تکّبر،فخرو غرور اور عجز و انکساری | Takkabur, Fakhar o Gharoor or Ijz O Inkisari

تکّبر،فخرو غرور اور عجز و انکساری

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس

عجز و انکساری راہِ فقر میں طالب ِ مولیٰ کا ہتھیار ہے اس کے مقابلہ میں شیطان کا ہتھیار تکبر اور فخروغرور ہے جس سے وہ طالب ِ مولیٰ کو گمراہ کرتا ہے۔

تکبر

کبر اور عظمت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور کبریائی اسی کے لیے زیبا ہے۔ حدیث ِ قدسی ہے ’’کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میرا تہمد ہے ان دونوں کے بارے میں جو کوئی مجھ سے نزاع کرے گا تو میں اسے توڑ دوں گا۔‘‘ تکبر اور اپنے آپ کو بڑا جاننا ایک نہایت ہی مذموم خصلت ہے اور درحقیقت اللہ تعالیٰ کے ساتھ دشمنی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں سب سے بڑا ہے اس کی ذات ہر لحاظ سے مکمل اور جامع ہے۔ اس لیے اس کے برابر نہ کوئی ہے اور نہ ہو سکتا ہے اس لیے کبریائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو زیب دیتی ہے کیونکہ اس کی بارگاہ میں اس کی مرضی اور رضا کے بغیر کسی کا کوئی درجہ اور حیثیت نہیں، پروردگار ہر لحاظ سے کبیر ہے تو پھر انسان کا تکبر کرنا بے معنی ہے۔
شرعی لحاظ سے دوسروں کو حقیر سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو برتر اور اعلیٰ تصور کرنا تکبر ہے حالانکہ مخلوق ہونے کے لحاظ سے سب یکساں اور مساوی ہیں۔ یہ شیطانی صفت ہے کیونکہ شیطان نے تکبر ہی کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا اسی بنا پر وہ لعین اور مردود ہوا۔ لہٰذا متکبر شخص اسی طرح دین اور دنیا میں ذلیل و خوار ہو جاتا ہے اور لوگوں کی طرف سے لعنت کا حقدار ٹھہرتا ہے۔
راہِ فقر میں طالب ِمولیٰ کے لیے اپنے آپ کو تکبر سے بچانا لازم ہے کیونکہ تکبر ختم ہوگا تو عاجزی و انکساری پیدا ہو گی اور یہ فقر کی بنیاد ہے۔ عاجزی راہِ فقر میں آنے والی مشکلات و خطرات میں قلعہ بندی کا کام دیتی ہے۔ طالب ِ مولیٰ پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اندر سے تکبر و انانّیت کے تمام قلعوں کا خاتمہ کر کے عاجز بنے۔
اللہ تعالیٰ نے تکبر کی بہت مذمت فرمائی ہے۔ قرآنِ مجید میں بے شمار آیات تکبر کے بارے میں ہیں جن میں سے چند ایک کا ذکر کیا جارہا ہے۔

ابلیس کا تکبر

’’اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا‘ مگر ابلیس نے نہ کیا۔ اس نے تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔‘‘ (البقرۃ 34)
سورہ اعراف میں یہ واقعہ یوں بیان ہوا ہے ’’بے شک ہم نے تمہیں پیدا کیا اور تمہاری صورتیں بنائیں پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو۔ تو سب نے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے نہ کیا کیونکہ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ تھا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ تمہیں سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا تھا جبکہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا تو کہنے لگا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور اسے مٹی سے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا کہ یہاں سے نکل جا کیونکہ تجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر تکبر کرے کیونکہ اب تو ذلیلوں میں سے ہو گیا ہے تو اس پر ابلیس نے کہا کہ اے اللہ مجھے قیامت تک مہلت دے تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ جا تجھے مہلت ہے۔ تو پھر شیطان نے کہا تو نے مجھے گمراہ قرار دیا ہے لہٰذا میں راہ میں بیٹھوں گا تاکہ جن کی وجہ سے تو نے مجھے گمراہ قرار دیا ہے انہیں بھی سیدھی راہ سے ہٹا دوں لہٰذا میں انسانوں کو راہِ حق سے ہٹانے کے لیے ان کے آگے‘ ان کے پیچھے‘ ان کے دائیں‘ ان کے بائیں سے آؤں گا (ہر انسان کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے میں اس کو اسی کمزوری سے پکڑوں گا) اور ان میں سے اکثر لوگوں کو ناشکرا بنا دوں گا تو اس پر اللہ نے کہا یہاں سے نکل جا کیونکہ تو اندھا ہو گیا ہے لہٰذا میں ان لوگوں کو جو تیرے کہنے پر چلیں گے جہنم میں پھینک دوں گا۔‘‘ ایک اور مقام پر شیطان کے تکبر کو یوں بیان کیا گیا ہے:
’’تمام فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا۔ مگر ابلیس نے انکار کیا اور تکبر کی بنا پر کافروں میں سے ہو گیا۔ تو اس سے پوچھا گیا کہ اے ابلیس تجھے سجدہ کرنے سے کس بات نے منع کیا تھا کہ اسے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا مگر تجھ میں تکبر آگیا کیونکہ توتکبر کرنے والوں میں سے ہی تھا۔‘‘ (ص 73 تا 75)
اور یوں ابلیس کو تکبر نے تمام عبادات (تقریباً پچاس ہزار سالہ) سے محروم کر دیا اور فرشتوں کے معلم کے عہدہ سے معزول کر کے راندہ درگاہ بنا دیا۔

فرعون کا تکبر

فرعون کو بھی تکبر ہی نے برباد کیا تھا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون اور اس کے امراء کے پاس نشانیاں دے کر بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا کیونکہ وہ مجرم قوم تھے۔‘‘ (یونس 75)
فرعون اور اس کی قوم کو جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دی تو اس نے تکبر کی بنا پر دعوت کو قبول نہ کیا آخر اس کے تکبر نے اس کو سمندر میں غرق کر دیا۔

قومِ عاد کا تکبر

قومِ عاد نے بھی تکبر کیا جس کی بنا پر وہ عذاب میں گرفتار ہوئے ان کے متعلق فرمانِ الٰہی ہے:
’’قومِ عاد نے زمین میں ناجائز تکبر کیا اور کہا کہ ہم سے زیادہ کس کا زور ہے (یعنی ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے) کیا انہوں نے نہیں دیکھا تھا کہ اللہ نے انہیں بنایا ہے وہ ان سے زیادہ قوت والا ہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے۔ پس ہم نے ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی آندھی چلائی تاکہ وہ دنیا کی زندگی میں ذلیل کرنے والے عذاب کا مزا چکھ لیں اور آخرت کا عذاب تو بہت ذلت آمیز ہے اور اُن کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔‘‘ (حٰمٓ السجدہ 16-15)

عبادت پر تکبر

’’اور تمہارے ربّ نے کہا مجھے پکارو میں قبول کروں گا اور لوگوں میں سے وہ جو عبادت کی بنا پر تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘ (مومن 60)
عارفین اور فقرا کے نزدیک عبادت پر فخر کرنا، مغرور ہونا یا تکبر کرنا بہت بڑی بے وقوفی اور بھول ہے کیونکہ عبادت تو اللہ تعالیٰ نے قبول کرنی ہے خواہ وہ قبول کرے یا رد کر دے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں یوں بیان فرمایا ہے ’’جو کوئی اللہ کی بندگی سے نفرت اور تکبر کرے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز انہیں اپنی طرف جمع کرے گا‘‘ ۔
اللہ کے فرشتے عبادت پر تکبر نہیں کرتے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’جو فرشتے اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت پرمتکّبر نہیں ہوتے اور نہ ہی اکتاتے ہیں۔‘‘ (انبیا۔ 19)
شیخ مطرف رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر میں ساری رات سوتا رہوں اور صبح کو ہراساں و پریشان اٹھوں تو یہ بات مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں ساری رات نماز پڑھوں اور صبح کو اس عبادت پر غرور کروں‘‘۔ شیخ بشیر ابن منصور رحمتہ اللہ علیہ نے ایک طویل نماز پڑھی انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص ان کی اس طویل نماز سے بہت تعجب میں ہے۔ جب آپؒ نماز سے فارغ ہوئے انہوں نے اس شخص سے کہا ’’میری اس لمبی نماز پر تعجب نہ کر۔ ابلیس نے برسوں عبادت کی تجھے معلوم ہے اس کا کیا انجام ہوا۔ ‘‘

حسب و نسب پر تکبر

حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ احیاء العلوم (جلد سوم) میں تحریر کرتے ہیں ’’ایک تکبر اعلیٰ حسب و نسب والے کا اپنے سے کم نسب والے کو حقیر اور کم تر تصور کرنا ہے خواہ وہ علم و عمل اور تقویٰ میں اس سے بڑھ کر ہی کیوں نہ ہو۔ نسب کا تکبر بعض لوگ اتنا زیادہ کرتے ہیں کہ جیسے دوسرے لوگ ان کے غلام ہیں ان سے میل جول رکھنے اور ان کے پاس بیٹھنے سے بھی نفرت کرتے ہیں۔ موقع بے موقع نسب کا یہ تفاخر ان کی زبان پر جاری رہتا ہے۔ دوسرے لوگوں کے بارے میں ان کا کہنا ہوتاہے کہ ان کی کیا اصل ہے؟ میں فلاں فلاں کا صاحبزادہ اور فلاں فلاں کا پوتا ہوں۔ تیرے جیسے کی کیا مجال کہ میرے سامنے بات بھی کر سکے یا میری طرف نگاہ بلند کر کے دیکھ سکے۔ نفس کے اندر نسب ایک ایسی چھپی ہوئی رگ (بیماری) ہے کہ اس سے اعلیٰ نسب والے خالی نہیں ہوتے خواہ وہ نیک بخت اور عقلمند ہی کیوں نہ ہوں۔ حالت ِ اعتدال میں تو اسے ظاہر نہیں کرتے مگر غصہ اور غضب کے غلبے کے وقت ان کا نورِ عقل تاریک ہو جاتا ہے اور ان سے بھی یہ بات ظاہر ہو جایا کرتی ہے۔‘‘ اس حدیث شریف میں بھی اس عمل کی مذمت کی گئی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے باپ دادا کے نام پر تکبر (فخر) کرنا چھوڑ دیں ورنہ ان کو خدا نجاست کے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل کر دے گا۔ (ابو داؤد۔ ترمذی)
اس کے علاوہ اور بھی تکبر کی مختلف اقسام ہیں جن کو طوالت کی وجہ سے بیان نہیں کیا جا رہا مثلاً علم پر تکبر، رتبہ اور مرتبہ پر تکبر، حکومت پر تکبر، مال و دولت اور اولاد پر تکبر، اقتدار پر تکبر، حسن و صحت پر تکبر۔

تکبر کی وجہ سے دعوتِ حق کو قبول نہ کرنا

دین ِحق اور صراطِ مستقیم کو بعض لوگ گروہ، فرقے، مسالک اور قومیں صرف دنیا کی کثرت، نفسانی خواہشات، انا اور تکبر کی بنا پرقبول نہیں کرتے اور دعوت دینے والوں کو جھٹلاتے ہیں۔ ان کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور جن لوگوں نے کفر کیا، کیا ان لوگوں کو ہماری آیات سنائی نہیں جاتی تھیں اس کے باوجود انہوں نے تکبر کیا اور تم مجرم قوم ہو۔‘‘ (جاثیہ 31)
’’پھر جب کوئی رسول تمہارے پاس حق لایا۔ جسے تمہارے نفس پسند نہ کرتے تھے تو تم نے تکبر کیا تو ایک گروہ نے انبیا کو جھٹلایا اور ایک گروہ قتل کر دیتا تھا۔‘‘ (البقرہ 87)
’’تمہارا معبود (اللہ) واحد ہے پس جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ تکبر میں مبتلا ہیں۔‘‘ (النحل 22)
’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے پورا اجر ہے بلکہ اللہ کے فضل سے کچھ زیادہ ہی ملے گا مگر جنہوں نے انکار کیا اور تکبر کیا ان کے لیے عذابِ الیم ہے۔‘‘ (نساء 173)
احادیث مبارکہ میں بھی تکبر کی بہت مذمت کی گئی ہے:
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ آدمی برابر اپنے نفس کی خواہش کے ساتھ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے متکبرین میں لکھ لیا جاتا ہے اور پھر ان کے انجام تک پہنچ جاتا ہے۔ (ترمذی)
حضرت عبداللہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا اور جس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان ہو گا وہ دوزخ میں نہ جائے گا ۔ (ابن ِ ماجہ)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہمد گھسیٹتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر ِ رحمت سے نہیں دیکھے گا۔ (بخاری)
حضرت ابن ِعمر رضی اللہ عنہٗ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جس شخص کے قلب میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا خدائے تعالیٰ اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈالے گا۔ (بیہقی)
 حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے کہ جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہے وہ دوزخ میں نہ جائے گا اور جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہے وہ جنت میں نہ جائے گا۔ (مسلم ابو داؤد)
 حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:-
’’شہوت سے کیا گیا گناہ معاف ہو سکتا ہے مگر تکبر کی وجہ سے کیے ٔ گئے گناہ کی معافی نہیں ہے آدم علیہ السلام کا گناہ شہوت کی وجہ سے اور ابلیس کا گناہ تکبر کی وجہ سے تھا۔‘‘ (اسرارِ قادری)
جان لے کہ شیطان کو سجدہ ِ آدمؑ سے لَا اَسْجُدْ لِغَیْرِ اللّٰہِ (اللہ کے سوااور کسی کو سجدہ جائز نہیں) کے علم نے باز رکھا ۔ یہی علم اُس کے لیے حجاب بنا اور وہ خدائے تعالیٰ کا نافرمان ہو بیٹھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: اَلْعِلْمُ حِجَابُ اللّٰہِ الْاَکْبَرِ ’’علم ہی اللہ اور بندے کے درمیان سب سے بڑا حجاب ہے۔‘‘حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اِس فرمان سے مراد وہ علم ہے جس سے وجود میں کبر پیدا ہوتا ہے کیونکہ کبر کے تین حروف ہیں ک ب ر۔ حرف ’’ک‘‘ سے کرامت چلی جاتی ہے۔ حرف ’’ب‘‘ سے برکت چلی جاتی ہے۔ اور حرف ’’ر‘‘ سے رحمت چلی جاتی ہے ۔(محک الفقر کلاں)
متکبر آدمی شیطان کا مونس و مصاحب ہے چنانچہ شیطان دنیا بھر میں علم کا بہت بڑا عالم فاضل مشہور ہے۔ یاد رکھ کہ علم کے بہت بڑے درجے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدے وعید، آیاتِ قصص الانبیا، حقیقت ِ معرفت ِ حق کی حصول یابی کے لیے ذکر ِ اسم ِاللہ ذات اور ترکِ دنیا و اہل ِ دنیا کے درجات ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: ’’اَلدُّنْیَا مَلْعُوْنٌ وَمَا فِیْھَا مَلْعُوْنٍ‘‘ (ترجمہ: دنیا ملعون ہے اور اِس میں ذکر اللہ کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ سب ملعون ہے)۔ پس معلوم ہوا کہ دنیا پر یقین کرنا اور اُس سے یاری لگانا باعث ِ ذلت و رسوائی ہے کہ یقین ِ دنیا سے دِل میں حرص پیدا ہوتا ہے اور حرص بارگاہِ مولیٰ میں مطلق معصیت ِ شیطانی و شرمندگی ٔ نفس ہے۔ عقبیٰ پر یقین عقبیٰ کی یاری بخشتا ہے کہ یقین ِ عقبیٰ سے طاعت و تقویٰ پیدا ہوتا ہے اورطاعت و تقویٰ سے خو شنودی ٔ حق تعالیٰ نصیب ہوتی ہے۔ معرفت ِ مولیٰ پر یقین اور اُس کی یاری سے ذوق شوق اشتیاق اور محبت ِ مولیٰ پیدا ہوتی ہے۔ جب کوئی عالم دنیا کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو اُس سے فائدہ ِ دین جاتا رہتا ہے کہ دنیا ایک مہلک زہر ہے، اِسے تھوڑا سا پیا جائے یا زیادہ اس سے دین مر جاتا ہے یا یہ کہ دنیا متاعِ شیطان ہے، ہر وہ دِل جو متاعِ شیطان سے متفق ہو جاتا ہے یا اُس کی محبت کا اسیر ہو جاتا ہے وہ مطلق شیطان کا گھر بن جاتا ہے۔ اُسے علم سے کوئی دینی فائدہ نہیں پہنچتا کہ اُس پر لذاتِ ہوائے نفس کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)
حضرت سخی سلطان باھوؒ اپنے پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

حافظ پڑھ پڑھ کرن تکبر، ملّاں کرن وڈیائی ھُو
ساون مانہہ دے بدلاں وانگوں، پھرن کتاباں چائی ھُو
جتھے ویکھن چنگا چوکھا، اُوتھے پڑھن کلام سوائی ھُو
دونیں جہانیں مٹھے باھوؒ، جنہاں کھادِی ویچ کمائی ھُو

حافظ اپنے حفظ ِ قرآن پر اور علماء ِظاہر اپنے علوم پر تکبر میں مبتلا ہیں اور یہ اپنے علم کو حصولِ دنیا کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جب کوئی اپنے مطلب کے مطابق دینی مسائل کا حل چاہتا ہے تو یہ لوگ مال و متاع کے بدلے میں دین کی حقیقت کو چھپا کر مختلف تاویلیں نکال کر لوگوں کو راہِ حق سے گمراہ کرتے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں جنہوں نے دنیا اور دولت کے بدلے میں اپنا علم و ایمان بیچ دیا وہ دونوں جہانوں میں رحمت ِ حق تعالیٰ سے محروم رہ گئے۔ 

پڑھ پڑھ عالم کرن تکبر، حافظ کرن وڈیائی ھُو
گلیاں دے وِچ پھرن نمانے، وَتن کتاباں چائی ھُو
جتھے ویکھن چنگا چوکھا، اُوتھے پڑھن کلام سوائی ھُو
دوہیں جہانیں سوئی مٹھے باھوؒ ،جنہاں کھادھی ویچ کمائی ھُو

آپؒ ان علما اور حفاظ کے رویہ پر حیرت کا اظہار فرما رہے ہیں جو حصولِ علم کے بعد تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اپنے علم اور فضیلت کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں اور اپنی فضیلت کا خود ہی اظہار کرتے رہتے ہیں لیکن اُن کے باطن اور ایمان کی یہ حالت ہے کہ مال و دولت کے لئے علم کی حقیقت کو فروخت کر دیتے ہیں اور اس کے لیے ہر لمحہ تیار رہتے ہیں پھر جب مال مل جائے تو طرح طرح کی تاویلیں گھڑ کر حق کو چھپا لیتے ہیں۔ حکمرانوں اور مال یا عہدہ دینے والے کی منشا کے مطابق علم کی شرح بیان کرتے ہیں۔ ایسے بے ضمیر عالم و تعلیم یافتہ لوگ اور علم کو فروخت کرنے والے علما دونوں جہانوں میں روسیاہ اور خوار ہوں گے۔
اپنی ایک فارسی مثنوی میں آپ ؒ فرماتے ہیں:

علمِ دیں راہ مفروش دامے دام گیر
طالب ِ دنیا کجا باشد فقیر
علم را قدرے نہ دارد زر طلب
علم عالم چیست دانی بہر رَبّ

ترجمہ: علم ِ دین کو درہم دنیا کے بدلے مت بیچ کہ یہ کام طالب ِ دنیا کا ہے طالب ِ دنیا بھلا کہاں فقیر ہو سکتا ہے؟ طالب ِ زر علم کی قدر نہیں جانتا۔ کیا تجھے معلوم ہے کہ عالم کسے کہتے ہیں؟ عالم وہ ہے جو طلب ِ مولیٰ کے لیے علم حاصل کر تا ہے۔(محک الفقر کلاں)
تکبر ایسی روحانی بیماری ہے کہ اگر یہ رائی کے دانہ کے برابر بھی قلب میں جاگزین ہو جائے تو کوئی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے تکبر سے محفوظ رکھے۔ لیکن اس سے ملتی جلتی ایک اور قلبی بیماری فخر اور غرور ہے۔

فخر و غرور

اسلام میں فخروغرور سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اسلام میں تمام انسان برابر ہیں کسی گورے کو کالے پر اور کسی عربی کو عجمی پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔ اس لیے اپنے حسب و نسب، اپنی قوم، اپنے قبیلہ، اپنی جماعت یا علم اور مال کی وجہ سے خود پر فخر کرنا درست نہیں اور اسے اللہ تعالیٰ نے سخت ناپسند کیا ہے۔ عموماً معاشرہ میں لوگ اپنے حسب و نسب کی وجہ سے فخر اور غرور کرتے ہیں۔ یہ چیز معاشرے میں اونچ نیچ پیدا کرتی ہے جس کی بنا پر لڑائی جھگڑا جنم لیتا ہے۔
اہل ِ فقر تو لوگوں میں اپنی ذات کو ظاہر کرنے کو بُرا سمجھتے ہیں چہ جائیکہ اس پر فخر اور غرور کیا جائے کیونکہ فخر سے تکبر و گھمنڈ کے راستے کھلتے ہیں۔ اس لیے اہل ِ فقر کے لیے اپنے نسب یا کسی بھی چیز پر فخر کرنا بے معنی ہے انہوں نے فقر کو ہی قرابت کی بنیاد قرار دیا ہے۔ طالب میں فخر کی بجائے جتنی عاجزی ہو گی اتنی جلدی فقر کی منازل آسان ہوں گی۔
فخر صرف ایک صورت میں جائز ہے وہ یہ ہے کہ دشمنانِ دین ِ حق پر اپنی برتری، شان و شوکت اور طاقت کا اظہار کرنا درست ہے کیونکہ اس طرح کا فخر صحابہ کرامؓ اور بزرگانِ سلف سے منقول ہے۔ لیکن اگر فخر نفسانیت کے تحت ہو تو تکبر کے قریب ہے اور مذموم ہے۔ عرفِ عام میں لوگ اسی مفہوم میں فخر اور غرور کا اظہار کرتے ہیں اس فخرو غرور کو اللہ تعالیٰ نے بالکل پسند نہیں کیا۔

قرآنِ مجید

’’اللہ تعالیٰ کسی مغرور اور فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔‘‘ (الحدید۔ 23)
’’بے شک اللہ تعالیٰ مغرور اور فخر کرنے وا لے سے محبت نہیں کرتا۔‘‘ (النسا ۔ 36)
’’اگر ہم انسان کو دی ہوئی نعمت واپس لے لیں تو وہ ناامید اور ناشکرا ہو جاتا ہے اور اگر تکلیف کے بعد اسے آسانی عطا کر دیں تو وہ کہتا ہے کہ مجھ سے سب سختیاں دور ہوگئیں۔ بیشک وہ خوشی میں فخر کرنے والا ہے۔‘‘ (ھود 10-9)

احادیث مبارکہ

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہٗ بیان فرماتے ہیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ دو چار باتیں میری امت میں زمانہ جاہلیت کی ہیں:
.1 حسب و نسب پر فخر کرنا۔
 .2دوسروں کے نسب پر طعن کرنا۔
.3 بارش کو تاروں کی طرف منسوب کرنا۔
.4 میت پر نوحہ کرنا۔ (احمد)
حضرت سخی سلطان با ھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
عُجب(خود پسندی) و غرور سے کی گئی عبادت بُری ہے اس سے بہ عذر گناہ بہتر ہے۔ (عین الفقر باب چہارم)
تکبر اور فخرو غرور ورثہ شیطان و فرعون و قارون ہے عاجزی ورثہ انبیا و اولیا ہے۔(عین الفقر )
سن! ابلیس نے کہا ’’ میں نے اطاعت کی‘‘
ندا آئی ! ’’میں نے لعنت کی‘‘
آدم علیہ السلام نے کہا! ’’میں نے خطا کی‘‘
ندا آئی! ’’میں نے بخش دی‘‘۔(عین الفقر)
آپؒ پنجابی بیت میں فرماتے ہیں:

پڑھیا علم تے وَدّھی مغروری، عقل بھی گیا تلوہاں ھُو
بھُلا راہ ہدایت والا، نفع نہ کیتا دُوہاں ھُو
سر دِتیاں جے سِرّ ہتھ آوے، سودا ہار نہ توہاں ھُو
وڑیں بازار محبت والے باھوؒ، کوئی راہبر لے کے سُوہاں ھُو

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ اس بیت میں ان علما کا ذکر فرما رہے ہیں جن میں علم حاصل کرنے کے بعد غرور، تکبر اور اکٹر پیدا ہو جاتی ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ ان کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ علم ِ ظاہر کے حصول کے بعد تُو غرور، تکبر اور خود پسندی میں مبتلا ہو گیا ہے جس سے تیری عقل نے بھی تیرا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ بجائے اس کے کہ علم حاصل کرنے سے تیری عقل میں اضافہ ہوتا اور تُو صراطِ مستقیم کو پہچان لیتا لیکن تُو تکبر اور انانیت کی وجہ سے ’’ہدایت کی راہ‘‘ (صراطِ مستقیم) سے گمراہ ہو چکا ہے۔ اگر سر دینے سے سِرّ الٰہی ہاتھ آ جائے تو اس سودے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے لیکن عشق کے بازار میں مرشد کامل کی راہبری میں ہی داخل ہونا چاہیے کیونکہ وہ اس راہ کا واقف ہوتا ہے اور راہبر کے بغیر منزل نہیں ملتی۔
یاد رکھیں کہ فخر و غرور سے ظلم جنم لیتا ہے اور اکڑ (تکبر) پیدا ہوتی ہے انسان دوسروں پر طرح طرح کی زیادتیاں اور ظلم کرنے لگتا ہے اور آخر کار راندہ درگاہ ہو جاتا ہے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ فارسی مثنوی میں فرماتے ہیں:

اے عالم ِ نادان تُو در علم غروری
نزدیک تو بہ معبود نہ بلکہ تُو دوری
کشاف و ہدایہ اگر امروز بخوانی
تا خدمت خاصاں نہ کنی ہیچ نہ دانی

ترجمہ: اے نادان عالم! توُ اپنے علم پر مغرور ہو رہا ہے حالانکہ تیرے علم نے تجھے قربِ معبود سے دور کر دیا ہے اگرچہ تو ہر روز ’’کشاف و ہدایہ‘‘ کا مطالعہ کر تا ہے لیکن جب تک تو خاصانِ خدا (اولیا کرام) کی خدمت میں نہیں پہنچے گا کچھ بھی نہیں جان سکے گا۔ (محک الفقر کلاں)

عجز ّ و انکساری

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام باعث ِ تخلیق ِکائنات اور کائنات کے مالک اور مختارِ کل ہیں اور لِیْ مَعَ اِ   (حدیث مبارک میں آیا ہے ’’ایک رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اُٹھ کر گھر سے نکلے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ تجسس کی خاطر ان کے تعاقب میں چلی گئیں، دیکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جنت البقیع میں جاکر بیٹھ گئے ہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ ؓ واپس پلٹنے لگیں تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کی آہٹ پاکر فرمایا: ’’کون ہے؟‘‘ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کی ’’مَیں عائشہؓ ہوں‘‘۔ فرمایا:’’کون عائشہ؟‘‘ عرض کی: ’’ابوبکر ؓ کی بیٹی‘‘ فرمایا: ’’کون ابو بکرؓ؟‘‘ عرض کی: ’’محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا غلام۔‘‘ فرمایا: ’’کون محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)؟‘‘ اس پر حضرت عائشہ صدیقہؓ خاموش ہو کر واپس آ گئیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی واپسی پر اس معاملہ پر بات ہوئی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: لِیْ مَعَ اللّٰہِ وَقْتٌ لَا یَسَعُ فِیْہِ مَلَکٌ مُّقَرَّبٌ وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ۔  ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ میرا ایک وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ جہاں کسی مقرب فرشتے یا کسی نبی ِ مُرسل کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔)کا مقام آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حاصل ہے۔ لیکن جب آپ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھا جاتا تو آپ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ’’میں اﷲ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں‘‘۔
عاجزی و انکساری راہِ حق میں پیش آنے والی مشکلات و خطرات میں قلعہ بندی کا کام دیتی ہے۔ ہر ولی نے عاجز اور حلیم بننے کی تعلیم دی ہے بلکہ خود کو حقیر، ہیچ اور کم سے کم تر بنا کر پیش کیا ہے۔
شیخ ِ اکبر محی الدین ابن ِ عربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’اہل ِ اللہ عجز سے معرفت حاصل کرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ پاک ہے جس نے اپنی معرفت کا راستہ سوائے عجز کے اور کوئی نہیں ٹھہرایا۔‘‘ (فتوحاتِ مکیہ ۔جلد دوم باب ہفتم)
مولانا رومؒ فرماتے ہیں:’’اس راہ میں نیچے جھکنا ترقی کرنا ہے۔‘‘ (مثنوی)
آپؒ ایک اور جگہ فرماتے ہیں:’’خود کو برا کہہ۔ دوسرے کو ڈنک مت مار۔‘‘ (مثنوی)
سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے اپنی طرف عاجزی و انکساری کے ذریعہ راستہ کھولا۔
عاجزی و انکساری راہِ فقر میں آنے والی مشکلات اور آزمائشوں میں قلعہ بندی کا کام دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی سے آنے والا کبھی خالی واپس نہیں جاتا۔
 دیدارِ الٰہی، فنافی اللہ اور بقا باللہ کے مراتب عاجزی و انکساری سے حاصل ہوتے ہیں۔
 اللہ کی بارگاہ میں جو جتنا عجز اختیار کرتا ہے وہ اتنا ہی محبوب ہوتا ہے۔
 عاجزی و انکساری راہِ فقر میں بہت بڑا ہتھیار ہے جو طالب کو شیطانی و نفسانی حملوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
 عاجزی و انکساری اسم ِاللہ ذات کے تصور سے حاصل ہوتی ہے ظاہری عبادات سے نفس موٹا ہو کر تکبر، انانیت اور ریا کاری اختیار کرتا ہے۔
’’فقرا کاملین کی زبان مبارک ’’کن‘‘ کی زبان ہوتی ہے اور یہ زبان لوحِ محفوظ پر تحریر شدہ ازلی نوشتہ تقدیر کو بھی بدل سکتی ہے۔ عملی زندگی میں یہ لوگ کس قدر حلیم ہوتے ہیں کہ خود کو دنیا کے عام انسان کی سطح سے بھی نیچے لے آتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم لوگ بھی اس ترغیب سے حلیم بن جائیں اور عاجزی اور انکساری اپنی طبیعت کا خاصہ بنا لیں۔
حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ہر کہ آمد در انا در نار شد
خاکی آدمؑ لائق دیدار شد

ترجمہ: جو (شیطان) خود پرستی ،انا اور تکبر میں گرفتار ہوا وہ نارِ جہنم کا شکار ہو گیا لیکن آدمِ خاکی (جو انا سے محفوظ رہا اور گناہ کرنے کے بعد عاجزی سے معافی کے لئے اﷲ تعالیٰ کے سامنے جھک گیا) سزاوارِ دیدار ہو گیا۔
حضرت سخی سلطان باھوؒ اپنے مرتبے کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
 میں ایک صاحب ِوصال غرق فنا فی اﷲ عارف ہوں میں نے یہ لازوال مرتبہ اپنی ہستی کو مٹا کر حاصل کیا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
 جب میرا وجود نام و ناموس کے احساس سے پاک ہو گیا تو اسمِ اللہ ذات نے لے جا کر مجھے وحدتِ الٰہی میں غرق کر دیا۔ (کلید التوحید کلاں)
 سلطان العارفینؒ فرماتے ہیں ’’وصالِ الٰہی‘‘ عاجزی و انکساری سے حاصل ہوتا ہے۔ الٰہی! تیرا راز ہر صاحب ِراز (مرشد ِ کامل) کے سینے میں جلوہ گر ہے، تیری رحمت کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہے جو تیری بارگاہ میں ’’عاجزی‘‘ سے آتا ہے وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ اے طالب! خود پرستی چھوڑ کر (عاجزی و انکساری اختیار کر) غرقِ نور ہو جا تاکہ تجھے ایسی حضوری نصیب ہو کہ وصل کی حاجت ہی نہ رہے۔ (کلید التوحید کلاں)
آپؒ پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

سو ہزار تنہاں توں صدقے، جیہڑے منہ نہ بولن پھِکّا ھُو
لکھ ہزار تنہاں توں صدقے، جیہڑے گل کریندے ہِکّا ھُو
لکھ کروڑ تنہاں توں صدقے، جیہڑے نفس رکھیندے جھِکّا ھُو
نیل پدم تنہاں توں صدقے باھوؒ ،جیہڑے ہوون سونا سڈاون سِکّا ھُو

آپؒ فرماتے ہیں میں ہزار بار اِن طالبوں کے صدقے جاؤں جو راہِ فقر میں پیش آنے والی مشکلات و مصائب پر صبر اور شکر کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہیں اور کوئی گلہ نہیں کرتے اور میں لاکھوں بار ان کے قربان جائوں جو وعدے کے پکے ہیں اور جو بات ایک بار کہہ دیتے ہیں اس پر ثابت قدم رہتے ہیں اور کروڑوں بار ان لوگوں پر واری اور صدقے جاؤں جو اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہیں اور اربوں بار اُن کے قربان جاؤں جو سونے کی طرح ہوتے ہیں اور ہر وقت دیدارِ حق تعالیٰ میں غرق رہتے ہیں لیکن عاجزی و انکساری کی وجہ سے عوام میں سکہ یعنی معمولی آدمی کی طرح رہتے ہیں اور اپنی بڑائی ظاہر نہیں کرتے۔ 

عشق جنہاندے ہڈیں رَچیا، اوہ رہندے چپ چپاتے ھُو
لوں لوں دے وِچ لکھ زباناں، اوہ کر دے گنگی باتے ھُو
اوہ کر دے وضو اسم ِ اعظم دا، تے دریا وحدت وِچ ناتے ھُو
تداں قبول نمازاں باھوؒ، جداں یاراں یار پچھاتے ھُو

عشق جن کے پورے وجود میں سرایت کر چکا ہو ان کا تمام وجود عشق بن جاتا ہے اور وہ رازِ حقیقی سے واقف ہونے کے باوجود خاموش رہتے ہیں حالانکہ ان کے لوں لوں میں لاکھوں زبانیں ہیں لیکن اس کے باوجود وہ گونگے بن کر رہتے ہیں۔ بات کرنی پڑے تو رک رک کر عاجزی سے بات کرتے ہیں۔ وہ ایسے عاشق ہیں جو اسم ِ اعظم سے وضو کرتے ہیں اور دریائے وحدت میں غوطہ زن رہتے ہیں۔ نمازیں تو اُسی وقت قبول ہوتی ہیں جب اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل ہوتی ہے۔

میں کوجھی میرا دِلبر سوہنا، میں کیونکر اُس نوں بھانواں ھُو
ویہڑے اساڈے وَڑدا ناہیں، پئی لکھ وسیلے پانواں ھُو
نہ میں سوہنی نہ دَولت پلّے، میں کیونکر یار منانواں ھُو
ایہہ دُکھ ہمیشاں رَہسی باھوؒ، روندی نہ مر جانواں ھُو

اعمال کے لحاظ سے میں سیاہ کار اور گناہ گار ہوں اور میرے پاس ایمان، اعمال، اخلاص اور عشق کی دولت بھی نہیں ہے بلکہ میرے دِل میں تو خواہشاتِ نفس اور دنیا کا بسیرا ہے۔ میرا مرشد جو کہ کامل، اکمل، اعلیٰ، ارفع اور حُسین ہے میں اسے کیسے پسند آؤں۔ میں لاکھوں وسیلے دیتا ہوں لیکن وہ دل کے آنگن میں آتا ہی نہیں ہے۔ نہ تو میں خوبصورت ہوں اور نہ ہی میرے پاس دولت ہے پھر میں اپنے محبوب کو کیسے مناؤں۔ اپنے محبوب کو راضی نہ کر سکنے کا دکھ ہمیشہ رہے گا اور اسی غم میں روتے روتے کہیں میں مر نہ جاؤں۔

وحدت دے دریا اُچھلے، جَل تھَل جنگل رَینے ھُو
عشق دی ذات منیندے ناہن، سانگاں جھل تپینے ھُو
رنگ بھبھوت ملیندے ڈِٹھے، سَے جوان لکھینے ھُو
میں قربان تنہاں توں باھوؒ، جیہڑے ہوندیاں ہمت ہینے ھُو

اے طالب! دریائے وحدت تو جوش میں آ کر اپنے کناروں سے اُچھل پڑا ہے اور جس دل کے اندر حق تعالیٰ کی ذرا سی بھی محبت موجود تھی وہ دل اس کی رحمت اور فیض سے سیراب ہو گئے ہیں لیکن کچھ ایسے ازلی بدنصیب ہیں جو عشق ِ ذات کے منکر ہیں اور وہ دریائے وحدت کے اس فیضان سے محروم رہ گئے ہیں اور اپنی بدبختی اور بدنصیبی کے زخم اور تھپیڑے اس جہان میں کھا رہے اور آخرت میں بھی اسی حال میں ہوں گے۔ اس کے برعکس سینکڑوں خوش نصیب ایسے ہیں جنہیں عشق ِ ذات حاصل ہو گیا ہے اور وہ دنیا کے آرام و آسائش اور مال و متاع کو قربان کر کے دریائے وحدت میں شامل ہو گئے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں ان عاشقانِ صادق کے قربان جاؤں جو اعلیٰ ہمت ہیں اور اللہ پاک کی بارگاہ میں مقام و مرتبہ پانے کے باوجود عاجزی و انکساری ان کی طبیعت کا خاصہ ہے۔
عاجزی و انکساری راہِ فقر میں بہت بڑا ہتھیار ہے جو طالب کو شیطانی حملوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ 

(یہ مضمون سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی تصنیف ِ مبارکہ ’’شمس الفقرا‘‘ سے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے)

تکّبر،فخرو غرور اور عجز و انکساری | Takkabur, Fakhar o Gharoor or Ijz O Inkisari” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں