کلید التوحید (کلاں) | Kaleed ul Tauheed Kalan – Urdu Translation


Rate this post

کلید التوحید (کلاں)  ( Kaleed ul Tauheed Kalan)

قسط نمبر15                                                                                     مترجم: سلطان محمد احسن علی سروری قادری

جان لو کہ پیر دو قسم کے ہیں۔ ایک قسم وہ کہ پیر اپنے مرید کے سات بال خود قینچی سے کاٹتا ہے۔ پیر کے ہاتھ سے یہ سات بال کٹنے کی تاثیر سے عرش سے لے کر تحت الثریٰ تک کے ستر ہزار مراتب مرید پر روشن و واضح ہو جاتے ہیں۔ لوحِ محفوظ اس کی نگاہوں کے سامنے ظاہر ہو کر ہمیشہ اس کے مطالعہ میں رہتی ہے اور اس کی نگاہ سے خاک سونا و چاندی بن جاتی ہے۔ کشف و کرامات سے وہ ماضی، حال اور مستقبل کے احوال دیکھتا ہے۔ اگر وہ مٹی کی دیوار یا پہاڑ یا درخت پر سوار ہو جائے تو وہ گھوڑے کی مثل دوڑنے لگتے ہیں۔ اور اگر قبور پر چلا جائے تو ارواح فوراً حاضر ہو جاتی ہیں اور اگر خشک درخت کی طرف نظر کرے تو وہ سرسبز ہو جاتا ہے اور اسی وقت اس پر کھانے کے لائق پھل بھی پک جاتے ہیں اور اگر زمین سے پانی طلب کرے تو تمام زمین پانی لا کر اُسے دے دیتی ہے۔ اگر آسمان کی طرف نظر کرے تو اسی وقت ایک بادل ظاہر ہوتا ہے اور لوگوں کی ضرورت کے مطابق بارش برس جاتی ہے۔ اگر پانی کی طرف نظر کرے تو وہ گھی بن جاتا ہے اور اگر ریت کی طرف توجہ کرے تو وہ میٹھی شکر بن جاتی ہے اور اس طرح کی دیگر بہت سی قوتیں وہ حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن یہ مرتبہ فقرِ محمدی سے دوراور معرفتِ الٰہی سے محروم ہوتا ہے۔ قینچی سے بال کاٹنے والا ایسا پیر حجام کی مثل ہوتا ہے۔ پیر کو صاحبِ نظر ہونا چاہیے جیسے کہ میرے پیر محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ ہیں جو ہزاروں مریدوں اور طالبوں کو ایک ہی نظر سے معرفتِ اِلَّا اللّٰہُ میں غرق کر دیتے ہیں اور بعض کو مجلسِ محمدی کی حضوری سے مشرف کر دیتے ہیں۔ پیر ایسا کامل و جامع ہونا چاہیے جو بغیر ریاضت و تکلیف کے خزانے بخش دے۔ پیر ایسا ہونا چاہیے جیسے میرے پیر ہیں جو اپنی نگاہ اور ذکرِ اللہ سے دل کو چاک، نفس کو خاک اور روح کو پاک کر کے طالب کو رحمن کے موافق اور شیطان کے مخالف بنا دیتے ہیں۔  ابیات:

باھوؒ شد مریدش از غلامان بارگاہ
فیض فضلش می دہاند از الٰہ

ترجمہ: باھوؒان (پیر دستگیر شیخ عبدالقادر جیلانیؓ) کی بارگاہ کا غلام اور ان کا مرید ہے جو اپنے مریدوں کو اللہ کے فیض و فضل سے نوازتے ہیں۔

باھوؒ سگ درگاہ میراںؓ فخر تر
غوث و قطب زیر مرکب بار بر

ترجمہ: باھوؒ درگاہِ میراںؓ کا کتا ہونا بھی باعثِ فخر ہے اس لیے غوث و قطب بھی ان کی سواری بننا پسند کرتے ہیں۔

محی الدین قدس سرہُ العزیز نے فرمایا:
قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ اَوْلِیَآئِ اللّٰہِ 
ترجمہ: میرا یہ قدم تمام اولیا اللہ کی گردن پر ہے۔
لَا یَمُوْتُ مُرِیْدِیْ اِلَّا عَلَی الْاِیْمَانِ 
ترجمہ: میرا مرید ایمان کے بغیر نہیں مرتا۔
حضورِ حق، معرفت، غرقِ نور اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کا فیض محض قادری طریقہ میں ہے جو سینہ بہ سینہ، نظر بہ نظر، توجہ بہ توجہ، ذکر بہ ذکر، معرفت بہ معرفت ایسے جاری رہے گا جیسے سمندر۔ اور یہ سلسلہ تاقیامت نہ رکے گا۔ 

ابیات:

ہر کہ گوید نام مرگش خوش پیغام
از مرگ حاصل شود وصلش تمام

ترجمہ: پیر محی الدین کا نام لینے والے کے لیے موت خوشی کا پیغام ہوتی ہے کیونکہ موت سے اسے کامل وصال نصیب ہوتا ہے۔

مرگ طالب قادری را راہبر
میبرد وحدت حضوری حق نظر

ترجمہ: کامل قادری کے لیے موت رہبر ہوتی ہے جو اسے وحدت میں حضورِ حق تعالیٰ میں لے جاتی ہے۔

زیر خاکش تن بود روح رازِ ربّ
می درآید در خموشی باادب

ترجمہ: زیرِ خاک صرف ان کا وجود ہوتا ہے جبکہ روح خاموشی اور ادب سے اسرارِ ربّ میں مشغول ہوتی ہے۔

در لامکانم روح قالب زیر خاک
احتیاجی نیست روضہ جان پاک

ترجمہ: میری روح لامکان میں جبکہ وجود زیر ِ خاک ہے لہٰذا میری پاک روح کو کسی روضہ یا مزار کی ضرورت نہیں۔

گم قبر گم جثہ گم نام و نشان
جثہ را با خود برم در لامکان

ترجمہ: میں گم قبر، گم جثہ اور گم نام و نشان ہوں کیونکہ میں اپنے وجود کو بھی خود لامکان میں لے گیا ہوں۔

باھوُ  بہ  ’’ھُو‘‘  ا سم  اعظم  متصل
اہل اعظم چون بماند زیر گل

ترجمہ: باھوُ اسمِ اعظم ھوُ کے ساتھ متصل ہے۔ صاحبِ اسمِ اعظم مٹی کے نیچے کیسے رہ سکتا ہے!

بے حجابم در صوابم غرق نور
احتیاجی نیست مارا باظہور

ترجمہ: میں نور میں بہت اچھی طرح سے غرق ہوں اس لیے بے حجاب ہر شے دیکھتا ہوں مجھے ظاہر ہونے کی کیا ضرورت؟

ہر یکی داند مرا باطن تمام
با انبیا و اولیا حق ہم کلام

ترجمہ: جس کا باطن تکمیل پا چکا ہو وہ مجھے جانتا ہے کہ میں انبیا اور اولیا سے ہم کلام رہتا ہوں۔

گر ندانند مردمانِ اہل زشت
کے ببیند جاہلان روئی بہشت

ترجمہ: اگر بدکار لوگ مجھے نہ بھی جانیں تو کوئی بات نہیں کہ جاہل لوگ جنت کا نظارہ کیسے کرسکتے ہیں!

جان لو کہ قادری طالب مرید بالکل جاہل نہیں ہوتا۔ علم کی بدولت وہ ظاہر و باطن میں صاحبِ جمعیت ہوتا ہے۔ بیت:

جمعیت جمالش مشرف محمدؐ
مشرف محمدؐ ز علمِ جمعیت

ترجمہ: (قادری طالب کو) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جمال سے مشرف ہونے سے جمعیت حاصل ہوتی ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دیدار سے ہی علمِ جمعیت عطا ہوتا ہے۔

جان لو کہ علما کامل یا علما عامل کے شاگرد کو ہر رات یا ہر شبِ جمعہ یا مہینے میں ایک مرتبہ یا سال میں ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دیدارِ پُرانوار حاصل ہوتا ہے۔ بعض لوگ اس کے متعلق جانتے ہیں اور بعض نہیں۔ اے دوست! صاحبِ عمل علما اور حفاظ کے ادب کا خیال رکھ۔ نیز یہ اہلِ معرفت اولیا اللہ کا طریق ہے جنہیں اللہ کا قرب، مشاہدۂ نورِ حضور میں استغراق اور وصال حاصل ہوتا ہے۔ فقیر ولی اللہ جو اسمِ اللہ ذات کی مشق (مشق مرقومِ وجودیہ) کرتا ہو اور لاسویٰ اللہ کے بابرکت مرتبہ کا حامل ہو اور وہ ہمیشہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری میں رہتا ہو اس کے لیے خواہشاتِ نفس کے باعث غیر حق کی طرف اور کشف و کرامات کے لیے مخلوق کی طرف رجوع کرنا اور فرشتہ و مؤکلات سے ہم کلامی کرنا اور طبقات کی طیر سیر کا نظارہ کرنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے بلکہ سلب ہے۔ غوث و قطب دہقانی کے ان مراتب کو چھوڑ اور اللہ کی طرف متوجہ ہو اور خود کو اللہ کی طرف لے کر آ۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔  (سورۃ الانعام۔79)
ترجمہ: بیشک میں نے پوری یکسوئی سے اپنا رُخ (ہر طرف سے ہٹا کر) زمین و آسمان کے خالق کی طرف کر لیا ہے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔

اللہ جل جلالہٗ کے سوا کسی کی طلب کرنا یا کسی اور کے ساتھ مشغول ہونا راہِ غلط ہے جو (اللہ کے) غضب کا باعث ہے جیسا کہ فرمایا گیا:
غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ (سورۃ الفاتحہ۔7)
ترجمہ: نہ کہ (ان لوگوں کا راستہ) جن پر غضب کیا گیا اور نہ ہی ان کا جو (راستہ) گمراہ ہوئے۔

بیت:

حیّ قیوم پیش تو قائم
تو گرفتار مردگان دائم

ترجمہ: حیّ و قیوم ذات تیرے سامنے موجود ہے لیکن تو مخلوق میں پھنسا ہوا ہے۔
فقیر عارف باللہ اور اولیا اللہ کے لیے صرف اللہ ہی کافی ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
حَسْبِیَ اللّٰہُ    (سورۃ التوبہ۔129)
ترجمہ: اللہ میرے لیے کافی ہے۔
اے احمق سن! اپنی نظر غیر سے ہٹا لے کیونکہ طبقات کی ہر شے نفس کی خواہش سے تعلق رکھتی ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰی (سورۃ النجم۔17)
ترجمہ: اور ان کی نگاہ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی۔

بیت:

شو فنا فی اللہ فانی باخدا
شرک و کفر و از نفاق باز آ

ترجمہ: اللہ کی ذات میں فنا ہو کر یکتا با خدا ہو جا اور شرک، کفر اور نفاق کو چھوڑ دے۔

یکتا باخدا ہونے اور وحدانیت میں غرق ہو کر وصال پانے کے لیے نفس کو چھوڑ دے۔ سروری قادری کے مراتب یہ ہیں کہ ظاہری طور پر وہ شریعت اور دین پر قائم رہتا ہے اور باطن میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہم مجلس ہوتا ہے۔ اے سروری قادری تجھے خوش آمدید اور اللہ تجھے دونوں جہان میں بھلائی سے نوازے۔   بیت:

غلط را بگذار وحدت راہ بگیر
تا شوی از اولیا عارف فقیر

ترجمہ: غلط کو ترک کر دے اور وحدت کی راہ اختیار کر لے تاکہ تو عارف فقیر اولیا میں سے ہو جائے۔

طریقہ قادری بھی دو طرح کا ہے ایک سروری قادری دوسرا زاہدی قادری۔ صاحبِ تصور سروری قادری (مرشد) اسمِ اللہ  ذات کے حاضرات سے طالبِ مولیٰ کو تعلیم و تلقین سے نوازتا ہے تو روزِ اوّل ہی اس کا مرتبہ اپنے مرتبہ کے برابر کر دیتا ہے جس سے طالب لایحتاج اور بے نیاز ہو جاتا ہے۔ اس کی نظر حق پر ہوتی ہے اور اس کی نظر میں سونا اور مٹی برابر ہو جاتے ہیں۔ دوسرا طریقہ زاہدی قادری ہے جس میں طالب بارہ سال تک ایسی ریاضت کرتا ہے کہ اس کے پیٹ میں کھانا تک نہیں جاتا۔ بارہ سال کے بعد حضرت پیر دستگیر حاضر ہو کر نظر فرماتے ہیں اور اسے سالک مجذوب یا مجذوب سالک کے مرتبہ پر پہنچا دیتے ہیں۔ سروری قادری محبوبیت کا مرتبہ ہے۔ ابیات:

شد حضوری معرفت از اسم اللہ ذات
اسم اعظم یافتم از ہر آیات

ترجمہ: اسمِ اللہ ذات سے مجھے ایسی حضوری اور معرفت نصیب ہوئی کہ میں نے (قرآن کی) ہر آیت سے اسمِ اعظم پایا۔ 

ہر کہ آید در مطالعہ رازِ ربّ
باخموشی دائمی صاحب ادب

ترجمہ: جس کے مطالعہ میں اسرارِ الٰہی آ جاتے ہیں وہ ہمیشہ خاموش اور باادب رہتا ہے۔

ابتدا و انتہا صاحب حضور
ابتدا و انتہا در غرق نور

ترجمہ: وہ ابتدا سے انتہا تک صاحبِ حضور بن کر نور میں غرق رہتا ہے۔

بے حضوری نور ناری راہزن
باحضوری نور عارف در امن

ترجمہ: حضوری کے بغیر نور بھی آگ میں بدل کر راہزن بن جاتا ہے جبکہ حضوری حاصل ہونے پر نور عارف کو امن میں لے جاتا ہے۔

ایں طریقت مشکل است مشکل کشا
شد نصیب عارفان باطن صفا

ترجمہ: طریقت کی یہ راہ مشکل ہے لیکن یہی مشکل کشا ہے جو باطن صفا عارفوں کو نصیب ہوتی ہے۔

مردہ دل را نیست راہی قدم خام
پیشوا او دنیا شد صد بت صنم

ترجمہ: مردہ دل والے کے لیے اس راہ پر چلنا ممکن نہیں کیونکہ وہ خام ہوتے ہیں اور ان کی راہبر دنیا ہوتی ہے جو کہ بت کدہ ہے۔

تن بود با دنیا دل شد با خدا
عارفان را ایں چنین حق راہنما

ترجمہ: حق تعالیٰ عارفین کی ایسے راہنما ئی کرتا ہے کہ ان کے وجود اس دنیا میں جبکہ دل اللہ کے ساتھ مشغول ہوتا ہے۔

جان لو کہ معرفت، معراج اور محبت کی بنیاد، ارواح سے ملاقات، قربِ حضور، مشاہداتِ اسرارِ ربانی، فقیر فنا فی اللہ بقا باللہ کے مراتب، ابتدا سے انتہا تک توحیدِسبحانی کے مراتب سے گزرنا یہ سب تصور، تفکر، تصرف، توجہ، توکل اور اسمِ اللہ ذات کی مشق سے حاصل ہوتے ہیں۔ ہر طرح کا ذکر، حضوری، علمِ کلماتِ ربانی، الہامِ حضور مذکور اسمِ اللہ  ذات کی مشق کی تاثیر سے حاصل ہوتے ہیں جس میں تفکر سے انگلی کے ساتھ دل پر اسمِ اللہ  ذات کا نقش لکھا جاتا ہے اور اسی اسمِ اللہ ذات سے دیگر علوم حاصل ہوتے ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل علوم جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَعَلَّم اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا   (سورۃ البقرہ۔31)
ترجمہ: اور (اللہ نے) آدمؑ کو تمام اسماء کا علم سکھایا۔

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ج خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ ج اِقْرَاْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔لا الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ لا عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ۔ (سورۃ العلق۔1-5)
ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اپنے ربّ کے نام سے پڑھیں جس نے (ہر شے کو) تخلیق کیا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے تخلیق فرمایا۔ پڑھیں کہ آپ کا ربّ بڑا ہی عزت و اکرام والا ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا اور وہ علم سکھایا جو وہ (پہلے) نہیں جانتا تھا۔ 

اَلرَّحْمٰنُ۔لا عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔ ط خَلَقَ الْاِنْسَانَ ۔ لا عَلَّمَہُ الْبَیَانَ۔(سورۃ الرحمن۔1-4)
ترجمہ: (وہ) رحمن ہے جس نے قرآن سکھایا۔ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے بیان کا علم عطا فرمایا۔
وَ لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ   (سورۃ بنی اسرائیل۔70)
ترجمہ: اور بیشک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔ 

اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً  (سورۃ البقرہ۔30)
ترجمہ: بیشک میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔
وَ اذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا (سورۃ المزمل۔8)
ترجمہ: اور اپنے ربّ کے اسم کا ذکر اسطرح (محویت سے) کرتے رہیں کہ ہر شے سے قطع تعلق ہو کر اسی کے ہو رہیں۔

وَ ذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی۔ (سورۃ الاعلیٰ۔15)
ترجمہ: اور وہ اپنے ربّ کے اسم کا ذکر کرتا رہا اور نماز پڑھتا رہا۔

جان لو کہ حدیثِ مبارکہ ہے:
اَلْعِلْمُ عِلْمَانِ عِلْمُ الْمُعَامَلَۃِ  وَعِلْمُ الْمُکَاشِفَۃِ   
ترجمہ: علم دو طرح کے ہیں علم ِ معاملات اور علم ِ مکاشفات۔

معرفتِ الٰہی سے علمِ مکاشفہ کھلتا ہے اور اسی طرح علمِ معاملات ہے جو علمِ مکاشفات میں ہی آ جاتا ہے کیونکہ تصور اسمِ اللہ ذات کی مشق کرنے سے کتب الاکتاب بے حجاب ہو جاتی ہے اور ہر علمِ ظاہری و باطنی اور کلماتِ حق کا علم طالب کو حاصل ہو جاتا ہے۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا (سورۃ الکہف۔109)
ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) فرما دیجیے کہ اگر تمام سمندر کلماتِ ربانی لکھنے کے لیے سیاہی بن جائیں تو بے شک سمندر ختم ہو جائیں گے مگر کلماتِ ربانی ختم نہ ہوں گے اگرچہ ان کی مثل مزید سمندر مدد کے لیے لے آئیں۔

تصور اسمِ اللہ ذات کی مشق سے حاصل ہونے والے علم کے ذریعے تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور تجلیہ روح و سرّ ہوتا ہے۔ اور جو ان مراتب کو پا لے تو اس کا قالب (وجود) قلب کا لباس پہن لیتا ہے، قلب روح کا لباس پہن لیتا ہے اور روح سرّکا لباس پہن لیتی ہے اور جب یہ چاروں اکٹھے ہو جاتے ہیں تو اوصافِ ذمیمہ اس کے وجود سے نکل جاتے ہیں۔ ظاہری حواسِ خمسہ بند ہو جاتے اور باطنی حواس کھل جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ علم دل پر کھلتا ہے جس کے متعلق فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ (سورۃ الحجر۔29)
ترجمہ: اور میں نے اس کے اندر اپنی روح پھونکی۔

جیسے ہی روحِ اعظم حضرت آدمؑ کے وجودِ معظم میں داخل ہوئی تو اس روحِ اعظم نے وجود میں کہا یَا اَللّٰہُ۔ اللہ کا نام لیتے ہی بندے اور ربّ کے درمیان سے قیامت تک کے لیے حجاب اُٹھ گئے تاہم ابھی تک کوئی بھی اسمِ اللہ ذات کی حقیقت کی انتہا تک نہیں پہنچ پایا۔ 

بیت:

ہر چہ خوانی از اسم اللہ بخوان
اسم اللہ با تو ماند جاودان

ترجمہ: تو جو علم بھی حاصل کرنا چاہتا ہے اسمِ اللہ ذات سے حاصل کر کیونکہ یہ تیرے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔

(جاری ہے)

 


اپنا تبصرہ بھیجیں