طالبانِ مولیٰ کو بہکانے کے شیطانی حربے |Taliban e Moula ko Bhikaney kay Shaitani Harbay

طالبانِ مولیٰ کو بہکانے کے شیطانی حربے

تحریر: مسز فائزہ سعید سروری قادری۔( سوئٹزر لینڈ)

مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ کے صادق طالبوں میں سے ہر ایک باطن میں کسی نہ کسی مقام پر ہوتا ہے۔ جب تک وہ اس فانی دنیا میں رہتا ہے بشریت کے تقاضے اس پر لاگو ہوتے ہیں اور شیطان طالبانِ مولیٰ کو بہکانے کے لیے انہی تقاضوں کو اپنا ہتھیار بناتا ہے۔ طالبِ مولیٰ کتنے ہی اعلیٰ مقام پر کیوں نہ پہنچ جائے شیطان پینترے بدل بدل کر اس پر وار کرتا رہتا ہے لیکن سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے فرمان کے مطابق سچا اور کھرا طالبِ مولیٰ ہوشیار ہوتا ہے اور اپنے اخلاص، عاجزی اور سب سے اہم مرشد سے جڑے رہنے کی بدولت وہ شیطان کے ان حملوں سے بچ نکلتا ہے اور اپنے سفر میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیتا۔
اللہ پاک نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر عالم ِ ناسوت میں بھیجا ہے۔ ’انسان‘ ایک نہایت طاقت ور مخلوق ہے۔ وہ اپنی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں اور طاقتوں کو بروئے کار لا کر ہر مخلوق کو زیر کر سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ کمزور پڑتا ہے تو صرف اپنے نفس میںاُبھرنے والی دنیاوی خواہشات کی وجہ سے۔
نفس کیا ہے؟
مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
٭ انسانی نفس خواہشات کی آماجگاہ ہے۔ ہر طرح کی بری خواہشات اور باغیانہ خیالات اسی میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہی انسان کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی نافرمانی پر ابھارتا ہے اور یہی شہوت کے وقت حیوانوں جیسی حرکتیں کرتا ہے، جب بھوکا ہوتا ہے تو حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھتا ہے اور جب سیر ہوتا ہے تو باغی، سرکش اور متکبر ہو جاتا ہے۔ غرض یہ کہ انسان کا نفس کسی حال میں بھی خوش نہیں رہتا۔ (سلطان العاشقین)
نفس اللہ اور بندے کے درمیان حجاب ہے۔ جیسے ہی انسان اپنے نفس کو (مرشد کامل اکمل کی رہنمائی میں) قابو کر لیتا ہے وہ دیدارِ الٰہی کی اعلیٰ ترین نعمت سے فیضیاب ہو جاتا ہے۔
’’شیطان‘‘ ایک سرکش، گمراہ، بے ادب، نافرمان لیکن ’بے بس ‘ مخلوق ہے۔ اُس کا مقصد راہِ حق کے مسافروں کو راستے سے بھٹکانا اور اللہ سے دور کرنا ہے۔ اپنے اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے وہ انسان ہی کے نفس کا سہارا لیتا ہے۔ اس کے بس میں سوائے وسوسے ڈالنے اور خواہشات اُبھارنے کے اور کچھ بھی نہیں۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
٭ روزِ ازل اقرارِقَالُوْا بَلٰی  سے کچھ ارواح بہت خوش تھیں اور کچھ پریشان ہو گئیں تھیں جیساکہ کافروں، منافقوں اور کاذبوں کی ارواح۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے ارواح! مانگو مجھ سے جو تمہارے جی میں آئے تاکہ میں تمہیں عطا کر دوں۔‘‘ تمام ارواح نے عرض کی ’’خداوند! ہم تجھ سے تجھی کو مانگتے ہیں۔‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے بائیں ہاتھ پر دنیا و زینتِ دنیا و زیبائشِ دنیا اور تماشائے دنیا کو ان ارواح کے سامنے پیش کیا (یعنی امتحان کا سلسلہ اُسی دن شروع ہو گیا تھا جس دن ارواح کو تخلیق کیا گیا)۔ شیطان ’’نفسِ امارہ‘‘ کی مدد سے دنیا میں داخل ہو گیا اور بلند آواز میں چوبیس نعرے لگائے۔ ان نعروں کو سن کر جملہ ارواح میں سے نو حصہ ارواح شیطان کی طرف چل پڑیں۔ شیطان کے وہ چوبیس نعرے یہ ہیں:
1۔ سرود کا نعرہ
2۔ حسن پرستی کا نعرہ
3۔ ہوائے خودی کی مستی کا نعرہ
4۔ شراب نوشی کا نعرہ
5۔بدعت کا نعرہ
6۔ ترکِ نماز کا نعرہ
7۔ طنبورہ و رباب و شرنا و ڈھول جیسے ناشائستہ آلاتِ سرود کا نعرہ
8۔ترکِ جماعت کا نعرہ
9۔ تالیاں بجانے کا نعرہ
10۔ غفلت کا نعرہ
11۔عُجب کا نعرہ
12۔ ریا کا نعرہ
13۔حرص کا نعرہ
14۔ حسد کا نعرہ
15۔کبر کا نعرہ
16۔نفاق کا نعرہ
17۔ غیبت کا نعرہ
18۔ شرک کا نعرہ
19۔ کفر کا نعرہ
20۔ جہالت کا نعرہ
21۔جھوٹ کا نعرہ
22۔بدظنی کا نعرہ
23۔ بد نظری کا نعرہ
24۔ طمع کا نعرہ
اب جو آدمی بھی ان باتوں میں دلچسپی لیتا ہے تو محض اس لیے کہ وہ انہی ارواح میں سے ہے جنہوں نے ان شیطانی نعروں پر کان دھرے تھے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے’ ’اب بھی ویسا ہی ہو رہا ہے جیسا اُ س وقت ہو رہا تھا۔‘‘ (کلید التوحید کلاں)
اس سارے بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جیسے ہی کوئی انسان طلب ِ مولیٰ کی جانب راغب ہوتاہے تو اللہ پاک اس کا امتحان لیتا ہے تاکہ کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہو سکے اور اسی وقت شیطان مردود ’’انسانی نفس‘‘ کا سہارا لے کر اس کو بہکانے پہنچ جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ نفس انسانی سوچ ہی کا دوسرا نام ہے تو غلط نہ ہو گا۔ انسان جیسی سوچ رکھتا ہے ویساہی عمل کرتا ہے۔ اگر سوچ کا محور ربّ ہے تو وہ نفس بہترین اور اگر سوچ کا محور دنیاوی خواہشات ہیں تو وہ نفس شیطان کا دوست ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ’’اپنی سوچ کو پانی کے قطروں سے بھی زیادہ شفاف رکھو کیونکہ جس طرح قطروں سے دریا بنتا ہے اسی طرح سوچوں سے ایمان بنتا ہے۔‘‘
شیطان کے یہ چوبیس نعرے نفس کی خواہشات کے سوا کچھ نہیں۔ صوفیا کرام ان کو نفس کی بیماریاں قرار دیتے ہیں۔ اسی لیے مرشد کامل اکمل طالب ِ مولیٰ کے اندر سے سب سے پہلے دنیاوی خواہشات اور محبت نکال دیتا ہے تاکہ ان محبتوں اور خواہشات کے ذریعے شیطان حملہ آور نہ ہو سکے۔
سروری قادری مرشد کامل اکمل اپنے سچے طالبوں کو تصور اسمِ اللہ  ذات اور مشقِ مرقومِ وجودیہ کی بدولت مجلسِ محمدیؐ کی حضوری اور دیدارِ الٰہی کا شرف بخش دیتا ہے۔ جیسے ہی طالب دیدارِ الٰہی اور محبتِ  الٰہی سے فیضیاب ہو کر اپنا آپ اللہ کی ذات میں گم کرتا ہے اور خود کو دنیاوی خواہشات سے آزاد کر کے اللہ کی محبت کے لیے وقف کرنے کی کوشش شروع کرتا ہے اسی وقت شیطان مردود اس کے نفس کا سہارا لے کر مختلف قسم کے وار کرتا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ انہی حربوں کا ذکر کلید التوحید میں فرماتے ہیں تاکہ طالبانِ مولیٰ آگاہ ہو سکیں اور ان حربوں سے خود کو بچائیں۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
٭ شیطان عارف باللہ فقیر ولی اللہ آدمی پر سات قسم کے حربے استعمال کرتا ہے۔
1۔ ذکر ِ اسمِ اللہ  ذات کے بغیر سکوت اختیار کرواتا ہے۔ سکوت کے معنی خاموشی کے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’سکوت مومنوں کے سرکا تاج اور ربّ کی رضا ہے۔‘‘
لیکن کیسا سکوت؟ اللہ کی نظر میں پسندیدہ خاموشی یہ ہے کہ بندہ ہر وقت مشاہدہ حضوری میں غرق رہے۔ اصل خاموشی جسم و جان کی قید سے نکل کر اللہ کے ساتھ مشغول ہونے کا نام ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’اگرچہ عارف بظاہر خاموش رہتا ہے لیکن باطن میں وہ ہر وقت اللہ سے ہم کلام رہتا ہے۔ لیکن جونہی طالب کی توجہ اللہ سے ہٹتی ہے شیطان اُسے باطن میں عجیب و غریب کھیل تماشے دکھاتا ہے اور اس سے کچھ کرامات بھی سرزد ہو جاتی ہیں۔ اگر طالب ان کھیل تماشوں اور کرامات پر توجہ دے تو وہ اللہ سے دور اور نفس کے فریب کا شکار ہو جاتا ہے۔ ظاہری طور پر خاموش رہ کر باطن میں اللہ کا قرب حاصل کرنے کے بجائے شیطانی کھیل تماشوں میں مشغول ہو جاتا ہے اور ذکرِ الٰہی کرنا بھول جاتا ہے۔
2۔ دشت و بیابان میں خلوت و تنہائی اختیار کرواتا ہے تاکہ نماز باجماعت کی سنت چھوٹ جائے۔
مرشد طالب کے ’’دل‘‘ سے دنیاوی محبتیں اور خواہشات نکال رہا ہوتا ہے۔ لیکن شیطان ظاہری طور پر اس کو دنیا سے دور کرتا ہے اور اس کے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ تم نے اللہ کو پا لیا اور جس کو اللہ مل گیا اس کو کسی اور چیز کی حاجت نہیں رہتی۔ دنیا اور اس کی لذتیں تم پر حرام ہو چکی ہیں۔ اس مردود دنیا سے دور ہو جاؤ تاکہ مکمل طور پر اللہ کے ہو جاؤ۔ اسی لیے بہت سے لوگ درویشوں کے روپ میں اپنے حجروں میں بند، تسبیح ہاتھ میں لیے دنیا سے بے خبر اللہ اللہ کرتے رہتے ہیں لیکن دل دنیا کی طرف ہی مشغول ہوتا ہے۔ جیسے ہی تنہائی اختیار کرتے ہیں مرشد کی بارگاہ سے دور ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہی طالب مرشد کی بارگاہ سے دور ہو نفس کے وار سے بچنا ناممکن ہو جاتا ہے اور نفسانی خواہشات کی بنا پر منہ کے بل گرتاہے۔ طالب کو یاد رکھنا چاہیے کہ راہِ فقر پر چلتے ہوئے دل سے دنیا کی محبت نکالنا ضروری ہے۔ ظاہری طور پر نہ ہمارے آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا کی ذمہ داریوں کو چھوڑا نہ ہی مرشد کامل اکمل طالب کو یہ سکھاتا ہے۔
3۔ تیسرا شیطانی حربہ یہ ہے کہ اس بہانے سے مالِ دنیا جمع کرواتا ہے کہ یہ تو درویشوں، فقیروں، بیواؤ ں، یتیموں، مسکینوں، شکستہ دل لوگوں اور مستحقوں کی حاجت روائی کے لیے ہے نہ کہ طمعِ نفس کے لیے۔ یہ بھی شیطانی حیلہ ہے کہ جب مال جمع ہو جاتا ہے تو زکوٰۃ کی ادائیگی کا بھی منکر ہو جاتا ہے۔
پہلے شیطان پیٹ کاٹ کاٹ کر مال جمع کرواتا ہے کہ اللہ کے راستے میں دینا پھر نفسانی خواہش ’’مقام کی طلب‘‘ اس کے دل میں اُبھارتا ہے۔ یاد رہے کہ راہِ فقر میں ’’مقام‘‘ کی خواہش بھی نفس کی خواہش سے کم نہیں اور شیطان اس کو احساس دلاتا ہے کہ تم ایک ’’فقیر‘‘ ہو۔ اللہ کی راہ میں امرا و اغنیا دیا کرتے ہیں۔ فقیر کو اللہ جو عطا کرتا ہے اس کی ریاضتوں کے صلہ میں انعام دیتا ہے اس لیے جو کچھ بھی ہے خود پر خرچ کرو۔ اس طرح وہ طالب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے رک جاتا ہے۔
4۔چوتھا شیطانی حربہ یہ ہے کہ اپنی تعریفوں کے غرور میں مبتلا کرنے کے لیے کشف و کرامات میں مشغول کرواتا ہے تاکہ خوشی کے جال میں گرفتار رہے۔
جب ایک طالب ِ مولیٰ دل وجان سے مرشد کا ہر حکم مانتا ہے اور اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے تو مرشد اپنے تصرفات کی قوت سے اس سے کچھ کرامات کا ظہور کرواتا ہے جو اصل میں طالب کی آزمائش بھی ہوتی ہیں۔ مثلاً وہ جو دعا کرتا ہے قبول ہو جاتی ہے، جو سوچتا ہے پورا ہو جاتا ہے۔ سچا اور کھرا طالب اس کو صرف اپنے مرشد کی مہربانی جانتا ہے لیکن جس میں کھوٹ ہوتی ہے وہ نفس کے بہکاوے میں آکر اللہ سے رجوع کرنے کے بجائے ان کشف و کرامات میں مشغول ہو جاتا ہے۔ دنیا میں بہت سے جھوٹے پیر پھر رہے ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ مرشد کے ساتھ گزارا اور لوگوں میں دم درود، تعویز گنڈے کے ذریعے مشہور ہو گئے۔ مرشد کو بھول گئے اور لگے لوگوں کی تعریفیں بٹورنے اور ان تعریفوں کی بدولت خود پسندی میں مبتلا ہو گئے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں’’ عجب (خود پسندی) صفت ِ ذمیمہ میں سے ہے۔ اس کا جنم انسانی دل میں ہوتا ہے اور شیطان اسے پیدا کرنے میں پیش پیش ہوتا ہے۔‘‘
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’اے طالب! خود پرستی چھوڑ کر غرقِ نور ہو جا تاکہ تجھے ایسی حضوری نصیب ہو کہ وصل کی حاجت ہی نہ رہے۔‘‘
جو خود پرستی میں گرفتار ہوا وہ نارِ جہنم کا شکار ہو گیا لیکن آدمِ خاکی ( جو خود پرستی سے محفوظ رہا) سزا وا رِ دیدار ہو گیا۔
5۔پانچواں شیطانی حربہ یہ ہے کہ اُسے علم و علما کا مخالف کر دیتا ہے۔
قرآن و حدیث کے مطابق دنیا میں ہر وقت باعمل علما اور روشن ضمیر و صاحبِ تاثیر فقرا کامل (مرشد کامل اکمل) موجود رہتے ہیں۔ جب طالبِ مولیٰ ان کے حلقہ اثر میں آتا ہے تو اس پر راہِ علم و شریعت کھل جاتی ہے اور جو علم روزِ الست سے اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہوتا ہے وہ انہی کی بدولت لاشعور سے نکل کر شعور میں آجاتا ہے اور طالب کے وجود سے جہالت و بدعت نکل جاتی ہے۔ ظاہر میں باعمل عالموں سے علمِ شریعت حاصل کیے بغیر راہِ فقر پر چلنا نا ممکن ہے کیونکہ فقر کا ظاہر شریعت اور باطن اللہ ہے۔ شیطان طالب کو باعمل عالموں سے یہ کہہ کر دور کر دیتا ہے کہ فقر کا ظاہر سے کوئی تعلق نہیں یہ ایک باطنی راہ ہے، باطن پر توجہ دو ظاہر کو بھول جاؤ۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’استاد کے بغیر شاگرد ہر گز علمِ قرآن کا محرم وشناسا نہیں ہو سکتا۔‘‘ جیسے ہی طالب ظاہری علما کامل سے دور ہوتا ہے وہ اصل حقیقت کو بھی صحیح طریقہ سے نہیں سمجھ سکتا اور بہک جاتا ہے۔ یاد رہے حضرت سخی سلطان باھوؒ کی تعلیمات کے مطابق مرشد کامل اکمل ہی علمائے کامل یعنی علمائے باعمل ہیں۔
6۔چھٹا شیطانی حربہ یہ ہے کہ شیطان طالب سے کہتا ہے ’’ تیرے مرشد سے تیرا مرتبہ بلند ہو گیا ہے اس لیے اپنے مرتبے کو مد ِنظر رکھ۔‘‘ پھر مختلف شیطانی تماشے دکھا کراُسے اس طرح قائل کرتا ہے کہ وہ اس بات کو مانتا بھی ہے اور اس کا اظہار بھی کرتا ہے اس طرح اُسے بارگاہِ مرشد میں مردود کروا دیتا ہے۔
حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
٭ مرشد کامل ’’عبودیت ‘‘ سے معرفتِ الٰہی کھول کر ربوبیت کا مشاہدہ کراتا ہے۔ مرشد وہ ہے جو مشقِ مرقومِ وجودیہ، تصورِ اسمِ اللہ  ذات اور کلید کلمہ طیباتلَآ اِلٰہَ اِلاَللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہُ  کی حاضرات سے طالبِ صادق پر سالہا سال نہ کھلنے والے جملہ مراتب پہلے ہی روز کھول دیتا ہے تاکہ اس کا وجود پختہ ہو جائے اور اگر عطا کرنا چاہے تو پل بھر میں باطن کھول کر اسے معرفتِ الٰہی بخش دے۔ (کلید التوحید)
یعنی راہِ فقر میں طالب جو کامیابی، ترقی اور مقام حاصل کرتا ہے وہ صرف اور صرف مرشد کی عطا کی بدولت ہے اس میں طالب کا اپنا کوئی کمال نہیں۔ لیکن جیسے ہی اللہ اپنے لطف و کرم کا اظہار کرتا ہے اور باطن میں دیدارِ الٰہی حاصل ہوتا ہے اور تو شیطان بہکا دیتا ہے کہ یہی آخر ی مقام ہے اس سے آگے کچھ نہیں۔ تم نے دیدارو قربِ الٰہی کا اعلیٰ ترین مقام حاصل کر لیا تو اب تم اور تمہارا مرشد ایک ہی مقام پر آ گئے یعنی برابر ہو گئے۔ جیسے ہی طالب خود کو مرشد کے برابر سمجھنے کا گناہ کرتا ہے تو ادب و احترم بھول جاتا ہے اور اطاعت گزاری کرنے کی بجائے چاہنے لگتا ہے کہ مرشد اس کی مرضی کے مطابق چلے۔ جیسے ہی عاجزی اور احترام ختم ہوا مرشد کی بارگاہ میں ذلیل وخوار ہو جاتا ہے اور بے ادبی و نافرمانی نے ہی شیطان کو علمِ حضوری سے دور کر کے ذلت کی گہرائیوں میں پھینک دیا تھا۔
7۔ ساتواں شیطانی حربہ یہ کہ شیطان طالب سے کہتا ہے کہ اب تُو اَنَا اَنْتَ وَ اَنْتَ اَنَا کے مقام پر پہنچ گیا ہے اب تجھے عباداتِ ظاہری اور تصور اسمِ اللہ  ذات کی کیا حاجت ہے ؟ کہ اسمِ اللہ  ذات تو محض نام ہے اور تیراکام صرف دیدار کرنا ہے۔

اَنَا اَنْتَ وَ اَنْتَ اَنَا  یعنی ’’تُو مَیں ہے اور مَیں تُو ہوں‘‘ باطن کا انتہائی مقام ہے جہاں اللہ کا کامل وصال نصیب ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر ہی انسان، انسانِ کامل کہلاتا ہے۔ دنیا میں ایک وقت میں ایک ہی انسانِ کامل ہوتا ہے جو کہ مرشد کامل اکمل ہوتا ہے۔ مرشد اپنی مرضی اور طالب کی استطاعت کے مطابق اس کو اللہ کی کسی نہ کسی صفت سے متصف ضرور کرتا ہے۔ لیکن بے شمار صفات میں سے کسی ایک صفت یا چند صفات سے متصف ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ میں اور تو کا فرق ہی ختم ہو جائے۔ یہ تو مرشد کی مہربانی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ خود کو کامل سمجھنے کا احساس طالب کے اندر صرف اور صرف تکبر ہی پیدا کرتا ہے اور مرشد سے دوری کا باعث بنتا ہے اس لیے راہِ فقرمیں مقام و مرتبہ پر نظر رکھنا پسند نہیں کیا گیا۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’حضور ی میں طلبِ وصل بھی شرک و ہوا ہے۔‘‘
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے بیان کردہ ان سات شیطانی حربوں کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ شیطان کا اصل مقصد طالبِ مولیٰ کو مرشد کی بارگاہ سے ذلیل و خوار کروا کر مرشد سے علیحدہ کروانا ہے۔ کیونکہ وہ بخوبی جانتا ہے کہ مرشد ہی وہ واحد ذات ہے جو مرید کو شیطانی حملوں سے بچا کر واصل باللہ کروا سکتا ہے۔ لیکن اگر طالب سچا ہو اور اس نے کسی کامل مرشد کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی ہو تو وہ شیطان لعین و زندیق کے ہر حربے کو بخوبی سمجھ جاتا ہے اور خود کو مرشد کی رضا کے حوالے کر دیتا ہے۔ جو بے ادب مرید شیطانی حربوں کا شکار ہو کر مرشد سے دوری اختیارکرتا ہے وہ رجعت کھا کر پریشان اہل ِ بدعت ہو جاتا ہے اور خواہشاتِ نفس سے مغلوب ہو کر طالبِ شیطان بن جاتا ہے۔
سلطا ن العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’اسمِ اللہ  ذات پاک واعظم ہے جو وجودِ معظم، اخلاصِ خاص اور عطائے مرشد کے بغیر نہ تو تاثیر کرتا ہے نہ قرار پکڑتا ہے اور نہ ہی نفع دیتا ہے۔‘‘
نفس اور شہوت جن کا سہارا لے کر شیطان طالب ِ مولیٰ کو بہکاتا ہے‘ اللہ ہی کی پیدا کردہ مخلوق ہیں۔ اگر ایسا ہے تو اللہ نے انہیں کیوں پیدا کیا؟
یاد رہے اس دنیا کی ہر چیز اللہ نے اپنے لیے پیدا کی ہے۔ جیسے ہی انسان ان کا استعمال دنیا کے لیے کرتا ہے وہ اللہ سے دور ہو جاتا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’ عارفوں میں بھی شہوت ہوتی ہے لیکن ان کی شہوت نورِ حضور کے شوق اور برکت ِ الٰہی کی پیدا وار ہوتی ہے۔ جو شہوتِ نفس ( امارہ ) کو اپنے قابو میں رکھتی ہے۔‘‘
اور نفس کو اللہ پاک نے اس لیے پیدا فرمایا کہ اس کے ذریعے طالبوں کو آزما سکے۔ امتحانات سے گزرے بغیر کوئی بھی طالب فقر کو نہیں پا سکتا۔ جیسے جیسے نفس آزمائشوں کی بھٹی میں جلتا ہے ویسے ویسے امارہ سے مطمئنہ ہوتا جاتا ہے۔ اور نفسِ  مطمئنہ اللہ کا پسندیدہ ہے۔
طالبِ مولیٰ کو چاہیے کہ وہ ظاہر و باطن میں ہوشیار رہے تاکہ جان سکے کہ جو شہوت اس کے اند جاگ رہی ہے وہ عطائے الٰہی ہے یا نفسانی۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’عارفانِ الٰہی نورِ وحدت میں غرق رہتے ہیں اور استغراق کے باوجود ہوشیار رہتے ہیں۔ مرشد کے قرب کی بدولت شیطان کے حملوں سے محفوظ رہتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ پاک فرماتا ہے :
’’ اے شیطان! بے شک میرے بندوں پر تیرا داؤ نہیں چلے گا اور تیرا ربّ کافی ہے کام بنانے کو۔‘‘ (سورۃ الرحمن)
موجودہ دور میں سلسلہ سروری قادری کے شیخِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فیضِ فقر کو دنیا بھر میں عام فرما رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے لاکھوں طالبانِ مولیٰ کو راہِ فقر پر گامزن فرمایا ہے اور بے شمار طالبانِ دنیا کو طالبانِ مولیٰ بنا کر معرفتِ الٰہی سے سرفراز فرمایا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے دستِ اقدس پر ہزاروں غیر مسلم اسلام قبول کر کے راہِ فقر پر گامزن ہو چکے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کے کامل تصرف کی نشانی یہ ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس ہر لمحہ اپنے مریدین کی خبرگیری کرتے ہیں اور ہر نفسانی چال اور حملے سے طالب کو محفوظ رکھتے ہیں۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نفسانی چالوں اور شیطانی حربوں سے بچاؤ کے لیے ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات عطا فرماتے ہیں۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے دعوتِ عام ہے کہ اس فانی دنیا کی زیب و زینت اور نفسانی خواہشات سے کنارہ کشی کرنے کے لیے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کے دامن سے وابستہ ہو کر ذکر و تصور اسم اللہ ذات حاصل کریں اور راہِ فقر اختیار کریں کیونکہ یہی فلاح اور کامیابی کا راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شیطانی حربوں کو سمجھ کر ان سے بچنے اور ہمیشہ مرشد کامل اکمل کی بارگاہ میں عاجزی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں