہیں اور ظہور میں آخر ہیں، اس لیے آپؐ اوّل بھی ہیں اور آخر بھی۔ علامہ اقبالؒ

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طٰہٰ

(بالِ جبریل)

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے محبت و عشق (Ishq) کا اظہار قرآنِ مجید میں بیشمار مقامات پر کیا ہے۔ محبوب کی بات کو اپنی بات کہا اور اس کی اطاعت کو اپنی ہی اطاعت قرار دیا۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہ (سورۃ النسا۔80)
ترجمہ: جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
جن لوگوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کی اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا ان کی بیعت در حقیقت اللہ سے بیعت ہے۔
بے شک جو لوگ بیعت کرتے ہیں آپؐ سے وہ اللہ سے ہی بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہے۔ (سورۃ الفتح۔10)
اللہ نے اپنے محبوبؐ کو رحمت اللعالمین بنایا ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ (سورۃ الانبیا۔107)
ترجمہ: اور ہم نے آپ ؐ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
عالمین عالم کی جمع ہے جس میں انسان و جن، حیوانات و جمادات وغیرہ سب شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو سب سے معزز گھرانے میں پیدا فرمایا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ’’ایک دفعہ جبرائیل امین حاضر ہوئے اور عرض کی! یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں نے زمین کا گوشہ گوشہ چھان لیا لیکن آپؐ سے افضل کسی کو نہ دیکھا اور بنی ہاشم سے بہتر کسی قبیلے کو نہیں دیکھا۔‘‘ (رواہ طبرانی)
اللہ تعالیٰ کا اپنے محبوب سے عشق (Ishq) کا خوبصورت اظہار معراج شریف کا واقعہ ہے۔ سورۃ النجم میں اللہ تعالیٰ عاشق اور معشوق کی اس ملاقات کو بہت پیارے انداز میں بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
 قسم ہے روشن ستارے (محمدؐ) کی جب وہ (معراج سے) نیچے اترے، تمہارے صاحب نہ راہ بھولے اور نہ راہ بھٹکے۔ اور وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے، ان کا ارشاد سراسر وحی ہوتا ہے جو انہیں وحی کی جاتی ہے۔ ان کو بڑی قوتوں والے (ربّ) نے علم سے نوازا۔ جو حسن ِمطلق ہے۔ پھر اس (جلوۂ حسن) نے (اپنے) ظہور کا ارادہ فرمایا اور وہ (محمدؐ شبِ معراج عالم ِمکان کے) سب سے اونچے کنارے پر تھے۔ پھر وہ قریب ہوئے اور پھر اس سے بھی زیادہ (کتنا کم اللہ اور اس کا محبوب ہی بہتر جانتے ہیں)۔ (سورۃ النجم۔1-9)
ایسا وصال کسی عاشق کو نصیب نہ ہوا۔ اس رات اللہ نے اپنے  محبوب کو خوب راضی کیا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پرمکمل کیا، آپؐ کی سیرت کے ہر پہلو، ہر ادا اور ہر قول کو محفوظ فرما دیا اور آپؐ کی اتباع ہر مسلمان پر لازم قرار دے دی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے عشق و محبت کو ہی ایمان کی کسوٹی بنا دیا ہے۔ عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Ishq-e-Mustafa pbuh) کے بغیر ایمان کامل ہی نہیں ہو سکتا۔

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘ (صحیح بخاری)

حضرت ابوبکر صدیقؓ کا عشقِ مصطفیؐ
Hazrat Abu Bakr Sadiq(R.A) Ka Ishq e Mustafa(S.A.W)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کو آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عشق (Ishq) تھا۔ آپ ؓکی ذاتِ مبارکہ تمام طالبانِ مولیٰ کے لیے مثال ہے کہ کس طرح خلوص اور صدق سے راہِ فقر پر چلنا چاہیے۔ بیشک آپؓ نے تمام طالبوں پر واضح کر دیا کہ عشق کیسے کیا جاتا ہے۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ سیدّنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہٗ کی والہانہ محبت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے سیدّہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
میرے والد گرامی سارا دن حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی خدمت میں حاضر رہتے۔ جب عشا کی نماز سے فارغ ہو کر گھر آتے تو جدائی کے یہ چند لمحات کاٹنا بھی ان کے لیے دشوار ہو جاتا۔ وہ ساری رات ماہی بے آب کی مثل بے تاب رہتے۔ ہجر و فراق میں جلنے کی وجہ سے ان کے جگرِسوختہ سے اس طرح آہ اٹھتی جس طرح کوئی چیز جل رہی ہو اور یہ کیفیت اس وقت تک رہتی جب تک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چہرۂ اقدس کو نہ دیکھ لیتے۔

آپؓ نے اپنی جان، مال اور اولاد سب سے بڑھ کر آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام سے محبت کی اور یہی عشق کا اصول بھی ہے۔
سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہٗ اس امت کے امام اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Ishq-e-Mustafa pbuh) میں سب سے آگے بڑھنے والے ہیں۔ آپؓ کی چار پشتیں صحابی بنیں۔ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہٗ کی صحابیت قرآنِ مجید سے ثابت ہے ۔ آپ کے لیے ثانی الاثنین اور لصاحبہ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کو عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وجہ سے عبادت میں اتنا کامل شغف حاصل ہو گیا تھا کہ سو زو گداز کی وجہ سے رقت طاری رہتی تھی جس کا دوسروں پر بھی اثر پڑتا تھا۔
بخاری شریف کے الفاظ ہیں جس کا مفہوم یہ ہے ’’آپ نماز ادا فرماتے اور قرآنِ مجید پڑھتے پس مشرکین کی عورتیں اور بچے آپؓ کو بنظرِتعجب دیکھتے۔ ابوبکرؓ کی یہ کیفیت ہوتی کہ جب قرآن پڑھتے تو زارو قطار روتے، انہیں اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہتا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ ہمیشہ عشق (Ishq) میں سبقت لے جاتے رہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا۔ میرے پاس کافی مال تھا میں نے سوچا آج میں ابوبکرؓ سے سبقت لے جاؤں گا چنانچہ میں نے آدھامال صدق کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا ’’اہلِ خانہ کے لیے کیا چھوڑا؟‘‘ میں نے عرض کی’’ اس کے برابر۔‘‘ اتنے میں ابوبکر صدیقؓ بھی اپنا مال لے کر آئے۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوچھا ’’اہلِ خانہ کے لیے کیا چھوڑا؟‘‘ عرض کی ’’اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو چھوڑ کر آیا ہوں۔‘‘
یہ سن کر حضرت عمر فاروقِ نے فرمایا ’’میں آپ کے ساتھ کسی چیز میں مقابلہ نہ کروں گا۔‘‘
علامہ اقبالؒ نے اس واقعہ کو ’بانگِ درا‘ میں شاعرانہ انداز میں اس طرح پیش کیا ہے:

اک دن رسولِ پاکؐ نے اصحابؓ سے کہا
دیں مال راہِ حق میں جو ہوں تم میں مالدار
ارشاد سن کے فرطِ طرب سے عمرؓ اُٹھے
اس روز ان کے پاس تھے درہم کئی ہزار
دل میں یہ کہہ رہے تھے کہ صدیقؓ سے ضرور
بڑھ کر رہے گا آج قدم میرا راہوار
لائے غرضکہ مال رسولِ امیں کے پاس
ایثار کی ہے دست نگر ابتدائے کار
پوچھا حضورؐ سرورِ عالم نے، اے عمرؓ
اے وہ کہ جوشِ حق سے ترے دل کو ہے قرار
رکھا ہے کچھ عیال کی خاطر بھی تو نے کیا؟
مسلم ہے اپنے خویش و اقارب کا حق گزار
کی عرض نصف مال ہے فرزند و زن کا حق
باقی جو ہے وہ ملتِ بیضا پہ نثار
اتنے میں وہ رفیقِ نبوت بھی آ گیا
جس سے بنائے عشق و محبت ہے استوار
لے آیا اپنے ساتھ وہ مرد وفا سرشت
ہر چیز جس سے چشم جہاں میں ہو اعتبار
ملک یمین و درہم و دینار و رخت و جنس
اسپ قمر سم و شتر و قاطر و حمار
بولے حضور،ؐ چاہیے فکر عیال بھی
کہنے لگا وہ عشق و محبت کا رازدار
اے تجھ سے دیدۂ مہ و انجم فروغ گیر
اے تیری ذات باعث تکوین روزگار
پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
صدیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسولؐ بس

ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ابوبکر صدیقؓ کو بوسیدہ لباس میں ملبوس دیکھا تو فرمایا ’’ابوبکرؓ تم پر ایک وقت خوشحالی کا تھا اب تمہیں دین کی وجہ سے کتنی مشقتیں اٹھانی پڑ رہی ہیں۔‘‘ حضرت ابوبکرؓ تڑپ کر بولے ’’اگر ساری زندگی اسی مشقت میں گزار دوں اور شدید عذاب میں مبتلا رہوں حتیٰ کہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی نہ لگے اے محبوبؐ! آپ کی معیت کے بدلے یہ سب کچھ برداشت کرنا میرے لیے آسان ہوگا۔‘‘

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنی وفات سے قبل وصیت کی تھی کہ جب میرا جنازہ تیار ہو جائے تو روضۂ اقدس کے دروازے پر لے جا کر رکھ دینا اور اجازت طلب کرنا اور کہنا ’’یا رسول اللہؐ! یہ ابوبکر صدیقؓ ہیں، انہیں آپؐ کے پاس دفن کر دیں؟‘‘ اگر اجازت دیں تو مجھے وہاں دفن کرنا اور اگر اجازت نہ دیں جو مجھے جنت البقیع میں لے جانا۔ پس آپؓ کے جنازہ کو روضہ مبارک کے دروازہ پر لے جایا گیا اور کہا گیا یہ ابوبکر ہیں اور رسول اللہؐ کے پاس دفن ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور انہوں نے ہمیں وصیت کی ہے کہ اگر آپ اجازت دیں تو آپ کے پہلو میں دفن کر دیں اور اگر اجازت نہ دیں تو واپس چلے جائیں۔ 

حضرت علی کرم اللہ وجہہ روایت فرماتے ہیں ’’میں نے دروازہ دیکھا کہ وہ کھل گیا اور میں نے ایک کہنے والے کو کہتے سنا کہ حبیب کو حبیب سے ملا دو، بیشک حبیب، حبیب کے ساتھ ملنے کا مشتاق ہے۔‘‘  (خصائص الکبریٰ)

حضرت عمر فاروقؓ کا عشقِ مصطفیؐ
(Hazrat Umar Farooq (ra) Ka Ishq-e-Mustafa)

حضرت عمر فاروقؓ بہت صاف گو اور سنجیدہ مزاج شخصیت کے مالک تھے۔ آپؓ کی حیاتِ مبارکہ بھی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Ishq-e-Mustafa pbuh) کی تجلیات سے منور نظر آتی ہے۔ آپؓ ہر اہم موقع پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہمراہ رہے۔
حضرت عبید بن جریحؓ نے حضرت عمر ؓسے کہا ’’میں نے دیکھا ہے کہ آپؓ بیل کے دباغت کیے ہوئے چمڑے کا بغیر بالوں والا جوتا پہنتے ہیں۔‘‘ آپؓ نے فرمایا ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ ایسا ہی جوتا پہنتے ہیں جس پر بال نہ ہوں اسی لیے میں بھی ایسا جوتا پسند کرتا ہوں۔‘‘ (شمائل ترمذی)
حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دورِ خلافت میں حضرت اسامہ بن زیدؓ کا وظیفہ ساڑھے تین ہزار اور اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ کا تین ہزار مقرر کیا۔ ابن ِ عمرؓ نے پوچھا کہ آپ نے اسامہؓ کو ترجیح کیوں دی؟ وہ کسی جنگ میں مجھ سے آگے نہیں رہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’اسامہؓ تمہاری نسبت آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کو زیادہ محبوب تھا اور اسامہؓ کا باپ تمہارے باپ کی نسبت آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کو زیادہ پیارا تھا، پس میں نے آقا پاکؐ کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی۔‘‘ (ترمذی، کتاب المناقب زید بن حارثہ)

 ایک مرتبہ سیدّنا عمر فاروقؓ حج کے لیے تشریف لائے، طواف کیا اور حجرِ اسود کے سامنے کھڑے ہو کر فرمانے لگے ’’بیشک تو ایک پتھر ہے جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان، اگر میں نے آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔‘‘

یہ روایات ثابت کرتی ہیں کہ آپ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس قدر عشق تھا کہ آپ ان سے نسبت رکھنے والی ہر شے سے پیار کرتے تھے۔ اپنے دورِ خلافت میں حضرت عمرؓ ایک مرتبہ رات کو گشت کر رہے تھے کہ آپؓ نے ایک گھر سے کسی کے اشعار پڑھنے کی آواز سنی۔ جب قریب ہوئے تو پتہ چلا کہ ایک بوڑھی عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت اور جدائی میں اشعار پڑھ رہی ہے۔ حضرت عمرؓ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ بوڑھی عورت نے حضرت عمرؓ  کو دیکھا تو حیران ہوئی اور کہنے لگی ’’امیر المومنین! آپ رات کے وقت میرے دروازے پر کیسے آ گئے؟‘‘ آپؓ نے فرمایا ’’ایک فریاد لے کر آیا ہوں، وہ اشعار مجھے دوبارہ سنائیں جو آپ پڑھ رہی تھیں۔‘‘ بوڑھی عورت نے اشعار پڑھے جس کا مفہوم اس طرح سے ہے:
’’حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  (Prophet Hazrat Muhammad saww) پر نیک اور اچھے لوگ درود پڑھ رہے ہیں۔ وہ راتوں کو جاگنے والے اور سحر کے وقت روزہ رکھنے والے تھے۔ موت تو آنی ہی ہے کاش مجھے یقین ہو جائے کہ مرنے کے بعد مجھے محبوب کاوصل نصیب ہو گا۔‘‘
حضرت عمرؓ وہیں زمین پر بیٹھ کر کافی دیر تک روتے رہے۔ دل اتنا غمزدہ ہوا کہ کئی دن تک بیمار رہے۔ (نسیم الریاض)
آپؓ کی دلی آرزو تھی کہ مجھے موت بھی اس شہر میں آئے جہاں میرے محبوبؐ آرام فرما رہے ہیں اس لیے آپؓ یہ دعا کیا کرتے تھے ’’اے اللہ! تو مجھے اپنی راہ میں شہادت نصیب کر اور اپنے رسول ؐ کے شہر میں موت دے۔‘‘ (بخاری، کتاب فضائل المدینہ 1890)
عشقِ رسولؐ نے حضرت عمرؓ کو کمال مرتبہ عطا کیا اور آپؓ کی سب منزلیں عشق نے آسان کر دیں۔ بقول اقبالؒ

جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پہ اسرارِ شہنشاہی

حضرت عثمان غنیؓ کا عشق (Hazrat Usman e Ghani (ra) Ka ishq-e-Rasool)

حضرت عثمان غنیؓ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے انتہا کا عشق تھا۔ کوئی عاشق ہی اپنی جان اور مال اپنے محبوب پر وار سکتا ہے۔ آپ کا لقب غنی ہے۔ آپ مالدار تھے لیکن آپ کا مال صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کے لیے تھا۔ جب بھی مال کی ضرورت پیش آتی آپؓ آگے بڑھتے اور راہِ خدا میں نچھاور کرتے۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عثمان غنیؓ کو نمائندہ بنا کر مکہ مکرمہ بھیجا۔ بعض صحابہ کرامؓ نے کہا ’’عثمانؓ خوش قسمت ہیں کہ بیت اللہ کا طواف کر کے ہی آئیں گے۔‘‘ جب حضرت عثمانؓ واپس تشریف لائے تو صحابہؓ نے پوچھا ’’کیا آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا؟‘‘ آپؓ نے جواب دیا ’’اللہ کی قسم! قریش مجھے طواف کرنے کے لیے اصرار کرتے رہے، اگر میں وہاں ایک سال بھی مقیم رہتا تو پھر بھی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بغیر طواف نہ کرتا۔‘‘

ایک مرتبہ حضرت عثمانؓ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے گھر کھانے کے لیے مدعو کیا۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ جب آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہمراہ آپ کے گھر گئے تو حضرت عثمانؓ سارا راستہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قدم مبارک کی طرف دیکھتے رہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ نے جب یہ بات آقا پاک علیہ السلام کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Muhammad saww) نے وجہ دریافت فرمائی۔ حضرت عثمان غنیؓ نے عرض کیا ’’اے اللہ کے محبوبؐ! آج میرے گھر میں اتنی مقدس ہستی آئی ہے کہ میری خوشی کی انتہا نہیں۔ میں نے نیت کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جتنے قدم اپنے گھر سے چل کر یہاں تشریف لائیں گے میں اتنے ہی غلام اللہ کی راہ میں آزاد کروں گا۔‘‘ (جامع المعجزات)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا عشقِ مصطفیؐ (Hazrat Ali (ra) Ka ish- e-Rasool)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ لڑکپن سے ہی سرورِ دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Muhammad saww) کے ساتھ وابستہ تھے اس لیے آفتابِ رسالت کی کرنیں جیسے ہی طلوع ہو ئیں انہوں نے لڑکوں میں سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی۔ چھوٹی عمر میں انسان میں خوف اور ڈر زیادہ ہوتا ہے مگر عشق انسان کو نتائج سے بے پرواہ بنا دیتا ہے لہٰذا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسلام قبول کرنے میں ذرہ برابر بھی تامل نہ کیا۔ جب حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے مدینہ ہجرت کا ارادہ فرمایا تو اس وقت آپ ؐکے پاس لوگوں کی امانتیں موجود تھی۔ اس صادق اور امین ذات نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو منتخب فرمایا اور حکم دیا ’’علیؓ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ اور صبح کے وقت امانتیں لوگوں کے سپرد کرکے مدینہ پہنچ جانا۔‘‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی دلیری، شجاعت و بہادری پر قربان جائیں کہ بلا خوف و خطر چارپائی پر لیٹ گئے اور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم پر جان کی بازی لگا دینے پر آمادہ ہو گئے۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) فرماتے ہیں:
عشق محض زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ عشق اس ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں مبتلا ہو کر کوئی شخص اپنے محبوب کے لیے تن من دھن کی بازی لگانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ وہ محبوب کی اداؤں کا اسیر ہو جاتا ہے۔ وہ محبوب کے نقش ِ پا کو دیکھ کر چلتا ہے اور ان سے سرمنہ انحراف نہیں کرتا۔ اس کا قلب محبوب کی خیر خواہی سے معمور ہوتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ کے رسولؐ سے ایسا ہی عشق تھا اور سیدّنا علی ابنِ ابی طالبؓ تو عشقِ مصطفیؐ (Ishq-e-Mustafa pbuh) میں سرشار تھے۔ عالمِ طفلی سے ہی صحبتِ حبیبِ کبریا کی بہاریں نصیب تھیں۔ حسنِ عالمتاب کے قرب سے شعلۂ عشق کیوں نہ بھڑکتا! شعلہ بھڑکا اور قلب و روح کی گہرائیوں سے مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Muhammad saww) کے عشق میں سرشار ہو گئے اور عشق کا رنگ اتنا گہرا تھا کہ وقت کی اکائیاں اس میں کمی کا باعث نہ بن سکیں بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ جوشِ عشق  (Ishq) میں اضافہ ہوتا گیا۔ (خلفائے راشدین)

معرفتِ الٰہی کے لیے معرفتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہونا ضروری ہے اور معرفتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عشق سے حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے صحابہ کرام، فقرائے کاملین اور اولیا کرام نے عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  (Ishq-e-Mustafa pbuh)پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو صحابہ کرامؓ کا عشقِ رسول اتنا پسند آیا کہ سب کو حکم دیا کہ ایسے ایمان لاؤ جیسے میرے محبوب کے صحابہ کرامؓ ایمان لائے ہیں۔ 

ہر فقیر اپنے دور میں اپنے انداز میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نمونہ بنا اور اس کی چال ڈھال عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا درس دیتی رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سارے فقرا عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں فنا ہوتے ہیں تو اس لیے ہر دور میں مرشد راہبری کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ چونکہ یہ فقرا فنا فی الرسول ہوتے ہیں اس لیے یہ طالبوں کی تربیت بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طریقہ کے مطابق ہی فرماتے ہیں۔
میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس موجودہ دور کے امام اور شیخِ کامل ہیں اور آپ مدظلہ الاقدس کی ساری زندگی عشقِ مصطفیؐ (Ishq-e-Mustafa pbuh) کی عکاس ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے ’’حقیقتِ محمدیہ‘‘ کے نام سے کتاب بھی تصنیف فرمائی۔ آپ مدظلہ الاقدس کی درج ذیل رباعی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عشق و محبت کو ظاہر کرتی ہے:

جنت سے اعلیٰ اور ہر لمحہ انوار کی برسات ہے حضورؐ کی قبرِ انور پر
رحمت کا نزول اور ملائکہ کا درود و سلام ہے حضورؐ کی قبرِ انور پر
نجیبؔ جیسا عاصی و خطا کار نہیں ہے حضور ؐ اس زمانے میں
بس ہے یہ التجا کہ رکھوں سر قدموں میں اور جاں نکلے حضورؐ کی قبرِ انور پر

عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Ishq-e-Mustafa pbuh) کے لیے مرشد کامل اکمل کی صحبت ضروری ہے کیونکہ مرشد کے بغیر نہ تو عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  (Ishq-e-Mustafa pbuh)دلوں میں اجاگر ہوتا ہے اور نہ ہی طالب دیدارِ الٰہی تک پہنچتا ہے۔ تمام طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوتِ عام ہے کہ وقت کے امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) مرشد کامل اکمل ہیں۔ ان کی صحبت میں آکر اپنے دلوں کو سچے عشق سے منور کریں۔

استفادہ کتب:
شمس الفقرا؛ از سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)
خلفائے راشدین  ایضاً
فقرِ اقبال  ایضاً
فلسفۂ عشق از ڈاکٹر طاہر القادری
شانِ مصطفی بزبانِ مصطفیؐ  از قاری مولانا غلام حسن قادری
عشقِ رسول کریمؐ  از نواز رومانی

 

Ishq-e-Mustafa (pbuh)

44 تبصرے “عشق ِ مصطفیؐ Ishq e Mustafa

  1. صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبرِ حسینؓ بھی ہے عشق
    معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق

    1. عشق کا ایمان سے تعلق یہ ہے کہ جب ایمان کامل ہوتا ہے اپنے نقطۂ کمال کو پہنچتا ہے تو وہ عشق بن جاتا ہے۔

        1. جب انسان کے قلب پر شدید محبت کا قبضہ ہو جاتا ہے تو اسے محبوب کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

  2. معرفتِ الٰہی کے لیے معرفتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہونا ضروری ہے اور معرفتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عشق سے حاصل ہوتی ہے۔

  3. مولانا رومؒ فرماتے ہیں:
    عشق ایک ایسا شعلہ ہے جب یہ بھڑک اٹھتا ہے تو معشوق کے سوا تمام چیزوں کو جلا دیتا ہے۔

    1. نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
      وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طٰہٰ

  4. عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بغیر ایمان کامل ہی نہیں ہو سکتا۔

  5. گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
    گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں

  6. جنت سے اعلیٰ اور ہر لمحہ انوار کی برسات ہے حضورؐ کی قبرِ انور پر
    رحمت کا نزول اور ملائکہ کا درود و سلام ہے حضورؐ کی قبرِ انور پر
    نجیبؔ جیسا عاصی و خطا کار نہیں ہے حضور ؐ اس زمانے میں
    بس ہے یہ التجا کہ رکھوں سر قدموں میں اور جاں نکلے حضورؐ کی قبرِ انور پر

  7. معرفتِ الٰہی کے لیے معرفتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہونا ضروری ہے اور معرفتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عشق سے حاصل ہوتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں