سلطان العاشقین حیاتِ حسنہ| Sultan ul Ashiqeen Hayyat e Husna

سلطان العاشقین حیاتِ حسنہ

تحریر: مسز عنبرین مغیث سروری قادری (ایم اے ابلاغیات)

جو عَالَمِ ا یجاد میں ہے صاحب ِ ا یجاد
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

آج سے تقریباً تین سو سال قبل سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی زبان دُرِّفشاں سے فرمایاتھا:
جب گمراہی عام ہو جائے گی، باطل‘ حق کو ڈھانپ لے گا، فرقوں اور گروہوں کی بھر مار ہو گی، ہر فرقہ خود کو حق پر اور دوسروں کو گمراہ سمجھے گا، گمراہ فرقوں اور گروہوں کے خلاف بات کرتے ہوئے لوگ گھبرائیں گے اور علمِ باطن کا دعویٰ کرنے والے اپنے چہروں پر ولایت کا نقاب اوڑھ کر درباروں اور گدیوں پر بیٹھ جائیں گے اور لوگوں کو لوٹ کر اپنے خزانے اور جیبیں بھر رہے ہوں گے تو اس وقت میرے مزار سے نور کے فوارے پھوٹ پڑیں گے۔‘‘

اس قول سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی مراد یہ ہے کہ گمراہی کے دور میں آپؒ کا کوئی غلام آپ کی روحانی راہنمائی میں آپ کی روحانی تعلیماتِ حق کا علمبردار ہو گا، گمراہی کو ختم کرے گا، دینِ حق کا بول بالا کرے گا اور دینِ حنیف پھر سے زندہ ہو جائے گا۔

جس مبارک ہستی کی خبر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ  نے کئی صدیوں پہلے دی تھی وہ اعلیٰ و ارفع شان سے متصف ہستی شانِ فقر‘ آفتابِ فقر‘ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل ہیں۔ آپ تک سلسلہ سروری قادری اس ترتیب سے پہنچتا ہے۔

1۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
2۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ
3۔ حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ
4۔ حضرت شیخ حبیب عجمی رحمتہ اللہ علیہ
5۔ حضرت شیخ داؤد طائی رحمتہ اللہ علیہ
6۔ حضرت شیخ معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ
7۔ حضرت شیخ سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ
8۔ حضرت شیخ جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ
9۔ حضرت شیخ جعفر ابوبکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ
10۔ حضرت شیخ عبد العز یز بن حرث بن اسد تمیمی رحمتہ اللہ علیہ
11۔ حضرت شیخ ابو الفضل عبد الواحد تمیمی رحمتہ اللہ علیہ
12۔ حضرت شیخ محمد یوسف ابو الفراح طرطوسی رحمتہ اللہ علیہ
13۔ حضرت شیخ ابو الحسن علی بن محمد قریشی رحمتہ اللہ علیہ
14۔ حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ
15۔ سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ
16۔ حضرت شیخ تاج الدین ابوبکر سید عبدالرزاق جیلانی رحمتہ اللہ علیہ
17۔ حضرت شیخ سیدعبد الجبار جیلانی رحمتہ اللہ علیہ
18۔ حضرت شیخ سید محمد صادق یحییٰ رحمتہ اللہ علیہ
19۔ حضرت شیخ سید نجم الدین برہان پوری رحمتہ اللہ علیہ
20۔ حضرت شیخ سید عبد الفتاح رحمتہ اللہ علیہ
21۔ حضرت شیخ سیدعبد الستار رحمتہ اللہ علیہ
22۔ حضرت شیخ سید عبد البقاء رحمتہ اللہ علیہ
23۔ حضرت شیخ سید عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ
24۔ حضرت شیخ سید عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ
25۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ
26۔ سلطان التارکین سید محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ
27۔ سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر سید محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشی رحمتہ اللہ علیہ
28۔ شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سید محمدبہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہ
29۔ سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ
30۔   سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ

31۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس

فقر کا یہ آفتاب جو آج معرفت و تصوف کے اُفق پر پوری آب و تاب سے روشن ہے‘  19 اگست 1959ء بمطابق 14 صفر 1379ھ بروزبدھ صبح چار بج کر تیس منٹ کی مبارک گھڑی اس عالمِ ناسوت میں جلوہ گر ہوا۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کے والد محترم عبدالحمید رحمتہ اللہ علیہ اور والدہ محترمہ کنیز فاطمہ رحمتہ اللہ علیہا نہایت دیندار، عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، عاشقانِ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اور عقیدتمندانِ سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ تھے۔ لہٰذا عشقِ حقیقی آپ کی روح مبارکہ میں ازل سے اور خمیر میں پیدائش سے ہی شامل تھا۔ اس عشق کا نور آپ کی پیشانی پر بچپن سے اس قدر منور تھا کہ جو بھی آپ کو دیکھتا بے اختیار ہو کر دیکھتا رہ جاتا۔ 

آپ کی والدہ محترمہ روایت فرماتی تھیں کہ ایک مجذوب فقیر کبھی کبھی ان کے گھر آیا کرتا تھا۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی پیدائش کے بعد ایک مرتبہ آیا آپ کی والدہ سے کہنے لگا ’’آپ کا یہ بیٹا بڑا سعید ہے۔ اللہ پاک نے اپنی ایک خاص تقدیر کو اس کی پیشانی پر رقم کر دیا ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی باطنی زیرنگرانی اس کی خاص طرز پر تربیت کی جائے گی اور اسے زندگی کے تمام مراحل سے گزارا جائے گا۔‘‘ 

فقر اور امانتِ الٰہیہ کی جس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے کے لیے آپ کو ازل سے ہی منتخب کیا جا چکا تھا اس کی ادائیگی کے لیے سیدنا غوث الاعظمؓ کی زیر نگرانی آپ کی کڑی تربیت بچپن میں ہی شروع کر دی گئی، گھر میں تنگی و عسرت کی وجہ سے آپ نے انتہائی چھوٹی عمر میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے ذرائع آمدن بھی اختیار کئے، دن میں سکول جاتے تو شام میں کبھی بکریاں چراتے، کبھی گلیوں میں چھوٹی چھوٹی چیزیں بیچتے تاکہ والدین کا ہاتھ بٹا سکیں اور زندگی کی گاڑی چلتی رہے۔ محنت و مشقت تو آپ کی فطرت کا خاصہ ہے جس کی بدولت نہ صرف آپ تعلیمی میدان میں ہمیشہ سب سے آگے رہے بلکہ کم عمری میں ہی والدین کا بھی آسرا بن گئے۔ علم کے حصول اور مطالعہ کا بھی بے پناہ شوق تھا، اسلامی تاریخ اور دینی موضوعات پر کتب ہمیشہ زیر مطالعہ رہتیں۔ طبیعت میں دین کے متعلق جستجو اس قدر تھی کہ روح ہمیشہ بے چین رہتی، پانچویں جماعت میں ہی آپ کی ذہانت اور قلمی صلاحیتوں کا اظہار ہونے لگا جب آپ نے مختلف اخبارات میں بچوں کے صفحات پر اخلاقی نوعیت کے مضامین لکھنے شروع کر دیئے۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس نے 1983ء میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے فرسٹ ڈویژن میں BA کے امتحان کے بعد 1985ء میں سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ 1987ء میں آپ نہایت سادگی سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔

1989ء میں آپ کی اس دنیاوی زندگی کے سنہری حصہ کا آغاز ہوتا ہے۔ آپ کی شدید محنت اور دیانتداری کی بدولت نہ صرف یہ کہ ملازمت میں بہت جلد ترقی کی منازل طے کرتے گئے بلکہ ملازمت کے علاوہ کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر شراکت میں کاروبار بھی کئے جن میں توقع سے بڑھ کر منافع ملا۔ اب تک اللہ پاک آپ کی تربیت تنگی و عسرت میں رکھ کر اس نہج پر کر رہا تھا  کہ محنت، صبر، استقامت اور ہمت آپ کی فطرت کا مکمل حصہ بن جائے لیکن زندگی کے اس نئے دور میں اگر ایک طر ف اللہ نے آپ کو آپ کی محنت و صبر کا پھل عطا کرنا شروع کیا تو دوسری طرف آپ کی ظاہری ضروریات و خواہشات کو اس حد تک پورا کر دیا کہ آپ اس دنیا سے سیر ہو کر اس کی حقیقت بھی جان لیں اور اس سے بے نیاز بھی ہو جائیں۔ تاہم اس مال و دولت نے کبھی آپ کے دل میں جگہ نہ بنائی بلکہ آپ اسے ہمیشہ بے دریغ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہے۔

زندگی کی ہر خوشی میسر ہونے کے باوجود آپ کی روح بے چین تھی، باطنی جستجو تشنہ تھی، حقیقی خوشی کی تلاش جاری تھی، جس روح کی خوشی صرف قرب و دیدارِ الٰہی میں پنہاں تھی وہ دنیاوی مال و دولت کی فراوانی میں سکون کیسے پاسکتی تھی؟ آپ کا دل روز بروز دنیا سے اچاٹ ہونے لگا صرف عبادات و تسبیحات میں سکون ملتا۔ نومبر 1995ء تک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس دنیاوی معاملات سے کافی حد تک کنارہ کش ہو کر صرف عبادات میں مشغول ہو چکے تھے۔ زہد و ریاضت میں اس قدر اضافہ ہو گیا کہ نیند اور آرام بھی بھول گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں روزانہ درود شریف اور کلمہ شریف کی تسبیح فرماتے کثرتِ عبادات کی وجہ سے آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے اور انگشتِ شہادت پر تسبیح کر کر کے گٹھا پڑ گیا۔ کبھی کبھی گھٹن انتہا کوپہنچتی تو بے اختیار گھنٹوں یادِ الٰہی میں روتے رہتے۔

 ایک رات ایسی ہی گھٹن کے عالم میں سیّدہ کائنات حضرت بی بی فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی بارگاہ میں رو رو کر التجا کی کہ آپ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں میری سفارش فرمائیں کہ میری رہنمائی صراطِ مستقیم پر فرما دیں جو اللہ کے قرب کی راہ ہے اس کے بعد یہ دعا آپ کا روز کا معمول بن گئی۔ پس سیدہ کائنات حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے وسیلہ سے مانگی گئی دعا مقبول ہو ئی اس دعا کی مقبولیت کا ہی اثر تھا کہ آپ کو باطن میں رہنمائی ملنے لگی اور مرشد کی تلاش کا حکم ہوا۔

آپ نے مرشد کی تلا ش میں پورے ملک کا سفر کیا مگر کسی کی طرف دل مائل نہ ہوا۔ اسی تلاش کے دوران آپ کو دوبار سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کا دیدار ہوا جو فرما رہے تھے ’’بیٹا ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں جلد آؤ‘‘ اور اسم اللہ ذات کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ تمہاری یہ امانت کب سے ہمارے پاس تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ خواب میں نظر آنے والی اس ہستی کی تلاش نے آپ کو بے چین اور بے قرار کر رکھا تھا۔ گھٹن بڑھتی جا رہی تھی۔ ایک رات روتے روتے آپ جائے نماز پر ہی گر کر سو گئے۔ خواب میں سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ تشریف لائے اور دربار سلطان باھُوؒ پر جانے کا اشارہ دیا۔‘‘

12 اپریل 1998ء کو آپ علی الصبح  دربار سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ تشریف لے گئے ۔ جہاں سے آپ کو آستانہ عالیہ سلطان محمد عبدالعزیزؒ پر جانے کا حکم ہوا جو دربار سلطان باھوؒ کے قریب ہی ہے۔ آپ آستانہ عالیہ سلطان محمد عبدالعزیزؒ پر پہنچے اور سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے کمرے میں داخل ہوئے تو سامنے پلنگ پر وہی خواب والا خوبصورت چہرہ دکھائی دیا پس ’’اوّل آخر یکساں ہو گیا‘‘ اور دل میں کوئی سوال باقی نہ رہا۔ 12اپریل  1998ء (بمطابق 15 ذوالحجہ 1418ھ) کو بعد نمازِ مغرب سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغرعلی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ اقدس پر بیعت فرمائی۔ آپ بیعت کے دن سے ہی اپنے مرشد کے محبوب بن گئے اور اُس دن سے آج تک آپ مرتبۂ محبوبیت کے اعلیٰ ترین مقامات پر فائز ہیں جن میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہو رہا ہے۔

آپ عشق ِ مرشد میں اس طرح گم ہوئے کہ اپنی ذات کا کوئی ہوش ہی نہ رہا۔ دوستوں کی دوستی‘ امرا کی محفلیں‘ رشتے داریاں سب کچھ چھوٹ گیا حتیٰ کہ کھانے پینے، پہننے اوڑھنے کی بھی فکر نہ رہی۔ ہر دم مرشد کی خوشی اور سکون کی فکر رہنے لگی۔ اُن کے دیدار کی تمنا کے سوا ہر تمنا مٹ گئی۔ ایک ہی فکر کہ کس طرح مرشد پاک کو راضی کیا جائے۔ اُن کی ایک مسکراہٹ اور محبت بھری نگاہ کی خاطرجان تک لٹانے کو تیار رہتے اور آپ کے مرشد کے لیے بھی آپ کی اہمیت دیگر تمام مریدین سے بڑھ کر تھی جس کی چند مثالیں یہ ہیں کہ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ اپنے مریدین کو بیعت کے بعد اسمِ اللہ ذات کا پہلا ذکر ’’اللہ ھوُ‘‘ عطا فرما یا کرتے تھے ۔ سلطان العاشقین سلطان محمد نجیب الرحمن وہ اوّلین طالبِ مولیٰ ہیں جنہیں آپ ؒ نے سلطان الا ذکا ر ھوُ عطا فرمایا ۔ نہ صرف یہ بلکہ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی ؒ نے اپنے وصال سے چند روز قبل 12 نومبر 2003ء کے مبارک دن سلطان محمد نجیب الرحمن کو طالبانِ مولیٰ کو سونے کے اسمِ اللہ ذات ،سلطان الا ذکار ھوُ اور مشق مرقومِ وجودیہ عطا کرنے کی اجازت بھی مرحمت فرمادی ۔ یہ اجازت آپؒ نے اپنے کسی اور خلیفہ کو نہ دی تھی ۔

سلطا ن الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے حلقہ ارادت میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن ہی وہ واحد طالب ِ مولیٰ ہیں جنہیں آپ ؒ نے اسمِ محمدؐ عطا فرمایا ۔ سلطان الفقر ششم سلطان محمد اصغر علیؒ کی حیاتِ طیبہ میں اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمدؐ تیار کروانے کی ذمہ داری بھی آپ ہی ادا کرتے رہے اور وصال سے قبل سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے آپ سے آخری وصیت بھی یہی فرمائی ’’اسمِ اللہ ذات اور اسمِ محمدؐ اب تمہارے حوالے ہیں‘‘۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کو ہی سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے نشرو اشاعت کی ذمہ داری سونپی جس کو آپ نے صحافت کا تجربہ نہ ہونے کے باوجود بھی بہترین انداز میں نبھایا ۔ آپ نے نہ صرف ماہنامہ مرآۃ العارفین کا اپریل 2000ء میں اجرا کیا اور اگست 2004ء تک اسے کامیابی سے شائع کیا بلکہ مکتبہ العارفین کی بھی اپریل 2002ء میں بنیاد رکھی اور اس کے زیر ِ اہتمام بہت سی کتب شائع کیں۔ آپ نے اپنے مرشد کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ اُن کی ہر ضرورت مثلاً موسم سرما اور گرما کے تمام ملبو سات، دستار، جوتے حتیٰ کہ ادویات کا انتظام بھی سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس خود فرماتے۔ عید میلاد النبیؐ ہو یا مشائخ کے عرس پاک، ہر محفل کی مالی و انتظامی ڈیوٹی آپ ہی ادا کرتے۔ مرشد پاک کے سفر کے لیے بہترین گاڑی، اُن کی حفاظت کے لیے جدید اسلحہ، ان کے آرام کے لیے ایئر کنڈیشنر، یہاں تک کہ اُن کے مزار کے لیے زمین کی رقم بھی آپ نے مہیا کی۔ لاہور میں اپنے مرشد پاک کی اصلاحی جماعت کے دفتر کے لیے اپنا ایک گھر اور اس سے ملحقہ پلاٹ وقف کر دیا۔ اس دفتر کا افتتاح سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے دستِ مبارک سے 28 رجب 1419 ہجری بمطابق 18 نومبر 1998ء بروز بدھ شام 4 بجے اصلاحی جماعت کا جھنڈا لہرا کر فرمایا تھا۔ نہ صرف مرشد پاک کی ذاتی خدمت میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس نے دن رات ایک کر دیئے بلکہ اُن کی اصلاحی جماعت کو بھی آپ نے شبانہ روز محنت سے بامِ عروج پر پہنچایا۔ اللہ کا پیغام عام کرنے کے لیے آپ نے پورے پاکستان کا کئی بار سفر کیا اور گلی گلی جا کر طالبانِ مولیٰ کو تلاش کر کے مرشد کامل اکمل کی بارگاہ میں پہنچایا۔ آپ کی تبلیغ کے منفرد انداز کی بدولت ہر پندرہ دن بعد کثیر تعداد میں طالبانِ مولیٰ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ اقدس پر بیعت ہوتے۔ آپ کی اسی محنت سے راضی ہو کر سلطان الفقر ششم سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو اصلاحی جماعت کا لاہور کا سرپرست مقرر فرمادیا۔

آپ کے مرشد پاک نے آپ کو کئی بار آزمایا۔ آپ کے عشق کی سچائی نے آپ کو ہر آزمائش اور ہر امتحان میں سرخروئی عطا کی۔ مرشد نے جو بھی ڈیوٹی آپ کے ذِمہ لگائی آپ نے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ آپ کے بارے میں سلطان الفقرششم سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا ’’نجیب بھائی کا تو یہ حال ہے ’’سرِتسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔‘‘

یوں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی  رحمتہ اللہ علیہ کی ذات میں فنا ہو گئے اور اُن کی تصویر بن گئے۔

نجیبؔ نہ رہا باقی، یار کی ذات میں فنا ہو گیا
اپنے غیر سمجھ نہ سکے، کہتے ہیں کہ کیا سے کیا ہو گیا
سنو! نجیب تو کب کا مر چکا اے دوستو
یار سے جب یار مِلا، میں‘ میں نہ رہا وہ ہو گیا

مرشد کی محبت اور خدمت کے اس سفر میں آپ کو بے شمار رکاوٹوں، خصوصاً حاسدوں کا بہت سامنا رہا کیونکہ آپ، سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے مرکزِ نگاہ بن گئے تھے لیکن آپ کے عشق، لگن، محنت، ہمت اور استقامت کی بدولت نہ کوئی رکاوٹ آپ کا راستہ روک سکی نہ کسی کا حسد۔ ظاہر کے ساتھ ساتھ آپ کو باطنی طور پر بھی اس قدر کڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا کہ آپ خود فرماتے ہیں ’’جو باطنی آزمائشیں ہم پر گزری ہیں وہ اگر کسی پہاڑ پر گزرتیں، تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتا۔‘‘

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کا سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن کو اُن تمام آزمائشوں سے گزار کر کندن بنانے کا مقصد فقط یہ تھا کہ آپ کو وارثِ امانت ِ الٰہیہ کے طور پر پرکھ لیا جائے۔

ان تمام قربانیوں اور ذمہ داریوں کو نبھانے کے عوض آپ نے مرشد کی رضا کے سوا کبھی کسی قسم کے صلے اور جزا کی تمنا نہ رکھی ۔ اسی بے لوث محبت و خدمت کی بنا پر سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو اپنے روحانی وارث کے طور پر چن لیا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’وہ جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔‘‘

جب سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے امانت کے وارث کو اچھی طرح پرکھ لیا تو 2001ء میں حج کا ارادہ فرمایا اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے فرمایا کہ یہ حج ہمارے اور تمہارے لیے بہت ضروری ہے لیکن حج کے لیے زادِ راہ نہیں تھا۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن کی تمام جمع پونجی راہِ خدا میں خرچ ہو چکی تھی۔ آپ نے اپنی گاڑی فروخت کر کے حج کے اخراجات کا انتظام کیا۔

9مارچ 2001ء کو آپ نے اپنے کچھ ساتھیوں اور مرشد پاک کے ہمراہ حج ادا کرنے کی سعادت حاصل کی اور 18 مارچ کو یہ قافلہ مدینہ منورہ روانہ ہو گیا۔

 21 مارچ 2001ء کے بابرکت دن سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے روضۂ رسول پر حاضری کے دوران اپنے محبوب اور قابل ترین طالب سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن کو بارگاہِ محمدی میں پیش کیا۔ آپ مدظلہ الاقدس کی بے غرض محنت، عشقِ حقیقی ہمت و استقامت اور دیگر بے پناہ قابل قدر اور بے مثال صلاحیتوں کی بنا پر آپ کو فوراً ہی بارگاہِ محمدی سے قبولیت کی سند مل گئی اور آپ کو امانتِ الٰہیہ کے وارث اور سلسلہ سروری قادری کے امام کے طور پر چن لیا گیا۔ اس مبارک موقع پر سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تاریخی جملہ فرمایا

’’ہمیں تو دل کا محرم مل گیا‘‘

پاکستان واپس آ کر سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے لیے آپ کی تربیت خاموشی اور رازداری سے شروع کر دی۔ امانتِ الٰہیہ کی منتقلی ایک راز ہے اور یہ رازداری سے ہی عمل میں آتی ہے۔ مرشد کامل اور امانت کے منتخب شدہ وارث کے سوا کسی کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔ البتہ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے کچھ مریدین کو خواب میں یہ بشارت اشارۃً ضرور دے دی گئی تھی جس کا ذکر ان مریدین نے آپؒ کے حلقہ ارادت میں بھی کیا۔

2001ء سے 2003ء تک سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن کی مزید آزمائشوں اور ذمہ داریوں کے ذریعے تربیت کی اور تربیت مکمل ہونے پر آپؒ امانتِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو منتقل کر کے 26 دسمبر 2003ء میں اس دنیا فانی سے پردہ فرما گئے اور سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کا نور کسی اور روپ میں ظاہر ہو گیا۔ 

حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے وصال کے بعد بحکم آقائے کائنات خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ،سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ، سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ اور سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ آپ نے مسندِ تلقین و ارشاد سنبھال لی کیونکہ ظاہری دنیا میں جس طرح اصول ہے کہ بادشاہ کا تخت کبھی خالی نہیں رہتا اسی طرح باطنی دنیا کا بھی اصول ہے کہ مسندِ تلقین و ارشاد کبھی خالی نہیں رہتی، ایک ولی کے وصال کے فوراً بعد اس کا روحانی وارث اس مسند پر فائز ہو جاتا ہے۔ مسند پر فائز ہوتے ہی آپ کو ’’سلطان محمد‘‘ کا لقب عطا کیا گیا۔

یہاں سے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی زندگی کا وہ دور شروع ہوتا ہے جس کے لیے آپ کی تربیت بچپن سے کی جا رہی تھی۔ آپ طالب و مرید سے مطلوب و مرشد کامل بن چکے تھے۔ اللہ کی تلاش میں بھٹکنے والے طالبانِ مولیٰ کو اللہ کی راہ دکھانا اور اس راہ پر ان کی رہنمائی کرنا آپ پر واجب ہو چکا تھا۔ 

اسمِ اللہ  ذات اور سلطان الاذکار ’’ھوُ‘‘ تو آپ نے اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ میں ہی ان کے حکم سے عطا فرمانا شروع کر دئیے تھے۔ مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد ابھی آپ نے ظاہری طور پر لوگوں کو دعوتِ فقر دینے کا کوئی اقدام بھی نہ کیا تھا کہ اللہ کے فضل سے طالبانِ مولیٰ خود بخود آپ کی طرف کھنچے چلے آنے لگے ، آپ نے انہیں بغیر بیعت کے اسمِ اللہ  ذات اور ذکرِ ھوُ عطا فرمانا شروع کر دیا۔

باقاعدہ بیعت کا سلسلہ 2005ء میں 14 اگست یعنی اپنے مرشد کے یومِ ولادت کے بابرکت دن سے شروع کیا۔ اس دن سے آپ کی جدوجہد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال جاری و ساری ہے۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن صاحبِ مسمیّ مرشدِ کامل مکمل اکمل جامع نور الہدیٰ فقیر مالک الملکی ہیں جن کی نگاہِ کیمیا اثر کی کوئی حد نہیں۔ طالبانِ مولیٰ آپ کی محفل میں بیٹھے ہوں یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں آپ کی نگاہِ فیض رساں سے یکساں طور پر مستفید ہوتے ہیں۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنی نگاہِ کامل اور نورانی صحبت سے طالبانِ مولیٰ کا تزکیۂ نفس فرما کر اُنہیں اعلیٰ روحانی منازل پر پہنچاتے ہیں۔ بشرطیکہ طالب صادق ہو اور اس کے دل میں اللہ کی سچی طلب ہو۔

سلسلہ سروری قادری کی مسند تلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد آپ نے دین ِ اسلام کی حقیقی روح یعنی’ فقر‘ کو طالبانِ مولیٰ کے لیے آسان بنانے اور تمام امتِ مسلمہ کو اس کی طرف راغب کرنے کے لیے اعلیٰ باطنی اور ظاہری اقدامات اٹھائے۔ گزشتہ ادوار میں طالبوں اور مریدوں کو، اسمِ اللہ ذات چار منازل میں ترتیب وار عطا کیا جاتا تھا یعنی اَللّٰہُ، لِلّٰہ ، لَہٗ اور ھوُ۔مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالتے ہی آپ نے راہِ فقر میں یہ انقلاب پیدا کیا کہ ذکر اسم اللہ ذات کی چار منازل سے گزارنے کی بجائے آپ اپنے ہر مرید کو بیعت کرتے ہی سلطان الاذکار ھوُ عنایت کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ ہر طالب کو بیعت کے پہلے روز ہی اسمِ اللہ ذات کا نقش، تصور اور مشق مرقومِ وجودیہ کے لیے عطا فرما کر فقر کی منازل طے کرنا آسان کر دیتے ہیں۔

اسمِ اللہ ذات کا فیض عام کرنے کے لیے آپ نے ہزاروں کی تعداد میں کتاب ’’حقیقت اسمِ اللہ ذات‘‘ چھپوا کر فی سبیل اللہ تقسیم فرمائی۔

تصوف کی تاریخ میں پہلی بار آپ نے اسمِ محمدؐ کا فیض بھی عام کر دیا ہے۔ اب سے پہلے صرف خاص الخاص طالبانِ مولیٰ کو اسمِ محمدؐ عطا کیا جاتا تھا لیکن آپ اپنے کثیر مریدین کو اسمِ محمدؐ کاتصور عطا فرماچکے ہیں۔

 یہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس ہی کے اعلیٰ و ارفع روحانی درجات اور فیضِ کامل کی بدولت ہے کہ آپ بہت سے صادق طالبانِ مولیٰ کو لقائے الٰہی اور مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کے اعلیٰ ترین مقامات پر پہنچانے کے ساتھ ساتھ علمِ دعوت جیسا خاص روحانی علم بھی عطا کر چکے ہیں جو گزشتہ ادوار میں صرف خاص اولیا اللہ تک محدود تھا۔

آپ کا ایک اور کمال یہ بھی ہے کہ آپ اپنی نگاہ ِکامل سے دنیااور عقبی کے طالبوں کو اللہ کا سچا طالب بنا دیتے ہیں، اُن کے دل سے دنیا اور عقبیٰ کی محبت نکال کر اِسے نورِ حق سے منور کر دیتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ آپ نے اپنے کئی طالبوں کو ایسا علم اور صلاحیتیں بھی عطا کیں جو پہلے انہیں حاصل نہ تھیں مثلاً کچھ طالبوں کو حضرت سخی سلطان باھوؒ کی فارسی کتب کا اردو اور انگریزی کا مترجم بنا دیا، کسی کو شاعری اور کسی کو خطابت کا ہنر عطا فرما دیا اور کسی کو کمپیوٹر اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ماہر بنا دیا۔ الغرض آپ کی عنایات اور کمالات بے حد و بے حساب ہیں۔

ان باطنی انقلابات کے ساتھ ساتھ آپ نے دین یعنی فقر کے پیغام کو عام کرنے کے لیے لاتعداد ظاہری اقدامات بھی اٹھائے۔ فقر و تصوف پر آپ نے 24 کتب تصنیف فرمائیں جو علم لدنیّ کا شاہکار اور معرفت الٰہی کے خزانوں سے لبریز ہیں۔ ان میں شمس الفقرا کو فقر و معرفت کا انسائیکلوپیڈیا قرار دیا جاتا ہے۔ یہ کتاب تصوف کی ہزاروں کتب کا نچوڑ ہے اور حضرت سخی سلطان باھوؒ  کی تمام تر کتب کا خلاصہ ہے۔معرفت کے ہر موضوع پر اس کتاب میں مکمل علم موجود ہیں۔

’’مجتبیٰ آخر زمانی‘‘ آپ کی دوسری شاہکار کتا ب ہے جس میں آپ نے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے بعد آنے والے سلسلہ سروری قادری کے مشائخ کی درست ترتیب، اِن کی مکمل اور تحقیق شدہ حالاتِ زندگی اور تعلیمات بیان فرمائیں ہیں۔ دراصل! حضرت سخی سلطان باھوؒ کے بعد بہت سے فریب کار لوگوں نے خود کو غلط طور پر سلسلہ سروری قادری کے ساتھ منسوب کر لیا تھا اور عام لوگ اصل سروری قادری مشائخ سے ناواقف تھے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن نے مجتبیٰ آخرزمانی کے ذریعے زمانہ کو اِن مشائخ کی شان سے روشناس کروایا اِن کی تعلیمات اور عارفا نہ کلام کو آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلایا تاکہ لوگ ان کی طرف راغب ہوں اور اصل سلسلہ روحانیت سے فیض حاصل کریں۔ آپ کی انہی کاوشوں کی بدولت اِن تمام مشائخ نے آپ کو شانِ فقر کا خطاب عطا فرمایا۔

ابیاتِ باھوؒ پر آپ کی تحقیقی کتاب ’’ابیاتِ باھوؒ کامل‘‘ ایک شاہکار ہے اور اہلِ علم کے لیے ایک نایاب تحفہ ہے۔

جب آپ نے طالبانِ مولیٰ کو راہِ حق کی طرف بلانے کی ذمہ داری سنبھالی تو سب سے پہلی مشکل یہی آن پڑی تھی کہ اُمتِ مسلمہ فقرسے بالکل نا آشنا ہو چکی تھی۔ اِس کی اصل وجہ بڑھتی ہوئی فرقہ واریت تھی جس سے امتِ مسلمہ کی مکمل توجہ ظاہر کو سنوارنے میں لگی ہوئی تھی اور باطن سے نظر ہٹ چکی تھی۔ اِس کی دوسری بڑی وجہ انتہا پسندی تھی۔ انتہاپسندی نے ہر کسی کو دین کی اصل سے دور کردیا۔ دین کی روح فقر ہے۔ جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ــ’’فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔ فقر کی وجہ سے ہی مجھے تمام ابنیا اور رسولوں پرفوقیت حاصل ہوئی ہے۔ــ‘‘

فقر کے بارے میں سیدناغوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ عنہٗ اپنی کتاب سرالاسرار میں اسی حدیث مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’یہاں فقر سے مراد وہ فقر ہر گز نہیں ہے جو عوام والناس میں مشہورو معروف ہے بلکہ اِس سے مراد اللہ عزوجل کا محتاج ہونا ہے اور اللہ کے سوا تمام دنیاوی اور اُخروی لذتوں کوترک کردینا ہے۔‘‘

دنیا بھر کے مسلمانوں تک ایک باقاعدہ طریقہ سے فقر کا پیغام پہنچانے کے لیے آپ نے 23 اکتوبر2009ء میں تحریک دعوتِ فقر کی بنیاد رکھی، اس تحریک کے تحت بہت سے شعبہ جات فقر کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ 

تحریک دعوتِ فقر ایک رجسٹرڈ، غیر سرکاری اور غیر سیاسی جماعت ہے جس کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے عہدیداران اور مجلسِ شوریٰ کا انتخاب تحریک دعوتِ فقر کے دستور کے مطابق ہر سال انتخابات کے ذریعے ہوتا ہے۔ تحریک دعوتِ فقر کے قیام کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو راہِ فقر کی دعوت دینا ہے تاکہ وہ اللہ کا قرب اور روحانی پاکیزگی حاصل کر سکیں جولقائے الٰہی اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اِس تحریک کے تمام ممبران آپ کے دستِ بیعت ہیں اور آپ نے ہی نہایت محبت و شفقت اور محنت سے اِن کی ہر طرح کی ظاہری و باطنی تربیت فرمائی ہے اور آپ ہی کی زیر نگرانی یہ سب اپنے اپنے شعبوں کے ذریعے پیغامِ حق کی تبلیغ میں دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ تحریک کے چند خاص شعبہ جات یہ ہیں۔

شعبہ دعوتِ و تبلیغ

یہ شعبہ داعی اور مبلغ حضرات پر مشتمل ہے جو ذاتی طور پر شہر شہر گلی گلی جا کر عوام الناس کو اسمِ اللہ ذات اور مرشد ِ کامِل اَکمل کی طرف آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن خود بھی دعوت وتبلیغ کی غرض سے ہر سال مختلف علاقوں کا دورہ فرماتے ہیں۔ اِن تبلیغی دوروں میں سینکڑوں کی تعداد میں طالبانِ مولیٰ آپ کے دستِ اقدس پر بیعت کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

شعبہ سلطان الفقر پبلیکیشنز

اگست 2006ء میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن نے فقر کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے ماہنامہ سلطان الفقر جاری کیا جو کامیابی سے مسلسل ہر ماہ شائع ہو رہا ہے۔ اس ماہنامہ کے علاوہ آپ نے فقر و تصوف پر 24 کتب خود تصنیف فرمائیں جن میں سے زیادہ تر کتابوں کا ترجمہ آپ کے منتخب مریدین انگریزی میں کر چکے ہیں اور حضرت سلطان باھوؒ کی فارسی کتب کے اُردو اور انگریزی میں تراجم کے لیے بھی آپ نے اپنے مریدین کی تربیت کی۔اب تک سلطان باھوؒ کی 14کتب کے اردو اور انگریزی میں ترجمے ہو چکے ہیں اور باقی کتب کے ترجمے زیرِ تکمیل ہیں۔

شعبہ ویب سائٹ ونگ

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن نے تعلیماتِ فقر کو دنیا بھرمیں طالبانِ مولیٰ تک پہنچانے کے لیے سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشن کا شعبہ قائم کیا ہے۔ اس شعبہ کے تحت 23 انگلش/ اردو ویب سائٹس کا م کر رہی ہیں۔

اس شعبہ نے خصوصی طور سلطان العاشقین کی حیات و تعلیمات پر انگلش اور اردو میں خصوصی طور پرویب سائٹس تیار کی ہیں جو آن لائن مطالعہ کے لیے موجود ہیں۔  ویب سائٹس درج ذیل ہیں:

www.sultan-ul-ashiqeen.com 
www.sultan-ul-ashiqeen.pk 

سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشنز

یہ شعبہ آڈیوز اور ویڈیو زکے ذریعے مختلف سوشل میڈیا فارمز اور درج ذیل ویب ٹی وی چینلز  کے توسط سے فقر کی تعلیمات کو دنیا میں عام کر رہا ہے۔ 

        sultanulfaqr.tv 
sultan-ul-ashiqeen.tv
tehreekdawatefaqr.tv
sultan-bahoo.tv
www.sultan-ul-faqr-digital-productions.com

ان ویب ٹی وی چینلز پرحمد ، نعتیں، عارفانہ کلام، کلامِ اقبالؒ، ابیاتِ باھوؒ، کلام میاں محمد بخشؒ اور کلام مشائخ سروری قادری کی آڈیوز، اور عرس مشائخ سروری قادری ، محرم الحرام اور میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر منعقد ہونے والی محافل کی ویڈیوز، بھی دستیاب ہیں۔ ان کے علاوہ اخلاقی و دینی موضوعات پر مبنی ویڈیو اور فقر کے مختلف موضوعات پر تقاریر بھی اِن چینلز پر موجود ہیں۔ خصوصاً حضرت سخی سلطان باھوؒ کے مکمل 201 پنجابی ابیات محمد رمضان باھو کی خوبصورت آواز میں ان چینلز پر معتقدین و شائقین کے لیے دستیاب ہیں۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے فقر کی تعلیمات کے خزانے کو جویا تو صرف سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہا تھایا قلمی مسودات کی صورت میں تحریری طور پر موجود تھا، کتب کی محدود دنیا سے نکال کر الیکٹرانک کتب یعنی ایشو (ISSUU)  ، Share  Slide، Scribd اور گوگل بکس جیسی مشہور ویب سائٹس میں کتب کو عام کر دیا ہے۔ آپ نے فقر کے فروغ کے لیے اور سماجی رابطے کے ذرائع (Social Media) مثلاً فیس بک (Facebook)، انسٹا گرام (Instagram)، Pinterst, Tumbler ، Reddit, LinkedIn Tune.pk, TikTok, Likee,کے ذریعے لوگوں تک پہنچانے کا انقلابی قدم اٹھایا۔ غرض یہ کہ ہر ذریعہ سے آپ فقر کے پیغام کو عام فرما رہے ہیں۔ یہ آپ کے معجزانہ کمال، فہم و فراست، ذہانت اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ تحریک دعوتِ فقر کے تمام شعبہ جات میں کام کرنے والے مریدین میں سے کوئی بھی پیشہ ورانہ ماہر نہیں ہے بلکہ یہ سب آپ کی ہی تربیت کا فیض ہے حالانکہ ظاہری طور پر آپ جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے پھر بھی اس کی جو فہم آپ کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں۔ آپ تحریک دعوتِ فقر کے ہر شعبہ کی نگرانی کرتے ہیں اور کہیں کوئی کمزوری اور جھول نہیں آنے دیتے۔ آپ مسلسل اپنے مشن کی کامیابی یعنی دینِ حق کو عام کرنے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔

تحریک دعوتِ فقر کے شعبہ جات کے دفاتر، ان کی سرگرمیوں کو باقاعدگی سے جاری رکھنے،طالبانِ مولیٰ کی رہائش اور ان سے ملاقات کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن نے صُفَّہ کے چبوترے کی طرز پر خانقاہ سلسلہ سروری قادری قائم کی جو تحریک کی تمام سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے طالبانِ مولیٰ تربیت کے لیے یہاں رہائش پذیر بھی رہتے ہیں۔ 

تحریک دعوتِ فقر کی روز بروز بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن کے مریدین و محبین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے یہ خانقاہ اب ناکافی ہو چکی ہے لہٰذا آپ نے خانقاہ سلطان العاشقین کے نام سے ایک وسیع خانقاہ کی تعمیر کا سلسلہ شروع فرمایا ہے جو رنگیل پور سندر اڈہ ملتان روڈ لاہور میں ہے۔ اس خانقاہ کے ساتھ ہی مسجد ِ زہرا بھی زیر تعمیر ہے۔ اس خانقاہ اور مسجد کی تعمیر کی ذمہ داری آپ کے خلیفہ سلطان محمد نعیم عباس سروری قادری صاحب کی ہے جنہیں آپ نے خانقاہ سلطان العاشقین کا تاحیات سرپرست بھی مقرر فرمایا ہے جبکہ سجادہ نشین آپ کے صاحبزادہ اور خلیفہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب صاحب ہیں۔ آپ نے خانقاہ سلطان العاشقین کے نائب سجادہ نشین اوّل سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری اور نائب سجادہ نشین دوم سلطان محمد حسنین محبوب سروری قادری کو مقرر فرمایا۔

آپ نے صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب صاحب کو 22 اکتوبر 2016ء بروز ہفتہ بعد از نمازِ مغرب، دربار سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ پر بیعت فرمایا اور اپنی دستار مبارک عطا فرمائی اور 12 ربیع الاوّل 1440 ھ بمطابق 21 نومبر 2018ء کے موقع پر باقاعدہ خلافت عطا کرنے کا اعلان فرمایا۔ 28 جون 2020ء بروز اتوار سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن کی اجازت سے صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب صاحب نے طالبانِ مولیٰ کو بیعت فرما کر اسمِ اللہ ذات کی لازوال نعمت سے بہرہ مند فرمایا۔

 آپ نے اپنے خاص الخاص مریدین سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری صاحب اور سلطان محمد حسنین محبوب سروری قادری صاحب کو 21 مارچ 2019ء محفلِ میلاد بسلسلہ یومِ منتقلی امانتِ الٰہیہ کے موقع پر اپنی خلافت عطا فرمائی ۔

مزید دو خلافتیں 12 ربیع الاوّل 1441ھ بمطابق 10اکتوبر 2019ء کو سلطان محمد نعیم عباس سروری قادری صاحب اور سلطان محمد ناصر حمید سروری قادری صاحب کو عطا فرمائیں۔

اس طرح اب تک آپ نے کل 5 خلافتیں عطا فرمائی ہیں۔

آپ کی زیر نگرانی تحریک دعوتِ فقرمیں ہونے والی دعوت و تبلیغ کی بدولت ہزاروں کی تعداد میں ملک اور بیرون ملک سے طالبانِ مولیٰ آپ کے دستِ مبارک پر بیعت ہو کر اسمِ اللہ ذات کا فیض اور معرفتِ الٰہی کے خزانے حاصل کر چکے ہیں۔ کثیر تعداد میں غیر مسلم بھی آپ کے دستِ اقدس پر اسلام قبول کر کے راہِ حق پر گامزن ہو رہے ہیں۔

بیرونِ ملک مقیم طالبانِ مولیٰ کے لیے آپ کی مہربانی سے آن لائن بیعت کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے جو دنیائے فقر میں ایک اور انقلابی قدم ہے۔ آن لائن بیعت کے ذریعے لاتعداد طالبانِ حق آپ کے دستِ اقدس پر بیعت ہو کرمعرفتِ حق حاصل کر چکے ہیں۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن کے آن لائن بیعت کے اس اقدام کے انقلابی قدم کی بین الاقوامی سطح پر اس حد تک پذیرائی ہوئی ہے کہ انگلینڈ (England) کی یونیورسٹی آف شیفیلڈ (University of Sheffield) کے ایک طالبعلم نے آن لائن بیعت پر ایک ریسرچ آرٹیکل شائع کیا جس میں تحریک دعوتِ فقر کی ویب سائٹ www.sultan-bahoo.com  پر دیئے گئے آن لائن بیعت کے طریقہ کار کو سب سے بہترین اور ایک انقلابی عمل قرار دیا گیا۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن نے پیغامِ فقر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جو انقلابی اقدامات اٹھائے ان کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ احیائے دین کے لیے اس بے مثال جدوجہد کی بنا پر آپ کو مجلس محمدی سے آفتابِ فقر جیسے عالیشان لقب سے نوازا گیا۔ بلاشبہ اس مادیت پرستی کے دور میں آپ نے دینِ حنیف کو دوبارہ زندہ کیا۔آپ کو شہرت، سیاست، میڈیا سے کوئی دلچسپی نہیں۔ آپ ان سب سے بے نیاز ہو کر سولہ سال سے اپنا مشن  جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آپ کی شدید مخالفت ہوئی،راہ میں روڑے اٹکائے گئے لیکن آپ نے ان لوگوں سے الجھنے کی بجائے دین اور فقر کے فروغ پر توجہ مرکوز رکھی۔ میڈیا، شہرت اور اشرافیہ سے دورآپ مدظلہ الاقدس اپنا کام خاموشی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

ہوا ہے گو تُند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیئے ہیں انداز خسروانہ

آپ کے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ آپ سے فرمایا تھا ’’ہم فقر کا عنوان ہیں اور آپ اس کی تفصیل ہوں گے‘‘۔
بلاشبہ جس طرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن نے فیضِ فقر کو عام کیا وہ سلطان الفقر ششم کے اس قول کو حرف بہ حرف سچ ثابت کرتا ہے۔

32 تبصرے “سلطان العاشقین حیاتِ حسنہ| Sultan ul Ashiqeen Hayyat e Husna

  1. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #documentary

  2. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #documentary

  3. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #documentary

  4. ماشاءاللہ
    اللہ پاک سلطان العاشقین کا سایہ ہم پر ہمیشہ قائم رکھے اور آپ مدظلہ الاقدس کو صحت و تندرستی والی لمبی عمر عطا فرمائے۔ آمین

  5. ماشااللہ بہت خوبصورت لکھا گیا ہے
    بے شک سلطان العاشقین کی حیات طیبہ تمام طالبان مولی کے لیے مشعل راہ ہے

  6. آپ کے عشق کی سچائی نے آپ کو ہر آزمائش اور ہر امتحان میں سرخروئی عطا کی ماشااللّہ

اپنا تبصرہ بھیجیں