اسلامی معاشرہ عروجِ باکمال سے انحطاط کا سفر | Islami Mashra Urooj e Bakamal Inhatat Ka Safar

اسلامی معاشرہ  عروجِ باکمال سے انحطاط کا سفر

محترمہ فاطمہ برہان سروری قادری (لاہور)

اسلامی معاشرے سے مراد وہ معاشرہ ہے جس کے لوں لوں میں دینِ محمدی سرایت کر چکا ہو۔ ایسا معاشرہ جس کے قول وفعل سے ایمانداری، وفا شعاری، اخلاص اور تہذیب و تمدن کا رنگ صاف جھلکتا ہوا نظر آئے، کوئی بھی معاملہ ہو دینی یا دنیوی‘ سنت ِمحمدی ؐ کی پیروی کو اپنا شعار بنائے۔ اگر ایسامعاشرہ کرۂ ارض کے کسی بھی کونے میں موجود ہو جلد یا بدیر دنیا کی تاریخ میں اپنی کامیابیوں کالوہا منوانے میں ضرور کامیاب ہو سکتا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں ایسا معاشرہ نہ صرف دیکھا گیا بلکہ سراہا گیا، اس معاشرے کی کامیابی کی داستانیں رہتی دنیا تک تمام عالم ِاسلام کا خون گرمانے کے لیے کافی ہیں۔ اسلام کا باقاعدہ آغاز 612 عیسوی میں ہوا اور صرف 10برس میں پورا عرب حلقہ بگوشِ اسلام ہو گیا اور صرف 90برس میں مسلمان ملتان سے بحیرئہ اسود اور سمرقند کے ساحل سے اطلس اور وسط ِفرانس تک چھا گئے۔ 

زمانۂ وسط میں کوئی بھی شعبہ یا ایجاد ایسی نہیں تھی جس کی بنیاد مسلمانوں نے نہ رکھی ہو۔ دسویں صدی عیسوی میں جب مسلمان ترقی کی عظیم داستانیں رقم کر رہے تھے تب تمام یورپ پستی اور ظلم کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ تاریخ کے اوراق میں ا س دور کو Dark ages کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس مسلمان علم و حکمت کا روشن منبر بنے ہوئے تھے اور پوری آب وتاب کے ساتھ چمک رہے تھے کہ ان کی پھیلائی ہوئی روشنی تیز دھوپ میں چھاؤں اور اندھیرے میں روشنی کی مانند تھی۔ مسلمانوں کے اس دور کو Golden Age سے یاد کیا جاتا ہے۔ یورپ میں علم و ادب و حکمت کی شمع روشن کرنے کا سہرا بھی مسلمان مفکروں، سائنس دانوں اور اہل ِعلم طبقے کے سر پر ہے۔ یورپ میں ہر اس چیز کو کفر گردانا جاتا تھا جو بائبل کے خلاف ہوتی۔ انتہا پسند مذہبی فرقے نے ترقی کی لہر کو بالکل منجمد کر دیا تھا۔ کئی اہل ِعلم حضرات کو سخت سے سخت سزائیں دی گئیں اور موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس کے برعکس اسلام فکر وتفکر کی روش اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ پاکستان کے نوبل انعام یافتہ عظیم سائنس دان ڈاکٹر عبد السلام کے بقول قرآنِ کریم کا کم از کم آٹھواں حصہ (750آیات) تفکر اور تسخیر یعنی سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق ہے۔ معرو ف مؤرخ لیبان کاقول ہے:
 یورپ نے عربوں سے تہذیب حاصل کی۔ یورپ میں عربوں کے علوم اسپین، سسلی اور اٹلی کی راہ پہنچے۔ اگر عربوں کا نام یورپ کی تاریخ سے نکال دیا جائے تو یورپ کی نشاۃِ ثانیہ کئی سو سال پیچھے جا پڑے۔

مسلمانوں کے سنہری دور کا آغاز حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری سے ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے سے قبل نہ صرف عر ب بلکہ پوری دنیا ظلم و ستم کی گھناؤنی تصویر پیش کر رہی تھی۔ خدائے واحد کی پرستش کے بجائے بتوں کی پوجا عام تھی۔ عورتیں، بچے، بوڑھے سب ظلم کی چکی میں پِس رہے تھے۔ انبیا کرام کی تبلیغ و اشاعت غفلت کے اندھیرے میں کہیں کھوگئی تھی یا گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کہیں شمع کی لو کی مثل ٹمٹما رہی تھی۔ عوام کی اکثریت اپنے نفس کی غلامی میں مبتلا ہوکر پیغامِ حق کو فراموش کر چکی تھی۔ ایران اور روم اس وقت کی سپر پاورز تھیں۔ لیکن دنیا کے لیے کوئی اچھا نمونہ پیش کرنے کی بجائے وہ ہر قسم کی خرابی اور فساد کے علمبردار اور ذمہ دار تھے۔ انسانیت کا عنوان دنیا کی تاریخ سے بالکل مٹ چکا تھا گویا انسانیت پر نزاع کا عالم طاری تھا۔ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ گیا، غریب کی آہ وزاری کو کوئی سننے والا نہ تھا، ظالم ظلم کی ہر حد کو پار کر بیٹھا تھا تب خدائے بزرگ و برتر کی جانب سے ایسی بارانِ رحمت برسی جس نے عرصہ دراز سے جمی ہوئی گرد کو دھو ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دنیا میں تشریف لانا ایسی پُرسعادت گھڑی تھی جس نے تمام دنیا کے اندھیرے کو روشنی میں تبدیل کر دیا۔ محلوں میں عرصے سے پڑے بت ٹوٹ گئے۔ پیغامِ حق چار سو پھیل گیا۔ جاہلیت اور اسلام کے درمیان فاصلہ جس سرعت کے ساتھ طے ہوا دنیا میں اسکی بھی نظیر نہیں ملتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کرام ؓکے دل جذبہ ٔایمانی سے لبریز کردیے تھے۔ نعرۂ  حق کی صدا ہر وقت ان کے قلب کو گرمائے رکھتی پھر چاہے بلالِ حبشی کو کوئلوں پر لٹایا جاتا یا زخموں سے جسم کو چھلنی کر دیا جاتا بس ’’احد احد‘‘ ہی زبان سے جاری رہتا۔ خلافت ِراشدہ میں مسلمانوں نے جتنی بھی فتوحات حاصل کی ںسب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روحانی تربیت کا نتیجہ تھیں۔  

 عروجِ باکمال کی بات کی جائے تو حضرت عمر ؓ کا دور عظیم فتوحات اور اعلیٰ حکومتی نظام کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ حکومت کا باقاعدہ آغاز آپ ؓ کے دورِ حکومت ہی میں ہوا۔ آپ ؓ کے بنائے ہوئے سیاسی، معاشی، جنگی اور سماجی قواعد و ضوابط سے آج بھی پوری دنیا رہنمائی حاصل کر رہی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے صرف دس برس کی مدت میں کئی بڑی بڑی سلطنتوں کو فتح کیا۔ حضرت عمر ؓ کے زیر حکومت ممالک کا کل رقبہ ۲۲۵۱۰۳۰ مربع میل یعنی مکہ سے شمال کی جانب ۱۰۳۶، مشرق کی جانب ۱۰۸۷، جنوب کی جانب ۴۸۳ میل تھا۔ اس میں شام، مصر، عراق، عجم، آرمینیہ، آذربائیجان، ایران، کرمان، خراسان اور مکران جس میں بلوچستان کا حصہ آجاتا ہے‘شامل تھے۔ ایشیائے کوچک پر جس کو اہل ِعرب روم کہتے ہیں‘ ۲۰ ہجری میں حملہ ہوا تھا لیکن وہ فتوحات کی فہرست میں شمار ہونے کے قابل نہیں۔یہ تمام فتوحات حضرت عمر ؓ کی فتوحات ہیں اور اس کی تمام مدت دس برس سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ (بحوالہ الفاروقؓ)

 مسلمانوں کی علم دوستی

 اسلام میں علم حاصل کرنے کو بہت زیادہ فوقیت دی گئی ہے۔ اسلام میں علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآنِ مجید  میں علم کا لفظ 778 مرتبہ آیا ہے۔ (مسلمانوں کا ہزار سالہ عروج)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی علم حاصل کرنے پر بہت زور دیا ہے۔ احادیث نبویؐ میں ہے:
 ہر مسلمان مرد و عورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔
 گود سے گور تک علم حاصل کرو۔
عالم کے قلم کی روشنائی شہید کے خون سے زیادہ بیش بہا (قیمتی) ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر اے ۔جے۔آربری لکھتے ہیں:
’’بنی نوع انسان پر اسلام کی تحسین و توصیف اور شکر گزاری واجب ہے۔ مسلمانوں نے علم و ادب اور فنون و سیاست میں جو اضافے کیے ہیں ان کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ یہ کامیابیاں اور کامرانیاں ہرگز حاصل نہ ہوتیں اگر مسلمانوں کو علم سے پرجوش عقیدت نہ ہوتی جو ان کا ہمیشہ طرۂ امتیاز رہا ہے۔‘‘

زمانہ وسطی میں مسلمانوں کو لکھنے پڑھنے کا جنون تھا۔ مساجد کے ساتھ ساتھ لائبریریوں کی تعمیر پر بھی زور دیا گیا۔ عالمی شہرت یافتہ فرانسیسی دانشور ڈاکٹر گستاؤلی بان تحریر کرتے ہیں: جس زمانے میں کتاب اور لائبریری یورپ والوں کے لیے کوئی مفہوم نہ رکھتی تھی اور تمام کلیساؤں میں راہبوں کے پاس پانچ سو سے زیادہ کتابیں نہیں تھیں اور وہ بھی سب مذہبی تھیں، اس وقت اسلامی ممالک میں کافی سے زیادہ کتابیں موجود تھیں۔ خود بغداد کی لائبریری ’’بیت الحکمتہ‘‘ میں چالیس لاکھ، قاہرہ کی لائبریری میں دس لاکھ اور طرابلس کی لائبریری میں تیس لاکھ کتابیں تھیں اور صرف اسپین میں80 ,70 ہزار کتابیں اکٹھی کی جاتی تھیں۔ 

ایک مغربی مؤرخ سارٹن لکھتے ہیں ’’سب سے زیادہ گرانقدر، سب سے زیادہ اوریجنل اور سب سے بڑھ کر پرُمغز کتابیں عربی میں لکھی گئیں ۔‘‘
دنیا کی پہلی پبلک لائبریری مسلمانوں نے قائم کی۔ زمانۂ وسطیٰ میں لکھنا پڑھنا ہر خاص وعام کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ مسلمان قوم ایک عظیم ماضی کی حامل ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سرپرستی میں مسلمانوں نے ترقی کی جانب سفر شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے بعد خلافت ِراشدہ کا سنہری دور شروع ہوا۔ دنیا کی دو سب سے بڑی طاقتوں روم اور ایران کو شکست دی اور دنیا کے وسط میں موجود تمام متمدن خطے پر اپنا اقتدار قائم کیا ۔ خلافت ِراشدہ کے بعد بنو امیہ، پھر بنو عباس اور پھر سلطنت ِعثمانیہ قائم ہوئی۔ ہماری تاریخ طارق بن زیاد، محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی جیسے عظیم سپہ سالاروں کے کارناموں سے بھری ہوئی ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے اپنے اسلاف کی عظمت کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے اور نوجوان نسل کو باور کروایا ہے کہ وہ کس عظیم قوم کا حصہ ہیں ۔ 

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا
(بانگ ِ درا)

 

مسلمانوں کا زوال 

مسلمانوں نے کم وبیش بارہ سو سال تک دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر حکومت کی۔ اس دورانیہ میں مسلمانوں کو کچھ علاقوں میں پسپائی بھی اختیار کرنا پڑی جیسا کہ اندلس سے مسلم اقتدار کا خاتمہ، فلسطین پر کچھ عرصہ کے لیے عیسائیوں کا قبضہ یا پھر تاتاریوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی شکست۔ لیکن مجموعی طور پر مسلمان ہی غالب رہے۔ مسلمانوں کا زوال تب منظر ِعام پر آنے لگا جب خلافت ِعثمانیہ جس کی حکومت ایشیا، افریقہ اور یورپ پر پھیلی ہوئی تھی‘ ماند پڑنے لگی۔ دوسری طرف مغل سلطنت جس کا رقبہ چالیس لاکھ مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا، ایک دم سے سمٹناشروع ہو گئی۔ انگریز برصغیر میں تجارت کی غرض سے داخل ہوئے اور اپنی چالبازیوں سے آہستہ آہستہ اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔  بالآخر 1857ء کی جنگ ِآزادی میں انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کر کے مسلمانوں سے ان کا رہا سہا وقار بھی چھین لیا۔ اسی طرح پہلی جنگ ِ عظیم کے بعد خلافت ِعثمانیہ کا بھی مکمل خاتمہ ہو گیا۔ تب سے لیکر موجودہ صدی تک مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

مسلمانو ں کے زوال کے اسباب 

قرآنِ کریم مسلمانوں کی زندگی کا مرکز و محور اور مکمل ضابطہ ٔ حیات ہے۔ قرآنِ کریم کی تعلیمات میں مسلمانوں کے لیے ظاہری، باطنی، سیاسی، معاشی، انفرادی اور اجتماعی کامیابیوں کے راز پوشیدہ ہیں۔ مسلمانوں کی زندگی کا مقصد انسانیت کی نگرانی کرنا اور خدمت کرنا ہے۔ ایسا معاشرہ تشکیل کرنا ہے جو امن و سلامتی کو فروغ دے۔ مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ تعلیماتِ اسلام سے روگردانی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو قرآنِ مجید میں تاکید فرمائی ہے ’’اللہ کی رسی مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں مت پڑو‘‘ لیکن ہم نے اس سے مختلف راہ کو اپنا یا اور خود کو ذات پات اور رنگ و نسل کی بنا پر تقسیم کر لیا۔ دین تو ایک ہے جوواحد خدا کی عبادت اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سنت پر عمل کرنے کا درس دیتا ہے لیکن ہم نے اپنی قوم کو مذہبی فرقوں اور جماعتوں پر تقسیم کر کے خود پر ظلم ِعظیم کر لیاہے۔ 

علامہ اقبال ؒ کے نزدیک مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ فقر اور خودی کو فراموش کرنا ہے :

اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات
جو فقر سے ہے میسر ، تونگری سے نہیں
اگر جواں ہوں مری قوم کے جسور و غیور
قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں
سبب کچھ اور ہے، تو جس کو خود سمجھتا ہے
زوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیں
اگر جہاں میں مرا جوہر آشکار ہوا
قلندری سے ہوا ہے، تونگری سے نہیں
(ضربِ کلیم)

نظم کا خلاصہ یہ ہے کہ اقبال کی رائے میں مسلمان کے زوال کا سبب یہ نہیں کہ وہ بے زر ہے بلکہ یہ ہے کہ ان میں شانِ فقر نہیں پائی جاتی۔ خودی کی طرح اقبالؒ نے فقر پر بھی بہت زور دیا ہے۔ خودی تب ہی اپنے مرتبۂ کمال کو پہنچتی ہے جب اسے حقیقی فقر سے سراب کیا جائے۔ فقر کے لغوی معنی تنگ دستی کے ہیں لیکن یہاں مراد حقیقی فقر ہے یعنی دنیا و آخرت سے بے نیازی اور ماسوائے اللہ ہر قسم کی اطاعت کو ترک کر دینا۔ یہی شانِ قلندری ہے۔ 

تعلیماتِ فقر ہی ہمارا اصل روحانی اثاثہ ہیں۔ آج کے موجودہ دور میں روحانیت کی جو شکل پیش کی جا رہی ہے وہ تعلیماتِ فقر کے مخالف ہے۔ ہمارے زوال کی دوسری بڑی وجہ روحانیت یا تعلیماتِ فقر کو چھوڑ کر مغربی اقوام اور نظریات کی پیروی کرنا ہے۔ ہم نے تعلیماتِ اسلام، فقر، خودی اور اپنے اسلاف کی عظمتوں کو پس ِپشت ڈال کر اپنے ذہنوں کومغربی فلسفہ کی حد تک محدود کر لیا ہے جس نے ہماری تمام تر روحانی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ 

ہمارے زوال کی تیسری بڑی وجہ جہاد و اجتہاد کے پہلو کو اپنی زندگی سے ختم کرنا ہے۔ جہاد سے مراد عزیز ترین اور اہم ترین مطلوب کی خاطر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو وقف کر دینا ہے۔ ہماری زندگی کا سب سے بڑا مقصود رضائے الٰہی ہے۔ قوم وملک میں سلامتی قائم کرنے کے لیے جہاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ رضائے الٰہی کی خاطر دنیا میں اسلام کا قانون نافذ کیا جائے۔ ظلم کے خلاف ڈھال بن جایا جائے۔ ظالم کو اس کے انجام تک پہنچا کر انصاف کااعلیٰ نظام قائم کیا جائے۔ لیکن افسوس آج کے دور میں ظالم ظلم کی ہر حد کو پار کر بیٹھا ہے اوراس ظلم کے خلاف کھڑا ہونے والا کوئی نہیں۔ ہر کوئی اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے یا اپنی انا کی تسکین کے پیچھے بھاگ رہا ہے  اور سنگ دلی کا نمونہ بنا ہوا ہے جبکہ حضرت امام حسین ؓ کا دور یاد کیا جائے تو آپ ؓ کوفہ والوں کو یزید کے ظلم سے رہا کروانے کے لیے اپنے تمام اہل و عیال کے ساتھ کوفہ تشریف لے گئے اور جامِ شہادت نوش کر لیا ۔ 

قتل ِحسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے کے لیے ہمیں ایک بار پھر اسی جذبۂ ایمانی سے لبریز ہونے کی ضرورت ہے ۔ بقول اقبالؒ

یا ربّ! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
 جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے
پھر وادیٔ فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے
پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے
      (بانگ ِدرا)

اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ ملک کی قیادت و امامت جن لوگوں کے ہاتھ میں ہو وہ موجودہ نئے پیش آنے والے مسائل کو دین ِاسلام کی تعلیمات کی روشنی میں حل کریں چاہے ان کا تعلق انفرادی سطح سے ہو یا اجتماعی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ فیصلہ کرنے والا روحِ اسلام اور اسلامی قانون سازی سے مکمل طور پر واقفیت رکھتا ہو۔ مسلمانوں کو ماضی میں جو عروج حاصل ہوا اس کی بڑی وجہ اجتہاد ہے۔ لیکن موجودہ دور میں اس کا فقدان نظر آتا ہے۔ دین ِاسلام کی اصل روح کو سمجھنے کی بجائے ظاہری اسباب پر فوقیت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے مادیت پرستی جنم لینے لگی ہے۔ 

کسی قوم میں زوال کے عناصر تب پیدا ہونے شروع ہوتے ہیں جب ترقی کی راہ میں جدت کو ماننے سے انکار کر دیا جائے۔ ترکوں کی شکست کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے دنیا میں بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی جس کی بدولت دوسری اقوام نے جدید جنگی ہتھیار، جہاز وغیرہ بنائے ان سے غفلت برتی۔ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے بجائے خود کو ایک نقطے تک ساقط کر لیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’زمانے کو بُرا نہ کہو اللہ خود زمانہ ہے‘‘۔ جبکہ مسلمانوں نے اس قول کی مخالف راہ کو اپنایا اور خود کو پستی کی دلدل میں دھکیل دیا۔

یورپ کی سازش

مسلمانوں نے عروجِ باکمال سے انحطاط کا سفر طے کیا ہے اور آج  مسلمان جس زوال کا شکار ہیں اس میں مسلمانوں کی اپنی غفلت کے ساتھ ساتھ یورپ کی سازشوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کی سب سے بڑی سازش یہ ہے کہ انہوں نے نوجوان مسلم قوم کو اپنے اسلاف سے بے خبر رکھنے کی انتہائی کوشش کی ہے اور دوسرا انہیں اپنے عقائد، فلسفہ، نظریات سے دور کر کے مغربی فلسفہ سے قریب کردیا ہے۔ انہیں یہ ماننے پر مجبور کر دیا ہے کہ ان کے اپنے نظریات جدید اور بہترین ہیں اور مسلمانوں کے نظریات، ان کا فلسفہ، تہذیب و تمدن فرسودہ اور پرانا ہے۔ جو نظریات ماڈرن ہیں صرف انہی کو قابل ِتحسین کہا جا سکتا ہے چاہے وہ اسلامی تعلیمات کے برعکس ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح کی تصویر مسلمانوں کے دل و دماغ میں نقش کر دی ہے کہ دنیا میں جتنی بھی ترقی ہوئی اس کا سہرا اہل ِمغرب کو جاتا ہے اور مسلمان کبھی بھی اس دوڑ کا حصہ نہ تھے۔

لارڈ میکولیز (Lord Macualay) کا برٹش پارلیمنٹ میں دیا گیا بیان کچھ اس طرح ہے:
’’میں نے ہندوستان کے طول و عرض میں سفر کیا ہے اور میں نے یہاں کوئی بھی شخص ایسا نہیں دیکھا جو گداگر یا چور ہو۔ میں نے اس ملک میں اس قدر دولت، اتنی اعلیٰ اقدار اور ایسے پائے کے لوگ دیکھے ہیں کہ میرا نہیں خیال کہ ہم اس ملک کو کبھی بھی فتح کر سکتے ہیں حتیٰ کہ ہم ان کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دیں جو کہ ان کا روحانی اور تہذیبی ورثہ ہے۔ اسی لیے میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہم ان کا پرانا تعلیمی نظام اور تہذیب تبدیل کر دیں کیونکہ ہندوستانیوں کا خیال ہے کہ جو چیز بھی ان کے ملک سے باہر کی ہے یا انگلینڈ سے آئی ہے وہ ان کی اپنی تہذیب سے بہتر ہے اس طرح وہ اپنی خود اعتمادی اورپرانا ورثہ کھو دیں گے اور ایک ایسی قوم بن جائیں گے جیسا کہ ہم انہیں بنانا چاہتے ہیں یعنی ایک مکمل طور پر غلامانہ ذہن والی قوم۔‘‘ (لاڑد میکولیزکا خطاب برٹش پارلیمنٹ میں، 2 فروری 1835)

یہاں چند مسلمان سائنس دانوں کے نام بیان کیے جارہے ہیں جن کے نام یورپی مؤرخین نے مسلمانوں کو اپنے اسلاف سے بے خبر رکھنے کے لیے تبدیل کر دئیے ہیں۔
ابو علی محمد ابن الحسن ابن الہیشم کو یورپ میں الہیزن (Alhazen) کے نام سے پکارا جا تا ہے۔ اس مسلمان سائنس دان نے روشنی کے قوانین بیان کئے۔ پن ہول کیمرا ایجاد کیا، آنکھ کی ساخت بیان کی۔ ’کتاب المناظر‘‘ آپ ہی کی شاہکار کتاب ہے۔ کئی عرصہ تک اہل ِ مغرب آپ کی تصنیف سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ 

جابر بن حیان ۔ یورپ میں آپ کو (Geber) کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ محمد بن موسیٰ الخوارزمی الجبرا کے بانی ہیں۔ انہیں یورپ نے Algorizmکا نام دیا ہے۔ ابو موسی علی ابن الطبری علم ِطب کے عظیم طبیب ’الرازی‘ کے استاد تھے۔ یورپ نے آپ کو Altaber کا نام دیا ہے۔ ابو بکر محمد بن الزکریا دنیا کے عظیم طبی انسائیکلوپیڈیا ’’الحاوی‘‘ کے مصنف اور نویں صدی کے عظیم طبیب ہیں یورپ میں ان کو Rhazes کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ابوالقاسم بن ابن العباس الزہراوی دنیا کے سب سے پہلے نامور سرجن ہیں جنہوں نے انسانی اعضا کی تحقیق کے لیے ’’پوسٹ مارٹم‘‘ پر زور دیا۔ آپ کی تصنیف ’التصریف‘‘ آج بھی یورپ کے میڈیکل کالجز میں پڑھائی جاتی ہے۔ ان کو یورپ میں Abul Casis کہا جاتا ہے۔ ابن ِسینا مشہور کتاب’ القانون فی الطب‘ کے مصنف اور تھرمامیٹر کے بانی ہیں۔ یورپ میں ان کو Avicenna کہا جاتا ہے۔  

مسلمان اپنے اسلاف کے عظیم ہیروز اور ان کے کارناموں سے متاثر ہونے کے بجائے مغربی علوم اور ان کی زبان سے متاثر ہورہے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد ان مغربی نظریات کی طرف توجہ دلاناہے جس سے آجکل کے مسلم نوجوان متاثر ہو رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے وہ اسلامی تعلیمات کو فراموش کر کے یورپ کے غلام بنتے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً ذہنی طور پر مفلوج اور ترقی کی راہ سے دور ہو گئے ہیں۔   علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں:

یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تُو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے!
(ضربِ کلیم)

ان نظریات میں سرِ فہرست نام ڈاروِن، میکڈوگل، فرائیڈ، ایڈلر، میکاؤلی ، کیرک گارڈ کا ہے۔ ڈارون نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان کی اصل جانور ہے۔ میکڈوگل کے بقول انسان اپنی جبلتوں کو پورا کرنے کے لیے جیتے ہیں۔ یہی ان کا واحد مقصد ہے۔ فرائیڈ کے نزدیک انسانی زندگی کا مقصد جنسی خواہشات کی تکمیل ہے۔ چنانچہ انسان کو جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے لامحدود آزادی ہونی چاہیے بصورتِ دیگر وہ نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہو جائیں گے۔ مارکس نے بتایا کہ معاش انسانی زندگی کی اساس ہے چنانچہ زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفع کا حصول  (Maximization of Profit )ہے۔ میکاؤلی نے خیال آرائی کی کہ انسان کو اپنی قوم اور ملکی زندگی کا غلام ہونا چاہیے۔ قومی اور ملکی زندگی ہی انسان کا محور ہے۔ ایک قوم اپنی سربلندی کے لیے جو چاہتی ہے کر گزرے، چاہے وہ اخلاقی اعتبار سے کتنا ہی پست اور تباہ کن نتائج کا حامل ہو۔ کمزور قوموں کو جینے کا حق نہیں۔ قوموں کی سیاست میں اخلاقیات و مذہب بچگانہ باتیں ہیں۔ وجودی فلسفہ جس کا بانی کیرک گارڈ تھا ‘ کے ہمنواؤں نے تمنا کی کہ کسی بھی فرد کو کسی بھی کام کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ فرد خود طے کرے گا کہ کون سا عمل اس کے لیے اچھا ہے اور کون سا برا ؟ 

آج مغرب کی ترقی جن ستونوں پر کھڑی ہے اس کی بنیاد یہ نظریات یا فلسفہ ہے۔ یہ نظریات درحقیقت انسانیت کی بدترین تصویر کی عکاسی ہیں۔ صد افسوس! آج مسلمان مغرب والوں کی جس ترقی سے متاثر ہو رہے ہیں وہ سراسر دھوکہ اور سراب کی مانند ہیں۔ مسلمانوں کے لیے بہترین صورت یہ ہے کہ وہ اپنی تہذیب، تمدن، قرآن و سنت کے بتائے ہوئے اصولوں کی طرف لوٹ جائیں۔ مغرب کی پیروی انہیں نہ صرف ترقی سے دور لے جائے گی بلکہ انہیں اخلاقی، سماجی، سیاسی، انفرادی، اجتماعی طور پر کھوکھلا کر دے گی۔ مسلمانوں کو اپنے شاندار ماضی کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے اور غفلت کی گہری نیند سے جاگ کر روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔ یہی رویہ شاندار ماضی رکھنے والی عظیم قوم کو زیب دیتا ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ (آمین)

استفادہ کتب
۱۔ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کااثر مصنف:مولانا سید ابو الحسن علی ندوی
۲۔ مسلمانوں کا ہزار سالہ عروج  مصنف:پروفیسر ارشد جاوید
۳۔ اسلام اور جدید سائنس مصنف پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری
۴۔ الفاروق مولف شمس العلمامولانا شبلی نعمانی
۵۔ تاریخ ِ اسلام مصنف مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی

 

26 تبصرے “اسلامی معاشرہ عروجِ باکمال سے انحطاط کا سفر | Islami Mashra Urooj e Bakamal Inhatat Ka Safar

  1. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #islam #safar #mashra #february

    1. اس مضمون میں مسلمانوں کے عروج سے زوال تک کے سفر کو اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہے

  2. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #islam #safar #mashra #february

  3. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #islam #safar #mashra #february

اپنا تبصرہ بھیجیں