الف|Alif

الف

رمضان اور تقویٰ

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
’’اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ ‘‘ ( البقرہ۔183)
اس آیت ِ مبارکہ میں روزے کی فرضیت کا مقصدمسلمانوں کو متقی یعنی تقویٰ والا بنانا ہے۔ ساتھ ہی اللہ پاک نے اس عبادت کی اہمیت بیان کرنے کے لیے یہ بھی فرما دیا کہ روزہ پچھلی اُمتوں پر بھی فرض تھا۔
لہٰذا اگر اس بات کو کچھ اس طرح کہا جائے کہ سابقہ اُمتوں کی طرح مسلمانوں پر بھی تقویٰ کا حصول فرض کیا گیا ہے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ روزے کا مقصد ہی ہمیں متقی بنانا ہے۔ قرآنِ مجید میں 236 سے زائد آیات میں مختلف انداز سے تقویٰ کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تقویٰ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انگلی سے دل کی طرف اشارہ کرکے فرمایا تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔تقویٰ اصل میں قلب(باطن) کے اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا نام ہے۔ جس قدر کسی کا قلب اللہ تعالیٰ کے قریب ہوگا وہ اسی قدر متقی ہو گا۔قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ مکرم (اور عزت والا) وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘ (سورۃ الحجرات۔13)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روزے سے تقویٰ کیسے حاصل کیا جائے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جب رمضا ن کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔‘‘ (بخاری شریف)
رمضان المبارک میں شیاطین تو قید کر دئیے جاتے ہیں لیکن نفس اور دنیا بہرحال اپنے تمام تر ہتھکنڈوں اور چالوں کے ساتھ قدرے زیادہ متحرک ہوجاتے ہیں۔ اللہ پاک نے شیطان کو قید کر کے ہمارے لیے آدھی مشکل آسان کر دی مگر باقی کا امتحان یعنی نفس اور دنیا سے بندہ مومن نے خود لڑنا ہے۔ نفس کی تمام شہوات پر قابو پانے کے لیے روزے کی شکل میں اللہ پاک نے ایک بہترین لائحہ عمل عطا کر دیا ہے جس کے ذریعے مسلمان خود کو نہ صرف منہیات سے روکتا ہے بلکہ دورانِ روزہ جائز شہوات پر بھی قابو پاتا ہے کیونکہ روزہ یعنی ’صوم‘ کے معنی ہی ’’رکنے‘‘ اور ’’باز رہنے‘‘ کے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ نفس آہستہ آہستہ کمزور ہو جاتا ہے اورروح کو تقویت نصیب ہوتی ہے ۔ نتیجتاً انسان بتدریج اللہ کے قرب کی منازل طے کرنا شروع کر دیتا ہے اور جس قدر انسان اللہ کے قریب ہوتا جاتا ہے اسی قدر متقی ہوتا چلا جاتا ہے۔ پس رمضان المبارک کے مقدس و بابرکت مہینے کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھتے ہوئے جس قدر ممکن ہو سکے اپنے نفس کو اس کی لذات سے روکیں اور فرض و نوافل عبادات کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ دنیا اور اس کی زندگی عارضی اور چند روزہ ہے پس اپنی عاقبت کو بہتر بنانے کے لیے رمضان المبارک کی نورانی ساعتوں سے خوب فائدہ اٹھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں