ہدایت | Hidayat

ہدایت

تحریر: محترمہ نورین سروری قادری (سیالکوٹ)

جس طرح انسان کے جسمانی وجود کی تکوین و تکمیل کے لیے نظامِ ربوبیت کے حسین و جمیل جلوے پوری آب و تاب کے ساتھ ہرجگہ کارفرما نظرآتے ہیں اسی طرح یہی رنگ انسان کے شعوری ارتقا کے نظام میں بھی نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی جسمانی ساخت اور پرورش کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مختلف ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ایک مرحلہ وار نظامِ ہدایت سے بھی نوازا ہے، انسانوں کی راہبری و راہنمائی کے لیے ہر دور میں اللہ اپنے خاص بندوں کو بھیجتا رہا ہے تاکہ و ہ انسان کو ہدایت کے راستے کے بارے میں بتا سکیں جس سے وہ اپنی منزلِ مقصود کو پا سکیں ـ ہدایت کا مطلب ہے راہنمائی، راہبری ،راہ دکھانا، سیدھا راستہ بتانا۔ اللہ تعالیٰ ہادی ہے اور انسان اس کی ہدایت کا طالب۔ جب بندہ صدقِ دل سے اس کی ہدایت طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمت ِہدایت سے بہرہ ور کر دیتا ہے اور پھر وہ مخلوقِ خدا کے لیے ہدایت ِ ربانی کا مظہر بن جاتا ہے۔ ہدایت صراطِ مستقیم ہے جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہوا۔ 

ڈاکٹر طاہر القادری  اپنی کتاب ’’ اسلام اور جدید سائنس‘‘ میں لکھتے ہیں:
جب انسان دنیوی مشاغل سے بے نیاز ہو کر بارگاہِ ایزدی میں حاضر ہوتا اور حالت ِنماز میں دست بستہ کھڑا ہوتا ہے تو ذاتِ حق کی حمد و ثنا اور اس سے نیاز مندانہ تعلق کے بیان کے بعد فطرتِ انسانی کی گہرائیوں سے آواز اٹھتی ہے:اھدنا الصراط المستقیم(اے ربّ! ہمیں سیدھی راہ پر چلا)۔ سورہ فاتحہ کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ سے ’’سیدھا راستہ‘‘ دکھانے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اے اللہ تعالیٰ! ہمیں وہ راہ دکھا جس پر چل کر ہم اپنی زندگی کے مقصد اور نصب العین کو پا سکیں۔ جب مقصد کا شعور اور منزلِ حیات متعین ہو کر سامنے آ جاتی ہے تو انسان کے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یہ پکار اٹھتی ہے: اے ہدایت عطا کرنے والے! اب ہمیں اس مقصد کے حصول کی سبیل اور اس منزل تک پہنچنے کا سیدھا راستہ بھی دکھا دے۔ لیکن ہدایت کا مقصدانہی دو تقاضوں سے پورا نہیں ہو جاتا کیونکہ منزل بتا دی جائے اور سیدھی راہ بھی دکھا دی جائے تو کیا اس سے منزلِ مقصود تک پہنچنے کی ضمانت بھی میسر آجائے گی؟ ہرگز نہیں۔ کئی قوتیں انسان کو سیدھی راہ سے بھٹکانے پر لگی ہوئی ہیں۔ شیطان کا سب سے بڑا حملہ بھی صراطِ مستقیم پر ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں ہے:
  (مجھے قسم ہے کہ) میں ان (افراد بنی آدم کو گمراہ کرنے) کے لئے تیری سیدھی راہ پر ضرور بیٹھوں گا۔ (سورۃ الاعراف۔16)
اس لیے منزل تک پہنچنے کے لیے اس راستے کی ضمانت کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ انسان امن و اطمینان سے منزل کو پا سکے۔

ہدایت کی اقسام

اللہ تعالیٰ نے نہ صرف انسان کو بلکہ ہر ذی روح کواس کے حسب ِ حال ذرائع ہدایت سے نوازا ہے۔ ہدایت کو بنیادی طور پر پانچ اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے:
 ۱۔ہدایت ِفطری
  ۲۔ہدایت ِحسی
  ۳۔ ہدایت ِقلبی 
 ۴۔ہدایت ِعقلی
 ۵۔ہدایت ربانی

۱۔ہدایت فطری:

شبلی نعمانی اور ابو الکلام آزاد ہدایت ِفطری کو ہدایت ِوجدانی سے تعبیر کرتے ہیں۔ بقو ل ابو الکلام آزاد وجدان کی ہدایت یہ ہے کہ ہر مخلوق کی طبیعت میں کوئی اندرونی الہام موجود ہے جو اسے زندگی اور پرورش کی راہوں پر خودبخود لگا دیتا ہے اور و ہ خارجی راہنمائی و تعلیم کی محتاج نہیں ہوتی۔
بلاشبہ یہ ربوبیت ِالٰہی کی فطری ہدایت ہے جس کا الہام ہر مخلوق کے اندر اپنی نمو رکھتا ہے اور جو اُن پر زندگی اور پرورش کی تما م راہیں کھول دیتا ہے۔ یہ ہدایت ہر ذی روح کو پیدائش کے ساتھ ہی عطا کر دی جاتی ہے جس کا ذکر قرآنِ مجید میں اس طرح آیا ہے:
  ہمارا ربّ وہی ہے جس نے ہر چیز کو (اس کے لائق) وجود بخشا، پھر (اس کے حسب ِحال) اس کی راہنمائی کی۔ (سورۃ طہٰ۔50)

۲۔ہدایت حِسّی:

ہدایت کا دوسرا مرتبہ حواس اور مدرکاتِ حِسی کی ہدایت ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اگرچہ حیوانات اس جوہر ِدماغ سے محروم ہیں جسے فکر و عقل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاہم قدرت نے انہیں احساس و ادراک کی وہ تمام قوتیں دے رکھی ہیں جن کی زندگی کے لیے ضرورت تھی۔ احساس و ادراک کی یہ ہدایت تمام حیوانوں کے لیے ایک جیسی نہیں ہے بلکہ ہر کسی کو اس کی استعداد اور ضرورت کے مطابق ہدایت دی گئی ہے جیسے کہ چیل اور عقاب کی نگاہ تیز ہوتی ہے کیونکہ اگر ان کی نگاہ تیز نہ ہو تو بلندی میں اڑتے ہوئے اپنا شکار نہ دیکھ سکیں۔ حواسِ خمسہ کے ذریعے جو ہدایت میسر آئی اس کا ذکر قرآنِ مجید میں یوں ہے:
  بیشک کان، آنکھ اور دل،ان میں سے ہر ایک سے بازپرس ہو گی۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔36)

 ۳۔ ہدایت ِعقلی:

ہدایت ِعقلی عقل اور فہم و تدبر سے میسر آتی ہے۔ اس کا ذکر قرآنِ مجید قلب، عقل اور تعقل و تدبر کے الفاظ میں کرتا ہے۔
افلا تعقلون   (کیا تم سمجھتے نہیں؟)
افلا  یتدبرون (وہ تدبر اور بصیرت سے کام کیوں نہیں لیتے؟)

۴۔ ہدایت ِقلبی:

ہدایت ِقلبی تزکیہ ٔنفس کے ذریعے دل کی صفائی اور باطنی روشنی سے میسر آتی ہے۔ اس کا ذکر قرآنِ مجید میں علم ِلدنیّ کے الفاظ میں کیا گیا ہے جیسا کہ حضرت خضر ؑ کے بارے میں فرمایا گیا ہے:
  ہم نے اسے اپنی بارگاہ سے خصوصی رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اسے اپنا علم ِلدنیّ (یعنی اسرار و معارف کا الہامی علم) سکھایا تھا۔ (سورۃ الکہف۔65)

۵۔ہدایت ِربانی:

ہدایت کی اس قسم کے تین درجے ہیں جو مدارجِ ثلاثہ کہلاتے ہیں:
۱۔  ہدایت ِعامہ (ہدایۃ الغایہ)
۲۔  ہدایت ِخاصہ (ہدایۃ الطریق)
۳۔ہدایت الایصال

ہدایت ِعامہ (ہدایۃ الغایہ):

یہ وہ ہدایت ہے جوانبیا کرام کوبصورتِ وحی عطا ہوتی ہے اوران کے ذریعے وہ عام انسانوں تک پہنچائی جاتی ہے جیسا کہ قرآنِ مجید میں ہے:
اور ہم نے ان میں سے پیشوا یعنی انبیا مبعوث کر دئیے جو انہیں ہمارے حکم کی راہنمائی عطا کرتے ہیں۔ (سورۃ السجدہ۔24)
یہ ہدایت تمام بنی نوع انسان کے لیے ہوتی ہے اور اس میں کسی کو امتیاز حاصل نہیں ہوتا۔ یہ ہدایت ہر ایک کو زندگی کا مقصد اور منزل کا شعور عطا کرتی ہے۔

ہدایت ِخاصہ (ہدایۃ الطریق ):

یہ ہدایت ِربانی کادوسرا درجہ ہے۔ ہدایت کا یہ درجہ اہل ِایمان کو نصیب ہوتا ہے۔ جو لوگ انبیا کی دعوت پر ایمان لانے کے بعد سعادتِ اخروی کی منزلِ مقصودکے حصول کے لئے کوشاں ہو جاتے ہیں انہیں باری تعالیٰ اس خاص دولت سے سرفراز فرماتا ہے۔ ہدایت کا یہ مقام صرف ایمان اور اعمالِ صالحہ سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ ہدایت ِعامہ سے بلند درجے کی ہدایت ہے اور صرف انہی کو ملتی ہے جو اللہ کی را ہ میں مجاہدہ کرتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم یقینا ان پر اپنے راستے کھول دیتے ہیں۔ (سورۃ العنکبوت۔69)

ہدایت الایصال:

ہدایت کی یہ قسم صرف ان مومنوں کے لیے ہے جو تقویٰ کی شرائط کو پورا کرتے ہیں۔ یہ آخری اور حتمی ہدایت ہے جو منزلِ مقصود تک کامیابی و کامرانی سے پہنچنے کی ضمانت عطا کرتی ہے۔ یہ راہنمائی کی سب سے اعلیٰ صورت ہے جس کی ضمانت قرآنِ مجید کے علاو ہ دنیا کی کوئی اور کتاب مہیا نہیں کر سکتی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 اللہ تعالیٰ عنقریب انہیں اپنی منزل تک پہنچا ئے گا اور ان کا حال سنوار دے گا۔ (سورۃمحمد۔5)
(بحوالہ کتاب:اسلام اور جدید سائنس ،پروفیسر طاہر القادری)

 ’’اھدنا الصراط المستقیم‘‘  کے حوالے سے
  ہدایت کے درجے

ہدایت کے مندرجہ بالا تین درجوں پر غور کریں تو آیت ’’اھدنا الصراط المستقیم‘‘ کے بھی تین الفاظ ہیں اور ہر لفظ ہدایت کے ایک درجے کی نشاندہی کر تا ہے۔ پہلا لفظ ’’اھدنا‘‘، دوسرا لفظ ’’ الصراط ‘‘ اور تیسرا لفظ ’’المستقیم‘‘۔اھدنا میں ہدایۃ الغایہ، الصراط میں ہدایۃ الطریق اور المستقیممیں ہدایت الایصال ہے۔ اھدنا الصراط المستقیم کے ذریعے ہم نے اللہ سے سب کچھ مانگ لیا۔
اھدنا کی پکار کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ سے شعوری ہدایت طلب کرتا ہے کہ اے اللہ! مجھے ہدایت دے، اے اللہ! مجھے میرے مقصد ِحیات کے بارے میں بتا دے کہ میری منزل کیا ہے؟ مجھے دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے؟
جواب آتاہے کہ میرے بندے! اگر تو نے صدقِ دل سے اپنے جینے کا مقصد پوچھ لیا ہے توہم تمہیں مقصد ِحیات کے نصب العین کی خبر دیتے ہیں۔ دوسری پکار اٹھتی ہے کہ اے اللہ! منزل کی طرف کون سا راستہ جاتا ہے؟ ہم کس راستے کی طرف چلیں کہ منزل مل جائے؟ مجھے منزل کو پانے کا راستہ بتا دے۔
جب اللہ تعالیٰ نے راستہ بتا دیا تو انسان التجا کرنے لگا کہ اس راستے میں بڑے راہزن اور لٹیرے ہیں جو صحیح راستے سے بہکا دیتے ہیں کیونکہ شیطان نے قسم کھا رکھی ہے کہ میں لوگوں کے راستے میں بیٹھوں گا اور انہیں راستے سے بھٹکا دوں گا۔ اے اللہ! سیدھی راہ، استقامت والی راہ دکھا دے جو مجھے منزل تک پہنچا دے۔ جب یہ ندا دل سے نکلتی ہے توہدایت ِحق متوجہ ہوکرانسان کو حفاظت اور استقامت کا مژدہ سنا دیتی ہے اور ارشاد ہوتا ہے ’’اگر حفاظت و استقامت کے ساتھ منزلِ مقصود تک پہنچنے کی ضمانت چاہتے ہو تو آؤ  میرے انعام یافتہ بندوں کے ہم سفر بن جاؤ۔ ان کی معیت و رفاقت اختیار کر لو کیونکہ ان پر نہ کبھی میراغضب ہوا ہے اورنہ وہ کبھی راہِ ہدایت سے بھٹکے ہیں۔‘‘
ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام فرمایا۔ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ ہی گمراہوں کا۔ (سورۃ فاتحہ 6,7)
اسلئے جو طالب ہدایت ِمقبولانِ خدا کا ہم سفر بن جائے گا وہ اپنے مقصد ِحیات میں کامیاب و کامران ہوگا اسے منزلِ مقصود مل جائے گی اور کوئی اسے بھٹکا نہ سکے گا کیونکہ شیطان اپنی عاجزی اور بے بسی کا اعتراف کر چکا ہے:
  ان سب کو ضرور گمراہ کرکے رہوں گا سوائے تیرے ان برگزیدہ بندوں کے جو (میرے اور نفس کے فریبوں سے) خلاصی پا چکے ہوں۔ (سورۃ الحجر39-40)  (بحوالہ کتاب:سورۃ فاتحہ اور تصور ہدایت ،تفسیر منہاج القرآن سورۃ فاتحہ جزو اوّل؛ از ڈاکٹر طاہر القادری) 

ہدایت کن لوگوں کو ملتی ہے؟

ہدایت اور گمراہی کے بارے میں قرآنِ پاک میں کئی مقامات پر ذکر ہوا ہے کہ جس طرح دوسری نعمتیں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اسی طرح ہدایت اور گمراہی بھی اسی کے قبضے میں ہے۔ جو شخص ہدایت کا طالب ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب کرتا ہے اور جو ہدایت نہیں چاہتا اسے گمراہی میں کھلا چھوڑ دیتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
  اور خدا جس کو چاہتا ہے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دے دیتا ہے۔ (سورۃ البقرہ۔213)
  اگر اللہ کی مشئیت یہ ہوتی (کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو) تو و ہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دکھا دیتا ہے اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہو کر رہے گی۔ (سورۃالنحل۔93)
جس کو اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہوتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اے نبیؐ! تم جسے چاہو اسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔ (سورۃ القصص۔56)
لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے۔ (سورۃ البقرہ۔272)
حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دکھا دیتا ہے پس (اے نبیؐ) خواہ مخواہ تمہاری جان ان لوگوں کی خاطر غم و افسوس میں نہ گھلے، جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ ( سورۃ فاطر۔8)
جس کسی کو بھی ہدایت نصیب ہوتی ہے اللہ اور اسکے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جانب سے حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ ہدایت فیض، فضل اور عنایت ِالٰہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی نشانیوں سے سب کو ہدایت دکھاتا ہے۔ وہ اپنے پیغمبر بھیجتا ہے جو خدا کا پیغام لے کر آتے ہیں اور وہ ان کے ذریعہ سے حق اور باطل کو واضح کر دیتا ہے۔ اس کے بعد جو شخص حق کو پہچاننے کی خواہش رکھتا ہے اللہ اس پر ہدایت کھول دیتا ہے اور جو اس کے برخلاف ہو وہ گمرا ہ کر دئیے جاتے ہیں۔ اور جو اس گمراہی پر بضد رہتا ہے اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ انبیا کرام نصیحت پہنچاتے ہیں لیکن ہدایت اور گمراہی کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

کن لوگوں کو ہدایت نہیں ملتی؟

حق کے ظاہر ہو جانے کے باوجود جو لوگ باطل اور برائی کی طرف رجوع کرتے ہیں اللہ ان کو ان کے پسندیدہ راستے پر چھوڑ دیتا ہے۔ جو لوگ ہدایت کے مستحق نہیں ہیں ان کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اس (قرآن) کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ ٹھہراتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے۔ اور اس سے فاسق ہی گمراہ ہوتے ہیں۔ (سورۃ البقرہ۔26)
اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (سورۃ البقرہ۔258)
  اللہ کافروں کوہدایت نہیں دیتا۔ (سورۃ البقرہ۔264)
ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
  اللہ کسی بھی جھوٹے اورناشکری کرنے والے کو ہدایت نہیں دیتا۔ (سورۃ الزمر۔3)
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضلالت و گمراہی ان لوگوں کے لیے مخصوص کی گئی ہے جن میں یہ نفسانی بیماریاں پائی جاتی ہوں یعنی کفر، ظلم، فسق، جھوٹ اور کفرانِ نعمت وغیرہ۔ اس طرح کے اعمال انسان پر بہت زیادہ اثر رکھتے ہیں جواس کی عقل، آنکھ اور کان پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور اس کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں اور کسی طرح کی نصیحت نہیں سنتے جیسا کہ سورۃ الانفال میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
  اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سننے کی توفیق دیتا لیکن بھلائی کے بغیر اگر وہ ان کو سنواتا تو وہ بے رُخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے۔ (سورۃ الانفال۔23)
سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام اور حضرت سخی سلطا ن باھوؒ کے روحانی وارث سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہدایت کے بارے میں فرماتے ہیں:
  دین ِحق کی دعوت بہت ضروری ہے، ہدایت دینا اللہ کا کام ہے۔ جسے ہدایت نہیں ملتی اس کا مطلب ہے کہ و ہ ہدایت لینا نہیں چاہتا۔ (شمس الفقرا)

ہدایت یافتہ کون ہیں؟

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
اللہ سے ہمیشہ صراطِ مستقیم مانگو۔ صراطِ مستقیم انعام یافتہ لوگوں کا راستہ ہے۔ (شمس الفقرا)

ڈاکٹر طاہر القادری لکھتے ہیں:
اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جن پر اس نے خاص انعام کیا ہے اور وہ خاص انعام یافتہ لوگ چار قسم کے ہیں انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین۔ پہلا طبقہ انبیا کا ہے اورباقی تینوں طبقے اولیا کے ہیں۔ اس دنیا میں اللہ نے انبیا بھیجے اور انبیا کی پیروی کرنے والے صدیقین، شہدا اور صالحین بھی۔ تو خیر و سلامتی کے ساتھ منزل پانے کی ضمانت ان انعام یافتہ لوگوں کے پیچھے پیچھے چلنے میں ہے اور ان انعام یافتہ لوگوں کا راستہ چھوڑنے کا مطلب ہے کہ راہزن کے ہاتھوں لٹ جانا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا۔ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کا۔(سورۃ فاتحہ۔6,7)
صراط الذین انعمت علیہم، سیدھا راستہ ان لوگوں کا ہے جن پر اللہ نے انعام کیا، تو سیدھے راستے کو سمجھاتے ہوئے اللہ پاک نے کچھ لوگوں کی نشاندہی فرما دی۔ اللہ کے یہ انعام یافتہ بندے وہ ہیں جنہیں شیطان نے بھی علامت ِہدایت تسلیم کیا۔ اللہ کے یہ برگزیدہ بندے تو علامت ِہدایت ہیں، نورِ ہدایت ہیں، نشانِ ہدایت ہیں، وہ تو پیکر ِہدایت اور علم ہدایت ہیں جن کی پاک مجلس میں شیطان پھٹک بھی نہیں سکتا۔ چنانچہ اللہ پاک نے فرمایا مجھ سے ہدایت کا سوال کرنے والو سنو! تمہیں ایک بات سمجھا دوں کہ جو میرے برگزیدہ بندے ہیں انہیں شیطان بھی علامت ِہدایت اور پیکر ِہدایت تسلیم کر چکا ہے۔ شیطان نے کہا کہ اے اللہ! میں سیدھی راہ میں جا کر بیٹھوں گا اور لوگوں کو گمراہ کروں گا لیکن جو تیرے انعام یافتہ بندے ہیں ان کے پاس بھی نہیں پھٹک سکتا۔ اگر سیدھے راستے کی ضمانت چاہتے ہو تو ان برگزیدہ بندوں کا دامن پکڑ لو۔(سورۃ فاتحہ اور تصورِ ہدایت:از ڈاکٹر طاہر القادری )  

قرآنی ہدایت کے حقدار بھی یہی صالحین اور متقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن ہدایت ہے اور ہدایت کے لیے ہی آیا ہے لیکن اس سے ہدایت بھی اللہ کے برگزیدہ بندوں کو ہی ملتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اس (قرآن) کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ ٹھہراتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے۔ (سورۃ البقرہ۔26)
قرآنِ مجید کی مثال بھی بارش کی طرح ہے جیسے بارش زمین پر پڑتی ہے تو اس کے اچھے یا برے اثرات کا انحصار اس زمین پر ہے۔ اچھی زمین پر بارش سے پھل پھول اور سبزہ اُگے گا لیکن اگر زمین گندی ہے تو تعفن اور بدبو نکل آئے گی۔
قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یہ متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔ (سورۃ البقرہ۔2)
اس آیت مبارکہ سے معلوم ہواکہ قرآنِ پاک متقین یعنی تقویٰ والوں کے لیے ہدایت ہے جو ہدایت کے اعلیٰ درجے پر ہیں جورشد و راہنمائی عطا کرتے ہیں اور صحیح راستے پرچلاتے ہیں اور منزلِ مقصود تک پہنچا دیتے ہیں۔ تقویٰ کے معنی پر ہیزگاری اور پارسائی کے ہیں لیکن اصطلاحی معنوں میں قلب کا اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کانام تقویٰ ہے اورجس انسان کا دل (باطن) جتنا زیاد ہ قربِ الٰہی میں ہو گا وہ اتنا ہی زیادہ متقی یا صاحب ِتقوی ہو گا۔ سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ اور رسولِ کریمؐ کے نزدیک صحیح النسب صرف اہلِ تقویٰ ہیں۔ (الفتح الربانی۔ملفوظات غوثیہ)
 انبیا کے بعدا ولیا کرام سب سے زیاد ہ متقی ہیں جو عام مسلمانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہیں۔ اولیا کاملین تاقیامت ہدایت کے چراغ ہیں اور انہی اولیا کرام کے ذریعے اللہ پاک کا قرب نصیب ہوتا ہے۔
سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں :
اے اللہ کے بندو! تم حکمت کے گھر میں ہو لہٰذا واسطہ کی ضرورت ہے۔ تم اپنے معبود سے ایسا طبیب (مرشد) تلاش کرو جو تمہارے دلوں کی بیماریوں کا علاج کرے۔ تم ایسا معالج طلب کرو جو تمہیں دوا دے۔ ایسا راہنما تلاش کرو جو تمہاری راہنمائی کرے اور تمہارے ہاتھ کو پکڑ لے۔ تم اللہ تعالیٰ کے مقرب اور مؤدب بندوں اور اس کے قرب کے دربانوں اور اس کے دروازہ کے نگہبان کی نزدیکی حاصل کرو۔ (الفتح الربانی۔ملفوظاتِ غوثیہ)

تو نابینا ہے، تواس کو تلاش کر جو تیرا ہاتھ پکڑ لے، تو جاہل ہے تو ایسے علم والے کو تلاش کر اور جب تجھے ایسا قابل مل جائے تو پس اس کا دامن پکڑ لے اور اس کے قول اور رائے کو قبول کر اور اس سے سیدھا راستہ پوچھ۔ جب تو اس کی راہنمائی سے سیدھی راہ پر پہنچ جائے گا تو وہاں بیٹھ جا تا کہ اس کی معرفت حاصل کرلے۔(الفتح الربانی۔مجلس 4)
حضرت سخی سلطان باھوؒفرماتے ہیں:

احتیاجی نیست مرشد راہبر
مدنظرش دائمی با حق نظر
این بہ تعلیم است تلقین از خدا
ظاہر و باطن ہدایت خود نما

ترجمہ: جس کو مرشد (ولی) کی راہبری حاصل ہوتی ہے اسے کسی اور کی حاجت نہیں رہتی کیونکہ مرشد کامل اللہ تعالیٰ کی دائمی حضوری سے مشرف ہوتا ہے اور جو بھی تعلیم و تلقین کرتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے کہ وہ ظاہر وباطن میں ہدایت کا نمائندہ ہوتا ہے۔ (قربِ دیدار)
مزید فرماتے ہیں:
مرشد کامل کی ابتدا اور انتہا ایک ہوتی ہے۔ وہ صراطِ مستقیم پر ہوتا ہے اور اسے حضوری، نورِ الٰہی کی تجلیات کا مشاہدہ، قرب الٰہی، توحید کی معرفت اور سلک سلوک تصور کے تما م مراتب اور ان پر تصرف حاصل ہوتا ہے۔ (قربِ دیدار)
سلطان الفقرششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ فرماتے ہیں کہ:
اصل صراطِ مستقیم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں اور جو فقر کی منازل کو طے کرتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں پہنچ گیا اس نے صراطِ مستقیم کو پا لیا۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس  فرماتے ہیں:
تصور اسم اللہ ذات ـ ہی صراطِ مستقیم ہے جس پر چل کر پاکیزہ لوگ انعام یافتہ کہلائے کیونکہ تصور اسم اللہ ذات ہی سے انسان کا سینہ اسلام کی روشنی سے صحیح منور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جس نے ذکر اور تصور اسم اللہ ذات سے روگردانی کی وہ نفس ِامارہ اور شیطان کے پھندوں میں پھنس گیا اور آخرکار گمراہ ہوا۔ دراصل نفس کا مرنا ہی دل کی حیات ہے۔ (شمس الفقرا)

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل ہیں جو بیعت کے پہلے روز ہی ذکر و تصور اسم اللہ ذات عطا فرما کرانعام یافتہ لوگوں کا راستہ یعنی ہدایت کا راستہ اور منزل دکھا دیتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ مدظلہ الاقدس پر اپنا خاص لطف و کرم عطا فرئے اور ان کے زیر ِسایہ ہمیں ہدایت کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

استفادہ کتب:   
۱۔ الفتح الربانی تصنیف سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ
۲۔قربِ دیدار  تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ
۳۔شمس الفقرا  تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس 
۴۔مجتبیٰ آخرزمانی   ایضاً
۶۔اسلام اور جدید سائنس،از ڈاکٹر طاہر القادری     
۶۔سورۃ فاتحہ اور تصورِ ہدایت: ایضاً
۷۔تفسیر منہاج القرآن سورۃ فاتحہ جزا اوّل؛ ایضاً

 

28 تبصرے “ہدایت | Hidayat

  1. ماشائ اللہ بہت خوب
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #hidayat #february

  2. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #hidayat #february

  3. ًاشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #hidayat #february

  4. ًاشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #hidayat #february

  5. ہدایت تو وہی ہے جس کا سورتہ فاتحہ میں ذکر ہے یعنی اللہ کے ان بندوں کی طرح بننا جن پر اس کا انعام ہوا-

  6. ہدایت تو وہی ہے جس کا سورتہ فاتحہ میں ذکر ہے یعنی اللہ کے ان بندوں کی طرح بننا جن پر اس کا انعام ہوا-

  7. اللہ تعالیٰ نے انسان کی جسمانی ساخت اور پرورش کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مختلف ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ایک مرحلہ وار نظامِ ہدایت سے بھی نوازا ہے، انسانوں کی راہبری و راہنمائی کے لیے ہر دور میں اللہ اپنے خاص بندوں کو بھیجتا رہا ہے تاکہ و ہ انسان کو ہدایت کے راستے کے بارے میں بتا سکیں جس سے وہ اپنی منزلِ مقصود کو پا سکیں ـ ہدایت کا مطلب ہے راہنمائی، راہبری ،راہ دکھانا، سیدھا راستہ بتانا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں