غیبت کا فساد | Gheebat ka Fasad

غیبت کا فساد

  Gheebat ka Fasad

تحریر: فقیہہ صابر سروری قادری (رائیونڈ)

صحیح مسلم میں ہے:
ایک مرتبہ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرام ؓ سے استفسار فرمایا ’’کیا تم جانتے ہو غیبتGheebat کیا ہے؟‘‘ عرض کی گئی ’’اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرو جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔‘‘ عرض کی گئی ’’اگر وہ بات اس میں موجود ہو؟‘‘ فرمایا ’’جو بات تم کہہ رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت Gheebat کی اور اگر اس میں نہ ہو تم نے اس پر بہتان باندھا۔‘‘

غیبت Gheebat اپنے مسلمان بھائی میں پائے جانے والے عیوب کو بیان کرنا ہے کہ اگر اسے اس کی خبر مل جائے تو وہ نا پسند کرے۔
غیبت Gheebat ایک ایسی نفسانی بیماری ہے جس کے باعث آج اکثر گھر میدانِ کارزار بنے ہوئے ہیں۔ یہ ایک دہکتی آگ کی مانند ہے جس کی لپیٹ میں اس وقت مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہے۔ بہت سے پرہیزگار نظر آنے والے لوگ بھی بلاجھجک غیبت سنتے، سناتے اور اس کی تائید میں سر ہلاتے نظر آتے ہیں۔ غیبت Gheebat مسلمانوں کی عزتوں کو نوچنے کا نام ہے۔ اس مرض کے پھیلنے کی بنیادی وجہ دوسروں پر برتری حاصل کرنا ہے۔ آج کوئی بھی محفل یا تقریب اس وقت تک پُررونق نہیں ہوتی جب تک اس میں غیبت کو شامل نہ کر لیا جائے۔ غیبت کی وجہ سے ہم اپنے دوسرے مسلمان بھائی بہنوں کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ صحیح بخاری کی روایت ہے، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
 ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ پاک کو ایذا دی۔
کچھ لوگ غیبت کرنے کے بعد خود کو مطمئن کرنے کے لیے کہتے ہیں ’ہم سچ کہہ رہے ہیں۔‘ حضرت مفتی احمد یار خانؒ فرماتے ہیں:
 غیبت Gheebat سچے عیب بیان کرنے کو کہتے ہیں اور بہتان جھوٹے عیب بیان کرنے کو کہتے ہیں۔ غیبت ہوتی سچ ہے مگر حرام ہے۔

غیبت کی مذمت 
(Gheebat  ki  Mazahmat)

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے! (سورۃ الحجرات۔ 12)
اس آیت میں غیبت Gheebat کرنے والے کو کتے سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ کتا ہی ایسا جانور ہے جو اپنے بھائی کے مرنے کے بعد اس کا گوشت کھا جاتا ہے جبکہ شیر، بھیڑیا حتیٰ کہ کوئی دوسرا حیوان ایسا نہیں کرتا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ 
آج مسلمان غیبت Gheebat کی صورت میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے گوشت نوچتے ہیں یا اپنے سامنے ایساہوتا دیکھتے ہیں اور کوئی بھی اپنے بھائی کی عزت کا دفاع نہیں کرتا یعنی دوسروں کو غیبت Gheebat سے منع نہیں کرتا۔ قرآن مجید میں ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے:
خرابی ہے اس کے لیے جو لوگوں کے منہ پر عیب بیان کرے، پیٹھ پیچھے بدی کرے۔ (سورۃ الھمزۃ۔1)

اللہ تعالیٰ بار بار اپنے بندوں کو اس برائی سے منع فرما رہا ہے۔ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عزت کا محافظ ہوتا ہے مگر افسوس! ایسا نازک دور آ گیا ہے کہ مسلمان ہی مسلمان کی عزت کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کعبہ معظمہ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا:
مومن کی حرمت تجھ سے زیادہ ہے۔ (سنن ابن ِماجہ)

سیّد محمد نعیم الدین مراد آبادی خزائن العرفان میں لکھتے ہیں:
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جب جہاد کے لیے روانہ ہوتے یا سفر فرماتے تو ہر دو مالدار کے ساتھ ایک نادار مسلمان کو کر دیتے کہ یہ ان کی خدمت کرے اور وہ اس کو کھلائیں پلائیں۔ ایک موقع پر حضرت سیدّنا سلیمانؓ دو آدمیوں کے ساتھ روانہ کیے گئے۔ ایک روز آپ سو گئے اور کھانا تیار نہ کر سکے تو ان دونوں نے آپ کو کھانا طلب کرنے کے لیے بارگاہِ رسالت میں بھیجا۔ سرکارِ دو عالم کے  باروچی خانے کے خادم حضرت سیّدنا اسامہؓ تھے ان کے پاس کھانا ختم ہو چکا تھالہٰذا انہوں نے کہا ’’میرے پاس کچھ نہیں۔‘‘ جب حضرت سلیمانؓ نے دونوں رفقا کو آکر بتایا تو انہوں نے کہا کہ اسامہؓ نے بخل کیا۔ جب وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’میں تمہارے منہ سے گوشت کی رنگت دیکھتا ہوں۔‘‘ انہوں نے عرض کی ہم نے گوشت نہیں کھایا۔ فرمایا ’’تم نے غیبت کی اور جو مسلمان کی غیبت کرے اس نے اپنے مسلمان بھائی کا گوشت کھایا۔‘‘

غیبت Gheebat کی مختلف اقسام ہیں مثلاً جسمانی لحاظ سے غیبت، اخلاق و کردارمیں، حسب و نسب میں یا دینی معاملات میں۔ یہ آخری قسم سب سے خطرناک ہے جیسے یہ کہنا کہ فلاں وضو صحیح نہیں کرتا، نماز ٹھیک طریقے سے ادا نہیں کرتا، فلاں کو دین کی سمجھ نہیں ہے، بڑا بخیل ہے وغیرہ۔ شیطان انسان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ یہ بات کرنا دین میں نصیحت کے زمرے میں آتا ہے حالانکہ سچی نصیحت تو یہ ہے کہ تنہائی میں متعلقہ شخص سے رابطہ کر کے اس کی کمزوری بتا دی جائے اور اللہ سے دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ اسے محفوظ فرمائے۔ْ

غیبت کے اسباب
(Gheebat ke Asbab)

غیبت کے بہت سے اسباب ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

۱۔حسد:(Hasad)

کچھ لوگ حسد کی آگ میں ہروقت جلتے رہتے ہیں اور دوسروں کی خوشیوں کو زائل کرنے میں ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ جب ان کے سامنے کسی کی تعریف ہو تو ان سے وہ تعریف برداشت نہیں ہوتی لہٰذا طعن و تشنیع سے کام لیتے ہیں، اگر خوبی بیان ہو تو کہتے ہیں کہ اس میں فلاں فلاں عیب بھی ہے۔

۲۔ غصہ ٹھنڈا کرنا: (Gussa Thanda Karna)

اگر کسی کے ساتھ جھگڑا ہو جائے تو اس کی برائیاں اور نقائص مجلسوں میں بیان کر کے اپنا غصہ ٹھنڈا کرنا ۔

۳۔ بُرے دوستوں کی صحبت: (Bury Dost Ki Sohbat)

ایسے دوستوں کی مجالس میں بیٹھنا جو دوسروں کی غیبت کرتے اور اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ آپ ان کو روکیں یا ڈانٹیں آپ خود ان سے تعاون کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اس دن بہت سے گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے ماسوائے متقین کے۔ (سورۃ الزخرف۔67)

۴۔ دوسروں کی برائی اور اپنی تعریف: (Dosro Ki Burai or Apni Tareef)

اگر غیبت Gheebat کرنے والے کے سامنے کسی کی کوئی خوبی بیان کی جائے اور اس کی فضیلت ِعلم و شرف کو بیان کیا جائے تو وہ کہے ہاں اس طرح ہے لیکن اس میں بہت سے عیب بھی ہیں لہٰذا برائیاں بیان کرنا شروع کر دے۔ اس کو شیطان یہ سمجھاتا ہے کہ یہ بھی نصیحت کی قسم ہے حالانکہ اگر یہ نصیحت کرنے میں سچا ہوتا تو اسے تنہائی میں نصیحت کرتا نہ کہ لوگوں میں ذلیل و رسوا کرتا۔

۵۔استہزا اور مذاق: (Istihza or Mazaq)

اپنے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو ہنسانے کی غرض سے دوسروں کی غیبت کرنا گویا اسے اپنے مسلمان بھائی کی تذلیل کرنے کے علاوہ اور کوئی کام ہی نہیں۔ کیا وہ غیبت Gheebat کرنے والا نہیں جانتا کہ یہ بہت بڑی برائی اور گناہ ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’کسی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔‘‘ (صحیح مسلم)

غیبت نیکیوں کو کھا جاتی ہے
 (Gheebat Nekiyo ko kha jati hai)

امام ابوداؤدؓ نے اپنی کتاب سنن ابن ِ داؤد میں جید سند کے ساتھ حضرت ابوبردہ اسلمیؓ کی حدیث ذکر کی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک دن خطبہ ارشاد فرمایا جسے عورتوں نے اپنے گھروں میں سماعت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اے وہ گروہ! جو اپنی زبان سے تو ایمان لایا ہے اور اپنے دل سے ایمان نہیں لایا، مسلمانوں کی غیبت Gheebat نہ کرو اور نہ ہی ان کی عیب جوئی کرو۔ جس نے اپنے بھائی کے عیب تلاش کیے تو اللہ تعالیٰ اس کے عیب تلاش کرے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب Gheebat تلاش کرتا ہے اسے اس کے گھر کے اندر ہی ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔‘‘ 

حضرت حسن بصریؓ فرماتے ہیں:
اللہ کی قسم! غیبت آدمی کے دین کو اتنی تیزی سے کھا جاتی ہے جیسے خارش کی بیماری جسم کو۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک مرتبہ صحابہ کرام سے استفسار فرمایا ’’کیا تم جانتے ہو کہ مفلس اور کنگال آدمی کون ہے؟‘‘ تو صحابہ کرامؓ نے کہا ’’ہم میں مفلس یعنی کنگال وہ آدمی ہے جس کے پاس درہم ہوں نہ دینار۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’میری امت میں مفلس اور کنگال آدمی وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے اور ایسی حالت میں آئے کہ کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر بہتان لگایا ہو گا، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا پیٹا ہو گا، اس کی نیکیاں ان لوگوں میں تقسیم کی جائیں گی اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں قبل اس کے کہ اس کے ذمہ قرض پورا ہو تو پھر ان کی برائیاں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘ (صحیح مسلم)
حضور علیہ الصلوٰۃ  والسلام نے فرمایا غیبت اور چغلی ایمان کو اس طرح کاٹ دیتی ہے جس طرح چرواہا درخت کو کاٹ دیتا ہے۔ (الترغیب والترھیب، حدیث 27)

غیبت کی بنا پر عذابِ الٰہی 
(Gheebat ki Bina par Azab-e-Ellahi)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے معراج کی رات جہنم میں ایسے لوگ دیکھے جو مردار کھا رہے تھے۔ پوچھا ’’اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟‘‘ عرض کی یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے یعنی غیبت Gheebat کرتے تھے۔ (مسند امام احمد بن حنبل)

غیبت کی تباہ کاریاں  
(Gheebat ki Tabah kariyan)

مشہور ولی اللہ حضرت سیدّنا خاتم اصمؒ فرماتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی کہ غیبت کرنے والا جہنم میں بندر کی شکل میں بدل جائے گا، جھوٹا دوزخ میں کتے کی شکل میں بدل جائے گا اور حاسد جہنم میں سور کی شکل میں بدل جائے گا۔

غیبت Gheebat کرنے والے کو غیبت کی وجہ سے قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔ وہ عذاب کیسا ہو گا؟ غیبت Gheebat کرنے والا اپنے چہرے کو ناخنوں سے نوچے گا جس سے اس کے چہرے، منہ، آنکھ اور ناک سے خون بہنے لگ جائے گا۔ جس طرح وہ دنیا میں لوگوں کی غیبت Gheebat کیا کرتا تھا یہ اس کی پوری پوری جزا ہو گی۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام دو قبروں پر سے گزرے تو آپ ؐ نے فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی چیز کی وجہ سے ان کو عذاب نہیں ہو رہا (کہ جس سے بچنا مشکل ہو)۔ یہ بُری چیز بھی ہے کہ ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے پرہیز نہیں کرتا تھا (یعنی پاکی کا خیال نہیں رکھتا تھا) اور دوسرا لوگوں کی چغلی کیا کرتا تھا۔

غیبت سے کیسے نجات حاصل کی جائے؟

یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ غیبت ان گناہوں میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غصے کا سبب بنتے ہیں۔ وہ باتیں جو غیبت کی مذمت میں ہیں ان کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے۔
کیا ہم اپنے حق میں غیبت  Gheebatکو پسند کرتے ہیں کہ محافل اور تقاریب میں ہمارا مذاق اڑایا جائے؟ یقینا نہیں، تو پھر دوسروں سے بھی ایسا سلوک کریں جیسا اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے۔
جب نفس کسی مسلمان کے عیوب بیان کرنے پر اکسائے تو اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ کیا یہ عیوب آپ میں تو موجود نہیں۔ آپ یقینا اس سے بڑا عیب یا اس جیسا خود اپنے اندر موجود پائیں گے۔ اگر آپ نہ پائیں تو اس بات پر غور کریں کہ اپنے آپ کو لوگوں کے عیب تلاش کرنے میں مشغول کرنا ہی سب سے بڑا عیب ہے۔
اپنے نفس کو غیبت پر اکسانے والے اسباب سے پاک کریں مثلاً کینہ، حسد، خوشامد پسندی اور ریاکاری کی محبت اور اس طرح کے دوسرے نفسانی امراض وغیرہ۔
حضرت خواجہ حسن بصریؓ کا فرمان مبارک ہے کہ اے آدم کے بیٹے! تو ایمان کی حقیقت کو نہیں پا سکتا جب تک لوگوں کی عیب جوئی سے پرہیز نہیں کرتا جو تجھ میں بھی ہے۔ پہلے اپنی ذات کی اصلاح کر، اگر تو نے یہ کام کر لیا تو تو اپنی ہی ذات میں مشغول ہو گا۔ اور ایسا شخص اللہ کے بندوں میں بہت پسندیدہ ہے جو اس طرح کا ہو جائے۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کوئی شخص نہ تو فوراً اپنے باطنی امراض کی تشخیص کر سکتا ہے نہ ہی ان سے چھٹکارا پا سکتا ہے۔ غیبت Gheebat اور اس جیسی تمام نفسانی بیماریوں کا علاج مرشد کامل اکمل کی نگاہِ کامل اور پاکیزہ صحبت ہے۔ سروری قادری مرشد قدمِ محمدؐ پر ہوتا ہے اور طالبانِ مولیٰ کی تربیت عین اسی طرز پر کرتا ہے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے اصحاب کی تربیت فرمائی تھی۔ دورِ حاضر کے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس لاکھوں طالبانِ مولیٰ کو نفس کی مہلک بیماریوں سے نجات عطا کر چکے ہیں اور بیشمار مرد و خواتین تزکیہ نفس کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اگر کوئی اس بات کا خواہاں ہے کہ اپنے قلب کو آئینہ باصفا بنا کر حق تعالیٰ کا دیدار کرنے کے لائق ہو سکے تو ایسے طالب ِصادق کے لیے دعوتِ عام ہے کہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے دستِ اقدس پر بیعت ہو کر سلطان الاذکار ذکرِ یاھوُ اور تصور اسم ِاللہ ذات کی نعمت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مرشد کامل اکمل کی نورانی صحبت سے بھی مستفید ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے محفوظ فرمائے اور اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ آمین 

استفادہ کتب
۱) مکاشفتہ القلوب؛ تصنیف ابوحامد حضرت امام غزالیؒ
۲) غیبت کے نقصانات؛ تصنیف محمد اسلم صدیقی

 

34 تبصرے “غیبت کا فساد | Gheebat ka Fasad

  1. اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے محفوظ فرمائے اور اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ آمین

    1. حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا غیبت اور چغلی ایمان کو اس طرح کاٹ دیتی ہے جس طرح چرواہا درخت کو کاٹ دیتا ہے۔ (الترغیب والترھیب، حدیث 27)

    2. اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے محفوظ فرمائے اور اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ آمین

  2. اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے محفوظ فرمائے اور اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ آمین

    1. اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے محفوظ فرمائے اور اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ آمین

      1. اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے محفوظ فرمائے اور اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین

  3. اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے محفوظ فرمائے اور اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ آمین

  4. اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے محفوظ فرمائے اور اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ آمین

  5. حضرت حسن بصریؓ فرماتے ہیں:
    اللہ کی قسم! غیبت آدمی کے دین کو اتنی تیزی سے کھا جاتی ہے جیسے خارش کی بیماری جسم کو۔

      1. یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کوئی شخص نہ تو فوراً اپنے باطنی امراض کی تشخیص کر سکتا ہے نہ ہی ان سے چھٹکارا پا سکتا ہے۔ غیبت Gheebat اور اس جیسی تمام نفسانی بیماریوں کا علاج مرشد کامل اکمل کی نگاہِ کامل اور پاکیزہ صحبت ہے۔

  6. اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے محفوظ فرمائے اور اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ آمین

  7. اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے محفوظ فرمائے اور اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ آمین

  8. سبحان اللہ ماشاءاللہ بہت اچھا مضمون لکھا ہے اس مضمون کو پڑھنے کے بعد بہت ساری ایسی باتوں کا علم ہوا ہے جو ہمیں پہلے معلوم نہیں تھی اللہ پاک ان تمام برائیوں سے ہمیں بچائے

  9. اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے محفوظ فرمائے اور اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ آمین

  10. آج کے دور میں کوئی بھی اس بیماری سے محفوظ نہیں. اللہ پاک اس نفسانی بیماری سے محفوظ فرمائے

  11. اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے محفوظ فرمائے اور اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ آمین

  12. اللہ تعالیٰ ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے محفوظ فرمائے اور اپنی پناہ میں محفوظ رکھے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں