تاریخ ِخانہ کعبہ |Tareekh-e-Khana Kabah

تاریخ ِخانہ کعبہ

تحریر: نور ین عبدالغفور سروری قادری۔ سیالکوٹ

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ’’اللہ تعالی نے حرمت والے گھر کعبہ کو لوگوں کے قیام کا ذریعہ بنایا ہے۔‘‘ (سورۃ المائدہ۔97)
کعبہ مسجد حرام کے وسط میں واقع ایک عمارت ہے جو اللہ تعالیٰ کا قابل ِاحترام گھر ہے۔ خانہ کعبہ مسلمانوں کاقبلہ ہے جس کی طرف رُخ کرکے عبادت کی جاتی ہے۔ یہ مسلمانوں کا مقدس ترین مقام ہے جس کی زندگی میں ایک مرتبہ زیارت ہر صاحب ِ حیثیت مسلمان پر فرض ہے۔ اس کے بلند اور نمایاں ہونے کی وجہ سے اسے کعبہ کہا جاتا ہے۔ اسے ’’بیت عتیق‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے کافر بادشاہوں سے آزاد رکھا ہے۔
سیّدنا عبداللہ بن زبیرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
’’کعبہ کو بیت عتیق اس لیے کہا گیا ہے کہ کوئی کافر بادشاہ اس پر قابض نہیں ہوا۔‘‘ (کتاب ’’تاریخ مکہ مکرمہ‘‘ مصنف مولانا صفی الرحمن مبارکپوری)
حضرت علامہ ابو صالح مفتی محمد فیض احمد اویسی رضوی اپنی تصنیف ’’تاریخ تعمیر ِ کعبہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
 کعبہ اس کمرے کا نام نہیں جس پر سیاہ غلاف ہے بلکہ وہ ایک حقیقت تجلّی وحق مخفی ہے جس کا یہ ظاہری کعبہ مظہر ہے اور تجلّی ِ حق کا اظہار نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یوں ہیں کہ تخلیق ِارض و سماوات سے پہلے پانی ہی پانی تھا جس پر عرشِ الٰہی تھا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل ؑ کو حکم فرمایا کہ زمین بچھاؤ لیکن اس کا آغاز نورانی جھاگ کے بلبلہ سے کرو جو اس وقت پانی کے اوپر نمایاں طور پر چمک رہا تھا۔ وہ نورانی بلبلہ حضور اکرم نورِ مجسم آقا نامدار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بشری خمیر تھا۔ وہ اسی مقام پر تھا جہاں خانہ کعبہ ہے۔
کعبہ معظّمہ کی عظمت بواسطہِ مصطفیؐ ہے اسی لیے ہم کہتے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کعبہ کے بھی کعبہ ہیں۔
خانہ کعبہ کے دیگر نام:
خانہ کعبہ کے کئی نام ہیں جن میں سے چند اسما درج ذیل ہیں:
کعبہ
بیت عتیق
بیت اللہ شریف
مسجد حرام

تعمیر خانہ کعبہ

فرشتوں کی تعمیر:
سب سے پہلے بیت اللہ شریف کی تعمیر کی سعادت فرشتوں نے حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم فرمایا کہ بیت المعمور کی مانند زمین پر میرا گھر بناؤ چنانچہ فرشتوں نے حکم ِالٰہی کی تعمیل کی اور جب یہ مقدس گھر تیار ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی زمین پر رہنے والی مخلوق کو حکم دیا کہ میرے گھر کا طواف کرو جیسا کہ آسمانی مخلوق فرشتے بیت المعمور کا طواف کرتے ہیں۔

حضرت آدمؑ کی تعمیر:
فرشتوں کی تعمیر کے بعد حضرت آدمؑ نے بیت اللہ شریف کو تعمیر کیا۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں :
’’جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو جنت سے نکالا اور زمین پر بھیج دیا تو ان کا سر آسمان سے لگتا تھا اور ان کے پاؤں زمین پر تھے اور ان کو فرشتوں کی عبادت کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت آدم ؑخوفِ خدا کی وجہ سے کشتی کی طرح لرزتے اور کانپتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اْن کا قد کم کر کے ساٹھ ہاتھ کر دیا۔ حضرت آدمؑ نے بارگاہِ ایزدی میں فریاد کی کہ الٰہی! مجھے فرشتوں کی آواز سنائی کیوں نہیں دیتی؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اے آدمؑ! تو اپنی غلطی کی بدولت ان کی آواز سننے سے محروم ہوا ہے۔ پھر حکم دیا ’’زمین پر میرا ایک گھر تیار کرو اور اس کے گرد طواف کرو اور مجھے یاد کرو جس طرح فرشتوں کو میرے عرش کے اردگرد طواف کرتے ہوئے آپ نے دیکھا ہے۔‘‘ یہ حکم سن کر حضرت آدم علیہ السلام نے اس کی تعمیر کی طرف توجہ مبذول کی۔ آپؑ مکہ معظمہ پہنچے اور بیت اللہ شریف کو تعمیر کیا۔ جب حضرت آدمؑ نے خانہ کعبہ کا طواف کیا تو اس وقت سے بیت اللہ شریف کا طواف مسنون قرار پایا۔
مجاہدسے روایت ہے کہ حضرت نوحؑ کے زمانہ میں طوفان کی آمد سے کعبہ شریف منہدم ہو کر پوشیدہ ہو گیا مگر حجر ِاسود کو حضرت جبرائیل ؑ نے جبل ابو قیس (قریب کعبہ شریف) میں بحفاظت رکھ دیا۔ طوفان ختم ہونے کے بعد خانہ کعبہ کے مقام پر سرخ رنگ کا ٹیلہ نمودار ہو گیا جس کے اوپر سیلاب کا پانی نہیں چڑھا تھا۔ البتہ لوگوں کو علم تھا کہ یہ بیت اللہ کی جگہ ہے لیکن اس کی بنیادیں غائب تھیں۔ جو آدمی وہاں آکر دعا کرتا اس کی دعا مستجاب ہوتی تھی اور حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ تک یونہی رہا۔ ( کتاب ’’تاریخ بیت اللہ شریف‘‘ مولانا سیف الرحمان الفلاح)

تعمیر ِ کعبہ بدست ِ ابراہیم واسماعیل علیہم السلام:
جب حضرت ابراہیم ؑ کی عمر نوے برس ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک فرزند ارجمند سے نوازا جس کانام اسماعیل ؑرکھا گیا۔ یہ وہی فرزند ہیں جنہوں نے بڑے ہو کر اپنے والد حضرت ابراہیم ؑکے ساتھ مل کر بیت اللہ شریف کی تعمیر کی۔ حضرت ابراہیم ؑ اس کی تعمیر سے پہلے حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت ہاجرہؑ کو حکم ِ الٰہی کے مطابق بیت اللہ شریف چھوڑ آئے جو اس وقت ایک ٹیلہ کی شکل میں نظر آتا تھا۔جب حضرت ابراہیم ؑ کو بیت اللہ شریف کی تعمیر کا حکم ہوا تو آپؑ مکہ مکرمہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کے پاس پہنچے اور انہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کا گھر تیار کرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپؑ کو جو حکم ملا ہے اس کی تعمیل کیجئے۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم ؑ نے بتایا کہ تجھے بھی حکم ہوا ہے کہ میری مدد کرکیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اور ہم نے ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کو تاکید فرمائی کہ دونوں مل کر میرے گھرکو طواف، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک و صاف رکھو۔‘‘ (البقرہ۔125)
دونوں باپ بیٹا اس مقام پر چلے گئے جہاں حضرت ہاجرہؑ نے حضرت جبرائیل ؑ کے بتلانے پر جھونپڑی بنائی ہوئی تھی۔ دونوں کو بیت اللہ کی بنیادوں کی خبر نہ تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی ہوا بھیجی جسے ’’ریح النحجوج‘‘ کہتے تھے۔ اس نے بیت اللہ کی جگہ جھاڑو دیا جس سے بیت اللہ کی بنیادیں نظر آنے لگیں اور دونوں باپ بیٹا بنیادیں کھودنے میں مصروف ہو گئے اور پھر انہوں نے پہلی بنیاد پر ہی کعبہ کی بنیاد رکھی جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ:
’’اور (اس وقت کو یاد کرو) جب ابراہیم ؑاور اسماعیل ؑ خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔‘‘ (البقرہ۔127)
حضرت ابراہیم ؑ واسماعیل ؑ نے مل کر بیت اللہ کی دیواروں کو بلند کیا۔ حضرت ابراہیم ؑ تعمیر کا کام کرتے اور حضرت اسماعیل ؑ پتھر لا کر انہیں دیتے اور دونوں کی زبان پر یہ دعا تھی:
’’اے ہمارے پروردگار! (یہ کام) ہماری طرف سے قبول فرما۔ یقینا تو خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ (البقرہ۔127)
جب دیواریں بلند ہونیکی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ زمین پر کھڑے ہو کر تعمیر کرنے سے قاصر ہو گئے تو ایک پتھر نیچے رکھ کر تعمیر کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم ؑ کا کام انتہائی پسند آیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے پاؤں کے نشانات پتھر پر قائم کر دیئے تاکہ یہ ان کی مومن نسل اور دوسروں کے لیے یادگار بنے رہیں۔ اسی پتھر کو مقامِ ابراہیم کے نام سے پکارا جاتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’ابراہیم ؑ کے کھڑے ہونے کی جگہ کو مقامِ نماز بنا لو۔‘‘ (البقرہ۔ 125)
حضرت ابراہیم ؑو اسماعیل ؑ نے بیت اللہ شریف کی تعمیر پانچ پہاڑوں کے پتھروں سے کی تھی۔
1. طورِ سینا
2. طورِ زیتاء
3. جبل لبنان
4. جبل جودی
5. جبل ِ حرا
آپؑ نے جو بیت اللہ شریف تعمیر کیا اس کی آسمان کی جانب بلندی 9 ہاتھ اورعرض زمین 32 ہاتھ تھا۔ اب یہ رکن شامی سے رکن غربی تک‘ جہاں حجر اسود واقع ہے‘ 22 ہاتھ ہے۔ اس کاطول رکن غربی سے رکن یمانی تک 31 ہاتھ ہے۔ رکن اسود سے رکن یمانی تک 20 ہاتھ ہے۔ مکعب شکل ہونے کے باعث بیت اللہ شریف کو کعبہ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ حضرت آدمؑ کی بنیادوں کو حضرت ابراہیم ؑ نے مضبوط کیا اور ایک دروازہ بنا دیا جو زمین سے متصل تھا۔ اس دروازہ کے کواڑ نہیں تھے۔ بعد میں بادشاہ تبع اسعد الحمیری نے دروازہ بنوا کر کواڑ لگوائے اور ایرانی طرز کے کنڈے لگوا کر غلاف چڑھایا اور قربانی کی۔
تعمیر کے دوران جب حضرت ابراہیم ؑ حجر اسود کے مقام پر پہنچے تو آپ ؑ نے حضرت اسماعیل ؑ سے فرمایا کہ جاؤ ایک پتھر تلاش کر کے لاؤ جسے یہاں لگانا ہے تاکہ لوگوں کے لیے طواف شروع کرنے کا نشان بن جائے۔ لیکن آپؑ تلاش کے باوجود ایسا پتھر تلاش نہ کر سکے۔ جب واپس آئے تو دیکھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس ایسا پتھر ہے جس کی روشنی چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ پوچھا ابا جان یہ پتھر کہاں سے آیا؟ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا ’’اسے وہ لایا ہے جس نے مجھے تجھ پر بھروسہ کرنے سے بے نیاز کر دیا‘‘ یعنی جبرائیل ؑ لائے ہیں۔ حجر اسود اس قدر سفید تھا کہ اسکی روشنی مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے سیاہ ہو جانے کی وجہ یہ ہوئی کہ دورِ جاہلیت اور دورِ اسلام میں یہ کئی دفعہ آگ کی لپیٹ میں آیا۔ (کتاب ’’تاریخ بیت اللہ شریف‘‘ مولانا سیف الرحمان الفلاح)

قریشی تعمیر:
قریش ِ مکہ نے کعبہ کی تعمیر اس لیے کی تھی کہ ایک عورت نے کعبہ کو دھونی دی تو ایک شرارہ غلافِ کعبہ پر گر گیا اور آگ لگ گئی۔ ہر سمت سے دیواریں پھٹ کر کمزور ہو گئیں، قریش کی تعمیر سے قبل کعبہ کی تعمیرمیں مٹی یا چونا لگایا گیا تھا۔ باہر کی جانب دیواروں کے اوپر پردے ڈالے جاتے تھے اور اندرونی جانب سے پردے باندھے جاتے تھے۔ قریش نے کعبہ کی تعمیر گارے سے کی تھی۔جس نے یہ عمارت گارے سے بنائی اس کا نام باقوم رومی تھا۔ (تاریخ خانہ کعبہ:محمد طاہر الکردی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا حجر اسود نصب فرمانا:
کعبہ کی تعمیرمیں تمام قریشی قبائل نے اپنے اپنے طور پر الگ الگ پتھر جمع کئے پھر کعبہ کی تعمیر شروع کی۔ جب عمارت حجر اسود تک اونچی ہو گئی تو ان میں حجراسود کو نصب کرنے کا جھگڑا شروع ہو گیا۔ چار پانچ دن اسی جھگڑے میں گزر گئے۔ اس وقت قریش میں سب سے بزرگ شخص مغیرہ بن عبداللہ بن عمربن مخزوم تھے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس شخص کو فیصل مان لو جوکل صبح سب سے پہلے مسجد میں داخل ہو۔ سب اس بات پر راضی ہو گئے، اگلے دن سب سے پہلے مسجد میں داخل ہونے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تھے۔ سب کہنے لگے: ’’یہ امانت دار شخص ہے ہم اس کے فیصلے پر راضی ہیں‘‘۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تمام صورتحال دیکھی تو فرمایا ’’میرے پاس ایک کپڑا لاؤ۔ جب کپڑا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے دست ِ مبارک سے حجر ِ اسود اس میں رکھا اور فرمایا:
’’ہر قبیلہ اس کپڑے کا کوئی نہ کوئی کنارہ پکڑ لے پھر سب مل کر اٹھاؤ۔‘‘ جب سب اصل جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے دست ِ مبارک سے حجر ِ اسود کو اس کی جگہ پر نصب فرمایا۔ (کتاب ’’تاریخ مکہ مکرمہ‘‘ مولانا صفی الرحمن مبارکپوری)

عبد اللہ بن زبیرؓ کی تعمیر:
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے نواسے اور حضرت اسماء ؓکے صاحبزادے ہیں۔ واقعہ کربلا کے بعد اہل ِحجاز نے انہیں اپنا خلیفہ تسلیم کر لیا۔ یزید ملعون نے انہیں مطیع کرنے کے لیے حصین بن نمیر کی سپہ سالاری میں ایک بھاری لشکرمکہ مکرمہ کی طرف روانہ کیااور جنگ وجدال کا سلسلہ شروع کر کے سنگ دلی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے کوہ ابوقیس پر منجنیق نصب کر کے اس گھر (بیت اللہ) پر گندھک، رال اور دیگر آتش گیر مادے پھینکنے شروع کئے۔ چنانچہ آتش بازی کی وجہ سے بیت اللہ شریف کا غلاف اور رکن ِ یمانی نذرِ آتش ہو گیا۔ حصین بن نمیر نے 10 ربیع الاوّل 64ھ تک مکہ کا محاصرہ جاری رکھا۔ 10 ربیع الاوّل کو یزید کی مرگ کی خبر سن کر محاصرہ اٹھا لیا گیا اور وہ ناکام واپس لوٹ گیا۔ (کتاب ’’تاریخ بیت اللہ شریف‘‘ مولانا سیف الرحمان الفلاح)
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے تین دن استخارہ کرنے کے بعد کعبہ کو بالکل زمین کے برابر کر دیا اور حضرت ابراہیم ؑ کی بنیاد کو بھی کھدوایا اور نئی تعمیر انہی بنیادوں پر کروائی۔ آپؓ نے کعبہ کی تعمیر چونے سے کروائی جو یمن سے منگوایا گیا تھا۔ جب آپ ؓتعمیر سے فارغ ہو گئے تو آپؓ نے اس کے اندر مشک بھروایا اور دیواروں کو باہر کی جانب سے مشک سے لپوایا اور کتان مصری کا غلاف چڑھوایا۔ اس دن بہت سے غلام آزاد کئے گئے۔ بہت سے اونٹ اور بکریاں ذبح کی گئیں۔ حضرت ابن زبیرؓ اور بہت سے قریش ننگے پاؤں مسجد عائشہ پہنچے اور عمرہ کا احرام باندھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ابراہیمی تعمیر پر تعمیر کی سعادت بخشی۔ (تاریخ خانہ کعبہ:محمد طاہر الکردی)

حجاج کی تعمیر:
عبد الملک بن مروان اموی خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ نشہ اقتدار کی وجہ سے اس کی طبیعت میں ہوس ملک گیری اس قدر پیدا ہو گئی کہ اسے اپنے ملک پر صبر نہ آیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی خلافت کو للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھنے لگا اور 72ھ میں حجاج بن یوسف ثقفی کو حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو مطیع کرنے کے لیے روانہ کر دیا۔ حجاج نے مکہ پہنچ کر محاصرہ کر لیا اور بیت اللہ شریف پر گولہ باری شروع کر دی اور بیت اللہ شریف کی دیواریں خستہ حال کر دیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی اس سال خانہ خدا کی زیارت اور حج بیت اللہ کے ارادے سے مکہ معظمہ تشریف لائے۔مکہ کی صورتحال دیکھ کر انہوں نے حجاج کو پیغام بھیجا:
’’بندۂ خدا! تو دور دراز سے آنے والے لوگوں کا خیال کر۔ انہیں طوافِ بیت اللہ شریف اور صفا و مروہ کی سعی کا موقع دے۔‘‘
حجاج ان کی بات سے بہت متاثر ہوا اور گولہ باری بند کر دی۔ حج کی ادائیگی کے بعد حجاج نے تعمیر کعبہ کی غرض سے مکہ مکرمہ کو خالی کروا دیا اور تعمیر کا کام شروع کروایا۔ خانہ کعبہ کی ہر چیز ابن ِ زبیر ؓ کی بنوائی ہوئی ہے سوائے اس دیوار کے جو حجر میں ہے، وہ حجاج کی بنوائی ہوئی ہے، اسی طرح مشرقی دروازے کی چوکھٹ اور اندرونی سیڑھی جو سقف کعبہ تک جاتی ہے اور جو دو دروازے اس پر ہیں وہ بھی حجاج کے بنوائے ہوئے ہیں۔ (تاریخ ’’بیت اللہ شریف‘‘ مولانا سیف الرحمان الفلاح کتاب :تاریخ خانہ کعبہ:محمد طاہر الکردی)
جب ولید بن عبد الملک کا دور آیا تو اس نے مکہ مکرمہ کے گورنر خالد بن عبداللہ قسری کو چھتیس ہزار دینار بھیجے۔ اس نے کعبہ کے دروازے، پرنالے اور اندرونی ستونوں پر سونے کے پترے چڑھا دئیے۔ ولید بن عبد الملک وہ پہلا خلیفہ ہے جس نے بیت اللہ میں سونے کا کام کروایا۔

سلطان مراد رابع کی تعمیر:
سلطان مراد رابع ابن سلطان احمد،سلاطین آلِ عثمان سے تھا۔ کعبہ میں سیلاب کے باعث کعبہ کی شامی اور غربی دیوار اور چھت کا کچھ حصہ گر گیا۔ سلطان مراد نے تعمیر کعبہ کا حکم دیا اور اس کی تعمیر 1040ء میں مکمل ہوئی، جس طرح حجاج نے بنوائی تھی اسی طرز پر سلطان مراد نے بنوائی۔سلطان مراد کی تعمیر موجودہ دور تک باقی ہے۔

ہارون الرشید کا زمانہ:
ہارون الرشید نے اپنے زمانے میں حضرت امام مالکؒ سے فتویٰ دریافت کیا کہ میں خانہ کعبہ کو کُلی طور پر منہدم کر کے ازسر ِ نو حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی بنیادوں پر تعمیر کر سکتا ہوں؟ آپؒ نے فرمایا ’’نہیں، ایسا کرنے کی اجازت نہیں۔ اسے بادشاہوں کا کھلونا نہ بناؤ۔ جب چاہا مسمار کر دیا اور جب چاہا تعمیر کر لیا۔ اب قریب قیامت تک یونہی محفوظ رہے گا۔‘‘ (کتاب ’’تاریخ بیت اللہ شریف‘‘ مولانا سیف الرحمان الفلاح )
یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد ایک شقی القلب حبشی اس کی دیواروں پر حملہ آور ہو گا۔
رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ ایک پتلی پنڈلیوں والا حبشی خانہ کعبہ کو مسمار کرے گا۔ (تاریخ خانہ کعبہ:محمد طاہر الکردی)
سلطان مراد کی وفات کے بعد سلسلہ تعمیر وتوسیع اور زائرین کے آرام وآسائش کے اقدامات تیزی سے ہوئے جو تاحال سعودی حکومت آگے بڑھا رہی ہے۔ چند سال قبل خانہ کعبہ کا سونے کا دروازہ بنوانا سعودی عرب گورنمنٹ کے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی۔ خانہ کعبہ کا سونے کا دروازہ پاکستانی کاریگروں کی زیر ِ نگرانی تیار ہوا۔ سلطان مراد کی تعمیر آخری تعمیر ہے جو اس وقت تک اہل ِ ایمان کی دیدۂ دل کو منور کر رہی ہے۔ (تاریخ تعمیر کعبہ: حضرت علامہ ابو الصالح مفتی محمد فیض احمد اویسی رضوی)

غلافِ کعبہ

امام محمد بن اسحاق نے فرمایا:
مجھے بہت سے اہل ِ علم سے یہ بات پہنچی ہے کہ سب سے پہلے جس نے کعبہ کو غلاف چڑھایا تھا وہ ’’ تبع اسعد الحمیری ‘‘تھے۔ دورِ جاہلیت میں قریش میں باہمی تعاون سے غلاف تیار کرتے تھے۔ہر قبیلے پر اس کی مالی حیثیت کے مطابق رقم مقرر کردی جاتی۔ ابو ربیعہ بن مغیرہ کے دورمیں اس نے اعلان کیا کہ ایک سال میں اکیلا غلاف چڑھایا کروں گا اور ایک سال سب قریش مل کر۔سب سے پہلی عربی عورت جس نے کعبہ پر ریشم کا غلاف چڑھایا وہ سیّدنا عباسؓ کی والدہ محترمہ ’’نُتَیلَہ بنت جناب‘‘ تھیں۔ دورِ اسلام میں سیّدنا ابو بکر وعمرو عثمان رضی اللہ عنہم نے قباطی (خاص قسم کا کپڑا جو مصر میں تیار کیا جاتا ہے) کپڑے کے غلاف چڑھائے۔ حضرت امیر معاویہؓ بن ابی سفیان سال میں دو بار غلاف چڑھاتے۔ ناصر عباسی کے دور میں پہلی بار کعبہ کو سیاہ رنگ کا غلاف پہنایا گیا اور اس وقت سے آج تک سیاہ رنگ کا ہی غلاف پہنایا جاتا ہے۔ 810ھ میں کعبہ کے دروازہ کے لیے الگ منقش پردہ تیار کیا گیا جسے غلاف کا برقع کہا جاتا ہے۔ملک عبدالعزیز بن عبدالرحمن آلِ سعود نے حرمین شریفین کی خدمات کی طرف بہت توجہ دی اور غلافِ کعبہ کی تیاری کے لیے مکہ مکرمہ کے مقام پر ’’اُمّ الجود‘‘ کارخانے کا افتتاح کیا تاکہ غلافِ کعبہ انتہائی دلکش صورت میں تیار ہوتا رہے۔ (تاریخ مکہ مکرمہ :مولانا صفی الرحمن مبارکپوری)

کعبہ کی حقیقت

ارشادِ نبویؐ ہے کہ:
قَلْبُ الْاِنْسَانِ بَیْتُ الرَّحْمٰنِ
ترجمہ: انسان کا قلب اللہ کا گھر ہے۔
بلکہ فرمانِ مصطفیؐ ہے کہ
قَلْبُ الْمُؤْمِنْ عَرْشُ اللّٰہِ تَعَالٰی
 مومن کا قلب عرشِ الٰہی ہے۔
مومن کا قلب دراصل خانہ کعبہ ہے جس کا اصل مسکن خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ جب دل ہر طرح کی خواہشات سے آزاد ہو جائے تو یہ کعبہ بن جاتا ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃو السلام نے حضرت عمرؓ سے فرمایا:
اے عمرؓ! یقین جانو کہ خانہ کعبہ انسان کا دل ہے۔ پس کعبہ دل کا حج کرنا چاہئے۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! کعبہ دل کا حج کس طرح کرنا چاہیے؟
حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام نے فرمایا کہ انسان کا وجود بمنزلہ ایک چار دیواری کے ہے۔اگر اس چار دیواری میں سے شک،وہم اور غیر اللہ کا پردہ دور کر دیا جائے تو دل کے صحن میں خدا کی ذات کا جلوہ نظر آئے گا۔ حج ِ کعبہ کا یہی مقصد ہے۔ (اسرارِ حقیقی)
کعبہ ٔ دل کی یہ کیفیت مرشد کامل اکمل کی نگاہِ کرم سے ہی حاصل ہوتی ہے۔سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل ہیں جو اپنی نگاہِ کامل سے تزکیۂ نفس اور تصفیہ ٔ قلب فرما کر دل کو حج ِ کعبہ کے حقیقی مقصد تک پہنچا دیتے ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کاسایہ مبارک ہمیشہ ہم پر سلامت رکھے۔آمین
استفادہ کتب:
• حقیقت حج:سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
• تاریخ مکہ مکرمہ :مولانا صفی الرحمن مبارکپوری
• تاریخ خانہ کعبہ:محمد طاہر الکردی
• تاریخ بیت اللہ شریف: مولانا سیف الرحمان الفلاح
•تاریخ تعمیر کعبہ: حضرت علامہ ابو الصالح مفتی محمد فیض احمداویسی رضوی

اپنا تبصرہ بھیجیں