ashiqeen

Sultan ul Ashiqeen or Insan Saazi | سلطان العاشقین اور انسان سازی

سلطان العاشقین اور انسان سازی

تحریر: مسز فاطمہ برہان سروری قادری (لاہور)

انسان کون ہے؟ تمام جانداروں میں سب سے افضل و برتر، تمام مخلوقات میں سب سے اشرف واعلیٰ یا شیطان کے بہکاوے میں آجانے والا، بھائی کا قتل کرنے والا، خواہشاتِ نفس کی بھینٹ چڑھ کر ہوس کا شکار ہو جانے والا، یزیدیت و فرعونیت کی تاریخ رقم کرنے والا۔ آخر کون ہے انسان؟ فرمانبردار بندہ یا محب ِ وطن یا تہذیب و تمدن کے دائرے میں رہنے والا، احساس و ہمدردی رکھنے والا۔ بندئہ خدا انسان ہے یا صفت ِ انسانی رکھنے والا انسان ہے؟ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے انسان کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی ہے ’’آدمی سب ہیں مگر انسان خاص ہے  انسان وہ ہے جس کے اندر اللہ پاک کی ذات ظاہر ہو جائے۔‘‘ 
 اسلام وہ آفاقی دین ہے جس کی تعلیمات کا مرکز نوعِ انسانی کی فلاح و بہبود ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو بھی اسی لیے مبعوث کیا گیا تاکہ انسان کو درحقیقت ـ’’حقیقت ِ انسانی‘‘ کے مفہوم سے روشناس کرواکر مقصد ِ حیات تک پہنچنے کا راستہ دکھایا جا سکے۔ نوعِ انسان کی تربیت و اصلاح کی سب سے بڑی مثال حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ طیبہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا میں اسی لیے مبعوث کیا گیا ہوں تاکہ اچھے اخلاق کی تکمیل کر سکوں۔ 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور انسان سازی 

سر زمین ِ عرب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظہور سے قبل لوگ جہالت کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ ذات پات، رنگ و نسل کی بنا پر ایک قبیلہ اپنے آپ کو دوسرے قبائل سے برتر سمجھتا تھا۔ عورتیں، بچے، بوڑھے سب ظلم کی چکی میں پس رہے تھے۔ معمولی باتوں پر شروع ہونے والی لڑائیاں نسل در نسل جاری رہتیں۔ قتل و غارت گری کے مناظر گلیوں بازاروں میں عام دیکھنے کو ملتے۔ مظلوموں کا ناحق قتل، عورتوں کے ساتھ ناروا سلوک، بچیوں کو زندہ دفن کر دینا۔ ایسا کونسا ظلم تھا جو اس سر زمین میں روانہ رکھا گیا ہو۔ لیکن جب رحمتہ اللعالمین سرورِ کونین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نگاہِ کامل ان کے زنگ آلود قلب پر پڑی تو سارے عالم نے انہی وحشی صفت لوگوں کو مہذب و ترقی یافتہ قوم بن کر اُبھرتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اصلاحِ نفس کے مرحلے سے گزار کر ’’صفت ِ انسانی‘‘ سے موصوف کر دیا۔ یہ کمالِ عشق ِ مصطفی تھا کہ ان کے ظاہر و باطن، اخلاق، سیرت، حیا، گفتگو گویا ہر پہلو سے محبوبِ خدا احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کی خوشبومہکنے لگ گئی۔ مختصراً یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تمام تعلیمات کا مقصد تربیت ِ انسانی یا انسان سازی ہے اور یہی فقر ِ محمدیؐ کی اساس ہے۔ 

سلطان العاشقین اور انسان سازی

 ہر نبی نے جس بنا پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا امتی ہونے کی دعا کی وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ورثہ فقر ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فخر فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔‘‘ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فقر کی امانت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے توسط سے سلسلہ در سلسلہ سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ سے ہوتی ہوئی سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچی اور موجودہ دور میں اس امانت ِ فقر کے حامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ وارثِ امانت ِ فقر ہونے کی ایک اہم نشانی یہ بھی ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس اپنے سالکین کی ظاہری و باطنی تربیت اُسی انداز میں فرماتے ہیں جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے زمانے میں صحابہ کرامؓ کی فرمایا کرتے تھے۔
حدیث ِ مبارکہ ہے:
شیخ (مرشد ِ کامل) اپنی قوم (مریدوں) میں ایسے ہوتا ہے جیسے ایک نبی اپنی اُمت میں۔
میری اُمت کے آخری دور میں ہدایت اس طرح پہنچے گی جیسے میں تمہارے درمیان پہنچا رہا ہوں۔ (مسلم)
انسان سازی یا تربیت ِ انسان کے متعلق سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کا قول مبارک ہے:
’’دنیا کا سب سے مشکل کام انسان کو انسان بنا نا ہے۔ ‘‘
آپ مدظلہ الاقدس ایک طالب ِ مولیٰ کی شخصیت کو جن جواہر سے یا صفاتِ الٰہیہ سے متصف فرماتے ہیں ان کو بیان کرنے کے لیے کئی دفاتر درکار ہیں، سالکین کی آسانی کے لیے چند کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ 

مرشد پر یقین ِ کامل: 

 طالب کے وجود میں شخصیت سازی کا عمل تب پروان چڑھتا ہے جب طالب کا اپنے مرشد پر یقین اور اعتقاد پختہ ہو جاتا ہے کیونکہ طالبی و مریدی دو طرفہ عمل کا نام ہے۔ مرشد پر یقین و اعتبار سفر ِ باطن کی شرطِ اوّل ہے۔ اس بات پر پختہ ایمان رکھ لیا جائے کہ مرشد کا ہر عمل طالب کی بہتری کے لیے ہے تو یہی سوچ تمام باطنی آزمائشوں میں کامیابی کی ضمانت بن جاتی ہے۔

طالب کی فطرت :

دین ِ اسلام فطرت کا دین ہے یعنی انسانی فطرت سے متابعت رکھتا ہے۔ انسانی فطرت کا شخصیت کے اوپر گہرا اثر ہوتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس طالب کی تربیت اس کی فطرت کے مطابق فرماتے ہیں۔ اس کے وجود سے تمام بُرے خصائل کو نکال کر بہتر انسان بنا دیتے ہیں۔ تربیت ِ انسان کو اگر دوسرے الفاط میں بیان کیا جائے تو اس سے مراد تربیت ِ نفس ہے۔ نفس کے متعلق آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں : 
نفس اللہ اور بندے کے درمیان حجاب ہے۔ اگر یہ حجاب درمیان سے ہٹ جائے تو اللہ اور بندے کے درمیان کوئی حجاب نہیں رہتا۔ (شمس الفقرا)
آپ مدظلہ الاقدس کا طالبانِ مولیٰ کے اوپر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ نفس سے رہائی کے لیے آپ مدظلہ الاقدس طالبوں کو چلہ کشی اور ورد وظائف جیسی مشکل ریاضتوں میں ہرگز نہیں الجھاتے بلکہ تصورِ اسم ِ اللہ ذات اور ذکر ِ یاھو کے ذریعے طالب کے باطن کو منور فرما دیتے ہیں۔ مرشد کامل کی کیمیائی نظر اور اسم ِ اللہ ذات کی تجلیات سے طالب کا نفس کمزور پڑ جاتا ہے اور نفس امارہ ‘ نفس ِ مطمئنہ میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اس کی فطرت بھی پاکیزہ ہو جاتی ہے۔ 

مثبت سوچ:

کردار میں مثبت تبدیلی کے لیے مثبت سوچ درکار ہوتی ہے۔ انسان کا ہر عمل سوچ پر منحصر ہوتا ہے۔ ربِ کائنات کی بارگاہ میں جزا اور سزا کا تعین بھی انسان کی سوچ یعنی نیت کی بنا پر ہوتاہے۔ آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
انسان کی سوچ ہی اصل ہے۔ سوچ کو مثبت بنا لینا فقر میں کمال ہے۔ (سلطان العاشقین)
آپ مدظلہ الاقدس طالبوں کو تلقین فرماتے ہیں کہ سوچ کو مثبت رکھنے کی صورت یہ ہے کہ بندہ اپنا ہر عمل اللہ کی رضا کی خاطر کرے چاہے دنیاوی مقصد ہو یا دینی۔ انسان دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے اللہ کی رضا کو نہیں پا سکتا کیونکہ دین ِ اسلام میں رہبانیت کی گنجائش نہیں۔ دنیا میں رہ کر اللہ کو پانا یہی اصل آزمائش ہے اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ بندہ اپنا ہر عمل اللہ کے لیے خاص کر لے۔ 

موجودہ دور کے ساتھ ہم آہنگی:

امامِ زمانہ در حقیقت وہ مجددِ دین ہوتا ہے جو دین کی اصل روح کو قائم رکھتے ہوئے تعلیماتِ دین کی تجدید ِ نو اپنے دور کے جدید تقاضوں کے مطابق کرتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس موجودہ دور کے امامِ زمانہ اور مجد ِد دین ہیں اس کاثبوت آپ مدظلہ الاقدس کے اندازِ تبلیغ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مادہ پرستی، فتنہ پروری اور نفسانفسی کے اس دور میں دین ِ اسلام کی حقیقی روح کو قائم رکھنے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس حضرت سخی سلطان با ھو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کودنیا بھر میں عام فرما رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے بہت سی کتب شائع کیں اور ان کے فروغ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال فرما رہے ہیں جس میں ای بکس (E-Books)، سوشل میڈیا مثلاً ٹویٹر (Twitter)، فیس بک (Facebook)، واٹس ایپ (Whatsapp)، لنکڈاِن (LinkedIn)، انسٹاگرام (Instagram)، پن ٹرسٹ (Pinterest)، ٹمبلر(Tumblr)، ٹک ٹوک (TikTok)، لائکی (Likee) وغیرہ شامل ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے طالبوں کو بھی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی تلقین فرماتے ہیں کیونکہ اللہ پاک خود فرماتا ہے زمانے کو برا نہ کہو زمانہ خود خدا ہے۔  

فَفِرُّوْٓا ِالَی اللّٰہ :

آپ مدظلہ الاقدس تحریک دعوتِ فقر کے بانی اور سر پرست ِ اعلیٰ ہیں۔ تحریک دعوتِ فقر کا نعرہ فَفِرُّوْٓا ِالَی اللّٰہ  یعنی ’’دوڑو اللہ کی طرف‘‘ ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی بارگاہ میں جو بھی صدقِ دل کے ساتھ حاضر ہوتا ہے اس کی زندگی کا مقصد بھی یہی نعرۂ حق بن جاتا ہے۔

مستقل مزاجی اور فیصلہ سازی : 

مستقل مزاجی یا استقامت پسندی راہِ فقر میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے طالب ِ مولیٰ کی شخصیت کی عکاسی اپنے شعر میں ان الفاظ میں کی ہے:

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
    (ضربِ کلیم)

آپ مدظلہ الاقدس ایک صادق طالب ِ مولیٰ کی شخصیت کو اسی شعر کے سانچے میں ڈھال دیتے ہیں۔ راہِ فقر راہِ عشق ہے۔ اس راہ میں وہی کامیاب و کامران ہوتا ہے جو بے خوف اور نڈرہوکر عشق کے میدان میں جان کی بازی لگا دیتا ہے اور استقامت ومستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔
انسانی شخصیت کی بہترین نشوونما کے لیے فیصلہ سازی ضروری امر ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس ایک طالب ِ مولیٰ کو یہ ہنر سکھانے کے لیے اسے مختلف ظاہری و باطنی احوال سے گزارتے ہیں اور مختلف ڈیوٹیاں عطا کر کے اس کے اندر فیصلہ سازی کی صلاحیت پیدا کر دیتے ہیں۔ چونکہ مرشد طالب کے ظاہر و باطن سے مکمل طور پر آگاہ ہوتا ہے اس لیے طالب کو جو بھی ڈیوٹی عطا کرتا ہے اس کی اپنی ظاہری اور باطنی قابلیت کی بنا پرکرتاہے بلکہ یہ بھی دیکھا گیاہے کہ آپ مدظلہ الاقدس طالب کی تربیت اس انداز میں فرماتے ہیں کہ طالب کے اندر پوشیدہ وہ تمام خوبیاں جن کے متعلق وہ خود بھی آگاہ نہیں ہوتا تمام ابھر کر سامنے آجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ مدظلہ الاقدس طالب کو اپنے ماضی کے تجربات سے سیکھنے پر بہت زور دیتے ہیں۔

تسلیم و رضا:

کامل مرشد وہ ہوتا ہے جو طالب کو بندگی کے اصول سکھا دیتا ہے۔ حق ِ بندگی یہی ہے بندہ ہر حال میں ربّ تعالیٰ کا شکر بجا لائے اور تسلیم و رضا کا دامن تھامے رکھے۔ راہِ فقر میں تسلیم و رضا ایک بہت اعلیٰ مرتبہ ہے اسی مرتبے کے بعد طالب پر مشاہدۂ حق تعالیٰ اور مجلس ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مراتب کھلتے ہیں۔ تسلیم ورضا یہ ہے کہ طالب دکھ، غم، خوشی، سیری، غنایت، ہیبت، خوف، بھوک، پیاس، تنگی، صحت و تندرستی، ہر آزمائش و بلا میں اپنے پروردگار کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس اپنی تربیت سے صادق طالبانِ مولیٰ کی فطرت میں تسلیم و رضا کو اس قدر پختہ کر دیتے ہیں کہ طالب ہر حال میں اللہ سے راضی رہتا ہے۔

 مرتبہ فنا فی الشیخ ، فنا فی اسمِ محمدؐ ، فنا فی اللہ:

انسان سازی کا عمل تب ہی انتہا کو پہنچتا ہے جب طالب فنا فی الشیخ، فنا فی اسم ِ محمد اور فنا فی اللہ کے مراتب تک پہنچ جاتا ہے۔ ان میں سب سے مشکل مرتبہ فنا فی الشیخ کا ہے۔ جب طالب اس مرتبے کو پا لیتا ہے تو باقی مراتب کو پانا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ مرشد کامل پہلے ہی فنا فی اسم ِ محمد اور فنا فی اللہ کے مراتب تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔ جو مرشد میں فنا ہو جاتا ہے اسے تمام مراتب حاصل ہو جاتے ہیں ۔
 آپ مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں جب انسان کا باطن منور ہو جاتا ہے تو انسان کا ظاہر خود بخود مطیع و فرمانردار اور لائق ِ بندگی بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس موجودہ دور میں باطن کی تربیت کو چھوڑ کر ظاہر پرستی کی جانب زیادہ توجہ دی جاتی ہے ۔

حاصل ِ کلام:

 انسان کو صفاتِ الٰہیہ سے وہی روشناس کروا سکتا ہے جو خود کاملیت کے مرتبے پر پہنچ چکا ہوتا ہے۔ دنیاوی زندگی میں بھی یہی اصول  دیکھا گیا ہے کہ چاہے مقصد کوئی ڈگری حاصل کرنے کا ہو یا کسی منزل پر پہنچنے کا‘ انسان ہمیشہ ایک کامل راہبریا راہنما کا طلبگار رہتا ہے۔ راہِ باطن یا راہِ فقر میں کامیابی کے لیے مرشد کامل اکمل کی راہبری ضروری ہے وہی طالب کی ظاہری و باطنی تربیت فرما کر اسے اپنی منزل و مراد تک پہنچا دیتا ہے۔ موجودہ دور کے انسانِ کامل حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں اور آپ کے دست ِ اقدس پر بیعت کر کے ظاہری و باطنی تربیت کا سفر شروع کیا جا سکتا ہے۔ 

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ہماری حقیقی منزل تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)

 
 

Sultan ul Ashiqeen or Insan Saazi | سلطان العاشقین اور انسان سازی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں