شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمدبہادر علی شاہ کاظمی المشہدی ؒ کی سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ سے محبت و عقیدت Sultan Pir Sayyid Mohammad Bahadur Ali Shah

شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیدّ محمدبہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ کی
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ سے محبت و عقیدت

Shahbaz-e-Arifaan Hazrat Sakhi Sultan
Pir Syed Bahadur Ali Shah Kazmi Al Mashhadi (R.A) ki
Hazrat Sultan Bahoo sy Mohabbat or Aqidat

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری۔ لاہور

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کا ارشاد ہے :
اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّی 
ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
نعمتِ فقر اُن پاک اور برگزیدہ ہستیوں کا ازلی نصیبہ ہے جنہیں خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنا ظاہری و باطنی جانشین مقرر فرماتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کے باطنی حکم و ارشاد سے انہیں فقر کا خزانہ (امانتِ الٰہیہ) منتقل کی جاتی ہے۔ ہر دور میں ایک ایسا انسانِ کامل موجود ہوتا ہے جوحاملِ امانتِ فقر، نائبِ رسول ؐہوتا ہے اور اس کا ہر قدم قدمِ محمدیؐ پر ہوتاہے۔ ایسے فقیرِ کامل کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلَرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِہٖ خَبِیْرًا (سورۃ الفرقان۔ 59)
ترجمہ: وہ رحمٰن ہے سو پوچھ اس کے بارے میں اس سے جو اس کی خبر رکھتا ہے۔

منتقلی امانت ِ الٰہیہ کا سلسلہ

امانتِ الٰہیہ کیا ہے؟ امانتِ الٰہیہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کی حقیقی وراثت اسمِ اللہ ذات (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) یعنی امانتِ فقر ہے۔ قرآنِ مجید میں اس کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 ہم نے بارِ امانت (امانتِ الٰہیہ) آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا سب نے اس کے اٹھانے سے عاجزی ظاہر کی لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا۔ (سورۃ الاحزاب۔ 72)

اپنی تصنیفِ مبارکہ’’مجتبیٰ آخر زمانی‘‘ میں منتقلی امانتِ الٰہیہ کے سلسلہ کے متعلق سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) فرماتے ہیں:
 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) خزانہ فقر کے مالک اور مختارِ کل ہیں اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے یہ امانت اور خزانہ فقر منتقل ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کے اذن کے بغیر کسی انسان کو امانتِ الٰہیہ منتقل نہیں ہو سکتی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے خزانہ فقر خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہراؓ کو منتقل ہوا اور آپؓ امتِ محمدیہ میں فقر کی پہلی سلطان (سلطان الفقر اوّل) ہیں۔ یہی خزانہ فقر بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو منتقل ہوا جن سے سلاسلِ طریقت کا آغاز ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad saww) سے فقر حسنین کریمینؓ کو منتقل ہوا۔ پھر یہ منتقل در منتقل ہوتا ہوا شہسوارِ فقر سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ (Sayyidina Ghaus-ul-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) تک پہنچا اور ان سے سلسلہ در سلسلہ منتقل ہوتا ہوا حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)  تک پہنچا۔ اب جب بھی امانتِ الٰہیہ منتقل ہوتی ہے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad saww) اس طالب کو سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے حوالہ کرتے ہیں اور پھر وہاں سے اسے امانتِ الٰہیہ یا خزانہ فقر کیلئے حضرت سخی سلطان باھوؒ کی بارگاہ میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔ اب قیامت تک یہ خزانہ، خزانہ فقر کے مختارِ کل صاحبِ  لولاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اجازت اور مہر سے اسی در سے منتقل ہوگا۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)

حضرت سخی سلطان باھوؒ اور سلسلہ سروری قادری کے مشائخ

حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) سروری قادری مرشد کامل اکمل ہیں۔ آپؒ سروری قادری سلسلہ کو ہی کامل قادری یا اصل قادری سلسلہ تسلیم کرتے ہیں کیونکہ سروری قادری میں سرور کا مطلب ہے سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کے دستِ مبارک پر بیعت ہونا اور قادری کا مطلب سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ  (Sayyidina Ghaus-ul-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani)  کی اتباع کرنا یعنی ان کے طریقہ پر چلنا ہے۔ سلسلہ سروری قادری کو تمام سلاسل میں سب سے بلند و اعلیٰ مرتبہ حاصل ہے۔ تمام سلاسل چراغ کی مثل ہیں اور سروری قادری سلسلہ آفتاب کی مثل ہے۔ سروری قادری مرشد جامع نور الہدیٰ اور حاملِ امانتِ فقر ہوتا ہے۔

 حضرت سخی سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) سے امانتِ فقر آپؒ کے ظاہری وصال کے 139 سال بعد سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیدّ محمد عبد اللہ شاہ مدنی جیلانیؒ  کو منتقل ہوئی کیونکہ آپؒ کو دورانِ حیات ایسا کوئی طالب صادق نہ مل سکا جسے امانتِ الٰہیہ منتقل کی جاتی۔ اس کے متعلق آپؒ فرماتے ہیں:

دل دا محرم کوئی نہ ملیا، جو ملیا سو غرضی ھوُ

حضرت سخی سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) نے چھ ماہ تک سیدّ محمد عبد اللہ شاہؒ کی باطنی تربیت فرمائی۔ اورپھر آپؒ نے بطور مرشد کامل اکمل اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے اپنے طالبوں کی ظاہری و باطنی تربیت فرمائی۔
سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیدّ محمد عبد اللہ شاہؒ (Sultan ul Tarikeen Hazrat Sakhi Sultan Pir Syed Mohammad Abdullah Shah Madni Jilani rehmat ul Allah alayh) کو اپنی زندگی کے دوران ہی اپنے دل کے محرم ’’سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ‘‘ کی صورت میں مل گئے۔ آپؒ نے اپنے مرید ِخاص،محرمِ راز، طالبِ صادق کی نو سال باطنی تربیت فرمائی اور پھر اس عالمِ ناسوت سے پردہ فرما لیا۔ اس کے بعد پیر محمد عبد الغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ سے جن کو امانت ِفقر کا خزانہ منتقل ہوا اور وہ مرشد کامل اکمل کے مرتبہ پر فائز ہوئے اس بلند و اعلیٰ اور عظیم المرتبت ذات کا اسمِ گرامی ’’شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ‘‘  Shahbaz-e-Arifaan Hazrat Sakhi Sultan Pir Syed Bahadur Ali Shah Kazmi Al Mashhadi (R.A) ہے۔ آپؒ کی ولادت با سعادت 16 اگست 1801 (5ربیع الثانی 1216ھ) بروز اتوار بوقتِ فجر قصبہ حسووالی تحصیل شورکوٹ ضلع جھنگ میں ہوئی۔ آپؒ کی زندگی کے جس بھی باب کو اٹھا کر دیکھ لیا جائے خواہ بطور طالبِ صادق ہو یا مرشدِ کامل، ہر صورت اور انداز میں کامل،اکمل و با کمال نظر آتے ہیں۔ 

 شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان سیدّ محمد بہادر علی شاہ کاظمیؒ  کی
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ سے محبت و عقیدت 

پیر سیدّ محمد بہاد ر علی شاہؒ کا چہرہ مبارک بچپن سے ہی نورِ حق کی تجلیات سے روشن تھا۔ آپؒ کے والدسیدّ فتح علیؒ جب بھی سلطان باھوؒ کے مزار پاک پر حاضری کے لیے تشریف لے جاتے تو آپؒ کو اپنے ہمراہ لے جاتے۔ یہ چہرے کی نورانیت اور دل کی پاکیزگی تھی جو آپؒ کو مزار سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) پر کھینچ کر لے جاتی کیونکہ جہاں یار کا در ہو دل کو قرار بھی وہیں آتا ہے۔ جس طرح طالبِ صادق مرشد کامل کے انتظار میں رہتا ہے اسی طرح مرشد کامل بھی طالبِ صادق کا منتظر رہتا ہے۔ آپؒ کے بچپن کا یہ واقعہ آپ کے بلند اور عالیٰ مرتبے اور حضرت سلطان باھوؒ کی آپ سے محبت کی دلیل ہے کہ آٹھ سال کی عمر میں مزار سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) پر حاضری اورباطنی فیض سے آپؒ کو علمِ لدنیّ کا ایسا خزانہ نصیب ہوا کہ محض سترہ دنوں کے اندر اندر تمام قرآن حفظ اور درسِ نظامی کی تعلیم مکمل کر لی۔ اس پر آپؒ کے استاد اور والد بزرگوار حیران ہوئے۔ حضرت سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)نے آپؒ کے والد کو خواب میں حکم فرمایا ’’آپ اپنے بیٹے کو یہیں ہمارے پاس چھوڑ جائیں ہم اس کے نگہبان ہیں‘‘۔

حضرت سخی سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) ایک مدت سے ایسے طالبِ صادق کی تلاش میں تھے جو بطور طالبِ مولیٰ آپؒ کے معیار پر پورا اترے۔ پھر جب  ایسے طالبِ صادق کے قدم مزار شریف میں پڑ چکے تھے پھر بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ آپؒ کو خود سے دور فرماتے۔ پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہؒ 8 سال کی عمر یعنی 1809ء میں مزار سلطان باھوؒ پر تشریف لائے اور 1849ء تک تقریباً 40 سال دربار پر رہے۔ سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیدّ محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒ اور سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ ہاشمی قریشیؒ کے حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کے مزار پاک پر حاضری سے قبل ہی آپؒ وہاں پر موجود تھے۔ چالیس سال مزار شریف پر قیام کے بعد پیر سیدّ محمد بہادر شاہؒ کو حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کی بارگاہ سے حکم ملا کہ اب آپؒ گھر تشریف لے جائیں اور ہر ماہ سوموار کومحفل میں حاضر ہو جایا کریں۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کی بارگاہ سے آپؒ کو ’’پیر صاحب‘‘ کا لقب عطا ہوا۔ یہ آپؒ کی شان ہے کہ آپؒ کو حضرت سخی سلطان باھوؒ کی جانب سے خزانہ فقر کا نگران مقررفرمایا گیا یعنی فقر اور فقر سے متعلق تمام معاملات آپؒ کے حکم و اجازت سے طے پاتے۔ آپؒ کی ہی مہربانی سے سالکینِ فقر کے درجات و مقامات طے ہوتے اور ان کے ظاہری اور باطنی مسائل حل ہوتے۔ ا س کے علاوہ آپؒ کو بارگاہِ سیدّنا غوث الاعظمؓ سے ’’شہبازِ عارفاں‘‘ کا لقب عطا ہوا۔ دربار پاک پر قیام کے دوران آپ ؒ کا سب سے اہم کارنامہ حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کی کتب کے نسخہ جات کی نقل کر کے ان کو محفوظ کرنا تھا۔ آپؒ نے شمس العارفین، گنج الاسرار، کلید التوحید کلاں، کلید التوحید خورد، مجالستہ النبی، محک الفقر کلاں، عین الفقر، عقلِ بیدار اور نور الہدیٰ کلاں کو نقل کر کے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کیا۔ 

کلام در شان سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ

پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہ ؒ نے حضرت سخی سلطان باھوؒ سے اپنی محبت و عقیدت کے اظہار میں خوبصورت کلام اور منقبتیں تحریر کی ہیں جنہیں پڑھ کر بندہ عش عش کر اٹھتا ہے۔ ان منقبتوں کا ایک ایک لفظ عشق و محبت میں ڈوبا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کی شان میں لکھی گئی عشق و معرفت سے بھرپور اس منقبت کے چند بند درج کیے جا رہے ہیں:

سبحان اللہ سلطان صاحبؒ دا محل مقدس وادی
ھوُ اللّٰہ تے یَاھُو دی ہے سدا ندا منادی
وجدانی عرفانی دی واہ اس جا کُل آبادی
فیض رسانی دا ہے قبلہ روز ازل دا ہادی
بخشے لکھ ہا گنج الٰہی خاص جمعیت شاہ دی
اکسیر نظر تے قلزم رحمت تعریف اس راہنما دی
سن فریاد نمانے دی یا اکمل مرشد ہادی 

شرح: پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہؒ حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: سبحان اللہ! حضرت سخی سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کا مزار وہ مقدس ترین جگہ ہے جہاں ہر دم ’’ھوُ اللہ‘‘ اور ’’یاھوُ‘‘ کی صدا بلند رہتی ہے۔ یہ پاک و مقدس جگہ وجدانی کیفیات اور معرفتِ الٰہی کا منبع ہے۔ آپؒ کی بارگاہ ازل سے لوگوں کو فیضِ الٰہی پہنچانے کا وسیلہ رہی ہے۔ آپؒ اپنے طالبوں کو معرفت و فقر کے بیشمار خزائن سے نواز کر فقر کا انتہائی مرتبہ ’’جمعیت‘‘ (فنا فی اللہ بقا باللہ کا مقام جہاں جملہ مقامات انسانِ کامل میں جمع ہو جاتے ہیں) تک پہنچا دیتے ہیں۔ آپؒ کی ذاتِ مبارک رحمت، کرم اور مہربانی کا وسیع سمندر ہے۔ آپؒ اپنی ایک نگاہ سے خام و ناقص طالب کو بھی طالبِ مولیٰ بنا دیتے ہیں۔ اے میرے مرشد کامل اکمل! مجھ عاجزکی فریاد اپنی بارگا ہ میں سن لیجیے۔ 

شان تیرے وچ ہر دم ہےلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ  آیا
چھتر لَوْلَاکَ لَمَادا سر تیرے تے سایہ
خاص حضوروں عالم نوروں واحد احد جھلایا
کیا جاناں توں احمدؐ ہیں یا باھوؒ نام دھرایا
یا خود احد صمد ہیں باھوؒ یا ھُو برقعہ پایا
مار مینوں تلوار فنا دی دے کر ڈھال بقا دی
سن فریاد نمانے دی یا اکمل مرشد ہادی

شرح: حضرت سخی سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کی شان ہے کہ آپلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ  (ترجمہ: اللہ کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہے نہ غم) کے مرتبہ سے مشرف ہیں اور صاحبِ لولاک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کی رحمت کا سایہ ہر دم آپ کے سر پر ہے۔ آپؒ کو عالمِ احدیت کی خاص الخاص حضوری کا شرف حاصل ہے۔ یہ وہ عالم ہے جہاں صرف نورِ الٰہی ہے۔ اس مقام تک رسائی صرف انہی عاشقان کو نصیب ہو سکتی ہے جو اللہ وحدہٗ لاشریک کے ساتھ ایک ہو کر خود نور بن چکے ہوں۔ دوئی نہیں بس یکتائی ہی یکتائی ہو۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ کے اس بلند مرتبہ اور شان کو بیان کرتے ہوئے پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہؒ  (Sultan ul Tarikeen Hazrat Sakhi Sultan Pir Syed Mohammad Abdullah Shah Madni Jilani rehmat ul Allah alayh)فرماتے ہیں کہ اب آپؒ کوکس نام سے پکاریں؟ باھوؒ نورِ محمدؐ میں فنا ہو کر محمد (Mohammad saww) ہے یا باھوُ۔ یا نورِ الٰہی میں غرق ہو کر احد ہے یا صمد؟ آپؒ کی صفتِ بشریت کو دیکھیں یا صفتِ ربوہیت کو۔ یا یوں کہیں کہ باھوؒ کی بشریت میں خود ھوُ جلوہ گر ہے۔ آپؒ پیر بہادر علی شاہؒ کو بھی مراتبِ فنا سے گزار کر بقا کی ڈھال سے نواز دیں۔

باہجھ تساڈے مینوں سوہناں ہرگز آس نہ کائی
خود دانا تے بینا ہو ہے ایہہ تقلید نہ کائی
وانگ زلیخاں ذوق تیرے وچ عمر تمام گنائی
عرض گزار ہویم اس ویلے جان لباں تے آئی
شالا آسی ترس تسانوں ہوسی فضل خدائی
استدعا منظور ہو ویسی مسکین غریب گدا دی
سن فریاد نمانے دی یا اکمل مرشد ہادی 

شرح: حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کی مدد اور سہارے کے بغیر اور کسی سے  مدد کی کوئی امید نہیں ہے۔ اپنے آپ کو عقل و شعور کا پیکر سمجھنا اور ہر معاملہ میں خود کو کافی سمجھنا یہ سب نفس پرستی کی علامات ہیں اور ایسی سوچ اور روش کی راہِ فقر میں کوئی گنجائش نہیں۔ جس طرح زلیخا نے حضرت یوسفؑ کے دیدار کے شوق او ر قرب کی خاطر تمام عمر قربان کر دی، میں بھی اسی عشق کی آگ میں تڑپ رہا ہوں اور شوقِ دیدار میں اپنی تمام زندگی گزار چکا ہوں لیکن اب میری زندگی کا آخری وقت آن پہنچا ہے اور مجھے امید ہے کہ میرے اس حال کو دیکھ کر آپ کو ترس آئے گا اور آپ مجھ پر ضرورفضل و کرم فرمائیں گے۔ اس عاجز فقیر کی فریاد کو اپنی بارگاہ میں ضرور منظور فرمائیں گے۔

آستان چمیندیاں گزرے حضرت ہر دم آن زمانہ
روح محبت تیری ہے ایہہ تن خالی کاشانہ
مثال ملائک نام تیرے دا قوت ہے روز شبانہ
مست کرو دے جام پرم سلطانؒ سخی وڈ شانہ
سنسار دی سار بھلا کے ہوواں عالم توں بیگانہ
ذوق تے شوق ونجائے تیرا سدھ بدھ نفس ہوا دی
سن فریاد نمانے دی یا اکمل مرشد ہادی

شرح: آپؒ کے مزار پاک پر ہر لمحہ عشق و محبت سے سرشار کبھی سر جھکائے اور کبھی مزار کو بوسہ دیتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ میرا جسم، دل و روح سے خالی ہے کیونکہ میں یہ دونوں ہی آپؒ کی محبت میں ہار بیٹھا ہوں۔ جس طرح فرشتے ہر وقت ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتے ہیں اس طرح میں ہر وقت آپ کی محبت کے گیت گاتا رہتا ہوں۔ یہی میری روح کی غذا ہے۔ اے میرے رہنما! آپؒ بڑی شان والے ہیں مجھے جامِ عشق عنایت فرمائیں تاکہ عشق کے کیف و مستی میں گم ہو کر دنیا سے بیگانہ ہو جاؤں۔ شوقِ عشق میں دنیا اور نفسانی خواہشات کی مجھے کچھ خبر نہ رہے۔ اے میر ے مرشد کامل اکمل! مجھ عاجز کی فریاد اپنی بارگاہ میں سن لیں۔ 

ورد بنائیم روز شبینہ نام حضور انور دا
نامحرم نہ ماہر آہم ذات اکبر اطہر دا
اسم مبارک تیرا ساتھی آہا تمام عمر دا
اس رفیق شفیق اعظم دا دلوں بجانوں بردا
ہیں اسمِ اعظم دے جسم معظم ونجے حجابی پردا
نور حضور ظہور سوا ایہہ ظالم نفس نہ مردا
شفقت نال فنا فرما ایہہ دشمن سخت عنادی
سن فریاد نمانے دی یا اکمل مرشد ہادی 

شرح: آپؒ کے پاک و مقدس نام کاذکر ہر وقت میری زبان پر جاری رہتا ہے۔ کوئی بھی ایسا لمحہ نہیں گزرتا جس وقت آپ کی یاد میرے دل و زبان پر جاری نہ ہو۔ اگرچہ معرفتِ الٰہی کے سفر میں ابھی ماہر نہیں لیکن پرامید ہوں کہ آپ ؒکی رفاقت ہر وقت میرے ساتھ ہے۔ اے رفیق و شفیق دوست! آپ دل و جان سے مجھے اپنا غلام بنا لیں۔ اسمِ اللہ ذات (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) کے نور سے میرے وجود کو پاک و مطہر کر دیں تاکہ میرے اور اللہ کے درمیان جو نفس کا حجاب ہے اس سے رہائی نصیب ہو جائے۔ جب تک اسمِ اللہ ذات کے نور سے وجود پُرنور ہو کر حضوری سے مشرف نہیں ہو جاتا یہ ظالم نفس نہیں مر سکتا۔ آپ اپنی شفقت اور مہربانی کے ساتھ میرے نفس کو فنا کر دیجیے کیونکہ یہی نفس میرا سب سے بڑا دشمن اور مخالف ہے۔ 

ملازم دفتر دا فرمایا ذات سخی سلطانیؒ
شرف الفاظ لحاظ ہووے میں گرچہ پر عصیانی
فاجر فاسق فرض کیتا پُر عیب خطا نفسانی
شان فیاض کرم سلطانی ؒ ہے بے حد بے پایانی
حساب گدا دے نال نہ زیبا شایانِ شان شاہانی
خطا عطا فرما یا ہادی دے پردہ نور نورانی
اے غم خانہ کاشانہ کر نال مبدّل شادی
سن فریاد نمانے دی یا اکمل مرشد ہادی

شرح: ظاہری دستِ بیعت کے بعد حضرت پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہؒ دن اپنے مرشد کی بارگاہ میں گزارتے اور رات مزار سلطان باھوؒ پر۔ ہر رات وہاں ایک باطنی محفل منعقد ہوتی جہاں حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کے تمام خلفا اپنے مراتب کے لحاظ سے ترتیب وار نشست فرما  ہوتے تھے۔ ترتیب کے لحاظ سے پیر بہادر علی شاہؒ کا نشست پر بیٹھنے کا آخری نمبر تھا۔  ایک رات حاضری کے لیے دربار شریف کے لیے روانہ ہوئے تو شدید آندھی اور طوفان نے آ لیا۔ کشتی کو دریا پار کر کے دربار پاک تک نہیں لے جایا جا سکتاتھا اور پیر بہادر شاہؒ کو یہ گوارا نہ تھا کہ وہ محفل میں غیر حاضر ہوں۔ آپؒ نے د ریا میں چھلانگ لگائی اور تیر کر دریا پار کیا۔ انتہائی مشکل حالات میں آپؒ دربار پاک تشریف لائے اور محفل میں شرکت کی۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ کو اپنے اس طالب صادق کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ آپ نے پیر بہادر شاہؒ کو اپنی محفل میں پہلی نشست پر بیٹھنے کا شرف عطا فرمایا اور ساتھ ہی اس دن سے آپؒ کو خزانہ فقر کا نگران مقرر فرما دیا۔ آپؒ کی بارگاہ سے یہ انعام پا کر پیر بہادر علی شاہؒ نے فرمایا ’’ملازم دفتر دا فرمایا ذات سخی سلطانی‘‘۔ مزید برآں فرماتے ہیں آپ نے مجھ عاجز کو اپنی بارگاہ میں اتنا عالیٰ درجہ عطا فرمایا ہے کہ میں اس مہربانی پر آپؒ کا شکریہ کیسے ادا کروں! آپ کی تعریف میں الفاظ کا یہ نذرانہ پیش کر رہا ہوں اسے اپنی بارگاہ میں قبول کر لیجیے۔ یہ آپ کی محبت و شفقت کا درجہ کمال ہے کہ مجھ پُرعیب، خطاکار اور نفسانی کواتنے اعلیٰ مقام پر فائز کیا۔ آپ اپنی اسی شانِ کریمی کے صدقہ میری تمام خطاؤں کو معاف فرما دیں۔ آپ تو سلطانوں کے سلطان ہیں اس عاجز کے ساتھ حساب کتاب کا معاملہ آپ کو کہاں زیبا! اے میرے ہادی! میری تمام خطاؤں کو اپنی نورانی چادرکے سایہ میں چھپا لیں۔ یہ دل تو اب غموں کا گھر بن چکا ہے، اسے اپنی مہربانی سے خوشیوں کا گہوارہ بنا دیں۔ 

طوق غلامی دا گل تیرا روز ازل دا پایا
نام تیرے دا فخر کریندیاں گزر زمانہ آیا
فیض تے کرم حضور انور دا صدہا بار آزمایا
آخر وقت وفا فرماؤ جو وعدہ فرمایا
سلطان بہادر شاہؒ تے کریو مدِنظر دا سایہ
خلعت خاص عطا ہووے ہر ویلے غور لقادی
سن فریاد نمانے دی یا اکمل مرشد ہادی

شرح: میرے آقا! میرا اور آپ کا رشتہ دنیوی زندگی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ میں نے تو آپؒ کی غلامی کا طوق روزِازل سے اپنی گردن میں ڈالا ہوا ہے اور مجھے اس پر ناز ہے۔ میں نے جب بھی آپ کے در پر صدا دی آپ نے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔ اب میری زندگی کا آخری وقت آن پہنچا ہے پس مجھے فنا فی اللہ بقاباللہ کے مقام پر پہنچا کر اپنا وعدہ پورا فرما دیں۔ سلطان بہادر علی شاہؒ کو اپنے لطف و کرم سے دیدارِ الٰہی کی دائمی حضوری کا شرف عطا کر دیں۔ اے میرے مرشد کامل اکمل! مجھ عاجز کی فریاد اپنی بارگاہ میں سن لیں۔ 

پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہؒ نے حضرت سخی سلطان باھوؒ کی شان میں سی حرفی بھی لکھی جو ’ا‘سے ’ی‘ تک کل تیس ابیات پر مشتمل ہے۔ چند ابیات کو یہاں درج کیا جارہا ہے: 

الف  آستاں سلطانؒ ہے بابِ امان ، یا مطلق ہے کوہِ طور پیارے
آ کھ  رَبِّ اَرِنِیْ سن سَوْفَ تَرَانِیْ، یا صفت جمال اے نور پیارے
ہوا و ہوس ہے دُھوڑ بھائی، جاروب دلا ضرور پیارے
 طلسم دا قسم سلطان بہادر شاہؒ،  تاں نور ویکھیں مستور پیارے

شرح: حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کا آستاں بابِ امان اور کوہِ طور کی مانند ہے۔ اگر کوئی سچے دل سے آپؒ کے در پر رَبِّ اَرِنِیْ (ترجمہ: اے ربّ! مجھے اپنا جلوہ دکھا) کی فریاد کرتا ہے تو آپؒ اسے سَوْفَ تَرَانِیْ  (ترجمہ: عنقریب تم میرا دیدار کر لو گے) کے مرتبہ پر پہنچا دیتے ہیں کیونکہ آپؒ کی ذات عین جمالِ الٰہی کی مظہر ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ طالب اپنے دل کو تمام خواہشاتِ نفس اور ہوا و ہوس سے پاک کر لے۔ اس کے بعد ہی وہ فیضِ باھوؒ کا مشاہدہ کر سکتا ہے جس کی برکت سے اس پر تجلیات و انوار کے راز منکشف ہو جائیں گے۔  

الف   اللہ نوں اپنا کر لئیسیں، سخی سلطانؒ تینوں جے منظور کیتا
ایہہ نور محمدیؐ ہَئی نور اللہ، جس نور باھوؒ ظہور کیتا
 اسم  پاک   باھوُ  اللّٰہ  ھوُ  یاَھوُ،  ذکر  پاک  محمدؐ نور  کیتا
سلطان بہادر شاہؒ جس پکایا ورد باھوؒ، اس نوں نور خدا ضرور کیتا

شرح: اگر کوئی طالب حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) کی بارگاہ میں منظور و مقبول ہو جاتا ہے تو آپؒ اسے قرب و دیدارِ الٰہی سے مشرف فرما دیتے ہیں۔ درحقیقت نورِ محمدی ہی نورِ الٰہی ہے اور یہی نور آپؒ میں ظاہر ہے۔ اسمِ اللہ ذات (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) اور اسمِ محمدؐ (Ism-e-Mohammad saww) کے دائمی ذکر سے آپؒ کا اسم مبارک ’’باھوُ‘‘ بھی عین نور بن چکا ہے۔ جس طرح باھوُ میں ھوُ شامل ہے اسی طرح آپؒ کی ذات نورِ ھوُ کا مکمل اظہار ہے۔ پھر خود کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں: اے پیر بہادر شاہ! جو بھی کوئی باھوُکا ذکر کرتا ہے اللہ اس کی ذات کو بھی نور سے منور کر دیتا ہے۔  

ت تصور اصل یاھوُ ہے، باھوُ مشہور مشہود میاں
 اسمآ حسنیٰ نوں ویکھ بھائی، اوہ ہادی اسم موجود میاں 
 مسجود عشاق ملائک دا، حق باھوؒ معبود میاں
 اس دے منکر نوں شیطان جانیں، یا مردود مطرود میاں

شرح: اصل ذکر اور تصور جو قرب و دیدارِ الٰہی سے مشرف کرتا ہے وہ ذکرِ یاھوُ ہے، اس ذکرِعظیم سے طالب کو روشناس کروانے والے حضرت سلطان باھوؒ (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) ہیں۔ آپؒ سے قبل تاریخ میں کسی بھی شخص کا نام باھوؒ نہیں رکھا گیا تھا۔ آپؒ کا نام بحکمِ خداوندی ’’باھوُ‘‘ رکھا گیا۔ آپؒ خود فرماتے ہیں ’’باھوؒ کی ماں نے نام باھوؒ رکھا کیونکہ باھوُ ہمیشہ ھوُ کے ساتھ رہا۔‘‘ آپؒ ظاہری و باطنی دنیا میں باھوُ کے اسم مبارک سے مشہور ہیں۔ آپؒ اسمِ ھوُ کا عین مظہر ہیں۔ آپ مرشد کامل اکمل ہیں جو طالب کو حاضر و ناظر ربّ کی بارگاہ تک پہنچا دیتے ہیں۔ آپ کی تعظیم و عزت میں فرشتے اور عاشق سجدہ کرتے ہیں اور اگر کوئی آپ کے بلند اور عالیٰ رتبہ کا منکر ہے وہ شیطان ہے یا مردود و مطرود۔ 

حضرت پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہؒ نے حضرت سلطان باھوؒ کی شان اور محبت میں دل موہ لینے والی شاعری تحریر فرمائی ہے جس میں ایک طالبِ مولیٰ کے لیے عشق و محبت کا عظیم درس موجود ہے۔ عشق و محبت کا اظہار کیسے کیا جاتا ہے، محبوب کے ادب کو کیسے ملحوظ خاطر رکھا جائے، وفا کیسے نبھائی جائے، عاجزی کیا ہے، غرض آپؒ کے ہر اندازِ محبت میں اخلاص و سچائی کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ آپؒ کی اپنے محبوب حضرت سخی سلطان باھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo) سے محبت اور عقیدت کو الفاظ کے ذریعہ بیان کرنا ناممکن ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اس ناچیز کی اس چھوٹی سی کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔
پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہؒ کی مکمل شاعری پڑھنے کے لیے ’’کلام مشائخ سروری قادری‘‘ کا مطالعہ کریں۔ یہ کتاب راہِ فقر کے سالکوں کے لیے تحفہ عظیم ہے۔  

استفادہ کتب:
شمس الفقرا؛ تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس  (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)
مجتبیٰ آخر زمانی؛ تصنیف ایضاً
کلام مشائخ سروری قادری؛ تحقیق و ترتیب سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)
The Spiritual Guides of Sarwari Qadri Order 

 

10 تبصرے “شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمدبہادر علی شاہ کاظمی المشہدی ؒ کی سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ سے محبت و عقیدت Sultan Pir Sayyid Mohammad Bahadur Ali Shah

  1. پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہؒ کی مکمل شاعری پڑھنے کے لیے ’’کلام مشائخ سروری قادری‘‘ کا مطالعہ کریں۔ یہ کتاب راہِ فقر کے سالکوں کے لیے تحفہ عظیم ہے۔

  2. سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی شان ایک منقبت میں یوں بیان فرماتے ہیں
     شان تیری وچ ہر دم لاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ  آیا
    چھتر لَوْلَاکَ لَمَادا سر تیرے تے سایہ
    خاص حضوروں عالم نوروں واحد احد جھلایا
    کیا جاناں توں احمدؐ ہیں یا باھوؒ نام دھرایا
    یا خود احد صمد ہیں باھوؒ یا ھُو برقعہ پایا
    مار مینوں تلوار فنا دی دے کر ڈھال بقا دی
    سن فریاد نمانے دی یا اکمل مرشد ہادی

    شرح: حضرت سخی سلطان باھوؒ کی شان ہے کہ آپلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ  (ترجمہ: اللہ کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہے نہ غم) کے مرتبہ سے مشرف ہیں اور صاحبِ لولاک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رحمت کا سایہ ہر دم آپ کے سر پر ہے۔ آپؒ کو عالمِ احدیت کی خاص الخاص حضوری کا شرف حاصل ہے۔ یہ وہ عالم ہے جہاں صرف نورِ الٰہی ہے۔ اس مقام تک رسائی صرف انہی عاشقان کو نصیب ہو سکتی ہے جو اللہ وحدہٗ لاشریک کے ساتھ ایک ہو کر خود نور بن چکے ہوں۔ دوئی نہیں بس یکتائی ہی یکتائی ہو۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ کے اس بلند مرتبہ اور شان کو بیان کرتے ہوئے پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہؒ فرماتے ہیں کہ اب آپؒ کوکس نام سے پکاریں؟ باھوؒ نورِ محمدؐ میں فنا ہو کر محمد ہے یا باھوُ۔ یا نورِ الٰہی میں غرق ہو کر احد ہے یا صمد؟ آپؒ کی صفتِ بشریت کو دیکھیں یا صفتِ ربوہیت کو۔ یا یوں کہیں کہ باھوؒ کی بشریت میں خود ھوُ جلوہ گر ہے۔ آپؒ پیر بہادر علی شاہؒ کو بھی مراتبِ فنا سے گزار کر بقا کی ڈھال سے نواز دیں۔

  3. حضرت پیر سیدّ محمد بہادر علی شاہؒ نے حضرت سلطان باھوؒ کی شان اور محبت میں دل موہ لینے والی شاعری تحریر فرمائی ہے جس میں ایک طالبِ مولیٰ کے لیے عشق و محبت کا عظیم درس موجود ہے۔ عشق و محبت کا اظہار کیسے کیا جاتا ہے، محبوب کے ادب کو کیسے ملحوظ خاطر رکھا جائے، وفا کیسے نبھائی جائے، عاجزی کیا ہے، غرض آپؒ کے ہر اندازِ محبت میں اخلاص و سچائی کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔

  4. مار مینوں تلوار فنا دی دے کر ڈھال بقا دی
    سن فریاد نمانے دی یا اکمل مرشد ہادی

اپنا تبصرہ بھیجیں