حرمت والے مہینے |Hurmat Wale Mahine

حرمت والے مہینے

تحریر: میمونہ اسد سروری قادری ۔ لاہور

اللہ پاک سورۃ توبہ میں فرماتاہے:
ترجمہ: بے شک اللہ پاک کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ پاک کی کتاب میں بارہ (12) ہے جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔ اِن میں سے چار (4) مہینے حرمت (یعنی احترام) والے ہیں۔ یہ پختہ دین ہے۔ سو تم ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا اور تم تمام مشرکین سے اسی طرح جنگ کیا کرو جس طرح وہ سب (اکٹھے ہو کر) تم سب پر جنگ مسلط کرتے ہیں۔ اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (حرمت والے مہینوں کو) آگے پیچھے ہٹا دینا محض کفر میں زیادتی ہے اس سے کافر بہکائے جاتے ہیں جو اسے ایک سال حلال گردانتے ہیں اور دوسرے سال اسے حرام ٹھہراتے ہیں تاکہ ان (مہینوں) کا شمار پورا کر دیں جنہیں اللہ نے حرمت بخشی۔ (سورۃ التوبہ ۔36-37)
اس آیت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب سے زمین و آسمان کو پیدا کر کے دن و رات کی گردش شروع کی تب سے چار خاص مہینے اس کے نزدیک محترم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیا کی شریعت میں ان مہینوں کا احترام واجب رہا۔ لہٰذا بعثتِ نبویؐ سے قبل بھی عرب ان مہینوں کی حرمت کے معتقد تھے لیکن جب کسی لڑائی کے دوران یہ مہینے آ جاتے تو انہیں بہت شاق گزرتا لہٰذا وہ ان کو بدلنے کی روش اپنانے لگے یعنی اگر لڑائی کے دوران محرم کا مہینہ آجاتا ہے تو اسے حرمت والے مہینوں میں سے نکال کر ربیع الاول کو شامل کر لیتے یعنی حرمت والے مہینے رہتے تو چار ہی لیکن وہ انہیں اپنی سہولت اور ضرورت کے مطابق بدلتے رہتے۔ ان کے اس عمل سے شہر حرام کی حرمت قائم نہ رہتی۔ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی آخرزمان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ کون کون سے مہینے حرمت والے ہیں اور ان کو بدلنے کا سختی سے منع فرما دیا۔ سورۃ التوبہ کی آیت 37 میں حرمت والے مہینوں کو بدلنے کو کفر میں زیادتی بتایا گیا ہے۔ ایک کفر تو یہ کہ اس ماہ میں جنگ و جدل جاری رکھنا جس سے منع فرمایا گیا ہے۔ دوسرا کفر یہ کہ اللہ کے قائم کردہ ماہِ حرمت کو بدل دینا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
٭ دیکھو زمانہ گھوم کر پھر اپنی اسی ہیئت پر آ گیا جس پر اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے۔ اس میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔ تین تو لگاتار ہیں یعنی ذیعقدہ، ذی الحجہ اور محرم الحرام جبکہ چوتھا رجب مضر ہے، جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان میں آتا ہے۔ (صحیح بخاری۔ 4662)
تفسیر احسن البیان میں ہے کہ ’’زمانہ گھوم کر پھر اپنی اسی ہیئت پر آگیا‘‘ سے مراد یہ کہ مشرکین عرب مہینوں میں جو تقدیم و تاخیر کرتے تھے اس کا خاتمہ ہو گیا۔
ان مہینوں میں اللہ پاک نے مسلمانوں پر جنگ و جدل شروع کرنا منع فرمایا ہاں اگر ان پر حملہ ہوتا ہے تو دفاع اور جواب دے سکتے ہیں۔ یہ تو بات تھی بڑی جنگ کی لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ بڑی جنگ تو نہ کی جائے لیکن آپس میں لڑائی جھگڑا یا کسی غیر مسلم سے معمولی لڑائی جھگڑا کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ ہر قسم کی لڑائی، چھوٹی ہو یا بڑی، آپس میں ہو یا غیر سے، منع فرما دیا گیا اور پابند کر دیا گیا کہ تم پہل نہ کرو گے۔ لیکن اگر تم پر کوئی پہل کر دے تو روکو گے بھی اور مزاحمت بھی کرو گے۔
امام ابنِ کثیر مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
’’پس ان کل بارہ مہینوں میں گناہوں سے بچو خصوصاً ان چار مہینوں میں کہ یہ حرمت والے ہیں۔ ان کی بڑی عزت ہے۔ ان میں گناہ سزا کے اعتبار سے اور نیکیاں اجر و ثواب کے اعتبار سے بڑھ جاتی ہیں۔‘‘
سیّدنا قتادہؓ کا قول ہے کہ ان حرمت والے مہینوں میں گناہ کی سزا اور بوجھ بڑھ جاتا ہے، گویا ظلم ہر حال میں بُری چیز ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے جس امر کو چاہے بڑھا دے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بھی کسی کو پسند فرما لیا ہے۔ فرشتوں میں سے، انسانوں میں سے رسول چن لیے، اسی طرح کلام میں سے اپنے ذکر کو پسند فرما لیا اور مہینوں میں سے رمضان المبارک اور چار مہینوں کو پسند فرما لیا اور راتوں میں سے لیلۃ القدر کو پسند فرما لیا۔ پس تمہیں ان چیزوں کی عظمت کا لحاظ رکھنا چاہیے جنہیں اللہ نے عظمت دی ہے۔ ان کی حرمت کاادب نہ کرنا حرام ہے۔ ان میں جو کام حرام ہیں انہیں حلال نہ کر لو۔ جو حلال ہیں انہیں حرام نہ بنا لو جیسے کہ اہلِ شرک کرتے ہیں یہ ان کے کفر میں زیادتی کی بات تھی۔(تفسیر ابنِ کثیر جلد 2)
سورۃ التوبہ کی آیت 36 کے مطابق یہ چار حرمت والے مہینے زمین و آسمان کی تخلیق سے ہی حرمت رکھتے ہیں۔ یعنی مختلف ادوار میں ان مہینوں میں وقوع پذیر ہونے والے اہم واقعات ان کی حرمت کی وجہ نہیں ہیں۔ جیسا کہ عام خیال یہ کیا جاتا ہے کہ محرم کی حرمت کی وجہ شہادتِ حسینؓ ہے یا ذی الحجہ کی حرمت کی وجہ اس ماہ میں حج کا ہونا ہے یا رجب کی حرمت واقعہ معراج کی بدولت ہے۔ بلاشبہ ان واقعات نے ان مہینوں کی حرمت میں اضافہ کر دیا لیکن یہ ان کی حرمت کی بنیادی وجہ نہیں ہیں۔ قرآن و حدیث میں بھی ان کی حرمت کی وجہ بیان نہیں کی گئی۔ پس اللہ جسے چاہے چن لے۔ بندوں پر واجب ہے کہ جسے اللہ نے حرمت دی اس کی تعظیم کریں۔
حرمت والے مہینے ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ ہم ان مہینوں میں اپنے آپ کو اچھے اخلاق اور حسنِ ظن سے مزین کریں۔ کسی سے ناراضگی، بغض، کینہ، دشمنی نہ رکھیں اور لڑائی سے پرہیز کریں۔ اللہ پاک کی طرف اپنا رُخ کریں اور اس کو پانے کی جستجو کریں۔ اس کی طرف دوڑیں اور اس کے پیارے اور مقرب بندوں سے رشتہ استوار کریں۔ ان کی چوکھٹ پر حاضری دیں اور ان سے رہنمائی حاصل کریں ۔
نہ صرف ان حرمت والے مہینوں میں بلکہ باقی کے مہینوں میں بھی ہر قسم کے لڑائی جھگڑے سے اجتناب کریں۔ اللہ پاک کی معرفت حاصل کریں اور ذکر ِ اسم اللہ ذات سے اپنے قلوب کو منور کریں۔ (آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں