علم ِ غیب Ilm-e-Gaib


4.8/5 - (218 votes)

 علم ِ غیب ( Ilm-e-Gaib )

تحریر:سلطان حافظ محمد ناصر مجید سروری قادری 

تخلیقِ کائنات سے لیکر آج تک جتنا بھی علم موجود ہے وہ سب غیب تھا۔ اس حقیقت کا ہر طرح کے علم پر اطلاق ہوتا ہے خواہ وہ قرآن و حدیث کا علم ہو، روحانی علم ہو، دینی و دنیاوی یا جدید علوم ہوں، ہر قسم کا علم غیب میں تھا۔ پھر اس کو اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً ہر زمانے میں اس زمانے کے تقاضوں کے مطابق ظاہر کرتا رہا اور کر رہا ہے۔ لامحالہ علم ِکل اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور جس واسطے سے یہ علم ظاہر ہوا، ہورہا ہے اور ہوگا وہ صرف اور صرف خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ بابرکات ہے۔ لیکن یہاں ایک بہت ہی اہم نقطہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا تمام علم یعنی علمِ کل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قلب مبارک پر ظاہر فرمادیا ہے۔ اب موجودہ انسان تک جو بھی علم پہنچا،خواہ وہ جس بھی شعبہ سے متعلق ہے، اگر اس کے مآخذ کے متعلق تحقیق کریں تو اس کا بنیادی مآخذ اُمّ الکتاب یعنی قرآنِ پاک ہے اور قرآنِ پاک جو کہ غیب تھا،وہ کس وسیلہ سے ظاہر ہوا؟ بے شک میرے آقا کریم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی وہ وسیلہ ہیں۔ 

 امام ابنِ منظور ابن الاعرابی لفظ’’ غیب ‘‘کے تحت لکھتے ہیں:
جو چیز تم سے غائب ہو، وہ غیب ہے ۔

امام ابن منظور ابن الاعرابی غیب کے معنی کے بارے میں مزید لکھتے ہیں:
اور وہ چیز بھی غیب ہی ہے جو آنکھوں سے تو غائب ہو مگر دلوں میں موجود ہو۔(لسان العرب، 654:1، تاج العروس،316:1)

امام قرطبیؒ غیب کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
لغتِ عرب میں غیب وہ ہے جو آپ کی نظروں سے پوشیدہ ہو۔ جب سورج غروب ہو جاتا ہے توکہتے ہیں ’’ غابت الشمس ـ‘‘اور غیبت کا معنی تو معروف ہے (یعنی کسی کی غیر موجودگی میں اس کی عیب گوئی کرنا)۔ (الجامع لاحکام القرآن،163:1)

غیب کی اصطلاحی تعریف

لغوی طور پر تو ہر وہ شے جو ہماری نظروں سے پوشیدہ ہو غیب کے زمرے میں آتی ہے مگر اصطلاحی طور پر غیب کا اطلاق صرف ان اشیا پر ہوتا ہے جن کا علم نہ تو حواسِ خمسہ سے حاصل ہو سکے اور نہ ہی عقل کے ذریعے معلوم ہوں بلکہ ان کی خبر انبیا علیہم السلام کے ذریعے حاصل ہو۔ پاکستان کے باشندوں کیلئے مدینہ منورہ غیب نہیں کیونکہ یا تو انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے اس کی زیارت کی ہوگی یا پھر کسی زائر کی زبانی اس شہر حبیبؐ کا تذکرہ سنا ہوگا مگر یہ بتانا کہ اس وقت مدینہ منورہ کے فلاں گھر کے فلاں کمرے میں یہ ہو رہا ہے بلا کسی ذریعۂ علم کے غیب ہے۔ یا بغیر کسی ذریعۂ علم کے دُور دراز علاقہ میں بیٹھ کر یہ بتانا کہ اس وقت فلاں گھر میں، مسجد میں، دکان میں، ادارے میں یہ کام ہو رہا ہے۔ فلاں شخص فلاں ملک میں فلاں مقام پر اس وقت یہ سوچ رہا ہے، یہ کر رہا ہے، یہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، غیب ہے۔ بغیر کسی ظاہری سبب کے یہ بتانا کہ فلاں کے پیٹ میں یہ ہے، بھی غیب ہے۔ پس مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ وغیرہ کا علمِ اجمالی تو غیب نہیں مگر اس کی تفاصیل بلا کسی سببِ ظاہری کے صحیح صحیح بتا دینا علمِ غیب ہے۔ علم غیب کی یہ تعریف جمہور مفسرین کی متفق علیہ ہے۔ 

غیب سے متعلق مفسرین کے اقوال

چند مفسرین کی تعریفات حسبِ ذیل ہیں:
امام راغب اصفہائی غیب کی اصطلاحی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
غیب وہ ہوتا ہے جو حواس ِخمسہ میں نہ آ سکے اور نہ ہی عقل کی تیزی اس کا ادراک کر سکے اور وہ صرف انبیا علیہم السلام کی خبر سے معلوم ہو۔ (المفردات فی غریب القرآن: 367)

قاضی ناصرالدین بیضاوی غیب کا مفہوم بیان کرتے ہوئے یوں رقمطراز ہیں:
 غیب سے مراد ہر وہ مخفی شے ہے جس کا ادر اک نہ توحواس کر سکیں اور نہ ہی عقل کی سریع الفہمی (عقل کی تیزی)کے دائرے میں آسکے۔ (انوار التنزیل،28:1)

امام فخر الدین رازی نے غیب کی تعریف اس طرح کی ہے:
غیب وہ ہے جو حواس سے غائب ہو۔(التفسیر الکبیر، 27:2)

علامہ زمخشریؒ غیب کا مفہوم یوں بیان کرتے ہیں:
غیب سے مراد وہ مخفی چیز ہے جس کی ابتدا کا صرف اللہ تعالیٰ کو علم ہوتا ہے اور ہمیں اس میں سے صرف انہی چیزوں کا علم ہوتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں علم دیا ہے یا جن کے علم پر دلیل قائم فرمائی ہے۔ (الکشاف39:1)

امام قرطبی غیب کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
غیب وہ سب کچھ ہے جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دی ان امور میں سے جن تک عقل راہ یاب نہیں ہو سکتی یعنی علاماتِ قیامت، عذابِ قبر، حشر، پل صراط، میزان،جنت اور دوزخ۔ (الجامع لاحکام القرآن 1: 163)

امام نسفیؒ یؤمنون بالغیب کی تفسیر میں غیب کا مفہوم یوں بیان کرتے ہیں:
غیب سے مراد وہ امور ہیں جو متقین کی نظروں سے پوشیدہ تھے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں ان امور کی خبر دی جیسے مرنے کے بعد اٹھایا جانا، حشر، حساب اور دیگر امور غیبیہ۔ (مدارک التنزیل، 13:1)

امام ابو اسحاق نے یؤمنون بالغیب کی تفسیر میں کہا ہے:
 جو چیز متقین سے غائب تھی اور نبی کریمؐ نے ان کو اس کی خبر دی وہ غیب ہے جیسے مرنے کے بعد اٹھنا،جنت، دوزخ۔ (لسان العرب، 654:1)

شیخ اسماعیل حقی غیب کے بارے میں لکھتے ہیں:
غیب سے مراد وہ امور ہیں جو حواس اور عقل سے مکمل طور پر اس طرح پوشیدہ ہوں کہ ابتداً بدیہی طور پران کا ادراک کسی کو نہ ہو سکے۔ (تفسیر روح البیان،32:1)

قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ غیب کا مفہوم ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:
غیب سے مراد وہ ہے جولوگوں کی نظروں سے غائب ہے جیسے ذات وصفاتِ باری تعالیٰ، ملائکہ، جنت، دوزخ، پل صراط، میزان، عذابِ قبر اور اسی طرح کے دیگر امور۔(التفسیر المظہری، 1: 20)

نبوت ایک وہبی استعداد ہے

نبوت اور علمِ غیب لازم و ملزوم ہیں کیونکہ نبوت ایسا منصب نہیں جسے ظاہری کسب،کمال یا عقل کی چالاکی سے حاصل کیا جاسکے یہ تو سراسر عطائے الٰہی اور وہبی استعداد ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہب اور عطیہ ہوتی ہے۔ نبوت و رسالت کے وہبی اور انتخابِ خداوندی ہونے کی دلیل خود قرآن سے ثابت ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اللہ خوب جانتا ہے کہ اسے اپنی رسالت کا محل کسے بنانا ہے۔ (سورۃانعام۔124:6)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے:
صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! آپؐ کیلئے نبوت کب واجب ہوئی ہے؟ آپ ؐنے فرمایا ’’جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔‘‘ (ترمذی 3609۔المستدرک 4210)

اس سے معلوم ہوا کہ نبوت ایسامنصب نہیں جس کا جو ہر کسی شخص کے خمیر میں اللہ تعالیٰ نے ودیعت نہ کیا ہو اور بعد میں محض اس کی عبادات و ریاضت اور علم و تقویٰ کو دیکھ کر عطا کر دیا۔

 علمِ غیب خاصۂ نبوت ہے

نبوت کی خصوصیات میں سے ایک انتہائی اہم اور بنیادی خصوصیت علمِ غیب ہے اور یہ نبوت کا لازمہ اور خاصہ ہے۔ جیسے یہ مسلمہ امر ہے کہ نبوت کسبی نہیں ہو سکتی بالکل اسی طرح نبوت کا تصور بھی علمِ غیب کے بغیر ممکن نہیں۔ بلکہ اگر ہم یہ کہیں کہ نبوت خود علمِ غیب سے عبارت ہے تو بے جانہ ہوگا اس طور سے کہ ایک جہت کے اعتبار سے نبی کا معنی ہی علمِ غیب بتانے والا ہے۔

عربی لغت کی معتبر کتاب المنجد میں نبوت کا معنی درج ہے:
نبوت کا معنی ہے اللہ کی طرف سے الہام پا کر غیب یا مستقبل کی خبر دینا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے متعلقات کی خبر دینا۔(المنجد،784)

قاضی ابوالفضل عیاضؒ فرماتے ہیں:
نبوت نباسے ماخوذ ہے بمعنی خبر، مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے غیب پر مطلع فرمادیا اور اسے بتایا کہ وہ اللہ کا نبی ہے یا وہ خبر دینے والا ہے اس وحی کی جس کے ساتھ اللہ نے اسے بھیجا ہے اور بتانے والاہے ان حقائق کا جن پر اللہ نے اسے مطلع فرمادیا۔(الشفا، 160:1)

قاضی عیاضؒ دوسری جگہ فرماتے ہیں:
نبوت کا معنی ہے غیب پر مطلع ہونا اور خصوصیاتِ نبوت بتانا۔ (الشفاء 1: 141)

ذیل میں چند انبیا کرام علیہم السلام کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے علمِ غیب عطا فرمایا اور ان کا ذکر قرآن میں بھی کیا۔

حضرت آدم علیہ السلام

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْأَسْمَآئَ کُلَّہَا (سورۃ البقرہ۔31)
ترجمہ:اور اللہ نے آدم کو تمام اسما کا علم عطا کیا۔ 

بعض علما نے علم الاسما سے ملائکہ اور بعض نے بنی آدم کے ناموں کا علم مراد لیا ہے جبکہ بعض نے لغات کا علم یا اسمائے الٰہیہ کا علم مراد لیا ہے لیکن ان تمام آرا کے باوجود  الاسماء کلھا  کے قرآنی الفاظ سے کسی طرح یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ علم کسی خاص نوع یا جنس تک محدود ہے یا اسے کسی ایک دائرے میں مخصوص کر دیا گیا ہے بلکہ یہ الفاظ اس کے عمومی اطلاق پر دلالت کرتے ہیں اور جیسا کہ اکثر آئمہ تفسیر نے بیان کیا ہے حضرت آدم علیہ السلام کو جملہ مخلوقات کے اسما کا علم عطا کر دیا گیا تھا۔ 

امام خازن حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ کا یہ قول نقل کرتے ہیں:
حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ہر شے کا نام سکھا دیاحتیٰ کہ پیالے اور پیالی کا بھی۔(لباب التاویل 42:1)

ابن جریر طبریؒ لکھتے ہیں:
حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام نام سکھا دیئے اور وہ نام یہی ہیں جو لوگ جانتے ہیں جیسے انسان،چوپایہ، زمیں، میدان، سمندر، پہاڑ، گدھا اور اس کی مانند دیگر مخلوقات کے۔(جامع البیان، 170:1)

امام شوکانیؒ کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فرمان’’ کلھا‘‘ کی تاکید کا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام نام سکھا دئیے اور اس سے جو کچھ ہو نیوالا ہے اور جو کچھ ہو چکا ہے کوئی شے بھی خارج نہیں۔(فتح القدیر،64:1)

حضرت نوح علیہ السلام

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا۔ اِنَّکَ اِنْ تَذَرْہُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُوْٓ اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا۔  (سورۃنوح۔ 26،27)
ترجمہ:اور نوح نے دعا کی اے میرے ربّ! روئے زمین پر کسی کافر کو بستا ہوا نہ چھوڑ۔اگر تو نے ان کو چھوڑدیا تو یہ تیرے بندوں کو بہکاتے رہیں گے اور ان کی اولاد بھی بدکار اور کافر ہی ہوگی۔

کفار کی آئندہ نسلیں بھی کا فر ہی ہوں گی اس کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو پہلے ہی فرمادی تھی۔ امام خازن اس آیت کریمہ کی تفسیر میں یوں رقمطراز ہیں:
یہ دعا حضرت نوحؑ نے اس وقت کی جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم کے مردوں کی پشتوں اور عورتوں کے رحموں سے پیدا ہونے والے آخری مومن کو بھی پیدا فرمادیا اور بعد ازاں انہیں بانجھ کر دیا۔ یہ واقعہ نزولِ عذاب سے چالیس سال پہلے کا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ستر سال پہلے کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کواس کی خبر دے دی کہ نہ تو یہ لوگ ایمان لائیں گے اور نہ ہی ان کے ہاں آئندہ آنے والی نسلوں میں کوئی مومن پیدا ہو گا۔ اس وقت آپؑ نے ان پر عذاب کیلئے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ ؑکی دعا کو قبول فرمایا پس ان سب کو ہلاک کر دیا۔ عذاب کے وقت ان کے ساتھ کوئی بچہ نہ تھاکیونکہ عذاب سے قبل اللہ تعالیٰ نے انہیں بانجھ بنادیا تھا۔(لباب التاویل، 314:4)

حضرت ابراہیم علیہ السلام

ارشادباری تعالیٰ ہے:
وَکَذَالِکَ نُرِیْٓ اِبْرٰاہِیْمَ َملَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (سورۃانعام۔75)
ترجمہ: اور اسی طرح ہم ابراہیم ؑکو دکھاتے ہیں بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔ 

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں۔ امام بغوی نے سیدّنا عبداللہ ابن عباسؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہخلق السموات والارض  سے مراد آسمانوں اور زمین کی مخلوق ہے۔ (تفسیر البغوی،108:2)

ابن جریر طبریؒ حضرت مجاہدؒکا مندرجہ ذیل قول نقل کرتے ہیں جسے امام نسفیؒ، امام ابن کثیرؒ اور دیگر مفسرین نے بھی بیان کیا ہے:
آپ کیلئے ساتوں آسمان کھول دیئے گئے اور آپ نے ان میں موجود ہر شے کو دیکھ لیاحتیٰ کہ آپ نے عرش کو بھی دیکھ لیا۔ آپ کیلئے ساتوں زمینیں کھول دی گئیں اور آپ نے ان میں موجود ہر شے کو دیکھ لیا۔ (جامع البیان،160:5)

امام خازن حضرت قتادہؓ کا قول نقل فرماتے ہیں:
آسمانوں کی بادشاہت سے مراد سورج، چاند اور ستارے ہیں اور زمین کی بادشاہت سے مراد پہاڑ اور درخت وغیرہ ہیں۔ (مدارک التنزیل، 19:2)

امام ابن کثیر نے حضرت ابن ِعباس رضی اللہ عنہٗ کا قول نقل کیا ہے جسے ابن ابی حاتم نے یوں روایت کیا:
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑکیلئے ہر شے کا پوشیدہ اور ظاہر منکشف فرمادیا اور بندوں کے اعمال میں سے کوئی شے آپ پر مخفی نہ رہی۔ (تفسیر القرآن العظیم،150:2)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

حضرت عیسیٰؑ بھی اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر اور رسول تھے۔ آپ کو کلمۃ اللہ اور روح اللہ بھی کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں آپ کی شان یوں بیان فرماتا ہے: 
اِذْ قَالَتِ الْمَلَآ ئِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ اسْمُہُ گ ژ  الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْہًا فِی الدُّ نْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ (سورۃ آل عمران۔45)
ترجمہ:جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بیشک اللہ تمہیں اپنے پاس سے ایک کلمہ (خاص) کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہو گا، وہ دنیا اور آخرت (دونوں) میں قدر و منزلت والا ہوگا اور اللہ کے خاص قربت یافتہ بندوں میں سے ہو گا۔ 

اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو بے شمار معجزات اور کمالات عطا فرمائے تھے۔ آپ کو بھی علومِ غیبیہ عطا کیے گئے اور آپؑ کا مخفی چیزوں کی خبر دینا قرآن سے ثابت ہے۔
ترجمہ:اور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتا ہوں، بیشک اس میں تمہارے لیے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔(سورۃآل عمران۔49)

لیکن یہ حقیقت ہے کہ علمِ غیب نبوت کے ساتھ مخصوص ہے۔ اللہ تعالیٰ غیب کا مالک ہے اور جس کو چاہتا ہے علمِ غیب عطا فرماسکتا ہے ان میں جلیل القدر انبیا کرام علیہم السلام کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فقرائے کاملین،اولیا کرام اور عام انسان بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں اور رسولوں کو جو علم غیب عطا فرمایا وہ درجہ بدرجہ دیا یعنی کچھ نبیوں کو ایک دفعہ میں ہی عطا فرما دیا اور کچھ کو باربار اور کچھ کو مستقل۔ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر جو فضیلت عطا فرمائی تھی اس پر دلیل قائم ہو جائے۔ 

استفادہ کتب:
عقیدۂ علمِ غیب۔ تصنیف ڈاکٹر طاہر القادری
تفاسیرِقرآن

 

نوٹ: اس مضمون کو  آڈیو کی صورت میں سننے کے لیے  ماہنامہ سلطان الفقر میگزین کے یوٹیوب (YouTube)    چینل کو وزٹ فرمائیں۔ 

یوٹیوب چینل  لنک

مضمون لنک :     Hazrat Ali ra k Dor-e-Khilafat | حضرت علیؓ کے دورِ خلافت کی مشکلات | Urdu / Hindi Podcast

 
 
 

23 تبصرے “علم ِ غیب Ilm-e-Gaib

  1. اللہ تعالیٰ غیب کا مالک ہے اور جس کو چاہتا ہے علمِ غیب عطا فرماسکتا ہے ان میں جلیل القدر انبیا کرام علیہم السلام کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فقرائے کاملین،اولیا کرام اور عام انسان بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

  2. لیکن یہ حقیقت ہے کہ علمِ غیب نبوت کے ساتھ مخصوص ہے۔ اللہ تعالیٰ غیب کا مالک ہے اور جس کو چاہتا ہے علمِ غیب عطا فرماسکتا ہے ان میں جلیل القدر انبیا کرام علیہم السلام کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فقرائے کاملین،اولیا کرام اور عام انسان بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

  3. ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    اللہ خوب جانتا ہے کہ اسے اپنی رسالت کا محل کسے بنانا ہے۔ (سورۃانعام۔124:6)

  4. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے:
    صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! آپؐ کیلئے نبوت کب واجب ہوئی ہے؟ آپ ؐنے فرمایا ’’جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔‘‘ (ترمذی 3609۔المستدرک 4210)

  5. یہ حقیقت ہے کہ علمِ غیب نبوت کے ساتھ مخصوص ہے۔ اللہ تعالیٰ غیب کا مالک ہے اور جس کو چاہتا ہے علمِ غیب عطا فرماسکتا ہے ان میں جلیل القدر انبیا کرام علیہم السلام کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فقرائے کاملین،اولیا کرام اور عام انسان بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

  6. اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں اور رسولوں کو جو علم غیب عطا فرمایا وہ درجہ بدرجہ دیا یعنی کچھ نبیوں کو ایک دفعہ میں ہی عطا فرما دیا اور کچھ کو باربار اور کچھ کو مستقل۔ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر جو فضیلت عطا فرمائی تھی اس پر دلیل قائم ہو جائے۔

  7. ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    اللہ خوب جانتا ہے کہ اسے اپنی رسالت کا محل کسے بنانا ہے۔ (سورۃانعام۔124:6)

  8. بہترین!

    امام ابنِ منظور ابن الاعرابی لفظ’’ غیب ‘‘کے تحت لکھتے ہیں:
    جو چیز تم سے غائب ہو، وہ غیب ہے ۔

  9. اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں اور رسولوں کو جو علم غیب عطا فرمایا وہ درجہ بدرجہ دیا یعنی کچھ نبیوں کو ایک دفعہ میں ہی عطا فرما دیا اور کچھ کو باربار اور کچھ کو مستقل۔ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر جو فضیلت عطا فرمائی تھی اس پر دلیل قائم ہو جائے۔

  10. اللہ تعالیٰ غیب کا مالک ہے اور جس کو چاہتا ہے علمِ غیب عطا فرماسکتا ہے ان میں جلیل القدر انبیا کرام علیہم السلام کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فقرائے کاملین،اولیا کرام اور عام انسان بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

  11. ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    اللہ خوب جانتا ہے کہ اسے اپنی رسالت کا محل کسے بنانا ہے۔ (سورۃانعام۔124:6)

  12. امام ابنِ منظور ابن الاعرابی لفظ’’ غیب ‘‘کے تحت لکھتے ہیں:
    جو چیز تم سے غائب ہو، وہ غیب ہے ۔

  13. اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں اور رسولوں کو جو علم غیب عطا فرمایا وہ درجہ بدرجہ دیا یعنی کچھ نبیوں کو ایک دفعہ میں ہی عطا فرما دیا اور کچھ کو باربار اور کچھ کو مستقل۔ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر جو فضیلت عطا فرمائی تھی اس پر دلیل قائم ہو جائے

    1. شیخ اسماعیل حقی غیب کے بارے میں لکھتے ہیں:
      غیب سے مراد وہ امور ہیں جو حواس اور عقل سے مکمل طور پر اس طرح پوشیدہ ہوں کہ ابتداً بدیہی طور پران کا ادراک کسی کو نہ ہو سکے۔ (تفسیر روح البیان،32:1)

  14. غیب سے متعلق مفسرین کے اقوال
    چند مفسرین کی تعریفات حسبِ ذیل ہیں:
    امام راغب اصفہائی غیب کی اصطلاحی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
    غیب وہ ہوتا ہے جو حواس ِخمسہ میں نہ آ سکے اور نہ ہی عقل کی تیزی اس کا ادراک کر سکے اور وہ صرف انبیا علیہم السلام کی خبر سے معلوم ہو۔ (المفردات فی غریب القرآن: 367

اپنا تبصرہ بھیجیں