ملا اور فقیر (عاشق) اقبالؒ کی نظر میں Mulla aur Fakir Ashiq Iqbal Ki Nazar Mein


5/5 - (63 votes)

ملا اور فقیر (عاشق) اقبالؒ کی نظر میں
 Mulla aur Fakir (Ashiq) Iqbal Ki Nazar Mein

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری۔ لاہور

علامہ اقبالؒ کی شاعری کا ہر انداز اپنے اندر رازِعظیم پنہاں رکھتا ہے اور وہ رازِ عظیم مسلمانوں کی دنیاوی و اخروی کامیابی سے مربوط ہے۔ آپؒ کبھی نوجوان نسل کو ان کے اسلاف کی عظمت یاد دلا کر ’’از خوابِ گراں خیز‘‘ کا پیغام دیتے نظر آتے ہیں تو کہیں انہیں شاہین جیسی صفات اپنے اندر اجاگر کرنے کا درس دیتے ہیں۔کہیں خودی کا رازداں بننے کی تلقین کرتے ہیں توکہیں جنت و حور وقصور کی طلب سے اپنے باطن کو پاک رکھنے کی طرف راغب کرتے ہیں ۔

الغرض آپ کا ہر انداز امتِ مسلمہ کی خیر و بھلائی کے جذبہ سے معمور ہے۔ آپؒ کے اندازِ بیان میں دو مختلف قوتوں یا کرداروں کا حسین تقابل بھی نظر آتا ہے اور یہ آپ کی اعلیٰ تخلیقی، فنی و تخیلاتی قابلیت کوظاہر کرتا ہے۔جیسا کہ عشق اور عقل کی تکرار، طالبِ زر و طالبِ مولیٰ کی تفریق، زہد اور رندی کا کردار، دنیا و عقبیٰ کا تقابل ، ملااور فقیر (عاشق) کا اختلاف، بندے اور خدا کی ہمکلامی ، پیر ِ ناقص اور انسانِ کامل کا فرق اوراسی طرح کے دیگر موضوعات۔ آپؒ کی شہرہ آفاق نظمیں شکوہ و جوابِ شکوہ بھی اسی طرز پر ہیں۔ 

ملا اور فقیر یا دنیا و عقبیٰ کا تقابل جا بجا آپؒ کے کلام میں نظر آتاہے۔  اس مضمون کا مقصد اسی اختلاف اور اس کے حقائق کو زیرِ بحث لانا ہے۔ آپؒ کے نزدیک ملا سے مراد ایسے اہلِ شریعت حضرات ہیں جن کی عبادت و ریاضت کا مقصود فقط نعمت ہائے بہشت کو پانا ہے۔ ظاہر میں تو شریعت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں لیکن باطن میں راہِ فقر اور تصوف پر گامزن نہیں ہوتے اور نہ ہی اپنے باطن کو ’’خودی‘‘ کی پہچان سے روشن کرتے ہیں۔ دنیا کو دکھانے کے لیے لمبی لمبی نمازیں پڑھتے ہیں اورروزہ وچلہ کشی جیسے عمل میں مصروف رہتے ہیں جس کا مقصد اپنے مریدوں کی تعداد بڑھانا اور ان سے نذرانے بٹورنا ہوتا ہے۔ درحقیقت ایسے لوگ عشقِ الٰہی اور دیدارِ الٰہی کی راہ سے کوسوں  دور ہوتے ہیں۔  

علامہ اقبالؒ نے بانگِ درا میں اپنی نظم ’’زہد اور رندی‘‘ میں ایسے ہی ملا کے کردار پر روشنی ڈالی ہے ۔ بیان کرتے ہیں: 

اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی
تیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانی

شہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کا
کرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانی

کہتے تھے پنہاں ہے تصوف میں شریعت
جس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانی

لبریز مے زہد سے تھی دل کی صراحی
تھی تہ میں کہیں دردِ خیالِ ہمہ دانی

کرتے تھے بیاں آپ کرامات کا اپنی
منظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانی 

اس کے برعکس فقیر جو اللہ کا سچا عاشق و طالب ہوتا ہے، اس کی ہر عبادت و ریاضت کا مقصد صرف قرب و دیدارِ الٰہی ہے۔ اس کے لیے دنیا اور آخرت کی کامیابی سے مراد جنت میں عیش و عشرت، حور و قصور، دودھ کی نہریں اور دیگر نعمتوں کو پانا نہیں ہوتا بلکہ اس کے نزدیک تو یہ سب کچھ سوداگری ہے۔ ایسا سودا جس میں بندہ اپنی عبادت کے عوض جنت کی نعمتیں تو پا لیتا ہے لیکن حقیقی نعمت جو دیدارِ الٰہی ہے اس سے محروم رہتا ہے۔

علامہ اقبالؒ بانگ درا میں فرماتے ہیں:

سوداگری نہیں، یہ عبادت خدا کی ہے
اے بے خبر! جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے 

واعظ کمالِ ترک سے ملتی ہے یاں مراد
دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے 

 جس کا عمل ہے بے غرض، اس کی جزا کچھ اور ہے 
 حور و خیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر 

ہر انسان کو آخرت میں اس کی طلب کے مطابق ہی اجر دیا جائے گا۔ اب یہ انسان پر ہے کہ وہ کس کا طالب بنتا ہے ، عقبیٰ کا یا دیدار ِ الٰہی کا۔

’’طلبِ خاص‘‘ یعنی طلبِ دیدارِ الٰہی کے متعلق علامہ اقبالؒ پیامِ مشرق میں فرماتے ہیں :

ہست ایں میکدہ و دعوتِ عام است اینجا
قسمت بادہ باندازۂ جام است اینجا

ترجمہ:یہ دنیا ایک میکدہ ہے اور ہر کسی کو (لذتِ دیدارِ الٰہی کی مے) پینے کی دعوتِ عام ہے ،تاہم ہر کسی کے حصے کی شراب اس کے جام (طلب) کے مطابق ہو تی ہے۔

روزِ الست اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کی آزمائش کی غرض سے ایک جانب دنیا اور اس سے متعلقہ تمام زینت و آرائش کو تخلیق کیا اور دوسری جانب جنت کو ۔ جن ارواح کی نظریں آسائشاتِ دنیا کی طرف مبذول ہو گئیں انہوں نے دنیا کی نعمتوں کو اپنی جنت تصور کرتے ہوئے اس کی جانب پیش قدمی کر لی۔ اور جن ارواح کی نظر میں جنت اور نعمت ہائے بہشت سما گئیں انہوں نے جنت کی جانب رُخ کر لیا لیکن کچھ ارواح ایسی تھیں جنہوں نے نہ دنیا کو دیکھا اور نہ جنت کو۔ ان کی طلب قرب و دیدارِ الٰہی تھی ۔

سورۃ واقعہ میں اس کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے :
اور تم لوگ تین قسموں میں بٹ جاؤ گے ۔ سو (ایک) دائیں جانب والے ، دائیں جانب والوں کا کیا کہنا ۔ اور (دوسرے) بائیں جانب والے ، کیا( ہی برے حال میں ہوں گے) بائیں جانب والے ۔ اور (تیسرے)سبقت لے جانے والے ،(یہ)پیش قدمی کرنے والے ہیں۔یہی لوگ (اللہ کے) مقرب ہوں گے۔ نعمت کے باغات میں (رہیں گے)۔ ( سورۃ واقعہ 7-12) 

 اللہ تعالیٰ نے ارواح کا ایک امتحان اس جسم میں روح کو داخل کرنے سے پہلے روزِ الست لیا اور ایک امتحان روح کو جسم میں داخل کرنے کے بعداس دنیا میں بھیج کر لے رہا ہے۔ امتحان آج بھی ’’طلب ‘‘ کا ہے۔ کون کیا طلب کرتا ہے؟ اگر دنیا طلب کرتا ہے تو اس کے دل میں دنیا کی محبت ڈال دی جاتی ہے اور اس کا انجام آخرت میں بھگت لے گا۔ جو اپنی عبادات کے عوض جنت کی نعمتیں، حور وقصور طلب کرتا ہے اسے روزِ قیامت اس کا پورا پورا اجر دے دیا جائے گا۔ اور جو اس دنیا میں بھی ان دونوں کی طرف مائل نہیں ہوتے اور دیدارِ الٰہی کے طالب و مشتاق رہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ دیدارِ الٰہی کی نعمت عطا کرتا ہے اوریہی ان کے لیے حقیقی جنت ہے ۔ 

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا’’ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کے دائیں کندھے پر ہاتھ مار کر اِک روشن مخلوق چیونٹی کی طرح باہر نکالی، پھر بائیں کندھے پر ہاتھ مار کر کوئلے کی طرح سیاہ ایک اور مخلوق نکالی اور دائیں ہاتھ والوں کے لیے فرمایا کہ یہ جنت کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور بائیں ہاتھ والوں کے لیے فرمایا کہ جہنم کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ ‘‘ (مسند احمد 28036) 

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ  اس کے متعلق فرماتے ہیں :
مرد مذکر کسے کہتے ہیں؟ جس کے دل میں اللہ کے سوا کسی کی طلب نہ ہو۔ نہ دنیا نہ زینتِ دنیا کی، نہ حوروں اور جنت کے محلات اور میووں کی، نہ براق اور نہ ہی جنت کی کسی اور لذت کی۔ اہلِ دیدار کے نزدیک یہ سب کریہہ ، بد صورت اور بے حیثیت ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے دل میں اسمِ اللہ کو بسا لیا ہے اور وہ ازل سے اس کی مستی میں غرق ہیں۔ جس نے اسمِ اللہ کو اپنا جسم اور جان بنا لیا وہ دونوں جہانوں کے غم سے آزاد ہو گیا ۔(عین الفقر) 

 حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان مبارکہ ہے:
میں اللہ تعالیٰ کی عبادت جنت کی طلب یا دوزخ کے خوف سے نہیں کرتا بلکہ میں اللہ کی عبادت اس لیے کرتا ہوں کیونکہ وہی عبادت کے لائق ہے۔ 

علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں: 

یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو
کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں 

جاوید نامہ میں آپؒ ملا(طالبِ عقبی) اور عاشق کی جنت کا فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

مردِ آزادے کہ داند خوب و زشت
می نگنجد روحِ او اندر بہشت

ترجمہ::ایک طالبِ مولیٰ(عاشق)کی روح جو کہ محبوبِ حقیقی کے لیے تڑپ رہی ہوتی ہے، بہشت میں نہیں سما سکتی ۔

جنتِ ملا مے و حور و غلام
جنت آزادگاں سیرِ دوام

ترجمہ :ملا (طالبِ عقبیٰ) کی جنت تو شرابِ طہور اور حور و غلمان والی جنت ہے جبکہ عاشقوں کی جنت سیرِ دوام میں مصروف رہنا ہے۔ 

جنتِ ملا خور و خواب و سرود
جنتِ عاشق تماشائے وجود

ترجمہ:ملا (طالبِ عقبیٰ) کی جنت کھانا‘ پینا اور جنت کا عیش و آرام ہے اور عاشق کی جنت محبوبِ حقیقی کا دیدار ہے

حشر ملا شقِ قبر و بانگِ صور
عشق شور انگیز خود صبح نشور

ترجمہ: ملا (طالبِ عقبیٰ) کے مطابق قیامت قبر کے کھلنے اور صورِ اسرافیل پر مرُدوں کے اُٹھنے کا نام ہے لیکن ہنگامہ خیز عشق تو خود روزِ محشر ہے۔ 

 علامہ اقبالؒ کے کلام سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ ملا اور عاشق کی فطرت کا بنیادی فرق یہ ہے کہ ملا طالبِ عقبیٰ ہوتا ہے اور عاشق طالبِ مولیٰ ہوتا ہے ۔ اگر عاشق کو بروز قیامت جنت میں بھیج دیا جائے اور وہاں اسے دیدارِ الٰہی نصیب نہ ہو تو اس کے لیے وہ مقام جہنم کی آگ میں جلنے سے زیادہ تکلیف دہ ہو گا۔ 

زاہد اندر عالمِ دنیا غریب
عاشق اندر عالمِ عقبیٰ غریب

ترجمہ:زاہد (طالبِ عقبیٰ) اس دنیا کو اجنبی (مسافر خانہ) سمجھتا ہے اور بہشت ،حور و قصور اور نعمت ہائے بہشت کے لیے عبادت کرتا ہے، جبکہ طالبِ مولیٰ(عاشق) عقبیٰ کو اجنبی (مسافر خانہ) سمجھتا ہے اور اللہ کی طلب میں رہتا ہے۔ 

در گذشتم زاں ہمہ حور  و قصور
ز ورِق جاں باختم در بحرِ نور

ترجمہ: میں نے جنت کی سب آسائشوں یعنی حور و قصور کو چھوڑ دیا اور اپنی روح کو نور کے سمندر (وحدتِ حق تعالیٰ) میں غرق کر دیا۔ 

تمام صوفیا کرام کے نزدیک یہی حقیقی وصا ل ہے کہ بندہ دنیا و عقبیٰ دونوں کی خواہشات سے دستبردار ہو جائے اور وصالِ الٰہی کی نعمت کو پالے۔ 

اسی طرح آپؒ زبورِ عجم میں دنیا اور عقبیٰ کاذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

1۔ این ہم جہانے، آں ہم جہانے
ایں بیکرانے، آں بیکرانے!

2۔ ہر دو خیالے، ہر دو گمانے
از شعلہ من موجِ دَخانے!

3۔ ایں یک دو آنے آں یک دو آنے
من جاودانے، من جاودانے!

4۔ ایں کم عیارے، آں کم عیارے
من پاک جانے، نقد روانے!

5۔ اینجا مقامے، آنجا مقامے
اینجا زمانے، آنجا زمانے!

6۔ اینجا چہ کارم، آنجا چہ کارم
آہے فغانے، آہے فغانے!

7۔ این رہزنِ من، آں رہزنِ من
اینجا زیانے، آنجا زیانے!

8۔ ہر دو فروزم، ہر دو بسوزم
ایں آشیانے، آں آشیانے! 

ترجمہ۱:یہ دنیا بھی ایک جہان ہے اور بہت وسیع و عریض ہے اور عقبیٰ بھی ایک جہاں ہے اور وہ بھی وسیع و عریض ہے۔

 ۲:دنیا و عقبی دونوں ہی خیال اور گمان ہیں اور دونوں کا وجود انسان ہی کی بدولت ہے۔ اگر انسان نہ ہوتا یہ بھی نہ ہوتیں۔

۳: یہ دنیا بھی عارضی ہے اور وہ عقبیٰ بھی عارضی ہے ،میں (انسان) جاوداں ہوں یعنی دونوں عارضی اور فانی ہیں اورانسان بقا باللہ کے مقام پر پہنچ کر (انسانِ کامل بن کر) جاوداں ہو جاتا ہے۔ 

۴:دنیا اور عقبیٰ دونوں کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے یعنی دونوں جذبۂ عشق سے عاری ہیں اور میں ہمیشہ رہنے والا ہوں کہ میں جذبۂ عشق کی بدولت بقا باللہ کے مقام پر پہنچ گیا ہوں ۔

 ۵:دنیا میں بھی میرا مقام عارضی ہے اور عقبیٰ میں بھی میرا مقام عارضی ہو گا اس لیے مجھے دونوں (دنیا و عقبیٰ) سے کوئی غرض نہیں۔

۶:دنیا میں میرا کیا کام اور عقبیٰ میں میرا کیا کام! میں تو عشق کی بدولت یہاں بھی بیقرار ہوں اور آہ و فغاں کر رہا ہوں،عقبیٰ میں بھی میرا حال یہی ہو گا یعنی اگر مجھے جنت میں بھیج دیا گیا اور دیدارِ الٰہی نصیب نہ ہوا تو میرا حال عقبیٰ میں بھی وہی ہو گا جو یہاں ہے۔

۷:دنیا بھی لٹیری ہے اور عقبیٰ بھی لٹیری ہے۔یہاں بھی نقصان ہے وہاں بھی نقصان ہے ،یعنی دونوں میرے محبوبِ حقیقی کی راہ کاٹنے والی ہیں۔اصل میں آپؒ کا مدعا یہ ہے کہ یہاں دنیا کی لذتیں انسان کو اللہ تعالیٰ کی طلب سے دور کرتی ہیں تو وہاں جنت کی لذتیں دیدارِ الٰہی سے محروم کر دیں گی۔

۸:میں دنیا اور عقبیٰ دونوں کو روشن کرتا ہوں یعنی دونوں انسان کی خاطر بنائی گئی ہیں۔ دونوں کی رونقیں انسان کے لیے ہیں اور انسان ہی ان دونوں کی رونقوں کو بڑھاتا ہے ۔ لیکن ان میں کھو کر محبوبِ حقیقی کو بھول جانا میرا شیوہ نہیں ہے اس لیے میرے عشق کی ایک آہ ان کو جلا دیتی ہے۔ 

 عاشق صفت تووہ ہوتا ہے جو عشقِ الٰہی میں تڑپتا رہتا ہے اور پھر بھی ’ھل من مزید‘‘ کا نعرہ لگانے سے باز نہیں آتا ۔ ایسا عاشق ایک ہی ڈگر پر چلنے والی جنت میں کیسے سما سکتا ہے ؟  

دلِ عاشقاں بمیرد بہ بہشت جاودانے
نہ نوائے درد مندے، نہ غمے نہ غم گسارے

ترجمہ: عاشقوں کا دل ہمیشہ رہنے والی بہشت میں مر جاتا (کیوں کہ بہشت میں زندگی ایک ہی ڈگر پر رہے گی اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو گا)۔  نہ وہاں کسی درد مند (عاشق) کی پر سوز آواز سنائی دیتی ہے ،نہ اس میں کوئی غم ہے اور نہ کوئی غمگسار محبو ب۔ 

علامہ اقبال ؒ کی ملا ئی نظام پر تنقید کی سب سے بڑی وجہ ملاؤں کی ظاہر پرستی ہے یعنی دین کو صرف ظاہری عبادات تک محدود سمجھنا اور ان عبادات کی بنا پر لوگوں میں اپنی بڑائی بیان کرنا۔ اور دوسری بڑی وجہ ’’فرقہ پرستی‘‘ ہے۔ اسلام وہ دین ہے جو ہر قسم کی فرقہ پسندانہ سوچ سے پاک ہے اور جس میں رنگ و نسل کے تعصب کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن ہمارے ہاں رویہ اس سے یکسر مختلف ہے، ہر کوئی اپنے فرقے کو دوسرے سے بلند جانتا ہے اور دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگانے کے درپے رہتا ہے۔ اس لیے علامہ اقبالؒ ملائی کلچر کو یہ باور کرواتے ہیں کہ وہ اس قسم کی فرقہ پرستی اور ظاہر پرستی کو ترک کر دیں اور دین کی اصل روح کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ آپؒ فرماتے ہیں :

نہ فلسفی سے، نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو
یہ دل کی موت ، وہ اندیشہ و نظر کا فساد
(بالِ جبریل )

 
 

باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری
اے کشتۂ سلطانی و ملائی و پیری!
(ارمغانِ حجاز)

 
 

اے مسلماں ! اپنے دل سے پوچھ ، ملا سے نہ پوچھ
ہو گیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم
 (بالِ جبریل) 

اذان کے الفاظ ایک ہی ہیں لیکن میدانِ عشق اور میدانِ جنگ میں جان کی بازی لگا دینے والے کی اذان اور نماز کی کیفیت ملا کی اذان و نماز سے مختلف ہوتی ہے ۔ 

الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور
   (بالِ جبریل)

 

تیری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال
تیری اذاں میں نہیں ہے میری سحر کا پیام
(ضربِ کلیم )

آپؒ فرماتے ہیں عشق کا راز ملا و صوفی کہاں جانتے ہیں، وہ رازِ عشق کی حقیقت سے واقف نہیں ۔عشق کی حقیقت تو اُن پر آشکار ہوتی ہے جو جان و دل کی بازی لگا دیتے ہیں۔

کیا صوفی و ملا کو خبر میرے جنوں کی
ان کا سرِ دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے
(بالِ جبریل )

اقوامِ عالم میں مسلمانوں کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ان کا توحید حق تعالیٰ پر یقین و ایمان تھا لیکن آج ہماری شمشیروں میں وہ کھنک نہیں جس سے دشمن کے دل لرز جاتے تھے۔

قل ھو اللہ کی شمشیر سے خالی ہے نیام
آہ اس راز سے واقف ہے نہ ملا، نہ فقیہہ
(ضربِ کلیم) 

اصل دین کیا ہے؟ دین کی اصل نہ تجلیاتِ باطنی و احوالِ باطنی سے بے خود ہو جانے میں ہے اور نہ ہی محض زبانی کلامی وعظ و نصیحت  میں۔

صوفی کی طریقت میں فقط مستیٔ احوال
ملا کی شریعت میں فقط مستیٔ گفتار
(ضربِ کلیم)

 اصل دین کیا ہے ؟ دین کی اصل حقیقت محبت و معرفت اور نگاہِ ولی کی تاثیر سے کھلتی ہے۔ لیکن صد افسوس ہمارے دینی مدارس اس سے محروم ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں :

اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم ناک
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ!
(بالِ جبریل)

 

ملا کی نظر نورِ فراست سے ہے خالی
بے سوز ہے میخانۂ صوفی کی مئے ناب
 (ارمغانِ حجاز)

 علامہ اقبالؒ مسلمان کو اپنی خودی کی حقیقت اور پہچان حاصل کرنے  پربہت زور دیتے نظر آتے ہیں کیونکہ جب تک وہ’’خودی‘‘کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتاتب تک انسان بحیثیتِ اشرف المخلوقات اپنی حقیقت سے بھی آگاہ نہیں ہو سکتا۔ 

 عجب نہیں کہ خدا تک تیری رسائی ہو
تیری نگاہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام
(ضربِ کلیم )

علامہ اقبالؒ جابجا اپنے کلام میں مسلمانوں کو ان کے اسلاف کی عظمتوں کے متعلق آگاہ کرتے ہیں کہ ایک وہ تھے جو دین کی اصل کنہہ سے واقف تھے اور ہر لحاظ سے وحدتِ حق کے ترجمان تھے۔ لیکن آج ہمارا مذہب صرف حلال و حرام کے فرق کو جاننے کی حد تک ہی محدود رہ گیا ہے۔ 

وہ مذہب ِ مردانِ خود آگاہ و خدا مست
یہ مذہبِ ملا و جمادات و نباتات
(بالِ جبریل)

بالِ جبریل میں علامہ اقبالؒ نے ایک نظم ’’ملا اور بہشت‘‘ میں ایک تمثیلی تصور پیش کیا ہے کہ بروزِ قیامت جب ملا کو جنت میں بھیجنے کا پروانہ دیا جائے گا تو میں اللہ سے جسارت کی معافی مانگتے ہوئے عرض کروں گا کہ ملا کو حور و شراب اورجنت کا سبزہ زار راس نہیں آ سکتا کیونکہ جنت لڑائی جھگڑے کا مقام نہیں ہے جبکہ وہ تو لڑائی جھگڑے اور بحث و تکرار کا عادی ہے۔ عبادت گاہوں میں بیٹھ کر قوموں کے درمیان جھگڑا فساد کروانا اس کا پیشہ ہے ۔جنت میں ایسے صاحبان کا کیا کام!!

میں بھی حاضر تھا وہاں، ضبطِ سخن نہ کر سکا
حق سے جب حضرت ملاُ کو ملاِ حکمِ بہشت 

 عرض کی میں نے الٰہی! میری تقصیر معاف
خوش نہ آئیں گے اسے حور و شراب و لبِ کشت

نہیں فردوس مقامِ جدل و قال و اقوال
بحث و تکرار اس اللہ کے بندے کی سرشت 

ہے بد آموزی اقوام و ملل کام اس کا
اور بہشت میں نہ مسجد، نہ کلیسا، نہ کنشت! 

 حاصلِ کلام :

انسان کو اپنی حقیقت سے آگاہ ہونے کے لیے اپنے مقام و مرتبے کو پہچاننا ضروری ہے۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ بطور عاشق اپنا ہر عمل رضائے الٰہی کے مطابق سر انجام دیتا ہے۔ اس کی عبادت و ریاضت کا مقصد ہر گز نعمت ہائے بہشت کو پانا نہ ہو بلکہ اللہ کی عبادت اس لیے کی جائے کہ وہ اس کے لائق ہے اور قرب و وصالِ الٰہی کی نعمت پانا ہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ فرقہ پرستی،مسلک پرستی ، ظاہر پرستی، اَنا پرستی، نفس پرستی جیسے عناصر سے ہمیں اپنی قوم اور عبادت گاہوں کو محفوظ کرنا ہو گا۔ اسی عمل کے ذریعہ ہم اپنے معاشرے میں دین کی اصل روح کو رواں رکھنے میں اپنا مثالی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ 

اللہ پاک ہمیں علامہ اقبالؒ کے کلام کو بطور عاشق و عارف باللہ سمجھنے کی تو فیق عطا کرے ۔ ( آمین)

استفادہ کتب :
 فقر ِ اقبالؒ: تصنیفِ لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
کلیاتِ اقبال 

 

نوٹ: اس مضمون کو  آڈیو کی صورت میں سننے کے لیے  ماہنامہ سلطان الفقر میگزین کے یوٹیوب (YouTube)    چینل کو وزٹ فرمائیں۔ 

یوٹیوب چینل  لنک

مضمون لنک :     Mulla aur Fakir (Ashiq) Iqbal ki Nazar Mein | Topic in Urdu/Hindi | Mahnama Sultan-ul-Faqr Lahore

 

29 تبصرے “ملا اور فقیر (عاشق) اقبالؒ کی نظر میں Mulla aur Fakir Ashiq Iqbal Ki Nazar Mein

  1. انسان کو اپنی حقیقت سے آگاہ ہونے کے لیے اپنے مقام و مرتبے کو پہچاننا ضروری ہے۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ بطور عاشق اپنا ہر عمل رضائے الٰہی کے مطابق سر انجام دیتا ہے۔

  2. فقیر جو اللہ کا سچا عاشق و طالب ہوتا ہے، اس کی ہر عبادت و ریاضت کا مقصد صرف قرب و دیدارِ الٰہی ہے۔

    1. تیری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال
      تیری اذاں میں نہیں ہے میری سحر کا پیام
      (ضربِ کلیم )

  3. اللہ پاک ہمیں علامہ اقبالؒ کے کلام کو بطور عاشق و عارف باللہ سمجھنے کی تو فیق عطا کرے ۔ ( آمین)

  4. حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان مبارکہ ہے:
    میں اللہ تعالیٰ کی عبادت جنت کی طلب یا دوزخ کے خوف سے نہیں کرتا بلکہ میں اللہ کی عبادت اس لیے کرتا ہوں کیونکہ وہی عبادت کے لائق ہے۔

  5. حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان مبارکہ ہے:
    میں اللہ تعالیٰ کی عبادت جنت کی طلب یا دوزخ کے خوف سے نہیں کرتا بلکہ میں اللہ کی عبادت اس لیے کرتا ہوں کیونکہ وہی عبادت کے لائق ہے۔

  6. ہر انسان کو آخرت میں اس کی طلب کے مطابق ہی اجر دیا جائے گا۔ اب یہ انسان پر ہے کہ وہ کس کا طالب بنتا ہے ، عقبیٰ کا یا دیدار ِ الٰہی کا۔

  7. سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ اس کے متعلق فرماتے ہیں :
    مرد مذکر کسے کہتے ہیں؟ جس کے دل میں اللہ کے سوا کسی کی طلب نہ ہو۔ نہ دنیا نہ زینتِ دنیا کی، نہ حوروں اور جنت کے محلات اور میووں کی، نہ براق اور نہ ہی جنت کی کسی اور لذت کی۔ اہلِ دیدار کے نزدیک یہ سب کریہہ ، بد صورت اور بے حیثیت ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے دل میں اسمِ اللہ کو بسا لیا ہے اور وہ ازل سے اس کی مستی میں غرق ہیں۔ جس نے اسمِ اللہ کو اپنا جسم اور جان بنا لیا وہ دونوں جہانوں کے غم سے آزاد ہو گیا ۔(عین الفقر)

  8. اصل دین کیا ہے؟ دین کی اصل نہ تجلیاتِ باطنی و احوالِ باطنی سے بے خود ہو جانے میں ہے اور نہ ہی محض زبانی کلامی وعظ و نصیحت میں۔

  9. فقیر جو اللہ کا سچا عاشق و طالب ہوتا ہے، اس کی ہر عبادت و ریاضت کا مقصد صرف قرب و دیدارِ الٰہی ہے۔ اس کے لیے دنیا اور آخرت کی کامیابی سے مراد جنت میں عیش و عشرت، حور و قصور، دودھ کی نہریں اور دیگر نعمتوں کو پانا نہیں ہوتا بلکہ اس کے نزدیک تو یہ سب کچھ سوداگری ہے۔ ایسا سودا جس میں بندہ اپنی عبادت کے عوض جنت کی نعمتیں تو پا لیتا ہے لیکن حقیقی نعمت جو دیدارِ الٰہی ہے اس سے محروم رہتا ہے۔

  10. ہر انسان کو آخرت میں اس کی طلب کے مطابق ہی اجر دیا جائے گا۔ اب یہ انسان پر ہے کہ وہ کس کا طالب بنتا ہے ، عقبیٰ کا یا دیدار ِ الٰہی کا

  11. بے شک جو اللہ کا سچا عاشق و طالب ہوتا ہے، اس کی ہر عبادت و ریاضت کا مقصد صرف قرب و دیدارِ الٰہی ہے

  12. حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان مبارکہ ہے:
    میں اللہ تعالیٰ کی عبادت جنت کی طلب یا دوزخ کے خوف سے نہیں کرتا بلکہ میں اللہ کی عبادت اس لیے کرتا ہوں کیونکہ وہی عبادت کے لائق ہے۔

  13. فقیر جو اللہ کا سچا عاشق و طالب ہوتا ہے، اس کی ہر عبادت و ریاضت کا مقصد صرف قرب و دیدارِ الٰہی ہے۔

  14. فقیر جو اللہ کا سچا عاشق و طالب ہوتا ہے، اس کی ہر عبادت و ریاضت کا مقصد صرف قرب و دیدارِ الٰہی ہے۔

  15. اللہ پاک ہمیں علامہ اقبال کے کلام کو سمجھنے اور سیدھے رستے پر چلںے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

  16. ملا اور عاشق کی فطرت کا بنیادی فرق یہ ہے کہ ملا طالبِ عقبیٰ ہوتا ہے اور عاشق طالبِ مولیٰ ہوتا ہے ۔

  17. سوداگری نہیں، یہ عبادت خدا کی ہے
    اے بے خبر! جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
    واعظ کمالِ ترک سے ملتی ہے یاں مراد
    دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے

  18. عاشق صفت تووہ ہوتا ہے جو عشقِ الٰہی میں تڑپتا رہتا ہے اور پھر بھی ’ھل من مزید‘‘ کا نعرہ لگانے سے باز نہیں آتا ۔

  19. فقیر جو اللہ کا سچا عاشق و طالب ہوتا ہے، اس کی ہر عبادت و ریاضت کا مقصد صرف قرب و دیدارِ الٰہی ہے۔

  20. ہر انسان کو آخرت میں اس کی طلب کے مطابق ہی اجر دیا جائے گا۔ اب یہ انسان پر ہے کہ وہ کس کا طالب بنتا ہے ، عقبیٰ کا یا دیدار ِ الٰہی کا

  21. علامہ اقبالؒ کی شاعری کا ہر انداز اپنے اندر رازِعظیم پنہاں رکھتا ہے اور وہ رازِ عظیم مسلمانوں کی دنیا و ی و اخروی کامیابی سے مربوط ہے-

  22. علامہ اقبالؒ مسلمان کو اپنی خودی کی حقیقت اور پہچان حاصل کرنے پربہت زور دیتے نظر آتے ہیں کیونکہ جب تک وہ’’خودی‘‘کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتاتب تک انسان بحیثیتِ اشرف المخلوقات اپنی حقیقت سے بھی آگاہ نہیں ہو سکتا

  23. نہ فلسفی سے، نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو
    یہ دل کی موت ، وہ اندیشہ و نظر کا فساد
    (بالِ جبریل )

  24. واعظ کمالِ ترک سے ملتی ہے یاں مراد
    دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے
    جس کا عمل ہے بے غرض، اس کی جزا کچھ اور ہے
    حور و خیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر

  25. ملا (طالبِ عقبیٰ) کی جنت تو شرابِ طہور اور حور و غلمان والی جنت ہے جبکہ عاشقوں کی جنت سیرِ دوام میں مصروف رہنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں