حضورِ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وجودِ مسعود کی برکات | Hazoor Saww kay wajood e masood ki barkaat

حضورِ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وجودِ مسعود کی برکات

 Hazoor  (pbuh) kay  Wajood-e-Masood  ki Barkaat

قریش (Quraysh) اور دیگر رؤسائے عرب(Arab) کے ہاں یہ رواج تھا کہ وہ اپنے بچوں  (children) کو دودھ پلانے والیوں کے حوالے کرتے تھے اس کی متعدد وجوہات تھیں تاکہ

۱۔ ان کی بیویاں ان کی خدمت کے لیے فراغت پا سکیں۔
۲۔ ان کی اولاد صحرائی ماحول میں نشوونما پائے اور انہیں فصیح عربی زبان میں مہارت حاصل ہو جائے۔
۳۔ بچوں کو صحرا کا پاک و صاف ماحول میسر آئے اور وہ تندرست اور توانا ہوں۔ صحرائی زندگی کی جفاکشیوں اور مشقتوں کے وہ بچپن سے ہی خوگر ہوں۔
۴۔ ان کے جد امجد حضرت معد کی جسمانی قوت اور ہڈیوں کی مضبوطی اور اعصاب کی پختگی کے اوصاف ان کو ورثہ میں ملیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ مسلمانوں کو یہ نصیحت کیا کرتے تھے ’’اے مسلمانو! معد کا تن و توش پیدا کرو، مشقت طلبی کو اپنا شعار بناؤ اور اپنے جسم اور اعصاب کو سخت بناؤ۔‘‘

علامہ اقبالؒ نے اسی ارشادِ فاروقی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی قوم کے نوجوانوں کو یہ نصیحت کی:

رگ سخت چو شاخ آھو بیار
تن نرم و نازک بتیہو گزار

ترجمہ: اپنے اعصاب کو ہرن کے سینگوں کی طرح مضبوط بناؤ۔ نرم و نازک جسم تمہیں زیب نہیں دیتا۔

گویا اس وقت کے رؤسائے قریش اور امرائے عرب اپنے بچوں کو اپنی ماں کی نرم و گداز آغوش میں پلتے ہوئے دیکھنے کی بجائے اس بات کو پسند کرتے تھے کہ وہ صحرا نشین قبیلوں کے پاس اپنے بچپن کو گزاریں تاکہ اس کی ریت اور اس کی کھردری پتھریلی زمین کی رگڑوں سے ان کے جسم میں مضبوطی پیدا ہو، ان کی فصیح و بلیغ زبان سیکھ کر وہ بہترین خطیب اور قائد بن سکیں۔

ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے آپ سے زیادہ فصیح کوئی نہیں دیکھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
’’ایسا کیوں نہ ہو کہ میں قبیلہ قریش کا فرزند ہوں اور میں نے اپنی رضاعت کا زمانہ بنی سعد قبیلہ میں گزارا ہے۔‘‘

مختلف قبائل (Different Tribe of The Arab) کی خواتین خاص خاص موسموں میں مکہ آیا کرتیں تاکہ متمول لوگوں کے بچوں کو لے جائیں، ان کو دودھ پلائیں، ان کی پرورش کریں اور جب مدتِ رضاعت ختم ہو تو ان کے والدین انہیں گراں قدر عطیات اور انعامات دے کر شاد کام کریں۔ وہ اس وقت بھی مقررہ اجرت پر دودھ پلانا باعثِ عار سمجھتی تھیں۔ ان کے ہاں یہ مقولہ تھا ’’آزاد عورت اپنے پستانوں کے ذریعہ رزق نہیں کماتی‘‘۔ لیکن بطور انعام اور عطیہ اگر کوئی باپ اپنے بیٹے کی دودھ پلانے والی کو کچھ دیتا تو وہ اسے بخوشی قبول کر لیتیں۔

حضرت عبدالمطلب بھی ایسی مرضعہ کی تلاش میں تھے تاکہ اپنے جلیل القدر پوتے کو اس کے حوالے کر سکیں۔ صحرا کی کھلی فضا اور پاکیزہ ہوا میں وہ اس کی پرورش بھی کرے اور جوہرِفصاحب کو بھی آب و تاب بخشے۔ اسی اثنا میں بنی سعد کی چند خواتین بچے لینے کی غرض سے مکہ آئیں۔ بنی سعد کا قبیلہ بنی ہوازن کی ایک شاخ تھا جو اپنی عربیت اور فصاحت میں جواب نہیں رکھتا تھا۔ ان خواتین میں حلیمہ سعدیہ بھی تھیں جو اپنے خاوند حارث بن عبدالعزی کے ساتھ اس مقصد کے لیے مکہ آئیں تھی۔ حضرت سعدیہ  (Hazrat Sadia Halima)خود سارا حال یوں بیان فرماتی ہیں:

یہ سال قحط اور خشک سالی کا سال تھا۔ ہمارے پاس کچھ باقی نہ رہا تھا جس پر گزر اوقات کر سکیں۔ میں ایک سبزی مائل رنگ والی گدھی پر سوار ہو کر اپنے قافلہ کے ساتھ نکلی۔ ہمارے ساتھ ایک بوڑھی اونٹنی بھی تھی جس کی کھیری میں دودھ کا ایک قطرہ تک نہ تھا۔ میرا بچہ بھوک کی وجہ سے ساری ساری رات روتا رہتا اور ہمیں ایک پل کے لیے بھی سونا نصیب نہ ہوتا۔ نہ میری چھاتیوں میں اتنا دودھ تھا جس سے وہ سیر ہو سکے اور نہ ہماری اونٹنی کی کھیری میں دودھ تھا جو ہم اس کو پلا سکتے۔ ہم اس امید پر جی رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ احسان فرمائے گا، بارش برسے گی اور خوشحالی کا زمانہ پھر لوٹ آئے گا۔ میں اس گدھی پر سوار ہو کر اس قافلہ کے ساتھ روانہ ہوئی۔ مارے بھوک کے وہ قدم بھی نہیں اٹھا سکتی تھی۔ اس کی وجہ سے سارا قافلہ مصیبت میں تھا۔ نہ وہ ہمیں چھوڑ کر آگے جا سکتے تھے اور نہ یہ لاغر گدھی چلنے کا نام لیتی تھی۔ بڑی مشکل سے ہم مکہ پہنچے اور سب نے بچے تلاش کرنے کے لیے گھر گھر چکر لگانے شروع کیے۔ بنی سعد کی عورتیں سیدّہ آمنہ کے نونہال کے پاس بھی گئیں لیکن جب انہیں پتہ چلتا یہ  یتیم ہے تو وہ واپس لوٹ آتیں۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ اس کا باپ تو ہے نہیں جو ہماری خدمات پر ہمیں انعام و اکرام سے مالا مال کر دے۔ بیوہ ماں اور بوڑھا دادا ہماری کیا خدمت کرے گا۔ چند دنوں میں ہر عورت کو بچہ مل گیا۔ ایک میں تھی جس کی گود خالی تھی۔ میری غربت، تنگ دستی اور خستہ خالی دیکھ کر کوئی خاندان مجھے اپنا بچہ دینے کے لیے آمادہ نہ ہوا۔ آخر میں نے اپنے خاوند سے کہا کہ بخدا میں خالی واپس گھر نہیں جاؤں گی۔ میں اس یتیم بچے کو ہی لے آتی ہوں کم از کم خالی گود تو واپس نہیں جاؤں گی۔ میرے شوہر نے کہا ٹھیک ہے جاؤ اور اس یتیم بچہ کو لے آؤ۔

میں گئی اور وہ بچہ لے آئی۔ مجھے بھی کوئی اور بچہ مل جاتا تو شاید میں بھی ایک یتیم بچہ کو نہ لاتی۔ میرے لیے اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا۔ سعی بلیغ کے باوجود مجھے کسی دوسری عورت نے اپنا بچہ دیا ہی نہیں۔

ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حلیمہ سعدیہ  (Hazrat Sadia Halima) فرماتی ہیں کہ جب میں مکہ پہنچی تو مجھے حضرت عبدالمطلب (Hazrat Abdul Muttalib) ملے۔ انہوں نے پوچھا تم کون ہو۔ میں نے کہا میں بنی سعد کی ایک خاتون ہوں۔ انہوں نے نام پوچھا تو میں نے بتایا حلیمہ۔ یہ سن کر حضرت عبدالمطلب (Hazrat Abdul Muttalib) فرطِ مسرت سے مسکرانے لگے اور فرمایا ’’واہ سعد اور حلم۔ کیا کہنا، یہ وہ دو خوبیاں ہیں جن میں زمانہ بھر کی بھلائی اور ابدی عزت ہے۔

پھر فرمایا میرے ہاں ایک یتیم بچہ ہے۔ کسی نے اس کے یتیم ہونے کی وجہ سے اسے قبول نہیں کیا۔ کیا توُ اس یتیم بچے کو دودھ پلانے کے لیے تیار ہے؟  ہو سکتا ہے کہ اس کی برکت سے تیرا دامن یمن و سعادت سے لبریز ہو جائے۔ میں نے اپنے شوہر سے مشورہ کرنے کے لیے اجازت طلب کی۔اللہ تعالیٰ نے میرے شوہر کے دل کو اس گنج گراں مایہ کے ملنے پر فرحت و سرور سے بھر دیا۔ اس نے کہا حلیمہ! دیر نہ کرو، فوراً جاؤ اور اس بچے کو لے آؤ۔ میں واپس آئی تو حضرت عبدالمطلب (Hazrat Abdul Muttalib) کو اپنا منتظر پایا۔ میں نے کہا وہ بچہ مجھے دے دیجئے میں اس کو دودھ پلانے کے لیے تیار ہوں۔ وہ مجھے حضرت آمنہ کے گھر لے گئے۔ سیدّہ  (Syeda) نے مجھے خوش آمدید کہا اور مجھے اس کمرہ میں لے گئیں جہاں یہ نورِ نظر لیٹا ہوا تھا۔ آپ دودھ کی طرح سفید صوف کے کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے، نیچے سبز رنگ کی ریشمی چادر بچھی ہوئی تھی۔ آپ اس پر آرام فرما رہے تھے۔ کستوری کی مہک اُٹھ رہی تھی۔ آپ کے معصوم حسن و جمال کو دیکھ کر میں تو فریفتہ ہو گئی۔ مجھ میں یہ جرأت نہ تھی کہ آپ کو جگاؤں۔ میں نے اپنا ہاتھ سینہ مبارک پر رکھا تو وہ جانِ جاں مسکرانے لگے اور اپنی سرمگیں آنکھیں کھولیں۔ میں نے محسوس کیا کہ ان آنکھوں سے انوار نکل کر آسمان کو چھو رہے ہیں۔ میں نے بے اختیار دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ لیا اور آپ کو اُٹھا کر اپنے سینہ سے لگا لیا اور اپنے شوہر کے پاس لے آئی۔ (بحوالہ السیرۃ النبویہ، احمد بن زینی دحلان)

حضرت حلیمہ (Hazrat Sadia Halima) بیان کرتی ہیں جب میں اس دولتِ سرمدی کو اُٹھائے ہوئے واپس اپنے خیمہ میں پہنچی تو میں نے دودھ پلانے کے لیے اپنی دائیں چھاتی پیش کی۔ حضور نے اس سے پیا، جتنا چاہا۔ پھر میں نے بائیں چھاتی پیش کی۔ آپ نے پینے سے انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو الہام کیا کہ تیرا اور ایک بھائی بھی ہے اس لیے آپ عدل کریں اور دوسری طرف سے نہ پئیں۔ جس ہستی نے آگے چل کر سارے جہان کو عدل و انصاف کا درس دینا تھا اس کا پروردگار یہ کیسے برداشت کر سکتا کہ اس کا اپنا دامن کسی بے انصافی سے ملوث ہو۔ حضور کے دودھ پینے کی برکت سے وہ چھاتیاں دودھ سے لبالب بھر گئیں۔ آپ کے رضاعی بھائی نے بھی خوب سیر ہو کر دودھ پیا۔ رات کو وہ بھی خوب جی بھر کر سویا۔ اس کو سلانے کے بعد میرا شوہر اس بوڑھی اور لاغر اونٹنی کی طرف گیا۔ یہ دیکھ کر اس کی حیرت و خوشی کی حد نہ رہی کہ اس اونٹنی کی کھیری دودھ سے بھری ہوئی ہے۔ اس نے اسے دوہا۔ خود بھی جی بھر کر پیا اور میں نے بھی سیر ہو کر دودھ نوش کیا۔ ہم سب رات کو خوب سوئے۔ وہ رات ہم نے بڑے آرام و راحت کے ساتھ بسر کی۔ رات بھر میٹھی نیند کے مزے لوٹنے کے بعد جب ہم بیدار ہوئے تو میرے شوہر نے کہا:
’’بخدا! اے حلیمہ ہمیں سراپا یمن و برکت وجود نصیب ہوا۔‘‘ میں نے کہا میں بھی یہی امید رکھتی ہوں۔

جب سب عورتوں کو رضاعت کے لیے بچے مل گئے تو ہمارا کارواں اپنے مسکن کی طرف روانہ ہوا۔ ساری خواتین اپنے نئے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی اونٹنیوں پر سوار ہوئیں۔ میرے پاس وہی گدھی تھی جو کمزوری کے باعث چل نہیں سکتی تھی۔ جس نے آتے ہوئے سارے قافلہ کو پریشان کر دیا تھا۔ میں اپنے فرزند دل بند کے ساتھ اس پر سوار ہوئی۔ اب تو اس کی حالت ہی بدل گئی تھی۔ یوں تیزی سے قدم اُٹھاتی تھی کہ قافلہ کی ساری سواریاں پیچھے رہ گئیں۔ وہ گویا چل نہیں رہی تھی بلکہ اُڑ رہی تھی۔ قافلہ والیاں چیخ اُٹھیں اور کہنے لگیں ’’اے ابی ذویب کی بیٹی! خدا تیرا بھلا کرے، ہم پر رحم کر اور اپنی گدھی کو آہستہ آہستہ چلا۔ بھلا یہ تو بتا یہ وہی پہلے والی گدھی ہے جو قدم اُٹھانے سے معذور تھی اب اسے کہاں سے پر لگ گئے کہ اُڑتی چلی جا رہی ہے۔‘‘ میں انہیں کہتی بخدا یہ وہی گدھی ہے۔ خدا تمہارا بھلا کرے تم دیکھتی نہیں اس پر کون سوار ہے۔

آخر ہم اپنی قیامگاہوں پر پہنچ گئے۔ اللہ کی ساری زمین میں یہ علاقہ سب سے زیادہ قحط زدہ تھا۔ گھاس کا ایک تنکا بھی نظر نہیں آ رہا تھا لیکن میری بکریاں شام کو جب واپس آتیں تو ان کے پیٹ بھرے ہوئے اور ان کی کھیریاں دودھ سے لبریز ہوتیں۔ ہم دودھ دوہتے اور خوب سیر ہو کر پیتے۔ دوسرے لوگوں کے ریوڑ بھوکے پیاسے واپس آتے، ان کی کھیریوں میں سے دودھ کا ایک قطرہ بھی نہ ٹپکتا۔ وہ لوگ اپنے چرواہوں کو ڈانٹتے اور کہتے تم ہماری بھیڑ بکریاں وہاں کیوں نہیں چراتے جہاں ابو ذؤیب کی بیٹی کی بکریاں چرتی ہیں۔ دن بدن ان انعامات اور برکات میں اضافہ ہوتا جاتا اور ہم خوشحالی کی زندگی بسر کرنے لگے۔ یہاں تک کہ دو سال کا عرصہ ختم ہو گیا۔ میں نے حضور کا دودھ چھڑا دیا۔ اس عرصہ میں آپ کی نشوونما کی کیفیت نرالی تھی۔ دو سال میں آپ قوی اور توانا بچوں کی طرح ہو گئے۔

راحت و خوشحالی یہ دو سال گویا پل بھر میں بیت گئے۔ مدتِ رضاعت ختم ہونے کے بعد ہم حضورؐ کو آپ کی والدہ ماجدہ کے پاس لے آئے لیکن ہمارا دل جدائی برداشت کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔یہ سب حضور کے وجودِ مسعود کی برکات (Wajood-e-Masood  ki Barkaat) کی بدولت تھا۔

(اقتباس از سیرۃ النبی؛ مصنف پیر محمد کرم شاہ الازہری)

 

 Hazoor  (pbuh) kay  Wajood-e-Masood  ki Barkaat

26 تبصرے “حضورِ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وجودِ مسعود کی برکات | Hazoor Saww kay wajood e masood ki barkaat

  1. سبحان اللہ بےشک آپﷺ کے دم سے ہی یہ دنیا آباد ہے 😍😍💖💕💓💞🌹🌹🌹❤️❤️♥️😍💖

  2. صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤❤❤❤❤🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹❤❤❤❤❤❤❤❤

  3. آپ کے معصوم حسن و جمال کو دیکھ کر میں تو فریفتہ ہو گئی۔ مجھ میں یہ جرأت نہ تھی کہ آپ کو جگاؤں۔ میں نے اپنا ہاتھ سینہ مبارک پر رکھا تو وہ جانِ جاں مسکرانے لگے اور اپنی سرمگیں آنکھیں کھولیں۔ میں نے محسوس کیا کہ ان آنکھوں سے انوار نکل کر آسمان کو چھو رہے ہیں۔ میں نے بے اختیار دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ لیا اور آپ کو اُٹھا کر اپنے سینہ سے لگا لیا اور اپنے شوہر کے پاس لے آئی

اپنا تبصرہ بھیجیں