کرونا وائرس کے متعلق اہم معلومات|Coronavirus Kay Mutaliq Aham Malomat

کرونا وائرس کے متعلق اہم معلومات

ڈاکٹر حسنین محبوب صاحب (شیخ زید ہسپتال لاہور۔ پلمونولوجسٹ)

کرونا وائرس کیا ہے؟

کرونا وائرس دراصل جانوروں میں پایا جانا والا ایک متعدی مرض (انفیکشن) ہے۔
یہ وائرس بالخصوص چمگاڈروں میں پایا جاتا ہے۔
یہ وائرس جانوروں کے ذریعے بہت تیزی سے انسانوں میں بھی پھیل رہا ہے۔
تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ وائرس چین کے شہر ووہان Wuhan سے پھیلنا شروع ہوا۔ ووہان میں دسمبر 2019ء میں اس وائرس کی تشخیص کی گئی جو بہت تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا۔ چونکہ یہ بیماری 2019ء میں پھیلنا شروع ہوئی اسی بنا پر اسے Covid-19 کا نام دیا گیا ہے۔
یہ وائرس چین سے دیگر ممالک میں بھی بہت تیزی سے پھیلاجس کے باعث جنوری 2020ء کے آخر میں عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے اس مرض کو عالمی سطح پر ایمرجنسی قرار دے دیا گیا۔ مارچ 2020ء میں عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کوعالمی وبا قرار دے دیا۔

کرونا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

عموماًایک متاثرہ شخص جب کھلی فضا میں کھانستا یا چھینکتا ہے تویہ وائرس اس کے منہ سے نکلنے والے آبی ذرات کے ذریعے ہوا میں معلق ہو جاتا ہے اور مختلف سطحوں پر منتقل ہوجاتا ہے۔
یہ وائرس مختلف سطحوں پر کچھ گھنٹوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔ جب ایک صحت مند شخص ایسی سطحوں کو چھوتا ہے یا کسی متاثرہ شخص سے مصافحہ کرتا ہے تو عین ممکن ہے کہ وائرس ہاتھوں کے ذریعے صحت مند انسان میں بھی منتقل ہو جائے۔
یہ وائرس آنکھ، ناک ، کان اور گلے کے ذریعے جسم میں داخل ہو تا ہے اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔

کرونا وائرس کی علامات کیا ہیں؟

ابتدائی طور پر عام نزلے زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں جس کے ساتھ ساتھ بخار اورکھانسی بھی ہو سکتی ہے۔
اگلے مرحلے میں نزلے، کھانسی اور بخار کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں دقت ہونے لگتی ہے جو آہستہ آہستہ سنگین ہوتی چلی جاتی ہے۔
جس سے جسم میں کمزوری اور سر درد رہتا ہے۔
80%افراد جن کی قوت ِ مدافعت بہتر ہو، یہ بیماری عام نزلے زکام کی طرح خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔
20%افراد میں یہ مرض انتہائی تشویش ناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔ عموماً یہ 20% افراد وہ ہیں جن کی قوتِ مدافعت کم ہوتی ہے یا جو کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں جس کے باعث انکی قوتِ مدافعت کم ہو گئی ہو جیسا کہ شوگر یا ہائی بلڈ پریشر کے مریض۔زیادہ تر ساٹھ سال سے زائد عمر کے افراد کی قوتِ مدافعت عموماً کم ہوتی ہے اس لئے عمر رسیدہ افراد میں صورتِ حال تشویشناک ہوسکتی ہے۔

کرونا وائرس کے متعلق مفروضات

عوام الناس میں اس بیماری کے متعلق کچھ مفروضات پائے جاتے ہیں مثلاً
کیا کرونا وائرس سے موت واقع ہو جائے گی؟
بالکل نہیں۔ کرونا وائرس کے مریضوں کی شرح اموات محض 2سے 3فیصد ہے۔
کیا کرونا وائرس کی دوا (anti virus) موجود ہے؟
بد قسمتی سے تا حال اس بیماری کی کوئی دَوا یا اینٹی وائرس موجود نہیں۔
کیا ہر شخص کو ماسک کے ذریعے اپنا چہرہ ڈھانپنے کی ضرورت ہے؟
جی نہیں۔ اگر آپ کے اندر اوپر بیان کی گئی علامات ظاہر ہو رہی ہوں تو اس صورت میں ماسک پہنا جائے تاکہ آپ کے منہ اور ناک سے نکلنے والے ذرات سے دیگر صحت مند افراد محفوظ رہیں۔

کرونا وائرس سے کیسے بچاجا سکتا ہے؟

احتیاط علاج سے بہتر ہے۔
جو لوگ بالواسطہ طور پر متاثرہ افراد کے ساتھ میل جول رکھتے ہیں مثلا ً ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ، وہ اپنے بچاؤ کے لئے ماسک استعمال کریں۔
دن میں ہر دوگھنٹے بعد صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھوئیں۔
ہاتھوں کو وائرس سے پاک رکھنے کے لئے جراثیم کش محلول یعنی Hand sanitizerکا استعمال کیا جاسکتاہے۔
اگر کوئی علامات ظاہر ہوں تو کوشش کریں کہ خود کو باقی صحت مند افراد سے دور رکھا جائے اور سماجی میل جول سے گریز کیا جائے۔
ایسی جگہیں جہاں عوام کا رش ہو مثلاً بازار، پارک، شاپنگ مال میں جانے سے گریز کریں۔
اپنے آپ کو ممکن کوشش تک اپنے گھر میں محدود رکھیں اور بلاوجہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ اور ناک کو رومال یا کپڑے سے ڈھانپ لیں۔
اگر کوئی کپڑا پاس موجود نہیں تو منہ پر ہاتھ رکھنے کی بجائے اپنی آستین میں کھانسیں /چھینکیں۔
دن میں بار بار پانی پئیں۔
صحت مند غذا کا استعمال کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس وبائی مرض سے محفوظ رکھے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں