اخلاصِ نیت کیوںضروری ہے؟ | Ikhlas-e-Niyat Kiun Zaroori hai


1.5/5 - (2 votes)

اخلاصِ نیت کیوں ضروری ہے؟

Ikhlas-e-Niyat Kiun Zaroori hai

تحریر: فقیہہ صابر ( رائیونڈ)

ربِ کائنات اللہ عزوجل رحیم و کریم اور علیم و بصیر ہے۔ وہ صرف دلوں کی بات ہی نہیں جانتا بلکہ وہ دل کی ہر دھڑکن سے آگاہ ہے۔ اور جاننے کے ساتھ ساتھ حساب بھی لے گا چنانچہ قرآنِ مجید میں ارشاد ِ ربانی ہے :
جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اللہ کے لیے ہے، وہ باتیں جو تمہارے دلوں میں ہیں خواہ انہیں ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ (سورۃ البقرہ۔284)

نیت

نیت (Niyat) دل کے ارادے کو کہتے ہیں یعنی یہ ہر عمل کی اساس اور بنیاد ہے۔ نیت عربی کے کلمہ نواۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی گٹھلی کے ہیں، جیسی گٹھلی ویسا درخت یعنی جیسی نیت (Niyat) ویسا پھل۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور اس بات میں تم پر کوئی گناہ نہیں جو تم نے غلطی سے کہی لیکن (اس پر ضرور گناہ ہوگا) جس کا ارادہ تمہارے دلوں نے کیا ہو۔ (سورۃ الاحزاب۔5)
نیت (Niyat) ایک ایسی کسوٹی ہے جس کی خرابی کی بنیاد پر خالصتاً دینی عمل بھی موجبِ عذاب بن جاتا ہے اور اس کے خلوص کے نتیجے میں خالصتاً دنیوی عمل بھی ذریعہ نجات بن سکتا ہے۔ بخاری شریف کی پہلی حدیث نیت (Niyat) کے بارے میں ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ
ترجمہ: اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔
اگر ہم غور و فکر سے کام لیں تو صرف یہی ایک حدیث ہماری نیتوں کی درستی اور اعمال کی پاکیزگی کے لیے کافی ہے۔ نہایت واضح اور جامع الفاظ میں نبی رحمت آقائے دو جہان حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) نے ہمارے عمل و کردار کا رخ متعین فرما دیا ہے کہ نیت کی درستی عمل کی درستی ہے۔ اگر کہیں نیت میں بگاڑہے تو اس پر استعار ہونے والا عمل بھی ضائع ہو گا ۔

حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نیت کے معاملے میں دل پر نظر اس لیے فرماتا ہے کیونکہ دل ہی نیت کا مقام ہے۔ ہر شخص کو جزا اور سزا وہی ملے گی جیسی اس کی نیت ہوگی۔ (کیمیائے سعادت)
ایک روایت میں حضرت جابرؓ بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام (Prophet Mohammad pbuh) کو فرماتے ہوئے سنا ’’ہر بندے کو اسی (نیت یا عقیدے) پر اٹھایا جائے گا جس پر اسے موت آئی تھی۔‘‘ (مسلم، مسند احمد) 

کوئی بھی عمل نیت کے بغیر قابلِ اعتبار نہیں۔ خالص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کی رضا کی نیت سے عمل کرنا ہی فلاح کا ضامن ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا :
بے شک جب بندہ اعمال صالح کرتا ہے تو فرشتے ان اعمال کو مہر بند دستاویز میں درج کرنے کیلئے آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں پس ان دستاویزات کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جاتا ہے تو اللہ فرماتا ہے ’’ان دستا ویزات کو (نیکیوں سمیت) پھینک دو کیونکہ اس بندے نے ان میں درج اعمال کو میری رضا کیلئے سر انجام نہیں دیا۔‘‘ پھر وہ فرشتوں سے فرماتا ہے ’’تم فلاں بندے کیلئے اتنی اتنی نیکیاں لکھ دو۔‘‘ وہ عرض کرتے ہیں ’’اے ہمارے ربّ! اس نے تو کوئی عمل نہیں کیا؟‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اس بندے نے اس عمل کی نیت کی تھی۔‘‘ (الکرامۃ فی حسنِ نیت)
امام ابو خزیمہ کا قول ہے ’’اللہ تعالیٰ کی طرف دل سے توجہ کرنا نماز، روزہ جیسے ظاہری اعمال سے زیادہ فوقیت رکھتا ہے۔‘‘ (قوت القلوب)
طالبِ مولیٰ ہمیشہ اپنی نیت کو اچھا رکھتا ہے کیونکہ نیت میں خرابی راہِ فقر میں بہت بڑا حجاب ہے۔

اخلاص

اخلاص سے مراد یہ ہے کہ عمل ریاکاری سے پاک ہو اور فقط رضائے الٰہی کے حصول کیلئے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآ نِ مجید میں بار بار اخلاص کے ساتھ اعمال سرانجام دینے کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
آپ اللہ کی عبادت اس کے لیے اپنی طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کریں۔ (سورۃ الزمر۔2)
ایک مسلمان کی ساری زندگی عبادت کا گلدستہ بن سکتی ہے بشرطیکہ وہ ہر عمل کی بنیاد خلوصِ نیت اورصدقِ دل پر رکھے خواہ اس عمل کا تعلق دینی معاملات سے ہو یا دنیوی امور سے۔ اعمال اپنی اصل میں اس وقت ہی باعثِ اجر بنتے ہیں جب ان کے پیچھے خلوصِ نیت کی کار فرمائی ہو۔

حضرت خواجہ حسن بصریؓ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام (Prophet Mohammad pbuh) نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جسے میں اپنے بندوں میں سے جس سے محبت کرتا ہوں اس کے دل میں ودیعت کرتا ہو ں۔‘‘ (امام دیلمی)
اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کیلئے نیت میں اخلاص اور صدقِ دل ہونا بہت ضروری ہے۔ میرے مرشد کریم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) فرماتے ہیں:
صدق ہی عشق میں تڑپ پید اکرتا ہے۔ صدق نہ ہو تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔ (شمس الفقرا)

اخلاص نیت کی اہمیت 

ہماری زندگیوں میں اور تمام افعال و کردار میں اخلاص کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ ایمان کی سلامتی اخلاص سے ہے۔ امام بیہقی اور منذری نے روایت کیا ہے:
قبیلہ اسلم کے ایک شخص حضرت ابو فراس بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پکار کر آواز دی اور عرض کیا ’’یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) نے فرمایا ’’اخلاص ہی کا نام ایمان ہے۔‘‘
جتنے مرضی اعمالِ صالح کر لیے جائیں لیکن اگر ان میں اخلاص نہیں تو وہ سب ضائع ہیں۔ اخلاص دنیا و آخرت دونوں میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ اخلاصِ نیت کے بارے میں فرماتے ہیں:
اخلاص بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ جس نے اخلاص کو پا لیا اس نے گویا نفس کو قابو کر لیا اور جس نے نفس کو قابو کر لیا اُس نے اللہ کو راضی کر لیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کائنات میں سب سے بڑی نعمت ہے۔
راہِ فقر میں نیت میں صدق اور اخلاص کا ہونا برسوں کا سفر مہینوں میں طے کر دیتا ہے۔ (مجتبیٰ آخر زمانی)
طالبِ مولیٰ اپنی طلب میں اتنا سچا ہوتا ہے کہ دنیا و آخرت دونوں سے منہ موڑ لیتا ہے اور خلوص سے اپنے ربّ کی طرف رجوع کر تا ہے۔ راہِ فقر میں ہر منزل کیلئے اخلاص کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اگرکسی بھی منزل پر اخلاص میں کمی آجائے تو طالب کا سفر وہیں رک جا تا ہے۔

سیدّنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
اخلاص یہ ہے کہ بندہ اپنے ربّ سے اپنے اعمال کے اجر کا طالب نہ ہو۔ اس لیے کہ جو شخص ثواب کی نیت اور عذاب کے خوف سے عبادت کرتا ہے اسکا اخلاص مکمل نہیں ہوتا کیونکہ اس نے تو اپنی بھلائی کیلئے عبادت کی ہے۔ پس وہ ہر عمل جس میں تُو بدلے کا خواہشمند ہے وہ تیرے لیے ہے اور ہر وہ عمل جس سے مطلوب اللہ کی ذات ہو وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ جب تو عمل کرے اور اس کے بدلے کا طالب ہوگا تو اس کی جزا بھی مخلوق ہو گی (یعنی جنت) اور جب تو عمل خالص اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے کرے گا اس کی جزا اللہ کا قرب اور اسکا دیدار ہوگا۔ تیرے لیے بہتر ہے کہ تو عمل کا بدلہ نہ مانگ۔ (الفتح الربانی۔ مجلس 4)
شیطان اخلاص کا سب سے بڑا دشمن ہے اس کی پوری کو شش ہوتی ہے کہ طالب ِ مولیٰ کی نیت میں اخلاص پیدا نہ ہو اس لیے یہ دل میں وسوسے ڈال کر طالب کو شہرت اور ریاکاری کی طرف راغب کرتا ہے اور ہر لمحہ راہِ حق سے بھٹکانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ۔

سلطان العا شقین حضرت سخی سلطا ن محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف لطیف ’شمس الفقرا‘ میں فرماتے ہیں : 
 خلوص اور محنت سے اللہ کا کام کرنے والے کا کام بھی اللہ بہترین طریقے سے کرتا ہے۔ 
نیت میں اخلاص جتنا زیادہ ہوتا ہے بندہ اتنی ہی جلدی اللہ کے قریب ہوتا ہے اور جتنا قریب ہوتا ہے اتنا ہی عاجزی میں اضافہ ہوتا ہے بشرطیکہ نیت میں اخلاص ہو۔ 

یاد رہے کہ :
راہِ فقر پر چلنے اور محبت ِالٰہی کو پانے کیلئے بھی نیت میں صدق ہونا بہت ضروری ہے۔ جو شخص اپنے رہبر اور مرشد کے ساتھ مخلص نہیں وہ کبھی بھی اللہ کا قرب نہیں پا سکتا۔ مرشد ہی اخلاص کا پودا لگاتا ہے جس کاپھل اللہ کی معرفت ہے۔ موجودہ دور میں مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) ہیں۔ آپ سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام اور حضرت سخی سلطان باھوُ رحمتہ اللہ علیہ کے حقیقی و روحانی وارث ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اسمِ اللہ ذات (Personal Name of Allah | Ism e Allah Zaat | Ism e Azam) اور فقر کے فیض کو دنیا بھر میں ہر کسی کے لیے عام فرما دیا ہے۔ عوام الناس کے لئے دعوتِ عام ہے کہ آئیں مرشد کامل اکمل جامع نورالہدیٰ کے دستِ مبارک پر بیعت ہوکر اپنی تخلیق کا حقیقی مقصد یعنی معرفتِ الٰہی حاصل کریں۔

استفادہ کتب :
۱۔شمس الفقرا؛ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman)
۲۔مجتبیٰ آخر زمانی؛ تصنیف ایضاً 
۳۔الکرامۃ فی حُسنِ النِیتہِ والاستقامۃ؛تصنیف ڈاکٹر طاہر القادری 

 

31 تبصرے “اخلاصِ نیت کیوںضروری ہے؟ | Ikhlas-e-Niyat Kiun Zaroori hai

  1. جو شخص اپنے رہبر اور مرشد کے ساتھ مخلص نہیں وہ کبھی بھی اللہ کا قرب نہیں پا سکتا۔ مرشد ہی اخلاص کا پودا لگاتا ہے جس کاپھل اللہ کی معرفت ہے۔

  2. راہِ فقر پر چلنے اور محبت ِالٰہی کو پانے کیلئے بھی نیت میں صدق ہونا بہت ضروری ہے

  3. مرشد اخلاص کا پودا لگاتا ہے جس کا پھل معرفت الہٰی ہے

    1. رب تو پرخلوص نیت اور صدق دل والوں کو ملتا ہے

  4. راہِ فقر پر چلنے اور محبت ِالٰہی کو پانے کیلئے بھی نیت میں صدق ہونا بہت ضروری ہے

    1. ماشاء اللہ اخلاص نیت پر لکھا گیا بہت اچھا مضمون ہے پڑھ کے لطف آ گیا

  5. حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں :
    اللہ تعالیٰ نیت کے معاملے میں دل پر نظر اس لیے فرماتا ہے کیونکہ دل ہی نیت کا مقام ہے۔

  6. خالص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (Prophet Mohammad pbuh) کی رضا کی نیت سے عمل کرنا ہی فلاح کا ضامن ہے۔

  7. سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس (Sultan ul Ashiqeen Hazrat Sakhi Sultan Mohammad Najib ur Rehman) فرماتے ہیں:
    صدق ہی عشق میں تڑپ پید اکرتا ہے۔ صدق نہ ہو تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔ (شمس الفقرا)

    1. آپ کے مضامین پڑھ کر یقیننا موٹیویشن ملتی ہے

  8. یاد رہے کہ :
    راہِ فقر پر چلنے اور محبت ِالٰہی کو پانے کیلئے بھی نیت میں صدق ہونا بہت ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں