راہِ حق اور باطل نظریات | Rah-e-Haq or Batil Nazriyat

راہِ حق اور باطل نظریات | Rah-e-Haq or Batil Nazriyat

تحریر: مسز انیلا یاسین سروری قادری ۔لاہور

جب اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس کی معرفت حاصل کرنے والا کوئی ہو تو اس نے مخلوق کو پیدا فرمایا جس کے متعلق درج ذیل حدیثِ قدسی میں ارشاد ہے:
کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِیًا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَاخَلَقْتُ الْخَلْقَ لِاُعْرَفَ
ترجمہ: میں ایک مخفی و پوشیدہ خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں پس میں نے اپنی پہچان کے لیے مخلوق کو پیدا کیا۔
حدیثِ قدسی سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا اوّلین اور بنیادی مقصد معرفتِ حق تعالیٰ ہے اور جس نے خود کو اس عظیم مقصد کے حصول میں مصروفِ عمل رکھا وہ فلاح پا گیاکیونکہ یہی راہِ حق ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: 
 وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ  (سورۃ البقرۃ۔82)
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے اور (انہوں نے) نیک عمل کیے تو وہی لوگ جنّتی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ 

انسان کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ وہ قبل از موت اپنی تمام تر صلاحیتوں کو راہِ حق کے حصول کے لیے وقف کرے اور پھر توفیقِ الٰہی سے اسے پا لے۔ ایسے ہی خوش قسمت لوگوں کے بارے میں اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّھُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ  (سورۃ العنکبوت۔9)
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ہم انہیں ضرور نیکوکاروں (کے گروہ) میں داخل فرما دیں گے۔ 

سلطان الفقر سوئم محبوبِ سبحانی قطبِ ربّانی سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ (Sayyidina Ghaus-ul-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) فرماتے ہیں:
 اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو فقط اپنی معرفت و وصال کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ لہٰذا انسان پر واجب ہے کہ وہ دونوں جہان میں اُس چیز کی طلب کرے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی عمر لا یعنی کاموں (فضول کاموں) میں ضائع ہو جائے اور مرنے کے بعد اس عمر کے ضائع ہونے کی دائمی ندامت اٹھانی پڑے۔ (سرّ الاسرار)

راہِ حق (Rah-e-Haq) کیا ہے؟ راہِ حق (Rah-e-Haq) راہِ معرفت ہے۔ راہِ معرفتِ حق تعالیٰ کو فقرِ محمدیؐ کے موجودہ روحانی وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) نہایت خوبصورت انداز میں یوں بیان فرماتے ہیں:
 معرفتِ حق تعالیٰ دو طرح کی ہے:
 ایک معرفت صفاتِ حق تعالیٰ اور دوسری معرفتِ ذاتِ حق تعالیٰ۔ معرفتِ صفات کا تعلق عالمِ خلق اور عبودیت سے ہے۔ اس میں تسخیر خلق اور رجوعاتِ خلق ہے۔ اس کا ذریعہ ورد و وظائف، چلّے، مراقبے، بدنی و جسمانی ریاضت و مشقت ہے۔ معرفتِ صفات کی انتہائی منزل سدرۃ المنتہیٰ پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی اور لوحِ محفوظ کا مطالعہ ہے۔ معرفتِ صفات کا عارف صاحبِ ریاضت اور صاحبِ درجات ہے۔ صاحبِ درجات لقائے الٰہی (دیدار و وصالِ الٰہی) سے محروم ہے۔ 

معرفتِ ذات کا تعلق عالمِ اَمر اور ربوبیت سے ہے۔ معرفتِ ذات میں استغراقِ حق اور لقائے الٰہی ہے۔ معرفتِ ذات کا ذریعہ فقط تصور اسمِ اللہ ذات (Personal Name of Allah – Ism e Allah Zaat – Ism e Azam) ہے اور اس کی ابتدائی منزل ہی لقائے الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ (Majlis-e-Mohammadi saww) کی دائمی حضوری ہے۔ (سلطان العاشقین) 

راہِ حق (Rah-e-Haq) کے مسافر کو متعدد نشیب و فراز، مصائب اور کٹھن حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی حالات اس کے حق میں ہوتے ہیں اور کبھی اس کے عمل، عادات و مزاج سے یکسر مختلف ہو جاتے ہیں، کبھی اللہ تعالیٰ عزت سے نوازتا ہے تو کبھی کڑی آزمائش سے گزارتا ہے۔ صادق طالب صرف وہی ہوتا ہے جوتمام مصائب اور آزمائشوں کو صبر سے برداشت کرے اور اپنی تمام تر توجہ راہِ حق (Rah-e-Haq) کے حصول پر مرکوز رکھے۔ 

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ط وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ   (سورۃ البقرۃ۔ 155)
ترجمہ: ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیبؐ!) آپ ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔
راہِ حق (Rah-e-Haq) میں مصائب کو صبر سے برداشت کرنے والے طالبِ صادق کے متعلق فقر کے سلطان، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) فرماتے ہیں:
 اللہ کے طالب پر آنے والی مصیبتیں اور بلائیں بھی رحمتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ اللہ کی محبت میں ان پر صبر کرتا ہے۔ (سلطان العاشقین) 
راہِ حق (Rah-e-Haq) میں استقامت اور کامیابی کا حصول اخلاصِ نیت اور توفیقِ الٰہی سے ممکن ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ  (سورۃ الزمر۔2)
ترجمہ: پس ہم نے اس کتاب کو تمہاری طرف حق کے ساتھ نازل کیا پس اللہ کی عبادت کرو اور اسی کے لیے عبادت میں اخلاص پیدا کرو۔
خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam)فرماتے ہیں:ٔ
 اخلاص والوں کے لیے خوشخبری ہے اور مبارک ہوجو ہدایت کے چراغ ہیں ان کے ذریعے تمام سیاہ فتنے دور ہو جاتے ہیں۔ (سنن نسائی)
 عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کرے۔ (صحیح بخاری)
فقرا کاملین جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کے حقیقی روحانی ورثۂ فقر کے وارث ہیں، وہ بھی راہِ حق (Rah-e-Haq) میں استقامت کے لیے توفیقِ الٰہی کے ساتھ اخلاصِ نیت کو بنیاد قرار دیتے ہیں۔ 

سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ (Sayyidina Ghaus-ul-Azam Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani) فرماتے ہیں:
 معرفتِ حق تعالیٰ کا دار و مدار دل اور باطن کی صفائی پر ہے اور دل اور باطن کی صفائی علم سیکھنے اور عمل کرنے اور عمل میں اخلاص پیدا کرنے سے اور اللہ تعالیٰ کی سچی طلب اختیار کرنے میں ہے۔  (حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ)

برصغیر پاک و ہند کے عظیم المرتبت بزرگ اور سلسلہ سروری قادری (Silsila Sarwari Qadri) کے امام سلطان العارفین حضرت سخی سلطان بَاھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)فرماتے ہیں: 

جے ربّ ناتیاں دھوتیاں مِلدا، تاںمِلدا ڈڈّواں مچھّیاں ھوُ
جے ربّ لمیاں والاں مِلدا، تاں مِلدا بھیڈاں سَسیاں ھوُ
جے ربّ راتیں جاگیاں مِلدا، تاں مِلداکال کڑچھیاں ھوُ
جے ربّ جتیاں ستیاں مِلدا، تاں مِلدا دانداں خصیاں ھوُ
اِنہاں گلّاں ربّ حاصل ناہیں بَاھوؒ، ربّ مِلدا دِلاں ہچھیاں ھوُ

مفہوم: اگر دیدارِ حق تعالیٰ پاک و صاف رہنے سے حاصل ہوتا تو مینڈکوں اور مچھلیوں کو حاصل ہوتا جو ہر وقت پانی میں رہتے ہیں، اگر بال بڑھانے سے حاصل ہوتا تو بھیڑ بکریوں کو حاصل ہوتا اور اگر شب بیداری سے حاصل ہوتا تو کال کڑچھیوں (ایک پرندہ جو رات کو جاگتا ہے) کو حاصل ہوتا اور اگر مجرد رہنے سے یا نکاح نہ کرنے سے حاصل ہوتا تو خصی شدہ بیلوں کو حاصل ہوتا۔ لیکن ان تمام سے دیدارِ حق تعالیٰ حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ تو انہیں حاصل ہوتا ہے جن کی نیت صاف ہوتی ہے اور دل صدق اور اخلاص سے بھرے ہوتے ہیں۔ (ابیاتِ باھوؒ کامل)

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ فرماتے ہیں:
 راہِ حق (Rah-e-Haq) میں نیت میں اخلاص کا شامل ہونا ضروری ہے۔ نیت کے اندر جس قدر خلوص ہوگا اسی قدر وہ عمل مقبول ہو گا۔ حدیثِ نبویؐ ہے: مومن کی نیت بہتر ہے اس کے عمل سے۔‘‘ (سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ۔ حیات و تعلیمات )

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) فرماتے ہیں:
 عاجزی اور نیت کا اخلاص جتنا زیادہ ہوتا ہے بندہ اتنی جلدی اللہ کے قریب ہو جاتا ہے اور جتنا قریب ہو گا اتنا ہی عاجزی میں اضافہ ہو گا بشرطیکہ نیت میں اخلاص بھی ہو۔ (سلطان العاشقین) 

حضرت سری سقطیؒ فرماتے ہیں:
 جس نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی وہ زندہ رہا اور جس نے دنیا کی طرف میلان رکھا وہ محروم رہا۔ احمق انسان صبح و شام کونہ میں لگا رہتا ہے اور عقل مند اپنے عیوب تلاش کرتا رہتا ہے۔ (مکاشفۃ القلوب)

حضرت شہاب الدینؒ فرماتے ہیں :
 راہِ حق (Rah-e-Haq) کے سالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے احوال و اعمال اور اقوال کا جائزہ لے اور اس بات کا خیال رکھے کہ اس کا نفس اللہ تعالیٰ سے الگ رہ کر کوئی حرکت نہ کرے نہ کوئی بات زبان سے کہے کیونکہ جب تک دل سے نیت نہ کی جائے تو زبان سے کہنے کا کچھ فائدہ نہیں۔ اس لیے کہ نیت قلب کا عمل ہے۔ زبان تو فقط اس کی ترجمان ہے اس لیے جب تک اللہ کے لیے قلبی عزیمت نہ ہو وہ نیت نہیں کہلا سکتی۔ (عوارف المعارف)

راہِ حق  میں حائل باطل نظریات

حق کی ضد باطل ہے۔ باطل کا تعلق محض بت پرستی اور بد اعمال سے نہیں ہوتا بلکہ باطل کی بنیاد باطن میں ہی منفی سوچ، وساوس، نظریات و افکار سے پروان چڑھنا شروع ہو جاتی ہے کیونکہ یہ انسانی قلب پر شیطان کے حملے ہوتے ہیں۔ حق ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جبکہ باطل فانی ہے اور اسے فنا ہی ہونا ہے۔ باطل کی تین صورتیں ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں انسان پر مسلط ہو جاتا ہے۔ اس کی پہلی صورت نفس (جب تک کہ اس کا تزکیہ نہ ہوا ہو)، دوسری صورت شیطان ملعون اور تیسری صورت دنیا ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان بَاھوؒ  (Sultan-ul-Arifeen Hazrat Sakhi Sultan Bahoo)فرماتے ہیں:
 نفس بادشاہ ہے، شیطان اس کا وزیر ہے اور دنیا ان دونوں کی ماں ہے جو ان کی پرورش کرتی ہے۔ (عین الفقر)
 نفس مملکتِ وجود میں بادشاہ ہے اور شیطان اس کا وزیر جو ہر وقت مصلحت اندیشی اور خود پرستی کی منصوبہ بندی کرتا رہتا ہے۔ (کلید التوحیدکلاں)

حضرت بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں:
 نفس ایک ایسی صفت ہے جو صرف باطل کے ذریعے ہی سکون حاصل کرتی ہے۔ (کشف المحجوب) 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اس (ابلیس) نے کہا: پس اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے (مجھے قسم ہے کہ) میں (بھی) ان (افرادِ بنی آدم کو گمراہ کرنے) کے لیے تیری سیدھی راہ پر ضرور بیٹھوں گا (تاکہ انہیں راہِ حق (Rah-e-Haq) سے ہٹا دوں)۔ پھر میں یقینا ان کے آگے سے، ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے ان کے پاس آؤں گا، اور (نتیجتاً) توُ ان میں سے اکثر لوگوں کو شکر گزار نہ پائے گا۔ (سورۃ الاعراف۔ 16,17)

حدیثِ نبویؐ ہے :
 دل میں دو طرح کے وسوسے اور خیال پیدا ہوتے ہیں۔ اوّل قسم کے وسوسے اور خیال تو فرشتے کی طرف سے ہوتے ہیں جو نیکی کرنے اور تصدیقِ حق کی ترغیب دیتا ہے۔ پس جو شخص یہ حالت معلوم کر لے تو سمجھ لے کہ یہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اس کو اللہ کی تعریف کرنی چاہیے۔ دوسری قسم کے وسوسے اور خیال شیطان ملعون کی طرف سے ہوتے ہیں جو برائی پر اکساتا ہے اور حق کی تکذیب اور نیکی نہ کرنے کی تحریک کرتا ہے۔ پس جو شخص یہ حالت محسوس کر ے تو جان لے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے اور اس کو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگنا چاہیے۔  (مکاشفۃ القلوب)

حضرت حسنؓ فرماتے ہیں: 
 دل میں پیدا ہونے والے خوف دو طرح کے ہیں ایک اللہ تعالیٰ کا خوف ایک دشمن کا خوف۔ اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے جو خوف کے وقت کھڑا ہوا، جو اللہ تعالیٰ کا خوف تھا اسے جاری رکھا اور جو دشمن کا خوف تھا اس سے جہاد و مقابلہ کیا۔ (مکاشفۃ القلوب)

شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور سالک کو راہِ حق (Rah-e-Haq) سے ہر دم ہٹانے اور باطل کی جانب راغب کرنے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرتا رہتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ہتھیار انسانی نفس ہے جسے یہ ملعون خواہشات و شہوات سے بھر کر خوف و خطرات کے وسوسوں سے ہر دم زیر کرتا رہتا ہے۔ 

حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں :
 تمہارا اپنے نفس کی مراد کو پورا کرنا کفر کی بنیاد ہے۔  

حضرت داتا گنج بخشؒ فرماتے ہیں:
 نفس کا اسلام کی لطافت سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے نفس ہمیشہ اسلام سے روگردانی کرتا ہے۔ اسلام سے روگردانی کرنے والا منکر ہوتا ہے اور حق کا منکر ہمیشہ بیگانہ ہوتا ہے۔ (کشف المحجوب) 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) انسانی دل پر شیطان کے باطل حملوں کو یوں بیان فرماتے ہیں:
 دل میں دو دروازے ہیں؛ ایک اوپر ایک نیچے۔ اوپر کا دروازہ جسم سے متصل ہے اور نیچے کا روح سے۔ خناّس ان دو دروازوں کے اردگرد مکڑی کا سا جالا بنُ کر رہتا ہے اور وساوس کو اژدھے کی صورت میں دِل میں پھونکتا رہتا ہے۔ خناّس کی صورت اژدھے کی مانند ہوتی ہے او راس کی دم پر زہریلے کانٹے ہوتے ہیں جس سے وہ دل کو مسموم کرتا رہتا ہے اور دل میں سیاہی پیدا کرتا ہے۔ (شمس الفقرا)

 مرید پر شیطانی وسوسہ کا حال

ایک مرتبہ حضرت شیخ ابو سعیدؒ اپنے ایک مرید کے ساتھ نیشاپور سے طوس جانے لگے تو راستے میں ایک گھاٹی سے گزر ہوا۔ سردی اتنی زیادہ تھی کہ شیخ صاحب کے پاؤں بہت ٹھنڈے ہو گئے۔ ان کے مرید کویہ خیال آیا کہ مجھے اپنی چادر پھاڑ کر اس کے دو ٹکڑے کر کے شیخ کے پاؤں پر لپیٹ دینے چاہئیں۔ چونکہ اس کی چادر بہت عمدہ اور قیمتی تھی اس لیے اس کے دل نے یہ گوارا نہیں کیا کہ اس کو پھاڑ دے۔ وہ مرید بیان کرتے ہیں کہ جب وہ لوگ طوس پہنچے تو انہوں نے شیخ سے یہ سوال کیا ’’اے شیخ! شیطانی وسوسے اور حقانی الہام کے درمیان فرق کیا ہوتا ہے؟‘‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا ’’الہام وہ تھا جس میں تمہیں چادر کو پھاڑ کر اس کے دو ٹکڑے کر کے میرے پاؤں پر لپیٹنے کا حکم دیا گیا تھا تاکہ پاؤں سردی سے محفوظ رہیں اور شیطانی وسوسہ وہ تھا جس نے تمہیں ایسا کرنے سے باز رکھا۔‘‘ (کشف المحجوب) 

المختصر ہر وہ سوچ، عمل اور علم جو انسان کو قربِ الٰہی کی راہ پر گامزن کر دے وہ راہِ حق ہے اور جو اعمال ہوسِ دنیا، متاعِ دنیا، خواہشاتِ نفس اور شیطان کا پیروکار بنائے وہ باطل نظریات و افکار ہیں۔ انسان راہِ حق اور باطل نظریات میں صرف اسی وقت فرق کر سکتا اور راہِ حق پر قائم رہ سکتا ہے جب وہ صاحبِ مسمیّ مرشد کامل اکمل سے تزکیہ نفس کے مراحل طے کرے۔ 

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کے ورثۂ فقر کے موجودہ روحانی امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) فرماتے ہیں:
 تاریخِ اسلام میں تمام اسلامی تحریکوں میں سے سلاسلِ طریقت کی تحریک سب سے زیادہ مضبوط، معتبر، دیرپا اور کامیاب رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق باطن سے یعنی ذاتِ حق کے قرب و معرفت سے ہے جو سیدھا دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔ اسلام کا ایک ظاہرہے اور ایک باطن۔ اسلام کا ظاہری حصّہ شریعت ہے اور باطنی حصّہ طریقت ہے جو حقیقت اور معرفت تک رسائی کا راستہ ہے۔ (شمس الفقرا)

مادیت پرستی کے اس دور میں ہر انسان پریشان ہے اور اس کی پریشانی کا حل صرف روحانیت میں ہے کیونکہ روحانیت باطل نظریات سے پاک ہوتی ہے۔ لیکن بدنصیبی سے ایک خاص طبقہ کے لوگ اس حقیقت کوماننے سے انکاری ہیں کہ فقرائے کاملین کی صحبت ضروری نہیں ہوتی اور وہ صرف ظاہری عبادات اور درد و وظائف کو ہی مقصدِ حیات سمجھ لیتے ہیں۔ اخلاص سے کی گئی ظاہری عبادات سے درجات و ثواب تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن باطن میں اللہ کی محبت اور قرب کا حصول مرشد کامل اکمل کی صحبت میں ذکرو تصور اسم اللہ ذات اور مشق مرقومِ وجودیہ سے ہی ممکن ہے۔  

دورِ صحابہؓ ہو یاتابعین یا پھر تبع تابعین، تمام پاک نفوس نے ظاہری عبادات کے ساتھ ساتھ صحبتِ کاملین کو بھی اختیار فرمایاتو ہی دین کی کنہ کو پایا اور حق پر قائم رہے لیکن جنہوں نے کاملین کی صحبت سے انکار کیا وہ ذلیل و خوار نامراد و مردود رہے۔ 

موجودہ دور میں قدمِ محمدیؐ پر فائز صاحبِ مسمیّ فقیر مالک الملکی سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس فقر کے سلطان، مجددِ دین اور نائبِ رسولؐ ہیں۔ اللہ پاک نے آپ مدظلہ الاقدس کو لامحدود کامل تصرفات اور لازوال روحانی مقام و مراتب سے نوازا ہے۔ آپ بیعت کے پہلے روز ہی سلطان الاذکار ھوُ کا ذکر عطا فرما کر سالک کو راہِ حق پر گامزن فرما دیتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی نگاہِ کامل ہر صادق طالب، چاہے وہ آپ مدظلہ الاقدس کے سامنے موجود ہو یا سات سمندر پار ہو، سب پر یکساں پڑتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی صحبت سے فیض یاب ہونے والا ہر خاص و عام اپنے قلب میں خاص روحانی سکون محسوس کرتا ہے۔ 

عوام الناس کو دعوتِ عام ہے کہ راہِ حق (Rah-e-Haq) میں بخیر و عافیت اپنا سفر جاری رکھنے کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman) کی روحانی و نورانی صحبت سے مستفید ہوکر قربِ الٰہی کی نعمت حاصل کریں۔

استفادہ کتب:
۱۔حیات و تعلیمات سیّدنا غوث الاعظمؓ؛ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)
۲۔ابیاتِ بَاھُوؒ کامل؛ تحقیق، ترتیب و شرح سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan-ul-Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib-ur-Rehman)
۳۔سلطان العاشقین؛ ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
۴۔کشف المحجوب؛ تصنیف حضرت علی بن عثمان الہجویریؒ
۵۔مکاشفۃ القلوب؛ تصنیف حضرت امام غزالیؒ
۶۔عوارف المعارف؛ تصنیف حضرت شہاب الدین سہروردیؒ

 

35 تبصرے “راہِ حق اور باطل نظریات | Rah-e-Haq or Batil Nazriyat

  1. راہِ حق میں استقامت اور کامیابی کا حصول اخلاصِ نیت اور توفیقِ الٰہی سے ممکن ہے۔

  2. باطل نظریات کو سمجھنا اور ان سے بچنا صرف اور صرف مرشد کامل اکمل کی مہربانی سے ہی ممکن ہے۔

  3. معرفتِ ذات کا تعلق عالمِ اَمر اور ربوبیت سے ہے۔ معرفتِ ذات میں استغراقِ حق اور لقائے الٰہی ہے۔ معرفتِ ذات کا ذریعہ فقط تصور اسمِ اللہ ذات ہے اور اس کی ابتدائی منزل ہی لقائے الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ کی دائمی حضوری ہے۔ (سلطان العاشقین)

  4. سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی ؒ فرماتے ہیں:
    راہِ حق میں نیت میں اخلاص کا شامل ہونا ضروری ہے۔ نیت کے اندر جس قدر خلوص ہوگا اسی قدر وہ عمل مقبول ہو گا۔ حدیثِ نبویؐ ہے: مومن کی نیت بہتر ہے اس کے عمل سے۔‘‘ (سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ۔ حیات و تعلیمات )

  5. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
    عاجزی اور نیت کا اخلاص جتنا زیادہ ہوتا ہے بندہ اتنی جلدی اللہ کے قریب ہو جاتا ہے اور جتنا قریب ہو گا اتنا ہی عاجزی میں اضافہ ہو گا بشرطیکہ نیت میں اخلاص بھی ہو۔ (سلطان العاشقین)

  6. سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
    معرفتِ حق تعالیٰ کا دار و مدار دل اور باطن کی صفائی پر ہے اور دل اور باطن کی صفائی علم سیکھنے اور عمل کرنے اور عمل میں اخلاص پیدا کرنے سے اور اللہ تعالیٰ کی سچی طلب اختیار کرنے میں ہے۔ (حیات و تعلیمات سیدّنا غوث الاعظمؓ)

  7. حضرت بایزید بسطامی ؒ فرماتے ہیں:
    نفس ایک ایسی صفت ہے جو صرف باطل کے ذریعے ہی سکون حاصل کرتی ہے۔ (کشف المحجوب)

  8. راہِ حق کے مسافر کو متعدد نشیب و فراز، مصائب اور کٹھن حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی حالات اس کے حق میں ہوتے ہیں اور کبھی اس کے عمل، عادات و مزاج سے یکسر مختلف ہو جاتے ہیں، کبھی اللہ تعالیٰ عزت سے نوازتا ہے تو کبھی کڑی آزمائش سے گزارتا ہے۔ صادق طالب صرف وہی ہوتا ہے جوتمام مصائب اور آزمائشوں کو صبر سے برداشت کرے اور اپنی تمام تر توجہ راہِ حق کے حصول پر مرکوز رکھے۔ 

  9. صادق طالب صرف وہی ہوتا ہے جوتمام مصائب اور آزمائشوں کو صبر سے برداشت کرے اور اپنی تمام تر توجہ راہِ حق کے حصول پر مرکوز رکھے

  10. صراط مستقیم سے گمراہ کرنے کیلئے نفس دنیا اور شیطان کا اتحاد ہے۔شیطان جن کے روپ میں بھی ہو سکتا ہے اور انسان کے روپ میں بھی

  11. جے ربّ ناتیاں دھوتیاں مِلدا، تاںمِلدا ڈڈّواں مچھّیاں ھوُ
    جے ربّ لمیاں والاں مِلدا، تاں مِلدا بھیڈاں سَسیاں ھوُ
    جے ربّ راتیں جاگیاں مِلدا، تاں مِلداکال کڑچھیاں ھوُ
    جے ربّ جتیاں ستیاں مِلدا، تاں مِلدا دانداں خصیاں ھوُ
    اِنہاں گلّاں ربّ حاصل ناہیں بَاھوؒ، ربّ مِلدا دِلاں ہچھیاں ھوُ

  12. سلطان العارفین حضرت سخی سلطان بَاھوؒ فرماتے ہیں:
    نفس بادشاہ ہے، شیطان اس کا وزیر ہے اور دنیا ان دونوں کی ماں ہے جو ان کی پرورش کرتی ہے۔ (عین الفقر)

  13. المختصر ہر وہ سوچ، عمل اور علم جو انسان کو قربِ الٰہی کی راہ پر گامزن کر دے وہ راہِ حق ہے اور جو اعمال ہوسِ دنیا، متاعِ دنیا، خواہشاتِ نفس اور شیطان کا پیروکار بنائے وہ باطل نظریات و افکار ہیں۔ انسان راہِ حق اور باطل نظریات میں صرف اسی وقت فرق کر سکتا اور راہِ حق پر قائم رہ سکتا ہے جب وہ صاحبِ مسمیّ مرشد کامل اکمل سے تزکیہ نفس کے مراحل طے کرے۔

  14. انسان کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ وہ قبل از موت اپنی تمام تر صلاحیتوں کو راہِ حق کے حصول کے لیے وقف کرے اور پھر توفیق ِالٰہی سے اسے پا لے۔

  15. معرفتِ ذات کا تعلق عالمِ اَمر اور ربوبیت سے ہے۔ معرفتِ ذات میں استغراقِ حق اور لقائے الٰہی ہے۔ معرفتِ ذات کا ذریعہ فقط تصور اسمِ اللہ ذات ہے اور اس کی ابتدائی منزل ہی لقائے الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ کی دائمی حضوری ہے۔ (سلطان العاشقین

اپنا تبصرہ بھیجیں