معراج النبی ؐ | Miraj ul Nabi S.A.W.W

معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

محترمہ نورین سروری قادری (سیالکوٹ)

اللہ پاک نے اپنے برگزیدہ رسولوں اور نبیوں کو خصوصی معجزات سے نوازا۔ ہر نبی اور رسول کو ان کے عہد اور زمانہ کے لحاظ سے معجزات عطا کیے گئے تاکہ ان کی حقانیت ان کی قوم پر آشکار ہو جائے اور تمام بنی نوع انسانوں کے لیے ہدایت کا موجب بن جائے۔ امت ایمان کی دولت سے مالا مال ہو جائے اور اللہ پاک کے نبی کی صداقت ساری دنیا پر عیاں ہو جائے جیسا کہ حضرت موسیٰؑ کی قوم جادو میں کمال رکھتی تھی اور ہزاروں جادوگر دربارِ شاہی سے منسلک تھے۔ ان جادوگروں کے توڑ کے لیے اللہ پاک نے حضرت موسیٰؑ کو معجزہ عطا فرمایا۔

حضرت عیسٰیؑ کا دور طب کا دور تھا۔ آپؑ اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ رکھنے کی قدرت رکھتے تھے اور کوڑھیوں کو تندرست کر دیتے تھے۔ ہر نبی اپنے وقت میں اس دور کے ہر کمال سے آگے ہوتا ہے۔ امت جس کمال پر فائز ہوتی ہے اس زمانہ کے نبی اس کمال پر بھی حاوی ہوتے ہیں۔ نبوت و رسالت کا باب نبی آخر الزماں حضرت محمدؐ کے ساتھ بند ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ آقائے دو جہان کو اللہ پاک نے ایسے باکمال معجزات سے نوازا جن کا مقابلہ تمام زمانوں کی قومیں مل کر بھی نہیں کر سکتیں۔ اللہ پاک کو معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت چاند پر قدم رکھے گی اور ستاروں پر کمندیں ڈالے گی لہٰذا اللہ پاک نے اپنے محبوب نبیؐ کو مکان و لامکاں کی وسعتوں سے نکال کر اپنے قرب کی دولت اور اس کی حقیقت سے مالا مال فرمایا۔ تمام انبیا و رسل کے تما م معجزات ایک طرف اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا معجزۂ معراج ایک طرف، تمام معجزات مل کر بھی معجزۂ معراج کی عالمگیریت کو نہیں پہنچ سکتے۔ رجب کی ستائیسویں شب کو افضل الانبیا، سرورِ کونین اور تمام جہانوں کے سردار کو معراج کا شرف حاصل ہوا۔

معراج کا لفظ ’’عروج‘‘ سے ہے جس کے معنی ہیں ’’چڑھنا‘‘ اور ’’اوپر جانا۔‘‘ معراج اس چیز کو کہتے ہیں جو اوپرچڑھنے کا ذریعہ بنے یعنی سیڑھی۔ عربی لغت میں معراج ایک وسیلہ ہے جس کی مدد سے بلندی کی طرف چڑھا جائے، اس لحاظ سے سیڑھی کو بھی معراج کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی معنوں میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جسمانی وجود کے ساتھ مکہ سے بیت المقدس اور بیت المقدس سے آسمان کی طرف اور پھر واپس اس عالمِ ناسوت کی طرف سفر معراج کہلاتا ہے۔

عروج کے اس سفر میں جس کمال تک محبوبِ خدا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پہنچے اس کمال تک آپؐ سے پہلے اور آپؐ کے بعد کوئی بھی نہیں پہنچ سکا۔ حالانکہ اللہ پاک نے اپنے تمام انبیا کو ایک خاص حد تک معراج عطا فرمائی۔ معراج قرب اور وصالِ الٰہی کی و ہ منزل اور عروجِ انسانی کا وہ آخری مقام ہے جہاں بندے اور اللہ کے درمیان نہ کوئی حجاب رہتا ہے نہ فاصلہ اور دوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معراج روحِ انسانی کا عالم ِناسوت سے واپس عالم ِلاھوت میں اپنی حقیقت یعنی ذاتِ حق تعالیٰ کی طرف عروج کا سفر ہے۔ غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؓ معراج کے بارے میں الرسالۃ غوثیہ میں فرماتے ہیں:
  میں نے ربّ تعالیٰ کو دیکھا تو معراج کے متعلق پوچھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ’’اے غوث الاعظمؓ! معراج میرے سوا ہر چیز سے بلند وارفع ہوجانا ہے اور معراج کا کمال ’’ما زاغ البصر وما طغٰی۔ نہ آنکھ جھپکی اور نہ حد سے بڑھی‘‘ ہے۔ اے غوث الاعظمؓ! اس کی نماز ہی نہیں ہوتی جسکی میرے نزدیک معراج نہ ہو اور و ہ نماز سے محروم ہے۔‘‘

’’شجرۃ الکون‘‘ میں علامہ ابن ِعربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی معراج شریف کا راز‘ راز سے بھی راز میں تھا۔‘‘

حضرت شاہ سیّد محمد ذوقی ؒمعراج کے حوالے سے اپنی کتاب سرِّ دلبراں میں لکھتے ہیں ’’ہر اس چیز سے بلند ہو جانا جو ذاتِ باری تعالیٰ کے علاوہ ہے‘ معراج کہلاتی ہے۔ چنانچہ نماز مومن کے لیے معراج ہے کیونکہ نماز میں بندہ حق تعالیٰ کے سامنے ہوتاہے اور کوئی غیر چیز درمیان میں حائل نہیں ہوتی۔ مومنین عامہ کو ان کی شان کے مطابق، اولیا اللہ کو ان کی شان کے مطابق، انبیا علیہم السلام کو ان کی شان کے مطابق اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنی شان وعظمت ومرتبت کے مطابق معراج حاصل ہے۔‘‘ (سرِّ دلبراں)

سفر ِ معراج عالم ِبیداری میں

ڈاکٹر طاہر القادری اپنی کتاب ’’فلسفہ معراج النبیؐ ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ باطن کے پانچ لطائف ہوتے ہیں قلب، روح، سرّ، خفی اور اخفیٰ۔ سفر معراج عالم ِبیداری میں طے ہوا۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ معراج یک جہتی نہ تھی بلکہ تاجدارِ کائنات ؐ کو عطا ہونے والی معراج تمام لطائف کی بھی معراج تھی۔ وہ ایسے کہ ہر لطیفے کا مقام اپنی جگہ سے اٹھ کر اوپر چلا گیا یعنی جسم ِاطہرجو نفس کا مظہر تھا جب مقامِ قابَ قوسین پر پہنچا تو آقائے دو جہانؐ کا جسم ِاطہر جسم کے مقام سے اٹھ کر مرتبہ قلب پر پہنچ گیا جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ پاک کا دیدار سر کی آنکھوں سے کیسے کیا۔

امام طبرانی المعجم الکبیر و الاوسط میں حضرت ابن ِعباسؓ کا قول نقل کرتے ہیں:
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے ربّ کودو مرتبہ دیکھا ایک مرتبہ سر کی آنکھوں سے اور دوسری مرتبہ دل کی آنکھوں سے۔ (المواھب اللدنیہ۲:۳۷۔نشر الطیب۵۵۔ رقم۵۷۵۷)

سر کی آنکھیں جب تک مرتبہ جسم پر رہیں اللہ پاک کے حسن اور اس کے نورِ ذات کو نہیں دیکھا جا سکتا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب دیکھا تو سر کی آنکھیں مرتبہ قلب پر فائز ہو چکی تھیں اور جسم رتبے میں دل سے تبدیل ہو چکاتھا یعنی کھلی ہوئی تو سر کی آنکھیں تھیں مگر ان کا دیکھنا ایسا تھا کہ دل دیکھ رہا ہو۔ اس لئے قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا۔ (سورۃ النجم۔۱۱)

اس طرح قلب ِ حضورؐ کو معراج حاصل ہوئی تو وہ مرتبہ ٔروح پر پہنچ گیا یعنی دل تو پہلے ہی اللہ ربّ العزت کی محویت میں غرق تھاجب وہ روح کے مرتبے پر پہنچاتو فنا ہوگیا۔ پھر روح کو سرّ کا درجہ ملا تو وہ فنائے تام کے درجے تک پہنچی۔ پھر سرّ خفی اور اخفیٰ کے مرتبے تک پہنچاتو کبھی دَنٰی کے ذریعے مولا کو دیکھا تو کبھی ’’فتدلی‘‘ کے ذریعے قرب کی انتہائیں نصیب ہوئیں اور آخرکار مشاہدہ اپنے کمال کو پہنچ گیااور سفر ِمعراج میں تاجدارِ کائنات ؐ کے ہر لطیفے کو قربِ الٰہی نصیب ہوا اور وہ دیدارِ الٰہی کی لذتِ دوام سے ہمکنار ہوا۔ جب تمام مراحل طے پا گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس حال میں کرۂ ارض کی طرف لوٹے کہ ہر ہر لطیفے میں مولا کے قرب اور اسکے دیدار کی لذتیں سما چکی تھیں۔ (بحوالہ کتاب: فلسفہ معراج النبیؐ،ڈاکٹر طاہر القادری)

واقعہ معراج کب پیش آیا

واقعہ معراج اعلانِ نبوت کے دس سال بعداس وقت رونما ہوا جب آپؐ کے چچا ابو طالب اور آپؐ کی محبوب زوجہ مطہرہ حضرت سیّدہ خدیجہؓ وفات پا چکے تھے اور ان دونوں کی وفات سے رسول اللہؐ کی بہت سی حمایت اور ظاہری قوت و توانائی میں کمی واقع ہو گئی تھی اور دوسری طرف سفر طائف سے آپؐ کی واپسی پر یہ واقعہ رونما ہوا جہاں قبیلہ ثقیف نے آپ کو تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائی تھیں۔ اس طرح آپؑ کے لئے انسانی مدد و نصرت کے دروازے بند ہو چکے تھے۔ (بحوالہ کتاب معراجِ رسول : سید سراج احمد رضوی نوری)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپؐ کے رفقا شعب ِابی طالب سے ۱۰ نبوی میں باہر نکلے اس وقت حضرت خدیجہؓ بھی آپؐ کے ہمراہ تھیں۔ معراج سفر طائف سے واپسی پر ۱۱نبوی میں کسی مہینے میں ہوئی۔ شیخ الاسلام حافظ ابن قیم لکھتے ہیں کہ اسراا ور معراج کا واقعہ طائف سے واپس آنے پر ۱۱ نبوی میں ہوا اور کس مہینہ میں ہوا اس میں اختلاف ہے ربیع الاوّل یا ربیع الآخر یا رجب یا رمضان یا شوال میں ہوئی۔ زرقانی کہتے ہیں کہ امام ابن عبد البّر اور امام ابو محمد عبد اللہ بن مسلم بن قُتیبہ الدینوری اور امام نووی نے معراج کے لئے ماہِ رجب کا تعین کیا ہے۔ حافظ عبد الغنی بن عبد الواحد المقدسی بھی معراج ستائیسویں رجب کو ہوئی‘ پر اتفاق کرتے ہیں۔ قاضی محمد سلیمان مرحوم منصور پوری کے مطابق بھی معراج کا واقعہ ستائیں رجب کو پیش آیا۔ (بحوالہ کتاب معراجِ مصطفیؐ:شیخ الحدیث مولانا محمدعلی جانباز)

معراج رات کو کیوں ہوئی

اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو معراج دن میں ہوتی تو تما م لوگ دیکھ لیتے اوراس روشن حقیقت کو تسلیم کر لیتے مگر رات کے وقت نہ کسی نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جاتے دیکھا اور نہ ہی کسی نے آتے دیکھا۔ گویا اللہ کریم نے ہر چیز کو لوگوں سے پنہاں اور پردہ غیب میں رکھا تاکہ آزمائش ہو کہ کتنے اور کون سے لوگ اس غیب پرایمان لاتے ہیں۔ متقی اور خوفِ خدا رکھنے والے تو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس حقیقت ِغیبی پر سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیقؓ ایمان لائے۔ معراجِ پاک رات کو اس لئے بھی ہوئی کہ رات دن سے افضل ہے کیوں کہ رات دن سے پہلے پیدا کی گئی ہے جس طرح کہ حضرت ابن ِعباس ؓ اور ان کے دوسرے ساتھی فرماتے ہیں ’’معراجِ مصطفیؐ رات کو اس لئے ہوئی تاکہ یہ بات رد ہوجائے جو کہتے ہیں کہ دن بھلائی و نیکی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اوررات گناہ وبرائی کے لئے پیداکی گئی ہے۔ اللہ پاک نے معراج رات کو کروا کررات کو فضیلت و کرامت عطا کی تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ بھلائی و برائی اور نیکی و معصیت صرف اللہ پاک کی قدرت سے حاصل ہوتی ہے۔ (بحوالہ کتاب المعراج:صاحبزادہ سید افتخار الحسن)

سفرِ معراج کے مراحل

پہلا مرحلہ ۔۔۔بیت اللہ سے بیت المقدس تک:

عظمت اور محبت کے اس سفر کا پہلا مرحلہ بیت اللہ سے بیت المقدس تک کا سفر ہے اور یہ واقعہ متعدد صحابہ کرامؓ سے مروی ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصٰی تک، جس کو گھیررکھا ہے ہماری برکت نے تاکہ دکھلائیں اس کو اپنی قدرت کے نمونے، وہی ہے سننے والا اور دیکھنے والا۔ (بنی اسرائیل۔۱)

کتاب ’فلسفہ معراج النبیؐ‘ میں درج ہے کہ حضور رحمت ِعالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حطیم میں آرام فرما رہے تھے کہ حضرت جبرائیل امینؑ نے آ کر تاجدارِ کون و مکان کو جگایا۔ آپؐ نیند سے بیدار ہوئے، اِدھر اُدھر دیکھا اور لیٹ گئے۔ حضرت جبرائیل امینؑ نے دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بیدار کیا، آپؐ نے پھر سے ادھر ادھر دیکھا اور لیٹ گئے۔ تیسری مرتبہ پھر حضرت جبرائیل امینؑ نے درِ اقدس پہ آواز دی، اس مرتبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اٹھے تو جبرائیلؑ نے عرض کی: یا رسول اللہؐ! اللہ پاک نے آپؐ کو اپنی ملاقات کے لیے طلب کیا ہے۔ اس وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سینہ اقدس حلق سے لے کرناف تک چاک کیاگیا اور قلب ِاطہر کو نکالا گیا۔ اللہ ربّ العزت نے ملائے اعلیٰ سے ایک طشت کے اندر اپنے خصوصی انوار و تجلیاتِ حکمت بھیجے تھے۔ ان انوار و تجلیات سے حضورؐ کے قلب ِاقدس کو دھویا گیا تاکہ حضورؐ کا قلب ِاطہر سفرِ معراج شروع کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ذاتی انوار وتجلیات کے فیض اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت پیدا کرلے۔ پھر آپؐ کی بارگاہ میں ایک سواری پیش کی گئی جو قد کے اعتبار سے گوش دراز سے اونچی اور خچرسے نیچی تھی۔ اس کا رنگ چمکدار اور سفید تھا۔ اس کا نام ’’ براق‘‘ تھا۔ حضور رحمت ِعالم ؐ کو براق پر سوار کرا کے بیت المقدس کی طرف لے جایا گیا۔ براق کی رفتار کا یہ عالم تھا کہ جہاں سوار کی نظر پڑتی تھی وہاں اس کا قدم پڑتا تھا۔ (بحوالہ کتاب :فلسفہ معراج النبیؐ،ڈاکٹر طاہر القادری )

جب یہ مقدس قافلہ بیت المقدس پہنچا تو بابِ محمد کواستقبال کے لئے کھولا گیا۔ جبرائیل امین ؑ نے انگلی کے اشارے سے دروازے کے قریب ایک پتھر میں سوراخ کر کے براق کو اس سے باندھ دیا۔پھر آپؐ بیت المقدس میں داخل ہوئے تو تمام انبیا کرام علیہم السلام آپؐ کی تعظیم، اکرام اور احترام میں منتظرتھے۔ انہیں حضورؐ کی امامت میں نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ (بحوالہ کتاب فلسفہ معراج النبیؐ،ڈاکٹر طاہر القادری )

دوسرا مرحلہ ۔۔۔بیت المقدس سے سدرۃ المنتہیٰ تک:

انبیا کرام کی امامت کے بعد آسمانی سفر کا آغاز ہوا، اس لئے کہ ہر زمینی عظمت حضور ؐ کے قدموں کا بوسہ لے چکی تھی۔ پہلے آسمان پر پہنچ کر آسمان کے دروازے پر دستک دی گئی۔ آواز آئی: کون ہے؟ جبرائیل ؑامین نے جواب دیا: میں جبرائیل ہوں۔ آواز آئی آپ کے ساتھ کون ہے؟جواب دیا یہ محمدؐ ہیں آج کی رات انہیں آسمانوں پر پذیرائی بخشی جائے گی۔ آسمان کا دروازہ کھل گیا، تاجدارِ کائنات حضور رحمت ِعالم کی ملاقات حضرت آدمؑ سے ہوئی۔ پھر آپؐ کو دوسرے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا اور دوسرے آسمان پر آپ کی ملاقات سیدنا عیسیٰؑ اور یحییٰ ؑ سے ہوئی، تیسرے آسمان پر حضرت یوسفؑ سے، چوتھے آسمان پرحضرت ادریسؑ سے، پانچویں آسمان پر حضرت ہارونؑ سے، چھٹے آسمان پرحضرت موسیٰؑ سے اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیمؑ سے ملاقات ہوئی۔ (بحوالہ کتاب :فلسفہ معراج النبیؐ،ڈاکٹر طاہر القادری )

پھر جبرائیلؑ آپؐ کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے۔ امام نووی بتاتے ہیں کہ ملائکہ کاعلم اس سدرہ تک اپنی انتہا کو پہنچ جاتاہے اور اس کے آگے ہمارے نبیؐ کے علاوہ کوئی نہ جا سکا اس لئے اسے ’’سدرۃ المنتہیٰ‘‘ کہا جاتا ہے۔ (بحوالہ کتاب معراجِ رسول : سید سراج احمد رضوی نوری )

سدرۃ المنتہیٰ کا مقامِ اولیٰ عالم ِمکان کی آخری حد اور لامکاں کا ابتدائی کنارہ ہے۔ اس مقام پرتفسیر دُرِ منثور میں ایک حدیث نقل کی گئی ہے ’’فرشتے اللہ ربّ العزت کی بارگاہِ اقدس میں دعا مانگتے تھے کہ اے کائنات کے مالک! جس محبوبؐ کی خاطر تو نے یہ کائنات تخلیق فرمائی، جس پر تو اپنی زبانِ قدرت سے ہمہ وقت درود پڑھتا ہے اور ہم بھی تیرے حکم کی تعمیل میں اس ہستی پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتے ہیں آج وہی مہمان ذی وقارتشریف لا رہے ہیں۔ اے باری تعالیٰ! ہمیں اپنے اس رسولِ محتشم کا بے نقاب جلوہ عطا فرما۔ اللہ پاک نے ان مقرب ملائکہ کی دعا کو شرفِ قبولیت بخشا اور فرمایا تم ساری کائناتِ آسمانی سمیٹ کر اس درخت سدرۃ المنتہیٰ پر بیٹھ جاؤ۔ فرشتوں کی اتنی کثرت ہوئی کہ و ہ درخت ان کے نور کے سایہ میں آ گیا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے مقامِ عظیم پر قدسیانِ فلک کو مہمانِ ذی وقار کے دیدار ِ فرحت آثار کا لازوال شرف حاصل ہوا۔

رخِ مصطفیؐ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری بزمِ خیال میں نہ دکانِ آئینہ ساز میں

آپؐ نے جبرائیل کی ہمراہی میں جنت اور دوزخ کا نظارہ کیا اور لوحِ محفوظ کا مطالعہ کیا۔ زمین و آسمان کا تصرف آپؐ کے اختیار میں دے دیا گیا۔ آپؐ کوتمام سلطنت کی سیر کروائی گئی۔ جب آقا کریمؐ نے سدرۃ المنتہیٰ کی طرف سفر شروع کیا توجبرئیلؑ نے آگے بڑھنے سے معذرت کر لی اور کہاکہ آقاؐ اگر یہاں سے ایک با ل کے برابر بھی آگے بڑھوں تو جل کر راکھ ہو جاؤں گا۔ (بحوالہ کتاب :فلسفہ معراج النبیؐ،ڈاکٹر طاہر القادری) 

سیّد ابرا ہیم الجیلیؒ مقام سدرۃ المنتہیٰ کے بارے میں فرماتے ہیں ’’سدرۃ المنتہیٰ اس وجود کی حد ہے جہاں مخلوق کے لیے سیر الی اللہ (اللہ تک سیر) کا سفر ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے آگے سوائے اس مرتبہ کے جو صرف حق تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے اور کوئی مرتبہ نہیں ہے۔ مخلوق کو وہاں قدم رکھنے کی کوئی مجال نہیں اور نہ ہی اس مقام سے آگے جانا مخلوق کے لیے ممکن ہے کیونکہ مخلوق یہاں پِس جاتی ہے اور مٹ جاتی ہے اور نیست و نابود ہو جاتی ہے وہاں اس کا کوئی وجود نہیں رہتا۔ جبرائیلؑ کے قول میں اسی طرف اشارہ ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے انہوں نے عرض کیا تھا کہ اگر میں ایک بالشت بھی آگے بڑھوں گا تو جل جاؤں گا۔‘‘ (انسانِ کامل)

فرشتے کیونکہ نورانی وجود رکھتے ہیں اس لیے وہ اس مقام سے آگے نہیں جا سکتے۔ سدرۃ المنتہیٰ کو انوارِ الٰہی نے ڈھانپ رکھا ہے اور یہ ہی وہ مقام ہے جس پر اللہ پاک نے اپنے محبوبؐ کے استقبال کے طور پر پہلی تجلی اسی انداز میں ڈالی جس انداز میں حضرت موسیٰؑ کے لئے کوہِ طور پر ڈالی تھی۔

امام رازیؒ اس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ اللہ کے حسن وجمال سے کوہِ طور جل گیا اور حضرت موسیٰ ؑ بے ہوش ہوگئے لیکن اسی تجلی سے نہ تو سدرۃ المنتہیٰ جلتا ہے اور نہ ہی رسول پاکؐ بے ہوش ہوتے ہیں؟جواب میں فرماتے ہیں کہ سدرہ کوہِ طور سے قوی و طاقتور ہے اورنبی کریمؐ حضرت موسیٰؑ سے افضل و برتر اور مضبوط و توانا ہیں۔ (بحوالہ کتاب المعراج:صاحبزادہ سید افتخار الحسن)

عرش پاک

سدرۃ المنتہیٰ سے اگلی منز ل عرش پاک ہے،عرش پاک پر قدم رکھنے سے پہلے نبی کریمؐ نے اپنے نعلین پاک اتارنے کا ارادہ فرمایا توعرش نے روتے ہوئے عرض کی ’’اے اللہ کے حبیبؐ! اپنے نعلین مقدس نہ اتارئیے اور مجھے غبار پاک کی نعمت سے محروم نہ فرمائیے۔پھر ندا آئی ’’میرے محبوبؐ! نعلین مبارک اتارنے کی ضرورت نہیں مع نعلین عرش پر آجائیں۔ عرض کی ’’ اے ربِ دوجہان! تو نے حضرت موسیٰؑ کو وادی طورِ سینا میں داخل ہونے سے پہلے جوتیاں اتارنے کا حکم فرمایا تھا مگر یہ تو عرش پاک ہے پھر مجھے ایسا حکم کیوں نہیں۔

 پھر ندا آئی ذرا اس بات پر بھی غور ہو
موسیٰ کہاں اور تم کہاں وہ اور تھے تم اور ہو
وہ فقط طالب تھے تم طالب بھی ہو مطلوب بھی
وہ کلیم اللہ تھے اور تم میرے محبوب بھی!

(بحوالہ کتاب المعراج:صاحبزادہ سید افتخار الحسن)

تیسرا مرحلہ ۔۔۔ سدرۃ المنتہیٰ سے وصالِ الٰہی تک:

 سفر کا یہ تیسرا مرحلہ معراج کا نقطہ عروج ہے، یہاں سے سفر کا نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ یہ و ہ مقام ہے جہاں مخلوق کے تما م اعمال و علوم ختم ہو جاتے ہیں۔ جس سے آگے سوائے اللہ کے عرشِ اعظم کے کوئی مخلوق موجود نہیں۔ اس سے آگے صرف مقامِ خالق ہے۔ اس مقام سے آگے صرف وہ بڑھ سکتا ہے جس کا اپنا وجود بھی انہی تجلیات سے ہو۔ اس مقام پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی ازلی حقیقت ’’نورِ محمدی‘‘ کو لوٹ گئے کیونکہ ہر شے اپنی ابتدا کو لوٹ جاتی ہے۔ جب سیرِ عروج کے دوران وہ تمام صفاتِ الٰہیہ سے متصف رہے تو انتہامیں اللہ کی صفت بقا سے بھی متصف ہو گئے۔سدرۃ المنتہیٰ وہ مقام ہے جہاں پر صرف انسانِ کامل کی رسائی ہے جو مکمل صفاتِ الٰہیہ سے متصف ہو اور قدمِ محمد کی پیروی کرتے کرتے مکمل نورِ محمدی ؐ  میں ڈھل کر اپنی ابتدا کو پہنچ چکاہو۔

مقام قاب قوسین

معراج کی رات محب اور محبوب آپس میں ایسے مل گئے جیسے دو کمانوں کے کنارے آپس میں ملتے ہیں۔ معراج انسان کی سعادت اور اللہ پاک کی خواہش و خوشی ہے۔ محب ومحبوب کا وصال اور ابتدا اور انتہا کا ایک ہوجانا ہے ’’تُو میں ہے اور میں تُو ہوں‘‘ کا مقام ہے جہاں میں اور تُو کا فرق مٹ جاتا ہے۔ سورۃالنجم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
پھر (اس محبوبِ حقیقی سے) آپ قریب ہوئے اور آگے بڑھے۔ پھر (یہاں تک بڑھے کہ) صرف دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔(النجم۔7-8)

حدیث پاک میں آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جب مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو ربّ تعالیٰ میرے اتنا قریب ہوا کہ میرے اور ربّ کے درمیان صرف دو کمانوں کے کناروں کے ملنے کی تصویر بن گئی یا اس سے بھی قریب۔‘‘ ( تفسیر روح البیان جلد ۴ صفحہ ۱۴۲)

یعنی دوئی مٹ گئی اور محبوب اور محب قرب کی انتہا پر پہنچ گئے کہ ہر احساس مٹ گیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ پاک نے اپنی تمام صفاتِ الٰہیہ سے متصف فرمایا اور اپنامظہر ِاتم قرار دیا۔ محب اور محبوب کے درمیان راز و نیاز کی باتیں ہوئیں جو کسی کو معلوم نہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فقط اتنا فرمایا کہ جب خالق سے ملاقات ہوئی تو خالق ِکائنات نے فرمایا ’’اے نبی! تمہارے اوپر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں۔‘‘ (معارج النبوۃ،۳:۱۴۹)   

حضور پُرنور ؐ نے رحمت کے اس پیغام کے جواب میں عرض کیا ’’سلام ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر۔ (معارج النبوۃ ۳:۱۴۹) (بحوالہ کتاب :فلسفہ معراج النبیؐ  ازڈاکٹر طاہر القادری۔المعراج ازصاحبزادہ سید افتخار الحسن)

تحائف

معراج کی رات اللہ پاک نے اپنے محبوب کو راضی کرنے کی قسم کھا رکھی تھی اس لیے دونوں جہان آراستہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے پیش کیے اور اپنی پسند کے تحفے کا انتخاب بھی اپنے محبوب پر چھوڑ دیا۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ عین الفقر میں فرماتے ہیں:
جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عرش وکرسی سے بھی بالاتر مقامات سدرۃ المنتہیٰ اور قابَ قوسین پر پہنچے تو اللہ نے پوچھا ’’اے محمدؐ! میں نے آپ کو اٹھارہ ہزار عالموں کا مشاہدہ کرایا اور انہیں آپؐ کے تابع کر دیا اور تمام موجودات کو آپؐ کے سپرد کر دیا۔ آپؐ کو ان تمام عالمین میں سے کونسی چیز پسند آئی اور آپؐ کونسی چیز (تحفتاً لینا) چاہتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’اے اللہ! مجھے اسم اللہ ذات اور تیری محبت پسند آئی ہے اور میں تجھ سے تجھی کو چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے محمدؐ! میری محبت کس چیز میں ہے؟ میں کیا چاہتاہوں اور میری پسندیدہ چیز کونسی ہے جسے میرا اس قدر قرب حاصل ہے کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے۔‘‘ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’یااللہ! وہ فقر فنا فی اللہ بقا باللہ ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے محبوب! اسم اللہ ذات اور میرا دیدار تو پہلے ہی آپؐ کو حاصل ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’اے مالک ِکائنات! میں یہ چیزیں اپنی امت کے لیے چاہتا ہوں۔‘‘ (عین الفقر)

اسم اللہ ذات وہ خاص تحفہ ہے جو اللہ پاک نے آپؐ کی امت کو نماز کے ساتھ عطا فرمایا جو کسی اور نبی اور ان کی امت کو عطا نہیں ہوا۔یہی قرب اور دیدارِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔

سفر معراج سے واپسی

سفر ِمعراج کے ذریعے اللہ پاک نے آقا پاکؐ کے کمالِ قرب کو ظاہر کیا ہے جو مخلوق میں سے کسی کو حاصل نہیں بلکہ تمام مخلوق سے افضل و برترہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حقیقت عام انسان سمجھنے سے قاصر ہیں،سوائے افضل البشر حضرت ابوبکرصدیقؓ کے جنہوں نے فرمایا ’’میں آپؐ کی حقیقت جانتا ہوں۔‘‘اسی لیے آپؓ نے فوراً واقعہ ٔمعراج کی تصدیق فرما دی۔ معراج عشق اور اللہ کے قرب کی انتہا کا سفر ہے جس کے ذریعے ایک مسلمان مومن بنتا ہے۔سفر ِمعراج میں طالبانِ مولیٰ کے لیے قرب و وصالِ الٰہی کی انتہا تک پہنچنے کے لیے سبق ہے۔ سفرِ معراج طالبانِ مولیٰ کے لیے دیدار کے راستے کھولتا ہے۔اللہ پاک ہمیں معراج کے اس سفر کوسمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

استفادہ کتب:
۱۔عین الفقر ؛ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ
۲۔سرِّ دلبراں؛ شاہ سیّد محمد ذوقیؒ   
۳۔فلسفہ معراج النبیؐ،ڈاکٹر طاہر القادری     
۴۔معراجِ مصطفیؐ؛شیخ الحدیث مولانا محمدعلی جانباز         
۵۔ المعراج؛صاحبزادہ سید افتخار الحسن     
۶۔معراجِ رسولؐ؛عبد الہادی عبد الخالق مدنی
۷۔ معراجِ رسولؐ؛ سید سراج احمد رضوی نوری 

 
 

30 تبصرے “معراج النبی ؐ | Miraj ul Nabi S.A.W.W

  1. سفر ِمعراج میں طالبانِ مولیٰ کے لیے قرب و وصالِ الٰہی کی انتہا تک پہنچنے کے لیے سبق ہے۔ سفرِ معراج طالبانِ مولیٰ کے لیے دیدار کے راستے کھولتا ہے۔

      1. ماشااللہ
        تمام انبیا و رسل کے تما م معجزات ایک طرف اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا معجزۂ معراج ایک طرف، تمام معجزات مل کر بھی معجزۂ معراج کی عالمگیریت کو نہیں پہنچ سکتے۔

  2. MashaAllah
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #miraj

  3. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #miraj

  4. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #miraj

  5. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #miraj

اپنا تبصرہ بھیجیں