aftab e faqr

Aftab e Faqr | آفتابِ فقر

آفتابِ فقر –  سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

تحریر: سارا ملک سروری قادری  (جوہرآباد)

اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ کائنات اور اس کی ہر ایک شے اپنے اظہار اور اپنی پہچان کے لیے تخلیق فرمائی جیسا کہ حدیث ِقدسی میں اللہ فرماتا ہے:
کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِیًا فَاَحْبَبْتُ اَن اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ
ترجمہ: میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا پس میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں لہٰذا میں نے مخلوق کو تخلیق کیا۔

اللہ کی پہچان انسانوں کی تخلیق کا اصل مقصد اور اس دنیا میں ان کی آزمائش ہے اسی لیے دنیا کو امتحان گاہ قرار دیا گیا۔ اللہ کی پہچان اس کا دیدار اور قرب حاصل کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ دیدار اور قربِ الٰہی کی راہ ہی صراطِ مستقیم ہے جس سے بھٹکانے کے لئے شیطان انسانوں کے اندر اور باہر سے ان پر حملہ کرتا رہتا ہے۔ وہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے گمراہ ہوا اور اس نے اولادِ آدم کو بھی گمراہ کرنے کا عہد کیا۔ اس واقعہ کو سورہ اعراف میں تفصیلاً بیان کیا گیا ہے: 

اور بے شک ہم نے تمہیں (یعنی تمہاری اصل کو) پیدا کیا پھر تمہاری صورت گری کی (یعنی تمہاری زندگی کی کیمیائی اور حیاتیاتی ابتدا و ارتقا کے مراحل کو آدم ؑکے وجود کی تشکیل تک مکمل کیا) پھرہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم ؑ کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہوا۔ ارشاد ہوا (اے ابلیس!) تجھے کس (بات) نے روکا تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جبکہ میں نے تجھے حکم دیا تھا۔ اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو تو نے مٹی سے بنایا ہے۔ ارشاد ہوا پس تو یہاں سے اُتر جا۔ تجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تو یہاں تکبر کرے۔ پس (میری بارگاہ سے) نکل جا بے شک تو ذلیل و خوار لوگوں میں سے ہے۔ اس نے کہا مجھے اس دن تک (زندگی کی) مہلت دے جس دن لوگ (قبروں سے) اُٹھائے جائیں گے۔ ارشاد ہوا بے شک تو مہلت دیئے جانے والوں میں سے ہے۔ اس (ابلیس) نے کہا پس اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا (مجھے قسم ہے کہ) میں (بھی) ان (بنی آدم کو گمراہ کرنے) کے لیے تیری سیدھی راہ میں ضرور بیٹھوں گا (تاکہ انہیں راہِ حق سے ہٹا دوں) پھر میں یقینا ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے ان کے پاس آؤں گا اور (نتیجتاً) تُو ان میں سے اکثر لوگوں کو شکرگزار نہ پائے گا۔ ارشاد ہوا (اے ابلیس!) تو یہاں سے ذلیل و مردود ہو کر نکل جا۔ ان میں سے جو کوئی تیری پیروی کرے گا تو میں ضرور تم سب سے دوزخ کو بھر دوں گا۔ (الاعراف 11-18)
پس شیطان ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ انسان کو راہِ الٰہی سے ہٹا دے اور نفس کے غلبہ سے تاریکی و ظلمات کی راہوں پر گامزن کر دے۔ اسی وجہ سے آج ہر طرف جہالت و گمراہی عام ہو چکی ہے۔ نفس پرستی میں مشغول ہر انسان اللہ کی ذات سے غافل اور بے سکونی اور بے چینی میں مبتلا ہے۔ چونکہ اللہ کی ذات پر توکل نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے پریشانیوں نے ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے۔
چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ انسان سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے اس لیے وہ انسان کو کبھی بھی برائی اور ظلمات کے راستے پر تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ وہ ربّ کریم انسانوں کی راہنمائی اور انہیں ظلمات کی راہ پر چلنے سے روکنے کے لیے اپنے نیک بندوں کو منتخب کرتا ہے۔ اللہ کے یہ نیک اور برگزیدہ راہنما انبیا کرام ہیں جو مختلف ادوار میں مختلف قوموں اور امتوں کی طرف بھیجے گئے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری کے بعد سلسلہ ٔنبوت ختم ہو گیا لیکن راہنمائی کا یہ سلسلہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ورثہ فقر کے وارثین یعنی فقرا کاملین کی صورت میں جاری رکھا اور تاقیامت جاری رہے گا۔ یہ ممکن نہیں کہ اللہ جو کہ رحمن و رحیم ہے اپنے بندے کو آزمائش میں ڈالے اور اس آزمائش سے نکلنے کی تدبیر نہ کرے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں اپنی پہچان کے لیے بھیجا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پہچان کی راہ دکھانے والا کوئی راہنما نہ بھیجے اور کوئی واسطہ و وسیلہ نہ پیدا کرے۔پس وہ وسیلہ انسانِ کامل ہے۔ ہر زمانہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک نائب انسانِ کامل کی صورت میں لازماً موجود ہوتا ہے جو مظہر ِ ذات اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدم مبارک پر ہوتا ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ دنیا میں انسانوں کو بھیجتا رہے گا تب تک انسانِ کامل بھی ان میں ہمیشہ موجود رہے گا جو اللہ تعالیٰ کے طالبوں کی اس طرح تربیت کرے گا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے اصحاب کی تربیت فرمائی اور انہیں صراطِ مستقیم دکھایا۔ یہ انسانِ کامل اپنے دور میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نائب اور اللہ کا خلیفہ ہوتا ہے اور اس نظریے کو صوفیا کرام نے حقیقت ِ محمدیہ سے موسوم کیا ہے۔

حضرت سیّد عبد الکریم بن ابراہیم الجیلی رحمتہ اللہ علیہ اپنی تصنیف ’’انسانِ کامل‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’حقیقت ِ محمدیہ ہر زمانہ میں اس زمانہ کے کامل کی صورت میں اس زمانہ کی شان کے مطابق ظاہر ہوتی ہے یہ انسانِ کامل اپنے زمانہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خلیفہ ہوتا ہے۔‘‘ (انسانِ کامل)

امانت ِ الٰہیہ کا حامل انسانِ کامل جسے صاحب ِ مسمّٰی مرشد کہا جاتا ہے یہی مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ ہوتا ہے۔ اگر اللہ کے طالبوں کو ایسا مرشد مل جائے تو فقر کی انتہا پر پہنچنا کوئی مشکل مرحلہ نہیں ہے۔ اس کی شان یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ پہلے دن ہی طالب کو سلطان الاذکار ’’ھو‘‘ عطا کر دیتا ہے اور تصور کے لیے اسم ِ اللہ ذات عطا فرماتا ہے۔ اگر طالب ِ صادق کو ایسا مرشد مل جائے تو اسے چاہیے کہ فوراً اس کا دامن پکڑ لے۔ ایسا مرشد کامل اکمل تلاش کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ غیر معروف ہوتا ہے اور اس کو صرف وہی طالب پہچان سکتے ہیں جو دیدارِ حق تعالیٰ اور مجلس ِ محمدیؐ کی حضوری کی طلب لے کر گھر سے نکلتے ہیں۔
جیسا کہ پہلے تذکرہ ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر زمانے میں انسانِ کامل بھیجتا ہے اور آج کے دور کے طالبانِ مولیٰ نے اس زمانے کے انسانِ کامل اور امام الوقت کو جس بابرکت ہستی کی صورت میں پہچانا ہے وہ عظیم ذات شبیہ ِغوث الاعظم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی ہے جو سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے بعد امانت ِ الٰہیہ کے حامل مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ ہیں۔

وہی مجددِ دوراں وہی امامِ مبین
کہ ہے فقر کی امانت کا پاسبان نجیب
کون ہے جو تیرے اس رازِ ولایت تک پہنچے
اسم اللہ ہی بتائے تیرا عرفان نجیب
کتابِ فقر کا عنوان سلطان اصغرؒ ہیں
مگر ہے علم ِ تصوف کی داستان نجیب 
وہ  جو  بیٹھا  ہے اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ کی چادر اوڑھے
وہی ہے میرا مرشد کامل سلطان نجیب

آپ مدظلہ الاقدس 19 اگست 1959 بروز بدھ صبح چار بج کر تیس منٹ پر بخشن خان تحصیل چشتیاں ضلع بہاولنگر میں پیدا ہوئے۔ اسی بابرکت دن کی مناسبت سے آپ مدظلہ الاقدس کے خلیفہ سلطان ناصر حمید ناصرؔ نے آپ کی شان میں منقبت لکھی جس کا ایک بند تحریر کیا جا رہا ہے۔ 

اللہ کا احسان 19 اگست کو تیرا ظہور ہوا
فقر کا نور پھیلا ظلمت کا اندھیرا دور ہوا
عاشقوں کے دل جس سے ہو گئے مسحور
 اللہ کا ہے مظہر اور نبیؐ کا نور
سلطان العاشقین میرا مرشد ہے مشہور

آپ مدظلہ الاقدس کا بچپن دوسرے بچوں سے بہت مختلف تھا۔آپ مدظلہ الاقدس کے چہرے پر نور اور معصومیت جھلکتی تھی۔ جو شخص آپ کے نورانی چہرے کا دیدار کر لیتا آپ کو اپنی گود میں اٹھانے کے لیے بیتاب ہو جاتا۔ آپ بچپن سے ہی بہت زیادہ نفاست پسند تھے۔
بے چینی بھی بچپن سے ہی آپ مدظلہ الاقدس کی طبیعت میں موجود تھی۔ دنیاوی مشاغل میں زیادہ خوشی محسوس نہ کرتے۔ یوں محسوس ہوتا جیسے کسی چیز کی تلاش ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اکثر سب سے الگ ہو کر تنہائی اختیار فرما لیتے۔
بچپن سے آپ مدظلہ الاقدس کی طبیعت میں حق کی جستجو تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ نوکری کے اوقاتِ کار کے علاوہ آپ مدظلہ الاقدس اپنا بیشتر وقت قرآن کی تلاوت، ذکر اذکار اور نوافل میں گزارتے لیکن بے چینی کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی چلی گئی۔ آپ مدظلہ الاقدس کو کسی ایسے مرشد کامل اکمل اور ہادی کی تلاش تھی جو آپ کی اس بے قراری کو دور کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کر سکے۔ خواب میں دو مرتبہ اُس ہادیٔ برحق کا چہرہ مبارک بطور اشارہ نظر آیا جس کی تلاش میں آپ مدظلہ الاقدس نے ملک بھر کا چپہ چپہ چھان مارا۔ بالآخر 12 اپریل 1998ء بمطابق 15 ذوالحجہ 1418ھ کو آپ مدظلہ الاقدس کو خواب والی من موہنی صورت مل گئی۔ جس عظیم ہستی کی طرف اللہ تعالیٰ نے آپ مدظلہ الاقدس کی خواب میں راہنمائی فرمائی تھی وہ کوئی اور نہیں بلکہ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اسی روز ان کے دست ِ اقدس پر بیعت کر کے مرشد کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال لیا اور عشق ِ حقیقی اور تسلیم و رضا کی وہ داستان رقم کی کہ آپ مدظلہ الاقدس قلیل عرصہ میں اپنے مرشد کے منظورِ نظر اور مطلوب بن گئے۔ آپ کے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو ہر طرح سے آزمایا اور آپ مدظلہ الاقدس اللہ تعالیٰ کے کرم اور مرشد کی مہربانی سے ہر آزمائش میں پورے اُترے اور بارگاہِ نبویؐ سے امانت ِ الٰہیہ کے وارث کے طور پر منتخب ہوئے اور 21 مارچ 2001ء کو امانت ِ الٰہیہ بارگاہِ نبوی سے آپ مدظلہ الاقدس کو منتقل ہوئی۔ 26 دسمبر 2003ء کو حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے ظاہری وصال کے بعد آپ مدظلہ الاقدس نے مسند ِ تلقین و ارشاد سنبھالی اور خلق ِ خدا کو راہِ حق یعنی فقر ِ محمدیؐ کی طرف بلانے کے لیے رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔ یہاں سے فقر کا آفتاب ایک نئے انداز میں طلوع ہوا۔

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

(علامہ اقبالؒ)

آپ مدظلہ الاقدس سورج کی مانند ہیں جس سے سارے جہان میں روشنی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے چہرے سے چھلکتاہوا نور ایسے ہے جیسے رات میں چاند کی روشنی ہوتی ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس سحر انگیز شخصیت کے مالک ہیں جو ہر خالص وجود کو اس قدر پُرکشش محسوس ہوتی ہے کہ وہ لا محالہ آپ کی طرف کھنچا چلا آتا ہے۔ قریب ہونے پر آپ کے اخلاق و اطوار اُسے آپ کی حسین ذات کے حصار میں یوں قید کر لیتے ہیں کہ وہ کبھی آپ سے دور نہیں ہونا چاہتا۔ آپ مدظلہ الاقدس ہمیشہ سب سے مسکرا کر ملتے ہیں اور سلام کرنے میں پہل فرماتے ہیں۔ آپ کا اندازِ تخاطب عزت و احترام سے بھرپور ہوتا ہے خواہ ملنے والا امیر ہو یا غریب ‘ بڑا ہو یا بچہ۔ آواز مبارک ہمیشہ دھیمی رکھتے ہیں۔ کسی نے آج تک آپ مدظلہ الاقدس کو اونچی آواز میں یا چِلا کر بات کرتے نہیں سنا۔ جب آپ سے کوئی شخص گفتگو کرتا ہے تو آپ ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں اور مکمل بات سن کر ہی جواب دیتے ہیں ، کبھی بھی درمیان میں بات نہیں کاٹتے۔ اگر بات نامناسب یا ناگوار لگے تو مکمل خاموشی اختیار فرماتے ہیں اور اگر کوئی آپ کی تعریف کرے تو بھی خاموش ہو جاتے ہیں اور عاجزی سے صرف اتنا فرماتے ہیں کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ 

چہرے تے للہ دی نشانی مکھڑا تیرا ہے نورانی
مصطفی ٹاون وچ تخت تیرا سلطان نجیب جانی
اللہ نبی منظور کیتا ذات تیری ربانی
بیعت تینوں حضور کیتا پہنایا تاج سلطانی
بشریت تیری وچ ظہور کیتا شاہ محبوب جیلانیؓ 

پس مسند ِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد آپ مدظلہ الاقدس کا ایک ہی مشن تھا کہ فیض ِ فقر کو دنیا بھر میں عام کیا جائے اور اسی سوچ اور نظریے کو لے کر آپ مدظلہ الاقدس نے دن رات انتھک محنت کی اور پیغامِ فقر کو عام کرنے کے لیے بے مثال جدوجہد کی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا بھر میں آپ مدظلہ الاقدس کے مریدین موجود ہیں اور آپ کے لامحدود تصرف کا اس سے بہتر ثبوت کوئی نہیں کہ آپ ہزاروں میل دور موجود مریدین و طالبانِ مولیٰ کو فیض ِ فقر سے مستفید فرماتے ہیں۔ اس پُرفتن دور میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تمام انسانوں کے لیے مجسم رحمت ہیں۔

جو نہ ہو سکے بیان وہ ذات ہے تیری
لفظ بھی کم پڑ جائیں وہ شان ہے تیری
سیاہی بھی ختم ہو تعریف میں تیری
مر مٹیں بھی تو حق ادا نہ ہو عطا کا تیری
اے سلطان العاشقین ہر درد کا علاج اک نگاہ ہے تیری

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن کی با کمال و بے مثال شخصیت کو الفاظ میں قید کرکے بیان کرنا ناممکن ہے وہ صرف اللہ ہی ہے جو اپنے محبوبوں کی شان کو بیان کر سکتا ہے۔
آپ مد ظلہ الاقدس نہ تو بہت ہی طویل قامت اور نہ ہی پست قد ہیں بلکہ آپ مدظلہ الاقدس میانہ قد کے مالک ہیں۔آپ مد ظلہ الاقدس کی آنکھیں ہر وقت شرم و حیا کی وجہ سے جھکی رہتی ہیں لیکن جب کسی طالب پر یہ نظر ِ کرم پڑ جاتی ہے تو وہ نورِ معرفت سے سیر ہوجاتا ہے۔
آپ کے اوصاف اخلاقِ نبویؐ کا عین نمونہ و عکس ہیں اور اس حقیقت کے غماز ہیں کہ آپ مدظلہ الاقدس مکمل طور پر قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس انتہائی درد مند دل رکھنے والے انسان ہیں کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے اور اپنے ہر مرید کے دکھ درد بانٹتے ہیں۔ آپ مریدین کے ساتھ اتنے احسن طریقے سے ملتے ہیں کہ ہر مرید اپنا دکھ سکھ آپ سے بانٹناچاہتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے چہرے مبارک پر بہت نور ہے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اس نور سے سارا جہان روشن ہے ۔

جلوہ بقدر ظرف دیکھتے رہے
کیا دیکھتے ہم ان کو مگر دیکھتے رہے

جو شخص آپ مدظلہ الاقدس کو ایک بار دیکھ لیتا ہے تو اسکا دل بار بار آپ کے چہرے کو دیکھنے کے لئے بے تاب رہتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس جب مسکراتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بہار کا موسم آگیا ہو اور ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں۔ آپ کے حسن و جمال کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس عموما سنجیدگی میں بھی مسکراتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جو قلبی سکون کی نشانی اور دلیل ہے۔

وہ تیرے حسن کی قیمت سے نہیں واقف
جو تیرے لب کو پنکھڑی کا بدل کہتے ہیں

اللہ پاک کااپنے محبوبین کے لیے ہمیشہ سے طریقہ رہا ہے کہ وہ انہیں ان کی خاص صفات اور مقام کے مطابق القابات عطا کرتا ہے تاکہ دنیا ان کی شان سے واقف ہو سکے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو سلطان محمد، سلطان السالکین، سلطان العاشقین، شبیہ غوث الاعظم، آفتابِ فقر، شانِ فقر، سلطان الذاکرین کے القابات سے نوازا گیا۔

 سلطان العاشقین

سلطان العاشقین کا لقب آپ مدظلہ الاقدس کو آپ کے عشق ِ حقیقی کی باکمال صفت کی بنا پر ستمبر 2012ء میں مجلس ِ محمدیؐ سے عطا ہوا۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ عشق ِ مصطفیؐ اور عشق ِ الٰہی میں سرشار ہو کر گزارا۔ آپ مدظلہ الاقدس کی شبانہ روز محنت اسی عشق ِ حقیقی کی بدولت ہے۔

سلطان السالکین

28 جون 2019ء کو ایک خاص مرید روحینہ فاروق سروری قادری کو علم ِ دعوت پڑھنے کے دوران مطلع کیا گیا کہ آپ کے مرشد سلطان العاشقین ہونے کے ساتھ ساتھ سلطان السالکین بھی ہیں۔

آفتابِ فقر

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس نے فقر کو جو فروغ عطا فرمایا اسی بنا پر آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو آفتابِ فقر کا لقب عطا فرمایا۔حضرت سخی سلطان باھُوؒ اپنی شہرہ آفاق تصنیف رسالہ روحی شریف میں فرماتے ہیں:
’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے زبانِ گوہر فشاں سے مجھے مصطفی ثانی اور مجتبیٰ آخرزمانی فرمایا ہے‘‘۔
مصطفی اور مجتبیٰ دونوں القاب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے خاص ہیں۔ دونوں کے لغوی معنی چنا ہوا، پسندیدہ اور برگزیدہ کے ہیں۔ ’’مصطفی ثانی‘‘ اور ’’مجتبیٰ آخرزمانی‘‘ دونوں لقب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود حضرت سلطان باھُوؒ کو عطا فرمائے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آخری زمانہ میں جب گمراہی عام ہوگی تو آپ کی تعلیمات روشنی کا مینارہوں گی اور آپ کی تعلیمات کو لے کر کھڑا ہونے والا کوئی فرد لوگوں کی ہدایت کا موجب بنے گا اور اس کو آپ کی روحانی راہنمائی حاصل ہوگی۔ آپ کا یہ ارشاد بھی سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا آیا ہے ’’جب گمراہی عام ہو جائے گی، باطل حق کو ڈھانپ لے گا، فرقوں اور گروہوں کی بھر مار ہوگی ہر فرقہ خود کو حق پر اور دوسروں کو گمراہ سمجھے گا، گمراہ فرقوں اور گروہوں کے خلاف بات کرتے ہوئے لوگ گھبرائیں گے اور علم ِ باطن کا دعویٰ کرنے والے اپنے چہروں پر ولایت کا نقاب چڑھا کر درباروں اور گدیوں پر بیٹھ کر لوگوں کولوٹ کر اپنے خزانے اور جیبیں بھر رہے ہوں گے تو اس وقت میرے مزار سے نور کے فوارے پھوٹ پڑیں گے۔‘‘
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ نے پنجابی ابیات کے درج ذیل مصروں میں اسی طرف اشارہ فرمایا ہے:

چڑھ چناں تے کر رشنائی، ذکر کریندے تارے ھُو
گلیاں دے وچ پھرن نمانے، لعلاندے ونجارے ھُو

مفہوم: اے فقر کے چاند! تو جلد طلوع ہو اور اپنی نگاہِ کامل سے اس دنیا کو جو ظلمت و تاریکی میں ڈوب چکی ہے، نورِ الٰہی سے منور کر دے۔ طالبانِ مولیٰ حق کی طلب میں اس گمراہ دور میں بھٹک رہے ہیں اور تیرے جیسے ہادی کا انتظار کر رہے ہیں۔
بے شک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی مبارک ہستی ہی فقر کا آفتاب ہے جو اندھیروں میں روشنی ہے کیونکہ آپ مدظلہ الاقدس ہی وہ ہستی ہیں جو گمراہی کے دور میں حضرت سلطان باھُوؒ کی تعلیمات کو لے کر کھڑے ہوئے ہیں اور ان تعلیمات کو مختلف ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر میں پہنچارہے ہیں لہٰذا مصطفی ثانی اور مجتبیٰ آخرزمانی کے القاب آپ مدظلہ الاقدس پر ہی صادق آتے ہیں۔

شبیہ ِ غوث الاعظم

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو دین ِ محمدی کو حیاتِ نو عطا کرنے اور فقر ِ حقیقی کو دنیا بھر میں عام کرنے کی کوششوں کے اعتراف کے طور پر شبیہ غوث الاعظم کا لقب مجلس ِمحمدیؐ سے عطا کیا گیا۔ آپ مدظلہ الاقدس کے مریدین کو عرس سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانیؒ (احمد پور شرقیہ 2016) کے موقعہ پر آگاہ کیا گیا کہ ان کے مرشد پاک کی دین کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے بارگاہِ غوث الاعظم ؓسے ’’شبیہ غوث الاعظم‘‘ کا لقب عطا فرمایاگیا ہے۔

شانِ فقر

آپ مدظلہ الاقدس کو مجلس ِ محمدی سے ایک اور شاندار لقب ’’شانِ فقر‘‘ سے نوازا گیا اور بتایا گیا کہ جس طرح آسمانوں اور عرش پر آپ مدظلہ الاقدس کا لقب ’’آفتابِ فقر‘‘ ہے اسی طرح تحت الثریٰ میں آپ کا لقب شانِ فقر ہے۔ یہ لقب آپ مدظلہ الاقدس کو اس لیے عنایت فرمایا گیا کیونکہ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے بعد آنے والے کسی سروری قادری شیخ کی پہچان اور شان لوگوں پر واضح نہ تھی۔ آپ مدظلہ الاقدس نے عوام الناس کو ان مشائخ کی عظیم شخصیت اور مرتبہ سے آگاہ کیا اور ان کے ذکر کو عوام میں عام فرمایا۔ اسی لیے تمام مشائخ نے آپ کو شانِ فقر کے لقب سے سرفراز فرمایا۔

سلطان الذاکرین

سلطان الذاکرین‘ حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا صفاتی لقب ہے جو آپ مدظلہ الاقدس کے اس کمال سے منسوب ہے کہ آپ اپنے تمام تر طالبوں کو بیعت کے فوراً بعد اسم ِ اللہ ذات کا آخری اور اعلیٰ ترین ذکر سلطان الاذکار’’ھُو‘‘ عطا فرماتے ہیں۔ سلطان الذاکرین کا مطلب ہے ’’سلطان الاذکار ھُو کا ذکر کرنے والوں کا سلطان‘‘۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فقر کی تعلیمات گھر گھر پہنچانے کے لئے تبلیغی دوروں پر بھی تشریف لے جاتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی راہِ فقر میں کی گئی کاوشیں واقعی قابل ِتحسین ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس خواہ کتنی ہی مشکل میں کیوں نہ ہوں آپ فقر کی تعلیمات کو آگے پہنچانے کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن دورِ حاضر کے امام اور مرشد کامل اکمل ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کی بابرکت ذات کا اس دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس آج کے دور میں طالبانِ مولیٰ کو معرفت ِ الٰہی سے روشناس کرواتے ہیں اور اللہ کی پہچان اور معرفت کے لیے اسم ِاللہ ذات کا فیض عطا کرتے ہیں۔
تو آئیں آج ہی راہِ فقر اختیار کریں اور امام الوقت سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے اپنا تزکیہ نفس کروائیں اور اللہ کو پانے کی خاطر راہِ فقر پر گامزن ہوں۔

استفادہ کتب:

شمس الفقرا تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

سلطان العاشقین ناشر سلطان الفقر پبلیکیشنز

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں