شفاعت | Shifat

شفاعت .Shifat

تحریر: محترمہ نورین سروری قادری ۔ سیالکوٹ

شفاعت (Shifat) کا مادہ ’شفع‘ ہے جس کے معنی ہیں ’’ایک چیز کو اس جیسی دوسری چیز سے ملا دینا۔‘‘ شفاعت (Shifat) کا مطلب ہے کسی کمزور آدمی کی مدد کے لئے بڑے آدمی کا ساتھ مل جانا یا دوسرے لفظوں میں سفارش کرنا۔ سفارش میں سفارش کرنے والا چونکہ حاجت مند کا جوڑ بن جاتا ہے اس لیے عربی میں اسے ’’شَفِیعٌ‘‘ کہتے ہیں اور جس کے لئے سفارش کی جائے اسے ’’مَشفُوع ‘‘ کہتے ہیں۔
روزِ قیامت گناہ گار آدمی کی مغفرت اور بخشش کے لئے نبی، ولی یا فرشتے کی سفارش کو شفاعت (Shifat) کہتے ہیں۔
امام راغب اصفہانیؒ شفاعت کے بارے میں لکھتے ہیں ’’کسی ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ اس طرح ملا لینا کہ دوسری چیز اس کی مدد کرے اور پہلی اس سے سوال کرے، یہی شفاعت (Shifat) ہے۔‘‘
مزید لکھتے ہیں:
’’لفظ شفاعت (Shifat) کو عام طور پر مرتبہ و مقام میں بلند درجہ شخص کو اس سے کم درجہ شخص کے ساتھ ملانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘ (المفردات فی غریب القران)
عرفِ عام میں شفاعت (Shifat) کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ شفاعت کرنے والا اپنی شخصیت اور اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ماتحت لوگوں کی سزا کے بارے میں صاحبِ قدرت شخص کا نظریہ بدل دے۔ اسی طرح اپنے اثر ورسوخ سے کام لینا جب کہ اس کا لحاظ رکھا جاتا ہو یا جب لوگ اس سے خوف زدہ ہوں یا پھر کسی پر نوازشات کے ذریعے اثر ڈالنا یا کبھی مجرم کے گناہ اور استحقاقِ سزا سے متعلق فکری بنیادوں کو بدل دینا وغیرہ۔
شفاعت (Shifat) مکتبِ تربیت ہے۔ گنہگاروں اور آلودہ افراد کی اصلاح، بیداری اور آگاہی کا وسیلہ ہے۔ شفاعت (Shifat) امرِحق اور نورِ توحید ہے۔ شفاعت (Shifat) اُمتِ مسلمہ پر اللہ پاک کا احسانِ عظیم ہے اس نے وہ جلیل القدر، بلند پایہ اور عظیم المرتبت رسول بھیجا جو مقامِ محبوبیت پر فائز ہے جس کے طفیل روزِ قیامت عذابِ جہنم کے مستحق خطا کاروں اور گنہگاروں کو جنت کا حق دار بنا دیا جائے گا۔
شفاعت (Shifat) اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کو مقام اور اعزاز بخشا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے خطاکار بندوں کی شفاعت (Shifat) کریں گے اور اللہ پاک اپنے خاص بندوں کی شفاعت (Shifat) کو قبول فرمائے گا۔ سفارش کی ابتدا آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام (Hazrat Muhammad pbuh) کی شفاعت (Shifat) سے ہو گی۔ آپ کی اس ابتدائی شفاعت (Shifat) کو شفاعتِ کبریٰ یا شفاعتِ عظمیٰ کہا جاتا ہے۔ آپ کی شفاعتِ عظمیٰ کے بعد دیگر انبیا، صلحا اور اولیا کی شفاعت (Shifat) شروع ہو گی۔
شفاعت (Shifat) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بلند اور عظیم الشان مرتبہ ہے جو روزِ محشر اللہ ربّ العزت کی جانب سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Muhammad pbuh) کو عطا کیا جائے گا۔ شفاعت (Shifat) بنیادی عقائد میں سے ہے۔ روزِ محشر جب ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہو گا اس وقت بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Hazrat Muhammad pbuh) کی زبانِ اقدس پر یاربی امتی یا ربی امتی کے الفاظ ہوں گے اور اللہ رب العزت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Hazrat Muhammad pbuh) کو مقامِ محمود پر فائز فرما کر آپ کی رضا چاہے گا۔

شفاعت قرآن کی روشنی میں

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اس دن سفارش سود مند نہ ہو گی سوائے اس شخص (کی سفارش) کے جسے (خدائے) رحمن نے اذن (و اجازت) دے دی ہے اور جس کی بات سے وہ راضی ہو گیا ہے (جیسا کہ انبیا و مرسلین ،اولیا اور متقین وغیرہ)۔ (سورۃ طٰہٰ۔109)
(روزِ قیامت) کوئی لب کشائی نہ کر سکے گا سوائے اس شخص کے جسے (خدائے) رحمان نے اذن (شفاعت) دے رکھا تھا۔ (سورۃ النبا۔38)
سورۃ بنی اسرائیل آیت 79 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور رات کے کچھ حصہ میں (بھی قرآن کے ساتھ شب خیزی کرتے ہوئے) نمازِ تہجد پڑھا کریں یہ خاص آپ کے لئے زیادہ (کی گئی) ہے، یقینا آپ کا ربّ آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا (یعنی وہ مقامِ شفاعتِ عظمٰی جہاں جملہ اوّلین و آخرین آپ کی طرف رجوع اور آپ کی حمد کریں گے)۔
مندرجہ بالا آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ پاک روزِ قیامت اپنے محبوب پیغمبر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو شفاعتِ عظمیٰ کے منصبِ جلیلہ پر فائز فرمائے گا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
کون ایسا شخص ہے جو اس کے حضور اس کے اذن کے بغیر سفارش کر سکے۔ (سورۃ البقرہ۔255)
امام خازن اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے امر اور ارادہ کے بغیر کوئی شفاعت (Shifat) نہیں کر سکے گا۔یہ اس لئے کہ مشرکین کا گمان تھا کہ بت ان کی شفاعت (Shifat) کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کی شفاعت (Shifat) نہیں سوائے ان کے جن کو اللہ تعالیٰ نے اِلَّا بِاِذنِہٖ  کے ساتھ مستثنیٰ کر دیا ہے، اس سے مراد حضور نبی اکرمؐ، بعض انبیاکرام، ملائکہ اور مقرب مومنین (اولیا اللہ) کی دوسرے مومنین کے لئے شفاعت (Shifat) ہے۔

بعض نادان اور بے شعور لوگ شفاعت (Shifat) کو دنیاوی لحاظ سے دیکھتے ہوئے شفاعت (Shifat) کا انکار کرتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں جہاں کہیں سفارش اور شفاعت (Shifat) کا نفی میں ذکر آیا ہے وہ کفار و مشرکین کے لئے ہیں جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور آپ ان کو قریب آنے والی آفت سے ڈرائیں جب ضبطِ غم سے کلیجے منہ کو آئیں گے۔ ظالموں کے لیے نہ کوئی مہربان دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے۔ (سورۃ المومن۔18)
سو (اب) شفاعت (Shifat) کرنے والوں کی شفاعت (Shifat) انہیں کوئی نفع نہیں پہنچائے گی۔ (سورۃ المدثر۔48)

شفاعت احادیث کی روشنی میں 

حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Muhammad pbuh) نے فرمایا’’مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں تھیں۔ ایک مہینہ کی مسافت سے رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور تمام زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکی کے لائق بنائی گئی پس میری امت کا جو انسان نماز کے وقت کو (جہاں بھی) پالے اسے وہاں ہی نماز ادا کر لینی چاہیے اور میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا ہے۔ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے بھی حلال نہ تھا اور مجھے شفاعت (Shifat) عطا کی گئی۔ اور تمام انبیا اپنی اپنی قوم کے لیے مبعوث ہوتے تھے لیکن میں تمام انسانوں کے لیے عام طور پر نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘ (بخاری)

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Muhammad pbuh) نے فرمایا ’’مجھے اختیار دیا گیا کہ چاہے میں (قیامت کے روز) شفاعت (Shifat) کا حق اختیار کروں یا میری آدھی امت بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو جائے۔ پس میں نے شفاعت (Shifat) کو اختیار کر لیا کیونکہ وہ عام تر اور زیادہ کفایت کرنے والی ہے۔ تمہارے خیال میں وہ پرہیزگاروں کے لئے ہو گی؟ نہیں بلکہ وہ گناہ گاروں، خطاکاروں اور گناہوں سے آلودہ لوگوں کے لئے ہے۔‘‘ (ابنِ ماجہ 4311)

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’ہر نبی کے لئے کوئی ایک مقبول دعا تھی جسے اس نے اپنی امت کے لئے کیا اور بے شک میں نے اپنی اس دعا کو قیامت کے دن امت کی شفاعت کے لیے مخصوص کر دیا ہے۔‘‘ (مسلم200)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  (Hazrat Muhammad pbuh) نے فرمایا ’’میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہے۔‘‘ ( ترمذی2435)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Muhammad pbuh) نے فرمایا ’’میں اپنی امت کے لئے شفاعت (Shifat) کرتا رہوں گا حتیٰ کہ میرا ربّ مجھے ندا دے کر پوچھے گا: محمدؐ کیا آپ راضی ہو گئے؟ چنانچہ میں عرض کروں گا :ہاں میں راضی ہو گیا۔‘‘ (طبرانی 2084)

شفاعت کی اقسام

شفاعت (Shifat) کی دو اقسام ہیں:
1۔شفاعت فی الدنیا
2۔شفاعت فی الاخرۃ

شفاعت فی الدنیا:

اس سے مراد دنیا میں کی جانے والی شفاعت ہے جسے سفارش سے تعبیر دی گئی ہے۔ شفاعت (Shifat) فی الدنیا کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:
جو شخص کوئی نیک سفارش کرے اس کے لئے اس (کے ثواب) سے حصہ (مقرر) ہے اور جو شخص کوئی بری سفارش کرے اس کے لئے اس (کے گناہ) سے حصہ (مقرر) ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۃ النسا۔85)
مندرجہ بالا آیتِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں اچھی سفارش پر اچھا اجر ملے گا اور غلط اور بری سفارش کرنے پر سزا ملے گی۔ قرآن نے دونوں صورتوں کی وضاحت فرما دی ہے لہٰذا غلط سفارش کی بنا پر درست سفارش کا انکار عدل کے منافی ہے۔

شفاعت فی الاخرۃ:

جس طرح دنیا میں شفاعت (Shifat) جائز ہے اسی طرح آخرت میں بھی شفاعت جائز ہے۔ اس کی بھی دو اقسام ہیں:
ا۔ شفاعتِ کبریٰ
ب۔ شفاعتِ صغریٰ

ا۔شفاعتِ کبریٰ:

مقام محمود ہی مقامِ شفاعت (Shifat) ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یقینا آپ کا ربّ آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔97)
مقامِ محمود وہ بلند و بالا مقام ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شفاعت فرمائیں گے۔ اللہ پاک کی جملہ مخلوق آپؐ کی تعریف میں رطب اللسان ہوگی اور آپؐ کی طرف رجوع کرے گی۔ اسی رفیع الشان مقام پر شانِ مصطفیٰؐ کا پورا پورا ظہور ہو گا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے ’’قیامت کے روز لوگ گروہ در گروہ اپنے اپنے نبی کے پیچھے چلیں گے اور عرض کریں گے: اے فلاں! ہماری شفاعت (Shifat) فرمائیے۔ اے فلاں! ہماری شفاعت (Shifat) فرمائیے۔ حتیٰ کہ شفاعت کا سلسلہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Muhammad pbuh) پر آکر ختم ہو جائے گا۔ یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Muhammad pbuh)  کو مقام محمود عطا فرمائے گا۔‘‘ (بخاری۔کتاب التفسیر)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’مقامِ محمود سے مراد مقامِ شفاعت (Shifat) ہے۔‘‘ (مسند احمد 478)
حضرت کعب بن مالکؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Muhammad pbuh) نے فرمایا ’’روزِ قیامت جب لوگوں کو اٹھایا جائے گا تو میں اور میری امت ایک ٹیلے پر جمع ہوں گے، پس میرا پروردگار مجھے سبز رنگ کا لباسِ فاخرہ پہنائے گا، پھر مجھے اذن دیا جائے گا تو میں رب العزت کی منشا کے مطابق حمد و ثنا کروں گا۔ پس یہی مقامِ محمود ہے۔‘‘ (المستدرک، مسند احمد)

وسعتیں  دی  ہیں  خدا  نے دامنِ  محبوب  کو
جرم کھلتے جائیں گے اور وہ چھپاتے جائیں گے

ب۔شفاعتِ صغریٰ:

شفاعتِ صغریٰ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علاوہ تمام انبیا کرام، اولیا، صلحا، علما اور شہدا کو حاصل ہو گی جو اپنے اپنے درجے اور مرتبے کے مطابق شفاعت (Shifat) کریں گے۔

شفاعت فی الاخرۃ کی شرائط

شفاعت (Shifat) فی الاخرۃ کی چار شرائط ہیں:

۱۔قدرۃ الشافع علی الشفاعہ (شفاعت کرنیوالا شفاعت پر قدرت و اختیار رکھتا ہو):

شفاعت (Shifat) کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ شفاعت کرنیوالا شفاعت (Shifat) پر قدرت و اختیار رکھتا ہو یعنی اگر کسی کو شفاعت (Shifat) کرنے کا اختیار ہی نہیں دیا گیا تو صاف ظاہر ہے کہ وہ شفاعت نہیں کر سکتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(اس دن) لوگ شفاعت (Shifat) کے مالک نہ ہوں گے سوائے ان کے جنہوں نے (خدائے) رحمن سے وعدۂ شفاعت (Shifat) لے لیا ہے۔ (سورۃ مریم۔87)

۲۔الاذن للشافع (شفاعت کرنیوالے کے لئے اذن و اجازت ہو):

شفاعت (Shifat) کرنے والے کو اللہ ربّ العزت کی بارگاہ سے شفاعت (Shifat) کا اذن مل چکا ہو تبھی اس کی شفاعت قبول ہو گی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
کون ایسا شخص ہے جو اس کے حضور اس کی اذن کے بغیر سفارش کر سکے۔(سورۃ البقرہ۔255)
(اس کے حضور) اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں۔ (سورۃ یونس۔3)

شفاعت کے دو درجے ہیں:
ا۔اذنِ شفاعت:یہ اذنِ شفاعت (Shifat) اللہ پاک نے اپنے برگزیدہ بندوں کو دنیا میں ہی عطا فرما دیا ہے۔
ب۔اذنِ کلام:قیامت کے دن جب اللہ پاک کے جلال اور ہیبت کے سامنے کسی کے بولنے کی مجال نہ ہو گی اس وقت فقط وہی بات کریں گے جن کو اللہ پاک کلام کرنے کا اذن دے گا۔

۳۔ اسلام المشفوع لہ (جس کے لئے شفاعت کی جائے وہ مسلمان ہو):

شفاعت (Shifat) کے لئے مسلمان ہونا شرط ہے۔ قرآنِ کریم میں جہاں بھی شفاعت کی نفی کی گئی ہے اس سے مراد کفار و مشرکین ہیں۔ اہلِ ایمان کے لئے کسی ایک جگہ بھی شفاعت کی نفی نہیں کی گئی۔
اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی جان کسی دوسری جان کی طرف سے کچھ بدلہ نہ دے سکے گی اور نہ اس کی طرف سے (کسی ایسے شخص کی) کوئی سفارش قبول کی جائے گی (جسے اذنِ الٰہی حاصل نہ ہوگا) اور نہ اس کی طرف سے (جان چھڑانے کے لئے) کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ (امرِ الٰہی کے خلاف) ان کی امداد کی جا سکے گی۔ (سورۃ البقرہ۔48)

۴۔الرضا عن المشفوع لہ (جس کے لئے شفاعت کی جائے اس کے حق میں اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے):

شفاعت کی چوتھی شرط کے مطابق جس کی شفاعت کی جائے اس کے حق میں اللہ پاک بھی راضی ہو۔ اللہ پاک کی رضا کے بغیر اس کی شفاعت (Shifat) ممکن ہی نہیں۔ شفاعت (Shifat) کرنے والے کو شفاعت کرنے کا اختیار بھی اللہ پاک کی عطا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور وہ (اس کے حضور) سفارش بھی نہیں کرتے مگر اس کے لئے (کرتے ہیں) جس سے وہ خوش ہو گیا ہو۔ (سورۃ الانبیا۔28)
ہمارا عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن انبیا، آئمہ معصومین علیہم السلام اور اولیا اللہ خدا کے اذن سے گناہ گاروں کی شفاعت (Shifat) فرمائیں گے اور خدا کی بخشش انہیں نصیب ہو جائے گی۔ یہ بات یاد رہے کہ یہ اجازت فقط ان لوگوں کے لیے ہوگی جنہوں نے اللہ اور اولیا اللہ سے اپنا رابطہ قائم رکھا ہوگا۔ لہٰذا شفاعت (Shifat) مشروط ہے۔ یہ بھی ہماری نیتوں اور اعمال سے ایک طرح کا تعلق رکھتی ہے۔ (شفاعت کا بیانِ، محمد اقبال کیلانی)

قیامت کے دن شفاعت ہر شخص کے لئے وہ بھی جس طرح چاہے، نہیں ہے بلکہ شفاعت (Shifat) خداوند ِعالم کی مشیت کے اعتبار سے ہے جو ان اعمال کی جز ا ہے جنہیں خداوندِعالم نے اسبابِ شفاعت (Shifat) قرار دیا ہے جیسے یہ کہ کسی مسلمان بندہ نے کسی واجب کے بارے میں کوتاہی کی ہو اور دوسری طرف اپنی دنیاوی زندگی میں تہہ ِدل سے اللہ کے رسولؐ اور اہلِ بیتؓ کا دوست رہا ہو نیز انہیں اس لئے دوست رکھتا تھا کہ وہ خدا کے اولیا ہیں یا یہ کہ کسی عالم کا اس لحاظ سے اکرام و احترام کرتا کہ وہ اسلام کا عالم ہے یا کسی صالح مومن کے ساتھ نیکی کی ہو جو بعد میں درجہ شہادت پر فا ئز ہوا ہو، خداوندِعالم بھی اسے اس قلبی محبت اور عملی اقدام کی بنا پر جزا دے گا تا کہ ا س واجب کے سلسلے میں جو کوتاہی کی ہے اسکی تلافی ہو جائے۔ ٹھیک اس کے مقابل یہ بات بھی ہے کہ برُے اعمال اور گناہوں کے آثار نیک اعمال کی جزا کو تباہ وبرباد کر دیتے ہیں۔

شفاعت کی جہتیں

اللہ پاک اپنے مقرب بندوں کو جو مقامِ شفاعت عطا فرمائے گا اس کی تین جہتیں ہیں:

۱۔شفاعت بالوجاہت:

انسانوں میں درجے کے اعتبار سے سب سے اونچا درجہ انبیا کرام کا ہے پھر صالحین، مومنین اور پھر عام اہلِ ایمان کا ہے اور سب سے بڑھ کر ابتدائے آفرینش سے ابدالاباد تک مقام و مرتبہ اور عزت و احترام ہمارے آقا و مولا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Muhammad pbuh) کو حاصل ہے اور روزِ قیامت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Muhammad pbuh) کو شفاعت ِکبریٰ کے مرتبہ پر فائز کیا جائے گا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے علاوہ دیگر انبیا، صالحین اور مومنین بھی اپنے اپنے درجوں میں شفاعت کریں گے۔
سب سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شفاعت (Shifat) کریں گے۔ حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Muhammad pbuh) نے فرمایا ’’قیامت کے روز میں بنی آدم کا سردار ہوں گا اور اس پر کوئی فخر نہیں۔ سب سے پہلے میری قبر شق ہو گی اور میں یہ بات فخر سے نہیں کہہ رہا (بلکہ حقیقت بیان کر رہا ہوں) نیز سب سے پہلے میں سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش قبول کی جائے گی اور اس کا ذکر فخر کے طور پر نہیں کر رہا۔ قیامت کے روز حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا اور میں یہ بات فخر سے نہیں کہہ رہا۔‘‘ (ابن ِماجہ)
قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہر نبی کو جھنڈا عطا فرمائے گا جس کے نیچے اس کی امت جمع ہو گی سید الانبیا حضرت محمد (Prophet Muhammad pbuh) کے جھنڈے کا نام ’’حمد‘‘ ہو گا جو سب سے اعلیٰ اور اونچا ہو گا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شفاعت (Shifat) کے بعد دیگر انبیا کرام، ملائکہ اور مومن لوگ شفاعت (Shifat) کریں گے۔ انبیا و صالحین جو شفاعت کریں گے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے اپنے بندوں کو اپنے ہاں جو وجاہت اور بلند مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے۔ اللہ پاک اپنے مقرب ومحبوب بندوں کا لحاظ فرماتا ہے، یہ اس کا خاص فضل و کرم ہے وہ ان کی شفاعت (Shifat) قبول فرماتا ہے۔

۲۔شفاعت بالمحبت :

شفاعت بالمحبت شفاعت (Shifat) کا وہ درجہ ہے جو اس امر کامتقاضی ہے کہ جس کے پاس سفارش کی جا رہی ہو اسے سفارش کنندہ سے حد درجہ محبت ہو۔ آقائے دو جہان (Prophet Muhammad pbuh) وہ عظیم المرتبت ہستی ہیں جو خالقِ کائنات کو تمام کائنات میں ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں اور اللہ تعالیٰ خود آپ کی رضا کا طالب ہے جبکہ دنیاو ماسویٰ کی ہر شے اس کی رضا طلبی پر مامور ہے۔
اللہ پاک کے محبوب بندوں کی شان یہ ہے کہ وہ ان کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے اور جس بات کی انہوں نے قسم کھائی ہے اسے پورا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے نیک اور صالح بندوں سے پیار اور محبت کا تقاضا ہے کہ وہ ان کی دلجوئی فرماتا ہے اور انہیں عطاؤں سے نوازتا ہے۔

۳۔شفاعت بالاذن:

اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے انبیا کرام، صالحین، مومنین اور متقین روزِ قیامت خطاکاروں اور مجرموں کے گناہوں کی مغفرت و بخشش کے لئے اللہ کے حضور شفاعت (Shifat) کریں گے اور یہ شفاعت (Shifat) کرنا ان کے مقام و مرتبہ اور عزت واحترام کی وجہ سے ہو گا جو اللہ پاک نے انہیں عطا فرمایا ہے اور دوسری مخلوق سے بلند فرما کر اپنی بارگاہ میں مقرب بنایا ہے۔ اور ان مقربین کا شفاعت (Shifat) کرنا اللہ پاک کی اجازت اور تائید سے ہی ہے۔(کتاب الشفاعۃ، ڈاکٹر طاہر القادری)

شفاعت اور وسیلہ

قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے مسلمانوں کو نجات کے لئے وسیلہ پکڑنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو،اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو، امید ہے تم کامیاب ہو جاؤ گے۔ (سورۃ المائدہ۔35)
آیتِ کریمہ میں اللہ پاک نے نجات کے لیے تین باتوں کا حکم دیا ہے۔ اوّل تقویٰ اختیارکرنا، دوم وسیلہ تلاش کرنا، سوم اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ وسیلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے کسی ایسی ہستی کو وسیلہ بنایا جائے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب اور پسندیدہ ہو۔ وسیلہ سے مراد انبیا، اولیا، صلحا اور شہدا کا وسیلہ ہے جو قیامت کے روز اللہ کے اذن سے ہماری شفاعت کریں گے۔ اللہ کی راہ میں جہاد سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کے دشمنوں سے جنگ کرنا۔ اس میں ظاہری اور باطنی دونوں طرح کے دشمن شامل ہیں۔ ظاہری دشمن منکرِخدا، منکرِ رسولؐ اور اللہ تعالیٰ کے نافرمان اور پر فتنہ و فساد برپا کرنے والے کفار اور مشرکین ہیں۔ اللہ پاک کا باطنی دشمن ابلیس ہے جو انسان کو راہِ حق سے بھٹکانے کے لیے نفس اور دنیا کو استعمال کرتا ہے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (Prophet Muhammad pbuh) نے نفس سے جنگ کر کے اس کا تزکیہ کرنے کو جہادِ اکبر کا نام دیا ہے اور جب نفس تمام بیماریوں اور بتوں سے نجات پا لیتا ہے تواس کا تزکیہ ہو جا تا ہے۔(بحوالہ کتاب: تزکیہ نفس کا نبویؐ طریق)

خواجہ حسن بصریؓ فرماتے ہیں کہ خواہشاتِ نفس کی مخالفت کرنا افضل ترین جہاد ہے۔
نفس کی مخالفت کرنا ایک عام انسان کے لیے ممکن نہیں۔ نفس کو برائیوں سے پاک کرنے کے لئے مرشد کامل اکمل کی ضرورت ہوتی ہے جو نفس کو تمام بیماریوں، برائیوں، خواہشوں اور شہوات سے پاک فرما دے۔ مرشد کامل اکمل بھی وہ جو عین قدمِ محمدؐ پر ہو۔ مرشد کامل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا باطنی جانشین، نائب اور اُن کی امانتِ فقر کا وارث ہوتا ہے۔ دنیا میں ایک وقت میں ایک مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ  ہمیشہ موجود ہوتا ہے تاکہ طالبانِ مولیٰ کو ان کے ربّ سے ملا سکے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) موجودہ دور میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے باطنی و روحانی جانشین ہیں جو دنیا وآخرت میں طالبانِ مولیٰ کے لئے شفاعت (Shifat) کا وسیلہ ہیں۔ اللہ رب العزت تمام امتِ مسلمہ کو شفاعت (Shifat) کے تصور کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اندرونی تفرقہ پروری اور انتشار سے محفوظ رکھے۔ آمین

استفاد کتب:
۱۔تزکیۂ نفس کا نبویؐ طریق؛ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman)
۲۔کتاب الشفاعۃ؛ تصنیف ڈاکٹر طاہر القادری
۳۔کتاب التوحید؛ ایضاً
۴۔احسن الصناعۃ فی اثبات الشفاعۃ؛ ایضاً
۵۔شفاعت (Shifat) کا بیان۔محمد اقبال کیلانی
۶۔شفاعت کے متعلق40 حدیثیں از امام احمد رضا خان
۷۔المفردات فی غریب القران از راغب اصفہانی

 

29 تبصرے “شفاعت | Shifat

      1. وسعتیں دی ہیں خدا نے دامنِ محبوب کو
        جرم کھلتے جائیں گے اور وہ چھپاتے جائیں گے

  1. شفاعت (Shifat) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بلند اور عظیم الشان مرتبہ ہے

  2. خواجہ حسن بصریؓ فرماتے ہیں کہ خواہشاتِ نفس کی مخالفت کرنا افضل ترین جہاد ہے۔

  3. حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Hazrat Muhammad pbuh) نے فرمایا ’’میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہے۔‘‘ ( ترمذی2435)

    1. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) موجودہ دور میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے باطنی و روحانی جانشین ہیں جو دنیا وآخرت میں طالبانِ مولیٰ کے لئے شفاعت (Shifat) کا وسیلہ ہیں۔

  4. وسعتیں دی ہیں خدا نے دامنِ محبوب کو
    جرم کھلتے جائیں گے اور وہ چھپاتے جائیں گے

  5. قیامت کے دن حضور علیہ السلام شفاعت فرمائیں گے بلکہ شیطان بھی شفاعت کے لئے اپنی گردن کو بلند کرے گا

  6. سبحان اللہ۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی شفاعت ہی مطلوب و مقصود ہے۔ اعمال کا پلڑا خالی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں