نورِ یقین | Noor e Yaqeen

نورِ یقین . Noor-e-Yaqeen

تحریر: مسز عنبرین مغیث سروری قادری (ایم۔ اے ابلاغیات)

قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم فرماتا ہے:
  وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْن  (سورۃ الحجر۔99)
ترجمہ: اپنے پروردِگار کی عبادت اس حد تک کر کہ تو یقینِ کامل تک پہنچ جائے۔

 یعنی اللہ کی عبادت کا مقصود اس بات کا کامل یقین حاصل کرنا ہے کہ وہی خالق و مالک اور رازق و معبود ہے اور اس یقین تک پہنچنا ہے کہ وہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے اور بندے کے ہر ظاہری و باطنی عمل کو دیکھ رہا ہے۔ جس طرح ہر رشتے اور تعلق کی مضبوطی کی بنیاد یقین پر ہے اسی طرح اللہ سے رشتہ اور تعلق بھی اس یقین Yaqeen کی بنیاد پر ہی قائم ہوتا ہے۔ جس قدر یہ یقین کامل ہوگا اسی قدر اللہ سے رشتہ بھی مضبوط ہوگا کیونکہ یقین Yaqeen ہی ایمان ہے۔ اسلام میں یقین Yaqeen کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ ہے کیونکہ اسلام میں ایمان کا تعلق غیب سے ہے۔ غیب پر یقین Yaqeen رکھنا انسان کے لیے مشکل ہے کیونکہ انسان اس عالمِ ناسوت اور اس کی اشیا کو دیکھ کر، سن کر، چکھ کر یا اپنے دیگر حواسِ ظاہری کے ذریعے پہچان کر یقین Yaqeen کی منازل کو طے کرتا ہے۔ غیب تک پہنچنا اور پھر اس پر یقین کرنا ایک مشکل عمل ہے اور غیب تک پہنچے بغیر یقین کر لینا کمزور یقین Yaqeen ہے۔ قرآن ایک ظاہری حواس سے پڑھی اور سمجھی جانے والی کتاب ہے لیکن اس میں ہدایت ’’غیب‘‘ پر ایمان لانے والوں کے لیے ہے۔ قرآن کے آغاز میں اللہ پاک نے واضح طور پر فرما دیا ہے :
ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَارَیْبَ ج گ فِیْہِ ج ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ۔ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ    (سورۃ البقرہ۔2-3)
ترجمہ: (یہ قرآنِ کریم) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ اس میں ہدایت ہے (صرف) متقین کے لیے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔
یعنی ہدایت صرف تقویٰ والوں کے لیے ہے اور تقویٰ والے صرف وہ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ ’’غیب‘‘ پر ایمان ظاہری حواس کے استعمال سے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ظاہری حواس سے حاصل ہونے والی اطلاع عموماً ناقص ہی سمجھی جاتی ہے جب تک باطن سے قلب اس کی تصدیق نہ کردے جیسا کہ اکثر آنکھوں دیکھی چیز اور کانوں سنی بات پر یقین Yaqeen نہیں آتا جب تک دِل اسے ماننے کو تیار نہ ہو۔ ’’دھوکہ‘‘ بھی ہمیشہ ظاہری حواس اور اعضا کو ہی استعمال کرکے دیا جاتا ہے نہ کہ باطنی حوا س سے ۔ چنانچہ یقین Yaqeen کرنا خواہ وہ کسی ظاہری شے پر ہو ، رشتے پر ہو یا غیب پر ہو دِل یعنی قلب کا کام یا صفت ہے ۔ دِل کے سوا اور کوئی عضو یقین Yaqeen دلانے کا کام نہیں کر سکتا۔ قلب کی ایک اور صفت یہ ہے کہ جب تک اچھی طرح جانچ پرکھ نہ لے یقین نہیں کرتا، اگر کرے تو وہ کمزور ہوتا ہے اور ذرا سے حالات کی تبدیلی پر ٹوٹ سکتا ہے۔ فقر وہ راستہ ہے جو اللہ کے خالص بندے کو غیب پر یقینِ کامل قلب کی مکمل تصدیق کے بعد دلاتا ہے۔ بندے کو عالمِ لاھوُت لامکان تک لے جا کر اس کی روحانی آنکھوں سے اسے اللہ پاک کا دیدار کرواتا ہے اور پھر بندہ اللہ کو جان کر، پہچان کر، دیکھ کر اس پر صدقِ دِل سے ایمان لاتا اور اس کے وجود، ذات و صفات پر یقین Yaqeen حاصل کرتا ہے۔ جیسے جیسے قرب بڑھتا ہے پہچان بڑھتی ہے، پہچان سے یقین Yaqeen بڑھتا ہے اور یقین Yaqeen سے ایمان پختہ اور اللہ سے رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ ایسا مضبوط رشتہ ہی مصائب و مشکلات میں صبر و استقامت عطا کرتا ہے، قربانی و وفا کی توفیق عطا کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر قرب و رضائے الٰہی عطا کرتا ہے۔ پس ’یقین Yaqeen‘ ایمان، استقامت، صبر، قرب اور رضا کی بنیاد ہے۔ اللہ کی ذات پر یقین کی مقدار ہی ان تمام لوازمِ دین کی مقدار طے کرتی ہے۔ جتنا اللہ پر یقین ہو گا اتنی ہی استقامت، صبر، قرب، رضا وغیرہ کی توفیق عطا ہو گی۔

یقین Yaqeen ایک نور  Noor ہے جس کی اصل عالمِ لاھوُت لامکان میں نورِ محمدی  ہے۔ جس طرح علم ایک نور  Noor ہے، عشق ایک نور ہے، توکل ایک نور  Noor ہے، ایمان ایک نور   Noorہے اسی طرح یقین بھی ایک نور  Noor ہے اور یہ تمام نور آپس میں مربوط ہیں اور ا ن کی اصل ایک ہی ہے یعنی نورِ محمدی۔ ایک نور میں اضافہ دوسرے نور Noor میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جس قدر علم بڑھتا ہے اسی قدر عشق بڑھتا ہے، اسی قدر یقین، توکل اور ایمان بڑھتا ہے۔ یہ تمام نور  Noor لاھوت لامکان سے پھوٹتے ہیں کیونکہ وہی ہر نورانی وجود کی ابتدا، سرچشمہ اور منبع و مصدر ہے۔ ہر روح میں یہ نور  Noor اسکے مقامِ قربِ خداوندی کے مطابق پھوٹتے ہیں۔ عالمِ ناسوت میں قید روح کو اس نور  Noor کا سب سے کم حصہ ملتا ہے کیونکہ وہ اپنے اصل وطن عالمِ لاھوت سے بہت دور ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عالمِ ناسوت کی بیشتر ارواح ان انوار سے بالکل محروم اندھیروں میں بھٹک رہی ہیں۔ جن ارواح کو شریعت پر ٹھیک سے عمل کرنے کی توفیقِ الٰہی حاصل ہوتی ہے وہ زائد عبادات کے ذریعے عالمِ ملکوت تک رسائی حاصل کرتی ہیں اور ان کے لیے اِن انوار میں قدرے اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہی انوار کی مدد سے وہ اپنا آگے کا سفر طے کر سکتی ہیں بشرطیکہ وہ عالمِ ملکوت کے حسین نظاروں میں گم نہ ہو جائیں۔ عالمِ جبروت میں پہنچنے پر ان انوار میں مزید اضافہ ہوتا ہے جبکہ عالمِ لاھوت لامکان میں پہنچنے اور استقامت سے وہاں ٹھہرے رہنے پر یہ انوار کامل ترین ہو جاتے ہیں اور پھر انہی انوار سے نورِ وھم(اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کرنے کی روحانی قوت) اور نورِ دیدارِ پروردِگار عطا ہوتے ہیں۔ اس وقت نورِ یقین  Noor-e-Yaqeen طالب کو اس غیبی ہم کلامی اور دیدارِ غیب کو سچ اور صحیح ماننے کی قوت عطا کرتا ہے۔ اگر اس موقع پر طالب کے پاس نورِ یقین  Noor-e-Yaqeen کی کمی ہو تو وہ یہاں تک رسائی حاصل کر کے بھی بے یقینی کی وجہ سے اپنے مقام سے گر جاتا ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ  (Hazrat Sultan Bahoo) فرماتے ہیں:
جو طالب آوازِ روحانی کا محرم ہو جائے اور اسے قربِ ربانی کے الہام بھی سنائی دینے لگیں مگر اسے اس پر یقین نہ آئے اور نہ اسے اسمِ اللہ ذات و مرشد کے فرمان پر یقین Yaqeen آئے تو سمجھ لیں کہ وہ خود پسند طالب ہے جو خواہشاتِ نفس کی قید میں ہے اور راہِ صفا نہیں پاسکتا۔ اس قسم کا طالب بے ادب و بے حیا بلکہ بے نصیب ہوتا ہے جو معرفتِ الٰہی سے محروم اور توحیدِ الٰہی سے دور رہتا ہے۔ (امیر الکونین)

یعنی انتہائی تگ و دو کے بعد حاصل ہونے والے قربِ الٰہی سے اگر کوئی شے محروم کر سکتی ہے تو وہ بے یقینی ہے اور اگر کوئی شے اس قرب کو اور مضبوطی عطا کرتی ہے تو وہ یقین ہے۔
نہ صرف معرفت کے انتہائی اعلیٰ مقامات پر یقین Yaqeen کا حصول ضروری ہے بلکہ عام زندگی اور ناسوتی معاملات میں بھی اللہ پر یقین ناگزیر ہے۔ جسے یقین نہ ہو کہ اسے ہر نعمت دینے والی ذات اللہ کی ہے، وہ ٹھیک سے ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ جسے یقین Yaqeen نہ ہو کہ وہ اللہ کی طرف سے آیا ہے اور اسے اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور اپنے اعمال کا جوابدہ ہونا ہے وہ نہ گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے نہ نیک اعمال کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے، یونہی جسے یقین نہ ہو کہ اللہ کا دیدار اور اللہ سے کلام بھی ممکن ہے وہ کبھی اس قدر قربِ الٰہی کی نہ تمنا کرتا ہے نہ ہی کوشش، پس اس عظیم نعمت سے محروم رہتا ہے۔ جسے یقین نہ ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیات کامل ہے، وہ ہمارے درود سنتے بھی ہیں، ان کا جواب بھی دیتے ہیں، اپنے دیدار سے بھی سرفراز فرماتے ہیں اور مشکلات میں اپنے امتیوں کی مدد بھی کرتے ہیں، اس کا درود بھی ادھورا، محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ناقص، ان کی پیروی بھی ناقص، پس ایمان بھی ناقص۔ اسی طرح جسے یقین Yaqeen ہی نہ ہو کہ روزِ قیامت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم گنہگاروں کی شفاعت کروائیں گے، وہ اس عظیم نعمت سے بھی محروم۔ پس یقین Yaqeen کیسا شاندار سرمایہ ہے کہ جس کے پاس ہے وہ کائنات کے مالدار ترین لوگوں میں شامل ہے اور جو اس سے محروم ہے وہ دنیاوی مال و متاع ہوتے ہوئے بھی، اور زائد عبادات کرنے کے باوجود مفلس ترین لوگوں میں شامل ہے۔ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
 جان لے کہ محبت، معرفت، طلب ِ الٰہی، ذکر فکر، حضور مذکور، الہاماتِ باطن، قربِ الٰہی اور فنا و بقا کے تمام مراتب کی جڑ یقین ہے۔

اصل یقین است یقین گر شود
کار تو از ہفت افلاک بگذرد 

ترجمہ: تیرا اصلی سرمایہ یقین Yaqeen ہے۔ اگر تجھے یہ حاصل ہو جائے تو تیرا معاملہ ساتوں آسمانوں سے بھی آگے نکل جائے۔

نورِ علم کی طرح نورِ یقین  Noor-e-Yaqeen بھی درجہ بدرجہ انسان کو حاصل ہوتا ہے اور یکدم اس کا حصول ناممکن ہے۔
یقین Yaqeen کے تین درجے بیان کیے گئے ہیں
(1) علم الیقین
(2) عین الیقین
(3) حق الیقین

علم الیقین، جو ایمان کا پہلا اور کمزور درجہ ہے، یہ ہے کہ انسان صرف کسی سے سن کر کسی بات پر یقین Yaqeen کر لے، نہ خود دیکھے نہ تحقیق کرے۔ ایسی حالت میں اس کا یقین Yaqeen بہت کمزور ہوگا۔ جیسا کہ عام مسلمان صرف دوسروں کے بتانے پر اللہ کے ہونے پر یقین Yaqeen کرتے ہیں اور اس یقین Yaqeen کی کمزوری کے باعث نہ گناہوں سے بچ پاتے ہیں نہ ہی اللہ کی صحیح عبادت کر پاتے ہیں۔ یقین و ایمان کا یہ درجہ اس وقت صحیح کہلا سکتا ہے جب خبر سن کر اس کی حقیقت خود اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور جاننے کا تجسّس پیدا ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس سے یہی مراد لیا جائے گا کہ انسان نے ایمان کے پہلے درجے تک بھی رسائی حاصل نہ کی اور اللہ کے متعلق ملنے والے علم کو کوئی اہمیت نہ دی اور غفلت کا مرتکب ہوا۔
عین الیقین یہ ہے کہ انسان کسی حقیقت کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ ایسے میں اس کا یقین کافی حد تک بڑھ جائے گا اور اس کا دل اس بات کی تصدیق کرے گا کہ اسے جو خبر دی گئی وہ سچ ہے۔ یہ ایمان کا بہتر درجہ ہے، جب ایک مسلمان اللہ کو دیکھ کر پہچانتا اور جانتا اور اس کی عبادت کرتا ہے اور ہر وقت اسے اپنی طرف دیکھتا ہوا اور قریب پاکر حتیٰ الامکان گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
حق الیقین یہ ہے کہ حقیقت کو صرف دیکھا نہ جائے بلکہ اس کی گہرائی تک اتر کر اس کے ہر پہلو کو شناخت کر لیا جائے اور اس کے متعلق ہر تفصیل کو نہ صرف مشاہدے بلکہ تجربے کی بنا پر اپنے قلب و ذہن میں اتار لیا جائے۔ اس مقام پر انسان خبر سننے والا نہیں بلکہ اپنے یقینِ کامل، ذاتی مشاہدے اور حقیقت کی کنہہ تک رسائی کی بنا پر خبر دینے والا بن جاتا ہے۔ حق الیقین تک وہ مومن پہنچتا ہے جو اللہ کی ذات کو اپنے اندر تحقیق کر لیتا ہے۔ اس کی حقیقت کو اپنی ذات میں خود محسوس کر لیتا ہے اور جان لیتا ہے کہ فاعلِ حقیقی صرف ذاتِ الٰہی ہے۔
یقین Yaqeen کے ان تین درجوں کو ایک مثال کے ذریعے واضح کیا جاسکتا ہے۔ ایک انسان جس نے کبھی سمندر نہ دیکھا ہو اسے الفاظ کے ذریعے کتنا بھی علم دیا جائے کہ سمندر بہت زیادہ وسیع اور گہرا ہوتا ہے، وہ سمندر کی وسعت اور گہرائی کی حقیقت کو کبھی جان نہ پائے گا۔ سمندر کے متعلق اس کا علم انتہائی ناقص ہوگا۔ اگر وہ انسان عقل و شعور رکھتا ہوگا تو لازماً اس علم کے حصول کے بعد اس میں سمندر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کا تجسس پیدا ہوگا اور وہ اس کے لیے کوشش کرے گا۔ جب یہ انسان خود اپنی آنکھوں سے سمندر کو دیکھے گا تو ہی وہ جان پائے گا کہ سمندر ہوتا کیا ہے۔ تب ہی سمندر کی وسعت اور گہرائی کے متعلق اس کا علم بہتر ہوگا اور اس کا دل اس بات کی تصدیق کرے گا کہ جو اسے بتایا گیا وہ کافی حد تک درست تھا لیکن جب وہ خود سمندر میں اترے گا تو ہی سمندر کے متعلق اس کا علم کامل ہوگا۔ وہ جان پائے گا کہ سمندر جیسا باہر سے دکھائی دیتا ہے اندر سے اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ جتنا وہ گہرائی میں اترتا جائے گا اتنا وہ سمندر کے متعلق جانے گا کہ اس کے اندر کیا کیا چھپا ہے۔ پھر وہ دوسروں کو اس کے متعلق خبر دینے کے لائق ہو جائے گا۔ یہ ہے یقین کا کامل درجہ جہاں اللہ سے عشق رکھنے والے، اس کی ذات میں خود کو فنا کر دینے والے اللہ کے دوست اور ولی پہنچتے ہیں۔ 

یقین Yaqeen کے یہ تینوں درجے اگر درست سمت میں ہوں تو طالب کی روحانی زندگی میں اہم ترین اور بنیادی کردار ادا کرتے ہیں بلکہ علم الیقین جو پہلا اور کمزور درجہ گردانا جاتا ہے، اسی کا درست ہونا سب سے زیادہ اہم ہے۔ جس کا علم الیقین درست ہوگا اسی کا عین الیقین اور حق الیقین درست ہوگا، یہ سیڑھی کے پہلے پائے کی طرح ہے۔ اگر یہی درست اور مضبوط نہ ہوگا تو بلندی پر پہنچنا ناممکن ہے۔ چنانچہ طالب کو سب سے پہلے اپنے علم الیقین کی درستی اور مضبوطی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اللہ اور دین کے متعلق قرآن اور احادیث و اقوالِ اولیا اللہ سے صحیح اور مستند علم حاصل کرنا چاہیے۔ علم کو چھانٹنا چاہیے کیونکہ کتب میں لکھی ہر بات درست نہیں ہوتی، گمراہ کن باتوں کو جو یقین کو کمزور کریں، دِل و دماغ میں ہرگز جگہ نہ دینی چاہیے۔ جب علم کی حد تک اللہ کے متعلق یقین Yaqeen حاصل ہو جاتا ہے تو پھر اسی علم کے مطابق مشاہدات ہوتے ہیں، جو سنا اور پڑھا ہوتا ہے انہی کا روز مرہ معاملات میں مشاہدہ ہونے لگتا ہے۔ یقین بڑھتا ہے کہ بیشک اللہ میرے دِل کے تمام حالات جانتا ہے، وہی مجھے مشکلات سے نکالتا ، میرے رزق کا بندوبست کرتا ہے، میرا دِل اس کی دو انگلیوں کے درمیان ہے جب چاہتا ہے سکون دیتا ہے جب چاہتا ہے بے چینی، یہ اور اسی طرح کے بیشمار مشاہدات نورِ یقین  Noor-e-Yaqeen میں اضافہ کرکے عین الیقین کی منزل پر پہنچاتے ہیں۔ عین الیقین کی منزل سے حق الیقین تک رسائی کے دوران انسان اپنے اندر اپنے اصل وجود نورِ محمدی کی حقیقت کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس حقیقت کا یقین Yaqeen حاصل کرتا ہے کہ اس کا وجود نورِ محمدی کے سمندر سے اٹھنے والی ایک لہر کی طرح ہے اور اس کی بقا اس سمندر میں لوٹ جانے میں ہی ہے ورنہ یہ فنا ہو جائے گا۔ پس اس کا علم مشاہدے کو جنم دیتا ہے اور مشاہدہ حقیقت کی طرف لوٹ جانے کی قوت عطا کرتا ہے۔ بالآخر وہ قطرے کی صورت سمندر میں فنا ہو کر سمندر کی حقیقت کو مقدور بھر پالیتا ہے اور حق الیقین کی اس منزل پر پہنچتا ہے جس کی انتہا نہیں۔ اس تفصیل سے ہمیں معلوم ہوا کہ علم الیقین مقامِ مجاہدہ ہے، عین الیقین مقامِ مشاہدہ ہے اور حق الیقین مقامِ فنا ہے۔

کشف المحجوب میں حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
علم الیقین علمائے اُمت کا مقام ہے (یعنی وہ علم الیقین تک محدود ہیں اور یہاں علما سے مراد علمائے حق ہیں جن کا علمِ حق درست ہے نہ کہ علمائے ظاہر یا علمائے سو) کیونکہ وہ ہی حق تعالیٰ کے احکام پر استقامت سے جمے رہتے ہیں۔ عین الیقین عارفانِ الٰہی کا مقام ہے کہ وہ ہر وقت موت کے لیے مستعد رہتے ہیں(مُوْ تُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا  یعنی نفس کی موت حاصل کرکے دیدارِ الٰہی حاصل کر لیتے ہیں) اور حق الیقین دوستانِ الٰہی کی فناگاہ ہے کہ وہی تمام موجودات سے اعراض کئے ہوئے ہیں۔پس علم الیقین محنت و مجاہدہ سے حاصل ہوتا ہے اور عین الیقین محبتِ الٰہی سے حاصل ہوتا ہے اور حق الیقین مشاہدۂ حق سے حاصل ہوتا ہے اور ان میں سے ایک (علم الیقین) عام ہے، دوسرا (عین الیقین) خاص ہے اور تیسرا (حق الیقین) خاص الخاص ہے۔‘‘ (کشف المحجوب)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ (Hazrat Sultan Bahoo) یقین کے ان درجات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
یقین Yaqeen ایک علم ہے کیونکہ عالم صاحبِ یقین Yaqeen اور جاہل (بے یقین ہونے کی بنا پر) بے دین ہوتا ہے۔ علمِ یقین تین قسم کا ہے اور اس کو تین نام دئیے گئے ہیں۔ اوّل علم الیقین جس کی بنا پر علما (ظاہری) علم سے یقین حاصل کرتے ہیں۔ دوم علم عین الیقین، جو مجذوبیت کا مرتبہ ہے۔ اس مرتبہ پر طالب صرف وہی مشاہدہ کرتا ہے جو ظاہری آنکھ سے نظر آتا ہے لیکن اپنے جسم و جان سے بے خبر رہتا ہے۔ وہ زیر و زبر کا مشاہدہ تو کرتا ہے لیکن خود سے انجان ہوتا ہے۔ سوم علم حق الیقین، جو مرتبہ محبوب و مرغوب کے عجائبات پر پہنچاتا ہے۔ طالبوں کو ان کا مطلوب حاصل ہو جاتا ہے کیونکہ حق الیقین حق ہے اور حق تک پہنچاتا ہے۔ اس مرتبہ پر طالب حق سے حق کو دیکھتا اور پاتا ہے اور خود کو درمیان سے نکال کر فنا کر لیتا ہے۔ (عقل ِ بیدار)

سورۃ التکاثر میں اللہ تعالیٰ نے اللہ پر ناقص یقین Yaqeen رکھنے والوں پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ کاش ان لوگوں کا ایمان علم الیقین کی حد تک ہی درست ہوتا۔ انہوں نے اللہ کو، دنیا کو اور آخرت کو صرف علم کی حد تک تو اچھی طرح جاننے کی کوشش کی ہوتی کیونکہ عام مسلمان تو اللہ کے متعلق اتنا بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتا اور اندھوں، بہروں کی طرح اس کی عبادت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
تمہیں کثرتِ مال کی ہوس اور غرور نے (اللہ پر یقین سے) غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔ ہرگز نہیں! تم عنقریب (اس دنیا کی بے ثباتی کو) جان لو گے۔ پھر (آگاہ کیا جاتا ہے) ہرگز نہیں! عنقریب تمہیں (اپنا انجام) معلوم ہو جائے گا۔ کاش تم (اللہ کو کم سے کم) علم الیقین کے ساتھ جانتے (تو دنیا میں یوں کھو نہ جاتے)۔ تم دوزخ کو ضرور دیکھ کر رہو گے۔ پھر تم اسے ضرور عین الیقین سے دیکھ لو گے پھر اس دن تم سے (اللہ کی) نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔ (سورۃ التکاثر)

تمام اولیا کرام نے مسلمانوں کو اللہ پر یقین کے ان مراتب پر درجہ بدرجہ پہنچنے کی تلقین کی ہے تاکہ ان کا ایمان درست اور کامل ہو۔ سیدّنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:
محاسبہ کے بعد یقین کو لازم پکڑو کیونکہ یقین ایمان کی اصل ہے۔ بغیر یقین Yaqeen کے نہ فرض ادا کیے جائیں گے اور نہ یقین کے بغیر دنیا میں زہد کیا جائے گا۔ (الفتح الربانی)
تم اسلام کی حقیقت حاصل کرو تاکہ تم ایمان تک پہنچ جاؤ پھر ایمان کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو تاکہ تم درجۂ یقین تک پہنچ جاؤ۔ پس اس وقت تمہیں وہ چیزیں نظر آنے لگیں گی جو اس سے پہلے تم نے نہ دیکھی ہوں گی اور وہ تمہیں تمام اشیا کو حقیقی صورتوں میں دکھائے گا۔ خبر معائنہ بن جائے گی۔ وہ یقین Yaqeen قلب کو اللہ تعالیٰ کے حضور میں لے جاکر کھڑا کرے گا اور سب چیزوں کو اسی کی طرف دکھائے گا۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 49)
جب تیرا ایمان یقین Yaqeen اور تیری معرفت علم بن جائے گی اس وقت توُ خدائی کارندہ بن جائے گا۔ (الفتح الربانی)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ (Hazrat Sultan Bahoo) یقین کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
صدق کے معنی ہیں یقین Yaqeen، اور یقین Yaqeen یقین سے حاصل ہوتا ہے۔ یقین خاص دینِ محمدی  سے حاصل ہوتا ہے۔ یقین Yaqeen جبین کو سجدہ ریز رکھتا ہے اور جو سجدے کا تارک ہے، وہ شیطانِ لعین ہے۔ 

۱۔   عبادتِ حق ببر تا وقتِ مردن
یقین شد از یقین ایمان بردن

۲۔ یقین قرآن برو اعمال کردن
یقین آنست کہ خود باحق سپردن

۳۔ یقین سرمایۂ ایمان نورش
یقین بامعرفت قربِ حضورش

۴۔  یقین از یک پدر یک پسر باشد
دوئی شیطان را از دل تراشد

۵۔  یقین دیدہ بچشم ِ خویش بیند
کہ صحبت ِ عارفاں باہم نشیند

۶۔  یقین از حق شود حق رازِ اللہ
خطے درکش بگردِ لاسویٰ اللہ

۷۔  یقین ببرد حضوری بے ریاضت
یقین شد از یقین صاحب ِاجازت

۸۔  کسے را شد یقین باحق بحاصل
رسد حق الیقین عرفان واصل

ترجمہ: (۱)مرتے وقت تک حق تعالیٰ کی عبادت کر جس سے تجھے یقین Yaqeen حاصل ہوگا اور یقین ہی ایمان کی ضمانت ہے۔
(۲) یقین قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے اور یقین خود کو خدا کے سپرد کرنے کا نام ہے۔
 (۳)یقین Yaqeen سرمایۂ ایمان اور اس کا نور ہے۔ یقین ہی اللہ کی معرفت، قرب اور حضوری عطا کرتا ہے۔
 (۴)یقینYaqeen ایسا ہونا چاہیے جیسے ایک بیٹے کو اپنے باپ کا ہوتا ہے اور یقین ہی دل سے شیطانی دوئی کو نکالتا ہے۔
(۵)یقین اپنی آنکھوں سے دیدارِ حق کرنے سے حاصل ہوتا ہے اور یہ دیدار عارفین کی صحبت سے نصیب ہوتا ہے۔
 (۶)حق پر یقینYaqeen اسرارِ الٰہی کی طرف لے جاتا ہے اس لیے لاسویٰ اللہ ہر شے کی نفی کر دے۔
 (۷)یقین بغیر ریاضت کے حضوری میں لے جاتا ہے لیکن یہ یقین کسی صاحبِ یقین Yaqeen کی اجازت (مرشد کامل اکمل) سے ہی حاصل ہوتا ہے۔
(۸)جسے یقین حاصل ہو اسے حق مل جاتا ہے اور وہ حق الیقین کے مراتب پر پہنچ کر حق تعالیٰ کی معرفت اور وصال پا لیتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

اہل کفر اور اہلِ حرب، رافضیوں، خارجیوں اور منافقوں کو یقین حاصل نہیں ہوتا۔ یقینYaqeen پاکی کا نام ہے اور اس کا تعلق حق سے ہے اور یہ خبیث لوگ قرآن، نص و حدیث اور سنی طریقہ و سنت جماعت کے مخالف ہیں۔ ان کا اعتبار باطل ہے کیونکہ غلیظ اور مردار پر اعتماد کرنا باطل ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت جماعت کے یقین Yaqeen کا یہ عالم ہے کہ ان کے پاس ایک روز کی غذا بھی نہ ہو اور کوئی انہیں ایک لاکھ سونے کے سکے دے دے تو بھی وہ اپنے یقین Yaqeen سے نہیں پلٹیں گے کیونکہ دینِ محمدیؐ کے طفیل انہیں معرفتِ مولیٰ سے آگاہی اور قربِ اعلیٰ نصیب ہوتا ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

جان لو کہ یقین Yaqeen کے چار حروف ہیں ی، ق، ی، ن۔ یقین کا حرف ’ی‘ حق سے یگانہ کرتا ہے۔ یقین کا حرف ’ق‘ قربِ حق بخشتا ہے۔ یقین کا حرف ’ی‘ دوم یکتا بحق کرتا ہے اور یقین Yaqeen کا حرف ’ن‘ نفس کو ہوا و ہوس سے نیست و نابود کر دیتا ہے۔ یقین طالبِ مولیٰ کو متوکل بنا دیتا ہے جیسا کہ کہا گیا:
حَسْبِیَ اللّٰہُ (سورۃ التوبہ۔129)
ترجمہ: اللہ ہی میرے لیے کافی ہے۔
وَ کَفٰی بِاللّٰہِ  (سورۃ الاحزاب۔39)
ترجمہ: اور اللہ ہی (اپنے بندوں کے لیے) کافی ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

یقین کی اہمیت اور مراتب و درجات کو جان لینے کے بعد یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ ہر یقین اصل یقین اور نور نہیں بلکہ بیشتر یقین Yaqeen تو یقین کے زمرے میں ہی شمار نہیں ہوتے اور انہیں یقین Yaqeen کی بجائے ’گمان‘ کہنا بہتر ہوگا۔ یہ وہ یقین یا گمان ہے جو یہود و نصاریٰ و کفار کو اپنے اپنے مذہب اور عقیدے پر ہے، بیشک ایسایقین سراسر ظلمت و گمراہی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے بہت سے خود ساختہ یقین بھی انہیں گمراہ کر دیتے ہیں مثلاً اللہ کے کسی سات آسمانوں سے پرے عرش پر مقید ہونے کا یقین، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نورانی حقیقت کو نظر انداز کرکے ان کے عام بشر ہونے کا یقین، اپنی عبادات پر یقین، اپنے عقیدے پر ایسا یقین کہ کسی دوسرے کی حق بات کو سننا بھی گوارا نہ کرنا۔ ایسے یقین Yaqeen تکبر میں شمار ہوکر ان لوگوں کو حقیقت سے بہت دور لے جاتے ہیں ۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ  (Hazrat Sultan Bahoo) فرماتے ہیں:
مصنف کہتا ہے کہ لوگ غلط کہتے ہیں کہ ناقصوں اور خام لوگوں کو بھی ان کا یقین عرش و کرسی اور لوح و قلم کی طر ف لے جاتا ہے بلکہ ان (ناقصوں) کا یقین انہیں معرفت اور وحدانیتِ الٰہی سے جدا کر دیتا ہے۔ صدیقین اور عارفین کا یقین Yaqeen یہ ہے کہ وہ مشاہدۂ معرفتِ الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ (Majlis e Mohammadi | Mohammadan Assembly) کی دائمی حضوری میں مکمل غرق رہتے ہیں۔ (کلید التوحید کلاں) 

آپ رحمتہ اللہ علیہ یقین (Hazrat Sultan Bahoo) کی اقسام بتاتے ہوئے فرماتے ہیں:
جو کوئی یقین کا مرتبہ پالیتا ہے، وہ اسی دم واصل ہو جاتا ہے اور بے یقین Yaqeen کے لیے یہ سب کہنا سننا بے کار ہوتا ہے۔ یقین کی تین اقسام ہیں:
(۱) یقینِ فراری: بت پرستوں ، کفار اور اہل ِ زنار کا یقین اسی قسم کا ہوتا ہے ۔
(۲) یقینِ اقراری:جو کلمہ طیبہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ‘‘ کے زبانی اقرار اور تصدیقِ قلبی سے تعلق رکھتا ہے ۔
(۳) یقینِ اعتباری: ایسایقین اہلِ یقین کو تصدیق با توفیق سے حاصل ہوتا ہے، اس قسم کا یقین پہاڑ کی مانند ہوتا ہے جو نہ جنبش کھاتا ہے اور نہ لرزہ۔ نہ ہی کبھی غلظ (غل و غش) میں مبتلا ہوتا ہے۔ یقین ایک نوری  Noori صورت اور فقر کی ایک صفت ہے جو عاجزوں کی دستگیری کرتا ہے۔ اسے سلطان الفقر بھی کہتے ہیں۔ جس کسی کے وجود میں خاص یقین داخل ہوجاتا ہے وہ بے دینی کے مرتبہ سے باہر نکل آتا ہے۔ (عقلِ بیدار)

اصل یقین جو نور  Noor ہے اور نور (اللہ) تک پہنچاتا ہے کیا ہے اور کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

اصل یقین است یقینِ مصطفیؐ
اصل یقین است یقینِ مرتضیٰؓ

ترجمہ: اصل یقین Yaqeen وہ ہے جو تجھے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ تک لے جائے اور ان کی پہچان عطا کرے۔ (شمس العارفین)

یقیں باشد خلافِ نفس دائم
یقیں بازندگی دل ہست قائم

ترجمہ: یقین ہمیشہ خلافِ نفس چلنے سے حاصل ہوتا ہے اور اُس کا انحصار حیاتِ قلب پر ہے۔

 جو یقین Yaqeen حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو معراج کی رات قابَ قوسین کے مقام پر حاصل ہوا تھا وہی یقینِ معراج اب عارف باللہ مومنوں کو ہر وقت ذکرِ اللہ سے نصیب ہوتا ہے۔ (عقلِ بیدار)
 پس ہر چیز کا دارومدار تصدیقِ دل (یقین) پر ہے۔ تصدیقِ دل کہاں سے نصیب ہوتی ہے؟ ذکرِ قلب سے۔ ذکر قلب کہاں سے حاصل ہوتا ہے؟ مرشد واصل سے۔ شیخ مرشد کسے کہتے ہیں؟ شیخ مرشد واصل دل کو زندہ کرنے والا اور نفس کو مارنے والا ہوتا ہے۔ (عین الفقر)
 یعنی وہ نورِ یقین جو بندے کو اللہ سے واصل کرتا ہے نہ وہ زائد عبادات سے حاصل ہوتا ہے نہ وردو ظائف سے بلکہ اس کے لیے پہلی ضروری چیز دِل میں عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا جاگنا ہے جو ایمان کی جان ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیروی میں روحانی حیات حاصل کرکے معراج یعنی دیدارِ الٰہی کے حصول کے لیے نفس کو مارنا ضروری ہے اور نفس کا مارنا اس کی خواہشات کا مارنا ہے۔ نفس کے خلاف لڑنے میں مدد مرشد کامل کی مہربانی سے حاصل ہوتی ہے جو ذکرِ اللہ عطا کرکے طالب کا تزکیۂ نفس بھی کرتا ہے اور اس کو روحانی حیات بھی عطا کرتا ہے۔ چنانچہ نورِ یقین Yaqeen کے حصول کے لیے چار چیزیں ضروری ہیں عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، مرشدِ کامل اکمل کا ساتھ، ذکر و تصورِ اسم اللہ ذات اور نفسانی خواہشات سے نجات۔

اب اہم بات یہ ہے کہ راہِ فقر میں کن کن باتوں پر یقین Yaqeen کرنا ضروری ہے۔ اوّل مرشد کامل کی کاملیت پر، اس کے مقام و مرتبے پر اور اس کی ہر بات پر خواہ وہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ دوم اسمِ اللہ ذات پر کہ یہ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے فرمان کے مطابق دیدار و معرفتِ الٰہی کی کلید ہے۔ اعتقاد سے کیا گیا اسمِ اللہ ذات کا ذکر ہی مرشد کے مقام کو بھی واضح کرتا ہے اور دیدار و مشاہدہ کی راہ کھولتا ہے۔ سوم مرشد کامل کی مہربانی اور ذکر و تصورِ اسمِ اللہ  ذات سے حاصل ہونے والے باطنی مشاہدات پر یقین Yaqeen کرنا ازحد ضروری ہے کہ ظاہر و باطن میں طالب کو جو جو تبدیلیاں محسوس ہوں اپنی ذات میں اور اردگرد کے حالات میں وہ مرشد کامل اور اسمِ اللہ ذات ہی کی مہربانی سے ہو رہی ہیں۔ جب ترقی کرکے طالب کو علمِ دعوت کے ذریعے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Majlis e Mohammadi | Mohammadan Assembly) کی حضوری حاصل ہو اور وھم کے ذریعے اللہ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہو اور وہ دیدارِ الٰہی کے بلند ترین مراتب پر جا پہنچے تو مرشد کی اس عطا پر بھی یقین کرنا بے حد ضروری ہے ورنہ بے یقینی اسے ان مراتب سے محروم بھی کرسکتی ہے۔ باطن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دئیے گئے احکامات پر یقین کرنا اور ان پر عمل کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ جس قدر باطن پر یقین ہوگا اسی قدر باطنی ترقی زیادہ ہو گی اور قربِ الٰہی میں اضافہ ہوگا۔ مرشد اور طالب کا رشتہ ہی یقین و اعتقاد پر قائم ہے اگر یہ نہ ہوگا تو نہ طالب خود کو ٹھیک طور پر تزکیۂ نفس کے لیے مرشد کے حوالے کرے گا اور نہ ہی مرشد کی طرف سے مہربانی ہوگی۔ حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مرشد کا مرتبہ اسمِ اللہ کی تلقین کا ہے اور طالب کا مرتبہ اسمِ اللہ پر یقین کا ہے اور اہلِ یقین اپنی آنکھوں سے حضوریٔ مشاہدہ کرنے والے کو کہتے ہیں۔ جس کو یہ مراتب حاصل نہیں وہ پیری مریدی کی راہ سے ہی واقف نہیں۔ پیر کو چاہیے کہ مرید کو لوحِ محفوظ دکھا دے تاکہ طالب مرید کا اعتبار قیامت تک درست ہو جائے اور اگر طالب اپنے مرشد (کی بات) کا اعتبار نہ کرے تو مرشد توجۂ باطنی سے اس کو مجلسِ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Majlis e Mohammadi | Mohammadan Assembly) میں حاضر کر کے نبی صاحب سے تلقین کروائے تاکہ قیامت تک کے لیے طالب صاحبِ یقین ہو جائے۔ (عقل ِ بیدار)

طالب عارف باللہ باعیاں اشرف الانسان ہے۔ وہ مرشد سے علمِ دیدار کا سبق پڑھتا اور مرشد کے فرمان پر یقین کرتا اور اسے حق جانتا ہے تو ایسے طالبِ صادق کو مرشد توجۂ باطنی سے مشرفِ دیدار کر دیتا ہے۔ (عقل ِ بیدار)
اگر مرشد لقائے الٰہی سے مشرف کر دے لیکن طالب اس پر یقین نہ کرے تو ایسے طالب کی عاقبت مردود ہے۔ اگر صاحبِ یقین Yaqeen ہے تو ایک دم بھی جدا نہیں ہوتا بلکہ انوارِ دیدار کے غلبات میں غرق رہتا ہے۔ (امیر الکونین)

بے یقین طالب کے متعلق حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ (Hazrat Sultan Bahoo) فرماتے ہیں:
جس طالب کو پیرومرشد کے پاس جا کر بھی بزرگوں کی تلقین پر یقین Yaqeen نہ آئے اور نفسِ امارہ اس کے وجود میں رقیب بن کر اس کی دشمنی پر کمربستہ رہے تو سب لوگ اس کو راہِ خدا سے محروم بے نصیب کہنے لگیں گے۔ دوست تو اس کے گھر میں ہے مگر وہ اندھا اس کو دیکھنے سے قاصر ہے۔ (عقلِ بیدار)

اگر بے اخلاص اور بے یقین Yaqeen آدمی شب و روز دوگانہ ادا کرتا رہے تو وہ اپنی ذات کے لیے خود ہی حجاب بن جاتا ہے۔ کامل مرشد باطنی توفیق کے طریقہ سے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Majlis e Mohammadi | Mohammadan Assembly)   کی حضوری میں پہنچا دیتا ہے۔ اس حقیقت کو مردہ دل احمق کیسے جان سکتا ہے۔ اگرچہ وہ تمام عمر (کتابی) علم کے مطالعہ میں مصروف رہے۔ جان لوکہ مردود اور مرتد طالب جو کسی حال میں بھی اس بات پر یقین Yaqeen نہ کرے، پیر و مرشد کے کہنے پر بھی معرفتِ اللہ وصال اور حضوریٔ جمال پر اعتبار نہ کرے تو ایسے مردود اور مرتد طالب کی بیماری کا علاج کیا ہے؟ ایسے بے یقین Yaqeen بے دین کی شفا حضوری سے مشرف لقا باخدا ہونے میں ہے۔ اگر وہ یقین Yaqeen کے ساتھ دیکھے گا تو اپنے حال پر قائم رہ کر صاحبِ وصال ہو جائے گا ورنہ جذب خوردہ ہو کر معرضِ زوال یا طلبِ دنیا یا زن مرید یا نفس پرست یا خود نمائی میں مبتلا ہو جائے گا۔ راہِ فقر میں وہی شخص قدم رکھتا ہے جو اپنے پیر ومرشد کو اپنا وسیلہ اور یقین Yaqeen کو اپنا توشہ بنا لیتا ہے۔ (عقلِ بیدار)

استفادہ کتب:
۱۔الفتح الربانی؛ تصنیف لطیف سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ
۲۔عین الفقر؛ تصنیف لطیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ
۳۔عقلِ بیدار؛ ایضاً
۴۔کلید التوحید کلاں؛ ایضاً
۵۔امیر الکونین؛ ایضاً

 

30 تبصرے “نورِ یقین | Noor e Yaqeen

    1. جب تیرا ایمان یقین Yaqeen اور تیری معرفت علم بن جائے گی اس وقت توُ خدائی کارندہ بن جائے گا۔ (الفتح الربانی)

  1. راہِ فقر میں وہی شخص قدم رکھتا ہے جو اپنے پیر ومرشد کو اپنا وسیلہ اور یقین Yaqeen کو اپنا توشہ بنا لیتا ہے۔ (عقلِ بیدار)

  2. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی بارگاہ اقدس سے یقین کامل کی دولت نصیب ہوتی ہے۔

  3. یعنی ہدایت صرف تقویٰ والوں کے لیے ہے اور تقویٰ والے صرف وہ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں

    1. ہر چیز کا دارومدار تصدیقِ دل (یقین) پر ہے۔ تصدیقِ دل کہاں سے نصیب ہوتی ہے؟ ذکرِ قلب سے۔ ذکر قلب کہاں سے حاصل ہوتا ہے؟ مرشد واصل سے۔
      بہترین مضمون!!

  4. اصل یقین است یقین گر شود
    کار تو از ہفت افلاک بگذرد
    ترجمہ: تیرا اصلی سرمایہ یقین Yaqeen ہے۔ اگر تجھے یہ حاصل ہو جائے تو تیرا معاملہ ساتوں آسمانوں سے بھی آگے نکل جائے۔

  5. نورِ علم کی طرح نورِ یقین Noor-e-Yaqeen بھی درجہ بدرجہ انسان کو حاصل ہوتا ہے اور یکدم اس کا حصول ناممکن ہے۔

  6. جس طرح ہر رشتے اور تعلق کی مضبوطی کی بنیاد یقین پر ہے اسی طرح اللہ سے رشتہ اور تعلق بھی اس یقین کی بنیاد پر ہی قائم ہوتا ہے۔

  7. ماشاءاللہ بہت اچھا مضمون لکھا ہے اس مضمون کو پڑھنے کے بعد بہت ساری ایسی چیزوں کا پتہ چلا ہے جو پہلے نہیں معلوم تھی

اپنا تبصرہ بھیجیں