راہِ حق میں مالی قربانیوں کی ضرورت اور اہمیت | Rahe Haq Main Maali Qurbaniyon ki Zarorat or Ahmiyat

راہِ حق میں مالی قربانیوں کی ضرورت اور اہمیت

تحریر: ناصر مجید سروری قادری (اسلام آباد)

اللہ تعالیٰ ہر مخلوق کا خالق و رازق اور ان کی ہر ضرورت پوری کرنے والا ہے۔ وہ کسی کو کم دے کر آزماتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ جن کو مال و دولت کی فراوانی سے نوازتا ہے ان کی آزمائش یہ ہے کہ کیا یہ لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکرگزار ہوتے ہیں یا نہیں؟ جن کو کم دے کر آزماتا ہے ان کی آزمائش یہ ہے کہ کیا وہ اللہ کی اس تقسیم پر راضی رہتے ہوئے صابر و شاکر رہتے ہیں یا نہیں اور کیا اس میں سے بھی وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں؟ کامیاب وہی ہیں جو اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس کی تقسیم پر قناعت کریں اور ہر حال میں اللہ کے شکرگزار بنیں خواہ مال و دولت کی فراوانی ہو یا قلت۔ کیونکہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا مال ہی آخرت کا زادِ راہ ہے اور یہی وہ صدقہ جاریہ ہے جو مرنے کے بعد بھی انسان کے کام آتا ہے۔ تاہم ان دونوں طرح کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ آزماتا ہے کہ اس کے بندے اس کے عطا کیے ہوئے مال و دولت میں سے اسی کی راہ میں خرچ کریں اور اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کریں جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ انہیں اپنے قرب سے نوازے گا۔ 

قرآن و حدیث میں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی بہت ترغیب دلائی گئی ہے اور مال و دولت جوڑ کر رکھنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی وعید بھی ہے۔ 

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے  بارے میں قرآنی احکامات 

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنی راہ میں مال خرچ کرنے کے بے شمار فضائل بیان کیے ہیں اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے بارے میں جو آیات نازل ہوئی ہیں کم و بیش ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر زور دیا ہے’’میرے دیے ہوئے رزق میں سے میری راہ میں خرچ کرو‘‘۔ اللہ تعالیٰ انسان کو یہ باور کروا رہا ہے کہ جو مال تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کرتا ہے یا چھپاتا ہے وہ اللہ ہی کا دیا ہوا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔ اگر ایک لمحے کے لیے انسان اس دنیا میں آنکھ کھولنے پر غور کر لے‘ کیونکہ اس وقت وہ اتنا لاچار و کمزور ہوتا ہے کہ اپنی ہر ضرورت کے لیے دوسروں یعنی والدین کا محتاج ہوتا ہے اور اس کی ملکیت میں اس کے تن پر لباس بھی نہیں ہوتا تو اس پر قرآن پاک کی یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ اس کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ صرف اور صرف اللہ کا عطا کردہ ہے اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے نہ گھبرائے اور اس بات کو سمجھے اور غور کرے کہ اگر اللہ ایک مرتبہ دے سکتا ہے تو وہ ہزار مرتبہ اس سے بہتر بھی عطا کرسکتا ہے۔ 

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
جو غیب (باطن) پر ایمان لائے اور نماز کو (تمام حقوق کے ساتھ) قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ (البقرہ۔3) 

جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں اگیں (اور پھر) ہر بالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر پاتے ہیں) اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے (اس سے بھی) اضافہ فرما دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہے۔ (البقرہ۔261 ) 

مزید فرمایا :
بیشک صدقہ و خیرات دینے والے مرد، صدقہ وخیرات دینے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ کو قرضِ حسنہ کے طور پر قرض دیا ان کے لئے (صدقہ و قرضہ کا اجر) کئی گنا بڑھا دیا جائے گا اور ان کے لئے عزت والا ثواب ہو گا۔ (الحدید۔18) 

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے وہ اللہ کی بارگاہ میں درجہ کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں اور وہی لوگ مراد کو پہنچے ہوئے ہیں۔ (التوبہ۔20) 

جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کئے ہوئے کے پیچھے نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ اذیت دیتے ہیں ان کے لئے ان کے ربّ کے پاس اجر ہے اور (روزِ قیامت) ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (البقرہ۔262) 

اور جو لوگ اپنے مال اللہ کی رضا حاصل کرنے اور اپنے آپ کو (ایمان و اطاعت پر) مضبوط کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی سطح پر ہو اس پر زور دار بارش ہو تو وہ دوگنا پھل لائے اور اگر اسے زور دار بارش نہ ملے تو (اسے) شبنم (یا ہلکی سی پھوار) بھی کافی ہو اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔ (البقرہ۔265) 

مندرجہ بالا آیاتِ قرآنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ کا عطا کردہ مال اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا کی خاطر خرچ کیا جائے۔

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی اہمیت احادیث مبارکہ کی روشنی میں 

حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے احادیث ِنبوی میں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی اہمیت کو اجاگر فرمایا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص ایک کھجور کے برابر پاک کمائی سے خرچ کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک چیز کو ہی قبول فرماتا ہے‘ تو اللہ تعالیٰ اس کو داہنے ہاتھ میں لیتا ہے پھر اس کو بڑھاتا ہے جیسا کہ تم سے کوئی اپنے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔‘‘  (بخاری و مسلم) 

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اپنی حیات میں ایک درہم خرچ کرنا مرتے وقت سو درہم خیرات کرنے سے افضل ہے۔‘‘ (ابوداؤد) 

حضرت اسما بنت ِ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ (خوب) خرچ کیا کر (اللہ کی راہ میں) اور شمار نہ کر یعنی گنتی نہ کیا کر (اگر ایسا کرو گی) تو اللہ تعالیٰ بھی تجھ پر محفوظ کر کے رکھے گا (یعنی کم عطا کرے گا) خرچ کر جتنا بھی تجھ سے ہوسکے۔ (کنز العمال) 

انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت  فقرا کاملین کے اقوال کی روشنی میں

عام انسان اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کی کیا لذت ہے کیونکہ اس لذت کو صرف صوفیا کرام اور فقرائے کاملین چکھتے ہیں اس لیے وہ اللہ کی راہ میں اپنا سب مال و متاع خرچ کرنے کی بعد اپنی جان بھی اللہ کی راہ میں لگا دیتے ہیں۔

سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ مومن شخص تو صرف زادِ راہ لیتا ہے اور کافر خوب مزے اڑاتا ہے۔ مومن مسافر شخص جتنا زادِ راہ لیتا ہے اور اپنے تھوڑے سے مال پر بھی قناعت کرتا ہے اور بہت زیادہ مال کو آگے آخرت کی طرف بھیجتا رہتا ہے اور اپنے نفس کیلئے اسی قدر رہنے دیتا ہے جیسا کہ مسافر کا توشہ ہوتا ہے کہ وہ جس کو آسانی کے ساتھ اٹھا سکتا ہے اور اس کا تمام مال آخرت میں ہے۔ (الفتح الربانی مجلس 15)

شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے:
میں پوری زندگی دو بندوں کو تلاش کرنے پر بھی تلاش نہ کر سکا ایک وہ جس نے اللہ کے نام پر دیا ہو اور غریب ہوگیا ہو، دوسرا وہ جس نے ظلم کیا ہو اور اللہ کی پکڑ سے بچ گیا ہو۔

ہر وہ چیز یاکام جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ان کے یقینا بہت فضائل بھی ہوتے ہیں اسی طرح صدقہ دینے کے بھی بہت سے فضائل ہیں:
اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
انسان کو دونوں جہانوں کی بھلائی نصیب ہوتی ہے۔ (اب یہ انسان پر ہے کہ وہ دنیا کی فانی بھلائی چاہتا ہے یا آخرت کی لازوال اور غیر فانی بھلائی۔)
صدقہ قبر کی گرمی سے بچاتا ہے۔
صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کر تاہے۔
مشکلات ٹل جاتی یا آسان ہوجاتی ہیں۔
صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب بنتا ہے۔
صدقہ بری موت سے بچاتا ہے۔
صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے۔
صدقہ علاج بھی ،دوا بھی اور شفا بھی ہے۔

غور طلب بات 

اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے پر قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ اب اللہ کی راہ کا تعین کیسے کیا جائے کہ وہ کونسی حقیقی راہ ہے جس میں خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ کی نہ صرف حقیقی رضا حاصل ہوتی ہے بلکہ اسی راہ میں مال خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کی حد نہیں ہوتی اور اس راہ میں مال خرچ کرنے والے پر اللہ کی رحمت یقینی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس تصرف کے بارے میں فرماتا ہے:
بے شک صدقات تو فقرا کے لیے ہیں۔ (التوبہ۔60) 

کیونکہ فقیر کامل ہی وہ ہستی ہوتی جسے اللہ تعالیٰ جان، مال، رزق میں کمی و اضافہ کرکے اور ہر طریقہ سے آزماتا ہے پھر بھی وہ تسلیم و رضا کے قدموں پر ثابت رہتے ہیں اور اتنی آزمائش و مصائب کے باوجود بھی اللہ کے لیے ان کی محبت میں ذرا برابر بھی کمی نہیں آتی اور نہ ہی شکوہ نام کی کوئی چیز ہوتی ہے۔ کیونکہ ان فقرا کی اللہ سے شدید محبت ہوتی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
اور جو ایمان لائے اللہ کے لیے ان کی محبت شدید ہے۔ (البقرہ۔165)

فقرا کاملین اپنا مال و متاع، اپنی خواہشات اپنا سب کچھ اللہ کے لیے خرچ کر دیتے ہیں اور آخر میں اپنی جان بھی اللہ کی بارگاہ میں پیش کردیتے ہیں جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اور لوگوں میں کوئی شخص ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بھی بیچ ڈالتا ہے۔ (البقرہ۔207)
اسی لیے قرآن پاک نے باقی تمام سے زیادہ فقرا کاملین کو صدقہ و خیرات زیادہ حقدار ٹھہرایا۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ

مندرجہ بالا آیت مبارکہ سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ صدقات کن کو دئیے جائیں اور ان کا اصل حق دار کون ہے۔ اس آیت ِ مبارکہ کے مطابق سب سے اوّل اور سب سے زیادہ حق دار فقرا کاملین ہیں لیکن یہ بھی واضح رہے کہ فقرا کی بات ہو رہی نہ کہ گداگروں کی۔ عام طور پر جو لوگ گلیوں، بازاروں، سڑکوں وغیرہ پر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر مختلف واسطے دیتے ہوئے نظر آتے ہیں انہیں فقیر کہا جاتا ہے جبکہ یہ سراسر غلط ہے۔ یہ لوگ اپنے نفس سے مغلوب پیشہ ور گداگر یا بھکاری ہوتے ہیں اور لوگ فقرا کا حق ان لوگوں کو دے دیتے ہیں۔ اسلام میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کو سختی سے منع کیا گیا ہے اور اس کی سخت مذمت کی گئی ہے کیونکہ گداگری ایک لعنت ہے۔ اسلام میں محنت سے روزی کمانے کا کہا گیا ہے جبکہ لوگوں نے گداگری کو کاروبار بنا لیا ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھْو رحمتہ اللہ علیہ ان لوگوں کے متعلق کلید التوحید کلاں میں فرماتے ہیں :
یہ لوگ فقیر نہیں جو کتے کی طرح ہر دروازے سے لقمے مانگتے پھرتے ہیں۔ یہ تو بدمذہب و بدنظر و تارکِ نماز اہل ِ بدعت خبیث شرابی اور شیطان صفت لوگ ہیں جن کے نصیب میں معرفت ِ الٰہی کی نعمت نہیں۔ جو لوگ ان سے دوستی رکھتے ہیں ان سے دوستی دراصل خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دشمنی ہے۔

اس فرمان سے بھی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان گداگروں اور بھکاریوں کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا۔ ان میں سے کچھ تو سنگین سے سنگین جرائم میں بھی ملوث ہوتے ہیں یہ لوگ فقیر کیسے ہوسکتے ہیں؟ یہ لوگ فقیر ہرگز نہیں۔فقیر سے مراد وہ ولی ِکامل ہے جو فنا فی اللہ ہو چکا ہو جیسا کہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 273 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

صدقات تو ان فقرا کے لیے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اللہ کی راہ میں وقف کردی ہے اور زمین میں چل پھر کر کسب ِ معاش نہیں کرتے۔ تم نادان ہو جو انہیں صورت دیکھ کر پہچان نہیں سکتے (یعنی تمہارے پاس نورِ بصیرت نہیں ہے جس سے انہیں پہچان سکو) کہ وہ خوشحال ہیں۔ لوگوں سے لپٹ کر اور گڑگڑا کر سوال نہیں کرتے دراصل صدقہ و خیرات کے مستحق یہی لوگ ہیں اوراللہ اسے خوب جانتا ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فقیر سے قیامت کے دن ایسے معذرت کرے گا جیسا کہ آدمی آدمی سے کرتا ہے اور فرمائے گا کہ میری عزت و جلال کی قسم! میں نے دنیا کو تجھ سے اس لیے دور نہیں کیا تھا کہ تو میرے نزدیک ذلیل تھا بلکہ اس لیے ہٹایا تھا کہ تیرے لیے آج بڑا اعزاز ہے۔ اے میرے بندے! ان جہنمی لوگوں کی صف میں چلا جا اور جس نے میرے لیے کھانا کھلایا ہو، کپڑا دیا ہووہ تیرا ہے۔ وہ اس حالت میں ان میں داخل ہوگا کہ لوگ منہ تک پسینہ میں غرق ہوں گے اور وہ ان کو پہچان کر جنت میں داخل کرے گا۔ (ریاض الریاحین)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت کی ہے فقرا مالداروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (ترمذی۔ ابن ِ ماجہ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ہر چیز کی ایک کنجی ہے اور جنت کی کنجی فقرا و مساکین کی محبت ہے۔ ان کے پاس بیٹھا کرو کیونکہ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہم مجلس ہوں گے۔ (کلید التوحید کلاں)

سیّدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ اپنی تصنیف فیوضِ غوثِ یزدانی میں تحریر فرماتے ہیں:
اپنا کھانا متقیوں کو کھلاؤ۔ جب تو اپنا کھانا متقی لوگوں کو کھلائے گا اور دنیاوی کاموں میں اُن کی مدد کرے گا تو اُن کے عمل میں شریک ہو جائے گا اور اُن کے اجر میں سے کچھ بھی کم نہ کیا جائے گا کیونکہ تو نے اُن کے مقصود کی مدد کی اور اُن کے دنیوی بوجھ کو اُن سے اٹھا لیا اور جب تو اپنا کھانا کسی منافق، ریاکار اور گناہگار کو کھلائے گا اور دنیا کے کاموں میں اس کی مدد کرے گا تو تُو اس کے عمل میں شریک ہو جائے گا اور اس کے عذاب میں کچھ کمی نہ ہوگی کیونکہ تو نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کرنے میں اس کی مدد کی۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھْو رحمتہ اللہ علیہ فقیر کے متعلق اپنی مختلف تصانیف میں ذکر فرماتے ہیں:
فقیر کو گدا کیوں سمجھتا ہے؟ فقیر تو سلطان ہے اور اس کی بادشاہی ملک ِ بقا تک ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
 فقیر کی نظر بھی خزانہ ہوتی ہے اور اس کے قدموں میں بھی خزانہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود لایحتاج رہتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
مندرجہ بالا احادیث و فرامین کے مطابق فقیر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اللہ کے بندوں پر اللہ کی رحمت کروانے کے لیے طلب کرتا ہے نہ کہ اپنی ذات کے لیے اور حدیث کے مطابق اللہ خود قیامت کے دن فقیر سے معذرت کرے گا تو سوچنے کی بات ہے کہ جو فقیر کے مال طلب کرنے پرجو خود اس انسان کی بہتری کے لیے ہے‘ نہیں دیتا یا اسے چھپاتا ہے تو اللہ کے غضب کو کھلم کھلا دعوت دیتا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی راہ میں زیادہ سے زیادہ مال خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے ذریعے اپنا قرب عطا فرمائے۔ آمین

استفادہ کتب:
۱۔ نور الہدیٰ کلاں تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ
۲۔ کلید التوحید کلاں  ایضاً
۳۔ حقیقت زکوٰۃ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

 
 
 

27 تبصرے “راہِ حق میں مالی قربانیوں کی ضرورت اور اہمیت | Rahe Haq Main Maali Qurbaniyon ki Zarorat or Ahmiyat

  1. اللہ پاک ہم سب کو صدقِ دل سے راہِ فقر میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے

  2. اللہ پاک ہم سب کو صدقِ دل سے راہِ فقر میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے

  3. صدقات تو ان فقرا کے لیے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اللہ کی راہ میں وقف کردی ہے اور زمین میں چل پھر کر کسب ِ معاش نہیں کرتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں