جے توں چاہیں وحدت ربّ دی ، مَل مرشد دیاں تلیاں ھُو | Jay Tun Chahein Wahdat Rab Di

جے توں چاہیں وحدت ربّ دی ، مَل مرشد دیاں تلیاں ھُو

تحریر: ڈاکٹر سحر حامد وڑائچ سروری قادری۔ لاہور

دینِ اسلام میں فضیلت کی بنیاد تقویٰ ہے اور تقویٰ سے مراد اللہ کا قرب اور رضا ہے جو مرشد کامل اکمل کی صحبت کے بغیر ممکن نہیں۔ جو لوگ اللہ اور اس کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے دیدار و رضا کی خاطر تزکیۂ نفس، تصفیہ قلب اور تجلیہ ٔ روح کے متمنی ہیں ان پر فرضِ عین ہے کہ مرشد کامل تلاش کریں۔
اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو یہ حقیقت عیاں نظر آتی ہے کہ دینِ اسلام کے ظہور سے ہی طالبانِ مولیٰ کو مرشد کامل کی تلاش اور اس کی صحبت سے فیض کے حصول کی تلقین فرمائی گئی ہے کیونکہ اُس راستہ کی کوئی منزل نہیں جس راستہ کا کوئی راہنما نہیں۔ مرشد ہی وہ وسیلہ ہے جس کے بارے میں قرآنِ مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے ’’ترجمہ: اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو اور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑو۔‘‘ (المائدہ۔ 35)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
لَا دِیْنَ لِمَنْ لَّا شَیْخَ لَہٗ
ترجمہ: اس کا دین ہی نہیں جس کا کوئی شیخ (مرشد کامل) نہیں۔

سیّدنا غوث الاعظمؓ فرماتے ہیں:
٭ انسان پر واجب ہے کہ مرنے سے پہلے کسی اہلِ تلقین (مرشد کامل) سے آخرت کے لیے حیاتِ قلب حاصل کر لے کیونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور جب وہ اس میں کچھ بوئے گا ہی نہیں تو آخرت میں کاٹے گا کیا؟ اس کھیتی سے مراد اس دنیوی نفسانی وجود کی زمین ہے۔ (سرالاسرار۔فصل8)
حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا ہے ’’بہترین طلب اللہ کی طلب ہے‘‘ لہٰذا بہترین راہ اللہ کے قرب اور وصال کی راہ ہے۔ مگر یہ سفر کسی مرشد کامل اکمل کے بغیر طے کرنا ناممکن ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کی تعلیمات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اگر بندہ پوری زندگی سجدہ میں سر پٹختا رہے تب بھی وہ اللہ کا قرب و وِصال نہیں پا سکتا جب تک کہ وہ کسی مرشد کامل اکمل کی صحبت اختیار نہیں کرتا۔ جب بندہ سچے دل سے اپنے پروردگار کی طلب کرتا اور اس کے لیے کوشش کرتا ہے تو وہ اسے اپنا راستہ ضرور دکھاتا ہے اور اسے اس دور کے مرشد کامل اکمل تک ضرور پہنچاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کے لیے اس نے کوشش کی۔‘‘ (سورۃ النجم۔39) جو انسان دنیا کی خواہش کرتا ہے بہت حد تک اسے پا لیتا ہے اور جو جنت کی خواہش کرتا ہے تو اس کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مگر عاشقانِ الٰہی کا معاملہ سب سے الگ ہے۔ یہ دنیا ان کے لیے محض ایک آزمائش ہے، ان کو اس دنیا و مافیہا سے کوئی غرض نہیں ہوتی بلکہ وہ تو محض اپنے مالک و خالق اور محبوبِ حقیقی کے قرب و دیدار کے خواہاں ہوتے ہیں۔ پس ان کے لیے الگ راستہ الگ منزل ہے۔
بقول اقبالؒ

ہست ایں میکدہ و دعوتِ عام است اینجا
قسمت بادہ باندازئہ جام است اینجا

ترجمہ: یہ دنیا ایک میکدہ ہے اور ہر کسی کو پینے (لذتِ دیدار کی مے) کی دعوتِ عام ہے تاہم ہر کسی کے حصے کی شراب اس کے جام (طلب) کے مطابق ہوتی ہے۔
اب یہ طالب پر ہے کہ مرشد کو پا کر کھو دے یا اس کے وسیلے سے سب کچھ پا لے۔
جو طالب مرشد کامل کی صحبت میں پہنچ چکے ہیں وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا قربِ خاص کیسے پا سکتے ہیں؟ ہر سوال کا جواب انسان کے اندر موجود ہے مگر وہ ان کو تب تک نہیں سمجھ سکتا جب تک اس کے باطنی حواس بیدار نہیں ہو جاتے۔ ان حواس پر جمی نفسانی بیماریوں کی دھول محض مرشد کامل کی نگاہِ دل افروز سے ہی مٹ سکتی ہے۔ مرشد طالب کا تزکیہ نفس اس طرح کرتا ہے جس طرح دھوبی کپڑے دھوتا ہے تاکہ اس کے اندر سے نفسانی بیماریوں کے خس و خاشاک کو نکال باہر کرے۔ اگر طالب خلوص اور ثابت قدمی سے سر ِ تسلیم خم کر دے تو اس کے نفس کا تزکیہ ہوتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ نفس ِ مطمئنہ کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔
حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں :

کامل مرشد ایسا ہووے، جیہڑا دھوبی وانگوں چھَٹے ھُو
نال نگاہ دے پاک کریندا، وِچ سَجی صبون نہ گھتیّ ھُو
میلیاں نوں کر دیندا چِٹا، وِچ ذرّہ میل نہ رکھے ھُو
ایسا مرشد ہووے باھُوؒ، جیہڑا لُوں لُوں دے وِچ وَسّے ھُو

تزکیہ و تربیت کے بعد طالب کے تمام دعوؤں کو آزمانے کا وقت آ جاتا ہے کہ آیا اس کی محبت و عشق کے دعوے سچے ہیں یا محض قیل و قال۔ درجہ بدرجہ تقویٰ کی بنیاد پرہر طالب ِ مولیٰ کی آزمائش اور اسی کے مطابق قربِ الٰہی کا مقام ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں ’’عشق کے میدان میں کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہوتی ہے‘‘۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:

بر درِ درویش رو ہر صبح شام
تا ترا حاصل شود مطلب تمام
گر ترا بر سرزند سر پیش نہ
خدمتی بہر از خدا درویش بہ

ترجمہ: صبح شام کسی درویش کی بارگاہ میں حاضری دیا کر تا کہ تجھے ہر مطلب حاصل ہو جائے۔ درویش اگر تجھے سرزنش بھی کرے تو اس کے سامنے سر جھکائے رکھ کہ رضائے الٰہی کی خاطر کسی درویش کی خدمت کرنا ہر عمل سے بہتر ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

زانکہ ایشاں دولت و خلعت رسد
در پناہِ روح جاں گردد جسد

ترجمہ: صاحب ِ دل لوگوں کی صحبت (خدمت) سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور ان کی روح کی پناہ میں جسم بھی روح بن جاتا ہے۔ (مثنوی مولوی معنوی)
حضرت سخی سلطان باھُوؒ طالب کو مرشد کے پیروں کی خاک بننے کی تلقین فرماتے ہیں۔

جے توں چاہیں وحدت ربّ دی ، مَل مرشد دیاں تلیاں ھُو
مرشد لطفوں کرے نظارہ، گل تھیون سبھ کلیاں ھُو

مفہوم: آپ رحمتہ اللہ علیہ تمام سالکین کو تاکید فرما رہے ہیں کہ اگر تُو وحدتِ حق تعالیٰ (فنا فی اللہ بقاباللہ) حاصل کرنا چاہتا ہے تو ظاہر و باطن سے مرشد کی اتباع کر۔ اگر مرشد کامل نے توجہ فرمائی تو تمام طالب جو کلیوں کی مانند ہیں ‘پُھول بن جائیں گے یعنی اپنے کمال کو پہنچ جائیں گے اور اُن میں توحید کی خوشبو ہو گی۔
آپؒ نے دیگر بہت سے ابیات میں یہ بات بیان فرمائی ہے کہ اگر طالب اپنے مرشد کو راضی کر لے تو وہ ربّ کو راضی کر لیتا ہے کیونکہ جب ایک طالب محض مولیٰ کے قرب و وِصال کی چاہت لے کر مرشد کی بارگاہ میں آتا ہے تب ہی مرشد اسے بارگاہِ ربِّ جلیل کی حضوری کے قابل بناتا ہے۔
زمانہ قدیم میں طالبانِ مولیٰ کو سخت سے سخت مجاہدات کرنا پڑتے تھے تاکہ طالب کی وفا کو پرکھا جائے اور اسے اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو سکے۔ موجودہ دور فتنوں کا دور ہے، ایسے دور میں اللہ کے سچے طالب یوں موجود ہیں جیسے آٹے میں نمک۔ صادق ترین طالب وہ ہوتا ہے جو مرشد کامل اکمل کا عین عکس بن جائے، اس کی رضا میں راضی رہے موجودہ دور میں ایک طالب کیسے مرشد کو راضی کر سکتا ہے؟
بہت سادہ جواب ہے کہ اپنے مرشد سے اپنی وفا ثابت کرے، کسی کو بھی اس پر فوقیت نہ دے، اس کے ہر فیصلے پر سر ِ تسلیم خم کر دے اور اپنی مرضی کو بیچ میں دخل نہ دے۔
سروری قادری مرشد طالب کو مختلف ڈیوٹیاں تفویض کرتا ہے اور پھر ان کے ذریعے اس کی تربیت فرما کر آزماتا ہے۔ دورِ جدید کے مطابق مجاہدات بھی الگ ہیں اب وہ دور نہیں کہ جنگلوں، غاروں یا حجروں میں بیٹھ کر لمبے لمبے چلے کاٹے جائیں۔ نہ ہی فقر ورد و وظائف اور چلہ کشی کی راہ ہے۔ اس لیے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے راہِ فقر کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے فقر کی تاریخ میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی جماعت تحریک دعوتِ فقر اس وقت دن رات اللہ کے کام میں مشغول ہے اور لوگوں کو راہِ حق کی دعوت دے رہی ہے۔جیسے کہ سوشل میڈیا جس میں فیس بک، ٹویٹر، لنکڈان، پنٹرسٹ، ریڈٹ وغیرہ شامل ہیں، جن میں کئی طالبانِ مولیٰ حصہ لے کر فقر ِ محمدیؐ کا پیغام ان ذرائع سے پھیلا رہے ہیں۔ یہ ذرائع دنیا کے ہر کونے میں جہاں بھی انٹرنیٹ کی سہولت موجودہے وہاں اللہ کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔
سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشن کا شعبہ ملٹی میڈیا کے تمام ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے پیغامِ فقر کو عام کر رہا ہے۔ یہ شعبہ تمام روحانی محافل، نعتیہ اور عارفانہ کلام اور فقر و تصوف کے مختلف موضوعات پر بیانات کی ویڈیوز کو یوٹیوب اور ڈیلی موشن وغیرہ کے ذریعے دنیا بھر میں عام کر رہا ہے۔ طالبانِ مولیٰ کی کثیر تعداد اس شعبہ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے جس کا مقصد اپنے ہادی و مرشد کی خدمت کرتے ہوئے رضائے الٰہی کا حصول ہے۔
اسی طرح ویب سائٹ ڈویلپمنٹ کا شعبہ ہے جس میں تحریک دعوتِ فقر کی تمام ویب سائٹس کو دن رات مانیٹر کیا جاتا ہے۔ ان ویب سائٹس کے ذریعے پیغامِ فقر دن رات عوام الناس تک پہنچایا جا رہا ہے، دنیا بھر سے مرد و خواتین سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے دست مبارک پر آن لائن بیعت ہو رہے ہیں اور فیض ِ فقر سے مستفید ہو رہے ہیں۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس ہر لمحہ اس شعبہ میں کام کرنے والے مریدین کی رہنمائی فرماتے ہیں اور ان کے نفوس کا تزکیہ فرماتے ہیں۔
ماہنامہ سلطان الفقر بھی ایک اہم ذریعہ ہے جس کی بدولت تمام مشائخ سروری قادری کی تعلیمات لوگوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ ان کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے ظاہر و باطن سے متعلق بے شمار سوالات کے جوابات انہیں ماہنامہ سلطان الفقر سے مل جاتے ہیں۔ ہزاروں لوگ اس شمارے کو پڑھنے کے بعد اللہ کی طلب لے کر درِ سلطان العاشقین پر حاضر ہوئے اور اپنی مراد پا گئے۔ خوش نصیب طالبانِ مولیٰ اس ماہنامہ میں مضمون نگاری، ڈیزائننگ اور ترسیل وغیرہ کے ذریعے خدمت ِ مرشد سرانجام دے رہے ہیں۔
سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی راہنمائی میں شعبہ سلطان الفقر پبلیکیشنز نے آپ مدظلہ الاقدس اور سلطان باھُوؒ کی تصانیف کے انگریزی تراجم شائع کیے اور آ پ مدظلہ الاقدس کے مریدین نے آپ کی حیات پر ایک جامع تصنیف’’سلطان العاشقین‘‘ بھی لکھی جس میں مرد و خواتین مریدین نے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس سے مستفید ہونے پر اپنے تاثرات اور مشاہدات لکھے جو آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ ہونے کا واضح ثبوت ہیں۔
ان تمام شعبہ جات میں محنت کرنے والے وہ تمام طالب جو اپنی ذات اور اپنا گھر بار بھلا کر دن رات صرف اور صرف رضائے الٰہی کی خاطر مرشد کی خدمت میں مشغول ہیں کیا مرشد کی بارگاہِ عالی میں مقبول نہیں ہوں گے؟ کیا قربِ خداوندی کی خواہش کے ساتھ کوشش کرنے والے اور کوشش نہ کرنے والے برابر ہو سکتے ہیں؟
جب کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کی ہر بات پر پیار آتا ہے۔ اس کی ہر بات درست لگتی ہے تو ایک طالب کا اپنے ربّ سے یہ کیسا عشق ہے کہ اس کے نائب ِ کامل اپنے مرشد کامل اکمل کے فیصلوں پر اعتراض کرے۔ مرشد کے فیصلوں پہ اعتراض شیطان کا کام ہے کیونکہ مرشد اللہ کی ذات کا مظہر ہوتا ہے۔ جو وہ جانتا ہے وہ طالب نہیں جان سکتا جب تک مرشد نہ چاہے۔
ایک طالبِ مولیٰ سورج مکھی کی مانند ہوتا ہے جس کا رُخ ہمیشہ اپنے مرشد کی طر ف رہتا ہے۔ جس طرف مرشد موڑے وہ بھی اسی طرف مرشد کے پیچھے چلتا جاتا ہے اور اس کے کسی امر پر چوں و چرا نہیں کرتا اور نہ ہی اعتراض کو دل میں آنے دیتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ’’اعتراض کرنے والوں کی مثال اس مکھی کی سی ہے جو سارا خوبصورت جسم چھوڑ کر زخم پر آ کر بیٹھ جاتی ہے‘‘۔ جب کوئی مرشد پر، اس کے اہل و عیال اور مریدین پر اعتراض کرتا ہے تو دراصل کھوٹ اس کے اپنے ہی اندر ہوتا ہے۔ ’مرشد کی تلیاں ملنے‘ سے بھی حضور سلطان باھُوؒ کی یہی مراد ہے کہ اگر مراد پانا چاہتے ہو تو ہر لمحہ مرشد کی رضا کو ملحوظِ خاطر رکھو، اس کی خدمت مستقل مزاجی اور خلوصِ دل سے کرتے رہو اور کبھی اس کی کسی بھی بات اور امر پر اعتراض تو دور کی بات ہے دل میں غلط خیال کو بھی جگہ نہ دو۔ وہی طالب کامیاب و کامران ہوتا ہے جو ہر لمحہ مرشد ِ کامل کی خدمت میں مصروفِ عمل رہے اور مرشد کی رضا کو اپنا مقصدِ عین بنا لے۔ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بڑھ کر کوئی عالی نمونۂ عمل نہیں، معراج کے سفر پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دنیا و آخرت کی طرح طرح کی رغبات دکھائی گئیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسی بھی چیز کی طرف توجہ نہ دی بلکہ صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات کے قرب و وصال پر نظر رکھی۔ تو جو طالب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت پر چلتا ہے اور ہر لمحہ مرشد پر نظر رکھتا ہے، اپنے دن رات مرشد کی خدمت میں وقف کر دیتا ہے اور اپنی جان، مال، اولاد تک راہِ خدا میں قربان کر دیتا ہے وہی وحدتِ ربّ تعالیٰ پا سکتا ہے۔
بحیثیت طالبِ مولیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس بھی حضرت سخی سلطان باھُوؒ کے اس بیت پر مکمل طور پر عمل پیرا رہے اور وحدتِ حق تعالیٰ پا کر اپنے مرشد کامل کے محرمِ راز ٹھہرے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے بارے میں آپ کے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’بھائی نجیب کا تو یہ حال ہے کہ سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے‘‘
آپ مدظلہ الاقدس سنتِ  نبویؐ اور تعلیماتِ سلطان باھُوؒ کا عین عکس ہیں۔ بے شک آپ سا حسین وجمیل اور کامل سیرت والا کسی آنکھ نے نہیں دیکھا۔
مشہور کہاوت ہے ’’جتنا گڑ ڈالو گے اتنا ہی میٹھا ہو گا۔‘‘ اسی طرح جس قدر حق تعالیٰ کی طلب اور اس کو پانے کے لیے کوشش کرو گے اتنا ہی اس کا قرب پاؤگے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تمام فقرا اور اولیا کرام نے جو کچھ بھی پایا اپنے مرشد کی خدمت سے پایا۔ جس کا مرشد اس سے ناراض ہو گیا اس کی دنیا و آخرت دونوں برباد ہو گئے۔
تحریک دعوتِ فقر تمام عالمِ اسلام کو اس مردِ کامل شبیہ غوث الاعظم مجددِ دین امامِ مبین سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی راہنمائی میں اللہ کی وحدت (قرب و وصال) کی دعوت دیتی ہے۔
میرا یہ ایمان ہے کہ خلوصِ نیت سے آپ مدظلہ الاقدس کی صحبت میں رہنے والا اور آپ کی رضا پانے والا اللہ کی وحدت ضرور پاتا ہے۔
اللہ ہم سب کو موجودہ دور کے فقیرِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی خدمت کے ساتھ استقامت اور قربِ الٰہی عطا فرمائے۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں