فریب ِدنیا | Fareeb-e-Dunya

فریب ِدنیا 

 Fareeb-e-Dunya

مراسلہ: ڈاکٹر عبدالحسیب سرفراز سروری قادری

ایک ملّا نے سر پر کلاہ نما دستار رکھی ہوئی تھی۔ خود کو بڑا فصیح و بلیغ اور یتیم خانے کا سرپرست ِاعلیٰ سمجھتا تھا۔ یہ دستار ظاہری طور پر خوبصورت نظر آرہی تھی لیکن اندر سے ایسے ہی تھی جیسے منافق کا دل ہوتا ہے۔ ملّا کی یہ پگڑی نہ تھی بلکہ کبر کا ایک طلسم تھا جس میں رعونت بھری ہوئی تھی۔ دستار ایسی بھاری بھر کم نظر آتی تھی جیسے کپڑے کے ایک بڑے تھان سے بنائی گئی ہو۔ یہ پگڑی لوگوں کو مرعوب کرنے کے لیے بنائی گئی تھی تاکہ لوگ اسے بڑا عالم و فاضل سمجھیں۔ بوسیدہ روئی کے گالے، کپڑے کی دھجیاں اور بہت سے چھوٹے چھوٹے کپڑے کے ٹکڑے اس کلہے والی دستار کی بنیاد تھے۔

ایک روز وہ ملّا وزنی دستار پہنے ہوئے منہ اندھیرے صبح سویرے کسی پروگرام کے مطابق گھر سے نکلا۔ دور سے ایک چور نے دیکھا کہ ایک قیمتی دستار والا چلا آ رہا ہے۔ جب ملّا اس کے قریب پہنچا تو اس نے دیکھا کہ پگڑی بہت شاندار ہے اور اس کا کپڑا نہایت قیمتی معلوم ہوتا ہے۔ اس کے فن نے اسے مجبور کیا کہ وہ اس قیمتی دستار پر ہاتھ ڈالے۔ چور نے جھپٹ کر دستار ملّا کے سر سے اُتار لی اور بازار کی طرف بھاگا تاکہ اسے بیچ کر فائدہ حاصل کرے۔ وہ خوشی سے اس طرح دوڑے جا رہا تھا کہ گویا اس کے ہاتھ سونے کی کان لگ گئی ہو۔ ملّا نے بڑے تحمل کے ساتھ پکار کر کہا ’’او میاں! پگڑی کھول کر اس کو ملاحظہ تو کر کہ یہ کیا چیز ہے۔ میری طرف سے تجھے حلال ہے پھر جی چاہے تو لے جانا، تُو اسے جلدی دیکھ لے، دیر کرے گا تو اور زیادہ مایوس ہوگا۔‘‘ ملّا کی آواز سن کر چور نے بھاگتے ہوئے پیچ کھولنے شروع کر دیئے۔ اس میں سے رنگ برنگے چیتھڑے اور دھجیاں نکل کر زمین پر گرنے لگیں۔ اتنی بڑی دستار سے صرف ایک گز بھر کپڑا اس کے ہاتھ میں رہ گیا۔ اس میں کسی استاد درزی نے ٹکڑے بھر کر اسے نمائشی عمامہ بنایا ہوا تھا۔ چور یہ رنگ برنگے ٹکڑے دیکھ کر حیران و پریشان کھڑا رہ گیا۔ اس بکھرے ہوئے گلستان کا مالک ملّا بھی چور کے قریب پہنچ گیا۔ چور کے ہاتھ میں قیمتی کاٹن کا وہ گز بھر جو کپڑا رہ گیا تھا اس نے وہ بھی غصے سے زمین پر پھینک دیا اور جھلا کر کہنے لگا ’’اے عیار اور مکار ملّا! تو نے یہ کیسا فریب کا جال بچھا رکھا تھا؟ میری ساری محنت اکارت گئی۔ تو نے میرے ساتھ دھوکہ کیوں کیا؟ ایسا کام کرتے ہوئے تجھے ذرا حیا نہ آئی۔ مجھے فضول ہی ایک گناہِ بے لذت میں مبتلا کر دیا۔ خدا سے ڈر اور دھوکا بازی چھوڑ دے۔ مخلوقِ خدا کا ایمان کیوں ضائع کر رہا ہے۔ یہ دستار تجھی کو مبارک ہو۔ ہم تو بدنام تھے ہی مگر تُو ہمارا بھی گرو نکلا۔‘‘ ملّا نے کہا ’’اے میرے عزیز! بیشک میں نے دھوکا کیا مگر تجھے اس دنیا کی حقیقت سے بروقت آگاہ بھی کر دیا ہے۔‘‘

درس:

اس دنیا کی مثال بھی اس خوشنما دستار کی طرح ہے۔ بظاہر دیکھنے والے کو یہ دنیا بھی بڑی بھاری اور بیش قیمت نظر آتی ہے مگر اس کے اندر جو عیب پوشیدہ ہیں یہ انہیں نظر نہیں آتے۔ بہاروں کی یہ دلفریبی اور سحر انگیزی زیادہ دیر نہیں رہتی۔ خزاں کی سردی اور زردی بھی ضرور آتی ہے۔

(حکایاتِ رومیؒ سے انتخاب)

 

40 تبصرے “فریب ِدنیا | Fareeb-e-Dunya

  1. دنیا ایک جال ہے جو انسان کو اپنے اندر گم کرکے اللہ سے غافل کر دیتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں