الف|Alif

وارثِ  امانتِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

امانت سے مراد امانتِ الٰہیہ‘ خلافتِ الٰہیہ‘ نیابتِ  الٰہیہ یا امانتِ فقر ہے۔
سلسلہ سروری قادری کے فقرا کاملین کے نزدیک امانت سے مراد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ’’ورثہ فقر‘‘ ہے اور جو اس ’’ورثہ فقر‘‘ کا وارث ہوتا ہے وہی حامل ِ امانت ِ الٰہیہ ہوتا ہے اور وہی روحانی سلسلہ کا سربراہ اور امام ہوتا ہے اور وہی اپنے زمانہ کا سلطان ہوتا ہے۔ حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خزانہ فقر کے مختارِ کل ہیں اور یہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  کی وراثت ہے اور وارث ہی وراثت تقسیم فرماتا ہے۔ جب طالب فنا فی اللہ بقا باللہ‘ یا فنا فی ھُو یعنی وحدت کی منزل تک پہنچ جاتا ہے اور توحید میں فنا ہو کر ’’سراپا توحید‘‘ ہو جاتا ہے تو انسانِ کامل‘ فقیر ِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے، وہی امامِ مبین اور وہی مرشد کامل اکمل ہوتا ہے۔ حدیث ِ نبوی ہے:

اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ  ترجمہ:جہاں فقر مکمل ہوتا ہے وہیں اللہ ہوتا ہے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے سلسلہ سروری قادری کے امام اور سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے وارثِ حقیقی ہیں جنہیں سلطان الفقر ششمؒ نے 21 مارچ 2001ء کو بعد از نمازِ مغرب مدینہ شریف میں روضہ ٔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے منظوری کے بعد امانت ِ فقر منتقل فرمائی۔
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک بار سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے فرمایا تھا’’ہم فقر کا عنوان ہیں اور آپ فقر کی تفصیل ہونگے۔‘‘ یہ بات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ سلطان الفقر ششم ؒنے اس مادہ پرست دور میں فقر کے بند دروازے کو عوام الناس پر کھولا اور سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اسے دنیا بھر میں عام فرما رہے ہیں۔ فقر کو پھیلانے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس کی ظاہری و باطنی جد وجہد اور آپ مدظلہ الاقدس کی مبارک ذات میں فقر کا اس شان سے ظاہر ہونا اس جملے کی شرح ہے کہ ’’آپ فقر کی تفصیل ہیں۔‘‘
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے مریدین اور معتقدین 21 مارچ کے بابرکت دن کو ہر سال نہایت جوش و جذبے سے مناتے ہیں اور اس سلسلے میں تحریک دعوتِ فقر کے زیر ِ اہتمام ایک عظیم الشان محفلِ  میلادِ مصطفیؐ کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں ملک کے طول و عرض سے مرد و خواتین شرکت کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ اس روشن دن کی برکت سے محفل پاک میں شرکت کرنے والوں کی تمام جائز ظاہری و باطنی خواہشات اور دعائیں بارگاہِ حق میں منظور ہوتی ہیں اور محفل میں شریک ہونے والوں کے قلوب کو نور سے منور کیا جاتا ہے۔ مرد و خواتین کے لیے شرکت کی دعوتِ عام ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں