سخاوت قربِ الٰہی کا ذریعہ | Sakhawat Qurb e Ellahi ka Zariya

سخاوت  قربِ الٰہی کا ذریعہ

تحریر: وسیم آصف سروری قادری (لاہور)

سخاوت عربی لفظ’’ سخا ‘‘سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کھلے دل سے خرچ کرنا۔ اصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ سہولت اور آسانی کے ساتھ خرچ کیا جائے ،جب خرچ کرنے میں تنگی محسوس نہ ہو، کسی قسم کے تردد کا اظہار نہ کیا جائے اور کسی پریشانی اور پشیمانی کا خرچ کرنے کے دوران سامنا نہ ہو۔ اس جذبے اور طبیعت کے ساتھ خرچ کرنا سخاوت کہلاتا ہے۔ یہ کھلے دل سے خرچ کرنا تمام نعمتوں کے لیے ہے جس میں دولت، علم، وقت اور صحت شامل ہیں۔ مال کی سخاوت کو ہی زیادہ تر توجہ دی جاتی ہے جبکہ علم، کام اور صحت و صلاحیتیں خرچ کرنے کو لوگ سخاوت نہیں سمجھتے جو کہ غلط نظریہ ہے۔

 سخاوت بخل اور تنگی کی ضد ہے، بخل میں خرچ کرنے کو جی نہیں چاہتا اور خرچ کرنا تکلیف واذیت کا باعث بنتا ہے۔ بخل ایک باطنی بیماری ہے جو انسان کے اندر موجود کچھ غلط نظریات کی وجہ سے پروان چڑھتی ہے کہ یہ مال، یہ علم، یہ نعمت میری ہے اس پر صرف اور صرف میرا حق ہے۔ اس طرح بخیل شخص اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھنا چاہتا ہے ۔وہ اپنے اہل ِخانہ اور عزیزو اقارب پر خرچ کرنے سے کترانے لگتا ہے۔ اس کے بر عکس سخی جانتا ہے کہ اسے جو کچھ مل رہا ہے وہ اللہ کی رحمت ہے۔ وہ اللہ کی رضا کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مناسب موقعوں پر‘ اپنے آپ پر اور اپنے اہل و اعیال پر خرچ کرنے کے ساتھ لوگوں کی بھلائی اور دین کی راہ میں بھی خرچ کرتا ہے۔ سخی دین کے احکامات کو اچھی طرح سمجھتا ہے اس لیے اللہ کی خوشی حاصل کرنے کے لیے وہ شوق سےمسلسل سخاوت کرتا رہتا ہے ۔

انسان ہمیشہ ان چیزوں اور لوگوں پر آسانی سے خرچ کرتا ہے جن سے و ہ محبت کرتا ہے۔ وہاں نہ وہ گنتا ہے اور نہ ہچکچاتا ہے۔ اس احساس کو اولاد کے لیے کیے جانے والے خرچوں میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس وقت دل اور زبان پر یہی الفاظ ہوتے ہیں ’’سب کچھ انہیں کا تو ہے، یہ ساری محنت انہی کے لیے تو کر رہے ہیں ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ دین اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے وقت یہی لوگ ہچکچاتے نظر آئیں گے کیونکہ اللہ کی محبت پر دوسری محبتیں غالب آجاتی ہیں۔ ان کے نزدیک ایک اور بہانہ بھی موجود ہے کہ اللہ کی راہ میں وہی مسلسل خرچ کر سکتا ہے جو خرچ کرنے کی نیت ٹھیک رکھتا ہے۔ نیت دل کے پختہ ارادے کا نام ہے۔ جب اپنی ذات اور اولاد کی باری آتی ہے ’’سادگی‘‘ کتابی بات لگتی ہے۔ اس وقت سب سے مہنگے ترین Brandکی اشیا استعمال کرنا ہوتی ہیں۔ ایسے لوگوں کی اولادیں بھی نسبتاً زیادہ شوخ مزاج ہوجاتی ہیں۔ وہ بھی مال اور وقت کو کہاں اور کتنا خرچ کرنا ہے نہیں سیکھ پاتیں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کے لیے نہ مال بچتا ہے نہ حوصلہ۔ 

سخاوت کرنے میں مال کی محبت سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہتی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے ’’ اور مال سے بے حد محبت کرتے ہو ‘‘ (سورۃالفجر ۔20) 

ایک تو مال و دولت کی محبت اوپر سے ستم ظریفی یہ کہ موجودہ دور کے میڈیا نے انتہائی امیر لوگوں کے شاہانہ طرزِ زندگی کو ہر خاص و عام تک پہنچادیا ہے۔ انسان اپنے اور اپنی اولاد کے لیے یہی آسائشیں چاہتا ہے مزید یہ کہ بچوں کے روشن مستقبل کی بھی فکر رہتی ہے۔ وہ اللہ کے ذکر اور سخاوت کو پس پشت ڈال کر ہر جائز اور ناجائز طریقے سے مال و جائیداد اکٹھا کرنے کے لیے دیوانہ وار لگ جاتاہے۔ جب زیادہ جائیداد جمع ہو جاتی ہے تو دین کی سر بلندی اور حق کے غلبہ کے لیے تو دور کی بات ہے فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہوئے بھی جان نکلنا شروع ہوجاتی ہے۔ اللہ ایسے لوگوں کے دل کا سکون چھین لیتا ہے۔ آج کے دور میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے پاس بے تحاشہ جائیداد ہے مگر دل کا سکون بالکل نہیں ہے جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں: 

 جیندے گھر وچ بوہتی دنیا، اوکھے گھوکر سووَن ھُو 

یعنی سکون اتنا ختم ہو چکا ہے کہ اب نیند بھی مشکل سے آتی ہے۔ اس کے بر عکس مومن سخی ہوتا ہے وہ کماتا بھی ہے اور اپنی شرعی حدود میں بھی رہتا ہے۔ ساتھ ساتھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرتا رہتا ہے تو اللہ اس کے دل کو سکون بخشتا رہتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے ‘‘۔ (سورۃ البقرہ ۔262)
آئیے قرآن و حدیث اور اقوالِ بزرگانِ دین کے ذریعے سخاوت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

سخاوت کے متعلق قرآنی آیات 

قرآن پاک میں 80 سے زائد مقامات پر خرچ کرنے کا حکم آیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور احسان کرو بیشک اللہ تعالیٰ محسنین سے محبت کرتا ہے۔ (سورۃ البقرہ۔ 195)
 کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے پھر وہ اس کے لیے اسے کئی گنا بڑھا دے اور اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (سورۃ البقرہ ۔245) 
 اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی ( کام آئے گی) اور نہ شفاعت (ہو سکے گی) ۔ (سورۃ البقرہ 254) 
 اور تم جو مال بھی خرچ کرو وہ تمہارے اپنے فائدے میں ہے اور اللہ کی رضا کے سوا تمہارا خرچ کرنا مناسب ہی نہیں ہے اور تم جو مال بھی (راہِ خدا میں) خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا پورا اجر دیا جائے گااور تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ البقرہ ۔272) 
 آگ سے بچے گا وہ متقی جو اپنا مال خرچ کرتا ہے اور کسی کا اس پر احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے مگر ربِ اعلیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اور وہ عنقریب راضی ہو جائے گا۔ ( سورۃ الیل 17-21) 
 تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو اور جو کچھ تم خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے۔ (سورۃ آلِ عمران 92) 

سخاوت احادیث ِنبوی کی روشنی میں

 حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’سخی اللہ کے قریب ہے، جنت کے قریب ہے تمام لوگوں کے قریب ہے، جہنم سے دور ہے اور بخیل اللہ سے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے (جبکہ )دوزخ کے قریب ہے‘‘۔ (سنن الترمذی )
 حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اپنی حیات میں ایک درہم خرچ کرنا مرتے وقت سو درہم خرچ کرنے سے افضل ہے ۔‘‘
 نماز، کلمہ طیب اور سخاوت گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔ 
 اے آدم کے بیٹے! تو ضرورت سے زائدمال خرچ کر دے یہ تیرے لیے بہتر ہے اور تو اگر اس کو روک کر رکھے تو تیرے لیے برا ہے اور بقدر ِ کفایت روکنے پر ملامت نہیں۔ (مسلم)
 حضرت ابو سعید ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ دو خصلتیں مومن میں جمع نہیں ہوں گی بخل اور بداخلاقی ‘‘۔ (ترمذی شریف)
بخیل اللہ کا دشمن ہے چاہے وہ زاہد ہی کیوں نہ ہو۔

اقوال حضرت علی ؓ

 بے شک اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو ہاتھ کے سخی اور دین کے احکام پر چلنے میں مضبوط ہوں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے نا خوش رہتا ہے جو بے شرم اور گناہوں پر دلیر ہیں۔
 سخاوت گناہوں کو مٹاتی اور لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتی ہے۔
 جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر لوگوں کو اپنا مال دولت دیتا ہے اور اس کی خوشنودی کے لیے ان سے روکتا ہے اور اس کی خوشی کے واسطے ان سے محبت رکھتا ہے یاد شمنی کرتا ہے تو وہ اپنے ایمان کو کامل کر لیتا ہے۔

بزرگانِ دین کے اقوال

سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں ’’اولیا اللہ کا شغل سخاوت کرنا اور مخلوق کو راحت پہنچانا ہے۔ وہ لٹانے والے ہیں وہ بخشنے والے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے جو کچھ انہیں ملتا ہے وہ اسے لٹاتے ہیں فقیروں اور مسکینوں پر جو کہ تنگدست ہوتے ہیں۔ ہبہ کرتے ہیں اور ان کے قرضداروں کی طرف سے جو کہ اپنے قرض ادا کرنے سے عاجز ہیں ان کے قرض ادا کرتے ہیں یہ بادشاہ ہیں کہ دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں کہ جو بادشاہانِ دنیا کو لوٹتے ہیں اور قوم کو دیتے نہیں۔ (الفتح الربانی مجلس 34) 
 مال کے ساتھ بخل نہ کر پس عنقریب تو اس سے جدا ہوجائے گا ۔بندۂ مومن جس کودنیا اور آخرت میں اپنے صدقہ کا بدلہ ملنے کا یقین ہوتا ہے وہ بخیل نہیں ہوا کرتا۔ (الفتح الربانی مجلس29) 

حضرت داتا علی ہجویریؒ کشف المحجوب میں فرماتے ہیں :
 اسخیاکا مال خرچ ہوتا رہتا ہے وہ مال میں کنجوسی نہیں کرتے اور نہ مال کی بدولت کسی سے جھگڑا کرتے ہیں کیونکہ ان کی ملکیت میں کچھ رہتا ہی نہیں۔ 

 حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کے مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی ؒفرماتے ہیں ’’جس میں یہ باتیں جمع ہوں بیشک اس کو خدا دوست رکھتا ہے:
(1) سخاوت مثل دریا
(2) شفقت مثل آفتاب
(3) تواضع مثل زمین 

 حضرت ابو القاسم ؒ فرماتے ہیں ’’ایساشخص سخی نہیں ہوتا جو دی ہوئی چیز کو دیکھے یا اس کا ذکر کرے۔ سخی وہ ہوتا ہے جو سخاوت کر کے (بتانے سے) شرم کھائے، اس شے کو حقیر جانے یا اسے یاد نہ کرے۔‘‘ 

حضرت سلطان باھُوؒ کے اقوال 

 مومن کے پاس تین چیزیں ہوتی ہیں تن، مال اور دین۔ مومن جب دین ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس کرتا ہے تو تن و مال کو قربان کردیتا ہے مگر دین کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ( اس کے برعکس ) منافق آدمی اپنی جان و دین کومال پر قربان کر کے مال و دولت کماتا ہے اور دین سے بے دین ہو کر مر جاتا ہے تو اس بخیل کا مال دوسرے لوگ کھاتے ہیں اور وہ نارِ جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں جا گرتا ہے۔  ( محک الفقر کلاں)
 صاحب ِ نفس امارہ سیری کے وقت فرعون ،بھوک کے وقت پاگل کتا ،شہوت کے وقت بے عقل حیوان اور وقت ِسخاوت قارون ہوتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
 جب کوئی بندہ دنیا کا مال حاصل (جمع) کرتا ہے اور اس کی محبت دل میں رکھتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ یہ میرا غلام بن گیا ہے کیونکہ دنیا میری متاع ہے۔ (عین الفقر)
 جب بھی دنیا کے مال پر مہر لگائی جاتی ہے تو شیطان اس کو اٹھا کر اپنی پیشانی پر لگاتا ہے اور دنیا کے مال سے کہتا ہے جو بھی تجھے محبوب رکھے گا وہ میرا بندہ ہو گا۔ ( عین الفقر)
اوپر بیان کردہ اقوال میں مال کی محبت کی مذمت کی گئی ہے جو کہ اللہ کی رضا کی خاطرسخاوت کو چھوڑ کر بخل پر مجبور کرتی ہے۔ 

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے اقوال  

مرشد کامل اکمل جامع نو رالہدیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں :
 راہِ فقر بخل کی نہیں ،سخاوت کی راہ ہے۔
 اللہ پاک جب کسی کو اپنا بناتا ہے تو اسے تین نعمتوں سے نوازتا ہے عشق ِ حقیقی،سخاوت اور زمین جیسی عاجزی۔
 جو پیسہ قسمت میں نہیں اسے جانا ہی ہے بہتر یہ ہے کہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا جائے۔
 جس دل میں اللہ کی محبت آجاتی ہے وہ دل سخاوت کا گھر بن جاتا ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سخاوت 

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وآلہٖ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خرچ کرنے اور سخاوت کرنے کی شان ’’ الریح المرسلہ ‘‘ تیز ہوا کی طرح تھی جو کچھ مالِ غنیمت، تحائف، ہدایا، عطیات، صدقات خیرات آتے وہ فوراً خرچ کر دیتے۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک بار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں اَسی ہزار درہم لائے گئے۔ آپ ؐ نے ان سب کو ایک چادر پر پھیلادیا اور جب تک ان کو تقسیم نہ فرمادیا اپنی جگہ سے نہ اُٹھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے شکم ِاطہر پر بھوک کی وجہ سے پتھر بندھا ہوا تھا۔

خلفائے راشدین کی سخاوت  

یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تربیت یافتہ ہستیاں تھیں جو سادگی اور قناعت کے ساتھ زندگی گزارتے اور سخاوت بالکل آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تربیت کے مطابق کرتے رہے ۔
حضرت ابو بکر صدیق ؓ جب ایمان لائے تو آپ ؓ کے پاس چالیس ہزار اشرفیاں تھیں جو سب کی سب آپؓ نے اللہ کی رضا کے لیے خرچ کر دیں۔
حضرت عمر فاروق ؓ کو روم کے بادشاہ ہر قل نے نہایت قیمتی اور انمول قسم کے موتی کافی تعداد میں بطور تحفہ بھیجے۔ جب حضرت عمر ؓ کی خدمت میں پیش کیے گئے تو آپؓ نے ان موتیوں کو دیکھ کر کچھ اندازہ لگایا کہ ان کی قیمت کا اندازہ تو جو ہری ہی کر سکتے ہیں چنانچہ مدینہ منورہ کے قابل ترین جوہریوں نے جانچ پرکھ کر جواب دیا کہ یہ بہت قیمتی ہیں ۔ان کی جتنی بھی قیمت لگائی جائے کم ہے مگر اس کے باوجود آپؓ نے اپنی ذات کے لیے ایک بھی موتی اپنے پاس نہ رکھا اور حکم دیا کہ تمام موتیوں کو فروخت کر کے رقم کو بیت المال میں جمع کر دیاجائے۔ (سیر ۃالصالحین) 

جنگ ِتبوک کے موقع پر حضور ِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرام ؓ کو اس جنگ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دلائی۔ اس موقع پر صدق و وفا کے پیکر خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے گھر کا تمام مال و اسباب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دریافت کیا کہ گھر میں کیا چھوڑا تو عرض کیا ’’اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم‘‘ یعنی ان کی رضا کو۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے اس موقع پر گھر کا نصف مال لا کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ آلہٖ وسلم کے قدموں میں نچھاور کر دیا۔ اس وقت حضرت عثمان غنی ؓ نے ایک سو اونٹ سامان سے لدے ہوئے دئیے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے باربارترغیب دینے پر مزید سات سو اونٹ اور ایک ہزار اشرفیاں دیں۔

حضرت عثمان غنی ؓ جس وقت ایمان لائے اس وقت بہت زیادہ مالدار تھے لیکن قبولِ اسلام کے بعد آپؓ نے اپنا تمام مال اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ جنگیں ہوں، مدینہ کا قحط ہو،مسجدِ نبویؐ کی زمین کی خریداری ہو، مدینہ میں میٹھے پانی کے کنویں کی خریداری ہو یا ازواجِ مطہرات کے حج کے اخراجات ہوں، آپؓ نے اپنا مال ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا۔ شہادت کے دن آپؓ کی ملکیت صرف ایک اونٹنی تھی جو آپؓ نے سفر ِحج کے لیے رکھی ہوئی تھی ۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا دست ِکرم بہت کشادہ تھا۔اپنی ضروریات کی پرواہ کیے بغیر سوالیوں کی جھولی بھر دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہٗ روزہ سے تھے۔ افطاری کا وقت قریب تھا کہ دروازے پر ایک سوالی نے دستک دی۔ پتہ چلا سوالی ہے اور بھوکا ہے۔ سامانِ خورد و نوش جو افطاری کے لیے تیار کیا تھا وہ سوالی کے سپرد کر دیا گیا اور خود پانی سے روزہ افطار کیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ آپ ؓ کا قول ہے ’’مجھ پر کبھی بھی مال کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوئی، کیا سخی پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے!‘‘

روایات اس بات پر شاہد ہیں کہ سیّد نا امام حسن ؓ کے دربارِ اقدس سے کبھی کوئی خالی نہ گیا اور ہر وقت سخاوت کا دروازہ کھلا رہتا۔ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ کشف المحجوب میں بیا ن فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک اعرابی آپؓ کے در پر آیا اور گالیاں بکنے لگا۔ پیکرِ حلم نے سب کچھ برداشت کرتے ہوئے کہا ’’اے اعرابی! کیا تجھے بھوگ لگی ہے یا پیاس یا کوئی مصیبت تجھے لاحق ہے مجھے بتا تاکہ میں تیری مدد کروں‘‘۔ آپ ؓ نے غلام کو حکم دیا کہ درہموں کی ایک تھیلی اس اعرابی کو لا کر دے دو اور اعرابی سے فرمایا معاف کرنا اس وقت گھر میں یہی کچھ موجود تھا اور کچھ موجود ہوتا تو میں تمہیں دینے سے دریغ نہ کرتا۔ جب اس اعرابی نے آپ ؓ کی بات سنی تو بے اختیار پکار اٹھا ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صاحبزادے ہیں اور میں تو آپؓ کے حلم اوربردباری کا تجربہ کرنے آیا تھا‘‘۔  

راہِ فقر اور سخاوت 

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کا قول مبارک ہے:
راہِ فقر راہِ عشق ہے اور عشق قربانی کا طلبگار ہے۔ اس راہ میں اس وقت تک کامیابی نہیں ہوتی جب تک طالب اپنا سب کچھ اور ہر شے اللہ کی راہ میں قربان نہیں کر دیتا۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)  

یعنی عشق زبانی دعویٰ کا نام نہیں ہے۔ اس کی وضاحت آپؒ کے محرمِ  راز اور سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنی کتاب ’’حقیقت ِزکوٰۃ‘‘ میں بیان کرتے ہیں ’’ اور کوئی مومن ایسا نہیں ہے جو یہ دعویٰ نہ کرتا ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیزسے زیادہ محبوب رکھتا اور سمجھتا ہے کیا واقعی وہ اس پر عمل پیرا بھی ہے۔ لہٰذا اس دعویٰ کے ثبوت کی ضرورت پیش آ جاتی ہے تاکہ ہر کوئی اپنے بے حاصل دعویٰ پر مغرور و نازاں نہ ہو بیٹھے۔ مال و دولت چونکہ آدمی کے محبوبوں میں سے ایک محبوب ہے لہٰذا آدمی کو اس کے ذریعے آزمایا گیا ہے اور کہہ دیا گیا ہے ’’اگر تو اپنے دعویٰ محبت میں سچا ہے تو آ! اور اللہ کی دوستی کی راہ میں اس ایک محبوب کو ہی قربان کر کے دکھا ‘‘۔ (حقیقت ِزکوٰۃ) 

جو طالب عشق میں تڑپ رہے ہوتے ہیں مال کی کشش انہیں کہاں اپنی طرف کھینچ سکتی ہے۔ اس لیے وہ مال جمع کرنے کی طمع سے آزاد ہوتے ہیں پھر جب خرچ کرنے کا حکم آتا ہے تو اپنا سارا مال و اسباب اپنے محبوب پر نچھاور کر دیتے ہیں۔ 

جس طرح لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے اس طرح سارے مرید بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ حقیقتاً راہِ حق کے سفر کے شروع میں ابھی ان کے دل میں دنیاوی رشتوں، چیزوں کے ساتھ اورمال کی محبت موجود ہوتی ہے۔ جب ذکر وتصور اسم ِاللہ ذات اور مرشد کامل اکمل کی نورانی صحبت کے ذریعے ان کے باطن میں تبدیلی لائی جا رہی ہوتی ہے تو اس دوران اگر انہیں مرشد کے خانقاہی نظام میں کسی مالی یا بدنی کام کرنے کی دعوت دی جا رہی ہو تو اس وقت آگے بڑھ کر اس دعوت کو قبول کرنا چاہیے۔ شیطان بھی ایسے موقعوں پر ان کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور طرح طرح کی مصلحتیں بتاتا ہے۔ اگر وہ اس کے دام میں نہیں آتے تو پھر دوسری طرح کے وسوسے ڈالے گا جیسے ’’اتنا زیادہ مال خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے، یا ایسا کرو ابھی رہنے دو پھر کسی موقع پر خرچ کر دینا‘‘۔ اگر طالب رک جائے تو اگلے مواقع آنے سے پہلے ہی مال کو اِدھر اُدھر لگوا نے کی کوشش کرے گا۔ اگر طالب کر گزرے توپھر اس کے قریبی رشتہ داروں کے ذریعے مزید زیادہ کرنے سے روکے گا جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھُو ؒ فرماتے ہیں:
’’جان لے کہ سخاوت کرتے وقت سخی سے تین قسم کے لوگ ناراض ہوتے ہیں ایک اس کے ساتھ رہنے والے خادم،دوسری اس کی گھر والی یعنی اس کی بیوی قہر اور غصہ کرتی ہے اور تیسرے اس کی جائیداد پر موکل اور جاسوس بیٹے ہیں‘‘۔ (گنج الاسرار) 

ایسے طالبوں کو اپنا توکل پختہ رکھنا چاہیے اور سوچ کومثبت رکھتے ہوئے مسلسل سخاوت کرتے رہنا چاہیے۔ مرشد کامل اکمل چونکہ ان ساری باتوں سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے اس لیے وہ ہر مرید کو اس کی استطاعت کے مطابق ہی منزل کی طرف لے کرچلتاہے۔ طالب اگر بہت خلوص و صدق کے ساتھ بہت تھوڑے سے بھی شروع کرتا ہے اور استقامت سے مسلسل خرچ کرتا رہتا ہے تو مال کی محبت اور دوسری محبتوں پر اللہ کی محبت غالب آتی جاتی ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ سخاوت کرنے کی توفیق ملتی جاتی ہے۔کچھ ہی عرصہ بعد وہ اتنا زیادہ تعاون کر رہے ہوتے ہیں کہ عشق کے سفر پر گامزن نظر آتے ہیں۔ اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

کچھ ایسے بھی مرید ہوتے ہیں جو یہ دیکھنے کے باوجود کہ معرفت ِ حق کی جدوجہد میں مرشد کے زیر نگرانی زمانے کی شان کے مطابق طرح طرح کے کاموں میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے‘ سالہا سال تعاون کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھتے۔ بنیادی طور پر وہ اپنے نفس کے خلاف جانے کی ہمت نہیں کر پاتے اس طرح ان کے دل میں اللہ کی محبت پروان نہیں چڑھتی جس کے بارے میں سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں ’’اس دل میں اللہ کی محبت کیسے آسکتی ہے جہاں دولت کی محبت ہو‘‘۔ (نفس کے ناسور) 

ایسے مریدوں کو ہر دعوت پر اپنے آپ کو خود ملامت کرنا چاہیے کہ ’’اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کرنا ہوتا ہے اور مجھ سے اپنے مال میں سے ذرا سا حصہ بھی نہیں دیا جا رہا‘‘۔ ساتھ ساتھ صحابہ کرامؓ اور دوسرے بزرگانِ دین کے طرز ِ عمل کو بھی سامنے رکھنا چاہئے کہ جب وہ اپنے مرشد کے پاس پہنچے تھے تو کس طرح انہوں نے اپنے مرشد کو راضی کیا تھا۔ اس سلسلے میں سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی زندگی سے کچھ مثالیں اختصار کے ساتھ بیان کی جارہی ہیں۔

دسمبر 1998ء میں جب حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی ؒ گھوڑا خرید نے کے لیے لاہور آئے تو ایک لاکھ کی رقم کم پڑ گئی تو سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے وہ رقم ادا کی۔

1999ء میں حضرت سخی سلطان محمداصغر علی ؒ کے پاس جو گاڑی تھی اس میں ACنہیں تھا اور سیٹوں کی بناوٹ بھی آرام دہ نہ تھی جس کے باعث آپؒ کے پاؤں میں ورم آ جاتا اور کمر میں شدید درد ہوتا۔ اس پر حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے نئی امپورٹڈ ٹیوٹا ہائی لکس  (4x4Double Cabin) سلطان الفقر ؒ کے نام سے خرید کر آپ ؒ کی بارگامیں پیش کی ۔

1999ء میں ہی حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیزؒ کے دربار سے ملحقہ زمین (کے رقبہ) میں سے 6.5 ایکڑ زمین کو دوسرے صاحبزادگان فروخت کرنا چاہتے تھے۔ اگر وہ یہ زمین کسی اور کو فروخت کرتے تو دربار کی زمین تنگ ہو جاتی اور ساتھ ہی راستہ بھی نہ رہتا۔اس پر آپ مدظلہ الااقدس نے زمین خریدنے کے لیے ساری رقم پیش کر دی اور زمین حضرت سلطان الفقرششم حضرت سخی سلطان محمداصغر علی ؒ کے نام سے ہی خریدی گئی۔

2000ء میں آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد پاک سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کو شدید گرمی میں پسینے سے شرابور دیکھا تو فوراً ان کے کمرے میںAC لگوا دیا۔ اس خدمت سے خوش ہو کر سلطان محمد اصغر علیؒ نے اوچھالی شریف میں اپنے کمرے میں ACلگوانے کا حکم آپ مدظلہ الاقدس کوہی دیا۔

اس کے علاوہ اپنے مرشد کے لیے ہر موسم کے اعلیٰ ملبوسات خرید کر دیتے رہے۔ اس کے علاوہ بھی مالی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ غرضیکہ آپ مدظلہ الاقدس نے جو بھی کمایا تھا سب مرشد پر نچھاور کر دیا۔ 2001ء میں جب آپ مدظلہ الااقدس کے مرشد نے حج کرنے کا حکم دیا تو ساتھ ہی اپنے اور آپ مدظلہ الاقدس کے سفر کی اہمیت کے بارے میں بھی آگاہ کیا تو اس وقت آپ مدظلہ الاقدس کے پاس کچھ نہیں تھا سوائے ایک ذاتی گاڑی کے جو آپ اور آپ مدظلہ الااقدس کے اہل ِخانہ کی سفری ضروریات کے لیے تھی۔ آپ مدظلہ الاقدس نے وہ گاڑی بیچ کر اپنے مرشد اور دیگر ساتھیوں کے سفرِ حج کے اخراجات پورے کیے۔ اس کے علاوہ اپنے مرشد کی تحریک کے لیے اور بھی بے شمار ڈیوٹیاں کیں جنہیں طوالت کی وجہ سے بیان نہیں کیا جا رہا۔

طالبانِ مولیٰ کے لئے مرشد کی زندگی ہی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے۔ انہیں اپنے مرشد کی زندگی سے سیکھنا چاہیے کہ کس طرح ہمارے ہادی و مرشد نے استقامت و ثابت قدمی سے ہر ہر موقع پر اپنی ذات اور خواہشات کو پس ِ پشت ڈال کر محض اپنے مرشد کی رضا کو مقدم رکھا اور عشق کے میدان سَر کرتے چلے گئے۔ عین اُسی طرح طالبانِ مولیٰ کو بھی بڑھ چڑھ کر اپنے مرشد کی صدا پر لبیک کہنا چائیے نہ کہ ہم اس انتظار میں رہیں کہ کوئی دوسرا یہ کام سر انجام دے لے اور ہماری جان خلاصی ہو جائے۔ یاد رکھیے !سروری قادری مرشد کامل اکمل دلوں کے حال سے واقف ہوتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون سا مرید کس وقت کتنا تعاون کر سکتا ہے۔ یہی وقت ہے مرشد سے وفا کرنے اور سبقت لے جانے کا لہٰذاحبّ ِ مال و زر کی باطنی بیماری سے دائمی نجات کے لئے زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی عادت بنائیں اور دین و دنیا میں اللہ کی رضا کے حقدار بنیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر رشتے ہر محبت اور چاہت سے بڑھ کر صرف اور صرف اللہ کی رضا کی خاطر اسکی بارگاہ میں بے حساب خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

استفادہ کتب:
۱۔ الفتح الربانی تصنیف سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ
۲۔ کشف المحجوب تصنیف علی بن عثمان الہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ
۳۔ کلید التوحید کلاں تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ
۴۔ محک الفقر کلاں ایضاً
۵۔ عین الفقر ایضاً
۶۔ گنج الاسرار ایضاً
۷۔ مجتبیٰ آخر زمانی تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۸۔ حقیقت ِزکوٰۃ  ایضاً
۹۔ نفس کے ناسور ایضاً
۱۰۔ اقوالِ علی کا انسائیکلوپیڈیا از یوسف مثالی

 

28 تبصرے “سخاوت قربِ الٰہی کا ذریعہ | Sakhawat Qurb e Ellahi ka Zariya

  1. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #sadqa

  2. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #sadqa

  3. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #sadqa

اپنا تبصرہ بھیجیں