یا غوثِ اعظمؓ دستگیر | Ya Ghous E Azam Dastageer

یا غوثِ اعظمؓ دستگیر 

 Ya Ghous E Azam Dastageer 

تحریر: محترمہ نورین سروری قادری (سیالکوٹ)

پانچویں صدی کے آخر میں اسلامی دنیا کے اندر بڑا انتشار اور خلفشار پھیلا ہوا تھا۔ یورپین مؤرخین نے اس زمانہ کو دنیائے اسلام کا تاریک ترین دور قرار دیا ہے۔ تمام عالم ِاسلام میں دین کی حالت بہت خراب تھی، ہر طرف بدی کے اندھیروں کا راج تھا، نیکی کا نور معدوم ہو چکا تھا۔ شرافت کے اجالے دم توڑ چکے تھے۔ انسانیت کا خون ہو رہا تھا۔ ایسے معاشرے کی اصلاح کے لیے ایسے ’’عارفِ کامل‘‘ کی ضرورت تھی جو مکمل طور پر عشقِ الٰہی سے سرشار اور روحانی قوتوں سے سرفراز ہو جس کے اثر سے شیطانی قوتیں دم توڑ سکیں اور تاریک دل نور سے معمور ہو سکیں۔ اس مقصد ِعظیم کے لیے قدرت نے سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ  (Syedna Ghous-ul-Azam Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jilani) کو بطور خاص تیار کیا اور آپ رضی اللہ عنہٗ کی تربیت بھی اس خاص انداز میں فرمائی کہ آپ رضی اللہ عنہٗ دین ِ اسلام کی تجدیدِ نو کر کے محیّ الدین کے لقب سے ملقب ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے باطل قوتوں کو پاش پاش کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہٗ کے فیوض و برکات سے تاریک سینے نورِ معرفت کے خزینے بننے لگے۔

 ولادت سیدّنا غوث الاعظمؓ اور عالمِ اسلام کی حالتِ زار

سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ  (Syedna Ghous-ul-Azam Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jilani) کی پیدائش کے وقت اسلامی دنیا میں افراتفری کا یہ عالم تھا کہ ’’اندلس‘‘ میں اسلامی حکومت کی مرکزیت ختم ہو چکی تھی۔ مصر میں سلطنتِ باطنیہ قائم تھی جسے علامہ سیوطیؒ نے ’’سلطنت ِخبیثہ‘‘ لکھا ہے۔ ہندوستان میں سلطان محمود کے جانشینوں کا زوال شروع ہو چکا تھا اور بیت المقدس پر عیسائی قابض ہو چکے تھے۔ خلافت ِعباسیہ سمٹ کر بغداد کے گرد و نواح تک محدود ہو گئی تھی۔ حسن بن صباح کے پیروکاروں نے ایران و عراق میں تباہی مچا رکھی تھی اور ساری عیسائی دنیا مسلمانوں کے خلاف متحد ہو چکی تھی۔ (بحوالہ کتاب ’پیرانِ پیر‘)

دوسری طرف ملت ِاسلامیہ دس فرقوں میں تقسیم ہو چکی تھی جن کے نام یہ ہیں:
۱۔اہلِ سنت ۲۔خوارج ۳۔شیعہ ۴۔معتزلہ ۵۔مرجیہ ۶۔مشبہہ ۷۔جہمیہ ۸۔ضراریہ  ۹۔نجاریہ  ۱۰۔کلابیہ۔

ان میں اہلِ سنت کا ایک ہی فرقہ تھا، خوارج کے پندرہ، معتزلہ کے چھ، مرجیہ کے بارہ، شیعہ کے بتیس، مشبہہ کے تین، ضراریہ، کلابیہ، نجاریہ، جہمیہ کا ایک ایک فرقہ تھا۔ یوں کل ملا کر تہتر فرقے بن گئے۔ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے اہل ِ باطن اور صوفیا کرام کی مسندوں پر بیٹھے گمراہ لوگوں نے مختلف سلاسل کا آغاز کر لیا جن میں خلولیہ، حالیہ اولیائیہ، شمرانیہ، حبیہ، اباحیہ ،متکاسلہ ،متجاہلہ، وافقیہ اور الہامیہ شامل ہیں۔ (حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ )

لوگوں کے دلوں سے خوفِ خدا اور محبتِ رسولؐ ختم ہو چکی تھی۔ ایسے پرفتن دور میں اللہ پاک کی رحمتِ کاملہ سے ولادتِ سیدّنا غوث الاعظمؓ (Syedna Ghous-ul-Azam) ہوئی جس سے ظلمت کا اندھیرا دور ہوا اور ملتِ اسلامیہ کا بکھرا ہوا شیرازہ سمٹنے لگا۔ سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ محیّ الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ (Syedna Ghous-ul-Azam Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jilani) کی پیدائش یکم رمضان 470 ہجری بمطابق 17 مارچ 1078 عیسوی بروز جمعتہ المبارک ایران کے صوبہ جیلان میں ہوئی اسی نسبت سے آپ رضی اللہ عنہٗ کے اسم مبارک کے ساتھ جیلانی لکھا جاتا ہے۔
تمام اولیا کرام اس بات پر متفق ہیں کہ سیدّنا عبدالقادر جیلانیؓ مادر زاد ولی اللہ ہیں۔

 اسلام کی نشاطِ ثانیہ

سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے روحانی و تبلیغی اثرات کے نتیجہ میں مصر کی سلطنتِ باطنیہ ختم ہوگئی اور سلطان نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی جیسے شیر دل مجاہدینِ اسلام نے اپنی سلطنت قائم کر لی۔ ہندوستان میں غوری حکومت قائم ہو گئی۔

تاتاریوں نے اسلامی سلطنت پر چڑھائی کر کے ہر طرف قتل و غارت عام کر دی تھی لیکن وہ پھر بھی اسلام کا کچھ نہ بگاڑ سکے بلکہ ان کے اپنے دل ایمان کی روشنی سے چمکنے لگے۔ یہ سب آپ رضی اللہ عنہٗ کے روحانی و باطنی تصرف کا ہی اثر تھا کہ تاتاریوں کا سردار خان اعظم تکودر خان (پسر ہلاکو خان) بھی اسلام قبول کیے بنا نہ رہ سکا۔ تکودر خان کو دیکھتے ہوئے باقی تاتاری سرداروں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ اور یوں اسلام کا چراغ ہر گھرمیں روشن ہونے لگا جس کی روشنی چار سو پھیلنے لگی۔ (بحوالہ کتاب ’پیرانِ پیر‘)

مقامِ غوث الاعظمؓ نیابتِ رسولِ اعظم

یوں تو امتِ محمدیہ کے تمام اولیا کرام قابلِ قدر ہیں مگر ان میں قطبِ ربانی، غوثِ صمدانی، محبوبِ سبحانی سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ (Syedna Ghous-ul-Azam Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jilani) کا مقام نہایت ممتاز اور ارفع و اعلیٰ ہے۔ آپؓ کو ظاہری و باطنی اور روحانی و جسمانی طور پر وارث و نائبِ مصطفیؐ بنایا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے اس اعلیٰ و ارفع مقام کو شیخ شہاب الدین سہروردیؒ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ  (Syedna Ghous-ul-Azam)نے فرمایا:
ہر ولی صاحبِ نسبت، صاحبِ تعلق اور صاحبِ قدم ہوتا ہے اور وہ کسی نہ کسی نبی کے نقش ِقدم پر گامزن اور اس کا قائم مقام ہوتا ہے۔ اسی لیے کسی کو ولایتِ ابراہیمی نصیب ہوتی ہے تو کسی کو ولایتِ موسوی سے حصہ ملتا ہے اور کسی پر ولایتِ عیسوی کا رنگ چڑھا ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اعزاز و شرف بخشا ہے کہ میں مصطفی جانِ رحمت شمع بزمِ ہدایت کے نقش قدم پر جادہ پیما اور اُن کے طریقے پر قائم ہوں۔ یعنی خداوند قدوس نے مجھے ولایتِ محمدیؐ عطا فرما دی ہے۔ مصطفی جانِ رحمت نے جس جگہ سے اپنا قدم اٹھایا میں نے ٹھیک وہیں اپنا قدم رکھا، بجز قدمِ نبوت کے کہ نبی کے علاوہ کسی اور کا وہاں گزر نہیں۔
آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ  انا نائب رسول اللّٰہ و وارثہ فی الارض  یعنی میں اس زمین پر امام الانبیا کا نائب و جانشین بھی ہوں اور (علوم و معارف میں) مصطفیؐ کا وارث و قاسم و امین بھی۔ (از کتاب: مقام سیدّناغوث الاعظمؓ اور اتباعِ اسوہ مصطفی، و رفعنا لک ذکرک کا ہے سایہ تجھ پر)

امام الانبیا والمرسلین مصطفی جانِ رحمت اور امام الاولیا والصالحین شہنشاہِ ولایت شیخ عبد القادر جیلانیؓ کے مابین مناسبت

سرورِ کائنات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر بے شمار برکات و عجائبات کا ظہور ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وارث و مظہر اور فرزند شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی ولادت پر بھی برکات کا ظہور ہوا جن میں چند درج ذیل ہیں:
شبِ ولادتِ مصطفی سیدنا عبد المطلبؓ کے کاشانہ مبارک پر ملائکہ کا جھرمٹ تھا جبکہ سیدّنا غوث الاعظمؓ کی ولادت کی رات آپؓ کے والد ماجد سیدّ ابو صالح موسیٰ جنگیؒ نے مشاہدہ فرمایا کہ حضور سیدِّ عالمؐ، صحابہ کرامؓ، آئمہ اطہاراور مشائخ و اولیا عظام کے ہمراہ ان کے گھر جلوہ افروز ہوئے اور بشارت دی:
’’بیٹے ابو صالح! اللہ تعالیٰ نے تجھے وہ فرزند عطا فرمایا جو میرا بیٹا اور محبوب ہے اور اللہ تعالیٰ کا بھی محبوب ہے۔ اولیا و اقطاب میں اس کی شان اس طرح بلند ہو گی جس طرح نبیوں اور رسولوں میں میری شان ہے۔

غوث الاعظمؓ درمیان اولیا
چوں محمدؐ درمیان انبیا 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پھوپھی حضرت صفیہؓ روایت فرماتی ہیں: ’’آپؐ جب پیدا ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ آپؐ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر ِنبوت کا نشان تھا۔‘‘
شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے شانوں کے درمیان حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے قدمِ اطہر کا نشان تھا۔ اسی مہر قدم کی بدولت آپؓ کا قدم اولیا اوّلین وآخرین کی گردن پر ہے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پیدا ہوتے ہی اپنا سر ِانور سجدہ میں رکھا جب کہ سیدّنا غوث الاعظمؓ  (Syedna Ghous-ul-Azam)نے پیدا ہوتے ہی رمضان المبارک کا روزہ رکھ کر اظہارِ بندگی فرمایا۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس سال تمام حاملہ عورتوں کے ہاں بیٹے پیدا فرمائے اور جس رات سیدّنا غوث الاعظمؓ پیدا ہوئے تو اس رات صوبہ جیلان میں گیارہ سو لڑکے پیدا ہوئے اور سب آپ رضی اللہ عنہٗ کے فیض کی بدولت ولی اللہ ہوئے۔
جس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیدائش ہوئی وہ سال مسرت و شادمانی و کامرانی کا سال کہلایا۔ ربیع کا مطلب بہار اور الاوّل مطلب پہلی، یعنی پہلی بہار۔ ایسا بابرکت سال جب پوری دنیا میں بہار آگئی اور دوسری مرتبہ بہار کا منظر اس وقت نکھرا جب آپؓ کے مظہر و نائب ربیع الثانی میں پیدا ہوئے، یعنی دوسری بہار۔

کنُ کی کنجی

اللہ پاک نے اپنے محبوب شہنشاہِ کونین کو قوت و سطوت اور سلطنت و حکومت عطا فرمائی۔آپ کی زبان حق ترجمان ’’کن ‘‘ کی کنجی ہے۔ حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
جبرئیل امینؑ نے آکر مجھے خوش خبری دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے میری امداد کی، مجھے نصرت و کامرانی عطا فرمائی، میرے رعب و دبدبہ کا سکہ بٹھا دیا اور مجھے سلطنت و حکومت اور ملک عطا فرمایا۔
تمام موجودات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حکمرانی ہے اور آپؐ کی زبان مبارک سے نکلا ہوا ہر لفظ کن کی حیثیت رکھتا ہے۔یوں ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نائب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کو اللہ تعالیٰ نے شان و شوکت اور حکومت و سلطنت عطا کر رکھی تھی اورآپؓ کو کن کی قوتیں مرحمت فرما دی۔آپؓ فرمایا کرتے’’مجھے حرفِ کن عطا کیا گیا ہے۔‘‘

قصیدہ غوثیہ میں سیدنا غوث الاعظمؓ  (Syedna Ghous-ul-Azam) فرماتے ہیں:

’’میرا حکم ہر حال میں نافذ ہے اگر میں اپنے راز کا پرتو ڈالوں تو سمندر خشک ہو جائیں، آگ بجھ جائے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں، مردے زندہ ہو جائیں۔ ماہ و سال میری اجازت سے بدلتے ہیں۔‘‘
اپنے تصرفات کا تذکرہ کرتے ہوئے آپؓ نے مزید ارشاد فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ کے تمام شہر میرے زیرنگیں ہیں، ان پر میری حکومت ہے اور میری روحانی حالت میرے جسم کے پیدا ہونے سے پہلے ہی برگزیدہ اور مصفی تھی۔‘‘
آپؓ کو یہ ساری عظمت ورفعت اور قوت و تصرف اپنے جد ِکریم احمد مصطفیؐ کے طفیل حاصل ہوئی۔ (از کتاب: و رفعنا لک ذکرک کا ہے سایہ تجھ پر)

یا غوثِ اعظم دستگیرؓ

’الرسالۃ الغوثیہ‘ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کو نہایت محبت سے ’غوث الاعظم‘ کے لقب سے پکارا ہے۔ غوث کے لفظی معنی ’فریاد کو پہنچنے والا‘ کے ہیں۔ غوث اولیا اللہ کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے اور غوث الاعظم وہ ہستی ہے جو قدرتِ حق تعالیٰ کی عین مظہر ہو۔ غوث کا لقب ایسی ہی ہستی کو زیبا ہے جو خود ذاتِ حق تعالیٰ تک رسائی حاصل کرچکی ہو، جو ہر فریاد کرنے والے کی فریاد سنے اور اسے تکمیل تک پہنچائے۔ اس خاص مقام و مرتبہ کے سبب وہ معرفتِ الٰہی کے تمام رازوں کا رازدان ہوتا ہے۔ پس وہ اسرارِ الٰہی کی تصویر بن جاتا ہے اور لوحِ محفوظ اس کے زیرِ فرمان ہوتی ہے۔ سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ (Syedna Ghous-ul-Azam Hazrat Sheikh Abdul Qadir Jilani) اس بلند و بالادرجہ غوثیت پر فائز ہیں جو کسی کو حاصل نہیں اور نہ ہی تاقیامت کسی کو حاصل ہو گا۔ بلاشبہ آپؓ ہی ’’غوث الاعظم‘‘ ہیں۔
پیرانِ پیر دستگیردین و دنیا کے ہر معاملے میں اپنے طالبوں کی دستگیری فرماتے اور ان کا بیڑا پار لگاتے ہیں۔ ظاہر و باطن کے ہر معاملے میں آپؓ کی مدد شاملِ حال رہتی ہے۔ راہِ فقر میں طالبانِ مولیٰ اگر کسی مقام پر پھنس جائے اور سچے دل سے سیّدنا غوث الاعظمؓ (Syedna Ghous-ul-Azam) کی بارگاہ میں مدد کے لیے عرض کرے تو آپؓ ضرور اس کی مدد فرماتے ہیں۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sultan Bahoo)  پنجابی بیت میں بڑی خوبصورتی سے عرض گزار ہیں:

سن فریاد پیراں دیا پیرا، میری عرض سنیں کن دَھر کے ھوُ
 بیڑا اَڑیا میرا وِچ کپراندے، جتھے مچھ نہ بہندے ڈر کے ھوُ
شاہِ جیلانیؓ محبوبِ سبحانی، میری خبر لیو جھَٹ کر کے ھوُ
پیر جنہاندا میراںؓ باھوؒ، اوہی کدھی لگدے تَر کے ھوُ

مفہوم: یا پیرانِ پیر سیدّنا غوث الاعظمؓ! میری عرض اور التجا ذرا غور سے سنیے۔ راہِ فقر میں، میں اس منزل تک پہنچ گیا ہوں جہاں پہنچنے سے بڑے بڑے عاشق ڈر تے اور خوف زدہ رہتے ہیں لیکن میں اس منزل پر گہرے بھنور میں پھنس گیا ہوں اور اگلی منزل کا راستہ نہیں مل رہا ۔ یا شاہِ جیلانیؓ! میری خبر گیری کیجیئے اور مجھے اس آزمائش سے نکالیے کیونکہ اس جگہ پر آپؓ کے علاوہ میری کوئی اور مدد نہیں کر سکتا۔ اے باھوؒ! غمگین اور افسردہ نہ ہو جن کا پیر سیّدنا غوث الاعظم شاہِ میراںؓ ہو وہی تمام مشکلات کو طے کرتے ہوئے فقر کی آخری منزل اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ (جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہی اللہ ہے) پر پہنچ جاتے ہیں۔

سیدّنا غوث الاعظمؓ کا مرتبہ 
قَدَمِیْ ھٰذِہِ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ للّٰہ

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نائب و امین سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کو جملہ اولیا و اقطاب کی سیادت و قیادت کا اعلیٰ منصب عطا کیا گیا اور آپ رضی اللہ عنہٗ نے تمام اولیا کرام پر برتری کا برسر ِمنبر منجانب اللہ یوں اعلان فرمایا:
قَدَمِیْ ھٰذِہِ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ للّٰہ
ترجمہ: میرایہ قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے۔
جب آپ رضی اللہ عنہٗ نے بحکم ِالٰہی یہ اعلان فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہٗ کے قلب پر تجلی فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے ملائکہ مقربین کے ہاتھوں خلعت آئی۔ اس موقع پر تمام اولیا متقدمین ومتاخرین، زندہ اپنے اجسام کے ساتھ اور انتقال شدہ اپنی ارواح کے ساتھ موجود تھے، ان کی موجودگی میں آپ کو خلعت پہنائی گئی۔ ملائکہ اور رجال الغیب فضا میں کھڑے مجلس کو ڈھانپے ہوئے تھے اور روئے زمین کا کوئی ولی ایسا نہ تھا جس نے آپ کے فرمان پر اپنی گردن نہ جھکائی ہو۔ بلکہ تمام اولیا اوّلین و آخرین نے اپنی گردنیں جھکاتے ہوئے کہا:
نَعَمْ یَا شَیْخَ وَ لِمَنْ قَالَ
ترجمہ: اے شیخ! آپ کا ارشاد سر آنکھوں پر۔
انسانوں کے علاوہ صالح جنات نے بھی آپؓ کے حکم پر اپنی گردنیں جھکا دیں اور آپؓ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہو کر ہدیہ سلام پیش کیا۔ (حیات و تعلیمات سیدنا غوث الاعظمؓ، ورفعنا لک ذکرک کا ہے سایہ تجھ پر)

مرتبہ سلطان الفقر

آسمانوں پر آپؓ ’باز اشہب‘ اور زمین پر ’محی الدین‘ کے لقب سے مشہور ہیں۔ اولیا کاملین میں سب سے بلند و اعلیٰ مرتبہ عارفین کو عطا ہوتا ہے لیکن عارفین میں بھی بلند ترین مقام ’سلطان الفقر‘ (Sultan-ul-Faqr)کا ہے۔ سلطان الفقر (Sultan-ul-Faqr) وہ ہستی ہوتی ہے جو ذاتِ حق کا عین ہو۔
سلطان الفقر  (Sultan-ul-Faqr) کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sultan Bahoo) رسالہ روحی شریف میں فرماتے ہیں:
جان لے جب نورِ احدی نے وحدت کے گوشۂ تنہائی سے نکل کر کائنات (کثرت) میں ظہور کا ارادہ فرمایا تو اپنے حسن کی تجلی کی گرم بازاری سے (تمام عالموں کو) رونق بخشی، اِس کے حسن ِبے مثال اور شمعِ جمال پر دونوں جہان پروانہ وار جل اُٹھے اور میم احمدی کا نقاب اوڑھ کرصورتِ احمدی اختیار کی۔ پھر جذبات اور ارادات کی کثرت سے سات بار جنبش فرمائی جس سے سات ارواحِ فقرا با صفا فنا فی اللہ، بقاباللہ تصورِ ذات میں محو، تمام مغز بے پوست حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ستر ہزار سال پہلے، اللہ تعالیٰ کے جمال کے سمندر میں غرق آئینہ یقین کے شجر پر رونما ہوئیں۔ انہوں نے ازل سے ابد تک ذاتِ حق کے سوا کسی چیز کی طرف نہ دیکھا اور نہ غیر حق کو کبھی سنا۔ وہ حریم ِکبریا میں ہمیشہ وصال کا ایسا سمندر بن کر رہیں جسے کوئی زوال نہیں۔ کبھی نوری جسم کے ساتھ تقدیس و تنزیہہ میں کوشاں رہیں اور کبھی قطرہ سمندر میں اور کبھی سمندر قطرہ میں اور اِذَا تَمَّ الفَقرْ فَھُوَ  اللّٰہ  (جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہی اللہ ہے) کے فیض کی چادر ان پر ہے۔ پس انہیں ابدی زندگی حاصل ہے اور وہ   اَلْفَقْرُ لَایُحْتَاجُ اِلٰی رَبِّہٖ وَ لَا اِلٰی غَیرِہٖ (وہ نہ تو اپنے ربّ کے محتاج ہیں اور نہ ہی اس کے غیر کے) کی جاودانی عزت کے تاج سے معزز و مکرم ہیں۔ انہیں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش اور قیامِ قیامت کی کچھ خبر نہیں۔ ان کا قدم تمام اولیا اللہ، غوث و قطب کے سر پر ہے۔ اگر انہیں خدا کہا جائے تو بجا ہے اور اگر بندۂ خدا سمجھا جائے تو بھی روا ہے۔ اس راز کو جس نے جانا اس نے ان کو پہچانا۔ ان کا مقام حریم ِ ذاتِ کبریا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوائے اللہ تعالیٰ کے کچھ نہ مانگا، حقیر دنیا اور آخرت کی نعمتوں، حور و قصور اور بہشت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھااور جس ایک تجلّی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام سراسیمہ ہوگئے اور کوہِ طور پھٹ گیاتھا ہر لمحہ ہر پل جذباتِ انوارِ ذات کی ویسی تجلیات ستر ہزار بار ان پر وارد ہوتی ہیں لیکن وہ نہ دم مارتے ہیں اور نہ آہیں بھرتے ہیں بلکہ مزید تجلیات کا تقاضا کرتے رہتے ہیں۔ وہ سلطان الفقر (Sultan-ul-Faqr) اور سیدّ الکونین ہیں۔

یہ مبارک ارواح سات ہیں اور ان کے اسمائے مبارک کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sultan Bahoo)ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
ان میں ایک خاتونِ قیامت (حضرت سیّدہ فاطمتہ الزہرا) رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روح مبارک ہے، ایک حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی روح مبارک ہے۔ ایک ہمارے شیخ، حقیقت ِ حق، نورِ مطلق، مشہود علی الحق حضرت سیّد محی الدین عبدالقادر جیلانی محبوبِ سبحانی قدس سرہُ العزیز کی روح مبارک ہے اور ایک سلطانِ انوار سرّالسرمد حضرت پیر عبد الرزاق فرزند ِ حضرت پیر دستگیر (قدس سرہُ العزیز) کی روح مبارک ہے۔ ایک ھاھویت کی آنکھوں کا چشمہ سِرّ اسرار ذاتِ یاھو فنا فی ھو فقیر باھوؒ (قدس سِرّہُ العزیز) کی روح مبارک ہے اور دو ارواح دیگر اولیا کی ہیں۔ (رسالہ روحی شریف)

سیدّنا غوث الاعظمؓ کی ذاتِ مبارکہ ہی وہ ہستی ہے جنہوں نے حقیقتِ محمدیہ اور حقیقی دینِ اسلام کی روح (فقر) کوتقویت بخشی۔
امام حسن بصریؓ سے چودہ سلاسل جاری ہوئے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ سب کمزور ہو چکے تھے۔ آپؓ نے انہیں نئے سرے سے ترتیب دیا اور یوں آپؓ سے چارسلاسل جاری ہوئے جن میں قادری، چشتی، سہروردی اور نقشبندی شامل ہیں یعنی آپؓ ان تمام سلاسل کے امام ہیں۔ان سلاسل میں سے قادری سلسلہ آپؓ کا اپنا سلسلہ ہے۔ دینِ حق کو جس شان سے آپؓ نے حیاتِ جاودانی عطا فرمائی اس کی کوئی مثال نہیں اسی لیے آپؓ کو ’’محیّ الدین ‘‘ یعنی دین کو زندہ کرنے والا کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے اور آپؓ کے علاوہ یہ لقب کسی اور کو عطا نہیں ہوا۔
آپؓ کے اعلیٰ ولایت منصب اور لامحدود روحانی مقام کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ آپؓ فرماتے ہیں:

اَفَلَتْ شَمُوْسُ الْاَوَّلِیْنَ وَ شَمسْنَا
اَبَدًا عَلٰی فَلَکِ الْعُلٰی لَا تَغرُب 

ترجمہ:پہلے لوگوں کے آفتاب ڈوب گئے لیکن ہمارا آفتاب بلندیوں کے آسمان پر کبھی غروب نہ ہوگا۔

آفتاب سے مراد آپؓ کا فیضانِ ہدایت و ارشاد ہے اور غروب ہونے سے مراد اس فیض کا بند ہونا ہے جو کبھی نہ ہو گا۔ بلکہ آج کے پُرفتن دور میں بھی آپؓ کا آفتاب، آپؓ کے روحانی وارث اور سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخ ِکامل، آفتابِ فقر محبوبِ ربانی سلطان العاشقین حضرت سخی سلطا ن محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کے توسط سے جگمگا رہا ہے اور انشاء اللہ آپؓ کے فضلِ کرم کی بدولت اور آپ مدظلہ الاقدس کی دینِ محمدی کے فروغ کے لیے کی گئی کاوشوں کی بدولت تا قیامت یہ آفتاب پوری آب وتاب کے ساتھ چمکتا دمکتا رہے گا۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) نے دین ِ محمدی کو حقیقی معانی میں حیاتِ نو عطا فرمائی ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حقیقی ورثہ فقر کے فیض کو دنیا بھر میں عام فرما دیا ہے۔ دینِ محمدی کے فروغ کے لیے کی گئی انتھک محنت کے اعتراف کے طور پرآپ مدظلہ الاقدس کو مجلسِ محمدیؐ سے ’’شبیہ غوث الاعظم‘‘ کا لقب بھی عطا کیا گیا جو آپ مدظلہ الاقدس کے سیدّنا غوث الاعظمؓ کے حقیقی روحانی وارث ہونے کی کامل دلیل ہے۔

 جس  کی  منبر   ہوئی   گردنِ   اولیا
اس قدم کی کرامت پہ لاکھوں سلام

 استفادہ کتب:
۱۔الرسالۃ الغوثیہ، تصنیف سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ
۲۔رسالہ روحی شریف، تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
۳۔حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ، تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)
۴۔پیرانِ پیر:پروفیسر محمد فیاض خان صاحب
۵۔و رفعنا لک ذکرک کا ہے سایہ تجھ پر، صاحبزادہ محمد محب اللہ نوری
۶۔ مقام سیدّنا غوث الاعظمؓ اور اتباعِ اسوہ مصطفیؐ، تصنیف علامہ محمد افروز قادری چریا کوٹی

 

33 تبصرے “یا غوثِ اعظمؓ دستگیر | Ya Ghous E Azam Dastageer

  1. آسمانوں پر آپؓ ’باز اشہب‘ اور زمین پر ’محی الدین‘ کے لقب سے مشہور ہیں۔

  2. سن فریاد پیراں دیا پیرا، میری عرض سنیں کن دَھر کے ھوُ
    بیڑا اَڑیا میرا وِچ کپراندے، جتھے مچھ نہ بہندے ڈر کے ھوُ

    1. فرمان اور مقام سیدنا غوث الاعظم
      قَدَمِیْ ھٰذِہِ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ للّٰہ
      میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے

  3. سیدّنا غوث الاعظمؓ کی ذاتِ مبارکہ ہی وہ ہستی ہے جنہوں نے حقیقتِ محمدیہ اور حقیقی دینِ اسلام کی روح (فقر) کوتقویت بخشی۔

  4. آسمانوں پر آپؓ ’باز اشہب‘ اور زمین پر ’محی الدین‘ کے لقب سے مشہور ہیں۔

  5. سن فریاد پیراں دیا پیرا، میری عرض سنیں کن دَھر کے ھوُ
    بیڑا اَڑیا میرا وِچ کپراندے، جتھے مچھ نہ بہندے ڈر کے ھوُ
    شاہِ جیلانیؓ محبوبِ سبحانی، میری خبر لیو جھَٹ کر کے ھوُ
    پیر جنہاندا میراںؓ باھوؒ، اوہی کدھی لگدے تَر کے ھوُ

  6. شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے شانوں کے درمیان حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے قدمِ اطہر کا نشان تھا۔ اسی مہر قدم کی بدولت آپؓ کا قدم اولیا اوّلین وآخرین کی گردن پر ہے۔

  7. آپ رضی اللہ عنہٗ نے باطل قوتوں کو پاش پاش کر دیا اور آپ رضی اللہ عنہٗ کے فیوض و برکات سے تاریک سینے نورِ معرفت کے خزینے بننے لگے۔

  8. امداد کن امداد کن
    از رنج و غم آزاد کن
    در دین و دنیا شاد کن
    یا غوثِ اعظم دستگیر

اپنا تبصرہ بھیجیں