فقر تحفہ معراجِ مصطفیؐ | Faqr Tohfa Meraj e Mustafa

فقر۔تحفہ معراجِ مصطفیؐ

تحریر: فائزہ گلزار سروری قادری ۔ لاہور

واقعہ معراج حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بے مثال شان، عظمت اور رفعت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کہیں کوئی غیر معمولی واقعہ رونما ہوا ہے اس کے پیچھے خالق ِ کائنات کی غیر معمولی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے جو کہ ہر ایک کو اس کی فہم کے مطابق سمجھ آتی ہے۔ اس فہم کا دارومدار مکمل طور پر اللہ کے قرب و وِصال پر ہے۔ اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو آسمان کی رفعتوں سے بھی بہت آگے بلا کر ہر شان، ہر مرتبہ اور خشک و تر کی ہر شے آپ کے قدموں میں نچھاور کر کے اپنے حسن و جمال کے جلوؤں سے سیراب کیا تو کیا یہ نہ پوچھا ہوگا کہ اے مہمانِ ذی وقار! آپ میری سلطنت میں سے آج کچھ طلب کیجیے میں آپ کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاؤں گا۔ رسم ِ دنیا ہے کہ کسی بادشاہ کے دربار میں بھی جب کوئی حاضر ہوتا ہے اور بادشاہ اس کی کسی بات، کام یا کمال سے خوش ہو کر اعلان کرتا ہے کہ مانگ آج کیا مانگتا ہے تو وہ بندہ یقینا اس بادشاہ کی شان کے مطابق ہی کچھ مانگے گا۔ تو کیا خالق ِ دو جہان نے اپنے محبوب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عزت و تکریم نہیں کی ہو گی؟ کیا ہر شے کی کنجیاں آپؐ کے سامنے ڈھیر نہیں کی ہونگی؟ یقینا کی ہونگی کیونکہ اللہ سے زیادہ کون سخی اور مہمان نواز ہو سکتا ہے۔ شب ِ معراج اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوبؐ کے عام سے عام امتی سے لے کر خاص الخاص بندوں تک ہر ایک کو نوازنے کی انتہا کر دی۔ روایات میں شب ِ معراج اللہ کی طرف سے عطا کئے گئے تحائف کی جو فہرست موجود ہے وہ کچھ اس طرح سے ہے:
1۔جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اس پر عمل نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک مکمل نیکی کا بدلہ لکھا ہے۔ (صحیح البخاری:6491)
2۔ اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اپنے یہاں دس گنا سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھی ہیں۔ (صحیح البخاری:6491)
3۔ جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور پھر اس پر عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اپنے یہاں نیکی لکھی ہے۔ (صحیح البخاری:6491)
4۔اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا تو اپنے یہاں اس کے لیے ایک برائی لکھی ہے۔(صحیح البخاری:6491)
5۔سورۃ البقرہ کی آخری آیات تحفہ میں دی گئیں۔
6۔امت کو پچاس نمازوں کا تحفہ دیا گیا جو امت کی آسانی کی خاطر پانچ کر دی گئیں لیکن ثواب پچاس نمازوں کا ہی ہو گا۔ (صحیح البخاری و مسلم)
تحائفِ معراج کی اہمیت کا اندازہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اس خاص واقعہ سے پہلے کے حالات و واقعات کو سامنے نہ رکھا جائے۔ واقعہ معراج ہجرت سے تین سال قبل پیش آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دعوت و تبلیغ کامیابی اور ظلم و ستم کے درمیانی دور سے گزر رہی تھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت ابوطالبؓ اور حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کی وفات اور شعب ِ ابی طالب کی سختیوں جیسے عظیم صدمات سے بھی دوچار تھے اور سفر طائف کی سختیاں اور تکالیف بھی بے انتہا پہنچی تھیں۔اپنوں کی بے اعتنائیاں اور ظلم و ستم بھی حد سے بڑھ گئے تھے، مسلمان ایک طرف اپنی بقا کی خاموش جنگ لڑ رہے تھے اور دوسری طرف انہیں اس بات کی یقین دہانی بھی کرانی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی ذات حق ہے اور اس کے پاس اپنے ثابت قدم بندوں کے لئے جو بھی انعامات ہیں ان کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ اس دنیا کی آسائشیں اور یہاں کا فائدہ بہت ہی قلیل ہے۔
سفرِمعراج نے ظاہری دنیا میں مقید انسان کو اس ظاہری دنیا کو تسخیر کرنے کی ترغیب دی اور باطنی سفر پر گامزن طالب کو اللہ سے ملاقات کی اور کامل انسان کو ظاہر و باطن کی تسخیر کی ترغیب دی۔ اپنے خاص الخاص بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو تحفہ عطا کیا اس کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
٭ اللہ کریم نے تو معراج کی رات اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہر طرح سے راضی کرنے کی قسم کھا رکھی تھی اس لیے تحفے کا انتخاب بھی محبوب کی رضا پر چھوڑ دیا۔ دونوں جہان کے اٹھارہ ہزار عالم آراستہ و پیراستہ کیے اور حضرت محمدؐ کے سامنے پیش کر کے ادائے دلنوازی سے پوچھا: ’’اے محمدؐ! میں نے دونوں جہان کے اٹھارہ ہزار عالم کو آپؐ کے تابع کر کے اس کا تماشا آپؐ کے سامنے پیش کیا اور موجودات کی ہر چیز کو آپؐ کے سپرد کیا۔ آپؐ کو اس میں سے کیا چیز پسند آئی؟ اور آپؐ کیا چاہتے ہیں؟‘‘ آپؐ نے فرمایا
’’اے خداوند! مجھے دونوں جہان میں اسم ِ اللہ ذات اور تیری محبت پسند آئی اور میں تجھ سے تجھی کو چاہتا ہوں۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اے محبوبؐ! اسمِ اللہ ذات اور میرا دیدار تو آپؐ کو پہلے ہی حاصل ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’اے مالک ِ کائنات میں یہ چیزیں اپنی امت کے لیے چاہتا ہوں۔‘‘ (عین الفقر)
ایک اور جگہ حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
٭ معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام براق پر سوار ہوئے، جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آگے آگے پا پیادہ دوڑے، عرش سے فرش تک دونوں جہان آراستہ کیے گئے، اٹھارہ ہزار عالم کو پیراستہ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے لایاگیا اور جبرائیلؑ آگے بڑھنے سے رُک گئے۔ اس سارے اہتمام کے باوجود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلا م نے اپنی نگاہ ذاتِ حق تعالیٰ سے نہ ہٹائی چنانچہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَاطَغٰی۔ (النجم۔17)
ترجمہ: بہکی نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی نگاہ نہ حد سے بڑھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس تمام اہتمام پر توجہ نہیں دی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر پہنچے تو وہاں صورتِ فقر کا مشاہدہ کیا اور مراتب ِ سلطان الفقر کی لذت سے لطف اندوز ہوئے، فقرِ نورِ الٰہی سے باطن کو معمور فرمایا اور قابَ قوسین کے مقام پر اللہ تعالیٰ کے قرب و وِصال سے مشرف ہو کر ذاتِ حق تعالیٰ سے ہمکلام ہوئے۔ پھر اس سے آگے بڑھ کر مقامِ فقر فنا فی اللہ میں داخل ہوئے، ملاقاتِ فقر سے غرق فنا فی اللہ مع اللہ ذات ہو کر رفیقِ فقر ہوئے اور محبت، معرفت، عشق، شوق، ذوق، علم، حلم، جود و کرم اور خلق سے متخلّق ہوئے جیسا کہ فرما یا گیا ہے تَخَلَّقُوْا بِاَخلَاقِ اللّٰہِ
تَعَالٰی 
 (اخلاقِ الٰہیہ سے متصف ہو جاؤ۔) اس طرح کمالِ فقر پر پہنچ کر جب سارا دریائے توحید آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وجود میں جمع ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے زبانِ دُرّ فشاں سے اِس کا اظہا ر کرتے ہوئے فرمایا:’’فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔‘‘
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مجلسِ صحابیت میں پہنچے اور دریائے فقر سے حقیقتِ  فقر موجزن ہوئی تو فقر و معرفت کے احوال سن کر صحابہ کرامؓ کی ایک کثیر تعداد فقر ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طلبگار ہوئی جس پر اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا :
’’اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آپ ہر وقت ان فقرا پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور ان سے اپنی نگاہیں نہ ہٹائیں کہ یہ ہر وقت ذکرِ اللہ میں غرق رہنے والے لوگ ہیں۔‘‘اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :
  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ! اب ہم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل سے دم بھر کے لیے بھی فارغ نہیں ہوں گے۔ (محک الفقر کلاں)
مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر خاص و عام کے لیے پچاس نمازیں فرض کیں جو بعد میں کم ہو کر پانچ رہ گئیں اور دیدارِ الٰہی کے علم کے لیے اُمت ِ محمدیہ کو فقر اور اسمِ اللہ ذات عطا فرمایا۔ فقر اس قدر خاص اور اہم نعمت ہے کہ اس کو پانے کے لیے ہی تمام انبیا کرامؑ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اُمت میں شامل ہونے کی دعا مانگی تھی۔ فقر وہ خاص تحفہ ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صدقے ان کی گنہگار اُمت کو عطا ہوا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
٭ تمام پیغمبروں نے فقر کے مرتبے کی التجا کی لیکن نہیں ملا۔ صرف سرورِ کائناتؐ کو حاصل ہوا جو آنحضرتؐ نے اپنی امت کے سپرد کیا۔ یہ فقرِ محمدی محض فیض ہے۔ (امیر الکونین)
علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا :

فقر ذوق و شوق و تسلیم و رضا است
ما امینیم ایں متاعِ مصطفیؐ است

ترجمہ: فقر ذوق و شوق اور تسلیم و رضا کا نام ہے۔ یہ حضرت محمد مصطفیؐ کی میراث ہے اور ہم اس کے وارث ہیں۔
فقر دراصل نماز اور دیگر اسلامی عبادات کی باطنی روح ہے۔ حدیث مبارکہ ہے:
لاَ صَلٰوۃَ اِلَّا بِحُضُوْرِ الْقَلبِ
ترجمہ: حضورِ قلب کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
٭ پس نماز قائم کرنے سے مراد اپنا چہرہ اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا ہے اور اس کا تعلق دل سے ہے۔ اور اہل ِ قلوب کی نماز یہ ہے کہ ان کے ظاہری اعضا تو رکوع اور سجود کی حالت میں ہوتے ہیں اور زبان سے قرآنِ پاک کی قرآت کرتے اور اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور دل سے حضورِ حق کا مشاہدہ ایسے کرتے ہیں کہ جب تک قیام کی حالت میں حضوری اور مشاہدۂ حق تعالیٰ کا عین الیقین حاصل نہ کر لیں اس وقت تک رکوع میں نہیں جاتے۔ اور حالت ِ رکوع سے اس وقت تک حالت ِ سجدہ میں نہیں جاتے جب تک حالت ِ رکوع میں حضورِ حق حاصل نہ کر لیں اور دیدارِ الٰہی کا عین الیقین سے مشاہدہ نہ کر لیں۔ اس وقت تک پہلے سجدہ سے دوسرے سجدہ کی طرف رخ نہیں کرتے جب تک وہ پہلے سجدہ میں اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھ لیں کہ ارشادِ نبویؐ ہےاَلصَّلٰوۃُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِیْنَ  ( ترجمہ: نماز مومنین کی معراج ہے۔) (سلطان الوھم)

ایک اور مقام پر آپؒ فرماتے ہیں:
٭ وہ نماز نماز نہیں جس میں حضوری نصیب نہ ہو کیونکہ
یَا لَیْتَنِیْ مَنْ لَّم یَرَی الرَّحْمٰنَ بِصَلوٰۃِ فَھُوَ لَیْسَ بِمْصَلِّ اَصْلًا
ترجمہ: افسوس اس نمازی پر جو اپنی نماز میں رحمن کو نہیں دیکھتا پس وہ اصل نمازی نہیں۔ 

جس کو حالتِ نماز میں یا اس کے علاوہ اوقات میں اللہ کا دیدار نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ اللہ کو پہچانتا ہے اور نہ ہی اسے حضوری حاصل ہے تو پس وہ اصل مقصد تک نہیں پہنچا، وہ طالب ہے عاشق نہیں۔ (سلطان الوھم)
مزید فرمایا:
٭ پس یہ بات حق ہے کہ وصالِ الٰہی صرف ظاہری اعمال کرنے سے ممکن نہیں ہے چنانچہ ایک بزرگ کا فرمان ہے کہ نماز، تلاوتِ قرآن اور زکوٰۃ ادا کرنا تمام نیک اعمال ہیں لیکن طالب ِ مولیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ ان تمام ظاہری اعمال سے آگے لقائے الٰہی کی راہ اختیار کرتا ہے۔ (سلطان الوھم)
حاصل تحریر یہ کہ فقر ہر عبادت کی روح اور معراج کا خاص تحفہ ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام نے خصوصاً اپنی امت کے لیے طلب کیا۔ چنانچہ ہر امتی پر فرضِ عین ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے وسیلہ سے فقر طلب کرے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے تک پہنچنے کے راستے پر گامزن فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں