حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دورِخلافت کی مشکلات Hazrat Ali r.a kay Dor-e-Khilafat ki Mushkilat


4.3/5 - (56 votes)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ  کے دورِخلافت کی مشکلات

 Hazrat Ali r.a kay Dor-e-Khilafat ki Mushkilat

قسط نمبر 4                                                                              تحریر: سلطان محمد عبداللہ اقبال سروری قادری

حضرت علیؓ نے کبھی خلافت کی خواہش نہ کی

باغی اور سازشی حضرت علیؓ کی خلافت کو متنازع بنانے اور حضرت علیؓ کا مقام کم کرنے کے لیے ان پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں کہ:
حضرت علیؓ نے(معاذاللہ) حضرت ابوبکرؓ کی بیعت سے انکار کر دیا۔
حضرت علیؓ نے (معاذاللہ) حضرت عمرؓ کی بیعت نہیں کی اور آپؓ کا (معاذاللہ) دل رنجیدہ ہوا کہ آپؓ کو خلیفہ نہیں چنا گیا۔
حضرت علیؓ(معاذاللہ) حضرت عثمانؓ کی جگہ خود خلیفہ بننا چاہتے تھے۔ 

یہ الزامات سراسر باطل ہیں۔ حقائق اور تاریخ اِن من گھڑت الزامات کو صریحاً جھٹلاتے ہیں۔ حکیم محمود احمد ظفر لکھتے ہیں:
تاریخ کے اوراق اس بات کی کھلی شہادت دیتے ہیں کہ سیدّنا علیؓ نہ تو خلافت کے حریص تھے اور نہ ہی انہوں نے سیدّنا ابوبکرؓ، سیدّنا عمرؓ اور سیدّنا عثمانؓ کی خلافتوں میں عدم تعاون کا رویہ اختیار کیا بلکہ انہوں نے تمام امورِ مملکت میں ان حضرات کے ساتھ تعاون اور معاونت کی کیونکہ سیدّنا علیؓ ان حضرات کے مقام کو پہچانتے تھے۔ (امیر المومنین سیدّنا علیؓ، ص 220-221)

غنیتہ الطالبین میں مذکور ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ نے فرمایا ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دنیا سے رخصت نہیں ہوئے یہاں تک کہ ہم سے بیان کردیا کہ ان کے بعد خلافت ابوبکرؓ کی ہو گی، پھر عمرؓ کی پھر عثمانؓ کی پھر میری، مگر مجھ پر اجتماع نہ ہو گا۔‘‘ (بحوالہ ازالتہ الخفا، جلد چہارم ، ص502)

حضرت علیؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وصیت کرتے ہوئے ان سے فرمایا’’میرے بعد بارِ خلافت ابوبکرؓ اٹھائیں گے اور بس لوگ ان پر اکٹھے ہوجائیں گے پھر ان کے بعد عمرؓ بارِ خلافت اٹھائیں گے اور سب لوگ ان پر اتفاق کرلیں گے پھر عثمانؓ بارِ خلافت اٹھائیں گے۔‘‘ (کنزالعمال 36702)

کیا یہ ممکن ہے کہ حضرت علیؓ ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ کی خلافت پر دل رنجیدہ کریں جبکہ حضرت علیؓ سے ہی حدیث روایت ہو اور وہ جانتے ہوں کہ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ نے خلیفہ منتخب ہوناہے کیونکہ اس امر کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی زبانِ گوہر فشاں سے فرمایا ہے۔ لہٰذا ان احادیث سے ہر قسم کے الزام کی نفی ہوتی ہے۔ 

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میرے بعد ابوبکرؓ و عمرؓ کی اقتدا کرو۔ ترمذی میں ہے:
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے توآپؐ نے فرمایا ’’میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، لہٰذا تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے اور آپؐ نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کی جانب اشارہ کیا۔‘‘ (ترمذی 3663)

اسی طرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ میں نہیں جانتا کہ میں تم میں کتنی دیر باقی رہوں گا، میرے بعد تم ابوبکرؓ اور عمرؓ دونوں کی اقتدا کرنا۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح 6061)

 بخاری میں ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں ’’میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سنا ، آپؐ نے فرمایا کہ میں سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا جس پر ڈول تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا میں نے اس ڈول سے پانی کھینچا ، پھر اسے ابنِ ابی قحافہ ( ابوبکر رضی اللہ عنہٗ) نے لے لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے، ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری سی معلوم ہوئی۔ اللہ ان کی اس کمزوری کو معاف فرمائے۔ پھر اس ڈول نے ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر لی اور اسے عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہٗ) نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ میں نے ایسا شہ زور پہلوان آدمی نہیں دیکھا جو عمرؓ کی طرح ڈول کھینچ سکتا۔ انہوں نے اتنا پانی نکالا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو حوض سے سیراب کر لیا۔‘‘ (بخاری 3664)

یہ خواب بھی حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی خلافت پر دلالت کرتا ہے۔ ابنِ کثیر نے لکھا ہے:
یہ خواب شیخین کی خلافت کی بشارت اور پیش گوئی ہے۔ (تاریخ ابن کثیر جلد 3، حصہ ششم، ص 505)

اب اگر عام انسان جس کے پاس ذرا بھی علم ہو تو وہ بھی یہ سمجھتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کی خلافت کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دے رکھی ہے تو حضرت علیؓ تو بابِ علم ہیں، کیا وہ نہ جانتے تھے؟ بالکل جانتے تھے اور اس پر راضی تھے لیکن سازشیوں نے حضرت علیؓ پر الزامات لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حضرت علیؓ (معاذاللہ) ہمیشہ خلافت چاہتے تھے اور حضرت عثمانؓ کو بھی خلافت سے ہٹانے کی سازش میں ملوث تھے۔ ان الزامات کا واضح مقصد یہ تھا کہ اصل سازشی قتلِ عثمانؓ کے الزام سے بَری ہو سکیں اور اُمت میں صحابہؓ کے مقام و مرتبہ کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کر کے انتشار پیدا کر سکیں۔اللہ پاک ہم سب کو ایسے فتنوں سے محفوظ و مامون رکھے۔ آمین

اس ضمن میں چند مستند مؤرخین کی روایات کو بیان کیا جا رہا ہے تاکہ اس بہتان کی نفی کی جائے اور حضرت علیؓ پر لگے الزامات کی حقیقت کو کھولا جائے۔ 

 حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی:

جہاں تک حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کا تعلق ہے تو حضرت علیؓ نے تمام صحابہؓ کے ساتھ مل کر حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی تھی۔ جب حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کا معاملہ پیش آیا وہ ناگہانی صورتحال تھی، اس وقت حضرت علیؓ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تجہیز و تکفین میں مصروف تھے۔ حضرت علیؓ کے لیے ممکن نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تجہیز و تکفین چھوڑ کر سقیفہ (جس جگہ بیعتِ خلافت کے معاملہ پر انصار و مہاجرین کے درمیان بحث جاری تھی) جاتے۔ جب اگلے روز سب صحابہؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی تو حضرت علیؓ ان سب میں پہلے تھے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ:
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وصال مبارک ہوا اور تجہیز و تکفین ابھی چل ہی رہی تھی کہ کچھ منافقین نے انصار کو سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع کر کے خلافت کا معاملہ اٹھا دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد کون امورِ خلافت سنبھالے گا۔ اس معاملے کو ہوا دینے میں یہودیوں کا کلیدی کردار تھا کیونکہ وہ عرصہ دراز سے وصالِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے انتظار میں تھے۔

یہ بہت نازک صورتحال تھی۔ اگر انصار منافقین کی باتوں میں آ جاتے تو پوری اُمت کا شیرازہ بکھر جاتا(نعوذباللہ)۔ اگر اس معاملے کے زمینی حقائق دیکھے جائیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم نوعیت کا تھا۔ دراصل ہجرت کے بعد امتِ مسلمہ کا اور خصوصاً مدینہ کا سارا انتظام آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاتھ میں تھا۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ مسلمانوں کی حکومت صرف مدینہ تک محدود نہ تھی بلکہ پورے عرب میں تھی۔ زیادہ تر قبائل اسلام قبول کر چکے تھے اور باقی ماندہ لوگ مسلمانوں کو جزیہ دیتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تیاری کر چکے تھے کہ روم اور فارس میں بھی اسلام کا جھنڈا لہرایا جائے گا۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو خلافت کے معاملے میں غلط فیصلہ تباہی و بربادی کا باعث بن سکتا تھا۔  

اس نازک صورتحال کی خبر کسی نے حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہؓ کو دی۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تجہیز و تکفین کے انتظامات میں مصروف تھے۔ دونوں اصحاب نے فوراً حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کو پیغام بھیجا کہ ان کی بات سنیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے جواب بھجوایا کہ وہ مصروف ہیں ابھی نہیں آ سکتے۔ انہوں نے پھر پیغام بھجوایا کہ بہت اہم مسئلہ درپیش ہے ورنہ معاملہ خراب ہو جائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر آ گئے۔ آپؓ نے فرمایا کہ ایسا کونسامعاملہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے غسل سے بھی زیادہ ضروری ہے؟ 

دونوں اصحاب نے آگاہ کیا کہ منافقین سقیفہ بنی ساعدہ میں اس چال بازی میں مصروف ہیں۔ اس کا فوراً تدارک ضروری ہے ورنہ اتحادِ اُمت ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔ تینوں اصحاب اور کچھ جید صحابہؓ بھی سقیفہ بنی ساعدہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں دو اصحاب عاصم بن عدی اور عویم بن ساعدہ ملے تو انہوں نے ان کو مشورہ دیا کہ ادھر نہ جائیں وہاں معاملہ خراب ہو چکا ہے اور اب سنبھل نہیں سکتا بلکہ ہمیں اپنی جان کی فکر کرنی چاہیے۔ اس رائے کو نظر انداز کر کے تمام صحابہؓ سقیفہ پہنچے۔

اس نازک موقع پر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہٗ نے انصار سے فرمایا:
’’اے انصار! تم اسلام کی مدد کرنے میں بھی پہلے تھے اور اب اس کی بربادی کے در پے ہونے والوں میں بھی پہلے ہو۔‘‘
ان باتوں کا انصار پر بہت اثر ہوا۔ ان کا ایمان تازہ ہو گیا اور وہ منافقین کی باتیں بھول گئے۔ اس وقت حضرت ابوبکرؓ نے جب پورے اجتماع پر نظر دوڑائی تو آپؓ کو اندازہ ہو گیا کہ یہی بہترین موقع ہے کہ سب قائل نظر آ رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی منافق ایسی بات کر دیتا کہ مسئلہ دوبارہ کھڑا ہو جاتا، آپ رضی اللہ عنہٗ نے ایک ہاتھ میں حضرت عمرؓ کا ہاتھ پکڑا اور دوسرے میں حضرت ابو عبیدہؓ کا اور فرمایا: 
’’ان میں سے جس کی چاہو بیعت کر لو۔ یہ عمرؓ ہے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’ ’اے اللہ! عمرؓ کے ذریعے دین کو عزت و طاقت عطا فرماــ‘‘ اور یہ ابوعبیدہؓ ہیں جن کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تھا ’’یہ میری اُمت کے امین ہیں۔‘‘

 حضرت عمرؓ نے جب یہ باتیں سنیں تو فوراً ہی حضرت ابوبکرؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ’’میں آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔‘‘ اور فرمایا ’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپؓ کو حکم دیا تھا کہ مسلمانوں کی امامت کروائیں اس لیے آپؓ ہی خلیفہ ہیں۔‘‘

حضرت ابوعبیدہؓ نے بھی بیعت کر لی اور فرمایا کہ مہاجرین میں آپؓ کا مرتبہ سب سے اعلیٰ ہے اس لیے آپؓ ہی اس خلافت کے مستحق ہیں۔ اس کے بعد انصار و مہاجرین بڑھ چڑھ کر بیعت کرنا شروع ہو گئے۔

اس واقعہ پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس روز سقیفہ میں حضرت علیؓ کا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے غسل اور کفن دفن کے انتظامات میں مصروف تھے۔ جب اگلے روز حضرت ابوبکرؓ صدیق مسجدِ نبویؐ میں جلوہ افروز ہوئے تو حضرت علیؓ بخوشی بیعت ہونے والوں میں شامل تھے۔ 

ابنِ کثیر لکھتے ہیں:
جب یوم سقیفہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت ہوئی تھی تو حضرت علیؓ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے(اگلے روز) مسجد میں آپؓ کی بیعت کی تھی۔ (تاریخ ابنِ کثیر، جلد چہارم، حصہ ہفتم، ص 226)

حکیم محمود احمد ظفر لکھتے ہیں:
حضرت عمرؓ نے کتابِ اللہ کی روشنی میں سقیفہ بنی ساعدہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا جانشین حضرت ابوبکرؓ صدیق کو مقرر کیا اور تمام امت نے جن میں سیدّنا علیؓ بھی شامل تھے اس بات پر حضرت عمرؓ کے ساتھ اتفاق کیا۔ (امیر المومنین سیدّنا علیؓ) 

امام طبریؒ نے لکھا ہے:
حضرت علیؓ اپنے گھر میں تھے تو کسی نے آ کر آپؓ سے کہا کہ حضرت ابوبکرؓ بیعت کے لیے مسجد میں بیٹھے ہیں، وہ فوراً بغیر چادر اور ازار کے اس خوف سے کہ انہیں بیعت کرنے میں دیر نہ ہو جائے گھر سے مسجد آئے، بیعت کی اور حضرت ابوبکرؓ کے پاس بیٹھ گئے اور کسی کو بھیج کر انہوں نے اپنے گھر سے کپڑے منگوا کر پہنے اور پھر وہیں بیٹھے رہے۔ (تاریخ طبری، جلد دوم، حصہ اول، ص410)

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اپنی تصنیفِ مبارکہ میں رقمطراز ہیں:
یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت کی اور بلا جبر و اکراہ کی۔ (خلفائے راشدین)

سید امیر علی ایک مشہور جج تھے اور ان کا تعلق شیعہ فرقہ سے تھا وہ لکھتے ہیں:
حضرت علیؓ نے اس خوف سے کہ مبادا متبعینِ نبی میں کسی قسم کا رخنہ پڑ جائے فوراً حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔( Spirit of Islam  اردو ترجمہ: روحِ اسلام، ص 449)

علامہ جلال الدین سیوطیؒ لکھتے ہیں:
حضرت علیؓ نے فرمایا ’’جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وصال فرمایا تو ہم نے اپنے معاملات پر غور کیا اور اس شخص کو اپنی دنیا کے واسطے اختیار کیا جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہمارے دین کے واسطے انتخاب فرمایا تھا کیونکہ نماز دین کی اصل اور جڑ ہے اور آپؓ دین اور دنیا دونوں کے قائم رکھنے والے تھے لہٰذا ہم نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے بیعت کر لی اور سچ تو یہ ہے کہ آپؓ ہی اس کے اہل تھے اور اسی واسطے ان کی خلافت میں کسی نے اختلاف نہیں کیا۔‘‘ (خلفائے راشدین، مصنف سیوطی، ص 193,194)

ان تمام روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت خوشدلی سے اور بلااعتراض قبول کی کیونکہ وہ خود نہ کبھی خلافت کے خواہشمند تھے اور نہ اس کے امید وار۔

ایک عام نیک و پرہیزگار آدمی بھی کبھی امارت و وزارت کی خواہش نہیں کرتا۔ یہاں ایک مثال لیتے ہیں کہ اگر آپ (قارئین) اُس دور میں ہوتے تو حضرت ابوبکرؓ کے خلیفہ بننے پر کیا کرتے؟ یقینا فوراً حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کرتے۔ اگر آپ کی سوچ بطور ایک عام مسلمان ایسی ہے تو کم از کم حضرت علیؓ کا مقام تو کم نہ کریں کہ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر ناراضی کا اظہار کیا کیونکہ (معاذاللہ) وہ خود خلیفہ بننا چاہتے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب حضرت علیؓ سے حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے بارے میں پوچھا گیا توآپؓ نے فرمایا ’’انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہماری نماز کے لیے منتخب کیا، ہمارے دین کے لیے منتخب کیا تو ہم نے انہیں اپنی دنیا کے لیے بھی منتخب کر لیا۔ ‘‘

ایک عام مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی حیات میں ہی حضرت ابوبکرؓ کو مسلمانوں کی نماز کی امامت کا جو حکم دیا اس میں یہی اشارہ تھا کہ میرے بعد یہی خلیفہ ہوں گے۔ اب اگر ایک عام مسلمان کو یہ بات سمجھ آ سکتی ہے تو پھر کیا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو یہ اشارہ سمجھ نہ آ یا ہو گا؟ 

 حضرت علیؓ کو حضرت ابوبکرؓ کے خلاف اکسانے کی کوشش

مستدرک میں روایت ہے:
ابوسفیان بن حرب ، حضرت علیؓ ابنِ ابی طالب کے پاس آیا اور بولا :
 ’’یہ کیا بات ہوئی کہ قریش کے غریب ترین اور کمزور ترین آدمی کے سپرد خلافت کر دی گئی۔ خدا کی قسم ! اگر آپ چاہیں تو میں گھوڑوں اور لوگوں سے ( سارا میدان ) بھر دوں۔‘‘

 حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا :
’’اے ابوسفیان ! تم نے اسلام کے ساتھ جو طویل دشمنی رکھی وہ اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکی۔ ہم تو صرف ابوبکر رضی اللہ عنہٗ کو ہی خلافت کا اہل سمجھتے ہیں۔‘‘(مستدرک امام حاکم 4462)

اسی طرح کنزالعمال میں ہے:
سویدبن غفلہ سے مروی ہے کہ ابو سفیان حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کے پاس آئے اور بولے ’’اے علیؓ! اور اے عباسؓ! کیا بات ہے کہ یہ حکومت قریش کے ذلیل ترین اور چھوٹے قبیلے میں کس طرح چلی گئی؟ اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو میں اس شخص پر گھڑسوار اور پیادہ لشکروں کی بھرمار کرسکتا ہوں۔‘‘ حضرت علیؓ نے ان کو فرمایا ’’نہیں، اللہ کی قسم! میں ہرگز نہیں چاہتا کہ تم ایسا قدم اٹھاؤ اور ان پر پیادہ وسوار لوگوں کو چڑھاؤ۔ اگر ہم ابوبکرؓ کو اس منصب کا اہل نہ سمجھتے تو ہرگز ان کو خلافت پر نہ بٹھاتے۔ اے ابوسفیان! مومنین تو ایک دوسرے کے لیے خیر خواہ ہوتے ہیں اور باہم محبت کرنے والے (شیروشکر) ہوتے ہیں خواہ ان کے وطن اور جسم دور دور ہوں جبکہ منافقین ایک دوسرے کے لیے دھوکا باز ہوتے ہیں۔‘‘ (کنزالعمال 14156)

حتیٰ کہ یہ کوشش حضرت علیؓ کے دورِ خلافت میں بھی جاری رہی۔ کنز العمال میں ہے:
ابن عمرؓ کی روایت ہے کہ جب حضرت علیؓ نے خلافت کی ذمہ داری قبول فرمائی تو ایک شخص نے آپ ؓسے کہا ’’اے امیر المومنین! مہاجرین و انصار نے آپ کو چھوڑ کر کس طرح ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی حالانکہ آپ منقبت میں اکرم و اعلیٰ ہیں اور سبقت میں اقدام ہیں؟‘‘ آپؓ نے اس شخص سے فرمایا ’’بخدا! اگر مومنین اللہ تعالیٰ کی پناہ میں نہ ہوتے تو میں تمہیں قتل کردیتا اور اگر تو زندہ رہا ضرور جرم کا مرتکب ہوگا۔ تیرا ناس ہو ابو بکرؓ مجھ سے چار چیزوں میں آگے بڑھ گئے ہیں:رفاقتِ غار میں سبقت، ہجرت میں سبقت، میں صغر سنی میں ایمان لایا جب کہ ابوبکرؓ کبرسنی میں ایمان لائے اور اقامت ِ نماز میں مجھ سے آگے بڑھ گئے۔‘‘ (کنزالعمال 36150)

دراصل بنو امیہ ہمیشہ سے خود کو قریش کے دیگر قبائل سے برتر سمجھتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کرنے والے بنو امیہ کے سرداروں میں سے نسلی تفاخر اور احساسِ برتری کبھی ختم نہ ہوا اور اسی بنا پر وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال کے بعد خود کو امتِ مسلمہ پر حکمرانی کا حقدار تصور کرتے تھے۔ ان میں مومنین کی یہ صفت کبھی پیدا نہ ہو سکی کہ برتری کا معیار تقویٰ ہے نہ کہ نسل، اقتدار اور مال و دولت۔ ان کے لیے خلافت کا تصور بالکل نیا اور ناقابلِ قبول تھا کیونکہ وہ نسل در نسل ملوکیت و سرداری منتقل کرنے کے صدیوں سے عادی تھے۔ اگر اس بات کو ذہن میں رکھا جائے تو حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے خلاف تمام سازشوں کی بنیاد سمجھ آ جائے گی یعنی خلافت کو ملوکیت میں بدلنا۔

 حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ کی بیعت کی

بہتان تراش اور حضرت علیؓ سے کینہ رکھنے والے لوگ یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ حضرت علیؓ کو حضرت عمرؓ کی خلافت پر بھی رنج تھا حالانکہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔
علامہ جلال الدین سیوطیؒ لکھتے ہیں:
جب حضرت ابوبکرؓ بیمار ہوئے تو آپؓ نے اپنے گھر کے دریچے سے باہر دیکھ کر فرمایا ’’اے لوگو! میں نے ایک وصیت کی ہے، کیا تم لوگ اس سے راضی ہو گے؟ ‘‘
سب نے جواب دیا ’’اے خلیفۂ رسول! ہم اس بات پر راضی ہیں۔‘‘

مگر حضرت علیؓ نے کھڑے ہو کر کہا کہ اگر یہ وصیت حضرت عمرؓ کے بارے میں ہے تو پھر ہم راضی ہیں ورنہ نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا ’’وہ حضرت عمرؓ ہی تو ہیں‘‘۔ (تاریخ الخلفا ص 121)

حضرت علیؓ نے ایسا اس لیے کہا کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اس حکم سے بخوبی آگاہ تھے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بعد خلیفہ حضرت عمرؓ ہوں گے اور وہ تسلی کرنا چاہتے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وصیت کے مطابق ہے یا نہیں۔

ابنِ کثیر لکھتے ہیں:
سیدّنا ابوبکرؓ نے سیدّنا عمرؓ کو اپنا قائم مقام اور جانشین تجویز فرما کر مسلمانوں کے سامنے ایک تحریر پیش کی۔ روایات میں ہے کہ سیدّنا صدیق اکبرؓ بالا خانے پر تشریف لائے اور لوگوں کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا ’’اے لوگو! خلافت کے متعلق میں نے ایک عہد کیا ہے۔ کیا تم اس پر رضامند ہو؟‘‘ سب لوگوں نے جواب دیا ’’اے خلیفۂ رسولؐ! ہم اس بات پر راضی ہیں‘‘لیکن سیدّنا علیؓ نے کہا’’عمر بن خطاب کے علاوہ ہم کسی دوسرے شخص پر راضی نہیں ہوں گے۔‘‘ (اسدالغابہ جلد 4 ص 70، الصواعق المحرقہ ص 54 بحوالہ امیر المومنین سیدّنا علی ص 219)

اس مستند روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ نہ صرف حضرت عمرؓ کی خلافت پر راضی تھے بلکہ آپؓ کی شدید خواہش تھی کہ حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عمرؓ ہی خلافت سنبھالیں کہ سیدّنا علیؓ کو سیدّنا عمرؓ سے خاص قسم کی دلی محبت تھی اور وہ  سیدّنا عمرؓ کے مناقب سے بخوبی واقف تھے۔ اسی وجہ سے وہ سمجھتے تھے کہ سیدّنا ابوبکرؓ کے بعد کشتیِ امامت کا اگر کوئی ناخدا ہو سکتا ہے تو وہ صرف سیدّنا عمرؓ ہیں۔ چنانچہ انہوں نے برملا کہا ’’ہم سوائے عمرؓ کے کسی اور پر راضی نہ ہوں گے۔‘‘ 

ابنِ کثیر لکھتے ہیں: 
جب حضرت عمرؓ بن خطاب خلیفہ بنے تو دیگر صحابہؓ کے ساتھ حضرت علیؓ نے بھی آپؓ کی بیعت کی۔ (تاریخ ابن کثیر، ص 226)

حضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کی بیعت کی:

ان تمام مستند روایات کے بعد بھی بہتان باندھنے والوں کی تشنگی ختم نہیں ہوتی اور وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ شہید کر دیے گئے تو پھر حضرت علیؓ خلیفہ بننا چاہتے تھے۔ یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔ اس سلسلے میں بہت سی روایات موجود ہیں۔ مسند احمد میں ہے:
ابووائل کہتے ہیں میں نے سیدّنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہٗ سے کہا ’’یہ کیسے ہوا کہ آپ لوگوں نے سیدّنا علی کرم اللہ وجہہ کو چھوڑ کر  سیدّنا عثمان رضی اللہ عنہٗ کی بیعت کر لی؟‘‘ انہوں نے کہا ’’اس میں میراکیا قصور ہے؟ میں پہلے سیدّنا علی رضی اللہ عنہٗ کے پاس گیاا ور میں نے کہا میں اللہ کی کتاب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کی سیرت کی روشنی میں آپؓ کی بیعت کرتاہوں۔‘‘ انہوں نے کہا ’’مجھ میں اسکی استطاعت نہیں۔‘‘ پھرمیں نے یہ چیز سیدّنا عثمانؓ پر پیش کی تو انہوں نے اسے قبول کرلیا۔‘‘ (مسند احمد 12236)

اس حدیث سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت علیؓ خلافت نہ چاہتے تھے بلکہ وہ حضرت عثمانؓ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے اسی لیے انہوں نے انکار کیا۔ حضرت عمرؓ نے اپنی شہادت سے قبل نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے ممبران پر مشتمل ایک شوریٰ بنائی۔ تمام اُمتِ مسلمہ حضرت عمرؓ کے اس فیصلہ پر متفق تھی کہ نئے خلیفہ کا انتخاب مجلسِ شوریٰ کرے۔ مجلسِ شوریٰ نے فیصلہ حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف کو دے دیا کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں گے ہمیں وہ منظور ہو گا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ یا تو حضرت علیؓ کو خلیفہ بنا لیا جائے یا حضرت عثمانؓ کو۔ حضرت علیؓ سے عرض کی کہ آپ خلیفہ بن جائیں تو آپ نے انکار کر دیا جبکہ آپؓ جانتے تھے کہ آپؓ کے انکار کے بعد حضرت عثمانؓ کو عنانِ خلافت دے دی جائے گی۔ اس طرح حضرت عثمانؓ خلیفہ بنے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کو خلیفہ بنانے میں حضرت علیؓ کا اہم کردار ہے۔

ابنِ کثیر لکھتے ہیں:
لوگ حضرت عثمانؓ کی طرف بیعت کی غرض سے بڑھنے لگے اور سب سے پہلے آپؓ کے ہاتھ پر سیدّنا علی کرم اللہ وجہہ نے بیعت کی۔ (تاریخ ابن کثیر، جلد 4، حصہ ہفتم، ص 149) 

ڈاکٹر طہٰ حسین لکھتے ہیں:
تاریخ کے اس موڑ پر ایک بار پھر حضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کی اسی طرح بیعت کر لی جس طرح شیخین کی کی تھی اور جس خلوص اور معاونت کا مظاہرہ ان کے ساتھ کیا تھا حضرت عثمانؓ کے ساتھ بھی روا رکھا۔ (حضرت سیدّنا علی المرتضیٰؓ، ص 159)

ان تمام حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ نے کبھی اپنے لیے خلافت کی خواہش نہیں کی بلکہ ہمیشہ شوق و رغبت کے ساتھ منتخب خلفا کی بیعت کی۔ پھر نہ صرف بیعت کی بلکہ ان کی ہر معاملے میں مدد کی اور حکمت پر مبنی اپنے مفید مشوروں سے ان کی خلافت کو تقویت بخشی۔ 

کچھ کینہ پرور الزام لگاتے ہیں کہ جب حضرت عثمانؓ کو خلافت ملی تو حضرت علیؓ نے معاذاللہ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف سے گلہ کیا کہ آپ نے مجھے خلیفہ نہ بنا کر دھوکہ دیا۔ ان روایات کے متعلق ابنِ کثیر لکھتے ہیں:
بہت سے مؤرخین نے غیر معروف لوگوں سے نقل کیا ہے کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب نے حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف سے کہا کہ آپ نے مجھ سے دھوکہ کیا ہے اور آپ نے ان(حضرت عثمانؓ) کو اس لیے والی بنایا ہے کہ وہ آپ کے داماد ہیں اور ہر روز آپ سے اپنے معاملات میں مشورہ کرتے ہیں اور یہ کہ حضرت علیؓ نے بیعت میں دیر کر دی تھی یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے انہیں یہ آیت سنائی:
’’جو شخص عہد شکنی کرے تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور جو اس عہد کو پورا کرے جس کا اس نے اللہ سے اقرار کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عنقریب اجر عظیم عطا فرمائے گا۔‘‘

اور اسی طرح بہت سی مخالفانہ خبریں جو کہ صحاح میں موجود نہیں وہ سب ان کے ناقلین و قائلین کی طرف رد کر دی جائیں گی۔ (تاریخ ابنِ کثیر، جلد چہارم، حصہ ہفتم، ص149)

ان تمام حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ نے کبھی بھی خلافت کی خواہش نہیں کی اور نہ ہی کبھی کوشش کی بلکہ انہوں نے تینوں خلفائے راشدین سے برضا و خوشی بیعت کی اور ان کے ادوار میں اپنا بہترین حصہ ڈالا۔ مولانا مودودی لکھتے ہیں:
حضرت علیؓ نے خلافت حاصل کرنے کے لیے برائے نام بھی کوشش نہیں کی۔ (خلافت و ملوکیت، ص 122)

 (جاری ہے)

نوٹ: اس مضمون کو  آڈیو کی صورت میں سننے کے لیے  ماہنامہ سلطان الفقر میگزین کے یوٹیوب (YouTube)    چینل کو وزٹ فرمائیں۔ 

یوٹیوب چینل  لنک

مضمون لنک :     Hazrat Ali ra k Dor-e-Khilafat | حضرت علیؓ کے دورِ خلافت کی مشکلات | Urdu / Hindi Podcast

 
 

21 تبصرے “حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دورِخلافت کی مشکلات Hazrat Ali r.a kay Dor-e-Khilafat ki Mushkilat

  1. بڑی تحقیق سے لکھا گیا ہے بہترین مضمون ہے

  2. ان تمام حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ نے کبھی بھی خلافت کی خواہش نہیں کی اور نہ ہی کبھی کوشش کی بلکہ انہوں نے تینوں خلفائے راشدین سے برضا و خوشی بیعت کی اور ان کے ادوار میں اپنا بہترین حصہ ڈالا۔ مولانا مودودی لکھتے ہیں:
    حضرت علیؓ نے خلافت حاصل کرنے کے لیے برائے نام بھی کوشش نہیں کی۔ (خلافت و ملوکیت، ص 122)

  3. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اپنی تصنیفِ مبارکہ میں رقمطراز ہیں:
    یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت کی اور بلا جبر و اکراہ کی۔ (خلفائے راشدین)

  4. تمام حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ نے کبھی بھی خلافت کی خواہش نہیں کی اور نہ ہی کبھی کوشش کی بلکہ انہوں نے تینوں خلفائے راشدین سے برضا و خوشی بیعت کی اور ان کے ادوار میں اپنا بہترین حصہ ڈالا

  5. اللہ پاک ہمیں خلفائے راشدین کی عظمت و فضیلت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

  6. بلا شبہ حضرت علیؓ نے کبھی بھی خلافت کی خواہش نہیں کی اور نہ ہی کبھی کوشش کی بلکہ انہوں نے تینوں خلفائے راشدین سے برضا و خوشی بیعت کی اور ان کے ادوار میں اپنا بہترین حصہ ڈالا

    1. بہت تحقیق پہ مبنی تحریر ہے۔۔۔ اگلے پارٹ کا انتظار رہے گا

  7. حق علی یا علی❤❤❤❤❤❤❤❤❤
    سچ علی یا علی میرا مولا علی 🌹🌹🌹🌹

  8. ابنِ کثیر لکھتے ہیں:
    جب یوم سقیفہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت ہوئی تھی تو حضرت علیؓ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے(اگلے روز) مسجد میں آپؓ کی بیعت کی تھی۔ (تاریخ ابنِ کثیر، جلد چہارم، حصہ ہفتم، ص 226)

  9. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس اپنی تصنیفِ مبارکہ میں رقمطراز ہیں:
    یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت کی اور بلا جبر و اکراہ کی۔ (خلفائے راشدین)

  10. حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت خوشدلی سے اور بلااعتراض قبول کی کیونکہ وہ خود نہ کبھی خلافت کے خواہشمند تھے اور نہ اس کے امید وار۔

  11. مولانا مودودی لکھتے ہیں:
    حضرت علیؓ نے خلافت حاصل کرنے کے لیے برائے نام بھی کوشش نہیں کی۔ (خلافت و ملوکیت، ص 122)

  12. غیب سے مراد ہر وہ مخفی شے ہے جس کا ادر اک نہ توحواس کر سکیں اور نہ ہی عقل کی سریع الفہمی (عقل کی تیزی)کے دائرے میں آسکے۔ (انوار التنزیل،28:1)

  13. غنیتہ الطالبین میں مذکور ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ نے فرمایا ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دنیا سے رخصت نہیں ہوئے یہاں تک کہ ہم سے بیان کردیا کہ ان کے بعد خلافت ابوبکرؓ کی ہو گی، پھر عمرؓ کی پھر عثمانؓ کی پھر میری، مگر مجھ پر اجتماع نہ ہو گا۔‘‘ (بحوالہ ازالتہ الخفا، جلد چہارم ، ص502)

اپنا تبصرہ بھیجیں