alif | الف

ولادتِ مصطفیؐ پر جشنِ میلاد

اللہ تعالیٰ نے خود ولادتِ مصطفیؐ کے موقع پر بزمِ کائنات میں جشن کا سماں پیدا فرمایا تاکہ میلادِمصطفیؐ کی خوشی اور جشن سنتِ الٰہیہ قرار پا جائے۔ مختصراً بیان کیا جاتا ہے ۔

1-ولادتِ مصطفیؐ کے وقت ستاروں کو نیچے اتارکر دنیا میں چراغاں کیا گیا۔
2-مشرق و مغرب تک پوری زمین بقعۂ نور بنا دی گئی حتیٰ کہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے شام کے محلات تک دیکھ لیے۔
3-آسمان اور جنت کے سب دروازے کھول کر عالمِ بالا کو خوشبوؤں سے مہکا دیا گیا۔
4-مشرق و مغرب اور کعبہ کی چھت پر پرچم لہرا دیئے گئے۔
5- جنتی پرندے بھی استقبال کیلئے نیچے اتار دیئے گئے۔
6- ستر ہزار حورانِ بہشت کو استقبال کے لئے فضا میں نیچے اتارا گیا اور ان میں سے کئی حضرت آمنہؓ کے گھر پر مامور کی گئیں۔
7-ہزار ہافرشتوں کو بھی استقبال پر مامور کر دیا گیا۔
8-وقتِ ولادت حضرت آمنہؓ کو مبارکبادی کا جنتی مشروب پلایا گیا ۔
9-شبِ ولادت قریشِ مکہ کے سب جانوروں کو بھی میلادِ مصطفیؐ  کی خوشی کے اظہار کے لئے زبان دے دی گئی۔
10-شبِ ولادت تمام ملائکہ امرِ  الٰہی سے نیچے اتر کر ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے۔   
11-یومِ میلاد سورج کوبھی غیر معمولی نور سے نوازا گیا۔
12-وقتِ ولادت پہاڑوں،دریاؤں اور سمندروں نے بھی اپنے اپنے حال میں خوشیاں منائیں، پہاڑوں کی چوٹیاں معمول سے زیادہ بلند ہوگئیں، دریاؤں اور سمندروں کی سطح تموج کے ساتھ خاصی اونچی ہوگئی اور سمندری مخلوق نے بھی ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔
13-ولادتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خوشی میں باری تعالیٰ نے سال بھر عرب کی عورتوں کو بیٹے عطا فرمائے تاکہ اس سال جاہلیتِ عرب کے ظالمانہ دستور کے مطابق کوئی بیٹی ناحق قتل نہ ہو۔
14-میلادِمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خوشی میں عرب کے درخت پھلوں سے لاد دیئے گئے، سوکھے ہوئے کھیت ہرے بھرے ہوگئے اور قحط کو ہریالی و شادابی سے بدل دیا گیا۔
15-شبِ میلاد آسمانوں پر زبرجد اور یاقوت کے مینار بنا کر روشن کئے گئے جو شبِ معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دکھائے گئے اور بتایا گیا کہ یہ آپؐ کی ولادت کی رات سے روشن ہیں۔
16-شبِ میلاد جنت میں نہرِ کوثر کے کناروں پر ستر ہزار عطر بیز درخت اگائے گئے اور انہیں پھلوں سے لادا گیا۔

(اقتباس از کتاب ’’حقیقتِ عید میلاد النبیؐ‘‘ تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس)

اپنا تبصرہ بھیجیں