علم ِ قرآن | ilm ul Quran

 علمِ قرآن  | ilm ul Quran

تحریر:مسز عنبرین مغیث سروری قادری (ایم۔اے ابلاغیات)

قرآنِ کریم فرقانِ حمید (Quran-e-Majeed Furqan-e-Hameed) بنی نوع انسان کی طرف اللہ کا آخری اور کامل ترین پیغام ہے۔ جسے دیگر تمام کلاموں پر فضیلت حاصل ہے۔ تمام مخلوق پر اور اللہ ہی کے کلاموں میں سے دوسری الہامی کتابوں پر اسے وہ فضیلت حاصل ہے جو سرورِ انبیاخاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کو تمام انبیا کرام پر حاصل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جس طرح خود کو ’’ربّ العالمین‘‘ یعنی تمام جہانوں کا ربّ کہا اور اپنے محبو ب کو ’’رحمت اللعالمین‘‘ قرار دیا اسی طرح اپنے عظیم کلام کو ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْن تمام جہانوں کے لیے اپنا ذکر قرار دیا۔
وَمَا ھُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ  (سورۃ القلم۔ 52)
ترجمہ: اور وہ تو نہیں مگر نصیحت تمام جہانوں کے لیے ۔
اِنْ ھُوَ اِلَّا ذِکْرٰی لِلْعٰلَمِیْنَ  (سورۃ الانعام۔ 90)
ترجمہ: یہ تو تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔

یعنی اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے تمام جہانوں میں اللہ کا پیغام اور اس کا کلام قرآنِ حکیم کی صورت میں موجود ہے۔ وہ موجودہ جہان ہو یا گزرے ہوئے جہان یا آئندہ آنے والے جہان، اس دنیا کی مخلوق کی طرف ان کے خالق کا پیغام ہو یا کسی اور جہان کی طرف، تمام جہانوں کی مخلوق کا خالق ایک ہی ہے اور ان کی طرف بھیجا جانے والا حق کا پیغام بھی ایک ہی ہے۔ زبان یا الفاظ مختلف ہو سکتے ہیں لیکن حقیقی پیغام میں ردّو بدل نہیں ہو سکتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ’’تم اللہ کی بات میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔‘‘ 

اللہ خود لامحدود ہے اور اس کا کلام بھی وسعت و معنی کے اعتبار سے لامحدود ہے۔ چنانچہ قرآن (Quran) کی عظمت کو سمجھنا عام انسانوں کے لیے ممکن نہیں۔ اس کے الفاظ عام معنی رکھنے والے الفاظ نہیں۔ ان میں چھپے ہوئے معنی تک رسائی حاصل کرنا اتنا آسان نہیں۔ تمام دنیا کے مسلمانوں نے اس کا ترجمہ اپنی اپنی زبان میں کیا اور ہر زبان میں اس کے سینکڑوں تراجم کیے گئے ہیں۔ ان تراجم کی کثرت خود اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آج تک قرآنِ کریم (Quran-e-kareem) کا کوئی جامع اور مکمل ترجمہ نہ ہو سکا۔ عربی زبان سے مکمل واقفیت رکھنے والے بھی اس کے الفاظ کے اصل معانی سمجھنے میں عمریں بسر کر دیتے ہیں۔ روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ  نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے صرف سورۃ البقرہ سیکھنے میں 12 سال صرف کر دیئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بسم اللہ کی ’ب ‘کے صرف نقطہ کی تفسیر بتانے میں پوری رات گزار دی لیکن تفسیر مکمل نہ ہوئی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:

اور نہ اس کے عجائبات ختم ہوں گے اور نہ یہ بکثرت تکرار سے پرانا ہوگا۔

ظاہری الفاظ کے پردے میں کثرتِ معنی کی انتہا۔ صدیاں گزر گئیں، زمانے بدل گئے لیکن احکامات ہر زمانے اور ہر معاشرے پر اسی طرح لاگو ہو سکتے ہیں۔ ہر آیت ہر زمانے کے حالات پر صادق آسکتی ہے۔ ظاہر میں اتنا جامع اور کامل، باطن میں اس قدر وسیع اور گہرا کہ دنیا بھر کی کتب میں اس کا حقیقی علم نہ سما سکے۔ ہر آیت نہ صرف ہر انسان کے ظاہری حالات پر لاگو ہوتی ہے بلکہ باطنی حالات کے لیے بھی رہنما ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) کا فرمان ہے:
قرآنِ پاک (Quran-e-Majeed Furqan-e-Hameed) کے لیے ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔
ظاہر عام لوگوں کے لیے ہے اور باطن اس کی طلب رکھنے والوں اور اس کے لیے کوشش کرنے والوں کے لیے۔ یہ اصل میں محبوب کا پیغام ہے محب کے لیے، جس قدر محب محبوب کے قریب ہوگا اسی قدر وہ اپنے محبوب کے اشاروں کنایوں میں کہی ہوئی بات میں چھپے ہوئے اسرار کو سمجھ پائے گا۔ عام لوگ محبوب کے صرف ظاہری سراپے کو دیکھتے اور اس کی تعریف کرتے ہیں لیکن سچے محب محبوب کی روح کی گہرائیوں میں جھانکتے ہیں اور اس کے ظاہری الفاظ میں چھپی اس کے دل کی بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ محبوب کی بات کو سمجھنے کے لیے محبوب کو سمجھنا ضروری ہے۔ جتنی اللہ کی معرفت حاصل ہوگی اتنی ہی اس کے کلام کی حقیقت واضح ہوگی اگرچہ دونوں کی انتہا تک پہنچنا ناممکن ہے لیکن درجہ بدرجہ آگے بڑھنے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) نے فرمایا:
من عمل بما علم ورثہ اللّٰہ علم مالم یعلم 
ترجمہ: جب بندہ اس چیز پر عمل کرتا ہے جس کو جانتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی چیزوں کا علم بھی عطا فرماتا ہے جن کو وہ نہیں جانتا۔
یعنی قرآن (Quran) کے ظاہری علم پر کامل ایمان کے ساتھ مکمل اطاعت کرنے سے ہی اللہ اس کے باطنی رازوں تک رسائی عطا کرتا ہے۔

قرآن (Quran) کے حقیقی معنوں کا نزول صرف باصفا قلب پر ہوتا ہے۔ اس پاک کلام کے پاکیزہ باطنی اسرار تک رسائی صرف پاکیزہ قلوب کو حاصل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

لَا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُونَ  (سورہ الواقعہ۔79)
ترجمہ: اس (قرآن) کو پاک لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں چھو سکتا۔

یعنی اس کے حقیقی باطنی وجود تک صرف پاکیزہ باطن کے لوگ ہی پہنچ سکتے ہیں ورنہ ظاہری کتابی وجود کو تو کافر بھی پکڑ سکتے ہیں۔ قرآن کی معرفت حاصل کرنے کے لیے اللہ کی معرفت ضروری ہے اور اللہ کی معرفت کے لیے قلب کا پاکیزہ ہونا شرط ہے۔ قلب کی پاکیزگی کے لیے بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) نے تلاوتِ قرآن ہی کا نسخہ تجویز کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) نے فرمایا:
دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسا کہ لوہے کو پانی لگنے سے زنگ لگتا ہے۔ پوچھا گیا حضور! ان کی صفائی کی کیا صورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’موت کو اکثر یاد کرنا اور قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا۔‘‘

قلب کی مثال ایک آئینہ کی سی ہے۔ آئینہ جس قدر دھندلا ہوگا معرفت کا انعکاس اتنا ہی کم ہوگا۔ نہ محبوب کی پہچان ہوگی اور نہ ہی اس کے کلام کی سمجھ آئے گی۔ آئینہ جس قدر شفاف ہوگا اسی قدر محبوب کی نظر میں پسندیدہ ہو گا۔ ایسے شفاف قلب میں ہی محبوب کا چہرہ واضح نظر آئے گا اور اس کے کلام کے حقیقی پہلو ظاہر ہو جائیں گے۔ قلب کی صفائی کے لیے ذکرِ اللہ  اور تلاوتِ قرآنِ کریم (Quran-e-Kareem) اگر نسخہ ہے تو مرشد کامل اکمل طبیب ہے۔ صحابہ کرامؓ  کے قلوب کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی نگاہِ کامل سے شفاف بناتے جس سے انہیں اپنے قلب میں نہ صرف حق تعالیٰ کا جلوہ دکھائی دیتا بلکہ کلامِ حق کے اصل معنی بھی منکشف ہوتے۔ یوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) انہیں کتابِ اللہ کی حقیقی تعلیم عطا فرماتے جیسا کہ قرآن میں اللہ فرماتا ہے:
(اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ان پر اپنی آیات تلاوت کرتے ہیں، ان (کے نفوس) کا تزکیہ کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ (سورۃ الجمعہ۔2)

اس آیت سے بھی ثابت ہے کہ کتابِ اللہ کی اصل تعلیم صرف تزکیۂ نفس کے بعد ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ جب تک نفس ہر باطنی بیماری حسد، تکبر، ہوس، غیبت، نفاق،بہتان، کینہ سے پاک نہ ہو جائے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طریقہ تزکیہ و تصفیہ کے وارث مرشد کامل اکمل کی نگاہ سے صاف و شفاف نہ ہو جائے، نہ قرآن کے حقیقی(Quran) باطنی وجود تک رسائی حاصل ہوگی نہ اس کی آیات کے اصل معنی ظاہر ہوں گے اور جب تک قرآن (Quran) کی آیات کے حقیقی معنی واضح نہ ہو جائیں انہیں عوام تک پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے، اس خوف سے کہ کہیں میں کلامِ حق کے معنوں میں ردّوبدل کا گنہگار تو نہیں ہو رہا۔ موجودہ دور میں ہر دوسرا انسان جسے عربی صَرف و نحو کی ذرا سی سمجھ حاصل ہو جائے، یہ سوچنے لگتا ہے کہ اسے قرآن (Quran) کے ترجمے پر عبور حاصل ہے اس لیے وہ قرآن (Quran) کے معنی بھی اچھی طرح سمجھتا ہے اب اس پر لازم ہے کہ وہ اسے دوسروں تک پہنچائے حالانکہ قرآن (Quran) کا اسلوب عام عربی زبان سے کافی ہٹ کر ہے۔ عربی زبان پر مکمل عبور کے بعد بھی قرآن (Quran) کے اصل مفہوم کو سمجھنا آسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کے متعلق خود فرماتا ہے کہ:

یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا وَّ یَھْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا 
ترجمہ: اس (قرآن) سے اللہ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے۔

رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) سے حضرت عمرؓ  روایت کرتے ہیں کہ:
اِن اللّٰہ یرفع بھذا الکتاب اقوامًا ویضع بِہٖ اٰخرین (مسلم)
ترجمہ: بے شک اللہ اس کتاب (قرآن) کی وجہ سے کتنے ہی لوگوں کو بلند مرتبہ کرتا ہے اور کتنے ہی لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔

قرآن کے ذریعے گمراہ ہونے والوں میں یقینا وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے آیاتِ قرآن کے صرف الفاظ کو سمجھا اور حقیقی معنوں تک رسائی حاصل نہ کی۔ انہیں بغیر حقیقت جانے آگے لوگوں تک پہنچایا اور انہیں بھی اپنے ساتھ گمراہ کیا۔ اسی لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان کے مطابق یہ آخرت میں پست اور ذلیل کیے جائیں گے۔ حضرت ابنِ عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Hazrat Mohammad Sallallahu Alaihi Wa Alyhe Wasallam) نے ارشاد فرمایا:
من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوا مقعدہُ من النار   (ترمذی۔ کتاب تفسیر قرآن)
ترجمہ: جو شخص بغیر علم کے قرآنِ مجید پر گفتگو کرے اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ 
اقبالؒ فرماتے ہیں:

نہ جب تک ہو تیرے ’ضمیر‘ پہ نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف

یعنی جب تک ضمیر یا قلب قرآن (Quran) کے حقیقی معنی تک رسائی حاصل نہیں کرتا کسی بڑے سے بڑے عالم کی تفسیر بھی قرآن (Quran) کے معنی انسان پر نہیں کھول سکتی۔ 

صوفیا کرام (Sofia Karam)نے قرآن کی مثال بارش سے دی ہے جو اگر سبزہ پر گرے تو وہ مزید ہرا بھرا ہوتا اور پھلتا پھولتا ہے اور اگر گندی مٹی والی جگہ پر گرے تو وہ کیچڑ بن جاتی ہے۔ اسی طرح اگر قلب صاف و شفاف ہوگا تو قرآن کی آیات اپنے حقیقی معنوں کے نزول سے اسے اللہ کی اصل بات سمجھا کر اسے اللہ سے مزید قریب کریں گی اور اگر یہ قلب دنیاوی آلائشوں سے اور قلبی بیماریوں سے پاک نہ ہوگا تو ایک طرف تو اس کی رسائی صرف ظاہری الفاظ تک رہے گی اور اللہ حقیقتاً کیا چاہتا ہے وہ کبھی نہ جان پائے گا چنانچہ گمراہ ہوگا اور دوسری طرف قلب کی سب سے بری بیماری تکبر کے باعث ہمیشہ یہی سمجھتا رہے گا کہ جو معنی اس نے قرآن کے سمجھے وہی صحیح ہیں۔ دوسرے سب غلط ہیں۔ یہی غلط سوچ اور قرآن کی حقیقت سے دوری آج مسلم قوم میں بدترین تفرقہ بازی کی بنیاد ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن کے حقیقی مفہوم سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

 

علم ِ قرآن | ilm ul Quran” ایک تبصرہ

  1. نہ جب تک ہو تیرے ’ضمیر‘ پہ نزولِ کتاب
    گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف

اپنا تبصرہ بھیجیں