دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے سیاست نہیں بلکہ روحانی تربیت کی ضرورت ہے | Duniya or Akhirat Main Kamyabi Kay Liye Siyasat Nahi Roohani Tarbiyat ki Zaroorat hai

دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے سیاست نہیں  بلکہ روحانی تربیت کی ضرورت ہے 

 Duniya or Akhirat Main Kamyabi Kay Liye Siyasat Nahi Roohani Tarbiyat ki Zaroorat hai

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری۔ لاہور

نعرۂ فقر:

دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے سیاست نہیں بلکہ روحانی تربیت کی ضرورت ہے۔
بانی و سرپرستِ اعلیٰ تحریک دعوتِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس  Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehmanسلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام، حاملِ امانتِ فقر او رسلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ Sultan Bahoo کے روحانی وارث ہیں۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ Sultan Bahoo کی تعلیما تِ فقر کو دنیا بھر میں پھیلانے اور دینِ حق کی روشنی سے عوام الناس کے قلوب کو منور کرنے کے لیے سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس Sultan ul Ashiqeen  نے23 اکتوبر 2009ء (3 ذیقعد 1430ھ) بروز جمعتہ المبارک ’’تحریک دعوتِ فقر‘‘ Tehreek Dawat-e-Faqr کی بنیاد رکھی۔ آپ مدظلہ الاقدس کا یہ قدم فقر کی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جس نے چار سو عالم میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ فقر کے پیغام کو جس کامیابی اور ترقی کے ساتھ آپ مدظلہ الاقدس نے عوام تک پہنچایا ہے وہ یقینا اپنی مثال آپ ہے اور یہ آپ مدظلہ الاقدس کے اعلیٰ اور بلند ترین روحانی مرتبہ کی عکاسی کرتا ہے۔ 

تحریک دعوتِ فقر Tehreek Dawat-e-Faqr ایک غیر سرکاری و غیر سیاسی جماعت ہے۔ اس تحریک کا مقبول ترین نعرہ ہے ’’دنیا و آخرت میں کامیابی کے لیے سیاست نہیں بلکہ روحانی تربیت کی ضرورت ہے۔‘‘ موجودہ دور مادیت پرستی کا دور ہے اور اسی مادیت کی گرد نے جہاں ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا وہاں سیاست بھی اس سے پاک نہیں ہے بلکہ آج وہ نفسانیت کا ہولناک منظر پیش کر رہی ہے۔ سیاست مقام و مرتبے کا نام ہے جبکہ فقر اپنی ذات کی نفی کا نام ہے۔ اس میں مرتبہ اور مقام کی گنجائش کہاں۔ فقر اللہ کی رضاکے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا نام ہے جبکہ سیاست انانیت کی جنگ ہے۔ سیاست بندے سے بندے کے تعلق کا نام ہے جبکہ فقر بندے اور اللہ کے تعلق کا نام ہے۔ سیاست دوسروں پر کیچڑ اُچھالنا ہے اور فقر عیوب کی پردہ داری کا نام ہے۔ سیاست دنیا داری کا نام ہے، فقر فیضِ ربانی ہے۔ سیاست نفسانی خواہشات کی تسکین کا نام ہے، فقر راہِ ہدایت ہے۔ سیاست مرتبۂ ناسوت کی علامت ہے، فقر ہر دم لاھوت لامکان میں مقیم رہنے کا نام ہے۔ سیاست حکومتی نظام کا نام ہے، فقر کے اسرار خدا کے اسرار ہیں۔ سیاست عجب، خود پسندی، لالچ، طمع، حرص، حسد سے لبریز ہے جبکہ فقر کا مقصد روحانی تربیت کے ذریعے ان نفسانی بیماریوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ فقر نور، اجالا اور دائمی حیات ہے، اس میں سیاسی عمل حتیٰ کہ سیاسی و منفی سوچ کی بھی گنجائش نہیں۔ 

تحریک دعوتِ فقرTehreek Dawat-e-Faqr اللہ والوں کی جماعت ہے اس کی مثال فردِ واحد کی سی ہے۔ اس جماعت کے اتحاد کے اغراض و مقاصد میں کوئی سیاسی یا دنیاوی مقام و مرتبہ حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الاقدس Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman کی روحانی تربیت شامل ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کی روحانی تربیت فرما کر انہیں دینِ محمدی سے اس طرح منسلک کر دیتے ہیں کہ وہ ’’اللہ کی رسی مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘ کے مصداق بن جاتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کی اسی انداز میں روحانی تربیت فرماتے ہیں جس طرح حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام اپنے دورِ حیات میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی تربیت فرمایا کرتے تھے۔

مضمون کے آغاز میں تحریک دعوتِ فقر کے جس نعرے (slogan) کا ذکر کیا گیا ہے اگر اس پر غور و فکر کیا جائے تویہ نکتہ عیاں ہوگاکہ آج امتِ مسلمہ جس پستی اور زوال کا شکار ہے اس سے نکلنے کا حل اسی نعرے میں پوشیدہ ہے۔ سیاسی اقتدار یا سیاسی داؤ پیچ میں الجھنے کی بجائے اگر ہم اپنی توجہ اخلاقیات، روحانی تربیت اور دین داری پر مرکوز کریں توآج وہ قافلہ جس پر بد اخلاقی، سست روی، دنیاداری اور ظاہر پرستی وغیرہ کی وجہ سے ظاہری و باطنی ترقی کی راہیں منجمد ہیں وہ بلاشبہ بحال ہو سکتی ہیں۔ ہمارے معاشرے کی مثال بنی اسرائیل کی سی ہے جنہوں نے اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے کی بجائے خود کو دیگر بداخلاقی عوارض اور سیاسی ہتھکنڈوں میں ملوث کر لیا تھا نتیجتاً  اللہ  کی نافرمانی کے مرتکب ٹھہرے اور اللہ کا عذاب ان پر نازل ہوا۔ بنی اسرائیل کے اس واقعہ کو مصنف ابویحییٰ نے اپنی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہو گی‘‘ میں بیان کیا ہے۔ قارئین کی آسانی کے لیے اس تصنیف کا ایک حصہ پیش کیا جا رہا ہے:

’’ جس وقت حضرت یرمیاہ نبی کی بعثت ہوئی بنی اسرائیل کی قوم عراق کے سپر پاور بادشاہ اور آشوریوں کے زبردست حکمران بخت نصر کے تابع تھی۔ سالانہ خراج بخت نصر کو بھیجنا ہی ان کی زندگی اور عافیت کا سبب تھا۔ اس غلامی کا سبب وہ اخلاقی پستی تھی جو قوم کے رگ و پے میں سرایت کر گئی تھی۔ توحید کے رکھوالوں میں شرک عام تھا۔ زنا اور قمار بازی معمول تھا۔ یہ لوگ بھاری سود پر قرض دیتے۔ جو قرض واپس ادا نہ کرپاتا اس کے خاندان کو غلام بنا لیتے۔ علما لوگوں کی اصلاح کرنے کی بجائے انہیں قومی فخر میں مبتلا کر رہے تھے۔ ایمان، اخلاق اور شریعت کے بجائے ذبیحوں اور قربانیوں کو اصل دین سمجھ لیا گیا تھا۔ ان کے حکمران ظالم اور رشوت خور تھے۔ انصاف کی بجائے عیش و عشرت ان کا معمول تھا۔ ایک طرف اخلاقی پستی کا یہ عالم تھا اور دوسری طرف سیاسی امنگیں عروج پر تھیں اور پوری قوم اس بات پر جمع تھی کہ ہمیں بخت نصر کی غلامی سے نکل کر بغاوت کر دینی چاہیے۔ حقیقت یہ تھی کہ ان پر خدا کا غضب تھا مگر ان کو یہ بات بتانے کے بجائے قومی فخر اور سلیمانؑ و داؤدؑ کی عظمت کے خواب دکھائے جا رہے تھے۔ انہیں امامتِ عالم کی دہائی دی جا رہی تھی حالانکہ وہ بدترین ایمانی اور اخلاقی انحطاط کا شکار تھے۔ ان کے مذہبی اور سیاسی لیڈروں کی ساری توجہ اس بات کی طرف تھی کہ اس سیاسی محکوم سے نجات مل جائے۔ ایسے حالات میں حضرت یرمیاہ علیہ السلام کو اللہ کی جانب سے نبی بنا کر بھیجا گیا اور ان پر وحی نازل کی گئی کہ اپنی قوم کی اصلاح کرو۔ انہیں سیاست سے نکال کر ہدایت کی طرف لاؤ۔ ایک دفعہ سچی خدا پرستی پیدا ہو گئی تو سیاست میں بھی آپ غالب ہو گے۔ مگر جب یرمیاہ علیہ السلام یہ پیغام لے کر اٹھے تو ہر طرف سے ان کی مخالفت شروع ہو گئی۔ خدا کے اس نبی نے اپنے زمانے کے عوام و خواص، اہلِ مذہب اور اہلِ سیاست سب کو پکارا مگر گنتی کے چند لوگوں کے سوا کسی نے ان کی بات نہ سنی۔ ان کی دعوت بالکل سادہ تھی۔ بخت نصر سے ٹکرانے کے بجائے اپنے ایمان و اخلاق کی اصلاح کرو۔ لیکن ان لوگوں نے خدا کے نبی کی مخالفت کی اور ان کو بخت نصر کا ایجنٹ قرار دے کر بطور سزا پہلے کنویں میں الٹا لٹکایا اور پھر ایک پنجرے میں قید کر دیا گیا۔ اس کے بعد بخت نصر کے خلاف بغاوت کر دی۔ جواب میں بخت نصر عذابِ الٰہی بن کر ٹوٹ پڑا۔ اس نے چھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا اور چھ لاکھ کو غلام بنا کر ساتھ لے گیا۔ یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ پورا شہر خاک و خون میں بدل گیا۔ قرآنِ مجید نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے اور یہ بتایا کہ حملہ آور لوگ دراصل قہرِ الٰہی تھے کیونکہ بنی اسرائیل نے زمین پر فساد برپا کر رکھا تھا۔‘‘ (جب زندگی شروع ہو گی)

حاصل کلام یہ کہ بنی اسرائیل نے اپنی اخلاقی و روحانی تربیت اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا سامان کرنے کی بجائے سیاسی غلبہ اور اقتدار کو ہی اپنی منزل بنا لیا تھا۔ لالچ، حرص، نفسانی خواہشات، شرک اور زنا جیسے عناصر کی وجہ سے حق و باطن کے مابین فرق کرنے سے قاصرہو گئے تھے تب ہی ایک نبی کی جانب سے دئیے گئے پیغام کو پس ِ پشت ڈال کر نافرمانی کی راہ کو اپنایا۔ اس واقعہ میں ہماری قوم کی رہنمائی کے لیے عظیم پیغام موجود ہے اور تحریک دعوتِ فقر کے نعرہ میں بھی یہی حکمت پوشیدہ ہے۔ 

جہاں بات سیاسی عہدے، نام و ناموس اور دنیاوی مقام و مرتبہ کی ہے تو فقر کی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں فقرا نے سیاسی عہدوں کو خیر آباد کہہ کر دینِ حق کی تبلیغ و اشاعت اور روحانی تربیت کو ترجیح دی۔ لیکن ایسی کوئی بھی مثال موجود نہیں کہ جس میں فقرا اور اولیا اللہ نے راہِ فقر کو چھوڑ کر سیاسی مقام و مرتبہ کو فوقیت دی ہو کیونکہ فقر تو خود بادشاہی ہے۔

حضرت ابراہیم بن ادھمؒ وہ ولی اللہ ہیں جنہوں نے بادشاہت کو ٹھوکر مار کر راہِ فقر کو اپنایا۔ آپؒ فرماتے ہیں ’’فقر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ ان کو عطا کرتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘

حضرت خواجہ حسن بصریؓ کے بہت خلفا تھے جن میں سے دو زیادہ مشہور ہیں: حضرت حبیب عجمیؒ اور حضرت شیخ عبد الواحد بن زیدؒ۔ جن کے فیض تربیت سے تصوف کے چودہ بڑے خانوادے (سلاسل) وجود میں آئے۔ ان چودہ بڑے خانوادوں میں سے ایک سلسلہ ایسا ہے جن کے بزرگ نے بادشاہت کو چھوڑ کر راہِ فقر کو ترجیح دی۔ یہ سلسلہ ’گاذرونیہ‘ ہے۔ یہ سلسلہ حضرت خواجہ ابو اسحاق گاذرونیؒ سے شروع ہوا جو گاذرون کے بادشاہ تھے۔ آپ تخت و تاج چھوڑ کر  حضرت خواجہ عبداللہ خفیفؒ کے مرید ہوئے جو حضرت رویمؒ کے مرید و خلیفہ تھے اور حضرت رویمؒ حضرت جنید بغدادیؒ کے مرید تھے۔ (شمس الفقرا)

اس کے علاوہ یہاں حضرت امام ابو حنیفہؒ کا نام قابلِ ذکر ہے جنہوں نے قاضی کا عہدہ قبول نہ کیا اور اپنے اس فیصلہ پر ثابت قدم رہتے ہوئے قید ہونا قبول کر لیا اور دورانِ قید ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
عرفِ عام میں فقر افلاس ، تنگدستی اور عسر کی حالت کو کہتے ہیں اس کے لغوی معنی احتیاج کے ہیں لیکن عارفین کے نزدیک فقر سے مراد وہ منزلِ حیات ہے جس کے متعلق سرکارِ دوعالمؐ نے فرمایا:
اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ فَافْتَخِرُّ بِہٖ عَلٰی سَائِرِ الْاَنْبِیَآئِ وَ الْمْرْسَلِیْنَ 
ترجمہ:فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔ اور فقر کی ہی بدولت مجھے تمام انبیا و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے۔
حضرت سلطان باھوؒ Sultan Bahoo فقر کے متعلق فرماتے ہیں :

نظر فقرش گنج قدمش گنج بر
فقر لایحتاج شد صاحب نظر

ترجمہ: فقر کی نظر بھی خزانہ ہوتی ہے اور اس کے قدموں میں بھی خزانہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ لایحتاج یعنی ہر حاجت اور ضرورت سے بے نیاز رہتا ہے۔ 

فقر شاہے ہر دو عالم بے نیاز و باخدا
احتیاجش کس نہ باشد مدِنظرش مصطفیؐ

ترجمہ: فقر ایک بادشاہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے قرب میں ہونے کی بنا پر دونوں جہاں سے بے نیاز ہے اسے کسی کی پرواہ نہیں کہ وہ ہر وقت حضورِ اکرمؐ کے مدنظر رہتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فقرا کاملین کی نظر میں دنیا کی شان و شوکت، سیاسی عہدے، مقام و منصب، مال و زر کی محبت سب ہیچ  ہوتے ہیں۔ وہ لایحتاج ہوتے ہیں۔’ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس ‘ کی حقیقت سے ان کاوجو د اتنا پختہ ہو چکا ہوتا ہے کہ غیر اللہ کی طرف ہرگز متوجہ نہیں ہوتے۔

 روحانی تربیت کی اہمیت و ضرورت

دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت روحانی تربیت میں پوشیدہ ہے۔ ظاہری عبادات، چلہ کشی، ریاضت وغیرہ سے انسان چاہے سوکھ کر تنکا کیوں نہ ہو جائے لقا و وصالِ الٰہی کی لازوال منازل کو نہیں پا سکتا بلکہ حد درجہ ظاہری عبادات میں مشغول رہنے سے نفس موٹا ہوتا ہے اور غرور، تکبر اور انانیت جیسے روحانی امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ روحانی تربیت کا تعلق باطن سے ہے۔ جب انسان کی باطنی تربیت ہو جاتی ہے تو اس کا ظاہر خودبخود جانبِ حق ہو جاتا ہے۔ اللہ اور بندے کے درمیان نفس حجاب ہے۔ اگر یہ حجاب درمیان سے ہٹ جائے تو بندہ اپنی حقیقی منزلِ حیات کو پا سکتا ہے۔ ریاکاری، نفاق، حب ِدنیا، حب الشہوات، بغض، کینہ، حسد، غصہ، شہوتِ معدہ، شہوتِ عزوجاہِ، زنا، مال و دولت، زر پرستی، طمع، حرص لالچ، جھوٹ، بہتان، گلہ گوئی، غفلت، تکبر، انانیت، عُجب یعنی خود پسندی، فخر وغرور، بخل، غیبت، عصبیت، قوم پرستی، قبیلہ پرستی، مسلک یا فرقہ پرستی، مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی محبت، خواہ شیطان کے چیلے ہوں، سب نفس کے امراض ہیں۔ جب روحانی تربیت کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد نفس کے امراض کا تزکیہ کرنا ہے۔ 

 ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکیّٰ  (سورۃ اعلیٰ۔ 14)
ترجمہ: تحقیق وہ فلاح پا گیا جس (کے نفس) کا تزکیہ ہو گیا۔
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا (سورۃ الشمس۔ 9)
ترجمہ: وہ فلاح پا گیا جس نے (اپنے نفس) کا تزکیہ کر لیا ۔
ہر دور میں تزکیۂ نفس کے لیے ایک روحانی مرکز موجود ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے دورِ حیات میں آپؐ اپنی صحبت کے فیض سے صحابہ کرامؓ کا تزکیہ نفس فرمایا کرتے تھے تاکہ ان کے قلوب آیاتِ قرآنی کے انوار کو جذب کرنے کے اہل ہو سکیں اور تمام روحانی منازل طے ہو جائیں۔ قرآنِ کریم میں تزکیہ نفس کے اس طریقہ کو یوں بیان کیا گیا ہے:
 وہی اللہ ہے جس نے مبعوث فرمایا امیوں میں سے ایک رسولؐ جو پڑھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیات اور (اپنی نگاہِ کامل سے) ان کا تزکیہ (نفسوں کو پاک) کرتا ہے اور انہیں کتاب کا علم اور حکمت (علمِ لدنی) سکھاتا ہے۔ (سورۃ الجمعہ ۔2)
تزکیہ نفس کا یہ سلسلہ آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دورِ حیات میں تھا۔ تزکیہ نفس کا یہ سلسلہ آپؐ کے منتخب کردہ جانشینوں کے ذریعہ سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ اس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:
میری امت کے آخری دور میں اس طرح ہدایت پہنچے گی جیسے میں تمہارے درمیان پہنچا رہا ہوں۔ (مسلم)
میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور ان کے مخالفین ہرگز ان کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے تو وہ اسی حالت پر قائم ہوں گے۔ (مسلم و بخاری)   

جس طرح ظاہری امراض کے علاج کے لیے اسپیشلسٹ ہوتا ہے اسی طرح روحانی امراض کا اسپیشلسٹ ہی نفس کا تزکیہ کر کے روحانی امراض سے چھٹکارا دلا سکتا ہے اور وہ اسپیشلسٹ مرشد کامل اکمل ہوتا ہے۔ مرشد کامل اکمل اپنی نگاہ کے فیض، ذکر اور تصورِ اسمِ اللہ ذات سے نفس کا تزکیہ فرما کر ظاہر و باطن کو پاک و مطہر کر دیتا ہے۔ ہر شخص پر ایسے ولی کامل کو تلاش کرنا لازمی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
جس نے اپنے زمانے کے امام کو ادراکِ قلبی سے دریافت نہ کیا پس تحقیق وہ جہالت کی موت مرے گا۔
موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنی نگاہِ کامل اور ذکر و تصور اسم اللہ ذات کے ذریعے طالب کے وجود سے تمام خصائلِ بد کا خاتمہ کر کے راہِ فقر کی لازوال منازل تک پہنچا دیتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی تمام تر کاوشوں کا مقصد دینِ حق کا پیغام عوام الناس تک پہنچانا اور ان کی روحانی تربیت فرما کر دین و دنیا میں کامیاب و کامران کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے طالب کو چاہیے کہ وہ مرشد کے ساتھ وفا کے طریق کو اپنائے اور خود کو سیاسی  اور منفی سوچ و عمل سے دور رکھتے ہوئے دینِ محمدیؐ پر استقامت اختیار کرے کیونکہ دنیا و آخرت میں کامیابی کے لیے سیاست نہیں  بلکہ روحانی تربیت کی ضرورت ہے۔

سلطان العاشقین زندہ باد
تحریک دعوتِ فقر پائندہ باد

استفادہ کتب:
۱۔شمس الفقرا ؛ تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
۲۔تزکیہ نفس کا نبوی طریقہ؛  ایضاً
۳۔نفس کے ناسور ؛  ایضاً
۴۔سلطان العاشقین ؛ ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز
۵۔جب زندگی شروع ہوگی؛ مصنف ابویحییٰ

40 تبصرے “دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے سیاست نہیں بلکہ روحانی تربیت کی ضرورت ہے | Duniya or Akhirat Main Kamyabi Kay Liye Siyasat Nahi Roohani Tarbiyat ki Zaroorat hai

    1. حضرت ابراہیم بن ادھمؒ وہ ولی اللہ ہیں جنہوں نے بادشاہت کو ٹھوکر مار کر راہِ فقر کو اپنایا۔ آپؒ فرماتے ہیں ’’فقر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ ان کو عطا کرتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘

      1. ماشااللہ بہت اچھا آرٹیکل لکھا ہے اس آرٹیکل کو پڑھنے کے بعد بہت ساری ایسی باتوں کا پتہ چلا ہے جو پہلے ہمیں نہیں پتا تھا
        شکریہ

  1. موجودہ دور کے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنی نگاہِ کامل اور ذکر و تصور اسم اللہ ذات کے ذریعے طالب کے وجود سے تمام خصائلِ بد کا خاتمہ کر کے راہِ فقر کی لازوال منازل تک پہنچا دیتے ہیں

  2. حضرت ابراہیم بن ادھمؒ وہ ولی اللہ ہیں جنہوں نے بادشاہت کو ٹھوکر مار کر راہِ فقر کو اپنایا۔ آپؒ فرماتے ہیں ’’فقر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ ان کو عطا کرتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘

  3. اللہ پاک ہمیں سلطان العاشقین کی صحبت سے ہمیشہ مستفید ہونے اور تمام روحانی امراض کا مکمل طور پر خاتمہ کرے.

  4. دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے سیاست نہیں بلکہ روحانی تربیت کی ضرورت ہے۔

  5. نظر فقرش گنج قدمش گنج بر
    فقر لایحتاج شد صاحب نظر
    ترجمہ: فقر کی نظر بھی خزانہ ہوتی ہے اور اس کے قدموں میں بھی خزانہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ لایحتاج یعنی ہر حاجت اور ضرورت سے بے نیاز رہتا ہے۔

  6. فقر شاہے ہر دو عالم بے نیاز و باخدا
    احتیاجش کس نہ باشد مدِنظرش مصطفیؐ
    ترجمہ: فقر ایک بادشاہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے قرب میں ہونے کی بنا پر دونوں جہاں سے بے نیاز ہے اسے کسی کی پرواہ نہیں کہ وہ ہر وقت حضورِ اکرمؐ کے مدنظر رہتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)

  7. حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:
    میری امت کے آخری دور میں اس طرح ہدایت پہنچے گی جیسے میں تمہارے درمیان پہنچا رہا ہوں۔ (مسلم)

  8. مضمون میں حضرت یرمیا علیہ السلام کا واقعہ بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے جو آج کے دور سے مطابقت رکھتا ہے

  9. تحریک دعوتِ فقر اللہ کی جماعت ہے جو روحانی تربیت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے

    1. فقر شاہے ہر دو عالم بے نیاز و باخدا
      احتیاجش کس نہ باشد مدِنظرش مصطفیؐ

اپنا تبصرہ بھیجیں