سکونِ قلب | Sukoon e Qalb

سکونِ قلب

احسن علی سروری قادری 

آج کے اس تیز رفتار دور میں ہر انسان سکون کی تلاش میں ہے کیونکہ آج کا انسان مختلف دکھوں، مصیبتوں اور پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے۔ کہیں ساس بہو کے جھگڑے تو کہیں میاں بیوی کی ناچاقی، کہیں کاروبار میں ناکامی تو کہیں ملازمت نہ ملنے کی پریشانی، کوئی اولاد کے لیے دکھی تو کوئی شادی نہ ہونے پر افسردہ۔ اور اگر کہیں یہ مسئلے مسائل نہیں اور مال و دولت کے انبار اور آسائشات کی فراوانی اور طرح طرح کی سہولتوں کے میسر ہونے کے باوجود سکون کی تلاش۔ اور کہیں تو دوسروں کو سکون اور آرام میں دیکھ کر اپنا سکون غارت کر لینا کہ دوسرے سکون میں کیوں ہیں؟ آخر سکونِ قلب ہے کیا اور اس کا راز کیا ہے؟
سکون عربی لفظ سَکَن سے ہے جسکا مطلب ہے ٹھہراؤ، برکت، باعث ِ اطمینان، آرام۔ اور قلب سے مراد روح، دل، من اور باطن ہے۔ لہٰذا سکونِ قلب سے مراد قلب، روح یا باطن کی ایسی کیفیت ہے جس میں وہ مکمل سکون، ٹھہراؤ اور اطمینان کی کیفیت میں ہو، جس میں کسی قسم کا اضطراب نہ ہو۔

بے سکونی کے عوامل

روح کا پژمردہ ہونا یا ایسے عوامل و محرکات جو روح کو کمزور اور نفس کو طاقتور کرنے کی وجہ بنیں، بے سکونی کا باعث ہیں۔ ذیل میں کچھ ایسے عوامل اور باطنی محرکات بیان کیے جا رہے ہیں جو قلب و روح کی بے سکونی کا باعث بنتے ہیں:
سب سے بنیادی وجہ جو سکونِ قلب کو غارت کرتی ہے وہ بے یقینی ہے۔ یعنی ہمیں اپنے کسی بھی معاملے میں اللہ کی ذات پر یقین ہی نہیں ہے۔ اللہ کی ذات پر یقین نہ ہونے کے باعث ہم ہر معاملے میں پریشان رہتے ہیں کہ آیا یہ کام سرانجام پائے گا بھی یا نہیں یا یہ فکر کہ یہ ٹھیک سے ہوگا یا نہیں۔ اس فکر کی بنا پر ہم بے سکون رہتے ہیں۔
سکونِ قلب میسر نہ ہونے کی دوسری اہم وجہ اللہ کی ذات پر توکل کا نہ ہونا ہے۔ اللہ کی ذات پر توکل نہ ہونے کی بنا پر ہم ہر فطری و غیر فطری امر اپنے ذمہ لینے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اللہ ہی مسبب الاسباب اور مالک و رازق ہے اور وہی ہر امر پر غالب و قادر ہے۔
اسی طرح اور بھی بہت سے مسائل کی بنیادی وجہ اللہ کی ذات پر یقین اور توکل کا نہ ہونا ہے۔ جیسا کہ ایک نوجوان نوکری نہ ملنے پر پریشان ہے کیونکہ اسے اللہ پر یقین اور توکل ہی نہیں کہ اللہ ہی خالق و رازق ہے جبکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے ’’ہر جاندار کی روزی کا ذمہ اس پر ہے‘‘۔ اور جب ہم جانتے ہیں کہ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے تو پھر کیوں ملازمت نہ ملنے پر پریشان ہونا۔ 

مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ ایک حکایت بیان کرتے ہیں جو اس طرح سے ہے:
ایک جنگلی گائے صبح سویرے صاف ستھری سبز گھاس کھانے کے لیے نکل جاتی۔ سرسبز و شاداب جزیرے پر دن بھر مزے سے چرتی اور جب خوب پیٹ بھر جاتا اور اس کا جسم توانا ہو جاتا تو پھر اپنے ٹھکانے پر واپس آجاتی۔ رات کو وہ اس فکر میں مبتلا ہو جاتی کہ آج تو سرسبز گھاس کھا کر آئی ہوں کل کیا کروں گی! ساری رات وہ اسی غم میں گھلتی رہتی کہ خدا جانے اگلے روز گھاس کھانے کو ملے یا نہ ملے۔ اگلے دن کی خوراک کی فکر جب اس کو دامن گیر ہو جاتی تو اسی غم میں صبح تک پھر سوکھ کر کمزور ہو جاتی۔
دوسرے دن جب صبح سویرے وہ مریضہ ٔ ہوس جزیرے پر پہنچی تو بڑی حرص کے ساتھ چارہ کھانے لگی۔ سارا دن سرسبز گھاس کھاتی رہی اور جب واپس پہنچی تو رات پھر اسی غم میں گھلنے لگی کہ اگلے روز کیا کھائے گی۔ خوراک کی فکر اس کو پھر دامن گیر ہو جاتی اور اسی بخار میں وہ رات کو پھر کمزور ہو جاتی۔
کل کی فکر میں اس کی زندگی کا بیشتر حصہ ایسے ہی گزر گیا۔ اسے یہ سمجھ نہ آئی کہ وہ کسی دن بھی تو بھوکی نہیں رہی۔ وہ اس فکر سے اپنا پیچھا نہ چھڑا سکی اور اس طرح اپنے حال کو ہمیشہ مستقبل کی فکر کر کے خراب اور خستہ حال بناتی رہی۔ ’’گائے نما‘‘ انسان کو بھی یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ جب خالق ِ کائنات ہر روز اس کی روزی کا سامان خود مہیا کر دیتا ہے تو پھر کل کی فکر میں گھلنے کی کیا ضرورت ہے۔
اگر کوئی تھوڑا سا غور کرنے کی زحمت کرے تو اسے پتا چل جائے گا کہ یہ گائے انسان کا نفس ہے اور سرسبز جنگل دنیا ہے۔ رازق اپنی مخلوق کو ہر روز اپنے وعدے کے مطابق رزق ضرور عطا کرتا ہے لیکن یہ کم عقل، بدفطرت اور حرص و ہوس کا مارا ہوا آدمی پھر اسی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ ہائے کل کیا کھاؤں گا۔ خدا کی عطا کردہ عقل سے یہ تو سوچیں کہ روزِ پیدائش سے لے کر اب تک برابر کھا رہے ہیں پھر بھی رزق میں کمی نہیں آئی تو انشاء اللہ مستقبل میں بھی وہی رزق کا ضامن ہے۔ جس نے اب دیا ہے وہ آئندہ بھی دے گا۔ (حکایاتِ رومیؒ)

اس کے علاوہ اولاد نہ ہونے پر عورت کا سکون برباد کر دیا جاتا ہے اور کوسنے اور طعنوں سے اس کا جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے جیسے اولاد پیدا کرنا اللہ کا کام نہیں انسان کا اپنا کمال ہے۔ اس طرح ساس بہو کے مسائل، شوہر یا بیوی کی بیوفائی یا کاروبار میں ناکامی اور نقصان ایسے مسائل ہیں جو بے سکونی کا باعث بنتے ہیں۔

ایک اہم وجہ جو آج کل کے معاشرے میں عام ہے‘ وہ ہے مال و دولت کی محبت۔ ہر انسان آسائشات کے حصول کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ اگر کسی انسان کے پاس لاکھوں روپے ہیں تو وہ چاہتا ہے کہ یہ کروڑوں ہو جائیں اور کروڑ پتی ارب پتی بننے کی فکر میں ہلکان ہیں۔ لالچ و ہوس اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ انسان حرام و حلال کی تمیز کھو بیٹھا ہے۔ کیا غلط ہے اور کیا صحیح‘ آج کے انسان کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ اس کا مقصد صرف آسائشات کا حصول ہے چاہے اسے حاصل کے ذرائع حلال ہوں یا حرام۔ ان آسائشات اور ضروریات سے زیادہ مال و دولت کے حصول کی بنیادی وجہ روحانی بیماری ’ہوس‘ ہے۔ اور انسان کے لالچ و ہوس کے متعلق فرمایا گیا ’’اگر انسان کے پاس اُحد پہاڑ جتنا سونا بھی ہو تو وہ خواہش کرے گا کہ اس کے پاس مزید ہوتا‘‘۔ ہمارے معاشرے میں یہ چیز عام ہے کہ اگر کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھی تو یہ سوچنا شروع کر دیا کہ یہ چیز ان کے پاس کیوں ہے اور کوشش شروع کر دی کہ ایسی چیز ہمارے پاس بھی ہو اور ہر حال میں ہو اگرچہ اسے حاصل کرنے کے وسائل بھی نہ ہوں۔ مال و دولت کی ہوس اور لالچ سکونِ قلب کو غارت کر دیتے ہیں۔

واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں:
اگر خواہش اور حاصل کا فرق مٹ جائے تو سکون مل جاتا ہے۔ انسا ن کو جو پسند ہے حاصل کر لے یا پھر جو حاصل ہے اسے پسند کر لے تو سکون مل جاتا ہے۔ جب ہماری تمنا کے پاؤں حاصل کی چادر سے باہر نکل جاتے ہیں تو ہمیں سکون نہیں ملتا۔ سکون حاصل کرنے والے تختہ دار پر بھی پُرسکون رہے اور مضطرب رہنے والے تخت ِ شاہی پر بھی سسکیاں بھرتے رہے۔ خواہشات کا بے ہنگم پھیلاؤ سکون سے محروم کر دیتا ہے۔ خواہشات کی داستان کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ کبھی آغاز رہ گیا، کبھی انجام رہ گیا اور اسی کشمکش میں یہ چند مقدس ایامِ ہستی ختم ہو جاتے ہیں۔ (دل دریا سمندر)

اس کے علاوہ دیگر روحانی امراض جیسا کہ فخر و غرور، کینہ، حسد، بغض، غیبت، چغلی، شہرت کا نشہ، شہوات کا غلبہ وغیرہ انسان کی روح کو پژمردہ کرتے ہیں جو نہ صرف معاشرتی اور اخلاقی بگاڑ کا سبب ہیں بلکہ انسان کے لیے بے سکونی کا باعث بھی بنتے ہیں۔
اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی فراوانی بھی بعض اوقات انسان کو اللہ سے غافل کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ بجائے اس کے کہ انسان آسائشات کے ہونے پر اللہ کے فیض و فضل کا شکر ادا کرے وہ ان آسائشات میں ہی مگن رہتا ہے۔ ایسے حالات میں انسان کا اصل مقصد ہی زندگی کو انجوائے کرنا ہوتا ہے یعنی کھایا پیا، گھومے پھرے، سیر سپاٹے کیے، مال و دولت کا بے جا اسراف کیا یا ان نعمتوں اور مال و دولت میں اضافے کے لیے دن رات ہلکان رہے اور یہ بھی نہ سوچا کہ وہ اللہ جو اتنی نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے اس کا شکر بھی ادا کیا جائے جیسا کہ اللہ قرآن میں فرماتا ہے:
لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ (سورۃ ابراہیم۔7)
ترجمہ: تم میرا شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید عطا کروں گا۔
اللہ کی ذات سے یہی غفلت ایک عرصے کے بعد انسان کی بے سکونی کا باعث بن جاتی ہے کیونکہ سکونِ قلب کا راز آسائشات کی بہتات نہیں بلکہ اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنا ہے۔

دوسری طرف انسان اس فکر میں دبلا ہو رہا ہوتا ہے کہ پیسا کب، کہاں اور کیسے خرچ کرنا ہے اور مال و دولت کے چھن جانے کا خوف انسان کی راتوں کی نیند بھی اُڑا دیتا ہے۔

انسان کے لیے سکونِ قلب میسر نہ ہونے کی ایک وجہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ آزمائشوں اور بلاؤں پر صبر نہ کرنا ہے۔ اللہ پاک قرآن میں خود فرماتا ہے کہ ہم تمہیں آزمائیں گے تمہاری جانوں سے، مال سے اور اولاد سے۔ اب اگر اللہ کی جانب سے کوئی آزمائش ہم پر وارد کی گئی ہے تو ہمیں چاہیے کہ خود پر بے سکونی طاری کرنے کی بجائے اللہ کی ذات پر صبر کرتے ہوئے اس بلا اور آزمائش کے ٹل جانے کا انتظار کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’بے شک ہر تنگی کے بعد آسانی ہے۔‘‘ اور آزمائش پر صبر اللہ پاک کی خوشی کا باعث بھی ہے اور بلند روحانی مرتبہ کا حصول بھی۔

ہم نے اپنی زندگی کی ایک لمبی چوڑی پلاننگ کی ہوتی ہے جس میں ہم اپنی ناقص عقل پر بھروسہ اور اپنی صلاحیتوں کو ہی سب کچھ سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کے تمام امور سرانجام دیتے ہیں اور یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ اس نظامِ کائنات کو چلانے والی ہستی حق تعالیٰ ہے لہٰذا سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا سوچا ہوتا ہے اور اپنی طویل اُمیدوں کے پورا نہ ہونے پر انسان پریشان ہو جاتا ہے اور اللہ سے گلے شکوؤں پر اُتر آتا ہے جس سے وہ مزید بے سکون ہوتا ہے۔

سکونِ قلب کا راز

ایسے عوامل جو قلب و روح کو ٹھہراؤ، آرام اور قوت فراہم کریں وہی سکونِ قلب کا راز ہیں۔ جس طرح اس ظاہری وجود کی غذا ہے جس کے حصول سے وجود نشوونما پاتا ہے بالکل اسی طرح باطنی وجود یا روح یا قلب کی بھی غذا ہے جس سے روح کو طاقت ملتی ہے اور وہ طاقتور ہو کر اللہ کے قرب کی طرف ترقی کرتی ہے اور روح کی غذا اللہ کا ذکر ہے۔ اللہ پاک قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُھُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ طاَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِتَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (سورۃ الرعد۔28)
ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے اور ان کے قلوب اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں۔  خبردار! ذکر ِ اللہ سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور دلوں کے زنگ کو دور کرنے کا آلہ ذکر ِ اللہ ہے۔‘‘

یعنی ایسا قلب جو اللہ کی یاد میں مشغول رہے وہی پاکیزہ قلب سکون پاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہرگز نہیں کہ انسان ہر لمحہ تسبیح پکڑے ذکر کرنے میں مصروف رہے اگرچہ اس کا دھیان کسی دنیاوی مسئلے یا فکر میں اُلجھا ہوا ہو۔ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

تسبی پھری تے دل نہ پھریا، کی لینا تسبی پھڑ کے ھُو

یعنی تسبیحات اور ورد و وظائف کی کثرت کے باوجود بھی قلب اگر اللہ کی ذات سے غافل رہتا ہے تو ایسے ورد و وظائف، عبادات اور تسبیحات کا کیا فائدہ۔ یہاں ذکر سے مراد وہ حقیقی قلبی ذکر ہے جس میں قلب اللہ کی طرف مائل اور متوجہ رہے اگرچہ انسان ظاہری طور پر کسی بھی قسم کی حالت اور جگہ میں ہو۔ اس کے علاوہ بے جا فکریں، شیطانی خیالات اور نفسانی وساوس بے سکونی کا باعث ہیں اس لیے ان سے نجات کا ذریعہ اپنی توجہ اور دھیان کو اللہ کی جانب موڑنا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا (سورۃ المزمل۔8)
ترجمہ: اور اپنے ربّ کے نام کا ذکر کرو اور سب سے منقطع ہو کر اس کی طرف متوجہ رہو۔
وَ اذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ  (سورۃ الکہف۔24)
ترجمہ: اور اپنے ربّ کا ذکر ایسے کرو کہ خود کو بھی بھول جاؤ۔
میرے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
ذکر ِ اللہ کرنے والے کی روح زندہ اور نہ کرنے والے کی روح مردہ ہے۔ آج کل لوگوں کی اکثریت تو ذکر ِ اللہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتی اور نماز روزوں پر ہی اکتفا کیے بیٹھی ہے اور جو لوگ ذکر ِ اللہ کرتے بھی ہیں تو زبانی ذکر کرتے ہیں۔ جو لوگ قلبی ذکر کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے نزدیک قلب سے مراد سینے کے بائیں جانب رکھا گوشت کا لوتھڑا (دل) ہے اور وہ حبس ِ دم کر کے زور زور سے اللہ کا ذکر کر کے اسی لوتھڑے کو چلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جب یہ مادی دل پھڑکنے لگ جائے تو سمجھ لیتے ہیں کہ روح زندہ ہو گئی۔ حالانکہ جسم میں رکھے اس دل کا کام صرف خون کی ترسیل ہے۔ یہ بھی باقی جسمانی اعضا کی طرح ایک عضو ہے جس کو باقی جسم کے ساتھ اسی دنیا میں رہ کر مٹی کا حصہ بن جانا ہے۔ (شمس الفقرا)

سکونِ قلب کا دوسرا اہم ذریعہ فقرا کی ہمنشینی ہے کیونکہ فقرا کی صحبت میں قلوب کے اندر نورِ ایمان اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت داخل کی جاتی ہے اور انسان کے نفس کی میل دور کی جاتی ہے۔ قلب کا رُخ دنیا اور لذاتِ دنیا سے موڑ کر اللہ کی محبت کی طرف موڑا جاتا ہے اور اللہ کی محبت ہی روح کی بالیدگی کا باعث ہے جسکے ذریعے روح سکون پاتی ہے۔ اس کے علاوہ فقرا کی صحبت میں رہ کر انسان دین کی حقیقی تعلیمات اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے قلبی و روحانی تعلق پیدا کرنا سیکھتا ہے اور اللہ کے قرب میں جو سکون اور لذت ہے اس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

اللہ پاک قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:
اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ (سورۃ یونس۔62)
ترجمہ:خبردار! بے شک اللہ کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی غم۔
اللہ کی ولایت یعنی دوستی کے حصول اور قلبی و روحانی تعلق کے لیے راہِ معرفت‘ جو کہ راہِ فقر ہے‘ پر سفر انسان کو ہر غیر ماسویٰ اللہ سے پاک کرتا ہے اور انسان کی ظاہری و باطنی اصلاح اور نفس و قلب کا تزکیہ اور تصفیہ کر کے درجہ ٔ ولایت پر فائز کرتا ہے جہاں انسان خُلق ِ محمدی سے متصف بھی ہوتا ہے اور سکونِ قلب کی دولت سے مالا مال بھی۔
 اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے سے انسان سکونِ قلب کی دولت پاتا ہے اگرچہ وہ جہاد بالمال ہو یا بالقلم۔ اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا مال اللہ کو بہت پسند ہے کیونکہ مال خرچ کرنے سے دل سے مال و دولت کی محبت کم ہوتی ہے اور دنیا سے بے رغبتی بھی پیدا ہوتی ہے۔ واصف علی واصف فرماتے ہیں:
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت سے سکون ملتا ہے لیکن دولت اور مال نے کبھی کسی کو سکون نہیں دیا۔ بادشاہوں نے بادشاہی چھوڑ کر درویشی تو قبول کی لیکن کسی درویش نے درویشی چھوڑ کر بادشاہی قبول نہیں کی۔ مال جمع کرنے والے اور مال گننے والے پر عذاب ہے۔ وہ مال جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے‘ باعث ِ اطمینان ہے۔ (دل دریا سمندر)
ایک انسان کے لیے اپنے اصلی وطن یعنی ’’عالم ِ لاھوت‘‘ سے دوری بھی بے چینی کا باعث بنتی ہے وہ عالم جہاں روح قربِ حق میں نورِ الٰہی کی غذا پر پَل رہی تھی۔ اس دنیا میں آزمائش کی خاطر پھیرے جانے پر انسان اللہ کی ذات سے دور ہو گیا اور جب اس بشری وجود کی قید میں وہ ذاتِ حق کو بے حجاب نہیں دیکھ پاتا تو بے چینی اور بے سکونی محسوس کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ہک لامکان سی مکان اساڈا، ہک آن بتاں وچ پھاسے ھُو

ایک طالب ِ مولیٰ کے لیے کسی ایک روحانی مقام یا مرتبے پر رُکے رہنا بھی بے سکونی کا باعث بنتا ہے۔ چونکہ طالب ِ مولیٰ کی اصل منزل حق تعالیٰ کا وصال ہے اس لیے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ راستے کی ہر رکاوٹ اور مشکل کو پار کر کے اللہ کے قرب کی انتہا تک پہنچ جائے۔ اگر وہ کسی مقام یا مرتبے پر کسی بھی بنا پر رُک جاتا ہے اور آگے نہیں بڑھ پاتا تو وہ بے سکون رہتا ہے اور جب وہ پھر سے اپنا سفر جاری کرتا ہے تو حالت ِ سکون میں آجاتا ہے۔
اس کے علاوہ اللہ کے دین کی سربلندی اور سرفرازی کے لیے کی گئی جدوجہد، سوچ بچار، توجہ اور غور وفکر بھی سکونِ قلب کا باعث ہیں۔
اللہ کی عطا کردہ نعمتوں اور رزق کی تقسیم پر راضی رہنے  اور اپنے تمام مسائل، پریشانیوں اور ظاہری و باطنی امور کو اللہ پر چھوڑ دینے سے سکونِ قلب  حاصل ہوتا ہے۔
ایک حدیث ِ قدسی میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
اے ابن ِ آدم! ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے۔ اگر تُو کرے وہ جو میری چاہت ہے تو میں تجھ کو دوں گا وہ جو تیری چاہت ہے اور اگر تُو نہ کرے وہ جو میری چاہت ہے تو میں تجھ کو تھکا دوں گا اس میں جو تیری چاہت ہے۔ ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
سارا جہان دل و جان سے اسباب کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور بہت ہی کم لوگ ہیں جن کی نظر مسبب الاسباب پر جاتی ہے۔ (کلید التوحید کلاں)
نورِ توکل ایک پانی ہے جس سے فقراجب سیراب ہوتے ہیں تو انہیں کامل صحت اور جمعیت حاصل ہوتی ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
توکل فقر کی بنیاد ہے۔ اللہ پاک سے عشق کا تقاضا ہے کہ اپنا ہر کام اللہ کے سپرد کر دیا جائے۔ ظاہری طور پر تو کوشش کی جائے لیکن باطنی طور پر اللہ پر توکل کر کے طالب اپنی مرضی سے دستبردار ہو جائے۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)

سکونِ قلب کی باطنی توجیہہ

سکونِ قلب کی باطنی توجیہہ یہ ہے کہ ایسا قلب جو اللہ پاک کی ذات کے ساتھ ساکن ہو چکا ہو اور اس حد تک ساکن ہو چکا ہو کہ اللہ کے انوار و تجلیات کی آماجگاہ بن گیا ہو‘ ایسے ہی لوگ مسکین کہلاتے ہیں جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
اے اللہ! مجھے مسکین بنا کر رکھ اور میرا حشر مسکینوں کے ساتھ ہو۔
حاصل تحریر یہ کہ اگر ہم حقیقی و دائمی سکونِ قلب چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اللہ کے ساتھ اپنا قلبی تعلق قائم کریں۔ اس کی یاد سے اپنے غافل دلوں کو منور کریں کہ انسان کے لیے حقیقی سکون اور قلوب کا اطمینان اللہ کی یاد اور اس کے قرب میں ہی ہے اور اس کی یاد کا بہترین طریقہ اس کی معرفت کا حصول ہے جو فقرا کی صحبت سے ممکن ہے۔
نفسا نفسی کے اس دور میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اسم اللہ ذات کے فیض کو دنیا بھر میں عام فرما دیا ہے۔ مرد و خواتین یکساں طور پر آپ مدظلہ الاقدس کی نورانی صحبت سے فیض یاب ہو رہے ہیں اور تزکیہ نفس کے ذریعے سکونِ قلب کی دولت پا رہے ہیں۔ ہر خاص و عام کے لیے دعوت ہے کہ سکونِ قلب کے لیے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی صحبت سے ضرور بالضرور فیضیاب ہوں تاکہ نہ صرف نفسانی بیماریوں سے نجات ملے بلکہ اللہ کی معرفت اور اس کے قرب کی دولت سے بھی بہرہ ور ہوں۔

 
 

27 تبصرے “سکونِ قلب | Sukoon e Qalb

  1. سبحان اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #sukoon #qalb

    1. سکونِ قلب کی باطنی توجیہہ یہ ہے کہ ایسا قلب جو اللہ پاک کی ذات کے ساتھ ساکن ہو چکا ہو اور اس حد تک ساکن ہو چکا ہو کہ اللہ کے انوار و تجلیات کی آماجگاہ بن گیا ہو

  2. ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #sukoon #qalb

  3. بہت اچھی تحریر ہے۔ ماشائ اللہ
    #sultanbahoo #sultanularifeen #sultanulashiqeen #tehreekdawatefaqr #tdfblog #blog #urdublog #spirituality #sufism #faqr #sukoon #qalb

  4. اللہ کی عطا کردہ نعمتوں اور رزق کی تقسیم پر راضی رہنے اور اپنے تمام مسائل، پریشانیوں اور ظاہری و باطنی امور کو اللہ پر چھوڑ دینے سے سکونِ قلب حاصل ہوتا ہے۔

  5. سکون قلب صرف اور صرف مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین کی بارگاہ میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں